Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 26

اسلام علیکم ماں۔۔۔ کیسی ہیں آپ۔۔۔ ماں لاوئنج میں ناشتے کے بعد جھک کر میز سے ناشتے کے برتن اٹھا رہی تھیں جب صلہ نے پیچھے سے آتے انہیں پیچھے سے ہی گلے لگاتے کہا۔۔۔

ارے واعلیکم اسلام ۔۔۔ کیسی ہے میری بیٹی۔۔۔ ماں نے اسکی جانب رخ کرتے اسکا چہرا ہاتھوں کے پیالے میں تھامتے چٹا چٹ کئ ایک بوسے لے ڈالے۔۔۔ ماں کے پر شفقت لمس پر اسکا دل بھر آیا۔۔۔

آو میرا بچہ بیٹھو۔۔۔ ماں اسے ساتھ لئے اپنے کمرے میں ہی آ گئیں۔۔۔ ایک ہی نظر میں وہ اسکا پزمردہ اور بجھا بجھا انداز جانچ چکی تھیں۔۔۔ وہ انکی بہت چہکنے والی بیٹی تھی۔۔۔ اسکا یہ بجھا بجھا انداز ان پر بہت کچھ واضح کر گیا تھا۔۔۔

کیسی طبیعت ہے۔۔۔۔ ماں اسے بیڈ پر بیٹھاتیں اسکے پاس ہی بیٹھیں۔۔۔

طبیعت بس ایسی ہی ہے ماں ۔۔۔ کبھی کہیں درد تو کبھی کہیں۔۔۔ وہ بیزاری سے کہتی بیڈ کڑاون سے ٹیک لگا گئ۔۔۔

اللہ رحم کرے بیٹا۔۔۔ لیکن ایسی حالت میں یہ سب نارمل ہے۔۔۔ تم دوائی تو وقت پر کھا رہی ہو نا۔۔۔ ماں نے محبت سے اسکے بال سہلائے۔۔۔

جی ماں۔۔۔

اچھا بتاو کیا کھائے گی میری بیٹی۔۔۔ میں تمہاری پسند کا کھانا بناتی ہوں۔۔۔ ماں کی محبت پر اسے ضبط کرنا محال لگ رہا تھا۔۔۔ کیسا سکون تھا جو یہاں آتے ہی دل کو نصیب ہوا تھا۔۔۔

میں ناشتہ کر کے آئی ہوں ماں۔۔۔۔

ناشتہ کیا ہے نا ۔۔۔ جب تک کھانا تیار ہو گا دوپہر کا وقت ہو جائے گا۔۔۔ ویسے بھی شام میں عفرا بھی آ رہی ہے۔۔۔ آج اسکا آخری پیپر ہے۔۔۔ پھر تو خوب رونق لگ جائے گی اس گھر میں۔۔۔ ماں دونوں بیٹیوں کو گھر دیکھ کر خوش تھیں۔۔۔ اور وہی خوشی انکے چہرے سے پھوٹ رہی تھی۔۔۔

ایک کام کرتی ہوں بریانی بنا لیتی ہوں۔۔۔ تم دونوں کو پسند ہے نا۔۔۔ ماں کچھ سوچتے ہوئے گویا ہوئیں۔۔۔

ہاں اور ساتھ میں فروٹ ٹرائفل بھی ۔۔۔ وہ اداسی سے مسکرا کر فرمائش کرتی ماں کی گود میں سر رکھ گئ۔۔۔ یہاں وہ سکون تھا جس سے وہ کافی وقت سے محروم ہو گئ تھی۔۔۔

لیکن ابھی نہیں کچھ دیر بعد۔۔ ابھی میرے پاس ہی بیٹھیں۔۔۔ بلکہ میں خود بنا لوں گی آپکو اسکی ضرورت نہیں۔۔۔ وہ بار بار پلکیں جھپک کر آنسووں کو بہنے سے روکتی گویا ہوئی۔۔۔ جب سسرال میں کام کر سکتی تھی تو ماں کو کیوں سکون نہیں دے سکتی تھی۔۔۔۔

