Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 21

صلہ ثانیہ کو دیکھ دیکھ کر حیران ہوتی کہ وہ کیسی ماں ہے اور وہ کس طرح سے اپنے بچوں کی تربیت کر رہی تھی۔۔۔ ماں کے روپ میں تو اسکے دماغ میں محض اسکی اپنی ماں کا ہی عکس تھا۔۔۔

جو صبح سویرے اٹھتے ہی سب سے پہلے ان دونوں بہنوں کو تیار کرتیں۔۔۔ وہ کچھ بڑی ہوئی تو یہ کام خود ان سے کرواتیں۔۔۔ تب تک وہاں سے ہلتی نا جب تک وہ کھانا مکمل کھا نا لیتیں۔۔۔ اگر کسی وجہ سے وہ کھانا نا کھاتیں تو ماں ان سے پوچھ پوچھ کر انکی پسند کا کھانا بنا کر انہیں کھلاتی۔۔۔ ماں انہیں پڑھاتی خود تھیں۔۔۔ خود انکے ہوم ورک چیک کرتیں۔۔۔ کلاس ورک دیکھتیں۔۔۔ غرض ماں کا دن ان دونوں سے شروع ہو کر ان دونوں پر ہی ختم ہوتا۔۔۔ ماں ہر دم انکے پیچھے پیچھے ہوتیں۔۔۔ بالاج اور اسکی بچپن سے ہی بہت دوستی تھی وہ اکھٹے ہی بڑے ہوئے تھے البتہ ماں نے اپنے آپسی جگھڑوں کو کبھی بچوں تک نہیں پہنچنے دیا تھا۔۔۔ ماں کی طرف سے ان کزنز سے ملنے یا ان سے کھلینے کے لئے کبھی کوئی پابندی عائد نہیں کی گئ تھی البتہ تائی جان نے یہ کام خوب خوب کئے تھے یہ ہی وجہ تھی کہ انکی تینوں بیٹیاں ان سے گھل مل نا سکی لیکن بالاج شاید منفرد نیچر کا تھا۔۔۔ اس پر ماں کی باتوں کا اثر ہی نہیں ہوتا تھا۔۔۔

پہلے پہل تو وہ چھپ کر انکے گھر آتا گھنٹوں صلہ کے ساتھ کھلیتا رہتا۔۔۔ ماں جو اپنے بچوں کو بنا کر کھلاتی وہی اسکو بھی کھلاتی۔۔۔ لیکن جب زرا لڑکپن میں آیا تو اسنے ماں کی پرواہ کرنا چھوڑ دی اور بڑے ہوتے ہوتے اسنے چچی کے گھر آنا جانا بہت کم کر دیا لیکن بالکل بند نہیں کیا۔۔۔ نمبر تو پہلے ہی ان دونوں کے ایک دوسرے کے پاس تھے لیکن وہ بچپن کی دوستی کب ایک الگ روپ دھار گئ اسے اندازہ ہی نا ہو سکا۔۔۔۔

اب ماں کا ایک روپ وہ ثانیہ کی صورت دیکھ رہی تھی اور اسے دیکھ دیکھ وہ جتنا حیران ہوتی کم تھا۔۔۔ وہ صبح شام موبائل میں ہی گھسی رہتی۔۔۔ نا اسے بچوں کو صاف ستھرا کرنے کا ہوش ہوتا نا کھانا کھلانے کا۔۔۔ بھوک کے احساس کے تحت وہ خود ہی کھا لیں تو کھا لیں۔۔۔ بچے آپس میں بات بات پر جھگڑتے ایک دوسرے پر چیختے چلاتے انکا شور حد سے بڑھنے لگتا تو وہ بہت بیزار اور اکتائے ہوئے انداز میں آتی اور غصے سے انہیں مزید دو جڑ دیتی کہ منہ بند کرو۔۔۔ زندگی عذاب بنا کر رکھ دی ہے تم لوگوں نے۔۔۔ دو پل کا سکون نصیب نہیں یہاں۔۔۔۔۔ بے غیرت جیسا باپ ویسی اولاد۔۔۔ مار کھانے سے وہ مزید رونے لگتے تو انہیں جھنجھوڑ کر چپ کرواتی۔۔۔ اسے محض تین ہی کام آتے تھے۔۔۔ پسند کا کھا لیا۔۔۔ سارا دن موبائل پر لگی رہی اور موبائل چلاتے چلاتے تھک گئ تو وہیں سو گئ ۔۔۔

