Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 04

بالاج سے بات کر کے صلہ کی کافی ڈھارس بندھی تھی۔۔۔ اب دماغ نے کام کرنا شروع کیا تو اسے اپنی حماقت کا احساس ہو رہا تھا بجائے اسے ماں کے سامنے آپے سے باہر ہو کر کام خراب کرنے کے تحمل سے ماں کی منت سماجت کر کے انہیں اپنے حق میں ہموار کرنا چاہیے تھا۔۔۔

وہ اب اپنے کمرے میں بیٹھی مسلسل ناخن کترتی ماں کے پاس جا کر ان سے بات کرنے کی ہمت مجتمع کر رہی تھی کہ دفعتاً دروازہ کھول کر عفرا کمرے میں داخل ہوئی۔۔۔ صلہ اسے دیکھ کر سیدھی ہو کر بیٹھی عفرا کی سرخ سوجھی آنکھیں دیکھ کر وہ اندر ہی اندر شرمندہ ہوتی سر جھکا گئ۔۔۔

صلہ یہ دیکھو میرے جڑے ہوئے ہاتھ۔۔ ماں کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔ عفرا اسکے پاس آتی دوزانوں بیٹھ کر اسکے سامنے ہاتھ جوڑ گئ۔۔۔ صلہ نے تڑپ کر سر اٹھایا۔۔۔

کیا ہوا امی کو۔۔۔ آواز لڑکھڑا گئ تھی۔۔۔ وہ ٹھیک نہیں ہیں صلہ۔۔۔ انکا بی پی شوٹ کر گیا ہے۔۔۔ خدارا انہیں اتنے دکھ مت دو کہ وہ برداشت نا کر پائیں۔۔۔ ماں ہیں وہ ہماری۔۔۔ بابا کے بعد انہوں نے زمانے کی ہر سرد و گرم خود پر سہتے کبھی ہمیں کسی چیز کی کمی محسوس نہیں ہونے دی۔۔۔ ہم پر ہم سے زیادہ حق ہماری ماں کا ہے صلہ۔۔ تمہیں خدا کا واسطہ ضد چھوڑ دو ۔۔ بات کرتی وہ سسک اٹھی تھی۔۔۔

ایسا نا کہو عفرا۔۔۔ میں امی سے معافی مانگ لوں گی ۔۔۔ میں انکے پاوں پکڑ کر انہیں منا لوں گی۔۔۔ ہاں میں انہیں منا لوں گی۔۔ امی کو کچھ نہیں ہوگا۔۔۔عفرا کے جڑے ہاتھ تھام کر وہ پشیمانی سے گویا ہوتی رگڑ کر آنسو صاف کرتی عزم سے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔

مجھے تم سے یہ ہی امید تھی صلہ۔۔۔ مجھے پتہ تھا کہ تم مان جاو گئ۔۔۔ صلہ وہ ماں ہیں ہماری ہمارا بھلا ہی چاہیں گی۔۔۔ اگر انہوں نے اگلے ہفتے تمہارا اور امان بھائی کا نکاح رکھ دیا ہے تو کچھ سوچ سمجھ کر ہی۔۔۔

کیاااااا۔۔۔ کیا کہا تم نے۔۔۔۔ عفرا بھی اٹھ کھڑی ہوتی اپنے آنسو صاف کرتی خوشی سے بول رہی تھی نم آنکھوں میں الوہی چمک ابھر آئی تھی جب صلہ کی صدمے سے چور کسی کھائی سے آتی آواز گھونجی۔۔۔

ہان نا صلہ امی نے۔۔۔۔

عفرااااا۔۔۔

آئی امی۔۔۔ ابھی وہ بات کر ہی رہی تھی جب ماں نے اسے آوا لگائی اور وہ وہیں سے انہیں آواز دیتی بات درمیان میں ہی چھوڑ کر باہر بھاگ گئ جبکہ صلہ کی ذات اس وقت آندھیوں کی زد میں تھی۔۔۔

