khwab e Junoon by Umme Hani readelle50005 Episode 56
Rate this Novel
Episode 56
ساری رات صلہ کی بے چینی سے کروٹیں بدلتے گزری۔۔۔۔ دل میں ایک پکڑ دھکر جاری و ساری تھی۔۔۔ ناجانے کیوں دل کو ایک ڈھرکا سا لگا ہوا تھا۔۔۔۔
اگلے دن بھی وہ بولائی بولائی سی پھرتی رہی۔۔۔ متوحش نگاہوں سے اردگرد کا جائزہ لیتی۔۔۔
گھر میں اب کچھ غیر معمولی تھا جو بارہا اسکا دل ڈھرکا رہا تھا۔۔۔
گھر میں صبح سے ہی تیاریاں چل رہی تھی۔۔۔ انواع و اقسام کے پکوان بن رہے تھے۔۔۔ آج تو ساری بہنوں اور ماں میں بھی اتفاق تھا گھر میں کوئی ہنگامہ نہیں ہوا تھا۔۔ لیکن ان سب کے باوجود انکا یہ ہی سکون صلہ کو کھٹک رہا تھا ۔۔۔۔
کوئی اسے کچھ بتا بھی تو نہیں رہا تھا۔۔۔
اسنے دل کی بگڑتی حالت سے گھبرا کر بالاج سے بات کرنی چاہی لیکن اسکا فون بھی مسلسل بند جا رہا تھا۔۔۔
وہ بچیوں کو تیار کر کے خود کو اپنے کاموں میں مصروف کرنے لگی لیکن بار بار باہر سے آتے ان سب کے قہقے اسکے اندر نئے خدشات ابھار رہے تھے۔۔۔
اور اسے اپنے جسم سے جان نکلتی تب محسوس ہوئی جب شام میں ثانیہ اور تانیہ کے شوہر اور تایا جان کے ہمراہ اسنے ہستے مسکراتے بالاج کو اندر داخل ہوتے دیکھا۔۔۔
وہ اس ستم گر کو پورے دو سال بعد دیکھ رہی تھی۔۔۔ وہ پہلے سے بھی خوبصورت ہو گیا تھا۔۔۔ ہستا مسکراتا کھلکھلاتا ۔۔۔ مالی آسودگی اسکے ہر انداز سے چھلک رہی تھی لیکن اسکے باوجود وہ اسے یوں اچانک سامنے دیکھ کر مسکرا تک نا سکی۔۔۔
سینے میں ڈھرکتا دل سرکش ہوتا سینے کی دیواروں سے سر پٹخنے لگا تھا۔۔۔ اگر وہ واقعی آج آ گیا تھا تو کیا کرن کی دوسری بات بھی سچ تھی۔۔۔
اس سوچ کے آگے اس سے کچھ سوچا ہی نہیں جا رہا تھا۔۔۔ اسے واضح دل کی ڈھرکنیں بند ہوتی محسوس ہو رہی تھیں۔۔۔
ہے مسز۔۔۔ کیسا لگا سرپرائز۔۔۔ وہ سب سے مل کر اسے کمرے کے دروازے میں یک ٹک ساکت و جامد کسی مجسمے کی مانند کھڑا دیکھ اسکے پاس آیا مسکراتے ہوئے شریر انداز میں اسکی آنکھوں کے سامنے چٹکی بجاتے گویا ہوا۔۔۔۔
لیکن وہ اسکے کسی بھی انداز کو انجوائے کہاں کر رہی تھی اسکی حالت تو یوں تھی جیسے اسنے بھوت دیکھ لیا ہو۔۔۔۔
ارےےےے یہ تو نینا بے بی اور عینا بے بی ہیں نا۔۔۔ رائٹ۔۔۔
کیسی ہیں آپ دونوں۔۔۔ وہ ماں کے پیچھے ہی کمرے سے نکلتیں پنک فراک میں ملبوس بچیوں کو دیکھ کر انکے پاس ہی دوزانوں بیٹھتا محبت سے انکے گال چومتا گویا ہوا۔۔۔
ماماااا۔۔۔ بچیاں کہاں عادی تھیں اس محبت کی۔۔۔ فوراً سے ماما کی ٹانگوں سے چپکتی رونے لگیں۔۔۔۔
