khwab e Junoon by Umme Hani readelle50005 Episode 33
Rate this Novel
Episode 33
تم ٹھیک تو ہو نا صلہ۔۔۔ کچھ چاہیے کیا تمہیں۔۔۔۔
بالاج اس اس پر جھکا اسکا چہرا دونوں ہاتھوں میں تھامے محبت سے پوچھ رہا تھا۔۔۔
خاموش آنسو لکیروں کی مانند صلہ کی آنکھوں سے بہتے کنپٹیوں کی جانب بہنے لگے۔۔۔ وہ بے بسی سے بالاج کی جانب دیکھتی رہی۔۔۔
تمہیں پتہ ہے بالاج ثانیہ نے۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ سسکی بھرتی مزید کچھ کہتی بالاج نے اسکے منہ پر ہاتھ رکھتے اسے کچھ بھی بولنے سے روکا۔۔۔
جو بھی ہوا صلہ میں اسکے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتا۔۔۔ اس واقع کو دماغ سے جھٹک دو۔۔۔ فلحال مجھ سے صرف ہماری بات کرو۔۔۔ اپنی ۔۔۔ میری۔۔۔ ہمارے بے بی کی اور بس۔۔۔
مجھ پر یقین رکھو صلہ۔۔۔ میں سب ٹھیک کر دوں گا۔۔۔ تم صرف اپنا خیال رکھو اور ہمارے بے بی کا۔۔۔ باقی ہر طرح کی ٹینشن کو دماغ سے نکال دو۔۔۔
پھر وہ کتنی ہی دیر اسکے پاس بیٹھا اسکے بالوں میں انگلیاں چلاتا اس سے باتیں کرتا رہا۔۔۔ صلہ کو آج عرصے بعد اس میں پرانے بالاج کی جھلک دکھائی دی۔۔۔
اسکی ڈرپ ختم ہوئی تو وہ اسے لئے ہسپتال سے باہر نکلا۔۔۔ وہ رات انہوں نے بھرپور طریقے سے انجوائے کی۔۔۔ پہلے دونوں نے اکھٹے باہر لنچ کیا اور پھر آئسکریم کھائی۔۔۔
دیر رات کہیں جا کر وہ گھر پہنچے۔۔ اس بیچ وہ صلہ کے ذہن سے اس واقعہ کے نقش مٹا پانے میں کامیاب رہا تھا۔۔۔ وہ کافی اچھے موڈ کے ساتھ اسکے ساتھ واپس گھر آئی تھی۔۔۔
بالاج ایک فیصلے پر پہنچ چکا تھا وہ جانتا تھا کہ اب اسے کیا کرنا ہے۔۔۔ اور ایک فیصلہ تو صلہ بھی کر چکی تھی کہ اسکے باپ کی توبہ جو وہ دوبارہ ان عقل کے اندھے لوگوں کی طرف مصالحت کے تحت پیش قدمی کرے تو۔۔۔
*****
عفرا ہنوز بے یقینی سے اس پارسل کی جانب دیکھ رہی تھی اور امان اسکی جانب۔۔۔۔
دیکھتے ہی دیکھتے عفرا کے چہرے پر ایک جاندار مسکراہٹ ابھری اور وہ کھل کر ہس دی۔۔
امان مجھے اس کے بارے میں پتہ ہی نا چل سکا۔۔۔ اسنے بڑے پیار سے چمکتے ہوئے اس سلور پلے بٹن پر ہاتھ پھیرا جس پر لکھا تھا
Presented to
C A Chai walla
For passing 100000 subscribers
YouTube….
