khwab e Junoon by Umme Hani readelle50005 Episode 32
Rate this Novel
Episode 32
تائی جان یہ میں نے بالخصوص آپکے لئے اپنے ہاتھوں سے بنائی ہے۔۔۔
تائی جان اپنے کمرے میں بیڈ کراون سے ٹیک لگائے بیٹھی تھیں۔۔۔ جب صلہ مصالحت آمیز مسکراہٹ چہرے پر سجائے ہاتھوں میں کھیر کی پلیٹ سلیقے سے ٹرے میں رکھے تائی جان کے پاس آئی۔۔۔
اسکی اس پیش قدمی پر ناہید بیگم کے ماتھے پر بل پڑے اور وہ ترچھی نگاہوں سے سے دیکھتیں سیدھی ہو کر بیٹھیں۔۔۔
کھا کر بتائیں نا تائی جان کہ کیسی بنی ہے۔۔۔ وہ مسکراتی ہوئی انکے پاس بیٹھی جب ثانیہ آندھی طوفان بنی کمرے میں داخل ہوئی اور نہایت غصے میں صلہ کی جانب بڑھی اور ایک ہی جھٹکے میں ہاتھ مار کر اسکے ہاتھوں میں تھامی ٹرے زمین بوس کی۔۔۔
ٹھاہ کی آواز کیساتھ کانچ کی پلیٹ زمین بوس ہوتی ہی جا بجا کرچیوں میں بٹی۔۔
جبکہ صلہ صدمے سے گنگ جھٹکے سے اٹھ کھڑی ہوتی پھٹی پھٹی نگاہوں سے کبھی کرچیوں میں بٹی پلیٹ تو کبھی ثانیہ کا غصے سے لال بھبھوکا ہوا چہرا دیکھ رہی تھی۔۔۔
تم اتنی اچھی ہمیں بھولی نہیں ہو جو ٹرے سجا سجا کر لا رہی ہو۔۔۔ نجانے ماں کے گھر سے کیا لائی ہو جو ہمیں کھلانا چاہتی ہوں۔۔۔
تمہاری ماں تو سب سے بڑی جادوگرنی ہے۔۔۔ ناجانے کونسے تعویز گھول گھول کر پلانا چاہتی ہو ہمیں۔۔۔
تمہیں شرم حیا غیرت نا آئی میری ماں کے ساتھ ایسا کرتے ہوئے۔۔۔
گھٹیا بے غیرت انسان۔۔۔
اسکے بعد ثانیہ نے غصے سے منہ کھولا تو ناجانے کیا کیا کہتی چلی گئ۔۔۔ جبکہ صلہ تو بے یقینی سے اسکے منہ سے نکلتے نشتروں کو سن رہی تھی جو براہ راست اسکا دل چھلنی کرتے جا رہے تھے۔۔
اس لڑکی کو اسکی پرخلوص نیت میں بھی کھوٹ دکھ رہا تھا۔۔۔
اسکی شعلے اگلی زبان کے نتیجے میں ہر لمحے صلہ کی رنگت زرد پڑتی جا رہی تھی۔۔۔ آنکھوں سے آنسو بہنا شروع ہو گئے تھے۔۔۔
اسے سانس لینے میں دشواری ہو رہی تھی۔۔۔۔
اب ثانیہ کرن اور ناہید بیگم اکھٹی میدان میں کودیں تھیں وہ اس سے زیادہ اسکی ماں کو رگیڈ رہی تھیں اسے ان ان القابات سے نوازا جا رہا تھا کہ صلہ کو اپنا دل پھٹتا محسوس ہو رہا تھا۔۔
وہ سائیں سائیں کرتے دماغ کیساتھ ان سب کو خود پر حاوی ہوتا دیکھ رہی تھی۔۔۔
آج تو اس میں اپنا یا ماں کا دفاع کرنے کی بھی ہمت نا تھی۔۔۔
وہ تو ماں کے کہنے ہر تعلقات استوار کرنے آئی تھی۔۔۔
محبت سے خدمت گزاری سے انکا دل جیتنے آئی تھی۔۔۔
بات کرتے ثانیہ نے اسکی بازو پکڑ کر اسے جھنجھورا تھا۔۔۔
صلہ کے ماتھے پر پسینہ پھؤٹ پڑا تھا۔۔ اسے سانس لینے میں دشواری ہو رہی تھی۔۔۔ دماغ سن ہو رہا تھا۔۔۔ اسے ان سب کے ہلتے منہ تو دکھائی دے رہے تھے لیکن اسے لگ رہا تھا وہ جیسے قوت سماعت سے محروم ہو رہی ہو۔۔۔ وہ انہیں سن نہیں پا رہی تھی۔۔۔