ارےےےے۔۔۔ جبکہ وہ حیران ہوتا پیچھے ہٹا۔۔۔ ابھی شاید انہیں مجھ سے مانوس ہونے میں وقت لگے۔۔۔
اور پہلی مرتبہ اس وقت صلہ کو محسوس ہوا کہ یہ دو سال واقعی انکے درمیان بہت سے فاصلے قائم کر گئے ہیں۔۔۔۔
*****
عفرا ابھی ابھی خالہ کو کھانا کھلا کر آئی تھی۔۔۔ منیبہ کی موت نے گویا خالہ کی کمر ہی توڑ ڈالی تھی۔۔۔ وہ زیادہ تر وقت خاموش اور گم صم رہتیں۔۔۔ اکثر ہی انکی طبیعت خراب رہنے لگی تھی۔۔۔ ابھی زخم تازا تھا تو بار بار رسنے لگتا۔۔۔ وقت سب سے بڑا مرہم ہوتاہے۔۔۔ جیسے جیسےوقت گزرتا شاید انکا یہ زخم بھی بھر جاتا۔۔۔ لیکن سب سے مشکل کام تواس فیز سے گزرنے کا تھا۔۔۔ اس لئے عفرا اور امان دونوں ہی زیادہ سے زیادہ وقت انکے ساتھ گزارنے کی کوشیش کرتے۔۔۔
امان نے اپنے کام کو ان دنوں بہت محدود کر دیا تھا۔۔۔ روز شام میں وہ جلدی گھر آجاتا ۔۔۔ ڈنر وہ سب مل کر کرتے۔۔۔ پھر وہیں بیٹھے کافی دیر تک باتیں کرتے رہتے۔۔۔
امان ماں کو زیادہ سے زیادہ اپنے ساتھ باتوں میں الجھائے رکھتا کے انکا ذہن منیبہ کی جانب مبذول نا ہو۔۔۔۔
اب بھی عفرا خالہ کو لنچ کروا کر انکے کمرے سے باہر آئی جب چوکیدار نے اسے ایک پارسل لا کر تھمایا کہ کوریر والا دے کر گیا ہے۔۔۔
صلہ نے اس پارسل کو الٹ پلٹ کر دیکھا۔۔۔ وہ امان کے نام پارسل تھا۔۔۔ وہ اسے لئے امان کے سٹودیو میں آگئ۔۔۔
ان دونوں کا زیادہ وقت وہیں پر گزرتا تھا۔۔۔
آج بھی چھٹی ہونے کے باعث وہ گھر پر ہی تھا اسنے فلحال لنچ کرنے سے منع کر دیا تھا اس لئے عفرا نے خالہ کو بروقت لنچ کروا کر انہیں دوائی دے دی۔۔۔
امان آپکا پارسل آیا ہے۔۔۔
گلاس وال سے بنے اسٹودیو میں داخل ہوتے وہ سامنے ہی اونچی کرسی ہر بیٹھے امان کو دیکھ کر گویا ہوئی۔۔۔ جو گود میں لیپ ٹاپ رکھے ٹانگیں سامنے موجود گلاس میز پر رکھے اپنا کام کرنے میں منہمک تھا۔۔۔
گلاس وال سے بلائنڈز ہٹے ہوئے تھے جسکے باعث کمرا قدرتی روشنی سے منور تھا۔۔۔ گلاس وال سے بایر لہلاتے لان کا منظر واضح ہوتا آنکھوں کو بہت بھلا لگ رہا تھا۔۔
ہمم ۔۔ کھولو تو۔۔۔ امان مصروف سے انداز میں گویا ہوتا ہنوز اپنا کام کر رہا تھا۔۔۔
عفرا وہیں کاوچ پر بیٹھتی اپنے سامنے پڑے چھوٹے سے کافی ٹیبل پر پارسل رکھے اسے کھولنے لگی۔۔۔
امان گاہے بگاہے کام سے نظر اٹھا کر اسے بھی دیکھ لیتا۔۔۔
پارسل کھول کر دیکھتے ایک پل کو عفرا کے چہرے کا رنگ اڑا۔۔۔ پارسل کو دیکھتی وہ گم صم رہ گئ۔۔۔
