khwab e Junoon by Umme Hani readelle50005 Episode 29
Rate this Novel
Episode 29
عفرا ہوا کیا ۔۔ کچھ بتاو تو صحیح۔۔ صلہ پریشانی سے گویا ہوئی۔۔۔
یس۔۔۔ یس ۔۔۔ یس۔۔۔
عفرا بازو ہوا میں لہراتی خوشی سے اچھل پڑی۔۔۔
ارے صلہ امان کو نا ایک بہت بڑی کامیابی ملی ہے۔۔۔۔ اور میں اتنی خوش ہوں اتنی خوش ہوں۔۔۔۔ اتنی خوش ہوں کے بتا نہیں سکتی۔۔۔۔
دیکھو مجھے میرا جسم خوشی سے کپکپانے لگا ہے۔۔۔ وہ خوشی سے چہچہاتے چہرے کے ساتھ آنکھیں میچتی خود کو کمپوز کرنے لگی۔۔۔ پھر ایک گہرا سانس خارج کرتی موبائل پر کھٹا کھٹ امان کا نمبر ڈائل کرتی وہیں صلہ کے ساتھ اونڈھے منہ بستر پر دھپ سے دراز ہوئی۔۔۔
صلہ نا سمجھی سے بہن کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
دوسری طرف بیل جا رہی۔۔۔
امان جو ڈاکٹر کے پاس سے واپس آ کر جلدی کھانا کھا کر پھر سے سو گیا تھا۔۔۔۔ بیل کی آواز اسکی گہری نیند میں مختل ہوئی تھی۔۔۔ اسنے کسلمندی سے سائیڈ ٹیبل پر پڑا موبائل اٹھا کر کان سے لگایا۔۔۔
ہیلو۔۔۔ نیند میں ڈوبی آواز ابھری۔۔۔
کیسے ہیں آپ امان اور اس وقت کیا کر رہے ہیں۔۔۔ عفرا چہکتی ہوئی گویا ہوئی۔۔ اور یہ بھی ایک اختیاط تھی کہ کیا وہ اپنی اس کامیابی سے آگاہ ہے بھی کے نہیں۔۔
سر درد کر رہا تھا اس لئے آرام کر رہا تھا۔۔۔ وہ منہ پر ہاتھ پھیرتا بیڈ کڑاون سے ٹیک لگا کر نیم دراز ہوا۔۔۔
کمرے میں ہنوز ملگجا سا اندھیرا چھایا تھا۔۔۔
آپ نے کہا تھا نا امان کے ہمیں صرف محنت کرنی چاہیے اور نتائج دنیا والوں کے دیکھنے کے لئے چھوڑ دینے چاہیے کہ نتائج دیکھنا دنیا کا کام ہے۔۔۔ وہ. مسکراہٹ روکتی سیدھی ہو کر صلہ کے ساتھ ہی دراز ہوئی ۔۔
ہممم کہا تو تھا پر اس وقت ان سب باتوں کا کیا مقصد بھلا۔۔۔
وہ عفرا کی باتوں سے الجھا۔۔۔ ناجانے اب اسکے دماغ میں کیا چل رہا تھا۔۔۔
مطلب یہ کی امان صاحب آپکی کامیابی کے نتائج دنیا دیکھ چکی ہے محترم اب آپ بھی نیند سے جاگ کر دیکھ لیں۔۔۔ کیونکہ کل آپ نے جو ویڈیو انسان کا مقصد حیات کے نام سے اپلوڈ کی تھی وہ اتنی وائرل ہوئی ہے کے اسکے ویوز ملین کراس کر گئے ہیں۔۔۔ عفرا کے پرجوش انداز میں کہنے پر اسکی نیند بھک سے اڑی اور وہ ایک ہی جست میں سیدھا ہو کر بیٹھا۔۔۔
کیااااا۔۔۔۔
یقین نہیں آیا نا۔۔۔ مجھے بھی نہیں آ رہا تھا۔۔۔ خود ہی چیک کر لیں۔۔۔ عفرا کے کہنے کی دیر تھی کہ وہ عفرا کو ایک منٹ رکنے کا کہہ کر بعجلت موبائل پر وائے ٹی سٹودیو کھول کر اپنے اینالیٹکس چیک کرنے لگا۔۔۔