انکا رہن سہن دیکھ دیکھ صلہ. کو کوفت ہونے لگی تھی۔۔۔۔ وہ آج بالاج سے کلیئر بات کرنے کی ٹھان چکی تِی وہ ایسے ماحول میں نا خود رہ سکتی تھی اور نا ہی اپنی اولاد کو یہاں پاگل کر سکتی تھی۔۔۔۔

*****†**

اگلے دن عفرا دیر تک سوتی رہی ۔۔ یہ شاید رات دیر تک جاگنے کا اعجاز تھا کہ صبح فجر کی نماز بھی نا پڑھ پائی ۔۔۔ امان اپنے وقت پر اٹھ کر تیار ہو کر اپنے کام پر جا چکا تھا۔۔ اسے ناشتہ غالباً خالہ نے بنا دیا تھا۔۔۔ خالہ نے بھی اسے صبح نا جگایا تھا کہ روز تو وہ صبح صبح ہی اٹھ جاتی تھی۔۔۔ آج نہیں اٹھی تھی تو چلو کچھ دیر آرام کر لیتی۔۔ اب بھی صبح دس بجے اسکی آنکھ کھلی اور اٹھتے ہی وال کلاک پر وقت دیکھتی وہ سر تھام کر بیٹھ گئ۔۔۔ شرمندگی حد سے سوا تھی ۔۔۔ وہ کیوں اتنی دیر تک سوتی رہی۔۔۔ اور تو اور نماز ادا نا کر پانے کا قلق الگ۔۔۔

بالوں کو لپیٹ کر انکا رف سا جوڑا بنا کر وہ لب چباتی کمرے سے باہر نکلی۔۔۔

خالہ میں اتنی دیر تک سوتی رہی آپ نے مجھے اٹھایا کیوں نہیں۔۔۔۔ وہ کچن سے کھٹرپٹر کی آوازین سن کر وہیں کچن میں خالہ کے پاس آتی گویا ہوئی جو کچن کاوئنٹر صاف کرکے اب سنک کے سامنے کھری برتن دھو رہی تھیں۔۔۔ ارے بیٹا روز تو جلدی اٹھ جاتی ہو۔۔۔ آج نہیں اٹھی تو مجھے تمہاری نیند خراب کرنا اچھا نا لگا۔۔۔ وہ محبت سے اسے دیکھتیں گویا ہوئیں جو پشیمان سی کھڑی تھی۔۔۔

ہٹیے خالہ میں دھوتی ہوں۔۔۔ اسنے خالہ کے ہاتھ سے برتن تھامتے انہیں سائیڈ پر کیا۔۔۔ جبکہ وہ اسکے سامنے اپنی ایک نا چلتی دیکھ ہاتھ دھوتی چولہے کی طرف آئیں۔۔۔

چلو تب تک میں تمہارے لئے ناشتہ بناتی ہوں بتاو کیا کھاو گئ۔۔

نہیں خالہ میں برتن دھو کر بنا لوں گی آپ پلیز باہر جا کر بیٹھیں۔۔۔ خالہ اسکی بات سنی ان سنی کرتیں فریج سے آٹا نکال کر اسکے پیڑے بنانے لگیں۔۔۔