اسکی برداشت کی حد بس یہیں تک تھی۔۔۔ تبھی وہ تیورا کر پورے قد سے زمین بوس ہوئی۔۔۔ اسے لگا کہ اسکے جسم سے گویا روح پرواز ہو رہی ہو۔۔۔
آنکھوں کے آگے اندھیرا چھانے لگا تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ اندھیرا ہر جانب چھا گیا۔۔۔
*******
امان کے جانے کے بعد بھی عفرا ہنوز اسی حالت میں لیٹی خاموش آنسو بہا رہی تھی۔۔۔ اسے ایسے لیٹے ناجانے کتنا وقت ہوگیا وہ نہیں جانتی تھی جب میسج کی بپ پر ہوش میں آئی۔۔
وہ کسلمندی سے اٹھ کر بیڈ کراوں سے ٹیک لگا گئ۔۔۔
اسکے ایک ایک انداز سے بیزاری چھلک رہی تھی۔۔
شام میں گھر لوٹوں تو مجھے میری بیوی فریش اور اچھے سے تیار ملنی چاہیے۔۔۔
Its a request princess…
وہ التجائیہ میسج پڑھ کر آنسو ایک مرتبہ پھر سے آنکھوں سے بہہ نکلے تھے۔۔۔
صحیح کہہ رہا تھا وہ۔۔۔ اپنے غم میں ڈوب کر وہ مزید اپنے شوہر کو نظر انداز نہیں کر سکتی تھی۔۔۔۔۔نقصان تو امان کا بھی ہوا تھا نا۔۔ لیکن وہ کیسے ہمت سے سب سہتا آگے بڑھ گیا تھا۔۔۔ اب اسکا بھی فرض بنتا تھا کہ اتنے باہمت شخص کی ہمراہی میں تھوڑی تو ہمت دکھاتی۔۔۔
امان کا کیا قصور تھا جو وہ اپنی اولاد کو کھونے کے غم کیساتھ ساتھ بیوی کی بھی پزمردہ حالت کو دیکھتا۔۔۔ ہمت تو اسے دکھانی ہی تھی۔۔
وہ اپنے آنسو رگڑ کر صاف کرتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
ایک نظر شیشے میں نظر آتے اپنے عکس کو دیکھا۔۔۔
متورم سوجِی آنکھیں۔۔۔ الجھے بال شکن آلود لباس ۔۔۔ خود کو دیکھ کر اسے جی بھر کر خود پر افسوس ہوا۔۔۔
اسنے الماری کھول کر اپنا ایک لباس نکالا اور واش روم کی جانب بڑھی۔۔۔
کچھ ہی دیر میں وہ فریش ہو کر دوسرا لباس زیب تن کرتی واپس کمرے میں ائی۔۔۔
گیلے بالوں کو اسنے سلجھا کر پشت پر کھلا ہی رہنے دیا ۔۔ چہرے پر ہلکی سی فاوئنڈیشن لگا کر اسنے لائٹ سی لپسٹک لگائی اور شیشے میں اپنا عکس دیکھا۔۔۔
اب کی بار وہ پہلے کی نسبت کافی بہتر تھی۔۔۔ خود کو یوں فریش فریش سا دیکھ کر وہ کافی اچھا محسوس کر رہی تھی۔۔۔
اپنی تیاری سے مطمیئن ہو کر اسنے باہر کا رخ کیا۔۔۔
خالہ اسے یوں دیکھ کر کافی خوش تھیں۔۔۔ کافی دیر تک وہ خالہ کے پاس بیٹھی ان سے باتیں کرتی رہی۔۔۔ پھر منیبہ کو بھی لائن پر لے لیا۔۔۔
کافی دیر تک ادھر ادھر کی باتیں کرنے کے بعد وہ کافی ہلکی پھلکی ہو گئ تھی۔۔۔
دماغ ایک ہی بات سے ہٹا تھا تو غم کچھ کم لگنے لگا تھا۔۔۔
کچھ دیر وہاں ٹھہر کر پھر وہ اپنے کمرے میں آگئ۔۔۔