ایپ کھلتے ہی نتائج اسکے سامنے تھے۔۔۔ اس ویڈیو نے اسکے پچھکے سبھی ریکارڈز توڑ دیئے تھے۔۔۔ اس ویڈیو پر ملین ویوز آ چکے تھے جبکہ پچیس منٹ کی ویڈیو پر اسکا واچ ڈیوریشن سترہ منٹ تھا۔۔۔ چینل کی گروتھ کا نشان یکدم ہی گراف پر پیک کر جانب گامزن تھا۔۔۔ اس ایک ویڈیو کی وجہ سے چینل کے سبسکرائبرز دس ہزار سے پچاس ہزار ہوگئے تھے۔۔۔ جس چینل کو دس ہزار سبسکرائبرز حاصل کرنے کے لئے ایک سال لگا تھا اسی چینل نے ایک ہی دن میں چالیس ہزار سبسکرائبرز حاصل کر لیے تھے۔۔۔ امان کی آنکھیں خوشی سے جھلملا گئ تھی۔۔۔ یہ اسکی کامیابی کی پہلی سیڑھی تھی۔۔۔
اس یکدم سے ملنے والی خوشی کے باعث اسے جسمانی ہر درد ہر تکلیف بھول گئ تھی۔۔۔ وہ خود کو تازہ دم محسوس کرنے لگا تھا۔۔۔
I am so so soooo happy Iffra….
I can understand Amaan.
موبائل سے امان کی خوشی سے لبریز آواز گھونجی تو عفرا کی خوشی میں مزید اضافہ ہو گیا۔۔۔ کامیابی امان کی تھی لیکن وہ یوں ہواوں میں اڑ رہی تھی جیسے یہ اسکی کامیابی ہو۔۔۔ آخر وہ خود امان کی دن رات کئ جانے والی محنت کی گواہ تھی۔۔۔
ویسے امان اس ایک ویڈیو نے آپکا ریونیو اچھا خاصا جنریٹ کر دیا ہوگا تو آپکی اس کامیابی کی خوشی میں مجھے کیا ملے گا۔۔۔ وہ لب دنتوں تلے دبائے شرارت سے گویا ہوئی۔۔۔
محترمہ جو آپ چاہیں گی وہ آپکو ملے گا۔۔۔ بتائیے مسسز امان کو کیا چاہیے۔۔۔ وہ بھی مسکراتا ہوا بیڈ کراون سے ٹیک لگا کر زرا پرسکون سا ہو کر بیٹھا۔۔۔
ہمممم۔۔۔ سوچ کر بتاوں گی۔۔۔ فلحال آپ کل واپسی پر مجھے اچھا سا ڈنر کروا دیجیئے گا۔۔۔ وہ زرا توقف سے سوچ کر بولی۔۔۔
جو حکم محترمہ۔۔۔ ویسے اگر ایک دو اور ویڈیوز مزید وائرل ہو جائیں نا میری عفرا تو مجھے امید ہے کے مجھے تمہاری جیولری کی بھی ضرورت نہیں پڑے گی۔۔۔ وہ سنجیدگی سے گویا ہوا۔۔۔۔
چلو ٹھیک ہے ابھی مجھے کچھ کام ہے میں تم سے بعد میں بات کرتا ہوں۔۔۔ تیزی سے کچھ سوچتے وہ الوداعی کلمات کہہ کر فون بند کر گیا۔۔۔
وہ بس کسی بھی چیز کو اتنی دیر تک ہی سر پر سوار کرنے کے حق میں تھا۔۔۔ چاہیے وہ کوئی ناکامی ہوتی یا کامیابی۔۔۔ اب اسے آگے کا لائحہ عمل بنانا تھا۔۔۔ اب طبیعت پہلے سے کافی بہتر محسوس ہو رہی تھی۔۔۔ اسنے اپنی دوائی کھائی اور لائٹ جلا کر سٹڈی ٹیبل پر بیٹھ کر اپنی اگلی ویڈیو کا کانٹینٹ لکھنے لگا۔۔۔ کل صبح سب سے پہلے اسے اپنی اگلی ویڈیو اپلوڈ کرنی تھی۔۔۔ وہ جلدی سے نوٹ پیڈ پر ویڈیو کے مین پوائنٹس نوٹ کرنے لگا۔۔۔ جسکے بعد وہ ویڈیو ریکارڈ کر کے سونے کا ارادہ رکھتا تھا ۔۔ تا کے کل صبح اٹھ کر ایڈیٹ کرنے کے بعد اسے اپلوڈ کر سکے۔۔۔
