khwab e Junoon by Umme Hani readelle50005 Episode 14
Rate this Novel
Episode 14
صلہ کا دماغ جھنجھنا رہا تھا۔۔۔ غصہ حد سے سوا تھا۔۔۔ وہ خراب موڈ کیساتھ سیڑھیاں اتر کر اندر لاوئنج میں آئی جہاں ماں محلے کے چند بچوں سے عربی کا سبق سن کر انہیں چھٹی دے رہی تھی۔۔۔
صلہ کو یوں منہ پھلا کر اندر داخل ہوتا دیکھ وہ خاموشی سے اسکے اندازو اطوار کا جائزہ لینے لگی جو بنا کسی سے بات کئے سیدھا جا کر سنکل صوفے پر بیٹھتی سر ہاتھ میں تھام گئ۔۔۔
ماں نے بچوں کے وہاں سے جانے کا انتظار کیا اور انکے جاتے ہی وہ بیٹی کی جانب متوجہ ہوئیں۔۔۔۔
کیا بات ہے صلہ سب ٹھیک تو ہے۔۔۔ ماں پلیز مجھے ناشتہ بنا دیں بہت بھوک لگ رہی ہے۔۔۔ وہ نڑوتھے پن سے بھرائی آنکھوں سے ماں کو دیکھتے گویا ہوئی۔۔۔۔ ماں نے اسے دیکھتے ایک گہری سانس خارج کی اور اٹھ کھڑی ہوئیں مزید کچھ بھی اس سے پوچھنے سے انہوں نے گریز کیا۔۔۔ حتی کہ وہ اسے یہ تک نا کہہ سکی کہ بیٹا ابھی تو شروعات ہے ابھی سے تھکنے لگی تو آگے کیا کرو گئ۔۔۔ لیکن بیٹی کو اس حال میں دیکھنا بھی انکے بس سے باہر تھا۔۔۔ لیکن اس معاملے میں وہ تھیں بھی بے بس صلہ کے لئے محض دعا ہی کر سکتی تھیں کہ یہ انتخاب اسکا اپنا تھا۔۔۔
اسکے لئے ناشتہ بنا کر انہوں نے ناشتہ لا کر اسکے سامنے میز پر رکھا اور خاموشی سے اندر چلی گئیں۔۔۔ وہ اسے ان حالات میں کوئی بھی شہہ دینے کے حق میں نا تھی۔۔۔۔ انتخاب اسنے خود کیا تھا تو اسے نباہ بھی کرنا آنا چاہیے تھا۔۔۔
جبکہ پیچھے وہ ایک نظر ماں کو اندر جاتا دیکھ کر دلبرداشتہ سی ناشتہ کرنے لگی۔۔۔ سر یکدم ہی درد کرنے لگا تھا
******
جاو بیٹا۔۔۔ خالہ نے ناشتہ میز پر رکھ کر اسکی جانب دیکھتے پھر سے کہا تو عفرا مرتے کیا نا کرتے کے مصداق چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اپنے کمرے کی جانب بڑھی۔۔۔ کمرے کی طرف بڑھتے اسکے قدم من من بھاری ہونے لگے تھے۔۔۔
دروازے کے سامنے کھڑے ہو کر اسنے کچھ دیر سوچا۔۔۔ دروازے پر دستک دینے کے لئے اٹھایا جانے والا ہاتھ ہوا میں ہی معلق رہ گیا۔۔۔
کیا مجھے اندر جانے سے پہلے دستک دینی چاہیے یا نہیں۔۔۔
افف۔۔۔ کیا مصیبت ہے۔۔۔ وہ اچھا خاصا جھنجھلائی اور دروازہ کھول کر اندر داخل ہو گئ۔۔۔۔