یہ اسکی ماں نے اسکے ساتھ کیا کیا۔۔۔ وہ ایسا کیسے کر سکتی تھیں۔۔۔ وہ اس سے بنا پوچھے بنا رضا مندی کے کیسے اسکے نکاح کی تاریخ رکھ سکتی تھیں۔۔۔ غصے کی شدت سے اسکا دماغ مفلوج ہونے لگا تھا۔۔۔ غصے کی زیادتی میں وہ ایک جھٹکے سے واپس پلٹی۔۔۔ بیڈ پر پڑا اپنا موبائل اٹھایا اور کھٹا کھٹ امان کا نمبر ملانے لگی۔۔۔ اسے خود ہی جلد از جلد اس معاملے سے اپنی جان نکالنی تھی ورنہ کہیں ایسا نا ہوتا کہ اسکی ماں ہفتے کی بجائے آج ہی پکڑ کر اسکا نکاح پڑھوا دیتی۔۔۔ غصہ سر چڑھ کر بول رہا تھا۔۔۔ دماغ پھٹنے کے در پر تھا

غصے سے کپکپاتے ہاتھوں سے نمبر ڈائل کر کے اسنے فون کان سے لگایا۔۔۔ دوسری طرف بیل جا رہی تھی۔۔۔ وہ ایک ہاتھ سے موبائل کان سے لگائے دوسرے سے ماتھا مسلتی خاصی بے چین دکھائی دے رہی تھی۔۔۔

دفعتا دوسری جانب سے رابطہ استوار ہوا تو وہ چونک کر سیدھی ہوئی۔۔۔

آپکی ہمت کیسے ہوئی میرے گھر میرے لئے رشتہ بھیجنے کی۔۔۔ کیا سوچ کر آپ نے میرے لئے اپنا رشتہ بھیجا۔۔۔ آخر ہیں کیا چیز آپ۔۔۔ سمجھتے کیا ہیں خود کو کہ بہت ہی کوئی اعلی و ارفع چیز ہیں آپ۔۔۔ ایک دفعہ اگر آئینے میں اپنی شکل دیکھ لو نا تو اوقات سامنے آ جائے پھر کس خوشگمانی میں میرے لیے رشتہ بھیجا۔۔۔

دیکھو مسٹر امان میں مر تو سکتی ہوں مگر ایک چائے کا ٹھیلہ لگانے والے کالے بدصورت شخص سے شادی نہیں کر سکتی اس لئے آپکو خدا کا واسطہ خود ہی پیچھے ہٹ جائیں ورنہ بصورت دیگر میرے قتل کا الزام آپکے سر ہوگا۔۔۔ امان کی ہیلو سنتے ہی وہ بنا رکے ایک ہی سانس میں اپنی بھراس نکالتی چلی گئ۔۔۔۔۔ دوسری جانب امان دھوان دھوان ہوتے چہرے کیساتھ ساکت و منجمند سا کھڑا اسکی باتیں سن رہا تھا۔۔۔ صلہ کی باتیں سن کر تو وہ اپنے اندر ہلنے تک کی ہمت مفقود پا رہا تھا۔۔۔ کوئی اتنا بے رحم کیسے ہو سکتا تھا بھلا۔۔۔

جیسا تم چاہتی ہو ایسا ہی ہوگا۔۔۔ دوسری جانب سے سنجیدہ سی آواز ابھری تو صلہ نے بنا کچھ مزید سنے کھٹاک سے فون بند کرتے گہرا سانس لیا۔۔۔۔ خس کم جہاں پاک۔۔۔ اگر زرا بھی غیرت والا ہوا نا تو دوبارہ ادھر کا رخ نہیں کرے گا۔۔۔ وہ ہاتھ جھاڑتی واپس پلٹی لیکن سامنے ساکت اور بے یقین سی عفرا کو کھڑا دیکھ ایک پل کو صلہ کی رنگت متغیر ہوئی۔۔۔ عفرا تاسف زدہ نگاہوں سے اسے دیکھتی مٹھیاں زور سے بھینچے ہوئے تِھی۔۔۔ دیکھتے ہی دیکھتے دو آنسو اسکی آنکھوں سے ٹوٹ کر گرے ۔۔۔ اس سے پہلے کہ صلہ اسے کوئی صفائی دیتی وہ ایک جھٹکے سے پلٹی اور منہ پر ہاتھ رکھ کر پھوٹ پھوٹ کر روتی کمرے سے باہر نکل گئ۔۔۔

