khwab e Junoon by Umme Hani readelle50005 Episode 10
Rate this Novel
Episode 10
یہ ایک خوبصورت چمکدار اور روشن صبح تھی۔۔۔۔ ایسے میں بالائی منزل کے ایک کونے پر واقع کچن میں جھانکو تو بالاج ہاف سلیو ٹی شرٹ اور ٹراوزر میں ملبوس کاونٹر ٹاپ کے سامنے کھڑا اپنے ارد گرد مختلف طرح کے چھوٹے بڑے برتن بکھرائے پاس پڑے پیکٹس سے مختلف طرح کی ناشتے کی اشیاء نکال کر برتنوں میں ڈال رہا تھا کہ دفعتاً دور سے ہی اسے کچن میں یہ سب کرتا دیکھ ثانیہ کچن میں آئی۔۔۔
لاو دو میں کرتی ہوں یہ سب تم کمرے میں چلو میں لے کر آتی ہوں۔۔۔ اسنے آگے بڑھتے بالاج کے ہاتھ سے پلیٹ تھامی اور خود پیکٹ سے کوکیز نکال کر اس میں رکھنے لگی۔۔۔۔
بالاج نے چہرا ترچھا کئے آنکھیں چندھی کر کے اسے دیکھا۔۔۔
خیریت۔۔۔ اس عنایت کی وجہ۔۔۔
اب ایسی بھی بات نہیں کہ تین تین بینوں کے ہوتے ہوئے تم دن رات کچن میں گھسے رہو۔۔۔ رات تو فنگشن کی وجہ سے تھک گئے تھے اس لئے۔۔۔ لیکن خیر تم بھی کبھی تعصب کا چشمہ اتار کر دیکھ لیا کرو خیر اب ہم بہنیں اتنی بھی بری نہیں۔۔۔ وہ ایک کے بعد دوسرے برتن میں کھانا نکال رہی تھی۔۔۔ بالاج خاموشی سے سینے ہر بازو باندھے کھڑا اس کایا پلٹ کی وجہ تالاش کر رہا تھا۔۔۔
جاو بھی اب۔۔۔ لا رہی ہوں ناشتہ۔۔۔ اب اتنی بھی بے اعتباری مت دکھاو۔۔۔ وہ اسے ہنوز ایسے ہی کھڑا دیکھ جھنجھلائی۔۔۔
دراصل یہ کایا پلٹ ہضم نہیں ہو رہی اسنے خفیف سا کان کھجاتے ثانیہ کو دیکھا۔۔۔ لیکن خیر جلدی آنا۔۔۔۔ پر اسکی گھوری کو دیکھتا مصلحت کے تحت فورا کچن سے نکل گیا۔۔۔۔ اگلے کچھ ہی منٹوں میں وہ ساری چیزیں دو بڑی ٹرے میں رکھ چکی تھی۔۔۔ ٹرے کا جائزہ لیتی اسنے باہر سے کرن کو آواز لگائی۔۔۔
کیا ہے ثانیہ آپی اب یہ ناشتہ آپکے ساتھ میں اندر لے کر جاوں۔۔۔ کیا یہ آپ نہیں تھی جنہوں نے رات بالاج بھائی سے صاف صاف کہہ دیا تھا کہ ہم سے نہیں ہوتیں انکی بیوی کی جی حضوریاں۔۔۔۔ ثانیہ کے کہنے ہر وہ ٹھیک ٹھاک تپ اٹھتی پاوں پٹخ کر سینے پر ہاتھ باندھتی تیز لہجے میں گویا ہوئی۔۔۔
ہاں پتہ ہے میں نے ہی کہا تھا مگر اب جو کہہ رہی ہوں وہی کرو میرے ساتھ یہ دوسری ٹرے اٹھا کر اندر چلو کیونکہ میں دونوں ٹرے ایک ساتھ نہیں اٹھا سکتی۔۔۔ ثانیہ اسکے قریب ہوتی آنکھیں نکال کر سرگوشانہ غرائی۔۔۔ کرن کو اسکے دوغلے رویے پر جی بھر کر تپ چڑھی۔۔۔