امان نے کام کرتے اچانک ایک سرسری نگاہ سے اسے دیکھا تو اسکے تاثرات دیکھ کر ٹھٹھکا۔۔
عفرا کا یہ ردعمل اسکی توقع سے پڑے تھا۔۔۔۔
ایک تلخ مسکراہٹ امان کے ہونٹوں پر ابھری۔۔۔
تمہیں پتہ ہے عفرا کے زندگی کی سب سے خطرناک فیز کونسی ہوتی ہے۔۔۔ عفرا سے کہتے اسنے لیپ ٹاپ بند کیا اور میز سے ٹانگیں اتارتا سیدھا ہوا۔۔۔
جب آپکا پارٹنر۔۔۔ سوری آپکی ہر خوشی میں آپ سے زیادہ خوش ہونے والا اس لمحے کو بھرپور انداز میں انجوائے کرنے والا پارٹنر آپکی کامیابیوں پر انسکیور ہونے لگے۔۔۔ دونوں کہنیاں گھٹنوں پر ٹکائے ہاتھوں کی انگلیاں باہم پھنسائے آگے کو جھکا وہ اسکے چہرے کو اپنی نگاہوں کے حصار میں لئے گویا ہوا۔۔۔
تب انسان فنا ہوجاتا ہے۔۔۔
سنجیدگی سے کہتا وہ قدم قدم چلتا اسکے پاس آیا۔۔۔ جو شدت ضبط سے چہرا جھکائے ماربل لگے فرش پرکسی نادیدہ چیز کو تلاش کر رہی تھی۔۔۔
ریکویسٹ ہے تم سے کہ مجھے میری دوست میری محبت کرنے والی عفی پرنسس لوٹا دو۔۔۔
I need her and I miss her…
وہ اسکے جھکے سر پر جھکتا سرگوشانہ گویا ہوا۔۔ اور بنا اسکے جواب کا انتظار کئے کمرے سے نکل گیا۔۔۔
عفرا نے بھرائی نگاہیں اٹھا کر میز پر پڑے اس گولڈن پلے بٹن کو دیکھا جو امان کو یوٹیوب کی جانب سے دس لاکھ سبسکرائبرز مکمل ہونے پر بھیجا گیا تھا۔۔۔۔
اسنے ایک گہری سانس فضا میں خارج کی اور گولڈن پلے بٹن پر محبت سے ہاتھ پھیرا۔۔۔
امان ٹھیک کہہ رہا تھا وہ واقعی انسکیور ہو رہی تھی۔۔ اسے اس فیز سے نکلنا تھا ورنہ اسکی یہ انسکیورٹیز اسکے رشتے کی خوبصورتیوں کو نگل جاتی۔۔۔
کوشیش تو کرنی ہی تھی اسے پھر اللہ اسکا مددگار تھا۔۔۔ وہ نم ںکھوں سے مسکراتی اٹھی اور عقیدت سے وہ گولڈن پلے بٹن اٹھا کر واپس اسے پارسل میں پیک کیا اور امان کا کیمرا سیٹ کر کے اسکا فوکس میز کی جانب کر کے واپس جا کر امان کی چھوڑی جگہ پر بیٹھی اور دوبارہ انباکسنگ کرنے لگی۔۔۔
انباکسنگ کر کے اسنے اس پلے بٹن کو اسکے پیچھے موجود بک شلف پر سلور بٹن کیساتھ رکھا۔۔۔
امان گھر سے نکل کر ایک دوست کی طرف آیا تھا ٹھیک دو گھنٹے بعد اسنے نوٹیفکیشن بیلز پر اپنا موبائل نکال کر دیکھا یہ نوٹیفکیشنز اسکے نئے شارٹ ویڈیو پر آ رہے تھے لیکن اسنے تو آج کوئی ویڈیو اپلوڈ نہیں کی ۔۔۔ الجھتے ہوئے اسنے ویڈیو کھولی ۔۔۔ جیسے جیسے ویڈیو چلتی جا رہی تو اسکی مسکراہٹ گہری ہوتی جا رہی تھی۔
Congratulations Mr. CA Chaiwala on the joy of completing one million subscribers.
