Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 19

موسم خاصا خوشگوار تھا سر شام ہی ٹھنڈی میٹھی ہوائیں چلنے لگی تھیں۔۔۔ جاتی گرمیوں کے دن تھے اور گرمی کا زور ٹوٹنے لگا تھا۔۔۔ دن میں تو گرمی ہوتی لیکن راتیں ٹھنڈی ہونے لگی تھیں۔۔۔۔ ایسے میں عفرا تیار سی امان کا انتظار کر رہی تھی۔۔۔ لاوئنج کے دروازے کھول کر پردے ہٹا دیئے گئے تھے اور باہر سے آتی ٹھنڈی ہواوں کے باعث پنکھے کی ہوا بھی خاصی ٹھنڈی محسوس ہو رہی تھیں۔۔ ایسے میں ماں پستہ کلر کے چکن کے سوٹ میں ملبوس سفید دوپٹہ سر ہر اوڑھے صوفے ہر پر سکون انداز میں بیٹھیں مسکراتے ہوئے بیٹی کی تیاریاں ملاخظہ کر رہی تھیں۔۔۔ جسکا ایک پاوں کچن میں تھا تو دوسرا لاوئنج میں جہاں وہ اپنا سامان اٹھا اٹھا کر بیگ میں رکھ رہی تھی۔۔۔

ماں کی طبیعت اب خاصی بہتر تھی اس لئے آج امان اسے لینے آنے والا تھا۔۔۔ وہ تقریباً ہفتہ بھر ماں کے پاس رک کر آج اپنے گھر جا رہی تھی۔۔۔ اس ایک ہفتے میں امان نے اس سے پل پل کا رابطہ رکھا تھا۔۔ روز رات کام سے واپسی پر وہ یہاں چکر لگا کر جاتا۔۔ فون پر بھی عفرا سے رابطے میں رہتا۔۔۔ ماں کا چیک آپ کروانا ہوتا یا کوئی دوائی لانی ہوتی عفرا تک بھول جاتی مگر وہ نا بھولتا ۔۔۔ وہ ہر ہر کام میں پیش پیش ہوتا۔۔۔ عفرا کے دل میں اسکی قدر و منزلت کئ گنا بڑھ چکی تھی۔۔۔

دفعتاً دروازے پر دستک کی آواز پر عفرا کے بیگ میں چیزیں ڈالتے ہاتھ تھمے وہ سب کچھ وہیں چھوڑ بھاگ کر دروازے کی جانب لپکی۔۔۔

دروازہ کھلتے ہی سامنے وہی موجود تھا۔۔۔ جینز پر نیلی لائینیگ شرٹ زیب تن کئے۔۔۔ بال پیچھے کو جمائے وہ ہمیشہ کی طرح اسے بہت پیارا لگا۔۔۔

آئیے۔۔ اسکے سلام کا جواب دیتے عفرا نے پیچھے ہٹ کر اسکے لئے راستہ چھوڑا۔۔۔

اندر داخل ہوتے وہ ایک ہی نگاہ میں عفرا کا مکمل جائزہ لے چکا تھا جو نارنجی رنگ کی گھٹنوں سے تھوڑی نیچے تک آتی فراک زیب تن کئے اسی کے ہم رنگ آنچل لاپرواہی سے گلے میں ڈالے ہاف بالوں کو کیچر میں مقید کئے ہلکے پھلکے میک آپ میں اسے ہمیشہ سے زرا ہٹ کر لگی۔۔۔

اندر لاوئنج میں آکر خالہ سے ملنے کے بعد وہ وہیں انکے پاس بیٹھ کر باتیں کرنے لگا۔۔۔

عفرا بچے کھانا لگاو۔۔۔۔

نہیں خالہ میں کھانانہیں کھاوں گا۔۔۔ اگلی دفعہ سہی۔۔ ابھی مجھے عفرا کو گھر چھوڑ کر کہیں ضروری جانا ہے۔۔۔ خالہ کی بات سن کر وہ بدقت گویا ہوتا انہیں ٹوک گیا۔۔۔ جبکہ اسکی بات سن کر کچن کی جانب بڑھتی عفرا ٹھٹھک کر رکی۔۔۔