*****
عفرا ہنوز صلہ کے ساتھ نیم دراز موبائل تھوڑی پر رکھے مسکراتی ہوئی کہیں اور ہی پہنچی ہوئی تھی۔۔۔ جبکہ صلہ گم صم سی عفرا کو دیکھ رہی تھی جسکے خوشی سے چہچہاتے چہرے پر نگاہ نہیں ٹک رہی تھی۔۔۔ وہ جتنا اس طرح کے احساسات سے دامن بچانا چاہتی تھی اتنے ہی شدت سے ایسے احساسات اسکے اندر جنم لے رہے تھے۔۔۔ وہ بار بار اپنا اور عفرا کا موازنہ کر رہی تھی۔۔۔ ایسے کیسے ہو سکتا تھا۔۔۔ ماں تو کہتی تھی کہ مکمل خوش کوئی بھی نہیں دنیا میں پھر عفرا کی زندگی میں تو آسودگی ہی آسودگی تھی۔۔۔ نا ساس کا ڈر اور نا ہی چنڈال سی نندیں۔۔۔ شوہر بھی قدردان۔۔۔ یہ آسودگی اسکی زندگی سے کیوں ختم ہوتی جا رہی تھی۔۔۔ دل سے ایک ہوک سی نکلی تھی۔۔۔
دفعتاً باہر سے بیل کی آواز آئی تو عفرا بعجلت نیچے اتری۔۔۔ لگتا ہے پزا آ گیا تم انتظار کرو میں ابھی لاتی ہوں۔۔۔ وہ وہیں اسکے پاس اپنا موبائل رکھ کر باہر کو بھاگی۔۔۔
صلہ نے گم صم سی کیفیت میں ہاتھ بڑھا کر موبائل تھاما جسکی چمکتی سکرین پر امان کا ہی چہرا ابھر رہا تھا۔۔۔ جسکے دوسری طرف انسان کا مقصد حیات واضح الفاظ میں لکھا تھا۔۔۔ وہ یک ٹک امان کی تصویر کو ہی دیکھتی رہی۔۔۔ اچھی خاصی روبدرانہ پرسنیلٹی تھی اسکی۔۔۔ ہاف سلیو ٹی شرٹ میں سلیقے سے بال بنائے وہ مسکراتی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔ ایک دفعہ پھر سے اپنا ناروا رویہ یاد آیا تو دل پشیمان ہو اٹھا۔۔۔ اپنے مقصد کے حصول کے لئے امان کو استعمال کرتے وقت کہ وہ خود ہی رشتے سے پیچھے ہٹ جائے وہ جو منہ میں آیا بولتی چلی گئ تھی۔۔۔
دفعتاً عفرا ٹرے میں لارج سائز پزا اور کولڈ درنک رکھے اندر داخل ہوئی۔۔۔
امی نہیں آئیں۔۔ صلہ نے پیچھے کھسک کر ٹرے کے لئے جگہ بنائی۔۔
وہ نماز پڑھ رہی ہیں ۔۔ وہ بھی اسکے سامنے ہی براجمان ہوئی۔۔۔ پزے کی اشتہا انگیز خوشبو انہیں اپنی جانب متوجہ کر رہی تھی۔۔۔
صلہ نے ویڈیو پر کلک کر کے موبائل ٹرے کے پاس رکھا۔۔۔ ویڈیو درمیان سے شروع ہوئی تھی غالباً پہلے عفرا نے ویڈیو دیکھتے وہیں پر ویڈیو پاز کی تھی۔۔۔