پڑاتھے کے ساتھ کیا لو گئ۔۔۔ وہ مصروف سے انداز میں گویا ہوئیں۔۔۔

آمیلیٹ اور چائے۔۔۔ وہ انہیں ناشتہ بناتی دیکھ ٹھنڈی سانس خارج کرتی گویا ہوئی۔۔۔

ناشتہ کرنے کے بعد وہ گھر کی صفائی کر کے فریش ہوگئ ۔۔ گھر کے کام کرنا اسکے بائیں ہاتھ کا کھیل۔۔۔ ایک دفعہ شروع کرتی تو چٹکیوں میں سب کرتی چلی جاتی۔۔۔ اب بھی وہ نہا کر گیلے بال پشت پر کھلے چھوڑے اپنے کمرے میں آگئ۔۔ اب فراغت ہی فراغت تھی اس لئے اب وہ سوچ رہی تھی کے بوریت دور کرنے کے لئے کیا کیا جائے۔۔۔ یکدم اسکے دماغ میں کوندا لپکا۔۔۔ رات اسنے امان کا ٹرائی پوڈ سٹینڈ دیکھا تھا۔۔۔ امان اسے ویڈیو ریکارڈ کرنے کے لئے استعمال کر رہا تھا وہ اسے اپنی ضرورت کے مطابق استعمال کرنا چاہتی تھی۔۔۔ چٹکی بجا کر اپنے خیال پر خوش ہوتی وہ اسکی سٹڈی ٹیبل کی جانب بڑھی وہاں سے ٹرائی پوڈ سٹینڈ نکالا اور اسے سیدھا کرنے کے بعد اسنے بیڈ کی پائنٹی کی جانب سیٹ کیا اور سوچ کر ایک فلم منتخب کرکے اپنے موبائل پر چلائی اور اسے اس سٹینڈ پر سیٹ کیا۔۔

امان اسے ویڈیو ریکارڈ کرنے کے لئے استعمال کرتا تھا تو وہ ویڈیو دیکھنے کے لئے بھی تو استعمال کر سکتی تھی۔۔۔ دو اڑھائی گھنٹے کی فلم ہاتھ میں موبائل تھام کر دیکھنے سے تو ویسے بھی اسکے ہاتھ درد کرنے لگتے ۔۔۔ یہ اس کے لئے کافی آسانی ہوگئ تھی۔۔۔ اسنے بیڈ کی پائنتی کی جانب تکیہ رکھا اور اوندھی لیٹ کر کہنی تکیے پررکھ کر ہاتھ کی ہتھیلی پر چہرا ٹکائے ٹانگیں ہوا میں لہراتی بہت پر سکون انداز میں فلم دیکھنے لگی۔۔۔ وہ کوئی کامیڈی فلم تھی جسے دیکھتی وہ ہس ہس کر دہری ہو رہی تھی۔۔۔ وہ منہمک سی فلم دیکھ رہی تھی جب کوئی جھٹکے سے کمرے کا دروازہ کھول کر آندھی طوفان بنا کمرے میں داخل ہوا۔۔۔۔ امان جو بعجلت گھر سے کوئی کاغذات اٹھانے آیا تھا سامنے اسے یوں اونڈھے لیتے ٹرائی پوڈ سٹینڈ پر موبائل سیٹ کئے فلم دیکھتا پا کر ٹھٹھک کر رکا۔۔۔۔

دروازہ کھلنے اور کسی کے اندر آنے کی آواز سن کر بھی وہ ہنوز لیٹی فلم دیکھتی رہی کہ خالہ ہی آئی ہوں گی۔۔ ہستے ہوئے جب اسنے دروازے کی طرف دیکھا تو ہڑبڑا کر بعجلت سیدھی ہو کر بیٹھی شانوں پر بے ترتیبی سے بکھرے بالوں کو ہاتھ سے سمیٹ کر پیچھے کیا اور لمحے کے ہزارویں حصے میں ادھر ادھر دیکھ کر اپنا آنچل تلاشا جو وہیں اسکے پاس ہی پڑا تھا بعجلت اٹھا کر شانوں پر پھیلایا اور ہاتھ بڑھا کر ویڈیو کو پاز کیا۔۔۔

امان ہنوز سنجیدگی سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔ جب وہ خاموشی سے آگے بڑھا اور سٹڈی ٹیبل کا دراز کھول کر اندر موجود کاغذات کو الٹ پلٹ کر دیکھنے لگا۔۔۔

عفرا ہونٹ چباتی اسکا رویہ سمجھنے کی کوشیش کرنے لگی کہ وہ اسقدر سنجیدہ کیوں تھا کیا اسے عفرا کا اسکا ٹرائی پوڈ سٹینڈ استعمال کرنا ناگوار گزرا تھا۔۔۔۔ مانا کے وہ اپنی چیزوں کو لے کر حساس تھا لیکن عفرا پہلے بھی اسکی چیزیں استعمال کرتی رہی تھی پر پھر اب۔۔۔