******

امان ابھی تک بے جان سا شل ہوتے وجود کیساتھ وہیں کھڑا تھا۔۔ اسکا دماغ ابھی تک سائیں سائیں کر رہا تھا۔۔۔ اسقدر سفاکیت۔۔۔ ہاں بہت سے رشتوں سے انکار ہو جاتا تھا لیکن انکار بھیجوانے کا بھی ایک طریقہ ہوتا تھا ۔۔ یوں کسی کی ذات کو رگیدنا۔۔۔ اسکی کمیوں کو اچھالنا۔۔ اسے کمتر و حقیر جاننا۔۔۔ اسکے اندر ایک حشر برپا کر رہا تھا۔۔۔ دماغ کئ طرح کی سوچوں کا آماجگا بنا ہوا تھا۔۔۔ آنکھیں حد درجہ سرخ ہو رہی تھیں کہ کسی بھی پل چھلک پڑیں گئ۔۔۔ وہ جو آج تک کسی قسم کے کمپلیکس کا شکار نہیں ہوا تھا کیسے آج ایک لڑکی اسکی ذات کی دھجیاں اڑا گئ تھی۔۔۔

باوجود ضبط کے ایک آنسو اسکی آنکھ سے ٹوٹ کر پھسلا اور دیکھتے ہی دیکھتے آسمان بھی اسکی حالت پر ٹوٹ کر برس پڑا تھا۔۔۔ آسمان سے گرتی جابجا پانی کی بوندوں نے اسکا پردہ رکھ لیا تھا۔۔۔ وہ دل کا غم دل میں دبائے لب بھینچے مضبوط قدم اٹھاتا واپس گھر آیا۔۔۔ صد شکر کہ گھر واپسی پر اسکا ماں سے سامنا نہیں ہوا تھا ۔۔۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی اسنے گیلے کپڑے تبدیل کئے اور بنا ایک بھی نظر سٹڈی ٹیبل پر ڈالے بستر پر جا کر چت لیٹ گیا۔۔۔ وہ ذہنی طور پر اسقدر ڈسٹرب ہو چکا تھا کہ اس وقت خود کو ذہنی طور پر کوئی بھی کام کرنے کے لئے آمادہ نا کر پا رہا تھا۔۔

******

باہر ابر کرم ٹوٹ کر برس رہا تھا اور اس دو منزلہ گھر کی دوسری منزل کے لاوئنج میں اس وقت سبھی ڈنر کر رہے تھے۔۔۔

امی مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے۔۔ کھانا کھا کر ہاتھ صاف کرتے بالاج نے ماں سے کہا۔۔۔

ہاں کہو۔۔۔ ناہید بیگم صوفے سے اٹھتیں اٹھتیں واپس بیٹھ گئیں۔۔۔ لاوئنج میں زمین پر دستر خوان بچھا تھا جہاں کھانا کھانے کے بعد کرن اور تانیہ برتن سمیٹ رہی تھیں۔۔۔ جبکہ ثانیہ اپنے بچوں کے ساتھ وہیں سنگل صوفوں پر بیٹھی کوئی بات کر رہی تھی۔۔۔ بالاج کی بات پر وہ بھی ماں کی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔ جو کھانا کھانے کے ب0عد اٹھتی اٹھتی واپس بیٹھ گئیں تھیں۔۔۔ انہیں گھٹنوں کا مسلہ تھا جسکی وجہ سے وہ انکے ساتھ دستر خوان پر بیٹھ کر کھانا کھانے کی بجائے صوفے پر بیٹھ کر کھاتیں۔۔۔

امی میں شادی کرنا چاہتا ہوں۔۔۔ بالاج کے سنجیدگی سے کہنے پر ناہید بیگم مسکرا دیں۔۔۔

ہاں بیٹا میں بھی ایک دو دن تک آپا کی طرف جانے والی تھی مشال کو تمہارے لئے مانگنے۔۔۔

ایک منٹ ایک منٹ ایک منٹ۔۔۔ یہ بیچ میں مشال کہاں سے آگی۔۔۔ وہ بعجلت ماں کی بات کاٹتا ماتھے پر تیوریاں لئے گویا ہوا۔۔۔

کیا مطلب۔۔۔ شادی کے لئے لڑکی نہیں چاہیے کیا۔۔۔ کرن اور تانیہ بھی برتن سمیٹ کر وہیں آتی محویت سے انکی گفتگو سننے لگی۔۔۔

لڑکی میں پسند کر چکا ہوں آپ نے بس جا کر رشتہ مانگنا ہے۔۔۔ ایک گہراسانس خارج کرکے بالاج نے محض کہا نہیں بلکہ ان سب کے سروں پر پہاڑ گرایا تھا۔۔۔