ہر انسان کا اس دنیا میں آنے کے پیچھے ایک مقصد ہوتا ہے۔۔۔ حتی کے ایک چھپکلی کے اس دنیا میں آنے کے پیچھے بھی ایک مقصد کارفرما ہے۔۔۔ وہ بھی بے مقصد پیدا نہیں کی گئ۔۔۔ وہ فضا میں موجود زہریلی گیسوں کر جذب کر جاتی ہے۔۔۔ پھر بھلا اس چیز کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے کہ انسان کا کوئی مقصد حیات نا ہو۔۔۔ وہ الگ بات کے بہت سے انسان اپنا مقصد حیات دھونڈتے ہی نہیں۔۔۔ وہ صرف اور صرف اپنا اا دنیا میں وقت پورا کرتے ہیں۔۔۔ ایسے لوگوں کے گھنٹے دنوں میں دن ہفتوں میں اور ہفتے سالوں میں گزر جاتے ہیں اور یوں ہی زندگی تمام ہو جاتی ہے اور وہ لوگ منوں مٹی تلے جا سوتے ہیں۔۔۔ ایسے لوگوں کے نا دنیا میں آنے کا پتہ لگتا ہے اور نا ہی جانے کا۔۔۔
ہر انسان کو اپنا مقصد حیات ضرور تلاش کرنا چاہیے۔۔۔ اپنے اندر چھپے ٹیلنٹ کو تلاش کر کے اسے نکھارنا چاہیے۔ ۔
کتنا پیارا بولتا تھا وہ۔۔۔ کتنی تاثیر تھی اسکی آواز میں۔۔۔ صلہ پزا کھاتے مکمل یکسوئی سے اسے سن رہی تھی۔۔۔
اگر آپکو اپنا مقصد حیات نہیں بھی معلوم تو اسے ڈھونڈنا چاہیے۔۔۔ عقل مند انسان چھوٹی چھوٹی باتوں اور چھوٹے چھوٹے اشاروں سے بڑے نتائج حاصل کر لیتا ہے۔۔۔ کبھی توفیق ملے تو تہجد کے سجدے میں سر رکھ کر اپنے رب سے مانگنا چاہیے کے اے میرے مالک مجھے میرا مقصد حیات بتا۔۔۔
پھر ہوتا کیا ہے۔۔۔ خدا اس انسان کی مدد کو اسے اشارے دیتا ہے۔۔۔ کبھی کوئی ویڈیو دیکھتے انسان ٹھٹھک کر رک جاتا ہے کہ یہ لائن شاید میرے لئے ہے۔۔۔
کبھی کو کتاب پڑھتے یا لائن پڑھتے اسے ایک واضح سمت دکھنے لگتی ہے اور وہ اس سمیت میں سفر کرنے لگتا ہے۔۔۔
زندگی میں کامیاب ہونے کے لئے کانفیدینس بہت ضروری ہے۔۔۔ اور کانفیڈینس کہاں سے ملتا ہے۔۔۔ کانفیدینس ملتا ہے کلیرٹی سے۔۔۔ اور کلیڑتی کہاں سے ملتی ہے۔۔۔ کلیریٹی آتی ہے نالج سے۔۔۔اس لئے جس بھی چیز میں آپکی دلچسپی ہو۔۔۔ اس چیز کے بارے میں زیادہ سے زیادہ سیکھنا چاہیے ۔۔ زیادہ سے زیادہ پڑھنا چاہیے۔۔۔ جتنا آپکو آپکی مطلوبہ دلچسپی کے بارے میں زیادہ سے زیادہ علم ہوگا اتنی ہی آپکو کلیڑٹی ملے کی۔۔ چیزیں واضح ہونے لگی گیں۔۔۔ اور جب چیزیں واضح ہو جائے گی تو کانفیدینس خودبخود آئے گا۔۔۔ اور ایسے انسان کو بھلا پھر کون آگے بڑھنے سے روک سکتا ہے۔۔۔
اور یہاں پر صلہ تھم گئ تھی۔۔۔ ٹھہر گئ تھی۔۔۔