ماں اس میں آئی اس تبدیلی پر بہت خوش تھیں۔۔۔

ارے نہیں بیٹا۔۔۔ تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں اس لئے تم آرام کرو۔۔۔ آج ماں کے ہاتھ کا کھانا کھانا۔۔۔۔

صلہ۔۔۔ بچے کیا ہوا۔۔۔

ماں کو اپنی گود گیلی ہوتی محسوس ہوئی تو انہوں نے تڑپ کر صلہ کو سیدھا کیا۔۔۔ جسکا چہرا آنسووں سے تر تھا۔۔۔

صلہ۔۔۔ بیٹا کیا ہوا۔۔۔ وہ تڑپ ہی تو اٹھیں تھیں اسے یوں دیکھ کر۔۔۔

ماں آپ مجھ سے ناراض ہیں نا۔۔ وہ گیلی سانس اندر کھینچتی دکھ سے گویا ہوئی۔۔۔ میں نے آپکو بہت تکلیف دی۔۔۔ آپکا مان توڑا۔۔۔ اپنی مرضی۔۔۔۔

بس صلہ بچے کیا ہو گیا ہے۔۔۔ جو گزر گیا وہ گزر گیا۔۔ بھول جاو سب۔۔۔ اور میں اپنی بیٹی سے ناراض نہیں ہوں۔۔۔ ہو ہی نہیں سکتی۔۔۔ بھلا کوئی ماں بھی اپنی بیٹی سے ناراض ہو سکتی ہے۔۔ ماں نے اسے شدت سے اپنے سینے میں بھینچا۔۔۔ بیٹی کی یہ حالت انکا دل چیر رہی تھی۔۔۔

وہ انکے سینے میں منہ چھپائے پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔ ناجانے کون کونسا دکھ وہ آنسوں کی صورت بہا دینا چاہتی تھی۔۔۔

ماں کیا پسند کی شادی کرنا گنا ہے۔۔۔ محبت کرنا جرم ہے۔۔۔ دل بھاری ہو رہا تھا اور دل کا غبار ہلکہ کرنے کا اسے کوئی روزن دکھائی دیا تو بول اٹھی۔۔۔

پسند کی شادی کرنا گنا نہیں ہے۔۔۔ لیکن محبت کی شادی میں دوسرے سبھی حقائق کو نظر انداز کر دینا غلط ہے۔۔۔ لیکن جب شادی ہو جائے تو صحیح غلط کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔۔۔ جب شادی ہوگئ تو اب یہ باتیں معنی نہیں رکھتی۔۔ اب تو صرف ثابت قدمی اہمیت رکھتی ہے۔۔ کہ ایک دنیا سے لڑ کر اگر شادی کی جائے تو اسے نبھایا بھی جائے۔۔۔ محبت خراج مانگتی ہے تو اسے ثابت بھی کیا جائے۔۔۔ محبت محبت ہی ہونی چاہیے کہ کوئی آزمائش کوئی دکھ کوئی درد اسکا رنگ پھیکا نا کر پائے۔۔۔ اور جو چیز وقت اور حالات کی نظر ہوجائے بیٹا پھر وہ بھلا محبت کیسے ہوئی۔۔۔

میں تمہیں جج نہیں کر رہی صلہ نا غلط کہوں گی۔۔۔ کیونکہ اب ان سب چیزوں کا وقت گزر گیا ہے لیکن ایک بات ضرور کہوں گی کیونکہ آج تم ایک بیوی ہو کل کو ماں بھی بنو گئ۔۔۔

