khwab e Junoon by Umme Hani readelle50005 Episode 28
Rate this Novel
Episode 28
صلہ یو۔۔ بالاج نے پھنکارتے ہوئے اسکی جانب انگلی اٹھائی ۔۔۔ صلہ کو اسکی آنکھوں سے ٹپکتی وحشت سے جی بھر کر خوف محسوس ہوا۔۔۔
بالاج کیا ہو گیا ہے تمہیں۔۔۔۔ وہ میرا کچھ نہیں ہے نا تھا۔۔۔ میری زندگی میں صرف تم ہو ۔۔ کل بھی تم ہی تھے اور آنے والے کل میں بھی تم ہی ہو گئے۔۔۔
پھر اتنی بے اعتباری کیوں۔۔۔۔ اسکے غصے سے خائف ہوتے صلہ نے اپنے کپکپارے ہاتھوں میں اسکا لال بھبھوکا ہوتا چہرا بھرا اور اسکی آنکھوں میں دیکھتی بے بسی سے گویا ہوئی ۔۔۔ آنسو ٹپ ٹپ آنکھوں سے بہنے لگا تھا۔۔ اسکا غیر متوقع ردعمل دیکھ کر صلہ کا بدن جیسے کپکپانے لگا تھا۔۔۔۔
اسکی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر بالاج کا غصہ جیسے ٹھنڈا پڑا تھا۔۔۔ تم اس شخص سے کبھی کوئی بات نہیں کرو گئ۔۔۔ مجھے اس شخص کا سایہ بھی تم پر برداشت نہیں جو ماضی میں کسی بھی حوالے سے تم سے وابسطہ رہا ہو۔۔۔ وہ ماتھے پر بل لئے کہہ رہا تھا۔۔ جبکہ صلہ حیرت سے اسکا یہ پاگل پن دیکھ رہی تھی۔۔۔ وہ اسکا بہنوئی تھا کیا یہ ممکن تھا کہ کبھی انکا آمنا سامنا نا ہوتا۔۔ اس صورت تو اسے پھر بہن بھی چھوڑنی پڑتی۔۔۔۔ لیکن فلحال تو اسے بالاج کا غصہ ٹھنڈا کرنا تھا ۔۔۔۔
مجھے کیا ضرورت ہے بھلا اس سے کوئی بھی بات کرنے کی بالاج۔۔۔ میں نے تو ابھی بھی کوئی بات نہیں کی۔۔۔ وہ تو بس دروازہ کھولنے آئی تھی۔۔۔ اور تم کیوں ایک بے بنیاد بات کو لے کر غصہ کر رہے ہو۔۔۔ آو لنچ بالکل تیار ہے۔۔۔ لنچ کرتے ہیں۔۔۔
وہ چہرے پر مسکراہت سجائے ہلکے پھلکے انداز میں کہہ رہی تھی جبکہ اندر دل زور زور سے دھک دھک کر رہا تھا ۔۔ وہ تو پہلے ہی بہت کمزور اعصاب کی مالکن تھی۔۔۔ مزید پے در پے لڑائی جھگڑے اور اب یوں بالاج کا نا سمجھ آنے والا رویہ۔۔۔ وہ کچھ نا کرتے ہوئے بھی خوامخواہ شرمندہ ہونے لگی۔۔۔
کچھ دیر پہلے جو اندر ایک پچھتاوا جاگا تھا جسکے تحت وہ امان سے بات کر کے اس سے اپنے غلط رویے کے لئے معذرت کرنا چاہتی تھی وہ اپنی موت آپ مرنے لگا تھا۔۔۔۔
نہیں میں دراصل ایک فائل گھر بھول گیا تھا وہی لینے آیا ہوں۔۔۔۔۔ تم لنچ کرو۔۔۔ وہ ماتھا مسلتا دوسری طرف سے سیڑھیاں چڑھ گیا جبکہ صلہ نڈھال سی اپنی بے جان ہوتی ٹانگوں پر وزن ڈالتی اندر کی جانب بڑھی۔۔۔ بالاج کا غصہ لمحوں میں اسکی جان لبوں پر لے آیا تھا۔۔۔