ہاتھ تک روکے اسے سننے لگی تھی ۔۔ یک ٹک ساکت سی۔۔۔ اسے لگا کہ یہ اشارہ اسکے رب کا شاید اسی کے لئے تھا ۔۔ یہ ویڈیو اسی مقصد سے اسکی نگاہوں کے سامنے آئی تھی ۔۔
اسے بھی حالات کی ستم ظریفی کے آگے جھکنا نہیں تھا۔۔۔ مقابلہ کرنا تھا۔۔۔ جسکا راستہ اسکا رب اسے دکھا رہا تھا۔۔۔ اسے بھی اپنی آنے والی اولاد کے لئے کچھ کرنا تھا۔۔۔ اسے بھی اپنا مقصد حیات تلاشنا تھا۔۔۔ مگر کیسے اس پر ابھی اسے مکمل ریسرچ کرنی تھی۔۔۔ مگر اس ویڈیو نے اس پر آگاہی کے بہت سے در وا کر دیئے تھے۔۔
**””
عفرا تو رات کھانا کھانے کے بعد سو گئ۔۔۔ لیکن نیند صلہ کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔۔۔ ساری رات وہ کانوں میں ہینڈ فری لگائے اپنی مطلوبہ چیزیں سرچ کرتی رہی تھی ۔۔۔ اس نے اس بارے میں بہت سوچا اور گھوم پھر کر ساری سوچوں کی تان ایک ہی جگہ پر آ کر رکی کہ گھر بیٹھ کر زیرو انویسٹمنٹ سے اپنے بل پر اگر اسے کچھ کرنا تھا تو اسے شروعات یوٹیوب چینل سے ہی کرنی ہوگی۔۔ اور یہ خیال آتے ہی وہ بہت پرجوش ہو گئ تھی۔۔۔
ساری رات وہ یوٹیوب چینل کے بارے میں ہی سرچ کرتی رہی۔۔۔ چینل کیسے بنانا ہے ۔۔۔ کس نیش پر بنانا ہے۔۔۔ ویڈیو کیسے بنانی یے ۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔۔۔ اور صبح تک بہت سی چیزیں اسکے دماغ میں کلیئر ہو چکی تھیں۔۔ پہلی چیز اسے کسی ایسی نیش پر چینل بنانا تھا جو اسکی روزمرہ کی زندگی میں شامل ہو جسکے لئے اسے ہلکان نا ہونا پڑے۔۔۔ اور وہ اس نتیجے پر پہنچی تھی کے وہ کوکنگ کا چینل بنائے گی ۔۔۔۔ اس میں ورائٹی لاتے ہوئے ون منٹ یا ٹو منٹ کوکنگ آڑٹ۔۔۔ صرف ایسی ریسپیز شیئر کرے گی جو جھٹ پٹ لمحوں میں تیار ہو جائیں۔۔۔
دوسری بات کہ چینل چاہیے زیرو انویسٹمنٹ سے شروع ہو جائے لیکن اسے چلانے کے لئے بہت محنت درکار تھی۔۔۔ ویڈیو کا ٹھمب نیل کتنا ضروری ہے۔۔۔ ٹائیٹل اور ڈسکرپشن کس بلا کا نام ہے۔۔۔ انکا فنگشن کیا ہے۔۔۔ ہیش ٹیگ کیوں استعمال کئے جاتے ہیں۔۔۔ ان سب چیزوں کے بارے میں اب وہ کچھ کچھ جاننے لگی تھی۔۔۔ صبح فجر کی پہلی اذانوں کے ساتھ ہی اسنے نماز ادا کی اور اپنی رات بھر کی کارکردگی پر خود کو شاباش دیتی پرسکون ہو کر سو گئ ۔۔۔دوبارہ اسکی آنکھ دوپہر کو کھلی تھی۔۔۔ اس بیچ ماں اور عفرا اسے کئ مرتبہ جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر اٹھانے کی کوشیش کر چکی تھیں کہ اٹھ کر ناشتہ کرلو۔۔۔ لیکن ساری رات نا سونے کی وجہ سے وہ ٹس سے مس نا ہوئی۔۔