ہاں ٹھیک ہے کہ اسلام پسند کی شادی کی اجازت دیتا ہے۔۔۔ لیکن وہی اسلام نامحرم سے محبت کی اجازت نہیں دیتا۔۔۔ اسلام اس چیز کی مذمت کرتا ہے۔۔۔ اس پسند کی شادی اور نامحرم کی محبت میں ایک بہت ہی باریک سا پردہ ہے جسے پار کرتے ہمیں اندازہ ہی نہیں ہوتا اور ہم دو متضاد باتوں کو اسلام کے نام پر مکس کر دیتے ہیں۔۔۔ وہ گہرا سانس خارج کرتیں اسکی باتوں کا مفہوم سمجھتیں گویا ہوئیں۔۔۔

لیکن ماں کیا ضروری ہے کہ ہر دفعہ ماں باپ کا فیصلہ ہی درست ثابت ہو۔۔۔ کئ کیسیز میں ماں باپ کے کئے فیصلوں کے تحت ہوئی شادیاں بھی ٹوٹ جاتی ہیں۔۔۔ اسکی آواز میں تلخی نہیں تھی بس بے بسی تھی ۔۔۔ وہ بس دماغ میں ابھرتی الجھنوں کو سلجھانا چاہتی تھی۔۔۔

بلکل ایسا ہوتا ہے بیٹا ۔۔ میں کب انکاری ہوں۔۔۔ لیکن ایسا کیوں ہوتا ہے۔۔۔ اس بات کو ہم صرف تب ہی سمجھ سکتے ہیں جب غیرجانبداری سے اس بات کا محاسبہ کریں تو۔۔۔ اکثر ہوتا کیا ہے ہم صرف اپنے نظرے کو سچ ثابت کرنے میں اس حد تک چلے جاتے ہیں کے دوسرے کی سیدھی بات کا بھی الٹا مطلب نکال لیتے ہیں ۔۔۔ صلہ نا سمجھی سے ماں کو دیکھ رہی تھئ۔۔۔ اس بات کو بیٹی یا بیوی بن کر سمجھنے کی کوشیش مت کرنا۔۔۔ اس بات کو ایک ماں بن کر سمجھنے کی کوشیش کرنا۔۔۔ زیادہ بہتر طریقے سے سمجھ پاو گی۔۔۔ ابھی ماں بنی نہیں ہو لیکن بننے والی ہو۔۔۔ تو اس بچے کو لیکر کیسے جذبات ہیں تمہارے۔۔۔ کیا تم کبھی غلطی سے بھی اپنے بچے کو تکلیف دو گی۔۔۔ ماں اسکے سامنے سراپہ سوال تھیں۔۔۔

بیٹا۔۔ جو ماں نو ماہ تک بچے کو اپنی کوکھ میں رکھ کر جنم دیتی یے اس پر اپنی زندگی وار دیتی ہے تو کیا تم توقع کر سکتی ہو وہ اس کے لئے غلط فیصلہ کرے گی۔۔۔ ماں باپ کا تجربہ اولاد کی عمر سے بھی زیادہ ہوتا ہے ۔۔۔ وہ اپنی دور اندیشی سے وہ سب بھی دیکھ لیتے ہیں جو اس وقت اولاد دیکھ نہیں سکتی یا دیکھنا نہیں چاہتی۔۔۔ لیکن اس کے باوجود بہت سے کیسیز میں ماں باپ کی پسند سے کی جانے والی شادیاں بھی ٹوٹ جاتی ہیں۔۔۔ لیکن کیوں ۔۔۔۔ایسا کیوں ہوتا ہے۔۔۔ اس کی بہت سی وجوہات ہوتی ہیں۔۔۔ جن میں سر فہرست ہے گنجائش کا نا ہونا۔۔۔یا برداشت کی کمی ۔۔۔۔ رشتوں میں تھوڑی سی گنجائش رکھنی چاہیے۔۔۔ تھوڑا سا مارجن دے دینا چاہیے۔۔۔ ہم آج کے دور کی پیداوار ہیں جہاں ہمیں سب کچھ ایک پل میں چاہیے۔۔۔ یوں۔۔۔ ماں نے چٹکی بجاتے کہا۔۔۔ کوئی ہمیں اچھا لگتا ہے تو ہم بس اسے پانا چاہتے ہیں۔۔۔ اسے زندگی موت کا سوال گردانتے ہیں۔۔۔ کیسے بھی کر کے۔۔۔ایک دنیا سے لڑ کر ہم اس شخص کو پا لیتے ہیں۔۔۔۔ اور جب کسی اختلاف کی بنا پر وہی شخص برا لگتا ہے تو ہم بنا مارجن دیئے اس سے الگ ہو جانا چاہتے ہیں۔۔۔ یہ ہے آج کل کے گھر کے خراب ہونے کی وجہ۔۔۔ یہاں نا ماں باپ کی پسند میٹر کرتی ہے نا اپنی پسند۔۔۔ جہاں رشتوں میں گنجائش ختم ہو جاتی ہے وہاں گھر ٹوٹ جاتے ہیں چاہیے وہ لو میرج ہو یا ارینج۔۔۔