مرتے کیا نا کرتے کے مصداق اسنے ٹرے اٹھائی۔۔۔ ایسے سڑی شکل بنا کر نہیں چہرے پر زرا مسکراہٹ لاو۔۔۔ کچن سے باہر نکلتے ثانیہ نے اسے کہنی مارتے شرگوشی کی۔۔۔ وہ بہن کو گھورتی چہرے پر مضنوعی مسکراہٹ لائی ۔۔۔ ماں کے کمرے میں کھڑی تانیہ نے حیرت سے ان دونوں کو دیکھتے اشارے سے استفسار کیا جسکے جواب میں کرن نے بے بسی و لاعلمی کے ملے جلے تاثرات سمیٹ ناسمجھی سے کندھے اچکاتے آنکھ سے ثانیہ کی جانب اشارہ کیا جبکہ ثانیہ اسے ہاتھ سے حوصلہ رکھنے کا اشارہ کرتی آگے بڑھ گئ۔۔۔
اسلام علیکم صلہ کیسی ہو۔۔۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی ثانیہ دوستانہ انداز میں کہتی آگے بڑھی اور ٹرے جا کر بیڈ کے وسط میں رکھ دی۔۔۔کرن نے بھی اسکی تائید کی۔۔ بالاج جو بیڈ پر نیم دراز موبائل پر انگلیاں چلا رہا تھا فوراً سے سیدھا ہو بیٹھا۔۔۔ جبکہ آئینے کے سامنے لان کے پرنٹڈ سوٹ میں ملبوس میک آپ سے مبرا چہرا لئے کھڑی صلہ اپنے نم بال سلجھا رہی تھی ان دونوں کو کمرے میں آتا دیکھ مسکرا کر پلٹی۔۔۔ واعلیکم اسلام آپی۔۔۔
ماشااللہ بہت پیاری لگ رہی ہو۔۔۔ آجاو ناشتہ کرو۔۔۔ ثانیہ نے اسکے قریب جاتے اسکی تھوڑی پکڑ کر کہا۔۔۔
تم دونوں سکون سے ناشتہ کرو ہم چلتے ہیں۔۔۔ صلہ کے بیڈ پر بیٹھتے ہی وہ کرن کو اشارا کرتی باہر نکل گئ جبکہ کرن بھی اسکے رویے کو سمجھنے کی کوشیش کرتی اسکے پیچھے پیچھے ہو لی۔۔۔۔
*****
اسلام علیکم خالہ۔۔۔ اسلام علیکم آپی۔۔۔ عفرا کچن میں داخل ہوتی خوشگوار انداز میں گویا ہوئی۔۔۔ ارے عفرا بیٹے تم اٹھ گئ۔۔۔ اب کیسی طبیعت ہے تمہاری۔۔۔ خالہ محبت سے کہتیں اسکی جانب بڑھی اور اسکے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر بخار چیک کیا۔۔۔ شکر ہے خدا کا بخار تو اترا۔۔۔
امی آپ عفرا کو لے کر باہر چلیں میں بس ابھی ناشتہ لے کر آتی ہوں۔۔۔ منیبہ مسکرا کر کہتی برتن سیٹ کر کے رکھتی چائے کو جوش آنے پر چائے کپوں میں انڈیلنے لگی۔۔۔
ماں عفرا کو بازو کے حصار میں لئےاپنے کمرے میں ہی آ گئ۔۔۔ کیسی ہے میری بیٹی۔۔۔ انہوں نے محبت سے عفرا کو اپنے ساتھ بیڈ ہر بیٹھایا۔۔۔
