khwab e Junoon by Umme Hani readelle50005 Episode 22
Rate this Novel
Episode 22
آج سارا دن صلہ صرف ضرورت کے تحت ہی کمرے سے باہر نکلی تھی ورنہ بچوں کی موجودگی میں گھر کا جو ماحول تھا اسے باہر نکل کر گھبراہٹ ہونے لگتی۔۔۔
رات وہ بے صبری سے بالاج کی واپسی کا انتظار کر رہی تھی ۔۔۔ آج وہ ضرورت سے زیادہ ہی لیٹ ہو گیا تھا۔۔۔ ابھی وہ اسی ادھیر پن میں مبتلا تھی جب تھکا ہارا بالاج گھر لوٹا اور ہاتھ میں تھاما بیگ وہیں صوفے پر پھینکتا ٹانگیں لٹکائے ایسے ہی بیڈ پر دھپ سے لیٹ کر آنکھیں موند گیا۔۔۔
کیا ہوا۔۔۔ آج زیادہ تھک گئے۔۔۔۔ صلہ نے اسکے پاس بیٹھتے اسکے ماتھے پر بکھرے بال ہٹائے۔۔۔
ہمم۔۔۔ وہ زرا سی آنکھیں کھول کر اسکا وہی ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھام گیا۔۔۔
اچھا تم فریش ہو جاو میں کھانا لاتی ہوں۔۔۔ وہ مسکرا کر اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
بالاج بھی مسکرا کر اسے دیکھتا اٹھ کر واش روم کی جانب بڑھا۔۔
****
مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے بالاج۔۔۔ وہ جب فریش ہو کر کھانا کھا چکا تو وہ اسکے سامنے سے برتن ہٹاتی گویا ہوئی۔۔۔ کھانا انہوں نے کمرے میں ہی کھایا تھا وہ اسکے سامنے ہی بیڈ کراوں سے ٹیک لگائے بیٹھی بیڈ شیٹ کے ڈیزائن پر انگلیاں پھیر رہی تھی۔۔۔۔
ہمم بولو۔۔ وہ بھی تکیہ سیدھا کرتا اسکے ساتھ ہی نیم دراز ہو گیا۔۔۔
بالاج میں اس گھر میں نہیں رہ سکتی تم پلیز مجھے الگ گھر لے کر دو۔۔۔۔ اسکے منہ بنا کر کہنے پر وہ جھٹکے سے سیدھا ہو کر بیٹھا جیسے اسے چار سو چالیس والٹ کا جھٹکا لگ گیا ہو۔۔۔
کیا بات کر رہی ہو صلہ۔۔۔ کیا گھر لینا اتنا ہی آسان کام ہے۔۔۔۔ وہ لمحوں میں تلخ ہو اٹھا تھا۔۔۔
میں کب کہہ رہی ہوں کے اپنا گھر لے کر دو۔۔۔ ہم فلحال رینٹ کے گھر پر بھی شفٹ ہو سکتے ہیں۔۔۔ اسکے تلخ ہونے پر صلہ کے ماتھے پر بھی جابجا بل پڑے تھے۔۔۔ صلہ کو غصے میں آتا دیکھ کر بالاج کو اپنے لہجے کا احساس ہوا تو فورا سے ٹھنڈا پڑتا سر تھام گیا۔۔۔
یہ بھی ابھی ممکن نہیں ہے۔۔۔
کیوں ممکن نہیں ہے بالاج میں نہیں رہ سکتی اس ماحول میں۔۔۔ یہاں ہر وقت بچے چیختے چلاتے ہیں۔۔۔ اور بچوں سے زیادہ بڑے چیختے چلاتے ہیں۔۔۔ کرن اور ثانیہ کی ہی نہیں بنتی اور اگر تانیہ آ جائے تو اور سونے پر سہاگا۔۔۔ گھر گھر نہیں جنگ کا محاز لگتا ہے۔۔۔ اور میری تو چھوٹی چھوٹی باتوں کو پکڑ کر انہیں چیونگم کی طرح کھینچا جاتا ہے۔۔۔مجھے مسلسل یہ احساس دلایا جاتا ہے جیسے میں کوئی اچھوت ہوں۔۔۔ میں مسلسل ڈپریشن میں رہنے لگی ہوں۔۔۔ میرا سر درد ہٹتا ہی نہیں ہے۔۔۔ اور یہ اس حالت میں بہت بری علامت ہے۔۔۔ اسکا بچے کی صحت پر برا اثر پڑے گا۔۔۔ تم کیوں نہیں سمجھ رہے میں نہیں رہ سکتی یہاں۔۔۔ وہ تلخی سے کہتی پھٹ پڑی تھی۔۔۔