یہ رشتہ پوری زندگی کا رشتہ ہوتا ہے جس میں کبھی ماننی پڑتی ہے تو کبھی منوانی پڑتی ہے۔۔۔ میاں اور بیوی دونوں اس رشتے میں لچک رکھیں گے تو ہی اس رشتے کی گاڑی چلے گئ۔

مکمل کوئی انسان نہیں ہوتا۔۔۔ انسان خامیوں اور خوبیوں کا مجموعہ ہے۔۔۔ ایسے میں نظر صرف انسان کی خامیوں پر رکھنا اور خوبیوں کو سرے سے نطر انداز کر دینا غلط ہے۔۔۔ اور یہیں سے بگھاڑ شروع ہوتا ہے۔۔۔

اگر ایک گاڑی خرید کر اسے اس نیت سے روڈ پر چلایا جائے کے اس کے ٹائر نہیں گھسیں گے۔۔۔ یا اس پر سکریچ نہیں آئے گا۔۔۔ اسکا رنگ خراب نہیں ہو گا۔۔۔ تو آپ کبھی روڈ پر گاڑی نہیں چلا سکتے۔۔۔ جب وہ گاڑی چلتی ہے تو اس پر ڈینٹ بھی پڑتے ہیں اور اسکے ٹائر بھی گھستے ہیں اور کبھی کبھار چھوٹے موٹے ایکسیڈینٹ بھی ہوجاتے ہیں۔۔۔ یہ ہی حال رشتوں کا ہے۔۔۔

رشتے نبھانا ایک سائنس ہے۔۔۔ جسے صرف عقل و فہم سے ہی نبھایا جا سکتا ہے۔۔۔

ماں کی باتیں سن کر اسکے آنسو ٹھٹھرنے لگے تھے۔۔۔۔ اگر امان کہتا تھا کہ کہ اس میں محنت اور عقل و فہم کے جراثیم اسکی خالہ سے منتقل ہوئے ہیں تو یہ بے جا نا تھا۔۔

پھر زندگی اتنی مشکل کیوں ہے ماں۔۔۔ یہ آسان کیوں نہیں ہو سکتی۔۔۔ وہ الجھی الجھی سی گویا ہوئی ۔۔۔

بیٹا زندگی آسان تو کسی کی بھی نہیں ہوتی۔۔۔ کوئی ایک ہی ایسا شخص بتا دو مجھے جسکی زندگی میں کوئی دکھ نا ہو غم نا ہو ۔۔۔

زندگی نام ہی اس چیز کا ہے۔۔۔ بس انسان کا ضمیر مطمیئن ہونا چاہیے۔۔۔ اپنی موجودہ حالت پر اپنے رب کا شکر گزار ہونا چاہیے۔۔۔ شکر گزاری نعمت کو بڑھا دیتی ہے۔۔۔ جو انسان اپنی موجودہ حالت سے خوش نہیں ہوتا نا پھر اسے زندگی میں کچھ بھی کیوں نا مل جائے وہ خوش نہیں ہو سکتا۔۔۔ برے سے برے حالات میں بھی نظر ان اچھی چیزوں پر ہونی چاہیے جو اس وقت آپکے پاس موجود ہوں ۔۔۔ اور میرا یقین کرنا برے سے برے حالات میں بھی کوئی آسانی آپ کے پاس ہوتی ہے ۔۔۔ جیسے اللہ قرآن میں فرماتا ہے کہ ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔۔

ہو سکتا ہے کہ اس وقت تمہارے گھر کے حالات ٹھیک نا ہوں صلہ۔۔۔ تمہیں وہاں ایڈجسٹ ہونے میں مسلہ ہو رہا ہو۔۔۔ مگر تمہارا شوہر تمہارے حق میں بہت اچھا ہے۔۔ وہ محبت کرتا ہے تم سے اور یہ تمہارے لئے کسی نعمت سے کم نہیں۔۔۔ باقی سسرال میں اپنے قدم جمانے پڑتے ہیں۔۔۔ خدمت گزاری دلوں میں گھر کر لیتی ہے۔۔۔ اپنے رویے میں لچک لانی پڑتی ہے۔۔۔ معاف کرنا سیکھنا پڑتا ہے۔۔۔

ماں کی باتیں سنتی وہ ماں کو یہ تک نا بتا سکی کے اسکے گھر کے حالات کس حد تک خراب ہو چکے ہیں کہ اسے کس کس طریقے سے مینٹلی ٹارچر کیا جا رہا ہے۔۔۔ ایسے میں وہ کیسے انکی خدمت گزار بنتی۔۔۔

لیکن ماں کی باتوں سے اس کے لئے سوچ کے بہت سے در وا ہوئے تھے۔۔۔

ماں باپ کی پسند کی شادی یا اپنی پسند کی شادی یہ باتیں صرف تب تک ہوتی ہیں جب تک شادی ہو نہیں جاتی۔۔۔ جب شادی ہو جاتی ہے تو وہ محض شادی ہوتی ہے جسے میاں اور بیوی دونوں نے مل کر کامیاب بنانا ہوتا ہے۔۔۔ تب اسکا اصل مقصد بس کامیاب ازواجی زندگی ہوتا ہے۔۔۔ اس لئے اس پسند کی شادی یا ماں باپ کی پسند کی شادی کے چکر سے نکل آو۔۔۔ اب تم محض شادی شدہ ہو۔۔۔ اور بہت جلد ماں کے درجے پر فائز ہونے والی ہو اس لئے فضول کی سوچوں کو دماغ سے جھٹکتے صرف اپنے رشتے کو بہتری کی جانب گامزن کرنے کے متعلق سوچو۔۔۔ اپنے بچے کو ایک پرسکون ماحول میسر کرنے کے بارے میں سوچو۔۔۔

جن چیزوں پر تمہارا اختیار نہیں ہے انہیں اللہ پر چھوڑ دو۔۔۔ جن کاموں کو تم بہتر کر سکتی ہو بس اپنی توجہ ان پر مرکوز کرو۔۔۔ اور اللہ سے بہتری کی توقع رکھتے اس سے بہتری کے دعا کرو۔۔۔

وہ بڑا کارساز ہے۔۔۔ ماں نے اسے تکیے پر سیدھا کر کے لٹاتے اسکے ماتھے کا بوسہ لیا۔۔۔

اب تم سب سوچوں کو جھٹک کر کچھ دیر آرام کرو۔۔۔ میں تب تک لنچ کی تیاری کرتی ہوں۔۔۔ اور اگر کچھ چاہیے ہو تو بتا دینا۔۔۔ ماں اسکا چہرا تھپتھپاتی اٹھ کھڑی ہوئیں۔۔۔

شیک پینا ہے مجھے۔۔۔ بہت زیادہ ٹھنڈا۔۔۔ ڈھیر ساری برف ڈال کر۔۔۔ وہ لاڈ سے کہتی سیدھی ہو کر لیٹی۔۔۔ مائیں کیسے لمحوں میں دل ہلکا کر دیتیں ہیں۔۔ اسے بہت پہلے ماں کے پاس چکر لگا لینا چاہیے تھا۔۔ وہ محض سوچ کر رہ گئ۔۔۔