یہ سلور پلے بٹن امان کو یوٹیوب کی جانب سے ایک لاکھ سبسکرائبرز مکمل ہونے کی خوشی میں بھیجا گیا تھا۔۔۔
امان ایک لاکھ سبسکرائبرز کیسے ہوئے۔۔۔ وہ بے یقینی سے خوش ہوتی گویا ہوئی۔۔۔
محترمہ آپ نے میری کامیابی کے دن مس کر دیئے نا۔۔۔ میری اس ویڈیو کے بعد بیک ٹو بیک تین ویڈیوز مزید وائرل ہوئی ہیں جسکی وجہ سے میرا سبسکرائبرز کا کرائٹیریا مکمل ہو گیا۔۔ وہ مضنوعی تاسف سے سر نفی میں ہلاتا گویا ہوا۔۔۔
سو سوری امان۔۔۔ لیکن جو گزر گیا سو گزر گیا۔۔۔ ہم اسی چیز کو سیلبرہٹ کریں گے۔۔۔ وہ لمحوں میں اپنے پرانےنٹ کھٹ روپ میں واپس آتی بیڈ سے اٹھی اور اماں کا گال زور سے کھینچ کر مسکرا کر گویا ہوئی۔۔۔
امان اسے اس فیز سے باہر نکلتا دیکھ خوش تھا۔۔۔ لیکن اسے خوش اپنے آپ میں مگن دیکھ اسکی آنکھیں نم ہو اٹھیں۔۔۔ ابھی تو ایک بڑی سچائی عفرا سے ابھی تک چھپی تھی۔۔۔ ناجانے جس روز اس سچ سے پردہ اٹھتا تو عفرا کا کیا ردعمل ہوتا۔۔۔
اسے ہم یہاں لگائیں گے۔۔ عفرا نے امان کی کرسی کے پیچھے موجود دیوار پر بنی بک شلف پر جگہ بنا کر اسے رکھا۔۔۔ یہاں سے یہ دیوار اسکی ہر ویڈیو کا بیک گراونڈ ہوتی تھی۔۔۔
اب آپ ہمیں کیک کھلائیں گے اور اچھا سا ڈنر کروائیں گے۔۔۔ وہ مسکراتی ہوئی اسکے سامنے آئی۔۔۔
ہمم ۔۔ کیک تو میں منگوا لیتا ہوں لیکن ڈنر کے لئے کل کا وقت رکھ لیتے ہیں۔۔۔ دراصل ابھی میں کچھ مصروف ہوں۔۔۔
کل میرے لئے ایک بہت بڑا دن ہے۔۔۔ بزنس گرو کرنے کے لئے جو سٹریٹجی میں نے بنائی ہے وہ کل مدر ڈے کے حوالے سے ہے۔۔۔ اس لئے ابھی اسکے لئے میں نے بہت سی تیاری کرنی ہے۔۔۔
تو کل رات دعا کرنا کہ میں جلدی فری ہو جاوں پھر کل ڈنر پر چلیں گے۔۔۔ اور کل کے دن کے حوالے سے میرے لئے ڈھیر ساری دعائیں کرنا عفرا کہ کل میری نئ سٹریٹجی کامیاب رہے۔۔۔
امان کے سنجیدگی سے کہنے پر عفرا بھی غور سے اسکی بات سننے لگی۔۔۔
آپ فکر مت کریں امان انشااللہ آپکا کل کا دن بہت کامیاب رہے گا۔۔۔
میں یہ خوش خبری خالہ کو بتا کر آتی ہوں آپ تب تک کیک منگوائیں اور پزا بھی۔۔۔ وہ فرمائش کرتی مسکراتی ہوئی کمرے سے نکل گئ جبکہ امان پیچھے مسکراتا ہوا آرڈر دینے لگا۔۔۔۔
*****
صبح بالاج آفس جانے کے لئے تیار ہو رہا تھا۔۔ جب شاور لے کر واش روم سے نکلا اور صلہ کو کمرے میں موجود نا پا کر اسکے ماتھے پر جابجا شکنوں کا جال ابھرا۔۔۔
وہ دندناتا ہواصلہ کی تلاش میں کمرے سے باہر نکلا۔۔۔ ماں اور ثانیہ باہر لاوئنج میں ہی بیٹھیں تھیں۔۔۔ جبکہ کرن غالباً کالج جا چکی تھی۔۔۔