وہ حیران تھی کے اسے ہو کیا گیا ۔۔۔ امان کو رشتے سے نا اسنے خود کہی تھی وہ بھی بالاج کے لئے پھر۔۔۔۔
وہ سر جھٹکتی لاوئنج کی طرف بڑھی۔۔۔
****
ارے آ جاو صلہ بیٹا کہاں رہ گئ تھی تم۔۔۔ آو مٹھائی کھاو ۔۔۔ ماں اور عفرا ڈائینینگ ٹیبل پر بیٹھے تھے جبکہ انکے سامنے مٹھائی کا ڈبہ کھلا پڑا تھا۔۔۔ ارے یہ کس خوشی میں۔۔۔ وہ بھی مسکراتی ہوئی آگے بڑھی اور کرسی پر بیٹھتی مٹھائی اٹھا کر کھانے لگی۔۔۔
خالہ بننے والی ہو اس خوشی میں۔۔۔ ماں نے عفرا کو خود سے لگاتے اسکے سر کا بوسہ لیتے محبت سے کہا جسکے چہرے پر اس وقت گلنار ہی گلنار پھیلا تھا۔۔۔
صلہ نے چونک کر عفرا کی جانب دیکھا۔۔۔ بہت مبارک ہو تمہیں عفرا۔۔۔ میں تمہارے لئے بہت خوش ہوں۔۔۔ وہ صدق دل سے مسکراتی ہوئی گویا ہوئی۔۔۔
ارے عفرا بچے یہ انگوٹھی کونسی ہے تمہارے زیوارت میں پہلے تو نہیں دیکھی۔۔۔
کھانا کھانے کے دوران ماں کی نظر اسکے ہاتھ میں چمکتی نفیس سی وائٹ گولڈ کی اس انگوٹھی پر پڑی تو بے ساختہ پوچھ اٹھیں۔۔۔
ماں کے کہنے پر عفرا نے اپنے ہاتھ کی جانب دیکھا اور انگوٹھی دیکھ کر ایک آسودہ سی مسکراہٹ اسکے ہونٹوں پر پھیل گئ۔۔۔
یہ امان نے مجھے گفٹ کی ہے ماں۔۔۔اچھی ہے نا۔۔۔ اسنے خوشی سے ہاتھ الٹ پلٹ کر دیکھا
ہممم۔۔۔ مطلب رونمائی کا تحفہ ہاں۔۔۔ صلہ نے اسے خوش دیکھ کر چھیرا۔۔۔
نہیں رونمائی کا تحفہ نہیں ہے۔۔۔ یہ ہماری صلح کا تحفہ ہے۔۔۔ رونمائی کا تحفہ ابھی پینڈنگ یے۔۔۔ امان کہتے ہیں کے رونمائی کے تحفے کے طور پر جو میں نے تمہارے لئے سوچا ہے اسے خریدنے کے لئے ابھی مجھے کچھ وقت درکار ہے۔۔۔ وہ مسکراتی ہوئی کہیں اور ہی کھوئی کہہ رہی تھی ۔۔
صلح کا تحفہ کیوں۔۔۔ تمہارا جھگڑا ہوگیا تھا کیا۔۔۔ صلہ نے کھانے سے ہاتھ روکتے اچھنبے سے پوچھا۔۔۔ جبکہ ماں عفرا کو خوش و خرم دیکھ کر پرسکون تھیں۔۔۔
ہاں بس یہ ہی سمجھ لو۔۔۔ پر پھر امان نے اپنے رویے کے لئے معذرت کرکے صلح کر لی۔۔۔ وہ کھلکھلا کر گویا ہوئی۔۔۔
صلہ نم آنکھوں سے اسے دیکھتی رہی۔۔۔ یہ آسودگی اسکی زندگی سے کہیں کھونے لگی تھی۔۔۔
کھانے کھانے کے بعد عفرا نے چائے بنائی اور وہ دونوں ماں کے کمرے میں ہی چائے پیتیں کافی دیر تک ایک دوسرے سے باتیں کرتیں رہیں۔۔
عفرا کے پاس ماں اور بہن کو بتانے کے لئے بہت سی باتیں تھیں۔۔۔
جبکہ اسکے برعکس صلہ خاموش سی اداس مسکراہٹ چہرے پر سجائے اسے سن رہی تھی۔۔۔۔