بیٹا اس نالائق نے کل رات جو کیا اسکی وجہ سے میں تم سے معافی مانگتی ہوں۔۔۔۔ نہیں خالہ۔۔۔ پلیزززز۔۔۔۔ کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ۔۔۔ خالہ کی بات پر وہ جو اپنے دھیاں سر جھکائے خاموش بیٹھی تھی ٹرپ کر سر اٹھاتی انہیں ٹوک گئ۔۔۔
دفعتاً منیبہ بھی ناشتے کی ٹرے تھامے وہیں آگئ۔۔۔ ناشتہ بیڈ کے وسط میں رکھا اور خود بھی وہیں آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئ۔۔۔۔عفرا بچے یہ تم بھی جانتی ہو کہ امان ایسا نہیں۔۔۔ بہت سلجھا ہوا اور رشتوں کا احترام کرنے والا بچہ ہے۔۔۔۔ لیکن ابھی شاید حالات و واقعات کی بدولت وہ خود بھی بہت الجھا ہوا ہے۔۔۔ میں خود اسکے کان کھینچوں کی۔۔۔ مجھ پر بھروسہ رکھنا بیٹا تم میری بہو نہیں بیٹی ہو مجھے کسی طور منیبہ سے کم نہیں ہو۔۔۔۔ میں اسے تمہارے ساتھ زرا سی بھی زیادتی نہیں کرنے دوں گی۔۔۔
اسے جلد اپنی کوتاہی کا احساس ہو گا اور وہ نادم ہو کر پلٹے گا میں جانتی ہوں اپنے بیٹے کو بس تم اسکی طرف سے اپنا دل کھٹا مت کرنا۔۔۔ وہ محبت سے اسے اپنے حصار میں لئے سمجھا رہی تھیں۔۔۔ جبکہ عفرا بھرپور کوشیش سے ابل ابل باہر آنے کو بے تاب آنسووں پر بند باندھے ہوئے تھی۔۔۔
خالہ۔۔۔ انکا رویہ جیسا بھی ہے۔۔ جس بھی وجہ سے ہے اور وہ اس فیز سے نکلنے میں جتنی بھی دیر لگائیں وہ سب ایک طرف لیکن میری آپ سے محض ایک ہی التجا ہے کہ یہاں اس گھر میں کل رات سے اب تک جو بھی ہوا یا آگے مستقبل میں جو بھی ہو پلیز خدارا وہ اس گھر کی چار دیواری سے باہر نا جائے۔۔۔ اور۔۔۔ اور امی کو تو ان سب معاملات کی بھنک بھی نا پڑے خالہ۔۔۔ وہ پہلے ہی بیمار ہیں وہ ان سب کی بہت ٹینشن لے لیں گی۔۔۔ میں انہیں اپنی جانب سے دکھی نہیں کرنا چاہتی۔۔۔میں نہیں چاہتی کہ انہیں لگے کے انہوں نے میرے بارے میں کوئی غلط فیصلہ لے لیا۔۔۔ یا وہ کچھ غلط سوچیں۔۔۔ خالہ میری ماں نے بابا کی وفات کے بعد بہت دکھ دیکھے ہیں بہت کچھ تنہا جھیلا ہے ہماری پرورش کی خاطر۔۔۔ ہمیں زمانے کی ہر سردوگرم سے بچایا ۔۔۔ ہر جگہ وہ ہماری ڈھال بنی ہیں۔۔۔ لیکن اب انہیں میری طرف سے کوئی دکھ نہیں ملنا چاہیے۔۔۔ سدا وقت ایک سا نہیں رہتا۔۔۔ آج دکھ ہے تو کل سکھ بھی آئے گا لیکن میری ذات سے وابسطہ دکھ میری ماں تک نہیں پہنچنے چاہیے۔۔ سر جھکائے وہ دقت سے گویا ہوتی آخر میں سسک اٹھی تھی۔۔۔ کب سے ضبط کئے آنسو بہہ نکلے تھے۔۔۔۔ اپنی ماں کے لئے اسکا اسقدر حساس ہونا ان دونوں کے دل چیر گیا۔۔۔
