khwab e Junoon by Umme Hani readelle50005 Episode 18
Rate this Novel
Episode 18
اچھا کوئی صلہ کی سبیل نہیں نکل سکتی کیا۔۔۔ اسنے گاڑی سٹارٹ کرتے ماتھا مسل کر مسکرتے ہوئے اپنی پشیمانی دبا کر ہلکے پھلکے انداز میں پوچھا۔۔۔
ہرگز نہیں۔۔۔۔ کہا نا اتنا تھوڑے وقت میں ہم اتنی لمبی بات کو ڈسکس نہیں کر سکتے۔۔۔ اسنے آئسکریم کھا کر گاڑی کا شیشہ نیچے کرتے آئسکریم کپ باہر پھینکا۔۔۔
اسکی بات سن کر امان بھی خاموش ہو گیا ۔۔۔ وہ اب یہ بات اسکے ساتھ کہیں بیٹھ کر تسلی سے کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔۔۔
اچھا سنو۔۔۔ گاڑی گھر کے دروازے کے سامنے آ کر رکی تو عفرا کو گاڑی کا دروازہ کھولتے دیکھ گویا ہوا۔۔۔
جی۔۔۔
یہ کچھ پیسے ہیں رکھ لو تمہیں ضرورت پڑ سکتی ہے۔۔۔ امان نے ٹراوزر کی جیب سے والٹ نکلتے چند نوٹ نکال کر اسکی جانب بڑھی۔۔۔ عفرا ان پیسوں کو دیکھتی کچھ پل کچھ سوچتی رہی۔۔۔ یہ بڑا ہی کوئی انوکھا احساس تھا جس سے وہ آج آشنا ہو رہی تھی۔۔۔ اسنے خاموشی سے ہاتھ بڑھا کر پیسے تھامے اور گاڑی سے نکل گئ۔۔۔
*****
صلہ اور بالاج ایک ہفتے کے ٹور سے واپس آگئے تھے۔۔ یہ ایک ہفتہ صلہ کی زندگی کا سب سے خوبصورت وقت تھا جسکا ایک ایک پل اسنے جیا تھا۔۔۔ انجوائے کیا تھا۔۔۔ بالاج کی باہوں میں باہیں ڈالے پاکستان کی خوبصورتی دیکھنا اسکے ساتھ آدھی آدھی راتوں تک وہاں کی سڑکیں ناپنا۔۔۔ شاپنگ کرنا۔۔۔ فرمائشیں کرنا۔۔۔ وہ اپنی زندگی کے بہت سے خوبصورت لمحات یادوں کی صورت قید کئے وہاں سے لوٹی تھی۔۔۔
بالاج کا اسکی کیئر کرنا۔۔۔ اسے کسی کانچ کی گڑیا کی مانند رکھنا۔۔۔ اسکی ناز برداریاں کرنا۔۔۔ اسکے نخرے اٹھانا۔۔۔ اسے ہواوں میں اڑا رہا تھا۔۔۔ وہ خود کو دنیا کی سب سے خوش قسمت لڑکی تصور کر رہی تھی جسے اتنا چاہنے والا قدردان شوہر ملا۔۔۔ گزشتہ زندگیوں کی تلخی کا کہیں کوئی نام و نشان تک نا تھا۔۔۔ گھر آتے ہی وہ سیدھا ماں کے پاس آئی تھی ۔۔ ماں نے اسکا چہکتا ہوا روپ دیکھ کر اسکے ماتھے کا بوسہ لیتے اسے کئ دعاوں سے نوازا۔۔۔
شام تک وہ وہیں رہی۔۔۔ عفرا بھی وہیں تھے تو جیسے انکی ناختم ہونے والی باتوں کا سلسلہ چل نکلا۔۔۔ اسکے پاس ماں اور عفرا کو سنانے کے لئے بہت سی باتیں تھیں۔۔۔
شام کو وہ دونوں اوپر چلے گئے۔۔۔ ناہید بیگم بیٹے سے تو بہت خوشی سے ملیں البتہ صلہ کے ساتھ انکا رویہ سرد ہی تھا۔۔۔۔ انکا سرد رویہ دیکھتے صلہ کی خوشی مانند پڑنے لگی اور وہ سر جھٹک کر اندر چلی گئ۔۔۔
****
امی مجھے دیر ہو رہی ہے ناشتہ بنا دیں۔۔۔ کرن کالج کے یونیفارم میں ملبوس لاوئنج میں صوفے پر براجمان تسبح کرتی ماں کے پاس آتی گویا ہوئی۔۔۔