اے لو ماں اب تیری یہ وقعت ہے کہ لڑکی پسند کر کے تجھے صرف رشتہ پوچھنے کا حکم دیا جا رہا ہے۔۔۔ ثانیہ ناک سے مکھی اڑاتی تمسخرانہ گویا بند ہوئی۔۔

منہ بند کرو تم اپنا۔۔۔ تمہیں کسی نے منہ نہیں لگایا۔۔۔ خوامخواہ میرے معاملے میں ٹانگ اڑانے کی کوشیش کی تو ٹانگ ٹور دوں گا۔۔۔ بہن کی بے جا مداخلت پر بالاج کی آنکھوں میں خون اتر آیا تھا۔۔۔ وہ بہن کی شر پسند فطرت سے بخوبی واقف تھا کاش کے آج وہ یہاں آئی ہی نا ہوتی۔۔۔۔

اچھا توڑو تم میری ٹانگیں۔۔۔ نئ توڑو۔۔۔ میں بھی تو دیکھوں بڑَے پھنے خان کو۔۔۔ ثانیہ بھی بھلا کہاں پیچھے رہنے والی تھی جھٹ سے بازو چڑھاتی میدان میں کودی۔۔

مصلحت کا تقاضا تھا تبھی بالاج اسے نظر انداز کرتے ماں کی جانب متوجہ ہوا۔۔۔۔

ماں میں آپکو بتا رہا ہوں کہ میں شادی کروں گا تو محض صلہ سے اور آپ صبح چچی کے پاس اسکا رشتہ مانگنے جا رہی ہیں۔۔۔ وہ ماں کی جانب متوجہ ہوتا حتمی انداز میں گویا ہوا۔۔۔

ہائے میں مر گئ۔۔۔یہ کیا بکواس کر رہے ہو۔۔ دشمن کی لڑکیاں اب اس گھر میں آئیں گی وہ لڑکی ہے ہی جادوگرنی۔۔۔ پہلے پوری زندگی اسکی ماں ہم پر جادو ٹونا کرتی رہی اور اب اسکی بیٹی نے میرا بیٹا اپنے ہاتھوں میں کر لیا۔۔۔

ناہید بیگم تو دل تھامی سینہ کوبی کرنے لگی تھی۔۔۔

ہرگز نہیں۔۔۔ ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔۔۔

میرے جیتے جی وہ لڑکی یہاں بہو بن کر نہیں آ سکتی۔۔۔

ماں کے ساتھ ساتھ ثانیہ اور تانیہ دونوں شروع ہو چکی تھیں۔۔۔ البتہ کرن ابھی تک خاموش کھڑی تِھی۔۔۔

بکواس بند کرو تم دونوں یہ ہمارے گھر کا معاملہ خبردار اگر جو تم دونوں میں سے کوئی کچھ بولا تو ۔۔۔۔ وہ تو ماں کی سینہ کوبی کرنے پر ہی کنفیوز ہو چکا تھا کجا کہ ان دونوں کی ڈرامے بازیاں۔۔۔

کیوں یہ ہمارا بھی گھر ہے۔۔۔ تم ہوتے کون ہو ہمیں روکنے والے۔۔۔ وہ دونوں اب باقاعدہ میدان میں کود چکی تھیں۔۔۔

شادی کردی دفعہ کر دیا تم دونوں کو اس گھر سے پھر بھی جونک کی طرح چمٹ کر رہپ گئ ہو ہماری جانوں کو۔۔۔ یہ ثانیہ کا شوہر تو شاید خود بھی اسکی بدزبانی سے جان چھڑاتا ہے اسی لئے ہر دوسرے دن بچوں کی پلٹوں کے ساتھ یہاں دفعہ کر دیتا ہے اسے۔۔۔

اور تمہاری اپنے سسرال والوں سے ویسے ہی زرا نہیں بنتی۔۔۔ وہ تمہاری شکل تک دیکھنے کے روادار نہیں۔۔۔ اسی لئے تم سسرال سے زیادہ یہاں پائی جاتی ہو۔۔۔ ثانیہ کے بعد وہ اب غصے میں بپھرا تانیہ کے پیچھے چڑھا۔۔۔۔ لے کے زندگی عذاب کر کے رکھ دی ہے۔۔۔ یہ گھر گھر نہیں چڑیا گھر زیادہ لگتا ہے۔۔۔

تم اپنی بکواس بند کرو یہ ہمارے باپ کا گھر ہے۔۔۔ ہم جب چاہیں یہاں آسکتے ہیں۔۔۔ تیر سیدھے نشانے پر لگے تھے اسی لئے دونوں ہی بلبلا اٹھی تھیں۔۔۔