بالکل ایسا ہی ہو گا بیٹا۔۔۔ تم بالکل فکر مت کرو ۔۔۔ کل سے اب تک وہ نالائق میرے سامنے نہیں آیا آجائے تو لمحوں میں اسکے سارے کس بل نکال دوں گی۔۔۔۔ اسے اپنا رویہ بدلنا ہو گا میں اسے تمہیں دکھ دینے نہیں دوں گی۔۔۔ اور اگر خدانخواسطہ اسنے اپنی روش نہیں بدلی تو میں بھول جاوں گی کہ وہ میرا بیٹا ہے۔۔۔ میں اپنی بیٹی کیساتھ کھڑی ہونگی۔۔۔ چلو شاباش سب سے پہلے ناشتہ کرو۔۔۔ خالہ نے اسکا حوصلہ بندھاتے اسکی توجہ ناشتے کی جانب مبذول کروائی۔۔۔ منیبہ نے بعجلت ناشتہ اسکے سامنے رکھا تو وہ بھی خاموشی سے ناشتہ کرنے لگی لیکن ذہن میں مسلسل ماں کی فکر ہی چل رہی تھی۔۔
****
یہ سب کیا تھا۔۔۔ اور کس خوشی میں تم دونوں اس مہارانی کے کمرے میں ناشتے کی ٹرے سجا کر لے کر گئ۔۔۔ ثانیہ اور کرن بالاج کے کمرے سے نکل کر ماں کے کمرے میں آئیں تو آتے ہی دروازے میں انکی منتظر کھڑی تانیہ نے کمر پر دونوں ہاتھ رکھتے انہیں آڑے ہاتھوں لیا۔۔۔
اف۔۔ ہو۔۔۔۔ صبر کرو زرا دو منٹ۔۔۔ ثانیہ اسے ہاتھ سے اشارہ کرتی انہیں قدموں پر کمرے سے باہر نکلی اور کچھ ہی دیر میں واپس کمرے میں داخل ہوئی۔۔۔ اسکے ہاتھ میں ایک بڑی ٹرے تھی جس میں مختلف اقسام کی ناشتے کی اشیا موجود تھیں۔۔۔ تانیہ اور کرن منہ کھولے حیرت سے اسے دیکھنے لگیں۔۔۔
کیا سمجھے۔۔۔ وہ ایک بھنور اچکا کر ان سے پوچھتی آگے بڑھی اور ٹرے صوفے کے سامنے موجود میز پر رکھی۔۔۔
یہ کیا۔۔۔ تانیہ میز کے پاس آتی کمر پر ہاتھ رکھے ٹرے کا جائزہ لینے لگی۔۔۔
حلوہ پوری نان چنے۔۔۔ پائے۔۔ نہاری۔۔۔ اور اسنیکس۔۔۔ یہ بھلا ناشتے کی کیا سینس ہوئی۔۔۔ تانیہ الجھی سی صوفے پر بیٹھی۔۔ کہ دفعتاً ناہید بیگم کمرے میں داخل ہوئیں۔۔۔
آئیے ماں ناشتہ کریں۔۔۔ بیٹا تو آپکا پاگل ہو ہی چکا ہے اس جادوگرنی کے پیچھے۔۔۔ اسکے ناشتے کے لئے پوری بارات کا سامان اٹھا لایا۔۔۔ اور اتنی مقدار میں کہ انہیں ناشتہ دینے کے بعد بھی اتنا کچھ بچ گیا۔۔۔ وہ ماں پپر ایک نظر ڈال کر تاسف سے کہتی خود نان توڑ کر کھانے لگی۔۔۔ اور سینس کی تو پوچھو مت۔۔۔ پاگل کو جو کچھ ملا ناشتے میں اٹھا لایا ورنہ اتنی سب چیزوں کے ساتھ کوکیز ناشتے میں کون کھاتا ہے بھلا۔۔۔