جا کر اس مہارانی کو اٹھاو اور کہو کے اٹھ کر ناشتہ بنائے۔۔۔ ناہید بیگم ماتھے پر بل ڈالتیں نخوت سے گویا ہوئیں گویا اسکے ذکر سے ہی منہ میں کڑوے بادام کا ذائقہ گھل گیا ہو۔۔۔
میں نہیں جا رہی امی۔۔۔ بھلے یہ آپکا حکم ہے مگر بھائی کے سامنے اسے کچھ کہنا مطلب اپنے اوپر ایک نئ مصیبت بلانا۔۔۔
وہ منہ پھلائے وہیں ماں کے پاس دھپ سے بیٹھی۔۔
وہ کمرے میں نہیں ہے نہانے گیا ہے۔۔۔ ماں کے کہنے پر اسکی آنکھوں میں ایک چمک در آئی۔۔۔
وہ ہاتھ جھارتی اٹھ کر کمرے کی جانب بڑھی۔۔۔ ایک نظر بیڈ پر محو استراحت صلہ پر ڈالی جو لحاف کندھوں تک اوڑھے پرسکون انداز میں سو رہی تھی۔۔۔ کھلی آبشار تکیے پر پھیلی تھی۔۔۔ اسکا دل چاہا کے اسکے گھنے سلکی بالوں کو آگ لگا دے ۔۔۔ بارہا کوشیش کرنے کے باوجود کرن کے بال ویسے نہیں ہوتے تھے۔۔۔ عجیب رف سے گھنگریالے بال تھے اسکے ۔۔
رقابت کے ایک احساس نے اسکے اندر جنم لیا۔۔۔ غصے سے آگے بڑھتے اسنے ایک جھٹکے میں صلہ پر لیا لحاف اتار کر پھینکا۔۔۔۔ اس اچانک افتاد پر صلہ ہڑبڑا کر اٹھی۔۔۔
کیا بدتمیزی ہے یہ۔۔۔ زرا حواس بیدار ہوئے تو اپنے سامنے کھڑی کرن سے جھنجھلا کر گویا ہوئی۔۔۔ دل ابھی تک دھک دھک کر رہا تھا۔۔۔
امی کہہ رہی ہیں کہ آ کر بھیا کے لئے ناشتہ بناو۔۔۔ اور زرا جلدی کیونکہ وہ تیار ہو رہے ہیں اور انکے پاس زیادہ وقت نہیں۔۔۔
بنا صلہ کی بات کا اثر لیے وہ چٹکی بجا کر کہتی بنا اسکا جواب سنے کمرے سے نکل گئ۔۔ جبکہ اسکے جانے کے بعد اسنے کمرے میں بالاج کو دھوندنا چاہا مگر وہ کمرے میں نہیں تھا۔۔۔
اسنے بے بسی سے سانس خارج کر کے سر ہاتھوں میں تھام لیا۔۔۔ یکدم گہری نیند سے بیدار ہونے پر سر کے ساتھ ساتھ پورا جسم درد کرنے لگا تھا۔۔۔
وہ کچھ دیر ویسے ہی بیٹھے رہنے کے بعد کسلمندی سے اٹھتی بالوں کا رف سا جوڑا بنا کر جوتا پاوں میں اڑستی کمرے سے باہر نکلی۔۔۔
*****
باہر لاوئنج میں ہی اسکا ٹاکرا تائی جان سے ہوا جو اسے کمال نظرانداز کرتیں تسبیح کرنے میں مشغول رہی۔۔۔ جب وہ اسے نظر انداز کر رہی تھی تو اسنے بھی انہیں بلانا یا مخاطب کرنا ضروری نا سمجھا۔۔۔ ایسے تو ایسے ہی سہی ۔۔ میں بھی کوئی اتنی گری پڑی نہیں کہ انکے بارہا نظر انداز کرنے پر ان کے سامنے بچھ بچھ جاوں۔۔۔ منہ ہی منہ بڑبڑاتی وہ کچن میں داخل ہوئی۔۔۔
جھنجھلا کر فریج کھول کر جائزہ لیا تو انکشاف ہوا کہ آٹا تو تھا ہی نہیں۔۔۔ اتنی جلدی آٹا گوندھ کر روٹی پکانے میں اسے خاصی دشواری ہوتی اسی لئے اسنے فریج سے انڈے اور ڈبل روٹی نکالی۔۔۔