Fore God sake sila…
پوری دنیا کی لڑکیاں اپنے سسرال میں ہی رہتی ہیں۔۔۔ اسکی تلخ کلامی سنتا وہ بھی تلخ ہو اٹھا تھا۔۔۔۔
رہتی ہوں گی۔۔۔ لیکن یہ سسرال نہیں پاگل خانہ ہے اور میں اس پاگل خانے میں نہیں رہ سکتی۔۔۔ وہ دکھ سے بالاج کا یہ رویہ دیکھتی اسے دھکا دے کر سیدھی ہو کر بیٹھی۔۔۔ آنسو موتیوں کی لڑیوں کی مانند آنکھوں سے بہنے لگے تھے۔۔۔ وہ کیوں اسے نہیں سمجھ رہا تھا ۔۔۔ اسکا دم گھٹ رہا تھا یہاں۔۔۔ وہ پاگل ہونے کے در پر تھی اور وہ اس بات کو اتنا ہلکا لے رہا تھا۔۔۔
میں مینٹلی ٹارچر ہو رہی ہوں یہاں بالاج اور تم۔۔۔ وہ اذیت سے کہتی بات درمیاں میں ہی چھوڑ کر لب بھینچتی اپنی سسکیاں روکنے لگی۔۔۔
اسکے آنسووں نے ٹھنڈے پانی کا کام کیا تھا۔۔۔ بالاج کی ساری تلخی کہیں جا سوئی۔۔۔
سوری صلہ ۔۔۔ میرا وہ مطلب نہیں تھا ۔۔۔ پلیز تم رونا تو بند کرو۔۔۔ میں تمہیں روتا ہوا نہیں دیکھ سکتا۔۔۔ وہ تڑپ کر اسکے قریب ہوتا اسکے آنسو صاف کرنے لگا۔۔۔۔
مگر وہ جتنے اسکے آنسو صاف کرتا اتنے ہی مزید بہہ نکلتے۔۔۔۔
تمہیں سمجھ کیوں نہیں آتا بالاج۔۔۔ میں یہاں نہیں رہ سکتی۔۔۔۔ وہ بےبسی سے اسکے دونوں ہاتھ تھامتی گویا ہوئی۔۔۔
میں اس وقت بہت بے بس ہوں صلہ میں تمہاری یہ خواہش پوری نہیں کر سکتا۔۔۔ وہ شرمندگی سے سر جھکاتا پست آواز میں گویا ہوا۔۔۔۔
کیا مطلب کیوں نہیں کر سکتے۔۔۔ بالاج کے لہجے نے اسے چونکا دیا تھا۔۔۔
مطلب یہ کہ میں اس وقت بہت پریشان ہوں صلہ۔۔۔ شادی کے لئے مجھے میرے گھر والوں کی طرف سے کوئی فنانشلی سپورٹ نہیں تھی۔۔۔ اس لئے میں نے پہلے شادی اود پھر ہنی مون کے لئے اپنے آفس سے بہت بڑا قرض منظور کروایا تھا جسکی کٹوٹی اب میری تنخواہ سے ہو رہی ہے۔۔ ۔ میری تنخواہ کا آدھا حصہ اس قرض کی انسٹالمنٹ کے لئے کاٹا جا رہا ہے جبکہ اب مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ۔۔۔ کہ اس آدھی تنخواہ سے میں کیا کیا کروں گا وہ بھی تب جب ہماری فیملی بھی بڑھنے والی ہے۔۔۔۔ اور جب مطلوبہ تاریخ پر امی کو گھر خرچ کے لئے پورے پیسے نا ملے تو وہ ناجانے کیا طوفان اٹھائیں گی۔۔۔ ابھی میں خود بہت پریشان ہوں صلہ پلیز تم مجھے مزید پریشان مت کرو ۔۔۔ وہ سر تھامے بیڈ کے کنارے پر بیٹھا آہستہ آہستہ صلہ کے قدموں تلے سے زمین کھینچ رہا تھا۔۔