باپ نے فرض ادا کر دیا یہ بھر بھر کر ٹرک جہیز کے دے دیئے۔۔۔ دفعہ کر دیا اس گھر سے ۔۔۔تم لوگ پھر مونگ دلنے آگئ ہمارے سینوں پر۔۔۔ جاو کہیں اپنے گھر بھی۔۔۔ لے کر یہاں بھی کچھ سکون ہو۔۔۔

کیڑے پڑیں تمہیں بالاج۔۔۔ تم ہمیں رلاتے ہو اللہ کرے تم پوری زندگی روتے رہو۔۔۔ وہ دونوں ہی چہکوں پہکوں روتیں بددعوں پر اتر آئی تھیں۔۔

ہاں جی مولانا صاحب آپ دونوں نے کہہ دیا اور ہو گیا۔۔۔ سوائے تیلی جلا کر دوسروں کے گھروں میں آگ لگانے کے تم لٹنیوں کا کام ہی کیا۔۔۔ وہاں ایک جنگ چھڑ چکی تھی۔۔۔ط

منہ بند کر لو بالاج۔۔۔ تم میری بچیوں کی یوں تزلیل نہیں کر سکتے۔۔ ناہید بیگم کو برا لگا تھا تبھی للکار کر گویا ہوئیں۔۔

ماں زندگی کا ایک ہی اصول ہے۔۔۔ عزت دو اور عزت لو۔۔۔ اگر آپ کسی دوسرے کی عزت نہیں کر سکتے تو یہ آپکی بھول ہے کہ کوئی دوسرا پھر آپکی عزت کرے گا۔۔۔

اور رہ گئ بات تذلیل کی تو اگر یہ زرا سا زبان کو قابو میں رکھے تو کوئی پاگل نہیں کہ انکی تذلیل کرتا پھرے۔۔ پر ماں معذرت کے ساتھ آپکی بیٹیوں کو نا تو سسرال میں رہنا آیا اور نا مائیکے میں۔۔۔

ثانیہ نے آپے سے باہر ہوتے ڈیکوریشن پیس اٹھا کر بالاج کو مارا جسے اسنے بروقت کھیچ کرتے رکھ کر اسکی پاوں پر مارا۔۔۔ نشانہ اتنا پکا تھا کہ وہ بلبلا کر پاوں تھامے وہیں بیٹھ کر اسے کوسنے دینے لگی۔۔

آئندہ ہاتھ چلانے سے پرہیز کرنا۔۔۔

امی آپ صبح چاچی کی طرف جا رہی ہیں اور بس۔۔۔ اس سے کھپ انگلی اٹھا کر سختی سے وارن کر کے وہ واپس ماں کی جانب متوجہ ہوا۔۔۔میں کہے دے رہی ہوں۔۔۔ مرتے مر جاوں گی مگر اپنے دشمن کے گھر نہیں جاوں گی۔۔۔

تو پھر ٹھیک ہے میں بھی یہ گھر چھوڑ کر جا رہا ہوں اگر تو کل آپ چچی کی طرف میرا رشہ لے کر گئ تو ٹھیک ورنہ کل شام کو آپکو میری لاش پہنچ جائے گی۔۔۔ خود کشی کر کے خود کو ختم کر ڈالوں گا مگر صلہ کے بغیر نہیں جیوں گا۔۔۔

وہ سامنے پڑے میز کو ایک زوردار ٹانگ رسید کرت باہر نکل گیا۔۔۔

دیکھ لے امی۔۔ تیرا بیٹا ہاتھوں سے نکل گیا۔۔۔ ثانیہ واویلا مچاتی ماں کی جانب بڑھی۔۔

ارے جادو گرنی کی بیٹی ہے۔۔۔ جادو ٹونے کر کر کے میرے بیٹے کو ماں کے خلاف کردیا۔۔۔ ارے کیڑے پڑیں تجھے صلہ۔۔۔ تو نے میرا بیٹا قابو میں کر لیا۔۔۔ ناہید بیگم دوپٹہ آنکھوں پر رکھتیں بین کرتیں بددعائیں دے رہی تھیں۔۔۔۔

******

اس دو منزلہ گھر میں پہلی منزل پر اس وقت قیامت کا منظر تھا۔۔۔ عفرا نے ماں کے پاس جاتے صلہ کی ساری کارستانی من و عن ماں کے گوش گزاری تھیں۔۔۔ جسے سنتے ہی ماں دل تھام کر رہ گئ۔۔۔

ایک لمحے میں وہ جلال میں آتیں صلہ کے کمرے کی جانب بڑھیں۔۔۔ بے حیا بے غیرت لڑکی۔۔۔۔ بدبخت یہ کیا حرکت کی تو نے۔۔۔ تجھے زرا غیرت نہیں آئی یوں منہ پھاڑ کر کسی کی کمیاں اور خامیاں گنواتے۔۔۔ خود کیا دودھ کی دھلی ہے تو یا تجھے کوئی سرخاب کے پر لگے ہیں۔۔۔ اندر آتے ہی نزہت بیگم نے بنا سوچے سمجھے پاوں سے جوتا اتارا تھا اور بنا صلہ کو سمبھلنے کا موقع دیے پے در ہے اسے صلہ پر برسانا شروع کر دیا ۔۔۔ پانی اب سر سے گزر چکا تھا۔۔۔ وہ لڑکی اب سرکشی و باغی پن میں بہت آگے بڑھ چکی تھی۔۔۔

صلہ اپنا بچاو کرتی زمین پر بیٹھ کر سر گھٹنوں میں دبائے ڈھاریں مار مار کر رو دی۔۔۔ آج تو اسکی حرکت ملاخظہ کرکے عفرا تک اسکی مدد کو آگے نا بڑھی تھی۔۔۔۔

ارے اس بدبخت نے مجھے کہیں منہ دکھانے لائق نا چھوڑا۔۔۔۔ کیا منہ دکھاوں گی اب آپا کو۔۔ جلد ہی ماں ہانپ کر وہیں جوتا پھینکتی بیڈ کنارے ٹک گئیں۔۔۔ اتنی سی مشقت سے انکا سانس پھولنے لگا تھا۔۔۔۔ عفرا نے بھاگ کر کچن سے لا کر پانی کا گلاس ماں کے منہ کو لگایا۔۔۔

ایسی نافرمان اولاد رب کسی کو نا دے۔۔۔ وہ کپکپاتے ہاتھوں سے بے ساختہ بہتے آنسو صاف کرتیں گلوگیر لہجے میں گویا ہوئیں۔۔۔

آپ کیوں کسی بھی ایرے غیرے سے میرا رشتہ طے کروانے پر تلی ہیں۔۔۔ کیوں آپ انہیں منع نہیں کر سکتیں کس بات کا خوف ہے آپکو۔۔۔ صلہ بھی ہچکیوں سے روتی گھٹنوں سے چہرا اٹھاتی پھٹ پڑی تھی۔۔۔

اللہ نا کرے تم پر کبھی ایسا وقت آئے کہ تمہاری دو بیٹیاں ہوں اور انہیں زمانے کی سردو گرم سے بچانے والی تنہا ماں ہو تب ہی تم اس ماں کی مجبوریاں سمجھ پاو گئ۔۔۔ وہ پرائی نگاہوں سے صلہ کو دیکھتی عفرا کا سہارا لے کر کمرے سے نکل گئیں۔۔۔

کیا پسند کی شادی گناہ ہے۔۔۔ مجھے یہ حق میرا اسلام دیتا ہے۔۔۔ پیچھے سے وہ چٹخ اٹھی تھی۔۔۔ دروازے سے باہر نکلتے ماں کے قدم ٹھٹھکے۔۔۔

پسند کی شادی کے نام پر جس جہنم کو اپنے لئے منتخب کر رہی ہو نا بھسم ہو جاو گئ وہاں ۔۔ سالم نگل جائیں گی وہ ماں بیٹیاں تمہیں۔۔۔ ماں بنا پلٹے نحیف اور شکست خوردہ آواز میں گویا ہوئیں۔۔۔۔

کوئی کسی کو سالم نہیں نگلتا۔۔ جسا کوئی کرے گا ویسا بھرے گا اور ماں ہو کر آپکے منہ پر بددعائیں ذیب نہیں دیتیں۔۔۔ آپکو تو دعائیں دینی چاہیے مجھے کہ اللہ میرے نصیب اچھے کرے۔۔۔ صلہ ہزیانی انداز میں چلا رہی تھی جبکہ ماں اسکی باتوں پر تاسف سے سر ہلاتیں بنا مزید بحث میں پڑے باہر نکل گئ۔۔۔

*****