We pray that you get the diamond play button as soon as possible.
Love from Mrs. CA chaiwala…
عفرا کی انباکسنگ ویڈیو کے اوپر لکھا آ رہا تھا جبکہ پیچھے بہت ہی خوبصورت دھن لگی تھی۔۔ ساتھ امان می مختلف تصویریں چل رہی تھیں۔۔۔ وہ ویڈیو عفرا نے اسی کے چینل پر اسی کے لیپ ٹاپ سے اپلوڈ کی تھی۔۔۔
عفرا کے اس میسج پر پے در پے لوگوں کے کئ محبت بھرے میسجز آ رہے تھے۔۔۔
امان نے مسکراتے ہوئے میسج ٹائپ کرنا شروع کیا۔۔۔
Thanks Mrs. CA Chaiwala for returning me my Afi Princess۔۔۔
میسج سینڈ کرتے ہی وہ ہلکا پھلکا ہو گیا تھا۔۔۔
******
باہر بالاج سب کے درمیان بیٹھا ہستا مسکراتا باتیں کر رہا تھا۔۔۔ پاس ہی سوٹ کیس کھلا پڑا تھا جس میں سے وہ گفٹس نکال نکال کر سب کو دے رہا تھا جبکہ صلہ اندر ہی اندر کڑھتی کمرے میں بیڈ پر دراز بچیوں کو سلا رہی تھی۔۔۔ باہر سے سبکی آوازیں اسے باآسانی سنائی دے رہی تھیں۔۔۔
بار بار گہرے گہرے سانس لیتی وہ اندر پلتے لاوے کو باہر نکلنے سے روک رہی تھی۔۔۔
کافی رات ہو گئ تھی لیکن باہر انکی محفل برخاست ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی۔۔۔
کافی دیر بعد وہ ہاتھ میں بیگ تھامے اندر آیا تھا۔۔۔ اس بیگ میں غالباً عفرا اور بچیوں کے گفٹس تھے۔۔۔۔ صلہ بید پر بیٹھی اپنا دکھتا سر دونوں ہاتھوں میں تھامے ہوئے تھی جب وہ دھپ سے اسکے پاس آ کر گرنے کے انداز میں بیٹھا اور بیگ سائیڈ پر رکھتا اسکی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا۔۔۔
کیا تمہیں میرے آنے کی خوشی نہیں ہوئی سویٹ ہارٹ اسنے صلہ کے دونوں ہاتھ اپنے پرحدت ہاتھوں میں تھامتے لبوں سے لگائے تو صلہ کا دل چاہا ہرمصلحت بالائے طاق رکھے پھوٹ پھوٹ کر رو دے۔۔۔ وہ موم کی مانند پگھلنے لگی تھی۔۔۔ پچھلے دو سالوں سے وہ ترس گئ تھی اس لمس کو۔۔۔
تم مجھے بھی بتا سکتے تھے بالاج۔۔۔ اتنی راز داری مجھ سے ہی برتنے لگے۔۔۔ ابھی کل ہی تو بات ہوئی تھی ہماری۔۔۔۔
اسکی آنکھوں میں پانی سمٹنے لگا تھا۔۔۔ شکوہ اپنے آپ ہی لبوں سے برآمد ہوا
یارررررر۔۔۔۔ اسکو سرپرائز بولتے ہیں۔۔۔ میں یکدم تمہارے سامنے آ کر تمہارے چہرے پر کھلتے حقیقی خوشیوں کے رنگ دیکھنا چاہتا تھا۔۔۔
مگر تمہارے تاثرات دیکھ کر مجھے لگ نہیں رہا کہ تم خوش ہوئی ہو۔۔۔
بالاج کا اتنا کہنا تھا کے یہیں پر صلہ کی ہمت جواب دے گئ اور وہ وہیں چہرا ہاتھوں میں چھپاتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔
جبکہ اسے یوں روتا دیکھ ایک پل کو تو بالاج بھی بونچکا رہ گیا۔۔۔
******