*****
عفرا کے جانے کے بعد امان واپس آ کر سو گیا تھا۔۔۔ اب اسکی آنکھ عصر کے وقت کھلی ۔۔ لیکن تین چار گھنٹوں کی لگاتار نیند لینے کے بعد بھی وہ خود کو فریش محسوس نہیں کر رہا تھا۔۔۔ سر آنکھوں پر ہنوز ایک بوجھ تھا۔۔۔ اسکا وقت اچھا خاصا ضائع ہو چکا تھا۔۔۔ اتنے وقت میں وہ اپنے بہت سے کام نبٹا سکتا تھا۔۔۔ اگلی ویڈیو کا ابھی کانٹینٹ تیاد کرنا تھا اور اپنی ورک پلیس پر بھی چکر لگانا تھا جہاں آج کل اسنے اپنی مدد کے لئے پارٹ ٹائم ایک لڑکے کو رکھ لیا تھا۔۔۔
اسنے حسرت سے ایک نظر اپنی سٹڈی ٹیبل کو دیکھا جہاں بہت سا کام اسکی نظر کرم کا منتظر تھا لیکن طبیعت کے پیش نظر وہ اپنا کام نظر انداز کر کے کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔
مغرب کی نماز ادا کر کے اب اسکا رخ اپنے کنسلٹنٹ ڈاکٹر کے کلینک کی جانب تھا۔۔۔
کچھ ہی دیر میں اسکی بائیک ایک سفید ٹائلز سے مزین کلینک کے احاطے میں رکی۔۔۔۔
پارکنگ سے نکل کر وہ اندرونی داخلی دروازے کی جانب بڑھا۔۔۔ اور ایک راہداری عبور کر کے اب وہ مطلوبہ کیبن کے سامنے کھڑا تھا۔۔۔
کسی نے بھی اسے وہاں جانے سے روکا نا تھا کیونکہ وہ سب اسے اچھے سے جانتے تھے۔۔۔ یہ ڈاکٹر امان کا اچھا دوست تھا۔۔۔۔ اسی لئے امان اپنی طبیعت کے باعث اسی کے پاس ہمیشہ آتا تھا۔۔۔
دروازہ ہلکا سا ناک کر کے امان اندر داخل ہوا۔۔۔
اندر پینٹ شرٹ میں ملبوس ڈاکٹر کا اوور آل پہنے امان ہی کی عمر کا ایک شخص بیٹھا تھا۔۔۔۔
ارے زہے نصیب آج امان صاحب ہمارے غریب کھانے میں تشریف لائے ہیں۔۔۔
ڈاکٹر شہباز اسے اندر بڑھتا دیکھ خوشدلی سے باہیں پھیلائے اسکی جانب بڑھا۔۔۔ وہ ایک خوش شکل اور بااخلاق شخص تھا۔۔۔
رسمی حال احوال کے بعد امان نے اسکے سامنے بیٹھتے اسے اپنے مسلے سے آگاہ کیا۔۔۔
دیکھو امان محنت اچھی چیز ہے۔۔ لیکن زیادتی اگر اچھی چیز کی بھی ہو تو وہ بری ہے۔۔۔ اس لئے اعتدال کا راستہ کبھی نہیں چھوڑنا چاہیے۔۔۔۔
ڈاکٹر شہباز اسکے سامنے بیٹھا ہاتھوں میں بالپوائٹ گھماتا سنجیدگی سے اسے دیکھتا گویا ہوا۔۔۔۔
تمہیں کسی ایک چیز کے پیچھے اپنی صحت کو ہلکان نہیں کرنا چاہیے ۔۔۔ تمہاری صحت ہوگئ تو۔۔۔
شہباز یار یہ سب میں جانتا ہوں۔۔۔ کچھ اور بتاو مجھے۔۔۔ اس چیز کا حل بتاو۔۔۔ وہ اکتائے سے انداز میں بالوں میں ہاتھ پھیرتا گویا ہوا۔۔۔
یہ ہی تو مسلہ ہے امان ۔۔۔ کہ یہ بات اگر کسی کم عقل و فہم والے شخص کو سمجھانا ہوتی تو میرے لئے یہ آسان کام ہوتا۔۔۔ مگر تم تو اس بارے میں سب جانتے ہو۔۔۔ اور جانتے بوجھتے لاپرواہی کر رہے ہو تو نتائج تمہارے سامنے ہی ہیں۔۔۔ر