امان ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا فریش سا سفید کلف لگے کرتا شلوار میں ملبوس گیلے بال اچھے سے بنائے تیار سا اپنے کف لنکس بند کر رہا تھا۔۔۔
دروازہ کھلنے کی آواز پر وہ پلٹا۔۔۔ دونوں کی نگاہیں ٹکرائی اور عفرا نے سرعت سے نظریں جھکا دیں۔۔۔
نکاح کے بعد یہ باقاعدہ طور پر دونوں کا پہلا آمنا سامنا تھا۔
امان نے بے چین ہوتے ماتھا مسلہ۔۔۔
وہ امان بھائی آپکو خالہ بلا رہی ہیں ناشتے کے۔۔۔۔ نظریں جھکائے وہ ہاتھ مسلتی آہستہ سے منمنا رہی تھی جب وہ ایک ہی جست میں اسکے پاس آتا اسکی بازو دبوچ کر اسے اپنی جانب متوجہ کر گیا۔۔۔
کیا کہا تم نے۔۔۔ پھر سے کہنا زرا۔۔۔ وہ اپنی سرخ پڑتی نگاہیں اسکے چہرے پر گاڑے سختی سے گویا ہوا۔۔۔ عفرا تو حق دق سی اسکا یہ روپ دیکھ رہی تھی۔۔۔ ایسا بھی کیا کہہ دیا تھا اسنے بھلا۔۔۔ امان کا دماغ چٹخ رہا تھا کہ مطلب اگر اس رشتے کو لے کر وہ تحفظات کا شکار تھا تو وہ بھی اس رشتے سے انکاری تھی۔۔۔
پچھلے دو دنوں کی بے آرامی اور اب اسکے منہ سے نکلتے لفظ بھائی نے جیسے اسکا دماغ گھما ہی ڈالا تھا۔۔۔
میری بازو چھوڑیں امان بھائی۔۔ مجھے درررر۔۔۔
بھائی مائے فٹ۔۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ امان کا جارحانہ انداز دیکھتی پھر سے منمناتی وہ سرعت سے عفرا کی بات کاٹتا دھار کر اسکا بازو جھٹکتا پیچھے ہوا۔۔۔
وہ لڑکھڑا کر پیچھے ہٹی اور سمبھلنے کو سٹڈی ٹیبل تھاما تو اسکے کورنر پر پڑا لیمپ زمین بوس ہو گیا۔۔۔
وہ مزید متوحش ہوتی کپکپا کر رہ گئ۔۔۔ آنسو پلکوں کی بار پھیلانگتے بہہ نکلے۔۔۔۔
کیا ہوا ہے یہاں۔۔۔ امان کی ڈھار اور لیمپ کے گرنے کی آواز سنتے ہی خالہ سینے پر ہاتھ رکھے بعجلت اندر داخل ہوئی۔۔۔
لیکن عفرا کو کپکپاتے ہاتھوں سے سٹڈی کا کونہ پکڑے آنسو بہاتے دیکھ وہ سرعت سے اسکی جانب لپکیں۔۔۔ عفرا بھی انہیں دیکھ کر حوصلہ پاتی انکے گلے لگتے سسک اٹھی۔۔۔
امان کیا مسلہ ہے تمہارے ساتھ۔۔۔ کیا کہا ہے تم نے اسے۔۔۔ خالہ اسے اپنے حصار میں لیتی سخت تادیبی نگاہوں سے اسے دیکھتی گویا ہوئیں۔۔۔
میں نے کچھ نہیں کہا ماں۔۔۔ جو کہا ہے آپکی لاڈلی نے کہا ہے۔۔۔ وہ آنکھیں زور سے میچتا ماتھے پر ہاتھ کی مٹھی بنا کر مارتا خود کو کمپوز کر کے بیڈ کی پانتی پر بیٹھ کر جوتے پہننے لگا۔۔۔