ماتھے پر بل سجائے وہ ایک جھٹکے سے پلٹی۔۔۔

اور کروائیں آپ داماد کی خدمت میں تیاریاں۔۔۔ اسکا مخاطب ماں تھی اسی لئے امان کو بھرپور نظر انداز کئے ماں کی جانب رخ کئے گویا ہوئی۔۔۔ پورے چار گھنٹے آپ نے مجھے کچن میں کھڑا رکھ کر اپنے داماد کے لئے اپنا فرمائشی پروگرام تیار کروایا ہے۔۔۔ اور یہاں یہ قدر ہے ان سب کی۔۔۔ موصوف کے پاس تو وقت ہی نہیں۔۔۔ اسے ناجانے کیوں اسقدر غصہ آ رہا تھا۔۔۔ وہ ساری شام امان کے پسندیدہ کھانے پکاتی رہی تھی اور اسکے ایک تردیدی جملے نے جیسے اسے غصہ ہی دلا کر رکھ دیا تھا۔۔۔

امان چونک کر اس شعلہ جوالہ بنی بندی کو دیکھنے لگا۔۔۔

عفراااا۔۔۔ ماں تو عفرا کا یہ روپ دیکھ حیرت زدہ رہ گئ۔۔۔ انکی دھیمی آواز میں بات کرنے والی بیٹی آج کیسے بات کر رہی تھی۔۔۔ یہ بھی شاید امان کا ہی پچھلے چند دنوں میں بخشا مان تھا جو وہ یوں شکوے کرنے لگی تھی۔۔۔

اتنا ہی کم وقت تھا آپکے پاس تو آپ مجھے لینے ہی مت آتے ۔۔ میں خود آجاتی امان صاحب۔۔۔ اور ایسا تھوڑی نا پہکی دفعہ ہوتا۔۔۔کیوں آپ نے اتنا تکلف کیا۔۔۔ اب کے وہ براہ راست امان کی آنکھوں میں دیکھتی ٹھنڈا طنز کرتی گویا ہوئی ۔۔۔ جبکہ امان خود حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔ اسکی ایک سیدھی سی بات کا اتنا غیر متوقع ردعمل۔۔۔۔ اسے اپنی ہی کہی بات گلے پڑتی محسوس ہوئی۔۔۔

عفرا یہ کیا طریقہ ہے شوہر سے بات کرنے کا۔۔۔ عفرا کا لہجہ دیکھ ماں غصے میں آتی اسے سخت تادیبی نگاہوں سے دیکھتیں گویا ہوئیں تو عفرا سر جھٹکتی کچن میں چلے گئ۔۔۔ ماں کے سامنے جتنا وہ غصے میں بول چکی تھی کچھ بعید نا تھا کہ مزید کچھ کہتی تو ماں امان کے سامنے ہی جوتا اتار لیتی۔۔۔

بیٹا وہ۔۔۔

ویسے خالہ دراصل مجھے اندازہ نہیں تھا کہ کھانا آپکی باگڑبلی نے چار گھںٹے کچن میں جھونک کر بالخصوص آپکے داماد کے لئے تیار کیا ہے ۔۔۔ پتہ ہوتا تو میرے باپ کی توبہ جو میں انکار کرتا۔۔۔

ماں عفرا کے وہاں سے جانے کے بعد پشیمانی سے وضاحت دینے والی تھی جب وہ بنا انکی بات سنے انکے قریب جھکتا رازدرانہ انداز میں کہتا ہاتھ کانوں کو لگانے لگا۔۔۔ خالہ اسکی اس ڈرامائی حرکت پر دل سے مسکرا دی۔۔۔

*****

کچھ ہی دیر میں عفرا نے کھانا ٹیبل پر لگا دیا۔۔۔ وہ تینوں گول میز کے گرد بیٹھے خاموشی سے کھانا کھا رہے تھے جب اسے امان کی آواز سنائی دی۔۔۔