صلہ۔۔۔ صلہ۔۔ صلہ۔۔۔ کہاں ہو۔۔۔ فوراً یہاں آو۔۔۔ وہ اسے پورے گھر میں ڈھونڈنے کا ارادا ترک کرتا لاوئنج میں ہی کھڑا ہو کر ڈھارا۔۔۔
حسب سابق اسکی ڈھار سن کر وہ کچن سے ہاتھ صاف کرتی ہانپتی کانپتی باہر نکلی۔۔۔
کیا ہوا بالاج۔۔۔
کیا کر رہی ہو تم وہاں۔۔۔ وہ غیض و غضب لئے گویا ہوا۔۔۔
تمہارے لئے ناشتہ۔۔۔
کیا میں نے تمہیں ناشتہ بنانے کو بولا۔۔۔ اس سے پہلے کہ وہ مزید کچھ کہتی وہ ایک مرتبہ پھر ڈھارا۔۔
ڈاکٹر نے تمہیں ریسٹ کرنے کا بولا ہے کیا تمہیں اتنی سی بات سمجھ میں نہیں آتی۔۔۔
میں ناشتہ باہر سے کر لوں گا۔۔۔ اور خبردار۔۔۔ خبردرا جو تم نے کسی بھی کام کو ہاتھ لگایا تو۔۔۔
وہ انگلی اٹھا کر صلہ کو وارن کرتا گویا ہوا پر درحقیقت یہ باتیں وہ سنا کسی اور کو رہا تھا۔۔۔
ثانیہ نے اسکی بات سن کر نخوت سے ناک پر سے مکھی اڑائی ۔۔۔ البتہ اسکا جارحانہ انداز دیکھتے کسی بھی بات میں مداخلت کرنے سے گریز ہی کیا۔۔۔
اور ہاں تم بھی تیار ہو جاو۔۔۔ میں جاتا ہوا تمہیں چچی کے پاس چھوڑ جاوں گا اور رات میں آتا ہوا واپس لے آوں گا۔۔۔
جب تک بے بی ہو نہیں جاتا تم روز ایسا ہی کرو گئ ۔۔۔ بعد کا بعد میں دیکھیں گے۔۔۔ اب فوراً کمرے میں پہنچو۔۔۔ اب کی بار اسکے لہجے میں سختی نا تھی۔۔۔ فلحال اسے اس مسلے کا اور صلہ کو اس ماحول سے دور رکھنے کا یہ ہی طریقہ درست لگا تھا۔۔۔
اسکی بات سن کر صلہ سرعت سے کمرے کی جانب بڑھی۔۔۔
ہنہہ۔۔۔ رن مرید۔۔۔ ماں نے غصے سے سر جھٹکا۔۔۔ اس ناہجار کا بس نہیں چلتا کہ بیوی کے پاوں دھو کر ہی پینا شروع کر دے۔۔۔
ماں یہ نئے نئے تعویزوں کا اثر ہیں۔۔۔ دونوں ماں بیٹیاں پکی جادوگرنیاں ہیں۔۔۔
اندر جاتے یہ الفاظ صلہ کے کانوں میں پڑے تھے اور وہ لب بھینچ کر رہ گئ۔۔۔ اس گھر میں کوئی اسکی جان کبھی نہیں بخشنے والا تھا چاہیے وہ پھر مر ہی کیوں ما جاتی۔۔۔ اسنے کرب سے سوچا۔۔۔
***””
آج کا دن امان کے لئے بہت خاص تھا۔۔۔ بہت بہت خاص۔۔۔ آج کے دن کے حوالے سے تیاریاں وہ کئ دنوں سے کر رہا تھا۔۔۔ آج وہ ایک نئے جوش نئے جذے اور بھرپور انرجی سے اٹھا تھا۔۔ آج اسے اپنا سو فیصد دینا تھا۔۔ بنا نتائج کی پرواہ کئے۔۔۔۔
وہ پرامید تھا کہ آج کا دن یقیناً کافی اچھا رہنے والا تھا۔۔۔
اسنے صبح فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد اللہ کے حضور گڑگڑا کر اپنی کامیابی کے لئے دعا کی۔۔۔ آج اسے صبح ہی صبح اپنی ورک پلیس پر جانا تھا تو اسنے آج محض دس منٹ کی مارنینگ واک لی۔۔۔ روٹین توڑنے کے وہ حق میں نا تھا۔۔۔ اس لئے جلد ہی گھر واپس پہچا ۔۔۔ ابھی آسمان پر ملگجا سا اندھیرا ہی تھا۔۔۔