ایک طرف چائے پکنے کے لئے رکھ کر دوسری طرف دو انڈے فرائی کر کے ٹوسٹ سینکنے لگی۔۔۔ ارادہ بالاج کو جلد از جلد ناشتہ دے کر دوبارہ سونے کا تھا۔۔۔ ابھی تک اسے اپنا سر بھاری بھاری محسوس ہو رہا تھا۔۔۔ انڈے اور ٹوسٹ ٹرے میں رکھ کر وہ چائے چھان رہی تھی جب کرن اپنی اونچی پونی جھلاتی کچن میں داخل ہوئی۔۔
ارے یہ ناشتہ تم نے بالاج بھائی کے لئے بنایا ہے۔۔۔ اسکے اسقدر ڈرامائی انداز میں کہنے پر صلہ نے ڈر کر اسے دیکھا کہ ناجانے اسنے کیا کر دیا ہو۔۔۔
مطلب۔۔۔
مطلب یہ کہ بھیا ناشتے میں بل دار پڑاتھا آملیٹ اور چائے لیتے ہیں۔۔۔۔ کرن کے کہنے پر وہ گہرا سانس خارج کرتی واپس چائے کپ میں انڈیل کر ٹرے میں رکھنے لگی۔۔۔
آٹا نہیں تھا اس لئے۔۔۔
ارے آٹا نہیں تھا تو گوندھ لو ایک کام کرتی ہوں یہ ناشتہ میں کر لیتی ہوں تم انکے لئے پڑاتھا بنا لو۔۔۔ وہ صلہ کی بات ٹوک کر اپنی ہی کہتی ٹرے اٹھا کر بنا اسکی کوئی سنے کچن سے نکل گئ۔۔۔ جبکہ صلہ ہونق بنی اسے دیکھتی رہی۔۔۔ غصہ دماغ پر چڑھنے لگا تھا۔۔۔ دل چاہا کے جا کر دو تھپڑ لگا کر اس سے ناشتے کی ٹرے اٹھا کر واپس لائے لیکن وہ خون کے گھونٹ پی کر رہ گئ کہ صبح ہی صبح وہ کوئی تماشا نہیں چاہتی تھی۔۔۔
دل ہی دل اسے گالیوں سے نوازتی وہ جھنجھلاتے ہوئے آٹے کا کنستر نکالنے لگی۔۔۔
*****
ماں ناشتہ کہاں ہے جلدی کریں مجھے دیر ہو رہی ہے۔۔۔ بالاج نک سک سے تیار بعجلت ماں کے پاس لاوئنج میں آتا گویا ہوا۔۔۔
کچن میں آٹا چھانتی عفرا بالاج کی آواز سن کر ٹھٹک کر رکی۔۔۔
تمہاری بیوی گھسی ہے کچن میں کافی دیر سے دیکھو کیا لاتی ہے ناشتے میں۔۔۔ کچھ لاتی بھی ہے یا سب کو بھوکھا ہی رہنا پڑتا ہے۔۔۔ تائی جان کی آواز کانوں سے ٹکراتے ہی اسکے ہاتھوں میں بجلی سی بھر گئ۔۔۔
وہ جتنی جلدی ممکن ہو سکتا تھا آٹا گوندھ رہی تھی۔۔۔ جیسے تیسے کر کے اسنے بعجلت آٹا گوندھ کر ڈبے میں نکالا۔۔۔ اس چکر میں کچن کاونٹر کا کبارہ ہو گیا تھا لیکن وہ سب بعد میں صاف کرنے کاسوچتی ابھی چولہے کی جانب بڑھی ہی تھی کے اسے بالاج کے جھنجھلائی آواز سنائی دی۔۔۔
صلہ یارجلدی کرو اور کتنی دیر لگے گی مجھے دیر ہو رہی ہے۔۔۔
صلہ نے تھوک نگلتے بعجلت توا چولہے پر رکھا اور دوسری طرف چائے کے لئے دودھ پین میں ڈالا۔۔۔ ابھی وہ روٹی کے لئے پیڑا بنا ہی رہی تھی جب وہ اسکے پر آن پہنچا۔۔۔
یہ کیا صلہ ابھی تک تو تم نے کچھ بھی نہیں بنایا۔۔۔ وہ سب کچھ جوں کا توں پڑا دیکھ افسوس سے گویا ہوا۔۔۔۔
وہ بالاج بس بنا ہی رہی ہوں۔۔۔ دراصل آٹا۔۔۔۔
نہیں اب رہنے دو صلہ مجھے بہت دیر ہو جائے گی وہیں سے کچھ کھا لوں گا۔۔۔ وہ گم صم سا کہتا کچن سے باہر نکل گیا۔۔۔ اسکے جانے کے بعد صلہ نے آٹے والا ہاتھ نیچے کرتے دلگرفتی سے اسے دیکھا۔۔۔ کیا فائدہ بھلا اتنی محنت کا وہ آٹے کا پیڑا وہیں رکھتی چولہا بند کرنے لگی۔۔۔