تمہارا چہرا بتا رہا ہے کہ تم نے ناجانے کتنے دنوں سے پراپر نیند نہیں لی۔۔۔ کھانے پینے کا ہوش تک نہیں تمہیں۔۔۔ کوئی بھی انسان اگر قانوں قدرت کے خلاف چلے گا تو اسے نقصان اٹھانا پڑے گا۔۔۔
مجھے سمجھ نہیں آتی کے تم اتنے جنونی کیوں ہو۔۔۔۔
ڈاکٹر شہباز اسے دیکھتا تاسف سے گویا ہوا۔۔۔
جب ہم کوئی خواب دیکھتے ہیں نا شہباز تو وہ محض ایک خواب ہوتا ہے لیکن جب اسکے ساتھ جنون کو شامل کر دیا جائے تو وہ خوابِ جنون بن جاتا ہے۔۔ اور کوئی بھی خواب ۔۔۔ خوابِ جنون بنے بنا حقیقت کا روپ نہیں دھار سکتا۔۔۔ خواب کا خواب جنون بننا اسکے حقیقت میں ڈھلنے کی پہلی سیڑھی ہوتی ہے۔۔۔ اور اس جنون میں محنت۔۔۔ کوشیش۔۔۔ لیزر شارپ فوکس۔۔۔ باقاعدگی۔۔۔ ڈسپلن۔۔۔ اور اپنے کام کو بہتر سے بہتر تر کرتے چلے جانا سب شامل ہے۔۔۔
میں واقعی اپنے ہی بنائے اصولوں سے پیچھے ہٹتا صرف اپنے ایک مسلے کو حل کرنے میں ہی لگا رہا۔۔۔ لیکن اب شاید مجھے حقیقتاً ایک چھوٹے سے بریک کی ضرورت ہے تا کے میں تازہ دم ہو کر دوبارہ سے اپنے کام پر فوکس کر سکون کیونکہ اس حالت میں تو میں اپنے کام پر بھی فوکس نہیں کر پارہا۔۔۔ وہ کسی گہری سوچ میں گم کھویا کھویا سا گویا ہوا۔۔۔۔
بہت اچھی بات ہے۔۔۔ مسلسل کام اور نیند کے پورا نا ہونے پلس کھانے پینے کی پرواہ نا کرنے کے باعث تمہارا جسم ان سب چیزوں کے خلاف ریزیسٹ کر رہا ہے۔۔۔ تمہارا انٹرنل سسٹم ڈسٹرب ہو رہا ہے۔۔۔ اسے ابھی کنٹرول کر لو گئے تو بہتر ہے ورنہ زیادہ نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔۔۔
یہ تو تم زرا مضبوط اعصاب کے مالک ہو اس لئے ابھی تک چلتے پھرتے دکھائی دے رہے ہو۔۔۔ کیونکہ تمہارے پیچھے تمہارا سالوں کا سیٹ کیا گیا ایک ہیلڈی لائف سٹائل ہے جیسے تم اسکی مثال یوں لے سکتے ہو کہ جس عمارت کی بنیادیں مضبوط ہوں چھوٹے موٹے سیلاب اسکو کوئی خاص نقصان نہیں پہنچا سکتے۔۔۔اگر تمہاری جگہ ایک ایسا انسان ہوتا جو ایک ان ہیلڈی لائف سٹائل فالو کر رہا ہوتا۔۔۔ جیسے دیر سے اٹھنا دیر سے سونا۔۔۔ جو دل چاہے وہ کھانا اور واک یاایکسرسائز نا کرنا وغیرہ تو یہ چیز اسکے لئے کافی خطرناک تھی۔۔۔ ڈاکٹر شہباز تیزی سے اپنے سامنے موجود نوٹ پیڈ ہر پسنل کی مدد سے کچھ الفاظ گھسیٹتا مصروف سا گویا ہوا۔۔۔
یہ کچھ ملٹی وٹامنز ہیں انہیں کچھ دیر تک باقاعدگی سے استعمال کرو انشااللہ بہت جلد بہتر نتائج دیکھو گئے۔۔۔