بعجلت تیار ہو کر وہ آئینے کے سامنے کھڑا اپنے بال بنا رہا تھا جب عفرا نے اسے دیکھ کر بے ساختہ ماشااللہ کہا۔۔۔
سفید کلف لگے کرتا شلوار پر بازو کہنیوں تک فولڈ کئے بال اچھے سے سیٹ کئے وہ عفرا کو اپنے دل کے بہت قریب لگا۔۔۔
ایسی روبدار اور پرکشیش اسکی پرسنیلٹی تھی اور سے بات کرنے کا انداز اور خوش اخلاقی خود بخود لوگوں کو اسکی طرف کھینچتی تھی۔۔۔۔
تیار ہو کر وہ اسکے سامنے آیا۔۔۔ آج مجھے بہت ساری دعاوں کی ضرورت ہے پرنسیس۔۔۔ وہ پرجوش سا مسکراتا ہوا گویا ہوا۔۔۔
میری سبھی دعائیں آپکے ساتھ ہیں امان ۔۔۔ انشااللہ کامیابی آپکے قدم چومے گی۔۔۔ عفرا کے مسکرا کر کہنے پر امان اسے لئے باہر آیا اور ماں سے مل کر ان سے ڈھیروں دعائیں لیتا گھر سے نکلا۔۔۔۔
*****
امان روڈ کنارے واقع اپنی دکان کے باہر کھڑا کھڑا تھا ۔۔۔ جسکے اوپر موٹے الفاظ میں سی اے چائے والا لکھا تھا۔۔۔
آج بلجصوص دکان سے باہر چائے کے لئے کاوئنٹر رکھا گیا تھا جسکے پاس بہت سے کپ اور ٹرے پڑیں تھیں۔۔۔
آج کے دن کے حوالے سے اسنے دس لوگوں کو ایک دن کے لئے اپنے ساتھ ہائیر کیا تھا تاکہ آج سارے کام نظم و ضبط سے ہو سکیں۔۔۔ اب وہ وہیں کھڑا ان لڑکوں کو کام کرتا دیکھ رہا تھا۔۔۔ کچھ وہاں روڈ پر دور تک کرسیاں سیٹ کر رہے تھے۔۔۔
جبکہ کچھ لڑکے ایک طرف بڑے بڑے بینرز لگا رہے تھے۔۔۔
آج کے حوالے سے اسنے بزنس کو ایک ٹرنینگ پوائنٹ دینے کے لئے بہت بڑی انوسٹمنٹ کی تھی اور اب وہ دعاگو ہی تھا کہ آج کی سٹریٹجی کامیاب رہتی۔۔۔
وہ لوگ ایک بینر لگا چکے تو امان نے انہیں دوسرا بینر اٹھا کر پکڑایا اور خود کھڑا ہو کر وہ بینر دیکھنے لگا جس پر موٹا موٹا کندا تھا۔۔
آج مدر ڈے کے موقع پر شہر کی سبھی ماوں کو نظرانہ عقیدت پیش کرتے سی اے چائے والا کی طرف سے فری چائے پلائی جائے گی۔۔۔۔
وہ اب اپنی تیاریوں سے مطمیئں تھا۔۔۔۔ اسی چیز کو اسنے اپنے سبھی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز یوٹیوب انسٹا فیسبک ٹیوٹر اور لنک انڈ پر بھی پروموٹ کیا تھا۔۔۔ جیسے جیسے دن شروع ہو رہا تھا اور جیسے جیسے لوگوں کو اس چیز کے بارے میں پتہ چل رہا تھا سب لوگ وہاں جوک در جوک اکھٹے ہونے لگے۔۔۔
امان نے مسکراتے ہوئے چولہے میں آگ جلائی اور پوری تندہی سے اپنا کام کرنے لگا۔۔۔
بڑے دیگچے میں چائے بناتے وہ ینگ ایجڈ اور بوڑھی ہر طرح کی ماوں کو دیکھتا پے در پے چائے کپوں میں انڈیل رہا تھا جسے اسکے رکھے لڑکے بڑے سلیقے سے ٹرے میں رکھے نہایت عزت سے ان ماوں کو پیش کر رہے تھے۔۔۔