خالہ آپ نے آج عفرا کا میرے ساتھ رویہ دیکھا نا۔۔۔۔ یہ ایسے ہی کرتی ہے میرے ساتھ۔۔۔۔ مانا کے شروع میں مجھ سے غلطیاں ہو گئ مگر میں نے احساس ہوتے ہی اس سے صلح کرنی چاہی مگر اسنے صاف انکار کر دیا۔۔۔ خالہ یہ ایسے ہی ماں کے سامنے میری شکایتیں لگاتی ہے۔۔۔ اور آپکو تو پتہ ہے ماں کو یہ کتنی عزیز ہے اب اسکے سامنے ماں میری کہاں سنتی ہیں۔۔۔ وہ تو بس اسے ہی صحیح کہتی ہیں۔۔۔ بس یہ ہر وقت انہیں میرے خلاف بھڑکائے رکھتی ہے ۔۔۔ خالہ یہ غلط بات ہے نا ۔۔۔

عفرا نے حیرت و انبساط سے جھٹکے سے سر اٹھاتے ہونق بن کر اسے دیکھا۔۔۔ جو چہرے پر مسکینیت طاری کئے دنیا کا سب مظوم انسان بنا اسکی ماں سے اسکے ناکردہ مظالم کی داستان سنا رہا تھا۔۔۔۔

اللہ۔۔۔ کتنے جھوٹے ہیں آپ امان۔۔۔ امی یہ جھوٹ بول رہے ہیں۔۔۔ سراسر جھوٹ۔۔۔یہ ایک نمبر کے جھوٹے ہیں ۔۔۔ اور خالہ چھوٹی بچی نہیں ہیں بلکہ آنکی حرکتیں۔۔

خاموش ہو جاو عفرا۔۔۔۔ شوہر سے بات کرنے کا یہ کونسا طریقہ ہے۔۔۔ تم نے تو مجھے بہت مایوس کیا عفرا۔۔۔ کیسے منہ پھاڑ کر اسے جھوٹا کہہ رہی ہو۔۔۔ وہ بھی میرے ہی سامنے۔۔۔ یہ ہے میری تربیت۔۔۔ ماں کو تو حیرت ہو رہی تھی آج عفرا کے طرز دیکھ کر ۔۔

سامنے ماں تھی اسی لئے وہ ایک نظر بے بسی سے انہیں دیکھ کر اوردوسری نظر امان کو دیکھ کر جھٹپٹا کر رہ گئ۔۔۔ جو بظاہر سنجیدہ صورت بنائے بیٹھا تھا مگر اسکی بولتی شریر نگاہیں مسلسل عفرا کا خون کھولا رہی تھیں۔۔۔۔

خبردار عفرا خبردار جو آگر مجھے اب دوبارہ کبھی تمہاری شکایت ملی تو۔۔۔ ماں کے انگلی اٹھا کر وارن کرنے پر وہ جھلملاتی نگاہیں جھکا کر دانت پیستی بیٹھی رہی۔۔۔ دفعتا دماغ میں ایک کوندا لپکا تو وہ جھٹکے سے سیدھی ہو کر بیٹھتی امان کو دیکھنے لگی۔۔۔

اگلا لمحہ امان کے لئے بڑا ہی غیر متوقع تھا۔۔۔

امان سوری۔۔۔ میں اپنے کئے پر بہت شرمندہ ہوں پلیز آپ میری باتوں کو میری نادانی سمجھ کرمجھے معاف کر دیں۔۔۔ اماں جو پانی کا گلاس تھامنے کے لئے ہاتھ بڑھا رہا تھا عفرا ایک ہی جھٹکے میں اسکا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں سے تھامتی لجاہت سے گویا ہوئی۔۔۔ امان تو شاک کی کیفیت میں اسکا یہ روپ دیکھ رہا تھا مگر جیسے ہی اسے اپنے ہاتھ کی پشت پر اسکے تیکھے نوکیلے ناخنوں کی چبھن محسوس ہوئی وہ ایک بھنور اچکا کر اسے دیکھتا اسکا سارا مقصد سمجھ گیا جو بظاہر لجاہت سے مگر آنکھوں میں غصے کا ایک جہان آباد کئے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔

عفرا نے واضح ماں کی آنکھوں میں سکون کی لہریں سرائیت کرتی دیکھیں۔۔۔ مگر اگلا لمحہ اسکے لئے بھی نہایت غیر متوقع تھا۔۔۔

آہ باگڑ بلی۔۔۔ یہ کیا کیا۔۔۔ مجھے زخمی کر ڈالا۔۔۔ امان نے اپنا ہاتھ اسکی گرفت سے کھینچتے تکلیف کے آثار چہرے پر سجائے ہاتھ ہوا میں اٹھایا جہاں واضح عفرا کے نوچنے کے نشانات تھے۔۔۔