اب تم دونوں کو سمجھ آیا کہ میں کچن میں کیوں گی تھی۔۔۔ نوالہ منہ میں ڈالتے اسنے رغبت سے دونوں بہنوں کو کھانا کھاتے دیکھ پوچھا۔۔۔
اگر نا جاتی تو اسنے بچا ہوا ناشتہ باہر فقیر کو دے دینا تھا مگر ہمیں دیکھنے تک کو نا دیتا اتنا ہی وہ اناپرست ہے۔۔۔اب باقی سب تو ٹھیک مگر بھلا کھانے سے کیسی ناراضگی۔۔۔
ویسے مجھے پتہ کیا لگتا ہے امی۔۔۔ یہ لڑکا صلہ کے پیچھے پاگل ہونے کیساتھ ساتھ کنگلا بھی ہو کر رہے گا۔۔۔
پتہ نہیں کونسا کارون کا خزانہ ہاتھ لگا ہے اسکے جو دونوں ہاتھوں سے اس پر لٹا رہا ہے۔۔۔ زبان کیساتھ ساتھ کھانے کے لئے ثانیہ کے ہاتھ اور منہ بھی خوب چل رہا تھا۔۔ اسکے برعکس تانیہ اور کرن خاموشی سے کھانے سے انصاف کر رہی تھیں۔۔۔ جبکہ ناہید بیگم بیڈ کراون سے ٹیک لگائے غائب دماغی سے اسکی باتیں سنتیں کسی غیر مری نقطے کی جانب دیکھ رہی تھیں۔۔۔
*******
ہال کا انتظام خاصا خوبصورت کیا گیا تھا۔۔۔ چھت سے رنگ برنگے برقی قمقمے لٹک رہے تھے جنکا واضح عکس نیچے ماربل لگے فرش پر دکھائی دے رہا۔۔۔ یہ وہی ہال تھا جہاں صلہ اور عفرا کی بارات آئی تھی۔۔۔ آج اسی ہال میں دونوں کے ولیمے کا فنگشن تھا۔۔۔ ایک ہی جگہ پر دو الگ الگ سٹیج بنائے گئے۔۔
ماں ویسے پتہ تو کرو کہیں کوئی ڈکیٹی وکیٹی تو نہیں کر ڈالی تیرے بیٹے نے جو اسکے یہ اللے تللے ہی پورے نہیں ہو رہے۔۔ وہ یہ سب کر کہاں سے رہا ہے۔۔۔ آپکے یا ابا کی طرف سے تو اسے کوئی سپورٹ نہیں پھر۔۔۔ سٹیج کے سامنے لگی گول میز کے گرد کرسیوں پر براجمان تانیہ نے سامنے سٹیج پر نگاہیں مرکوز کئے ماں کی جانب جھک کر سرگوشی کی۔۔۔ پتہ نہیں کب سے ہماری آنکھوں میں دھول جھونک کر پیسے بچا رہا ہو گا۔۔۔ اسکا تھوڑی نا اعتبار کیا جا سکتا ہے۔۔۔ پکا ماں اسکی سیلری کہیں زیادہ ہے اس سیلری سے جو اسنے گھر بتا رکھی ہے۔۔۔ ثانیہ بھی وہاں کے ارینجمنٹس دیکھتی اپنی قیاس آرائی پیش کرنے لگی۔۔۔ سٹیج پر لائٹ گرے کلر کی دیدہ زیب میکسی میں ماہر بیوٹیشن کے ہاتھوں ہوئے میک آپ اور سلور جیولری میں صلہ بہت پیاری لگ رہی تھی۔۔۔ بالاج کے ساتھ بیٹھے وہ ہستے ہوئے کوئی بات کر رہی تھی جسے انکے بالکل سامنے موجود ٹیبل پر بیٹھے لوگوں کو دیکھنا محال ہو رہا تھا۔۔۔