تھوڑا سا ایڈجسٹ کر لو۔۔۔ انکی باتوں کو ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیا کرو۔۔۔ وہ اسے کہہ نا سکی کے یہ بات کہنا جتنا آسان ہے اس پر عمل کرنا دو دھاری تلوار پر برہنہ پاوں چلنے کے مترادف ہے۔۔۔۔۔
مجھے امید ہے کے میرے اس مشکل وقت پر تم میرا ساتھ دو گئ ۔۔۔ میں جلد ہی اسکا کوئی حل نکال لوں گا۔۔۔ اپنی بات کہہ کر وہ بنا اسکی جانب دیکھے کمرے سے نکل گیا۔۔۔ جبکہ صلہ کسی بت کی مانند وہاں بیٹھی کمرے کے ہلتے دروازے کو دیکھتی رہی ۔۔۔۔ دو آنسو ٹوٹ کر اسکی گال پر پھسلے۔۔۔ یہ حالات اب کونسا موڑ مڑ رہے تھے۔۔۔ اسے کبھی زندگی میں فنانشلی تلخیاں بھی دیکھنی پڑیں گی یہ تو اسنے کبھی سوچا ہی نا تھا۔۔۔ یہ زندگی کا کونسا رخ تھا جسکے بارے میں اسنے کبھی تصور بھی نا کیا تھا۔۔۔۔
یہ زندگی تو اس زندگی کے بالکل برعکس تھی جسکے خواب اسنے دیکھے تھے۔۔۔ بالاج کے سنگ ایک خوشگوار زندگی کے خواب۔۔۔ اپنے بچوں کے ساتھ ایک آسودہ اور پر سکون زندگی گزارنے کے خواب۔۔۔ اسکے لئے تو بالاج سے شادی ہو جانا ہی ایک جنگ فتح کر لینے کے مترادف تھا۔۔۔ پھر تو سب سیٹ ہو جانا چاہیے تھا پر پھر اب یہ کونسی مشکلات تھیں جس سے اسکا پالا ہی زندگی میں پہلی مرتبہ پڑ رہا تھا۔۔۔۔ وہ شادی کے بعد انکی پہلی رات تھی جس میں ساری رات بالاج کمرے میں واپس نہیں آیا تھا اور صلہ نے بھی وہ رات کسی شاک کے زیر اثر بہتی اور جاگتی آنکھوں سے کاٹی تھی۔۔۔۔
*****
رات کی سیاہی چاروں جانب پھیلی تھی۔۔۔۔ آسمان گویا مکیش جڑی سیاہ چادر اوڑھے تن کر کھڑا تھا جس کے وسط میں چاند اپنی پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔۔۔ اس کچے صحن والے گھر کے خوبصورت سے ہوم گارڈن پر چاند کی چاندنی کسی آبشار کی مانند گر رہی تھی۔۔۔ اس سےتھوڑا آگے بڑھو تو دو زینے چڑھنے کے بعد برآمدے سے گزر کر سامنے دو کمرے تھےجن میں سے ایک کمرے کی لائٹ بند تھی جبکہ دوسرا کمرا روشن تھا زرا اس کمرے کا دروازہ دھکیل کر اندر جھانکو تو سامنے دیوار کیساتھ موجود سٹڈی ٹیبل پر امان جھکا موبائل کی روشن سکرین سے کچھ نوٹ کر کے نوٹس بنا رہا تھا۔۔۔ موبائل سے ابھرتی نیلی روشنی براہ راست اسکے چہرے پر پڑ رہی تھی جبکہ اسکے ہاتھ تیزی سے چلتے سفید کاغذات پر نیلی سیاہی بکھیرتے جا رہے تھے۔۔۔ اس سے کچھ فاصلے پر موجود کاوئچ پر عفرا ہاتھ میں موبائل تھامے منیبہ سے ویڈیو کال پر بات کر رہی تھی۔۔۔ منیبہ نعمان کے ساتھ وہاں سیٹ ہو گئ تھی اور عفرا کیساتھ اسکی تقریباً روز ہی بات چیت ہو جاتی تھی۔۔۔