کمرے میں داخل ہوتے ہی اسکی پہلی نظر بیڈ ہر پڑی اس کتاب پر پڑی جو صبح امان اسے دے کر گیا تھا۔۔۔ اسنے اداسی سے مسکراتے ہوئے وہ کتاب وہاں سے اٹھائی اور امان کے ہی سٹڈی ٹیبل پر آ کر بیٹھ گئ۔۔۔
سب سے پہلے اسنے جرنل اور بالپوائنٹ اٹھا کر سبھی ٹینسسز کو ایک نظر دیکھا اور اللہ کا نام لے کر کتاب پڑھنا شروع کر دی۔۔۔
پہلا صفحہ پڑھتے ہی سر میں درد شروع ہو گیا۔۔۔ وہ شروع کے صفحے پر ہی خاصی بور ہو گئ۔۔۔
اللہ ہی ہے آپکا امان۔۔ پتہ نہیں کیا ملتا ہے آپکو یہ کتابیں پڑھ کر۔۔۔
اسنے منہ بسور کراگلا صفحہ کھولا۔۔۔
لیکن جیسے جیسے وہ پڑھ رہی تھی اسے سب سمجھ آنے لگا۔۔۔ ان سب واقعات میں ایک تسلسل جڑا اور اسکی دلچسپی خودبخود ہی اس کتاب میں بڑھنے لگی۔۔
اچھی خاصی انفورمیٹو کتاب تھی۔۔۔ وہ ایک ٹرانس کی کیفیت میں اسے پڑھنے لگی۔۔۔ پڑھتے پڑھتے کیسے دو گھنٹے گزرے اسے احساس ہی نا ہوا۔۔۔ احساس تو تب ہوا جب بیٹھے بیٹھے اسکی کمر درد کرنے لگی تو وہ چونک کر سیدھی ہو کر کتاب میں بک مار رکھتی وہاں سے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
اتنی بھی بور نہیں ہی یہ کتاب ۔۔۔ انشااللہ میں اسے مکمل ضرور کروں گی۔۔۔ وہ منہ ہی منہ بڑبڑا کر کچھ دیر آرام کرنے کے ارادے سے بستر ہر جا کر لیٹی۔۔
دوبارہ اسکی آنکھ شام چار بجے کے قریب کھلی۔۔۔
اٹھتے ہی وہ چائے بنانے کے ارادے سے باہر نکلی۔۔۔
خالہ کچن میں ہی تھیں۔۔۔ وہ زبردستی خالہ کو کچن سے نکال کر خود چائے بنانے لگی۔۔۔
خالہ اسے اپنے پرانے روپ میں آتا دیکھ خوش تھیں۔۔۔
وہ چائےبنا کر کچن سے نکلی ہی تھی کے امان بھی گھر آگیا۔۔۔
اسے یوں ماں کے ساتِھ مسکرا کر چائے پیتا دیکھ وہ دروازے پر ہی ٹھٹھک کر رکا۔۔۔ اسے یوں دیکھ کر اندر کہیں سکون کی لہریں سراہت کی تھیں۔۔
ارے امان آج آپ جلدی گھر آ گئے۔۔۔ اسکی نظر بھی دروازے میں ایستادہ امان پر پڑئ تو مسکرا کر گویا ہوئی۔۔۔
ہاں دراصل کام تھا کچھ۔۔۔ محترمہ مجھے بھی چائے پلا دیں۔۔۔ اتنے دنوں سے تو آپ مراقبہ کرتی ہوئی شوہر کو نظر انداز ہی کر رہی ہیں۔۔ آج اگر ہمیں آپکو باہر دیکھنے کا شرف مل ہی گیا ہے تو تھوڑی مزید کرم نوازی کر دیں۔۔۔۔
وہ اسے چھیرتا ہوا ماں کے پاس ہی کرسی کھینچ کر بیٹھا۔۔۔
خالہ یہ محترم امان صاحب آ کہاں سے رہے ہیں۔۔ غالباً اپنی ورک پلیس سے نا۔۔۔ اور یہ کام کیا کرتے ہیں بھلا ۔۔۔ میرے خیال سے چائے کا ہی۔۔۔
وہ کہنی میز پر رکھے تھوڑی تلے ہاتھ رکھتی شرہر سے انداز میں گویا ہوئی۔۔۔
تو یہ وہاں سے چائے پی کے ہی کیوں نہیں آئے۔۔۔ بڑے کنجوس ہیں یہ۔۔۔ اپنی بچت کررہے ہیں۔۔