اسی سٹیج کے ساتھ بنے دوسرے سٹیج پر عفرا پیچ کلر کی میکسی میں ملبوس بے تابانہ شدت سے اپنے ہمسفر کا انتظار کر رہی تھی۔۔۔ وہ وہاں سٹیج پر تنہا بیٹھی تھی اور پچھلے آدھے گھنٹے سے بے چینی سے امان کی منتظر تھی جسکا کہیں کوئی اتہ پتہ ہی نا تھا۔۔۔ وہ ہر ممکن کوشیش کئے اپنے چہرے کے تاثرات کو قابو کئے ہوئے تھی۔۔۔ ورنہ دل اندر سے سوکھے پتے کی مانند کانپ رہا تھا۔۔۔ کہ اگر وہ نا آیا تو۔۔۔ وہ لوگوں میں تماشا نہیں بننا چاہتی تھی۔۔۔ ماں ابھی تک ہال میں نہیں آئی تھی اور وہ شدت سے دعا گو تھی کے ماں کے آنے سے پہلے امان آ جائے۔۔۔ بس کسی طرح ماں کے سامنے اسکا بھرم قائم رہ جائے۔۔۔ خالہ تو کہیں دکھائی نہیں دے رہی تھی۔۔۔ البتہ منیبہ ہر کچھ دیر بعد اسکے پاس چکر لگاتی اسے حوصلہ دے جاتی کہ بس امان پہنچ ہی رہا ہے۔۔۔ وہ خود بھی مہمانوں سے ملنے اور انہیں رسیو کرنے میں الجھی ہوئی تھی لیکن عفرا کو تو اب منیبہ کی تسلیاں بھی کھوکھلی محسوس ہونے لگی تھیں۔۔۔ اسکا دل چاہا کہ وہیں بیٹھ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دے۔۔۔
*****
آیا نہیں امان ابھی تک۔۔۔ نزہت بیگم بیٹی کو ہال کے ایک نسبتاً خاموش گوشے میں لیجا کر غرائیں۔۔۔ انکا اس وقت غصے سے برا حال تھا۔۔۔ ہال میں تقریباً سبھی مہمان پہنچ چکے تھے اور محترم کا کوئی اتہ پتہ ہی نا تھا۔۔۔
ماں وہ۔۔۔ اسکی وقالت میں تو ایک لفظ بھی منہ سے مت نکالا منیبہ۔۔۔ ورنہ اسکے ساتھ ساتھ تم بھی مجھ سے کچھ سخت سست سن لو گئ۔۔۔ وہ اتنا نافرمان کب سے ہوگیا۔۔۔ اب وہ اس طریقے سے میرے سر پر خاک ڈالے گا۔۔۔ میں کیا جواب دوں گی دنیا کو۔۔۔ اپنی بیوہ بہن کو کہ اگر اسکی بیٹی باغی ہوگئ تو میرا بیٹا بھی نافرمان ہو گیا ہے جو ایک بہن کی سزا دوسری بہن کو دینا چاہتا ہے۔۔۔
آج تو واقع نزہت بیگم جلال میں تھیں کہ کہیں سے انکے سامنے امان آجاتا تو وہ اسکا منہ ہی توڑ ڈالتیں۔۔۔
ماں کے غصے کو دیکھتی منیبہ خاموش ہی رہی۔۔۔ ماں ایک منٹ میں نعمان سے پوچھتی ہوں کہ وہ کہاں رہ گئے۔۔۔ وہ ایک نظر ماں کو دیکھتی ہاتھ میں تھامے موبائل پر نعمان کا نمبر ڈائل کرنے لگی۔۔۔
****
دروازے کی جانب دیکھتی عفرا کی منتظر نگاہیں ہر بار ہی ناکام لوٹ رہی تھیں۔۔۔ دل اس ستم گر کی غیر موجودگی کے باعث زور زور سے ڈھرک رہا تھا۔۔۔ دل مسلسل ایک بے چینی کے حصار میں تھا۔۔۔ لیکن دل دھک سے تب رکا جب اسنے ہال کے مین دروازے سے صوبر سی اپنی ماں کو اندر داخل ہوتے دیکھا۔۔۔ وہ اتنی حواس باختہ ہوئی کے ماں سے ملنے کی خوشی تک کو محسوس نا کر پائی۔۔۔