عفرا کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔۔

وہ امان سے اتنی حماقت کی توقع نہیں رکھتی تھی کہ وہ یوں اسکا پول ماں کے سامنے کھول دے گا۔۔۔

امی۔۔۔ اسنے منمناتی آواز میں کہتے تھوک نگل کر آہستہ سے آنکھوں کو حرکت دیتے ماں کی جانب دیکھا جنکا صدمے اور غصے سے برا حال تھا۔۔۔ انکا ہاتھ جوتے کی طرف جاتا دیکھ وہ اچھل کر اپنی جگہ سے اٹھی ۔۔۔

میں باہر بائیک کے پاس آپکا انتظار کر رہی ہوں جلدی آئیں۔۔۔ وہ ایک ہی جست میں صوفے سے اپنی چادر اٹھاتی گرتی پڑتی باہر کو بھاگی۔۔۔ وہ امان کے سامنے ماں کے ہاتھوں اپنی اتنی عزت افزائی افورڈ نہیں کر سکتی تھی۔۔۔۔جبکہ اسکی جلد بازیاں ملاخظہ کرتے امان بڑی دقت سے اپنی مسکراہٹ ضبط کئے رہا۔۔۔

خالہ میں مزاق کر رہا تھا۔۔۔ وہ ایسی ہرگز نہیں ۔۔۔ اسے آپ مجھ سے بہتر جانتی ہیں۔۔۔ بس میں اسے تنگ کر رہا تھا۔۔۔ پچھلے دنوں میری ہی بدولت وہ بہت گم صم رہنے لگی تھی اب کم از کم غصہ تو نکال رہی تھی۔۔۔ خالہ سے ملتے وقت وہ انسے سرگوشانہ گویا ہوا۔۔۔ ماں نے اسے محبت سے دیکھتے اسکے سر پر ہاتھ پھیرتے اسے دعائیں دیں۔۔۔

بس اسے یہ مت بتائیے گا خالہ یہ ہم دونوں کا سیکرٹ ہے۔۔۔ ان دونوں کی یہ بچگانہ حرکتیں دیکھ ماں دل سے مسکرا دیں۔۔۔

*****

صبح سے سوئی صلہ کی آنکھ دوپہر دو بجے کے قریب جا کر کہیں کھلی۔۔۔۔ آنکھیں کافی دیر تک روتے رہنے کی چغلی کھا رہی تھیں۔۔۔ جبکہ سر گول گول گھوم رہا تھا۔۔۔ صبح سے بھوکی تھی اور اب نقاہت اور کمزوری سے چکر آ رہے تھے۔۔۔ پہلے تو زرا دل نا چاہا باہر جا کر ان سب کی شکلیں دیکھنے کو مگر جب پیٹ نے مزید اجازت نا دی تو دل کڑا کرتی اٹھ بیٹھی۔۔۔

وہ کیوں بھلا منہ چھپا کر کمرا نشین ہوئی رہتی۔۔ جوتا اڑس کر اسنے کمرے کا دروازہ وا کیا تو بریانی کی شاندار خوشبو نتھنوں سے ٹکرائی۔۔ غالباً تائی جان نے بریانی پکائی تھی۔۔۔ بھوک کچھ مزید چمک اٹھی۔۔ انا عزت نفس سب کچھ سائیڈ پر رکھتی وہ ہر کسی کونظر انداز کرتی سیدھا کچن میں گئ چولہے پر ہی دیگچا پڑا تھا۔۔۔

اسنے ریک سے پلیٹ اٹھائی اور پلیٹ بھر کر بریانی ڈالنے کے بعد پانی کا گلاس لیا اور باہر کی جانب بڑھی۔۔۔ اپنے کمرے سے اسے دیکھتی تائی جان نے اسکی اس حرکت کو نظر انداز کیا کہ صبح سے بھوکی تھی وہ البتہ کالج سے واپس آئی کرن کا ایسا کوئی ارادہ نا تھا۔۔۔

مفت خورے کام چور لوگ۔۔۔ پکی پکائی چیزیں دیکھ کر اکڑیں بھی ٹوٹ جاتی ہیں۔۔چچ۔۔چچ۔۔۔ صلہ کچن کے دروازے سے باہر نکل رہی تھی جبکہ کرن اندر داخل ہوتی چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ سجائے اسے طنز کرنے سے باز نا آئی۔۔۔