اب بھی ماں اور امان سے بات کرنے کے بعد وہ عفرا سے بات کر رہی تھی۔۔۔ عفرا کے ارد گرد اسکی کتابیں اور جرنل بکھرے پڑے تھے جو اپنے کہے کے مطابق امان واپسی پر اسکے گھر سے لیتا آیا تھا۔۔ وہ غالباً پڑھائی کر رہی تھی جب منیبہ کا فون آیا تبھی ایک کتاب اور ایک جرنل اسکے پاس ہی اونڈھے منہ پڑے تھے۔۔۔
ٹھیک ہے منیبہ آپی۔۔۔ میرے پیارے سے شہزادے کا بہت خیال رکھیے گا۔۔۔ انشااللہ پھر بات ہو گئ۔۔۔ وہ سکرین پر ابھرتی منیبہ کی تصویر کے پیچھے مغیث کو شرارتیں کرتا دیکھ گویا ہوئی اور فون بند ہونے ہر پھر سے اپنی کتابوں کی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔
افف۔۔۔ فائنلی امان حل ہو ہی گیا یہ نومیریکل۔۔ وہ منیبہ کا فون آنے سے پہلے اسی نومیریکل پر سر کھپا رہی تھی۔۔
اب بھی جرنل سیدھا کرتے اسنے وہیں سے شروع کیا جہاں سے کچھ دیر پہلے چھوڑا تھا اور نومیریکل حل ہوتے ہی وہ ایک گہرا سانس خارج کرتی بالپوائنٹ جرنل میں رکھتی زرا پرسکون ہو کر بیٹھی۔۔۔
لاو دکھاو مجھے۔۔۔ امان نے بھی اپنے نوٹس بند کئے اور موبائل کی سکرین آف کر کے اسکی جانب متوجہ ہوا۔۔۔ لیکن اس سے پہلے کے عفرا اٹھ کر اسکے پاس آتی وہ خود ہی اپنی جگہ سے اٹھتا اسکے پاس آیا اور وہاں پڑی کتابیں ہٹا کر خود اسکے پاس بیٹھ کر جرنل اٹھا کر دیکھنے لگا۔۔۔
عفرا کو اسکا یوں اسکے پاس آ کر سوال چیک کرنا خاصا عجیب لگا۔۔۔ کچھ الگ سا۔۔۔ آج سے پہلے تو اسنے کبھی ایسا نا کیا تھا ۔۔۔ وہ خود ہی کام چیک کروانے اسکے پاس جاتی تھی۔۔۔۔اسکا دل زور سے ڈھرکا۔۔۔ تھوک نگلتے اسنے ایک نظر اپنے بے حد قریب بیٹھے امان کو دیکھا جو حسب سابق ٹراوز پر ہاف سلیو ٹی شرٹ پہنے مصروف سا جرنل پر نومیریکل دیکھ رہا تھا۔۔۔
ہممم گڈ۔۔۔ ٹھیک حل کیا ہے۔۔۔ اسنے نومیریکل چیک کر کے بالپوائنٹ جرنل کے اندر رکھ کر جرنل بند کیا۔۔۔۔
اب اگلا حل کروں۔۔۔ عفرا نے جرنل لینے کو اسکی جانب ہاتھ بڑھایا۔۔۔
نہیں۔۔۔ اب باقی کا کل پڑھنا۔۔۔ اسنے جھک کر اسکے پاس پڑی باقی کتابیں اٹھا کر سائڈ پر رکھیں اور اسکا جرنل کے لئے بڑھا ہاتھ تھام لیا۔۔۔
نا جانے کیوں عفرا کی چھٹی حس بار بار بلنک کرتی اسے کچھ سمجھا رہی تھی جسے وہ سمجھنے کے باوجود شاید سمجھ نہیں پا رہی تھی۔۔۔
اسنے ایک نظر امان کے مضبوط ہاتھ میں تھامے اپنے ہاتھ کو دیکھا۔۔۔ پھر خشک پڑتے لبوں پر زبان پھیرتی گویا ہوئی۔۔۔
آ۔۔۔آپکا کام ختم ہو گیا۔۔۔
نہیں۔۔۔ کام تو بہت پڑے ہیں لیکن میں فلحال کرنا نہیں چاہتا۔۔۔ کیونکہ میں فلحال اپنی بیوی کے پاس بیٹھ کر سکون سے وہ لمبی بات ڈسکس کرنا چاہتا ہوں جو اس روز گاڑی میں میسر مختصر سے وقت میں ہم کر نہیں سکے تھے۔۔۔۔۔