میں یہ ٹرائی پوڈ سٹینڈ آپکی اجازت کے بنا استعمال کر سکتی ہوں کیونکہ اب یہ میرا بھی ہے بلکہ آپ سے ملحقہ ہر چیز اب میری بھی ہے۔۔۔ وہ مزید یہ سب برداشت کئے بنا منہ بناتی گویا ہوئی کیونکہ وہ جب سے کمرے میں آیا تھا ایک لفظ بھی نا بولا تھا۔۔۔

اور مجھے خوشی ہوتی اگر تم اسے فضول کے کاموں میں استعمال کرنے کی بجائے کسی تخلیقی یا بامقصد کام کے لئے استعمال کرتی۔۔۔ وہ ہنوز مصروف سا دراز پر جھکا تھا۔۔۔

مطلب۔۔۔ وہ الجھ کر گویا ہوئی۔۔ چلو ایک بات تو کلیئر ہوئی کے اسے عفرا کا وہ ٹرائی پوڈ سٹینڈ استعمال کرنا برا نہیں لگا تھا۔۔۔

مطلب یہ کہ تم یہ کن فضول کے کاموں میں لگی ہو۔۔۔ وہ دراز سے اپنے مطلوبہ کاغذات نکال کر دراز بند کرتا اسکی جانب پلٹا۔۔۔

میں فارغ تھی اس لئے فلم دیکھنے لگی۔۔۔

اور یہ ہی تو کہ تم فارغ کیوں تھی۔۔۔ وہ سنجیدہ سا دو قدم اسکی جانب بڑھا۔۔۔ دو مہینے۔۔۔ اسنے انگلیوں سے دو بناتے اسکے سامنے کیا۔۔۔

صرف دو مہینوں بعد تمہارے گریجویشن کے امتحانات ہیں اور تم یہ کہہ رہی ہو کہ تم فارغ تھی۔۔۔ تو عفی پرنسس تم کیوں تھی فارغ۔۔۔۔ کیا تمہارے پاس فارغ وقت ہونا چاہیے تھا۔۔۔ وہ بالکل اسکے قریب آتا اسکی آنکھوں میں دیکھتا گویا ہوا۔۔۔ جبکہ عفرا دھک سے رہ گئ۔۔ بیڈ پر بیٹھی وہ ہونٹ چباتی اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔

تو کیا میں پیپرز دوں گی۔۔۔ الجھا سا سوالیہ انداز تھا۔۔۔

امان کے ماتھے پر جابجا شکنوں کا جال ابھرا۔۔۔ اس فضول سے سوال کا مقصد۔۔۔

مطلب کے شادی کے بعد کون پڑھتا ہے۔۔۔ وہ ٹرائی پوڈ سٹینڈ پیچھے کرتی بیڈ سے اتر کر اسکے مقابل آئی۔۔۔

شادی ایسی کونسی غیر متوقع چیز ہے عفرا جسکے بعد پڑھائی کو خیر باد کہہ دیا جائے۔۔۔ اب کی بار وہ نرمی سے گویا ہوا۔۔۔ وہ خاصی الجِھی سی اسکے سامنے کھڑی تھی ۔۔ اتنی غیر متوقع طور پر اسکی شادی ہوئی تھی اور اسکے بعد زندگی اسقدر بھول بھلیوں کی نظر ہوئی تھی کے وہ تو اپنی پڑھائی کو یکسر بھول چکی تھی۔۔۔۔

مجھے خوشی ہوگئ عفرا اگر تم واپس اپنی پوزیشن برقرار رکھتے اے پلس گڑید لو گئ تو ۔۔ اس معاملے میں میری تم سے توقعات بہت اونچی ہیں۔۔۔ آج سے ہی اپنی پڑھائی پر توجہ دو اور کالج جانا بھی پھر سے شروع کرو۔۔۔ ابھی تمہارے پاس دو مہینے ہیں اور دو مہینے بہت ہوتے ہیں اگر کوئی انہیں بہتر طریقے سے استعمال کرنا چاہیے تو۔۔۔

پر میری کتابیں تو امی کی طرف ہیں۔۔۔ وہ تیزی سے سوچتی گویا ہوئی۔۔۔ امان نے واقعی اسکی توجہ سب سے اہم کام کی طرف مبذول کروا دی تھی۔۔۔ ورنہ پڑھائی تو اسکا بھی جنون تھا۔۔۔