*****
ابھی وہ کاونٹر ٹاپ صاف کر کے آٹا فریج میں رکھ کر کچن سے نکلی ہی تھی کہ تائی جان کی پاٹ دار آواز اسکے کانوں سے ٹکرائی۔۔۔
بیوی کے ہوتے شوہر گھر سے بھوکا چلا جائے ایسی بیویوں کو تو شرم سے ڈوب مرنا چاہیے۔۔ تائی کی آواز سنتے اسکے قدم ٹھٹک کر رکے۔۔۔ وہ ڈھرکتے دل کیساتھ انکا غصیلا روپ دیکھنے لگی۔۔۔
دنیا جہاں کی پھوہر سست اور کام چور لڑکی ہماری ہی قسمت میں لکھی تھی۔۔۔
وہ صوفے پر غصے سے بھری بیٹھیں تھیں۔۔۔
وہ تائی جان میں نے ناشتہ بنایا تھا لیکن وہ کرن لے گئ اور وہ آٹا۔۔۔
ڈوب کر مر جاو لڑکی نند کے نوالے گن رہی ہو۔۔۔ ہمارا بھی سسرال تھا اور یہ بھرا پڑا سسرل تھا ہم بھی صبح اٹھ کر ناشتے بناتے تھے اور پورے گھر کے لئے بناتے تھے تم نے نند کو ناشتہ بنا دیا توکونسی قیامت آگئ کے تم یوں اسکے نوالے گننے لگی۔۔۔ سسرال میں لوگ ہی کتنے ہیں تمہارے۔۔۔
بجائے کے تم ساس سسر کا ناشتہ بھی بنا کر لاتی تم تو۔۔۔
نہیں تائ جان میرا وہ مطلب نہیں تھا۔۔۔ انکے جلالی روپ کے سامنے تو صلہ کی بولتی ہی بند ہوگئ تھی اتنی اونچی آواز پر دل دھک دھک کرنے لگا تھا۔۔۔
تم مجھے مت بتاو بی بی کے تمہارا کیا مطلب تھا۔۔۔ نا میں پوچھتی ہوں کہ گھر میں ماں کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک کرتی تھی اسے بھی ناشتہ نا بنا کر دیتی تھی۔۔۔ کچھ سیکھا کر نہیں بھیجا اسنے بیٹیوں کو۔۔۔ تائی جان ناک پر انگلی ڈھرے اسے کٹہرے میں کھڑا کئے بیٹھیں تھیں جس سے نکلنا اسے فلحال بہت مشکل لگ رہا تھا۔۔۔ صلہ کی آنکھیں چھلکنے کو بیتاب تھیں۔۔۔
کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ امی سیکھایا ہے نا اسکی ماں نے اسے۔۔۔ لڑکے پھانسناااا۔۔ کرن سر پر چادر لے کر کالج بیگ کندھے پر لٹکاتی چٹخارہ لے کر کہتی گویا جلتی پر پٹرول چھڑک گئ۔۔۔
بکوس بند کرو تم اپنی اور اپنی حد میں رہو۔۔۔ کرن کی بدزبانی پر وہ جو تب سے خاموش تھی بھڑک کر اس پر چڑھ دوڑی۔۔۔
ساس کا تو چلو احترام لازم تھا اس چھٹانک بھر کی لڑکی کی وہ بھلا کیوں باتیں سنتی۔۔۔
زبان بند کرنے کی اسے نہیں بلکہ تمہیں ضرورت ہے بی بی۔۔۔ اور ایسا کیا غلط کہہ دیا اسنے۔۔۔ سچ ہمیشہ کڑوا ہی ہوتا ہے۔۔۔ کیا یہ سچ نہیں کے تم نے میرے بیٹے کو اپنی زلفوں کے جال میں پھانس لیا۔۔۔ تائی کی باتوں پر اسکا خون کھولنے لگا تھا کیونکہ کرن تو ان دونوں میں آگ بھرکا کر خود منظر سے ہٹ گئ تھی۔۔۔
آپ مجھ پر بہتان لگا رہی ہیں تائی جان۔۔۔ وہ ضبط کے مراحل سے گزرتی دانت پیستی گویا ہوئی۔۔۔
