khwab e Junoon by Umme Hani readelle50005 Episode 57
Rate this Novel
Episode 57
بالاج کا اتنا کہنا تھا کے یہیں پر صلہ کی ہمت جواب دے گئ اور وہ وہیں چہرا ہاتھوں میں چھپاتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔
جبکہ اسے یوں روتا دیکھ ایک پل کو تو بالاج بھی بونچکا رہ گیا۔۔۔
یہ کیا صلہ۔۔۔ کیا تم خوش نہیں ہو میرے واپس آنے سے۔۔۔ بالاج نے سنجیدگی سے کہتے صلہ کے چہرے سے ہاتھ ہٹائے۔۔۔
اسنے متوحش بھیگی نگاہیں اٹھا کر بالاج کی جانب دیکھا۔۔۔ بے بسی خوف ڈر کیا کچھ نا تھا ان آنکھوں میں۔۔۔ ان آنکھوں میں دیکھتے بالاج کے دل پر گھونسا پڑا۔۔۔۔
کیا مجھے خوشی ہونی چاہیے بالاج۔۔۔
بتاو۔۔۔ کیا ہونا چاہیے مجھے خوش۔۔۔ وہ کرلا اٹھی تھی۔۔۔
کون ہے میرا تمہارے سوا۔۔۔۔ بالاج تم میرا سب کچھ ہو۔۔۔ سب کچھ۔۔۔
کیوں آئے ہو تم یہاں۔۔۔
مجھے سے سچ بولنا محض سچ۔۔۔ جھوٹ میں برداشت نہیں کر پاوں گی۔۔۔ پھٹ جائے گا میرا دل جو پہلے ہی کرچی کرچی ہوا پڑا ہے۔۔۔
وہ سسکیاں ضبط کرتی شکستہ حالت میں سراپہ سوال بنی تھی۔۔۔۔
کیا تم واقعی مشل سے شادی کر رہے ہو۔۔۔
بہتی آنکھوں سمیت اسنے یہ سوال کیسے پوچھا تھا یہ صرف وہی جانتی تھی۔۔۔
جسکے بعد وہ پرامید نگاہوں سے اسے تک رہی تھی کے وہ ابھی انکار کر دے گا۔۔۔ تسلی کے دو بول۔۔۔ محض دو بول اسکی ساری تشنگیاں مٹا دیں گے۔۔۔
لیکن اسے خاموشی سے نظریں چڑاتے دیکھ چھن سے صلہ کے اندر کچھ ٹوٹا تھا۔۔۔
اسے لگا وہ ہار گئ ہے۔۔۔ بری طرح ہار گئ۔۔۔
ایک لٹے پٹے مسافر کی طرح جیسے بیچ راہ میں بے دردی سے لوٹ کر بے آسرا اجنبی راستوں پر چھوڑ دیا جائے۔۔۔
تو مطلب یہ سچ ہے۔۔۔ بالاج کیسے کر سکتے ہو تم میرے ساتھ ایسا۔۔۔
ضبط کھوتے وہ اسکا گریبان جھکڑتی چیخ اٹھی تھی۔۔۔
یہ صلہ ہے میری وفاوں کا۔۔۔ میرے صبر کا بالاج۔۔۔ میری محبت کا۔۔۔
بہتے آنسووں اور ٹوٹے لہجے میں بولتے اسکے الفاظ ساتھ چھوڑنے لگے تھے۔۔۔ دل سوکھے پتے کی مانند لرز رہا تھا۔۔۔ مستقبل کے ناگ اکھتے ہی حملہ آوور ہو کر اسے ڈسنے لگے تھے۔۔۔
اسکے جسم پر کپکپی طاری ہونے لگی تھی۔۔۔۔
جبکہ وہ خود کسی مجرم کی مانند اسکے سامنے سر جھکائے بیٹھا تھا۔۔۔ جیسے ایک بھی لفظ زبان سے نکالنے کو انکاری ہو۔۔۔ یا شاید وہ صلہ کو اپنی ساری بھراس نکال دینا چاہتا تھا۔۔۔۔۔
بیوی ہوں نا تمہاری بالاج۔۔۔ روز بات ہوتی تھی ہماری۔۔۔ اتنی رازداری۔۔۔ اتنا بڑا دھوکہ کہ مجھے کانوں کان خبر تک نا ہونے دی۔۔۔ اور بات یہاں تک پہنچ گئ۔۔۔
وہ اسکا گریبان چھوڑتی کپکپاتی ہوئی گھٹنے سینے سے لگاتی انکے گرد بازو لپیٹ گئ۔۔۔ وہ اس وقت کوئی دیوانی ہی معلوم ہو رہی تھی۔۔۔ اسکی حالت پر بالاج کی اپنی آنکھیں نم ہونے لگیں۔۔۔
میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں صلہ۔۔۔ تمہیں دکھ نہیں دینا چاہتا تھا اس لئے یہ بات۔۔۔
لعنت ہو ایسی محبت پر بالاج۔۔۔ لعنت ہو۔۔۔ بالاج کے اسکی دونوں بازو تھام کر عاجری سے کہنے پر وہ ایک جھٹکے میں اس سے اپنے بازو چھڑواتی حلق کے بل چیخی۔۔۔
اب بھی تم میں ہمت ہے اتنی فضول بکواس کرنے کی۔۔۔ وہ بہتی آنکھوں سمیٹ ہچکیاں لیتی غصے سے گویا ہوئی۔۔۔
میری ذات کو مسخ کر کے تم کونسی محبت کی داستانیں سنا رہے ہو۔۔۔
محبت میں شراکت نہیں ہوتی۔۔۔ اور جس میں شراکت ہو جائے وہ محبت نہیں ہوتی۔۔۔
کیا واقعی تم نے کبھی مجھ سے محبت کی بالاج۔۔۔
وہ دکھ اور تاسف سے اسے دیکھ رہی تھی جو ہنوز گردن جھکائے بیٹھا تھا۔۔۔
صلہ میں مجبور ہوں۔۔۔
تم مجبور نہیں ہو بالاج۔۔۔ مجبور تو میں ہوں۔۔۔ یہ دیکھو میرے جڑے ہوئے ہاتھ بالاج۔۔۔ یہ دیکھو۔۔۔
یکدم ہی وہ غصے بھلائے اسکے پاس کھسکتی منت کرتے اسکے سامنے ہاتھ جوڑ گئ۔۔۔
ایک آنسو بالاج کی آنکھ سے ٹوٹا۔۔۔
مت کرو یہ شادی بالاج۔۔۔۔ میں مر جاوں گی۔۔۔ تم۔۔۔تمہیں شیئر نہیں کر سکتی۔۔۔ پلیز بالاج۔۔۔ پلیز۔۔۔۔ میں سچ میں مر جاو گئ بالاج۔۔۔۔ جھوٹ نہیں کہہ رہی۔۔۔ وہ اسکے سینے پر سر رکھتی سسک اٹھی۔۔۔
بالاج اسکے گرد حصار قائم کرتا اسکے بال سہلانے لگا۔۔۔
امی کو پوتا چاہیے صلہ۔۔۔۔ وہ آہستگی سے گویا ہوا۔۔۔ لیکن صلہ کرنٹ کھا کر دور ہٹی۔۔۔
تم نے تو کہا تھا کے تمہارے لئے تمہاری بیٹیاں ہی سب کچھ ہے۔۔۔ پھر اب یہ بیٹے کی خواہش کہاں سے جاگ اٹھی۔۔۔۔
میں امی کی بات کر رہا ہوں۔۔۔ انکا میں ایک ہی بیٹا ہوں۔۔۔ کیسے انکی خواہش رد کر دوں۔۔۔
تم اور تمہاری ماں۔۔۔ لیکن میں کہاں ہوں۔۔۔ میرا وجود کہاں ہے۔۔۔ کیا میں بیوی نہیں تمہاری۔۔۔ لمحے میں غصہ پھر سے اسکے دماغ پر چڑھا تھا۔۔۔۔
میں کب انکاری ہوں یار۔۔۔
انکاری نہیں ہو تو اقرار بھی تو نہیں کر رہے۔۔۔ان کی خواہش کے لیے بیوی کو سولی پر لٹکا دو گئے۔۔۔
کیسی باتیں کر رہی ہو صلہ۔۔۔ اسنے ٹرپ کر صلہ کو تھامنا چاہا جبکہ وہ بن جل مچھلی کی مانند اسکے ہاتھوں کو جھٹکی پھسل کر نکلی۔۔۔
بالاج نے کرب سے آنکھیں بند کرتے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔۔۔
صلہ انکی بات بھی کسی حد تک ٹھیک ہے۔۔۔ یوں تو ہماری نسل کا کوئی وارث نہیں ہو گا۔۔۔ میرے کام کو آگے کون بڑھائے گا۔۔۔ اتنا کما میں کیوں رہا ہوں جب کوئی نام لیوا ہی نا ہوا تو۔۔۔
مجھے تمہاری سوچ ہر افسوس ہے بالاج۔۔ تم اپنی بیٹیوں کو یکسر فراموش کر رہے ہو۔۔۔ بیٹیاں بیٹوںّ سے کم نہیں ہوتیں۔۔۔ صلہ تلخ ہو چکی تھی۔۔۔۔
صرف کتابوں اور باتوں کی حد تک۔۔۔ لیکن حقیقت میں بیٹا بیٹا ہی ہوتا ہے۔۔۔
وہ اس سے بھی زیادہ تلخ ہو اٹھا تھا۔۔۔ صلہ ہونق بنی اسے دیکھتی ہی رہ گئ۔۔۔
ناجانے کتنے عرصے کی برین واشنگ تھی جو اب لفظوں کے ذریعے اسکے سامنے آ رہی تھی۔۔۔
صلہ کو اسقدر شاک کی کیفیت میں دیکھتے بالاج نے اسکے کھینچ کر خود میں بھینچا۔۔۔
مجھ سے بدگمان مت ہو صلہ پلیززززز۔۔۔۔
میری امی سے بات ہو گئ ہے۔۔۔ شادی کے بعد میں تمہیں اپنے ساتھ لیجاوں گا۔۔۔ اگلے مہینے میری فلائٹ ہے۔۔۔ بس ایک مہینہ یہ سب برداشت کر لو۔۔۔ میں دوسری شادی پر راضی صرف اسی شرط پر ہوا ہوں کے تم میرے ساتھ جاو گئ۔۔۔۔
وہ اسے خود میں بھینچے کہہ رہا تھا جب صلہ تلخی سے اسکا حصار توڑتی پیچھے ہٹی۔۔۔
تمہیں لگتا ہے کے ہر دفعہ تم مجھے ایک نئ کہانی سنا کر بہلاو گئے تو میں بہلتی جاوں گی۔۔۔
غصے سے کھولتی وہ بستر سے اتری۔۔۔ مانا کے دنیا کی بے وقوف ترین عورت ہوں میں۔۔۔ وہ گویا خود کا ہی تمسخر اڑاتی تمسخرانہ ہسی۔۔۔
مگر کیا دنیا کی ٹھوکریں کھا کر بھی مجھے عقل نہیں آنی تھی۔۔۔
تمہیں صلہ سے محبت ہے۔۔۔ تمہارے لئے تمہاری بیٹیاں ہی سب کچھ ہے۔۔۔ تم ایک دفعہ باہر چلے جاو سب ٹھیک کر دو گئے۔۔۔
تم کبھی دوسری شادی نہیں کرو گئے۔۔۔ تم ایک سال کے اندر اندر مجھے باہر اپنے پاس بلوا لو گئے۔۔۔ ان میں سے کسی ایک بات پر بھی پورا اترے ہو تم جو تمہاری کسی بات کا یقین کروں میں۔۔۔
وہ چیخ کر گویا ہوئی۔۔۔۔
کیا اتنی سی بات تمہیں سمجھ نہیں آتی۔۔۔ جو عورت تب مجھے کچھ نہیں گردانتی رہی جب میں تمہاری زندگی کی بلاشرکت غیر مالکن تھی۔۔۔ وہ عورت تمہارے ساتھ اپنی بھانجھی کی شادی کروا کر اسکی حق تلفی کروا کر مجھے تمہارے ساتھ بھیج دے گی۔۔۔
تم چھوٹے بچے ہو جو یہ باتیں تمہیں سمجھ نہیں آتیں۔۔۔
بالاج تم یوں تو نا تھے۔۔۔ تم اتنے ظالم کب سے بن گئے۔۔۔ ہمارے بیچ کے یہ دو سال میری خوشیاں نگل گئے۔۔۔ تمہیں ظالم بنا گئے تمہارے دل سے احساس کھرچ کر لے گئے۔۔۔
کیوں تمہیں میرے زخم دکھائی نہیں دے رہے۔۔۔۔۔ وہ کبھی غصہ کرتی کبھی چیختی چلاتی کبھی اسکی منتیں کرتیں بس کسی بھی طرح اسے منا لینا چاہتی تھی۔۔۔ کچھ بھی کر کے اسے اپنا گھر بچانا تھا۔۔۔ پھر کیسی انا اور کیسی عزت نفس۔۔۔۔
صلہ پلیز خود کو تکلیفت مت دو۔۔۔ میں کہہ رہا ہوں نا۔۔۔
تکلیف میں نہیں دے رہی خود کو۔۔۔ تکلیف تم دے رہے ہو مجھے۔۔۔ وہ مزید اپنے جسم کا بوجھ نا سہارتے وہیں ڈھ گئ تھی۔۔۔۔
اور ستم یہ ہے کہ تمہیں اس چیز کا احساس بھی نہیں۔۔۔۔
کیا کچھ نہیں کیا میں نے تمہارے لئے۔۔۔۔ اندھی ہو گئ میں۔۔۔ ماں کو تکلیف دی۔۔۔ انکا نا سوچا دکان بیچ دی۔۔۔ تمہارے کہنے پر اپنا گھر تمہاری بہن۔۔۔۔
اوہ تو اب تم مجھے اپنے احسانات گنواو گی۔۔ لمحے میں بالاج کا لہجہ بدلا تھا۔۔۔ آنکھیں آگ اگلنے لگی تھی۔۔۔
مطلب کے اگر تم میرا ساتھ نا دیتی تو میں کبھی زندگی میں کچھ کر ہی نا سکتا۔۔۔ وہ تلخی سے ماتِھے پر بل سجائے گویا ہوا۔
ہاں ۔۔۔ یہ ہی حقیقت ہے۔۔۔ کر سکتے ہوتے تو ابھی تک کر چکے ہوتے۔۔۔ میری مدد کا انتظار نا کرتے۔۔۔
وہ بنا اسکے غصے کی پرواہ کئے پوری قوت سے چیخی۔۔۔
یہ سب تمہارے دماغ کا فتور ہے۔۔۔ یہ سب میری محنت کا نتیجہ ہے۔۔۔ وہ غصے سے گویا ہوا جب صلہ اس سے بھی زیادہ غصے سے چیخ اٹِھی۔۔۔۔
احسان فراموش ہو تم۔۔۔ سنا تم نے۔۔۔
بکواس بند کرو اپنی۔۔۔ بالاج ڈھارا۔۔۔۔
تم شاید اپنے عنایتوں کا روب دکھا کر مجھے پریشرائز کرنا چاہتی ہو۔۔۔
کاش تم ہو جاو بالاج۔۔۔ کاش ایسے ہی تم پریشرائز ہو جاو۔۔۔
میں تو تمہیں محض اپنے لئے دردناک موت تجویز کرنے سے روک رہی ہوں۔۔۔
یوں ایک دفعہ گلے پر چھڑی چلا کر ٹرپ ٹرپ کر مرنے کے لئے مت چھوڑو۔۔ پھر ایک ہی بار میں ختم کر ڈالوں مجھے۔۔۔
وہ کسی ہارے ہوئے جواری کی مانند بیڈ کی پائنتی سے سر ٹکاتی سسکی اٹھی۔۔۔ جبکہ بالاج اسے یوں روتا دیکھتا نفی میں سر ہلاتا وہاں سے نکل گیا۔۔۔
******
اس دن کے بعد سے صلہ کی حیثیت مزید وہاں ختم ہو کر رہ گئ تھی۔۔۔ دوبارہ اسکا بالاج سے سامنا نہیں ہوا تھا۔۔۔ وہ گھر بہت کم ہوتا۔۔۔ ہوتا بھی تو ماں بہنیں اسے اپنے نرغے میں لئے رکھتی۔۔۔
صلہ نے ہر لحاظ سے ہاتھ پاوں مار کر دیکھ لئے مگر کہیں سنوائی نا ہوئی۔۔۔
سوچ سوچ کر اسکا دماغ پھٹ رہا تھا۔۔۔
لیکن صحیح جان اسکے جسم سے تب نکلی جب اسکی نندوں نے کمال جرات سے اسکے کمرے سے اسکا اور بچیوں کا سامان نکال کر سٹور میں رکھ کر وہ کمرا مشل کے لئے تیار کرنا شروع کیا۔۔۔
یہ ایک تماچہ تھا صلہ کے منہ پر جو اس پر اسکی اوقات واضح کر گیا تھا۔۔۔ اور یہاں پر وہ خاموش نہیں رہی تھی۔۔۔
وہ بنا کسی کی پرواہ کئے ساس کے کمرے میں بالاج کے سر پر جا پہنچی تھی۔۔۔ اس واقعہ نے اسکا غصہ سوا نیزے پر پہنچا دیا تھا۔۔۔
لیکن بالاج نے بات ہی ختم کر دی تھی یہ کہہ کر جب وہ اسے اپنے ساتھ ہی لیجائے گا تو پھر یہ چیزیں اہمیت نہیں رکھتی اور صلہ کا دل چاہا کے یا تو اپنا سر پھاڑ لے یا بالاج کا سر دیوار میں دے مارے۔۔۔۔
ابھی تک اس گھر میں وہ شوہر کے سہارے ہی تو رہ رہی تھی۔۔۔ یہ ہی اسکا سہارا ڈولنے لگا تھا تو اسکی ذات تو تنکے سے بھی ہلکی ہو کر رہ گئ تھی۔۔۔
*****
سارے کمرے میں موتیے اور گلاب کے پھولوں کی خوشبو پھیلی تھی۔۔۔ کمرے کی سجاوٹ آنکھوں کو خیرہ کرتی تھی جیسے اسے بہت محبت اور ارمانوں سے سجایا گیا ہو۔۔۔۔نئ دلہن کی مانند سجے کمرے میں جابجا جلتی موم بتیوں سے لیونڈر اور موتیے کی پھوٹتی خوشبو پورے کمرے کی فضا میں پھیلتی اسے معطر کر رہی تھی۔۔۔ وہ کمرے کے کونے میں کھڑی ویران چہرے متوحش اور خالی نگاہوں سمیٹ کمرے کو چاروں جانب سے دیکھتی ضبط کی آخری انتہاوں پر تھی۔۔۔ آج یہ سیج اسکے خوابوں ارمانوں اور خوشیوں کے مقبرے پر قائم کی گئ تھی۔۔ اسے اپنا دل بھی ان جلتی موم بتیوں کی مانند جلتا محسوس ہوا۔۔۔ اسے اس مسحور کن کرتے کمرے میں اپنا دم گھٹتا محسوس ہوا تو وہ نم آنکھوں سمیٹ سینے کے مقام پر ایک ہاتھ رکھتی اسے زور سے مسلنے لگی۔۔۔ اپنوں کی بے حسی اسے خون کے آنسو رلا رہی تھی۔۔۔ کچھ ہی دیر میں گھر میں دلہن آنے کا شور اٹھا تو وہ کرب سے آنکھیں میچتی کمرے کو ایک الواعی نگاہ سے تکتی مرے مرے قدم اٹھاتی کمرے سے باہر نکلی۔۔۔ کوئی کیسے کسی کو زندہ درگو کر کے اسکے مقبرے پر اپنی خوشیوں کے محل سجا سکتا تھا بھلا۔۔۔
اسے اپنا دل پھٹتا محسوس ہوا۔۔۔ کیا اسکی زندگی میں اب کچھ بچا تھا صلہنے کرب سے سوچا۔۔۔ لیکن شاید ابھی زندگی کو اسکی لمبی آزمائش منظور تھی۔۔۔۔۔
اسے سٹینڈ لینا تھا۔۔۔ اسے اب اپنی بچیوں کے لئے ان ظالم لوگوں کے سامنے تن کر کھڑی ہونا تھا۔۔۔
ایسا ہے تو ایسا ہی سہی۔۔۔ کھونے کو کچھ بچا تھا کیا۔۔۔ اس شادی نے اسے بےخوف بنا دیا تھا ۔۔۔ نڈر۔۔۔۔
اب تک سب نے صلہ کی مصلحت دیکھی تھی۔۔۔ جسے آج ابھی اسی وقت وہ بالائے طاق رکھ کر اس کمرے سے نکلی تھی۔۔۔ جانے کل کا سورج کس کے لئے کیا لے کر طلوع ہوتا۔۔۔۔
*******