ڈاکٹر شہباز نے وہ پرچہ شہباز کی جانب بڑھایا تو وہ مسکرا کر پرچہ تھام کر ڈاکٹر شہباز سے مصافحہ کرتا کمرے سے نکل گیا۔۔۔
*****
صلہ کچھ اچھا سا کھائیں۔۔۔ صلہ اپنے کمرے میں گم صم سی بیڈ کراون سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی۔۔۔ جب عفرا چہکتی ہوئی اندر داخل ہوئی اور دھپ سے اسکے ساتھ ہی بستر پر نیم دراز ہوتی گویا ہوئی۔۔۔
صلہ اسے دیکھ کر رہ گئ۔۔۔ وہ صبح سے ہی غیر محسوس انداز میں اپنا اور عفرا کا موازنہ کر رہی تھی۔۔۔ کتنی بے فکری تھی اسکے چہرے پر۔۔۔
ہمم۔۔۔ نہیں میرا دل نہیں چاہ رہا۔۔۔ وہ پھیکا سا مسکرا کر گویا ہوئی۔۔۔ سیدھے الفاظ میں وہ اسے یہ کہہ ہی نا سکی کہ اسکے پاس پیسے نہیں ہیں۔۔۔ اور وہ اس چیز کو ماں یا عفرا پر ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔ دل میں ڈھرکا تھا اسی لئے فوراً انکار کر دیا ورنہ ماں نے تو اس سے پیسوں کا کوئی مطالبہ نا کیا تھا۔۔۔
تم نا بہت بور ہوتی جا رہی ہو صلہ۔۔۔
ایک کام کرتے ہیں پزا منگوا لیتے ہیں۔۔ مجھے پتہ ہے تمہیں بھی بہت پسند ہے۔۔۔ وہ بستر سے اتر کر الماری کی جانب بڑھی اور اندر سے اپنا ہینڈ بیگ اٹھا کر اندر سے کئ ایک نوٹ نکالے اور دو ہزار نکال کر واپس بیگ میں رکھ کر بیگ الماری میں رکھا۔۔۔
امی تو نہا رہی ہیں میں خود ہی باہر کوئی بچہ دیکھ کر منگوا لیتی ہوں۔۔۔ وہ کمرے سے باہر نکلی تو صلہ لب بھینچ کر رہ گئ۔۔۔ وہ اپنی ہی بہن سے حسد نہیں کرنا چاہتی تھی لیکن وہ اپنے ہی جذبات سمجھنے میں بری طرح ناکام ہو رہی تھی۔۔۔
ایک آنسو چپکے سے ٹوٹ کر اسکی آنکھ سے پھسلا۔۔۔ جسے اسنے بروقت ہاتھ بڑھا کر صاف کیا۔۔۔
دفعتاً عفرا واپس کمرے میں آئی اور صوفے پر بیٹھ کر موبائل چلالنے لگی۔۔۔ جب ایک چیخ مار کر صوفے سے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
صلہ نے دہل کر اسے دیکھا ۔۔۔ کیا ہوا لڑکی کیا کر رہی ہو۔۔ عفرا حیرت سے پھٹ پڑی آنکھوں سے موبائل کی سکرین کو کبھی آنکھوں کے پاس تو کبھی دور کر کے دیکھ رہی تھی جیسے یقین کرنا چاہ رہی ہو کہ جو دیکھ رہی ہے وہ سچ ہے بھی یا نہیں۔۔۔
Ohh My God….
Ohhh Myyh GOddddd
Ohhhhhhh Myyyyhh Godddddd…
وہ حیرت سے اپنی جگہ سے اٹھتی ہنوز آنکھیں پھاڑے موبائل کی سکرین کو دیکھ رہی تھی جبکہ صلہ کو اب تشویش ہونے لگی تھی۔۔۔
عفرا ہوا کیا ۔۔ کچھ بتاو تو صحیح۔۔ وہ پریشانی سے گویا ہوئی۔۔۔
*****”