صلہ نے بامشکل ضبط کرتے اسکا یہ طنز ہضم کیا کہ فلحال نقاہت اور کمزوری اسے مقابلہ کرنے کی بھی اجازت نا دے رہے تھے۔۔۔ وہ غصیلی نگاہوں سے اسے گھور کر اپنے کمرے کی جانب بڑھی اور کھانا کھا کر اسنے پیٹ کی آگ بھجتی محسوس کی تو بے ساختہ رب کا شکر ادا کرتی وہیں دوبارہ سو گئ کیونکہ اسے اپنا جسم بے جان ہوتا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔

******

صلہ۔۔۔ اٹھو صلہ۔۔۔ یار میری طرف تو دیکھو۔۔۔ بتاو تو صحیح کہ ہوا کیا ہے۔۔۔ صلہ کو دور کسی کھائی سے آوازیں آتی محسوس ہو رہی تھیں۔۔۔ ساتھ ہی اسے اپنے بالوں میں ایک لمس محسوس ہو رہا تھا۔۔۔ اسنے بڑی دقت سے اپنی جلتی آنکھیں کھول کر دیکھا۔۔۔ بالاج اس پر جھکا اسکے بال سہلاتا اسے جگا رہا تھا۔۔۔ اسے دیکھتے ہی صلہ کی آنکھیں لبا لب پانیوں سے بھرنے لگی۔۔۔۔

آج شام آفس سے واپسی پر ابا نے بالاج کو اپنی دکان پر بلایا تھا اور وہیں اسے ابا کی زبانی آج گھر میں ہوئے جھگڑے کا علم ہوا۔۔۔ ابا نے اسے کافی دیر تک پاس بیٹھا کر بہت کچھ سمجھایا تھا۔۔۔ کہ وہ جس مقام پر ہے وہاں اگر بیوی کا ساتھ دے گا تو ماں اسکے خلاف ہو جائے گی اور اگر غلطی سے بھی اسنے ماں کا ساتھ دیا تو بیوی بدظن ہو جائے گی۔۔۔

اور ساس بہو کی لڑائیاں ازل سے چلتی آ رہی ہیں اور ابد تک چلتی رہیں گی۔۔۔ اس لئے وہ ساس بہو کے معاملے کو ان دونوں پر چھوڑ دے۔۔۔ گھر کے ہر چھوٹے بڑے معاملے میں دخل اندازی بند کر کے اعتدال کا راستہ اپنائے اور اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھائے۔۔۔

وہ خاموشی سے باپ کی باتیں سنتا رہا تھا کہ ابھی وہ اپنی کسی پریشانی میں مبتلا تھا لیکن اب صلہ کی حالت دیکھ کر اسکے دل پر ہاتھ پڑا تھا جو بخار میں پھنک رہی تھی۔۔

اسے دیکھتے ہی صلہ اسے صبح کی ساری بات بتانے لگی۔۔۔

بس صلہ یار خاموش ہو جاو۔۔۔ مت کرو خود کو ہلکان۔۔۔ تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔ چلو اٹھو تمہاری دوائی لے کر آئیں۔۔۔

وہ جتنے آنسو صاف کرتی اتنے ہی مزید نکل آتے۔۔۔ بالاج نے اسے سہارے سے کھڑا کرتے اس پر چادر اوڑھائی اور اسکا ہاتھ تھام کر ماں کو بتاتا گھر سے نکل گیا۔۔۔

لیکن ڈاکٹر کے پاس چیک آپ کے دوران انہیں جو خبر معلوم ہوئئ اسنے ان دونوں کے چہروں پر شگوفے کھلا دیئے۔۔۔ وہ امید سے تھی۔۔۔ انکی فیملی مکمل ہونے والی تھی۔۔۔ ڈاکٹر نے انہیں ڈھیروں نصیحتوں کے بعد دوائیوں کا پرچہ تھمایا۔۔۔ واپسی پر دونوں بہت خوش تھے ۔۔۔ اور صلہ کے چہرے پر صبح کی کسی بات کا شائبہ تک نا تھا۔۔۔۔

******