اسنے مخمور لہجے میں کہتے عفرا کے ملیح چہرے پر پھسلی بالوں کی لٹوں کو اسکے کان کے پیچھے اڑسا۔۔۔۔
عفرا کا دل دھک سے رہ گیا۔۔۔ اسے اپنی کہی سبھی باتیں پوری جزئیات کیساتھ یاد آئیں جسے شاید وہ بدلتے حالات کے پیش نظر بھول گئ تھی۔۔۔ زندگی میں آسودگی ہو تو گزشتہ آیام کی تلخی بھی بھولنے لگتی ہے۔۔۔
میں یہ قبول کرتا ہوں عفی پرنسس کے میں غلط تھا اور شادی کے ابتدائی آیام میں میرا رویہ تمہارے ساتھ بہت غیر مناسب تھا۔۔۔ لیکن میرا خدا گواہ ہے کے میں نے کچھ بھی جان بوجھ کر نہیں کیا اور اپنے رویے کی بدصورتی کا احساس ہوتے ہی میں نے اپنے رشتے کو بہتر بنانے کی مکمل کوشیش کی۔۔۔ لیکن اسکے باوجود وہ سب میں نے جان بوجھ کر کیا یا انجانے میں بحرحال میں تمہارا خطاوار ہوں۔۔ تو کیا تم اپنے اس ناچیز شوہر کو معاف کر کے اسے ایک موقع اور دو گی۔۔۔
وہ اپنے ہاتھ میں تھاما اسکا مومی ہاتھ سہلاتے نرمی سے اسکے کان کے پاس جھکا کہہ رہا تھا جبکہ وہ یکدم سے یوں حالات کے پلٹا کھانے پر ابھی تک ششدر سی نظریں جھکائے بیٹھی تھی۔۔۔ وہ جو اس معاملے کو اتنا ہلکا نا لیتے بات جلد ختم نا کرنے کا فیصلہ لے چکی تھی۔۔۔ اسکے اتنے سے میٹھے بولوں پر پگھل پگھل جا رہی تھی۔۔۔ اسے امان کی جانب دیکھنا محال لگنے لگا۔۔۔ زبان تو گویا گنگ ہونے لگی تھی جس نے جیسے ایک بھی لفظ ادا نا کرنے کا عہد کر لیا ہو۔۔۔
بولو عفی پرنسس کیا تم مجِے۔۔۔
وہ مزید اسکے کان کے پاس جھکتا سرگوشی کر رہا تھا۔۔۔ ایک تو آج اسکے اندازو اطوار دوسرا اسکا یوں عفی پرنسس کہنا۔۔۔ اسکی ہتھیلیاں بھیگنے لگیں۔۔۔
مم۔۔۔ میں پرانی بب۔۔۔باتیں بھول چکی ہوں۔۔ آ۔۔آپ بھی بھو۔۔بھول جائیں۔۔۔ زبان کی لڑکھڑاہٹ پر قابو پاتے وہ بامشکل گویا ہوئی۔۔۔ آج تو وہ خود بھی اپنی کیفیت سمجھنے سے قاصر تھی۔۔۔ ہمہ وقت امان کے سامنے قینچی کی مانندچلنے والی زبان آج تھڑکنے لگی تھی۔۔۔
تو کیا میں پھر اب ہماری صلح سمجھوں۔۔۔۔ امان نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالتے ایک چھوٹی سی ڈبی نکالی جس میں سے وائٹ گولڈ کی ایک نفیس سی انگوٹھی نکالتے اسنے وہ انگوٹھی عفرا کے مرمری ہاتھ کی مخروطی انگلی کی زینت بنائی۔۔۔
آج تو اسکا ایک ایک انداز ہی قاتل تھا۔۔۔ کتنی ہی دیر عفرا ناقابل یقین نگاہوں سے اپنے ہاتھ کی زینت بنی اس خوبصورت سی انگوٹھی کو دیکھتی رہی جسکی وجہ سے اسکا ہاتھ مزید جگمگا اٹھا تھا۔۔۔ کیا سب اس طرح سے بھی ٹھیک ہو سکتا تھا۔۔۔ وہ محض سوچ کر رہ گئ۔۔۔