ابھی لاتی ہوں۔۔۔ ماں جھک کر اسکے ماتھے کا بوسہ لیتیں باہر نکل گئ۔۔۔

*****

بائیک لہرا کر گری لیکن اس سے پہلے ہی امان اپنے پاوں پر وزن ڈالٹا اسے قابو کر چکا تھا۔۔۔ اسکا سر ہنوز چکرا رہا تھا اور وہ اسکے ہینڈل پر جھکے آنکھیں بند کئے گہرے گہرے سانس لے رہا تھا۔۔۔

ٹرالر تیز رفتاری سے انکے قریب سے گزر گیا تھا۔۔۔ عفرا اسکے کندھے کو دبوچے اسی کے سہارے پر کھڑی گہرے گہرے سانس لے رہی تھئ۔۔۔

تم ٹھیک ہو عفرا۔۔۔ زرا حواس بحال کرتے وہ سرعت سے عفرا کی جانب پلٹا جسکا چہرا زرد ہو رہا تھا۔۔ امان کو دیکھتی خوف کے زیر اثر محض سر ہاں میں ہلا گئ۔۔۔

امان کو ہنوز اپنا سر چکراتا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔

آ۔۔۔آپ ٹھیک ہیں امان۔۔۔ عفرا ہنوز خوف کے زیر اثر گویا ہوئی۔۔۔ ہمم۔۔۔ شکر اللہ کا کہ بچت رہی۔۔۔

امان نے پھر سے سیدھے ہوتے بائیک سٹارٹ کی۔۔۔

لیکن ہوا کیا تھا۔۔۔ عفرا کا دل ابھی تک دھک دھک کر رہا تھا۔۔۔ زندگی کس قدر غیر متوقع چیز تھی۔۔۔ ابھی انہیں کتنی بڑی خوش خبری ملی تھی اور ابھی کیا سے کیا ہو جاتا۔۔

انکے پیچھے انکی ماووں کی دعائیں تھی شاید تبھی کوئی بڑا نقصان ہونے سے بچ گیا تھا۔۔۔

کچھ نہیں بس بائیک سلپ ہو گئ تھی۔۔۔ اسکی آنکھوں کے سامنے بار بار اندھیرا چھا رہا تھا ۔۔۔ وہ اپنی طبیعت کے بارے میں باخوبی آگاہ تھا کے اسکے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے لیکن وہ عفرا کو کچھ بھی بتا کر اسے پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔ تبھی بس جلد از جلد گھر پہنچنا چاہتا تھا۔۔۔ پہلے اسے یہ سب بہت کم کبھی کبھار ہی ہوتا تھا لیکن آج یہ چیز شدت اختیار کر گئ تھی جو اسکے اندر ایک الارم بجاتی اسے پہلے ہی درپیش مسائل سے آگاہ کر رہی تھی۔۔۔۔اسےاب سنجیدگی سے اس مسلے کے بارے میں سوچنا تھا۔۔۔

وہ بار بار اپنا ماتھا مسلتا بائیک چلا رہا تھا۔۔۔ وہ مضبوط اعصاب کا مالک تھا تبھی اپنی حالت پر قابو پاتا ہنوز بائیک چلا رہا تھا جبکہ اب گردن اور کندھوں میں بری طرح کھنچاو پڑ رہا تھا ۔۔ وہ بار بار پلکیں جھپکتا خود کو کمپوز کر رہا تھا۔۔۔

آج عفرا نے اپنے مائیکے جانا تھا اور اسے وہاں چھوڑنے کے بعد وہ کافی عرصہ بعد آج اپنے کنسلٹنٹ ڈاکٹر سے ملنے کا ارادہ رکھتا تھا۔۔ اب شاید اسے ڈاکٹر کی باتوں کو سنجیدہ لینا ہی لینا تھا۔۔۔

*********