او جا جا بی بی مجھے بہتان بازی مت سیکھا ۔۔۔اس چیز کی گواہی تو پورا محلہ دے گا۔۔۔ کس کس کا منہ بند کرے گی۔۔ اوراب کیوں اتنی مرچیں لگ رہی ہیں۔۔۔ گل کھلاتے شرم نا آئی۔۔۔ اور آتی بھی کیوں یہاں تو تربیت بول رہی تھی۔۔۔ باوجود ضبط کے ایک آنسو صلہ کی آنکھ سے ٹوٹ کر اسکی گال پر پھسلا اور وہ دکھ سے اپنی ساس کا چہرا دیکھتی ہاتھ کی مٹھیاں میچے بنا کچھ بولے اپنے کمرے کی طرف بڑھی۔۔۔
یہ ڈرامے کہیں اور جا کے دکھانا ابھی باہر نکلو اور مجھے ناشتہ بنا کر دو۔۔۔ ڈرامے باز ماں کی ڈرامے باز اولاد۔۔۔ تائی جان اپنی بھراس نکال کر واپس صوفے پر سیدھی ہو کر بیٹھیں۔۔۔ جبکہ وہ انکی ساری باتوں کو نظرانداز کرتی جھٹکے سے اپنے کمرے میں دخل ہوئی اور ٹھاہ کی آواز کیساتھ دروازہ بند کیا۔۔۔۔ گویا سارا غصہ دروازے پر ہی اتارنے کا ارادہ ہو۔۔ جیسے وہ دروازہ نہیں تائی جان ہو۔۔۔
تمہارے باپ نے نہیں لگوائے یہ دروازے جو انہیں توڑ رہی ہو جا کر یہ ڈرامے اپنی ماں کو دکھانا۔۔۔ یہ ڈرامے بازیاں یہاں نہیں چلیں گئ۔۔۔
باہر سے ہنوز تائی کی بولنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔۔۔ وہ کانوں پر زور سے ہاتھ رکھتی بستر پر بیٹھ کر سر گھٹنوں میں چھپا کر سسک پڑی۔۔۔
جتنا اسنے آج برداشت کیا تھا وہ اسکی سکت سے زیادہ تھا۔۔۔ عجیب عذاب بن گئ تھی زندگی۔۔۔ اگر پچھلہ ہفتے وہ خوشیوں کے سنگ گزار کر آئی تھی تو آتے ہی اسکی خوشیوں کو آگ لگا دی گئ تھی۔۔۔ اسے یہ گھر گھر نہیں بلکہ پاگل خانہ لگ رہا تھا۔۔۔ جس میں کہیں سکون نا تھا۔۔۔ ہر وقت یہاں کسی نا کسی بات کو لے کر آپس میں چکچک لگی رہتی۔۔۔
یا وہ یہاں رہتی انکے جیسی پاگل ہونے والی تھی یا بہت جلد اسکے دماغ کی شریان پھٹ جانی تھی۔۔۔
اللہ کرے بالاج کے سوا میرے سارے سسرالی رشتے دار مر جائیں۔۔۔ مر جائیں سب کے سب کہ کچھ میری جان کو بھی سکون ہو۔۔۔ جونک کی طرح چپک کر رہ گئے ہیں یہ سب میری جان کو۔۔۔ خون چوس کر ہی جان چھوڑیں گے۔۔ ابھی تو انکی وہ چنڈالیں اپنے سسرال میں ہیں ورنہ پتہ نہیں چڑیلیں کیا کھاتیں ہیں ۔۔ زبان بھی پتہ نہیں ماں سے ادھار لی یے۔۔۔ اپنی بیٹیاں نہیں دکھتیں۔۔۔ انکی تربیت نہیں دکھتی جنکی سسرل میں بنتی نہیں۔۔۔ دوسروں کی بیٹیوں پر انگلیاں اٹھانا بہت آسان ہے نا۔۔۔ خود جو بیٹیوں کی تربیت کی ہے وہ بھی دکھائی دے رہی ہے۔۔۔ ارے انکی چنڈالوں کے سامنے تو شیطان بھی پناہ مانگ لے۔۔۔ اللہ کر کے یہ سب مر جائیں۔۔۔ سب کی سب مر جائیں۔۔۔اور سب سے پہلے یہ تائی جان مر جائیں۔۔۔ وہ گھٹنوں میں سر دیئے انہیں بدعائیں دے دے کر دل کا غم ہلکا کر رہی تھی۔۔۔
روتے روتے اس پر غنودگی طاری ہونے لگی تو وہیں نیم دراز ہوتے بہتے آنسوں سمیٹ ہی سو گئ۔۔۔
****