یہ تمہاری رونمائی کا تحفہ نہیں ہے عفرا یہ ہماری صلح کا تحفہ ہے۔۔ رونمائی کے تحفے کے طور پر جو میں نے تمہارے لئے سوچا ہے اسے میں فلحال افورڈ نہیں کر سکتا اس لئے۔۔۔
میرے لئے اس تحفے سے بڑھ کر اور کچھ نہیں ہے امان۔۔یہ آپکی طرف سے اس رشتے میں بندھنے کے بعد میرے لئے آپکے خلوص کی نشانی ہے مزید کچھ نہیں چاہیے۔۔۔ باوجود ضبط کے عفرا کی آنکھ سے ایک آنسو ٹوٹ کر اسکی گال پر پھسلا۔۔۔ اسنے شدت سے اس نفیس سی انگوٹھی پر اپنے لب رکھتے گویا اپنے جذبات کی ترجمانی کر دی۔۔۔
تمہیں ضرورت نہیں ہوگئ۔۔۔ لیکن مجھے ہے۔۔۔ مجھے اپنی بیوی کو اسکے شایان شان تحفہ دینا ہے لیکن فلحال وہ میری پہنچ سے باہر ہے لیکن بہت جلد میں وہ تمہارے لئے لاوں گا عفرا۔۔۔ رونمائی کے تحفے میں تو پہلے ہی دیر ہوچکی ہے تو کچھ دیر اور سہی۔۔۔اور اگلے مزید کچھ دیر ہو جائے تو چلے گا نا۔۔۔
اسنے مسکراتے ہوئے نرمی سے عفرا کا آنسو صاف کرتے گویا اسکی تائید چاہی۔۔۔ امان کے انداز پر وہ کھلکھلا کر ہس دی۔۔۔
اگر آپ نے مجھے معاف کر ہی دیا ہے مسز عفرا امان صاحبہ تو کیا آپ میرے ساتھ زندگی کی ایک نئ شروعات کریں گئیں۔۔۔ امان کے ڈرامائی انداز میں کہنے پر وہ نم آنکھوں سے مسکراتی ہوئی سر ہاں میں ہلاگئ۔۔۔
امان نے بھی مسکراتے ہوئے اسکے ماتھے سے ماتھا ٹکرایا۔۔۔
تم مجھے بہت عزیز ہو عفرا شروع سے ہی۔۔۔ شاید اسی لئے اللہ نے تمہیں میری قسمت میں لکھ دیا۔۔۔ میں تمہاری آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھ سکتا عفرا۔۔۔ ماضی میں جو ہوا اس پر میں پشیمان ہوں میں نادانستہ طور پر ہی سہی مگر تمہارے لئے تکلیف کا موجب بنا ہوں۔۔۔ ماضی کو بدلنے پر میں قادر نہیں۔۔۔ لیکن میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کے پوری کوشیش کروں گا کہ کبھی تمہاری آنکھیں نم نا ہو پائیں۔۔۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ دانستہ تمہیں کبھی کوئی تکلیف نہیں پہنچاوں گا۔۔۔ نادانستگی میں اگر کچھ ہوجائے تو اللہ بڑا کارساز ہے۔۔۔ تم معاف کر دینا۔۔۔ وہ بہت پڑیکٹیل شخص تھا اسکے وعدے وعید بھی اسی کی طرح ہر طرح کے بچپنے سے مبرا تھے۔۔۔ وہ اسکے سر سے سر ٹکرائے اسکے کانوں میں رس گھول رہا تھا۔۔۔
جب کے وہ آنکھیں بند کئے مسکراتی ہوئی پوری شدت سے ان الفاظ کی تازگی کو محسوس کر رہی تھی۔۔ شاید زندگی اتنی بھی مشکل نا تھی۔۔۔ یا شاید اب آسان لگنے لگی تھی اس ستم گر کے اسے زندگی کی خوبصورتیوں سے متعارف کروانے کے بعد سے۔۔۔۔
*****