ٹھیک ہے میں شام میں آتا ہوا لیتا آوں گا پھر میں خود تمہیں گائیڈ کروں گا اور انشااللہ تم جلد ہی سب کور کر لو گئ۔۔۔ اور تب تک اگر ٹائم پاس کو کچھ دیکھنا ہی ہے تو کچھ موٹیویشنل ویڈیوز دیکھ لو تاکے رات میں جب پڑھائی کرو تو خود کو زیادہ چارج آپ محسوس کرو نہیں تو کوئی کتاب پڑھ لو۔۔۔ اسنے سٹڈی ٹیبل سے کچھ فاصلے پر بنے بک شلف کی جانب اشاراہ کر کے کہا اور اسکا چہرا تھپتھپا کر کاغذات لے کر کمرے سے نکل گیا جبکہ عفرا گہرا سانس خارج کرتی بیڈ پر دھپ سے بیٹھتی دل سے مسکرا دی۔۔۔ وہ کتابیں پڑھ لوں ہمم۔۔۔ وہ اٹھ کر اس بک شلف تک گئ۔۔۔

پتہ نہیں آپ چائے والے کیوں بن گئے امان۔۔۔ کیا اٹریکشن نظر آئی آپکو اس فیلڈ میں ورنہ جس طرح کی کتابیں آپ مزے سے پڑھتے ہیں آپ کو تو دنیا ہلا دینی چاہیے تھی۔۔ اسنے بک شلف سے ایک کتاب اٹھائی

The magic of thinking big….

کتاب کو ایک سرے سے پکڑ کر اسے آہستہ سے چھوڑا تو اسکے سبھی صفحات تیزی سے پلٹتے کتاب بند ہوگئ۔۔۔۔ اتنی بڑی خالص انگلش میں لکھی کتاب۔۔۔۔ اسنے تعجب سے منہ بناتے اس کتاب کو دیکھ کر اسے واپس رکھا اور پھر اگلی کتاب اٹھائی۔۔۔

Seven habits of highly effective people…

Think and rich grow….

اللہ اللہ۔۔۔۔ کیا کبھی میں یہ کتابیں پڑھ سکوں گی۔۔۔ وش کے کبھی میری انگلش بھی امان جتنی اچھی ہو پائے۔۔۔۔ پتہ نہیں کیسے انہوں نے خود میں اتنیییییی ساری کوالیٹیز پیدا کر لی ہیں۔۔۔

امان کی انگلش کے ساتھ ساتھ اسکا انگلش لہجہ بھی بہت دلکش تھا۔۔۔۔ کئ ویڈیوز اسنے انگلش میں بھی ریکارڈ کی تھی جسے سنتی وہ محض اسکے لہجے میں ہی کھو جاتی تھی جبکہ اسکی بانسبت وہ انگلش بولنے میں خاصی اناڑی تھی۔۔۔ وہ الگ بات کے وہ کلاس کی ٹاپر تھی ۔۔۔ انگلش اسکا پسندیدہ مضمون تھا۔۔۔ وہ انگلش میں بہت اچھے نمبر لاتی تھی ۔۔۔ انگلش سمجھنا یا پڑھنا اسکے لئے مشکل نا تھا لیکن باوجود کوشیش کے بھی وہ انگلش بول نا پاتی تھی۔۔۔ اور انگلش کتابیں پڑھنے بیٹھتی تو دلچسی نا ہونے کی وجہ سے ایک آدھ صفحہ ہی بامشکل پڑھ کر چھوڑ دیتی۔۔۔ اتنے باریک باریک الفاظ پڑھ کر اسکا سر چکرانے لگتا۔۔۔

وہ حسرت سے ان کتابوں کو واپس شلف پر ترتیب سے سیٹ کر کے واپس پلٹی کے امان کو بے ترتیبی بالکل بھی پسند نا تھی۔۔۔ اور واپس بیڈ پر آ کر موبائل پر امان کا ہی چینل کھول کر ویڈیوز دیکھنے لگی۔۔۔ کہ جب سے وہ دل کو اچھا لگنے لگا تھا اسکے سوا کچھ اور اچھا لگتا ہی نا تھا۔۔۔

*****