اسکے اٹھتے ہی ماں نے اسکی اچھی خاصی کلاس لینے کیساتھ ساتھ اسے کھانا لا کر دیا کہ اس حالت میں اپنی صحت سے ایسی لاپرواہیاں اچھی نہیں ہوتیں۔۔ وہ اداسی سے مسکراتی ہوئی انہیں سنتی رہی۔۔۔۔ اسکی ایسی پرواہ کرنے والا سسرال میں بھلا کون تھا۔۔۔ اب تو ماں کی یہ ڈانٹ بھی دل کو سکون دے رہی تھی۔۔۔
کھانا کھا کر وہ اپنا پہلا تجربہ کرنے کی نیت سے کچن میں گئ۔۔۔ عفرا بھی اسکے ساتھ ہی تھی۔۔ عفرا کو وہ پہلے ہی اپنے آئیڈیا کے بارے میں بتا چکی تھی۔۔۔ وہ بہت خوش تھی اور اسنے بھی صلہ کی کافی حوصلہ افزائی کی۔۔۔
کچن کا جائزہ لینے پر انہیں فریج سے چکن اور چیز ملی تو باہمی مشاورت سے وہ جھٹ پٹ بڑیڈ پزا بنانے لگیں۔۔۔
عفرا نے موبائل تھام رکھا تھا جس سے وہ چولہے کو فوکس کئے ریسپی شوٹ کر رہی تھی۔۔۔ جبکہ صلہ نے پہلے ہی ہر چیز اپنے پاس مکمل کر کے رکھی تھی اور صلہ نے جھٹ پٹ فرائی چکن کے ریشوں میں کیچپ اور مصالحہ جات مکس کرکے بریڈ نان سٹک کے پین میں سینکنے کے لئے رکھی اس ہر کیچپ لگا کر وہ چکن کا مکسچر انڈیل کر کرش کی ہوئی چیز ڈال کر چولہے کی آنچ ہلکی کر کے اس ہر دھکن دے دیا ۔۔۔ چند منٹ بعد دھکن ہٹایا تو انکا جھٹ پٹ بریڈ پزا تیار تھا۔۔۔ اب صلہ اس پزے کو چھڑی کی مدد سے کاٹ رہی تھی اور عفرا اسکے کاٹنے کی اور ڈش آوٹ کرنے کی ویڈیو مختلف اینگلز سے بنا رہی تھی۔۔۔
ارے واہ۔۔۔ یہ اتنا مشکل کام بھی نہیں۔۔۔ اپنے کام سے فارغ ہو کر عفرا نے اس جھٹ پٹ پزے کا پیس اٹھا کر منہ میں ڈالا۔۔۔
واو صلہ بہت مزے کا بنا ہے۔۔۔ ویسے نا کوکنگ چینل والوں کی موجیں ہیں۔۔ مزے مزے کے کھانے بنا کر ریکارڈ کرو اور پھر خود بھی کھاو۔۔۔ چلو امی کو بھی چیک کرواتے ہیں۔۔۔ وہ چہک کر کہتی پلیٹ اٹھا کر باہر کو بھاگی۔۔۔ جبکہ صلہ کے لئے تو یہ اسکی پہلی کامیابی تھی۔۔۔۔
ان دونوں بہنوں نے مل کر اگلے چند گھنٹوں میں سارا کام مکمل کر لیا۔۔۔ یوٹیوب سے سرچ کرکے ایڈیٹینگ اور تھمب نیل کی ایپس ڈانلوڈ کی اور جیسی تیسی ایڈیٹنگ کر کے صلہ نے وائس اوورینگ کی اور چینل بنا کر پہلی ویڈیو اپلوڈ کر دی۔۔۔ اسکے بعد چینل کا لنک دونوں نے اپنے اپنے فرینڈ گروپس میں شیئر کر دیا۔۔۔ اس سب کے درمیان صلہ کہیں خاموش اور اداس سی تھی۔۔۔ بالاج نے کل سے اب تک اسے ایک مرتبہ فون تک نا کیا تھا۔۔۔ وہ اسے پہلے ہی اونلائن کام کرنے سے منع کر چکا تھا ناجانے صلہ کے اس چینل بنانے کو لے کر اسکا کیا ردعمل ہوتا۔۔۔ وہ اپنی ہی سوچوں میں گم تھی جب عفرا تیار سی گنگناتی ہوئی کمرے سے نکلی۔۔