وہ کبھی یوں اتنی جلدی ہائپر نہیں ہوتا تھا لیکن آج کل جو حالات چل رہے تھے اسے لگ رہا تھا کہ وہ خود پر اپنا کنٹرول کھوتا جا رہا ہے۔۔۔
ڈھارنے کے بعد احساس ہوتے ہی وہ خاموش ہو گیا تھا جبکہ عفرا ہنوز خالہ کے گلے لگے آنسو بہا رہی تھی۔۔۔
ایسا کیا کہہ دیا اسنے تمہیں وہ تمہیں ناشتے پر بلانے آئی تھی۔۔۔ خالہ حیرانگی سے خود سے لپٹی صلہ کے بال سہلاتی امان کی جانب دیکھ رہی تھیں۔۔۔۔
آپکو پتہ ہے کیا ماں۔۔۔ آپ نے اپنے بیٹے کیساتھ ساتھ بھانجی کیساتھ بھی زیادتی کر دی۔۔۔
آپکو شادی سے پہلے اپنی بھانجی سے پوچھ لینا چاہیے تھا کہ کہیں اپنی بہن کی طرح اسے بھی تو مجھ میں سو عیب دکھائی نہیں دیتے۔۔۔ پر افسوس آپ نے نہیں پوچھا اور بیچاری محترمہ کو قربانی دینی پڑی۔۔۔ اور ایک پڑھا لکھا گوار۔۔۔۔
Enough is enough…
آپ صلہ کی بکواس کو مجھ سے نہیں جوڑ سکتے۔۔۔
امان جوتا پہن کر کھڑا ہوتا ماں کے پاس آ کر نہایت ٹھنڈے انداز میں کہہ رہا تھا جب عفرا کی برداشت جواب دے گئ اور وہ ایک جھٹکے سے خالہ سے پیچھے ہٹتی اسکے مدمقابل آ کر اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتی غرا اٹھی۔۔۔
بس بہت ہو چکا تھا وہ اس سے زیادہ برداشت نہیں کر سکتی تھی۔۔۔
امان نے اسی ٹھنڈے انداز سے اسکے اس روپ کو دیکھا جو غصے سے آنکھیں بڑی کئے اس سے بھرنے کو تیار کھڑی تھی۔۔۔
ایک طنزیہ مسکراہٹ نے اماں کے ہونٹوں کا احاطہ کیا۔۔
محترمہ عفرا صاحبہ یہ میں نہیں آپکی حرکتیں چیخ چیخ کر کہہ رہی ہیں۔۔۔ کسی چھوٹے بچے سے بھی جا کر پوچھو نا تو وہ تمہیں بتا دے گا کہ شوہر بھائی نہیں ہوتا اور اسے بھائی نہیں کہا جاتا۔۔۔
وہ شاید اپنے پچھلے سبھی حوالہ جات بھول چکا تھا۔۔۔
بیٹا وہ بچی ہے ابھی نیا نیا یہ رشتہ جڑا ہے تو زبان سے پھسل گیا ہوگیا یہ کوئی اتنی بڑی بات۔۔۔ خالہ اب بات کہ تہہ میں پہنچی تھی کے عفرا کے کمرے میں آنے کے بعد کیا ہوا ہوگا تبھی رسانیت سے اسے سمجھانے لگی جب وہ سرعت سے انکی بات کاٹ گیا۔۔۔
امی اگر یہ بچی ہے تو اسے فیڈر لا کر دیں نا پھر ننھی کاکی کو۔۔۔ اور یہ ننھی کاکی پھر یہاں کیا کر رہی ہے۔۔۔
اب آپ بدلحاظی پر اتر رہے میں مسٹر امان صاحب۔۔۔ وہ بھی سینے پر بازو باندھتی میدان میں کودی اگر وہ ہی پچھلہ ہر حوالہ بھلائے بدلحاظی پر اتر رہا تھا تو یقیناً لحاظ تو وہ بھی نہیں رکھنے والی تھی۔۔۔
