khwab e Junoon by Umme Hani readelle50005 Episode 34
Rate this Novel
Episode 34
گھر پہنچتے پہنچتے امان کو رات کے بارہ بج گئے تھے۔۔۔ ماں اور عفرا وہیں کھلے صحن میں اسکا بے صبری سے انتظار کر رہی تھیں۔۔۔
امان نے آکر بائیک کھڑی کی اور مسکراتے ہوئے ان دونوں کی طرف بڑھا۔۔۔
ماں نے اسکا ماتھا چومتے اسے ہزاروں دعاوں سے نوازا۔۔۔۔وہ بیٹے کی کامیابی پر پھولے نہیں سما رہیں تھیں۔۔۔
امان آپ جلدی سے فریش ہو کر آئیں میں آپکے لئے کھانا لگاتی ہوں۔۔۔ عفرا امان کا تھکن زدہ چہرا دیکھتی کہہ کر بعجلت کچن کی جانب بڑھی جبکہ اب تو بھوک سے اسکا بھی برا حال تھا۔۔۔ صبح ناشتے کے بعد سے اسنے محض دو تین کپ چائے ہی پی تھی۔۔۔
ماں اسکا کندھا تھپتھپا کر اندر بڑھ گئیں جبکہ امان فریش ہونے چلا گیا۔۔۔
کچھ دیر بعد جب وہ فریش ہو کر تولیے سے بال رگڑتا کمرے میں آیا تو عفرا کمرے میں ہی کھانا لے آئی۔۔۔
امی کیا کر رہی ہیں۔۔۔ وہ بال بنا کر اسکی جانب بڑھآ۔۔۔
وہ آپ کے انتظار میں اتنی دیر تک جاگ رہی تھیں حالانکہ وہ عشاء کے فوراً بعد سو جاتی ہیں ۔۔۔ میں نےان سے کہابھی کہ آپ سو جائیں مگر وہ جب تک بیٹے کو دیکھ نا لیتیں کیسے آرام کرتیں۔۔۔ اب آپ سے مل لیا آپکو دعائیں دے دیں تو اب آرام کر رہی ہیں۔۔۔
وہ مسکرا کر کہتی کاوئچ کے سامنے میز کھینچتی اس پر کھانا رکھ رہی تھی۔۔۔
امان بھی اسکے پاس ہی آ کر بیٹھا۔۔۔
سوری عفرا تمہیں آج ڈنر کروانے کا وعدہ پھر ادھورا رہ گیا۔۔۔ وہ کان کھجاتا شرمندہ سا گویا ہوا۔۔۔
کوئی بات نہیں ہم یہیں ڈنر کر لیں گے۔۔۔ ویسےبھی میں نے آپکی پسند کا ڈنر بنایا ہے کیونکہ مجھے پتہ ہے کہ آپ نے آج پھر سے لنچ میں ڈنڈی ماری ہے۔۔۔
ایک منٹ ایکک منٹ ایک منٹ۔۔۔۔ کیا بولا تم نے۔۔۔ ہممممم لنچ کر لیتے ہیں۔۔۔ مطلب۔۔۔۔
کیا تم نے بھی ابھی تک لنچ نہیں کیا۔۔۔ وہ اسکی بات کاٹتا انگلی اٹھا کر نافہم انداز میں گویا ہوا۔۔۔ البتہ ماتھے پر بھی شکنوں کا جال بچھنےلگا تھا۔۔۔ وقت دیکھا ہے تم نے کیا ہو رہا ہے۔۔۔
اچھا جی اب مجھے یوں مت گھوریں۔۔۔ ایک ہی چیز آپ کے لئے الگ اور میرے لئے الگ کیسے ہو سکتی ہے۔۔۔ اتنے متضاد اصول آپ کیسے بنا سکتے ہیں۔۔۔ وہ اسکی گھوریاں دیکھتی منہ بنا کر گویا ہوئی۔۔۔
دیکھو عفرا میں تو۔۔۔
اچھا بس بس۔۔۔ پہلے ہی بہت بھوک لگی ہے۔۔۔ کھانا کھائیں اور مجھے بھی کھانے دیں۔۔۔
تین گھنٹے کچن میں سڑ کر کھانا بنایا ہے یہ نہیں کہ زرا تعریف ہی کر دیں۔۔۔ بس گھورنا ہی آتا ہے۔۔۔ وہ سرعت سے اسے ایک لمبا لیکچر دینے سے ٹوکتی منہ بنا کر بڑبڑاتی کھانا کھانے لگی۔۔۔ جبکہ اسکی اس حرکت پر امان کے ہونٹوں کو مسکراہٹ چھو گئ۔۔۔
اسنے اب کھانے کا تفصیلی جائزہ لیا تھا سب کچھ واقعی اسکی پسند کو مدنظر رکھ کر بنایا گیا تھا۔۔۔
کھانا تو واقع بہت مزے کا بنایا ہے میری جنگلی بلی نے۔۔۔ وہ قورمے کے ساتھ پہلا نوالہ لیتے ہی شرارت سے اسکی گال کھینچتا گویا ہوا۔۔۔
آہ۔۔۔ اسنے رکھ کر امان کے ہاتھ پر مارتے اپنا گال اسکی گرفت سے چھڑوایا۔۔۔
اوہ تو جنگلی بلی فارم میں آگی۔۔۔ اسکے کہنے کی دیر تھی کے عفرا کے خونخوار نگاہوں سے گھورنے پر وہ منہ پر انگلی رکھتا شرافت سے کھانا کھانے لگا۔۔
Thanks for this precious diner princess….
وہ کھانا کھا چکے تو امان نے عفرا کو برتن سمیٹتے دیکھ اسکے گرد حصار قائم کرتے اسکے سر سے اپنا سر ٹکرایا۔۔۔
نہیں نہیں آپ ڈانