Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 08

موسم خاصا گرم تھا کہ کمروں میں چلتے پنکھوں کی ہوا کے باوجود تپش کا احساس تھا۔۔۔ ایسے میں وہاں ارد گرد ہر جانب رنگ برنگے آنچل جیولری اور میک آپ کا سامان بکھرا تھا۔۔۔

تیار تو تم دونوں ایسے ہو رہی ہو جیسے بڑی خوش ہو اس شادی سے اور بڑے چاو سے بھابھی بیاہنے جا رہی ہو۔۔۔ ادھر بے چاری مشل کا رو رو کر برا حال مجھ سے تو سچی اسکی حالت دیکھی نہیں جا رہی۔۔۔ ثانیہ نے اپنی سب سے چھوٹی بیٹی کو کپڑے پہناتے جلے دل کے پھپولے پھوڑے۔۔ ناہید بیگم کاسنی کلر کے شلوار سوٹ میں سر پر آنچل جمائے پھولے منہ سمیت سنگل صوفے پر براجمان تھی جبکہ تانیہ اور کرن زرق برق ملبوسات میں ملبوس آنچل سے بے نیار آئینے کے سامنے کھڑی چہرے پر طبع آزمائی کر رہی تھیں۔۔۔ جنہیں دیکھ دیکھ ثانیہ کو غصہ آ رہا تھا۔۔۔

اچھا جی۔۔۔ اب بھائی تو اللہ کی کرنی یہ جیبیں بھر بھر کر لٹا کر آیا ہے کل اپنی ہونے والی بیوی پر۔۔۔ دیکھا میں نے کل انہیں شاپنگ سے واپسی پر اندر جاتے ہوئے شاپر اٹھائے نہیں جا رہے تھے دونوں سے۔۔۔ ناجانے کیا کیا خرید کر دیا ہے اسے ہمیں تو جھوٹے منہ پوچھنا تو دور دیکھانا تک گوارا نہیں کیا۔۔۔ قسمت اس جادوگرنی کی۔۔۔ ہمیں تو ایسے رن مرید شوہر نہ ملے نا ہمیں یوں مردوں کو اپنے پیچھے لگانے کے گن آئے۔۔۔ اب کیا ہم زرا سج سنور بھی نہیں سکتے۔۔۔ شکل تو اپنی ہی ہے نا اس سے بھلا کیسا بیڑ۔۔۔ ہم تو تیار ہونگے۔۔۔ ہم کسی سے کم ہیں کیا۔۔۔ اپنا غصہ اور جلن کسی اور طریقے سے بھی نکالی جا سکتی ہے۔۔۔ تانیہ مسکار لگاتا ہاتھ روک کر اسکی جانب گھومی اور منی بسور کر بات کرکے پھر سے آئینے کی جانب گھومتی مسکارا لگانے لگی۔۔

اور نہیں تو کیا زرا جلدی کر لو آگر بھائی تیار ہو کر آگے نا تو انہوں نے ہمیں تیار ہونے کا موقع بھی نہیں دینا اور اگر زیادہ دیر کی تو کچھ بعید نہیں کہ ہمیں یہیں چھوڑ جائیں۔۔۔۔

کرن بھی جلدی سے بالوں میں برش پھیرتی بعجلت جیولری پہنتی گویا ہوئی جبکہ ناہید بیگم ان سب سے بے نیاز ہنوز کسی غیر مری نقطے کو دیکھتیں کسی سوچ میں غرق تھیں۔۔

*****

ارے ماشااللہ میرا بھائی تو لاکھوں میں ایک لگ رہ ہے۔۔۔ ڈیپ ریڈ کلر کی دیدہ زیب پاوں کو چھوتی میکسی میں سر پر حجاب کئے گود میں مغیث کو اٹھائے منیبہ مسکرا کر کہتی امان کے کمرے میں داخل ہوئی۔۔۔ وہ آف وائٹ کلر کی شیروانی میں ملبوس آئینے کے سامنے کھڑا تھا منیبہ کو کمرے میں آتا دیکھ اسکی جانب گھوما۔۔۔ مغیث اور امان کی شیروانی ایک جیسی تھی جو نعمان بلخصوص خود پسند کر کے لایا ہے۔۔۔ اور امان کو اس شیروانی کو پہننے کے لئے نعمان نے کیسے راضی کیا تھا یہ صرف وہی جانتا تھا یا اسکا خدا۔۔۔

امان نے پھیکا سا مسکراتے مغیث کو منیبہ کی گود سے اٹھایا اور بنا بات کئے باہر نکل گیا جبکہ اسے دیکھتی منیبہ گہرا سانس خارج کر کے رہ گئ۔۔۔۔ ابھی شاید اسے نارمل ہونے میں اور یہ سب قبول کرنے میں کچھ وقت لگنا تھا۔۔۔

****

یہ ایک چھوٹا سا میرج ہال تھا جو انکے گھر سے قریب ہی تھا اور وہیں پر آج صلہ اور عفرا کے نکاح کی چھوٹی سی تقریب طے پائی تھی۔۔۔ نصرت بیگم محلے کے بچوں کو قرآن پاک پڑھاتی تھیں۔۔ محلے کے کم و بیش سبھی بچوں نے انہی سے قرآن پاک پڑھا تھا اس لئے انکے تعلقات تقریباً سبھی سے بہت اچھے تھے یہ ہی وجہ تھی کہ آج انکی بیٹیوں کی شادی کے موقع پر ہر شخص ہی کام میں پیش پیش تھا۔۔۔ وہ چکن کے آف وائٹ قمیض شلوار میں آنچل سر پر جمائے ہر جانب گھومتیں سبھی تیاریاں دیکھ رہی تھیں۔۔۔ کبھی بیٹھنے کا انتظام دیکھتیں تو کبھی کیٹرنگ پر معمور لڑکے سے جا کر ساری ارینجمنٹس کا کنفرم کرتیں۔۔۔ بیٹا تو تھا نہیں۔۔۔ اور امان جو بیٹوں سے بڑھ کر تھا وہ خود آج بارات لے کر آنے والا تھا تو سب انہیں خود ہی دیکھنا پڑ رہا تھا۔۔۔

خالہ۔۔۔ صلہ باجی اور عفرا باجی آگئیں ہیں۔۔۔ دفعتا محلے کی ایک بچی نے انہیں صلہ اور عفرا کی آمد کی اطلاع دی تو وہ بڑائیڈل روم کی جانب بڑھیں۔۔۔

وہ دونوں پارلر گئی ہوئیں تھیں۔۔۔

آگئ تم دونوں۔۔۔ نصرت بیگم بولتیں ہوئیں کمرے میں داخل ہوئیں لیکن ان دونوں کو یوں دلہن کے روپ میں دیکھ کر ٹھٹھک کر رکیں۔۔۔ ان دونوں پر ہی دلہناپے کا ٹوٹ کر روپ آیا تھا۔۔۔ دونوں کے نکاح کے جوڑے انکے سسرال سے آئے تھے۔۔۔ بس فرق یہ تھا کہ صلہ چہکتے ہوئے موبائل پر سیلفیز بنا رہی تھی۔۔۔ جبکہ عفرا مضحمل سی ہونٹ چباتی سر جھکائے ہاتھ مسل رہی تھی۔۔۔

انہیں دیکھ نصرت بیگم کی آنکھیں نم ہو اٹھیں۔۔۔ انہوں نے آگے بڑھ کر دونوں کے سروں پر ہاتھ رکھتے انکے ماتھوں کا بوسہ لیا۔۔۔

دفعتاً باہر سے بارات آنے کا شور اٹھا تو وہ خود کو مضبوط کرتیں باہر کی جانب بڑھیں۔۔۔

دونوں باراتوں میں مختصر سے گھریلو لوگ ہی تھی۔۔۔ دونوں براتیں آگے پیچھے ہی آئی تھیں۔۔۔ کچھ ہی دیر میں نکاح خوان نے دونوں جوڑیوں کے نکاح پڑھوائے تو ہر جانب مبارک سلامت کی آوازیں گھونجنے لگیں۔۔۔

بالاج کی ساری فیملی پورے فنگشن میں کھنچی کھنچی سی تھی۔۔۔ نکاح کے بعد کھانے کا دور چلا اور اسکے بعد دونوں کی رخصتی طے پائی۔۔۔۔ وقت رخصت صلہ تو ٹھیک تھی لیکن عفرا ماں کے گلے لگ کر یوں ٹوٹ کر روئی کے اسے سنبھالنا مشکل ہو گیا۔۔۔

****

صلہ کو چونکہ واپس اسی گھر کی چھت پر موجود تایا کے گھر ہی جانا تھا اسی لئے کچھ ہی دیر میں وہ لوگ گھر واپس پہنچ چکے تھے۔۔۔ گھر آتے ہی ناہید بیگم کے ساتھ ساتھ تینون بیٹیاں بھی منظر سے غائب ہوتیں ماں کے کمرے میں پہنچ چکی تھیں۔۔۔ مہمان پہلے ہی کوئی نا بلایا گیا تھا۔۔۔

دلہن کے لباس میں پور پور سجی صلہ کا گھر کے اندر استقبال کرنے کو دروازے پر اس وقت کوئی موجود نا تھا۔۔۔ اسنے استفہامیہ نظروں نے چہرا اٹھاتے ساتھ کھڑے اپنے ہمسفر کو دیکھا اور اسکے یوں دیکھنے پر بالاج شرمندگی سے نگاہیں چرا گیا۔۔۔ ماں بہنوں کی اس حرکت پر غصہ تو اسے بھی بہت آیا تھا لیکن آج اس خوشی کے موقع پر وہ کوئی بدمزگی نہیں چاہتا تھا۔۔۔ایک زمانے سے لڑ کر تو اسنے اپنی محبت کو پایا تھا اور اب وہ اتنے انتظار کے بعد آئے اس دن کو تباہ نہیں کرنا چاہتا تھا اس لئے اسنے ہلکا سا مسکراتے اپنا ہاتھ صلہ کی جانب بڑھایا۔۔۔ صلہ نے بھی اداسی سے مسکراتے اپنا مرمریں ہاتھ اسکے ہاتھ میں تھما دیا۔۔۔۔ جب اسکا شوہر اسکے ساتھ تھا تو پھر بھلا اسے کسی کی پرواہ کرنے کی کیا ضرورت تھی۔۔۔

بالاج اسکا ہاتھ تھامے اسے اپنے کمرے میں لایا۔۔۔۔

واو بالاج یہ ساری سجاوٹ تم نے کروائی۔۔۔ وہ مسمرائز سی منہ پر ہاتھ رکھے کمرے کے وسط میں کھڑی چاروں جانب گھوم کر کمرے کی سجاوٹ دیکھ رہی تھی۔۔۔

تو تمہیں کیا لگتا ہے کہ جو آج کل گھر کے حالات ہیں کوئی اور یہ سجاوٹ کرواتا۔۔۔ وہ اسکے کان کے پاس جھکتا سرگوشانہ گویا ہوا۔۔

اسکی بات سن کر بے ساختہ صلہ کا قہقہ برآمد ہوا۔۔۔

ہستی رہا کرو اچھی لگتی ہو۔۔ بالاج نے اسے مسکرا کر دیکھتے انگلی کی پور سے اسکی ناک کو چھوا۔۔۔

تم ایک منٹ بیٹھو میں ابھی آیا۔۔۔ بالاج نے اسے کندھوں سے تھامتے بیڈ پر بیٹھایا اور خود واپس پلٹا جب صلہ نے بعجلت اسکا ہاتھ تھاما۔۔۔

کیا ہوا۔۔۔ وہ واپس اس کی جانب پلٹا۔۔۔ کہاں جا رہے ہو تم مجھے یوں اکیلا چھوڑ کر۔۔۔ وہ لمحوں میں پریشان ہو اٹھی تھی۔۔۔

صلہ گھر والوں کے رویے کے لئے میں تم سے ایکسکیوز کرتا ہوں یار لیکن شاید ان سب کو یہ حقیقت قبول کرنے میں کچھ وقت لگے۔۔۔ خیر میں بس ابھی آیا تم فکر مت کرو اور زرا ریلیکس ہو کر بیٹھو۔۔۔ بالاج نے اسکا چہرا تھپتھپاتے اپنا ہاتھ اسکے ہاتھ سے چھڑایا اور کمرے سے باہر نکل آیا اب اسکا رخ ماں کے کمرے کی جانب تھا۔۔۔

*****

گھر کے سامنے آ کر گاڑی رکی تو منیبہ نے دوسری طرف سے جاتے گاڑی کا دروازہ کھولا اور سہارے سے عفرا کا لہنگا سمیٹتے اسےباہر نکالا۔۔۔۔ وہ بھی کسی خوفزدہ ہرنی کی مانند منیبہ کی بازو جھکڑے اسی کے سہارے کھڑی تھی۔۔۔

دفعتاً نزہت بیگم نے اسکے اندر بڑھنے سے پہلے کئ ایک نوٹ اسکے اور امان کے سر پر سے وارے۔۔۔۔ امان ناجانے کس ضبط سے ابھی تک وہاں کھڑا تھا۔۔۔ جیسے ہی عفرا کو اندر لیجایا گیا وہ وہیں سے الٹے قدموں باہر نکل گیا۔۔۔۔

عفرا کو لا کر امان کے کمرے میں بیٹھایا تو منیبہ نے اسکے چہرے سے گھونگٹ اٹھا دیا۔۔۔

ماشااللہ ۔۔۔ اللہ نظر بد سے بچائے۔۔۔ منیبہ نے آگے بڑھتے اسکے ماتھے کا بوسہ لیا۔۔۔

اللہ۔۔۔ عفرا تمہیں تو بخار ہو رہا ہے۔۔۔ اپنا شک دور کرنے کو منیبہ نے اسکا ماتھا پھر سے چھوا جو ہنوز گرم تھا ۔۔

آپی میرا دل بہت گھبرا رہا ہے۔۔۔ عفرا نے بے بسی سے کہتے منیبہ کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں جھکڑا۔۔۔

ارے گڑیا فکر مت کرو میں ابھی تمہارے لئے ٹھنڈا جوس اور ٹیبلٹ لاتی ہوں۔۔۔ وہ اسکا چہرا تھپتھپاتی باہر بھاگی۔۔ کچھ ہی دیر میں وہ ماں کے ساتھ جوس اور دوائی لئے اندر داخل ہوئی۔۔۔

ارے عفرا بیٹے کیا ہوا۔۔۔ خالہ نے آگے بڑھتے اسکا ماتھا چیک کیا۔۔۔

منیبہ نے اسے دوائی کھلا کر جوس پلایا تو خالہ نے اسکے پیچھے تکیے درست کرتے اسکی ٹیک لگوائی۔۔۔

عفرا بیٹا ہر قسم کی سوچ کو جھٹک کر کچھ دیر آرام کرو۔۔۔ کچھ بھی فضول مت سوچنا۔۔۔ خالہ نے اسکے پاس بیٹھتے آہستہ آہستہ اسکے بازووں سے جیولری اتارتے اسے جیوری کے بوجھ سے آزاد کرنا شروع کیا۔۔

منیبہ نے بھی اسکے آنچل کی پنیں کھول کر اسے آرام دہ سوٹ نکال کر تھمایا۔۔ ان دونوں کی محبت دیکھ کر وہ آبدیدہ ہو رہی تھی لیکن جس کے ساتھ نتھی ہو کر وہ یہاں آئی تھی اسکا کوئی اتا پتہ تک نا تھا۔۔۔

لان کا ہلکا پھلکا سا سوٹ پہن کر دھلے دھلائے چہرے کے ساتھ وہ واپس کمرے میں آئی تو وہ ان دونوں کو پہلےسے بھی زیادہ مضحمل لگی۔۔۔

خالہ نے اسے بستر پر لٹاتے اسکے بالوں میں انگلیاں پِھیرنی شروع کی تو جلد ہی وہ نیند کی وادیوں میں اتر گئ۔۔۔ وہ دونوں اسکے سونے کے بعد اٹھ کر کمرے سے باہر نکلیں۔۔۔

مجھے اس لڑکے سے ایسی توقع نہیں تھی۔۔۔ کم از کم میری تربیت کی تو لاج رکھ لیتا۔۔۔ دیکھو بچی نے کتنا صدمہ لیا ہے اسکی اس حرکت کا۔۔۔ کون بھلا ایک دن کی دلہن سے ایسا رویہ رکھتا ہے۔۔۔ کمرے سے باہر نکلتے ہی نزہت بیگم پھٹ پڑیں تھیں۔۔۔

ماں آپ ٹینشن مت لیں۔۔۔ بھائی کو بھی سمجھنے کی کوشیش کریں پلیز۔۔ میں جانتی ہوں اس سب میں عفرا کا کوئی قصور نہیں ۔۔۔ قصور تو ہم میں سے کسی کا بھی نہیں ہے۔۔۔ قصور شاید ان حالات کا ہے جو آج کل چل رہے ہیں۔۔۔ مگر آپ بھائی سے ناراض مت ہوں انہیں تھوڑی سپیس دیں ۔۔۔ یہ تو آپ بھی جانتی ہیں نا کہ وہ ایسے نہیں۔۔۔ کچھ وقت دیں انہیں آہستہ آہستہ ٹھیک ہو جائیں گے وہ۔۔۔ منیبہ نے ماں کو تخت پر بیٹھاتے انہیں پانی پلایا۔۔۔

تمہاری ساری باتیں چلو مان بھی لوں تو اس وقت وہ ہے کہاں۔۔۔ انہیں اب بیٹے کی فکر ستانے لگی تھی۔۔۔ جو بھی تھا۔۔۔ تھا تو ماں کا دل۔۔۔ غلط تو انکے بیٹے کیساتھ بھی ہوا تھا۔۔۔

میں نعمان کو فون کرتی ہوں کہ وہ پتہ کریں۔۔۔ وہ ماں سے کہتی اپنا موبائل اٹھا کر صحن میں نکل آئی۔۔

****

ناہید بیگم سامنے پلنگ پر سر باندھے بیٹھیں تھیں۔۔۔ انکے ساتھ ہی تانیہ آڑے ٹرچھے انداز میں لیٹی تھی۔۔۔ کرن سامنے صوفے پر بیٹھی اپنی جیولری اتار اتار کر سامنے پڑے میز پر رکھ رہی تھی۔۔۔ ساتھ ہی ثانیہ بھی اپنی دو سالہ بیٹی کو گود میں لئے منہ پھلائے بیٹھی تھی۔۔۔ اسکے بڑے دونوں بیٹے باہر لاوئنج میں ٹی وی دیکھ رہے تھے البتہ تایا اور ان دونوں کے شوہر وہاں نہیں تھے۔۔۔ ان سب میں موضوع گفتگو صلہ اور اسکی شادی کا فنگشن ہی تھا۔۔۔

جوڑا دیکھا تھا ماں آپ نے صلہ کا دیکھنے سے ہی کتنا مہنگا لگ رہا تھا یہ آپکے بیٹے نے دلایا ہے اور ویسے پوچھ کر دیکھ لو اس سے زیادہ بھوکھا بندہ کوئی نہیں ہوگا۔۔۔ بندہ پوچھے اب پیسے کے بارشیں کہاں سے ہو رہی ہیں کیا کوئی لاٹری نکل آئی ہے۔۔۔ یہ تجزیہ پیش کرنے والی ثانیہ تھی جسکا غصہ تھا کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔۔۔

اور نہیں تو کیا یہ تو پکا۔۔۔ تانیہ کی زبان بھی کوئی گل افشانی کرنے والی تھی جب دروازے سے نمودار ہوتے بھائی کو دیکھتے وہ بروقت خاموش ہوئی۔۔۔

بالاج کو وہاں کھڑا دیکھ وہ سب اسکی جانب متوجہ ہوئے۔۔۔

یہ کیا حرکت کی آپ سب نے ماں۔۔۔ وہاں پہلے دن کی دلہن کا استقبال کرنے کو کوئی بھی موجود نہیں تھا۔۔۔ ایسا بھلا کون کرتا ہے۔۔۔ اگر شادی کروا ہی دی ہے تو موقع اور وقت تو سمبھالیں۔۔۔۔وہ دبے دبے غصے میں ان سے مستفسر تھا۔۔

بس بیٹا جو ہم کر چکے وہ ہماری سکت سے زیادہ ہے۔۔۔۔ اس سے زیادہ کی تم ہم سے کوئی توقع مت رکھو۔۔۔ بوڑھی جان ہوں۔۔۔ اتنی سی دیر وہاں رک کر ہڈیاں دکھنے لگی ہیں۔۔۔ اوپر سے ناجانے کھانا کیسا تھا شادی کا جب سے کھایا ہے سر درد کیساتھ ساتھ چکر بھی آنے لگے ہیں۔۔ وہ ناک سے مکھی اڑاتے تکیے سے ٹیک لگا کر بیٹھیں۔۔۔

بالاج ان کو تاسف سےدیکھتا رہا حتی کہ وہ یہ تک نا کہہ سکا کہ کمی کھانے میں نہیں تھی بلکہ آپکو اپنے پیٹ کا حساب رکھتےہاتھ روک کرکھانا چاہیے تھا۔۔۔

اور نہیں تو کیا ناجانے کس دل سے شادی کا کھانا کھلایا تھا تب سے ہی بلال کے پیٹ میں بھی درد ہو رہا ہے۔۔۔ اور تم اب ہم سے اپنی بیوی کی جی حضوریوں کی توقعات مت رکھنا۔۔ اب کی بار اپنا حصہ ڈالنے والی ثانیہ تھی جسے غالباً الہام ہوا تھا کہ اسکے شوہر کے پیٹ میں درد ہو رہا ہے۔۔ وہ خاموشی سے انہیں دیکھتا رہا کہ واقعی آج کوئی بدمزگی نہیں چاہتا تھا۔۔

کرِن اٹھو تم اٹھ کر اپنی بھابھی سے پوچھ کر آو کہ اسے کچھ چاہیے تو نہیں۔۔۔ بالاج ان دونوں کو نظر انداز کرتا چھوٹی بہن سے گویا ہوا۔۔۔

سوری بھیا۔۔۔ آج کے فنگشن میں میں بہت تھک گئ ہوں اور ویسے بھی یہ کام آپ مجھ سے زیادہ بہتر طریقے سے کرسکتے ہیں۔۔۔ وہ اپنے پاوں جوتوں کی قید سے آزاد کرتی صوفے پر رکھ کر انہیں دبانے لگی۔۔۔

بالاج شاید بھول گیا تھا کہ وہ بھی اسکی باقی بہنوں جیسی ہی بہن ہے۔۔۔ وہ تاسف سے ان سب کو دیکھتا بھاری دل کیساتھ کمرے سے باہر نکلا۔۔۔ اب اسکا رخ اپنے کمرے کی جانب تھا جہاں اسکی نوبیاہتہ بیوی اسکی منتظر تھی۔۔۔۔

*****