اس کو میری بدلحاظی کا نام دے کر اس بدلحاظی نامے چغے میں تم اپنی حرکتوں کو لپیٹ کر انہیں جسٹیفائی نہیں کر سکتی۔۔۔ سچ تو یہ ہی ہے نا کہ تم ایک ناپسندیدہ رشتے۔۔۔
سچ کو ڈیفائن کرنے والے آپ ہوتے کون ہیں۔۔ وہ اسکی بات کاٹتی دو قدم آگے بڑھ کر اسکے مدمقابل آئی۔۔۔ آخر اسی شخص نے اسے اپنے حق کے لئے بولنا سیکھایا تھا وہ کیسے بنا لڑے ہار مان لیتی۔۔۔ اور کس بنیاد پر۔۔۔ کس بنیاد پر آپ یہ سچ ڈیفائن کر رہے ہیں۔۔
کہنے کو تو میں بھی کہہ سکتی ہوں۔۔۔ کیونکہ حرکتیں تو آپکی بھی ایسی ہی ہیں کہ آپ میری بہن کے رشتے سے انکار کا جوگ لے کر اسے انا کا مسلہ بنا کر اپنی کھولن اس انداز میں مجھ پر نکال رہے ہیں۔۔۔
میرے ساتھ فضولیات پر اترنے سے گریز کرنا عفرا۔۔۔ وہ انگلی اٹھا کر اسے وارن کرتا چبا چبا کر گویا ہوا۔۔۔ وہ اسکی دکھتی رگ ہر ہاتھ رکھے اسے ٹیز کر رہی تھی۔۔ کہاں پسند آنا تھا اسے عفرا کا یہ انداز ۔۔۔۔اسکا بلبلا جانا فطری تھا۔۔۔
میرے ایک بھائی کہنے کو آپ نے انا کا مسلہ بنا لیا اور جو آپ ابھی تک کرتے آئے ہیں ۔۔۔ اسے آپ کس طرح سے جسٹیفائی کریں گے۔۔
وہ کونسا شخص ہوتا ہوگا جو شادی کی پہلی رات ہی فرار کا راستہ اختیار کرتا گھر سے ہی غائب ہو جائے۔۔۔ جو اپنے ہی ولیمے پر سب سے آخر میں پہنچے۔۔۔ بولیے ۔۔۔ کریئے اپنے ان اعمال کو جسٹیفائی۔۔۔
امان صاحب میں حساب لینے پر آئی نا تو بہت سے کھاتے آپکی طرف کھل جائیں گئے ۔۔ اور آپ بات کرتے ہیں میری حرکتوں کی۔۔۔
آپ نہیں میں آپکو سچ بتاتی ہوں اور سچ یہ ہے کہ آپ نے صلہ کے۔۔۔
بسسس۔۔۔۔ بسس بہت ہوگی یہ بکواس۔۔۔۔
ان دونوں کو یوں ایک دوسرے کے روبرو کھڑا دیکھ خالہ غصے سے گویا ہوئیں۔۔۔
یہیں ختم کرو یہ سب اور خبردار اگر دوبارہ تم دونوں میں سے کسی کی زبان پر بھی صلہ کا نام آیا تو۔۔۔۔
میں ہرگز برداشت نہیں کروں گی تم دونوں کی یہ بچگانہ حرکتیں۔۔۔ وہ بچی اب شادی شدہ ہے۔۔۔ اپنے شوہر کے ساتھ خوش ہے اور تم دونوں اسکا نام لے لے کر خود بے سکون ہوتے اب اپنا رشتہ خراب کرو گئے۔۔۔ عقل نام کی چیز نہیں ہے کیا تم دونوں میں۔۔۔
خالہ غصے میں کھولتی ان دونوں پر چڑھ دوڑیں تھیں جسکے بعد ان دونوں کی چلتی زبانیں بند ہو اٹھیں۔۔۔۔۔۔یہ بات آپ اپنی بھانجی کو سمجھائیں۔۔۔
امان سر جھٹکتا سٹڈی ٹیبل سے کوئی کاغذات اٹھانے لگا۔۔۔
عفرا کے تو سر پر لگی تلووں پر بجھی۔۔۔ یہ بات تو میں بھی کہہ سکتی ہوں کیونکہ اس بات کی زیادہ ضرورت آپکو ہے۔۔۔۔
امان نے کاغذات اٹھا کر خونخوار نگاہوں سے اسے دیکھا البتہ ماں کو گھورتا پا کر کچھ کہنے سے گریز کرتے کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔
کہاں جا رہے ہو۔۔۔ ناشتہ تو کرتے جاو۔۔۔
اسے بیرونی دروازے کی جانب بڑھتا دیکھ ماں نے پیچھے سے آواز لگائی۔۔
پیٹ بھر گیا میرا صبح ہی صبح اس مکالمہ بازی سے اس محترمہ کو کروائیں ناشتہ۔۔۔ وہ بنا پلٹے ہی کہتا بیرونی دروازہ عبور کر گیا۔۔۔
جبکہ اسکے گھر سے نکلتے ہی عفرا نے آنکھیں زور سے میچیں۔۔۔ دو آنسو ٹوٹ کر آنکھوں سے پھسلتے گالوں ر بہتے چلے گے۔۔۔
اسے اپنے الفاظوں پر پشیمانی ہونے لگی تھی۔۔۔ اسکے باعث وہ بھوکا ہی گھر سے نکل گیا تھا۔۔
سوری خالہ۔۔۔ خالہ کو اپنی جانب دیکھتا پا وہ پشیمانی سے گویا ہوئی۔۔۔
کوئی بات نہیں بیٹا ہو جاتا ہے۔۔۔ اسکا بھی دماغ خراب ہے ابھی آہستہ آہستہ ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔
خالہ نے اسکی اتری صورت دیکھ اسکی کمر سہلاتے اسے حوصلہ دیا۔۔۔
خالہ لیکن میں نے بھی بدتمیزی کر دی۔۔۔ وہ پشیمان تھی اور اسکی پشیمانی اسکے چہرے سے ہوادیدہ تھی۔۔۔
آئندہ خیال رکھنا بچے۔۔۔ یہ جسقدر نازک رشتہ ہے اسکی نزاکت کو سمجھنے کی کوشیش کرو ۔۔۔ میاں بیوی میں جھگڑے ہوتے رہتے ہیں لیکن جھگڑا کسی بھی نوعیت کا ہو اس میں پچھلا کوئی حوالہ شامل نہیں ہونا چاہیے۔۔۔ اور صلہ کا تو بالکل نہیں ۔۔۔ ورنہ یہ حوالہ تم دونوں کے رشتے کی خوبصورتی کو نگل جائے گا۔۔۔
تم ایک نازک موڑ پر کھڑی ہو عفرا جہاں نا تم بہن چھوڑ سکتی ہو اور نا ہی شوہر تو دونوں رشتوں کو سمجھداری سے آگے لے کر چلنا ہے تمہیں۔۔۔
وہ پریشانی سے ہونٹ چباتی سر ہاں میں ہلا گئ۔۔۔
چلو آو ناشتہ ٹھنڈا ہو رہا ہے۔۔۔ خالہ کمرے سے نکلتیں باہر ناشتے کی میز کی طرف آئیں۔۔۔
خالہ وہ میری وجہ سے بنا ناشتہ کئے بھوکے پیٹ ہی چلے گئے۔۔۔ وہ دروازے کی جانب دیکھتی اداسی سے گویا ہوئی۔۔۔
وہیں ناشتہ کر لے گا وہ بیٹا۔۔ تم ناشتہ کرو۔۔۔
خالہ نے کرسی پر بیٹھتے ناشتہ اسکے سامنے رکھا وہ ابھی تک ہنوز کھڑی غیر دماغی سے بیرونی دروازے کی جانب دیکھ رہی تھی۔۔۔
خالہ میرا وہ مطلب نہیں تھا جو امان نے لیا۔۔۔ انہیں بھائی کہنے کی عادت اتنی پختہ ہے کہ خود ہی زبان سے پھسل گیا۔۔۔
وہ ابھی تک غیر دماغ تھی۔۔۔ کھوئی کھوئی سی۔۔۔ جیسے ابھی تک اسی واقعہ کے حصار میں ہو۔۔۔ وہ حساس تھی خالہ جانتی تھیں اسی لئے اسکا کھویا کھویا سا انداز دیکھتیں مسکرا دی۔۔۔
بیٹھِ جاو عفرا بھول جاو اس بات کو اور ناشتہ کرو۔۔۔
مگر خالہ وہ۔۔۔ اسکی شاید ابھی تک تسلی نہیں ہوئی تھی۔۔۔ بچے تم بے چین ہو نا تو یاد رکھنا تم سے جھگڑا کر کے سکون میں وہ بھی نہیں ہے۔۔۔ شام میں گھر آئے تو دونوں صلح کر لینا بس بات ختم۔۔۔ نا خود پریشان رہو نا دوسرے کو رہنے دو۔۔۔ اور اب کوئی بات نہیں سکون سے بیٹھو اور ناشتہ کرو۔۔۔
خالہ نے جیسے چٹکیوں میں اسکا مسلہ سلجھاتے اسے کچھ کہنے کو لب کھولتے دیکھ اسے خاموش کرواتے بیٹھ کر ناشتہ کرنے کو کہا اور خود بھی ناشتہ کرنے لگیں۔۔۔
وہ خالہ کی بات سن کر الجھی الجھی سی وہیں بیٹھ کر ناشتہ کرنے لگی۔۔۔
*****
ماں ظہر کی نماز ادا کرنے کی غرض سے کمرے سے باہر نکلیں تو ناشتے کے خالی برتن وہیں میز پر پڑے تھے البتہ صلہ وہاں نہیں تھیں۔۔۔ انہوں نے برتن ٹھا کر کچن میں رکھے غالباً صلہ واپس اوپر جا چکی تھی لیکن جب وہ اپنے کمرے میں واپس جانے لگیں تو انہیں عفرا اور صلہ کے کمرے سے کوئی آواز آئی تو بے ساختہ انکے قدم اس کمرے کی جانب بڑھے۔۔۔
صلہ تم ابھی تک یہاں ہو واپس گئ نہیں۔۔۔ وہ صلہ کو آرے تڑچھے انداز میں بیڈ پر لیٹے میوزک سنتے دیکھ کر حیرانگی سے مستفسر ہوئیں۔۔۔ صلہ بھی ماں کو دیکھ کر موبائل بند کر کے سیدھی ہو کر بیٹھی۔۔۔
ماں شام میں بالاج آئے گا تو چلے جاوں گی۔۔۔ مجھ سے نہیں تائی اور انکی بیٹیوں کی سڑی شکلیں دیکھی جاتیں۔۔۔ وہ منہ بنا کر ناک سے مکھی اڑاتی گویا ہوئی۔۔
اور ایسا کب تک چلے گا صلہ۔۔۔ ماں چند قدم اندر آتیں آ کر صوفے پر بیٹھیں۔۔۔
کیا مطلب ماں۔۔۔ اسنے تھوک نگلتے ماں کو دیکھا۔۔۔
مطلب یہ کہ ایک لڑکی اپنے شوہرکے ساتھ دن کے آدھے وقت سے بھی کم وقت رہتی ہے جبکہ سسرال والوں کے ساتھ اسے چوبیس گھنٹے رہنا ہوتا ہے۔۔۔ اور ایسے کام نہیں چلتا جیسے تم چلانے کی کوشیش کر رہی ہو۔۔۔