اچھا جی۔۔۔ دراصل یہ بات نہیں۔۔۔ بات یہ ہے کہ مجھے اپنی بیوی کے خوبصورت سے ہاتھوں سے مزیدار سے چائے پینی تھی۔۔۔ وہ عفرا کے اس انداز سے محظوظ ہوتا اسکا کومل ہاتھ تھام کر اسے آنکھ مارتا گویا ہوا۔۔۔
عفرا نے خالہ کے سامنے اسکی اس حرکت ہر سٹپٹا کر ہاتھ پیچھے کھینچا۔۔۔
دیکھ رہی ہیں خالہ اپنے صاحبزادے کو۔۔۔ آپکے سامنے بھی ٹھرک جھاڑنے سے باز نہیں آ رہے۔۔۔ عفرا تاسف سے نفی میں سر ہلاتی خالہ سے شکایتی انداز میں گویا ہوئی۔۔
جبکہ امان کا قہقہ بے ساختہ تھا۔۔۔
خالہ ان دونوں کو یوں دیکھ کر مسکرا دیں۔۔۔ وہ دل سے انکی حقیقی خوشیوں کے لئے دعا گو تھیں۔۔۔ جبکہ عفرا امان کو گھورتی پاوں پٹخ کر کچن میں اسکے لئے چائے بنانے چلے گئ۔۔۔
تبھی دروازے پر گھنٹی بجی لیکن وہ ہنوز کچن میں اپنے کام میں مصروف رہی کے جب باہر امان موجود ہے تو وہ خود ہی دیکھ لے گا۔۔۔
چائے بنا کر وہ واپس کمرے میں گئ تو امان ہاتھ میں پارسل تھامے کھڑا تھا۔۔۔
یہ کیا ہے امان ۔۔۔ اسنے امان کی چائے کا کپ سٹڈی ٹیبل پر رکھا تو امان نے وہ پارسل اسکی جانب بڑھایا۔۔۔
خود ہی دیکھ لو۔۔۔ وہ وہیں کرسی گھسیٹ کر بیٹھتا چائے کی چسکیاں لینے لگا۔۔۔ جبکہ عفرا الجھی سی
بیڈ پر بیٹھ کر پارسل کھولنے لگی۔۔۔
امان چائے پیتا عفرا کے چہرے کا ایک ایک تاثر نوٹ کر رہا تھا۔۔
پارسل کھول کر اسنے ڈبے کا دھکن اتارا تو عفرا حیرت سے منہ پر ہاتھ رکھتی نم آنکھوں سے امان کو دیکھنے لگی۔۔۔
یہ کب ہوا امان۔۔۔ اسکی حیرت زدہ آواز ابھری ۔۔۔۔ کیا وہ پچھلے دنوں اتنی ہی بے خبر رہی تھی کہ وہ یہ سب محسوس ہی نا کر سکی۔۔۔
اسنے نم آنکھوں سے امان کی جانب دیکھا جو لاپرواہی سے کندھے اچکا کر رہ گیا۔۔۔
*****
بالاج آج جلدی گھر آ گیا تھا۔۔۔ آج اوور ٹائم کی شفٹ نہیں لگی تھی اسی لئے وہ زرا پرسکون سا تیزی سے سیڑھیاں چڑھتا اوپر اپنے پورشن میں آیا۔۔۔ لیکن دروازے پر ہی اسے ٹھٹھک کر رکنا پڑا۔۔۔ کیونکہ سامنے ہی صلہ کا بے جان ہوتا وجود زمین بوس ہوا پڑا تھا۔۔۔ جبکہ اسکے پاس ہی ناہید بیگم کرن اور ثانیہ پریشان سی کھڑی تھیں۔۔۔
وہ تڑپ کر چیختا ہوا اسکی جانب بڑھا اور اسکا رخ سیدھا کر کے اسکا چہرا تھپتھپا کر اسے ہوش میں لانے کی اپنی سی کوشیش کرنے لگا۔۔۔
کھڑی میری شکل کیا دیکھ رہی ہو اندر سے پانی لے کر آو۔۔۔
وہ حواس باختہ سا پاس کھڑی کرن پر چلایا تو وہ بھی بوکھلائی سی سرپٹ کچن کی جانب بھاگی۔۔۔
بالاج کبھی اسکا چہرا تھپتھپاتا تو کبھی اسکے ہاتھ رگڑتا۔۔۔
دفعتاً کرن پانی کا گلاس لے کر آئی تو اسنے پے در پے کئ چھینٹے اسکے منہ پر مارے لیکن بے سود۔۔۔ وہ ٹس سے مس نا ہوئی۔۔۔