اسکا دل چاہا کہ کاش اسے کوئی منتر آتا ہو تو وہ اسے پڑھ کر یہاں سے غائب ہی ہو جائے۔۔۔ ماں کے سٹیج کی جانب بڑھتے ہر قدم پر اسے اپنا دل بند ہوتا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔
ماں پہلے صلہ کے سٹیج کی جانب بڑھی۔۔۔ صلہ اور بالاج کو پیار دینے کے بعد صلہ کا ماتھا چوم کر انہوں نے چند ایک باتیں کیں اور سٹیج سے اتر آئیں۔۔۔ انکے ساتھ محلے کی ایک بچی تھی جو انکے پاس قرآن پاک پڑھنے آتی تھی۔۔۔ اب ماں کا رخ عفرا کی جانب تھا۔۔۔ اسکا چہرا دھواں دھواں ہو رہا تھا۔۔۔ بامشکل وہ خود کو کمپوز کرتی چہرے پر کھینچ تان کر ایک مسکراہٹ لانے میں کامیاب ہوپائی ایسی مسکراہٹ جسکا ساتھ اسکی آنکھیں نہیں دے رہی تھیں۔۔۔۔
ماشااللہ۔۔۔ اللہ نظر بد سے بچائے ۔۔ کیسا ہے میرا بچہ۔۔۔ ماں نے اسکا پھول سا چہرا ہاتھوں کے پیالے میں بھرتے اسکے ماتھے کا بوسہ لے کر اسے سینے سے لگایا تو اسکا دل چاہا کہ ڈھاریں مار مار کر روتی سب ماں سے شیئر کر ڈالے مگر وہ انکے سینے سے لگی لب آپس میں سختی سے پیوست کئے ہوئے تھی۔۔۔
بیٹا امان کہاں ہے۔۔۔ ماں نے ادھر ادھر دیکھتے استفسار کیا تو وہ اور شدت سے ان سے لپٹی جیسے اس سوال سے لاشعوری طور پر بچنا چاہ رہی ہوں۔۔۔
اسلام علیکم خالہ میں یہاں ہوں۔۔ ماں کے عقب سے ابھرتی بھاری مردانہ آواز نے گویا عفرا کے تن مردہ میں نئ روح پھونک دی ہو۔۔۔ وہ جھٹکے سے ماں سے پیچھے ہوتی حیرت سے آواز کی جانب دیکھنے لگی جہاں وہ بلیک پینٹ کوٹ میں ملبوس چہرے پر مسکراہٹ سجائے جھک کر ماں سے پیار لے رہا تھا۔۔۔ صلہ نے بے ساختہ اپنے رب کا شکر ادا کیا اور نڈھال ہوتے وجود کے ساتھ وہیں اپنی جگہ ہر بیٹھتی سر سیٹ کی پشت سے لگاتی آنکھیں مونڈ گئ۔
ناجانے یہ زندگی اتنی مشکل کیوں تھی اور ابھی آگے پتہ نہیں یہ زندگی اسے کن کن آزمائشوں میں دھکیلنے کا ارادہ رکھتی تھی۔۔۔۔ وہ تصور کرسکتی تھی کہ بہن کے ہاتھوں اگائے گئے کانٹے اسے اپنے ہاتھوں سے اکھاڑنے پڑ رہے تھے اور اس کوشیش کی شروعات میں ہی وہ تھکنے لگی تھی۔۔۔ اسکے ہاتھ لہولہان ہونے لگے تھے ۔۔۔ ناجانے آگے ابھی کیا کیا ہونا باقی تھا۔۔۔
****