اب جو بھی ہو وہ تمہارا سسرال ہے اور تمہیں وہیں پر رہنا ہے جتنی جلدی ہو سکے اس حقیقت کو قبول کرنے کی کوشیش کرو اور چلو شاباش اوپر اپنے گھر جاو۔۔۔ ماں نے اسے نرمی سے سمجھانا چاہا جبکہ اوپر واپس ان ماں بیٹیوں کے سرد لہجے اور تادیبی نگاہوں کا سوچ کر ہی اسکا دل دھک دھک کرنے لگا۔۔۔
لیکن ماں۔۔۔ کوئی لیکن ویکن نہیں صلہ۔۔۔ چلو شاباش اپنے سسرال واپس جاو شادی کے بعد بیٹیاں سسرال میں ہی چھی لگتی ہیں مائیکےمیں نہیں۔۔۔ اور یہ کبھی مت بھولنا کہ یہ تمہارا اپنا انتخاب ہے۔۔ اپنی بات کہہ کر ماں گھٹنوں پر وزن ڈالتیں اٹھ کھڑی ہوئیں۔۔۔ جبکہ صلہ بھی پریشانی سے انہیں کمرے سے باہر نکلتا دیکھ اٹھ کر جوتا پہننے لگی۔۔۔
اسکا رتی برابر دل نہیں چاہ رہا تھا اوپر واپس جانے کو۔۔۔ کاش کہ کوئی جادو کی چھڑی ہوتی جسے وہ گھماتی اور اپنے ان سرد ترین تاثرات والے سسرالی رشتوں سے کہیں دور چلی جاتی جہاں صرف وہ ہوتی اور بالاج ہوتا ۔۔ انکا پیارا سا گھر ہوتا اور خوشیاں ہی خوشیاں ہوتی۔۔۔ یہ ہی سب سوچتے وہ مرے مرے قدم اٹھاتی واپس اوپر آئی۔۔۔ صد شکر کہ لاوئنج میں کوئی نہیں تھا دوپہر کا وقت تھا اور شاید سبھی آرام کررہے تھے لیکن لاوئنج کی بے ترتیبی دیکھ کر اسکا جی متلانے لگا۔۔۔ اسکی ماں نفاست پسند تھی اور گھر میں زرا سی بھی بے ترتیبی نہیں پھیلنے دیتی تھی جبکہ یہاں چار چار عورتوں کی موجودگی میں ہر جانب بکھیرا ہی بکھیرا تھا۔۔۔
ارے آگی تم۔۔۔ وہ سب کچھ نظر انداز کرتی آگے بڑھنے والی تھی جب تانیہ کی آواز نے اسکے قدم جکھڑے۔۔۔
چلو اچھا ہے آ ہی گئ ہو تو کچن میں برتن پڑے ہیں وہ دھو لو۔۔۔ اور آئندہ امی کی اجازت کے بنا کہیں جانے کی ضرورت نہیں ہے وہ اسکے سامنے کھڑی نخوت سے گویا ہوئی جبکہ صلہ مٹھیاں میچے چند پل خاموشی سے اسے دیکھتی رہی پھر بنا اسکی بات کا جواب دیئے آگے بڑھتی اپنے کمرے میں گئ اور دھار سے دروازہ بند کر لیا۔۔۔ جبکہ صلہ کی یہ حرکت تانیہ پر گراں گزری تھی۔۔۔ تمہارے تو ابھی کس بل نکلواتی ہوں۔۔۔ وہ خطرناک عزائم لئے ماں کے کمرے کی جانب بڑھی۔۔۔
ہاں اسکے ابا کی ملازمہ ہوں نا جو انکے جوٹھے برتن دھووں۔۔۔ حکم تو دیکھو کیسے چلا رہی تھی۔۔۔ ابھی بالاج کی طبیعت سیٹ کرتی ہوں کہ وہ یہ سب کروانے کے لئے مجھے یہاں لایا تھا۔۔۔ وہ غصے سے ہاتھ میں تھامے موبائل پر بالاج کا نمبر ڈائل کرنے لگی۔۔۔
*****