اب حقیقی تشویش سے بالاج کے ہاتھ پاوں پھولنے لگے تھے۔۔
اسے یہ پوچھنے کی ضرورت ہی نا تھی کہ یہاں کیا ہوا ہے کیونکہ اپنے گھر کے کشیدہ حالات وہ اچھے سے جانتا تھا۔۔۔
اگر اسے کچھ بھی ہوا نا تو اینٹ سے اینٹ بجا ڈالوں گا یہاں۔۔۔ وہ خونخوار نگاہوں سے ان تینوں کو دیکھتا انگلی اٹھا کر بھسم کر ڈالنے والے انداز میں کہتا صلہ کو اٹھا کر باہر کو بھاگا۔۔۔
بہت دیر بعد ان تینوں نے آج بالاج میں پرانے جنونی بالاج کی جھلک دیکھی تھی۔۔ ورنہ اب تو حالات کی چکی میں پستے وہ محض کام کا ہی ہو کر رہ گیا تھا۔۔۔۔
*****
ہستال کے کمرے میں صلہ ہوش و حواس سے بیگانہ لیٹی ہوئی تھی جبکہ دائیں ہاتھ پر ڈرپ لگی تھی۔۔۔ وہ اسکے بیڈ کے پاس ہی کرسی پر بیٹھا کہنی کرسی کی ہتھی پر ٹکائے ہاتھ کی مٹھی بنا کر ہونٹوں پر رکھے سرخ ہوتی نگاہوں سےیک ٹک اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔ کہ دفعتاً سوچ کی کنوس پر کچھ دیر پہلے کا منظر ابھرنے لگا۔۔۔ وہ وائٹ ٹائلز سے مزیں ڈاکٹر کے کیبن میں ڈاکٹر کے سامنے براجمان تھا۔۔۔
جبکہ وہ ڈاکٹر دونوں ہاتھ ایک دوسرے میں پیوست کئے انہیں میز پر رکھے پروفیشنل انداز میں اسے کہہ رہی تھی۔۔۔
دیکھیں مسٹر بالاج آپ کی مسز کی پریگنینسی میں بہت کمپلیکیشنز ہیں۔۔۔ یہ ضرورت سے زیادہ ہی کمزور ہیں نیز یہ شدید قسم کے ذہنی دباو کا شکار ہیں۔۔۔
اگر مزید انکی ایسی ہی حالت رہی تو ماں اوربچے دونون کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔۔۔
انہیں پراپر ڈائٹ کی ضرورت ہے اور انہیں ایک اچھا ماحول فراہم کریں ۔۔۔ زیادہ سے زیادہ انہیں پرسکون رکھیں ۔۔۔ کوشیش کریں کے کوئی ایسی بات نا ہو جسکی یہ ٹینشن لیں۔۔۔ ورنہ بصورت دیگر آپکو کوئی بڑا نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔۔۔۔
منظر تحلیل ہوا تھا اور وہ واپس اسی کمرے میں صلہ کے سامنے بیٹھا مسلسل صلہ کے بارے میں ہی سوچ رہا تھا کہ وہ کیسے اسکے لئے کوئی بہتر اقدام اٹھا سکے گا۔۔۔۔ کیونکہ ایک بات تو طے تھی کے وہ صلہ یا اس بچے کی زندگی کیساتھ کوئی سمجھوتا نہیں کر سکتا تھا۔۔۔
گھر کے حالات اسکے سامنے تھے۔۔۔ ان سے تو یہ توقع کرنا بھی عبث تھا کہ وہ صلہ کے لئے گھر میں کوئی اچھا ماحول پیدا کریں گی۔۔۔ نیز فلحال الگ رہائش کا انتظام کرنے کی اسکی جیب اجازت نہیں دے رہی تھی۔۔۔ وہ بہت پریشانی سے ماتھا مسلتا مسلسل اسی بارے میں سوچ رہا تھا کہ دفعتاً صلہ کے کراہنے کی آواز سن کی ہال میں لوٹتا فورا سے اٹھ کر اسکی جانب جھکا۔۔۔
******