ایک لڑکا ایک ایک منٹ کی اپڈیٹ اسکے سوشل اکاونٹس پر اپلوڈ کر رہا تھا جسے بڑی تیزی سے شیئر کیا جا رہا تھا۔۔۔
تب اس وقت دو ہیش ٹیگ بڑی تیزی سے چل رہے تھے
ہیش ٹیگ سی اے چائے والا
ہیش ٹیگ فری چائے فور مڈرز۔۔۔
وہاں آئے کئ لوگ امان کے ساتھ تصویریں بناتے اس ہیش ٹیگ کے ساتھ انہیں اپنے اپنے اکاونٹس پر اپلوڈ کر رہے تھے۔۔۔
عمر رسید مائیں اسکے ساتھ تصویریں بناتیں اسے ڈھیروں دعاوں سے نواز رہی تھیں۔۔۔ جیسے جیسے دوپہر اور پھر شام ہو رہی تھی لوگ اس آفر سے آگاہی حاصل کرتے جوک در جوک وہاں امڈ رہے تھے۔۔۔
وہ آج کے دن کا ٹاپ ٹرینڈنگ ٹاپک بن گیا تھا جسے خوب خوب پزیرائی مل رہی تھی۔۔۔
آج اس جگہ سے ہجوم چھٹ کے نا دے رہا تھا۔۔۔
امان ایک پل کو اپنی جگہ سے ہٹنے کو تیار نا تھا۔۔۔ اسی چکر میں وہ اپنا لنچ تک گول کر چکا تھا۔۔۔ صبح سے اسنے ناشتہ کیا تھا اور اب شام کے سائے گہرے ہونے لگے تھے۔۔۔ اس بیچ اسنے محض نماز کا وقفہ لیا تھا اور تب بھی اسکے رکھے لڑکوں نے چائے بنانا بند نہیں کی تھی۔۔۔وہ اپنے کام کو لے کر اتنا ہی مخلص تھا۔۔۔ وہ صبح سے اسی جگہ پر کھڑا تھا۔۔۔ دوڑین تو سکے ہائر کئے لڑکوں کی بھی لگی تھیں جو پھرکی کی مانند یہاں سے وہاں بھاگ رہے تھے۔۔ کبھی لوگوں کو چائے صرف کرتے تو کبھی برتن دھو دھو کر امان کے پاس لا کر رکھتے۔۔۔
امان کی چیزیں ختم ہونے لگی تھیں۔۔۔ جسے وہ بروقت ان لڑکوں سے بار بار منگوا رہا تھا۔۔۔
رات کے نو بجے بھی وہاں اتنا ہی رش تھا۔۔۔
عفرا گھر میں بیٹھی ہر لمحہ وائرل ہوتے اسکے ہیش ٹیگز کو دیکھ رہی تھی جہاں پر امان کی مختلف لوگوں کے ساتھ مختلف تصویریں تھیں۔۔۔
کہیں وہ مسکراتا پوا چائے بنا رہا تھا تو کہیں کوئی مائیں اسے پیار دیتیں اسکے ماتھے کا بوسہ لے رہی تھیں۔۔۔
رات کے گیارہ بجے تھکن سے چور امان نے وہاں کلوزنگ کا بورڈ لگایا تھا۔۔۔
آج کا دن اسکی توقع سے بڑھ کر کامیاب رہا تھا۔۔۔ اس واقع نے اسے بہت وائرل کر دیا تھا جتنی پبلیسٹی وہ ایک سال میں حاصل نا کر پایا تھا وہ اسے آج ایک دن میں مل گئ تھی۔۔۔
ہر طرف سی اے چائے والا کی ہی دھوم مچ گئ تھی۔۔۔
یہ یوٹیوب پر کامیاب ہونے کے بعد اسکی دوسری بڑی کامیابی تھی۔۔ وہ اس پر جتنا اپنے رب کا شکر گزار ہوتا کم تھا۔۔۔
اب تھکن سے چور وہ خوشی خوشی گھر لوٹ رہا تھا جہاں اسکی بیوی اور ماں اسکی اس کامیابی کے بعد اسکی شدت سے منتظر تھیں۔۔۔
*****