وہ سرخ رنگ کی گھٹنوں سے نیچے تک آتی کامدار فراک میں بال کھلے چھوڑے ہلکا پھلکا میک آپ کئے بہت۔۔بہت پیاری لگ رہی تھی۔۔۔ معصوم سی چہکتی ہوئی گڑیا۔۔۔
وہ خوشی خوشی اپنے گھر واپس جانے کے لئے تیار ہوئی تھی۔۔۔ امان اسے لینے آنے والا تھا۔۔۔ ماں کو وہ ڈنر کے لئے پہلے ہی منع کر چکی تھی۔۔۔ کیونکہ آج امان نے اسے باہر ڈنر کروانا تھا۔۔۔
وہ تتلی بنی ادھر سے ادھر گھوم رہی تھی۔۔۔ ایک مرتبہ پھر سے صلہ میں وہی جذبات بیدار ہونے لگے جو کل سے اسکی ذات کا احاطہ کئے ہوئے تھے۔۔۔ جن سے گھبرا کر وہ انہیں بارہا تھپک تھپک کر سلانے کی کوشیش کر چکی تھی۔۔۔ لیکن ہر ہار عفرا کو یوں چہکتا دیکھ وہ جذبات خود با خود ابھرنے لگتے۔۔۔۔ بن بلائے مہمان کی طرح۔۔۔
کیسے تھی وہ اتنا خوش ۔۔۔ اپنی زندگی میں اتنی مطمیئں اور آسودہ۔۔۔ ماں تو کہتی تھی کہ مکمل خوشیاں کسی کو بھی نہیں ملتیں۔۔۔ ہر کسی کی زندگی میں کوئی نا کوئی امتحان کوئی نا کوئی پریشانی ضرور ہوتی ہے۔۔۔ پر کیا عفرا کی زندگی میں کوئی دکھ تھا۔۔۔ وہ یک ٹک اسکے خوبصورت سراپے کو دیکھتی ایک ہی نہج پر سوچے جا رہی تھی اسکی نگاہ ایک پل کو بھی عفرا سے ہٹنے سے انکاری تھی۔۔۔ دفعتاً باہر سے ڈور بیل کی آوا سنائی دی۔۔۔
لگتا ہے امان آگئے میں دیکھتی ہوں۔۔۔ وہ پرجوش سی اٹھ کر لاوئنج سے بایر بھاگی۔۔۔ صلہ ہنوز حسرت سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔ جب لاوئنج کے دو زینے اترتے ہوئے عفرا کا پاوں بری طرح رپٹا اور وہ پورے قدر سے زمین بوس ہوئی۔۔۔ ایک دلخراش چیخ اسکے حلق سے برآمد ہوئی تھی ۔۔۔ زینے پورے زور سے اسکے پیٹ پر لگے تھے۔۔۔ بازووں میں پہنی چوڑیاں زمین پر لگنے کے باعث کرچی کرچی ہو گئیں تھیں۔۔۔ چہار سو عفرا کی دلدوز چیخیں گھونجنے لگیں تھیں۔۔۔ صلہ گھبرا کر جلدی سے اٹھی۔۔۔ اسکا سانس تک خشک ہو گیا تھا۔۔۔ ماں بعجلت اندر سے بھاگتی باہر نکلیں۔۔۔
صلہ ساکت و جامد رہ گئ تھی۔۔۔ تو کیا واقعی نظر اتنی بری چیز تھی۔۔۔ کیا واقعی اسکی نظر اسکی اپنی ہی بہن کو لگ گئ تھی۔۔۔ ہر لمحہ صلہ کا خون خشک ہو رہا تھا۔۔۔ کیا یہ اسکی وجہ سے ہوا۔۔۔ اسکی سوچیں انہیں چیزوں کے گرد گھوم رہی تھیں۔۔۔ اور قدم جیسے جکڑے گئے تھے۔۔ گویا وہ ایک بھی قدم اٹھنے سے انکاری ہوں۔
******
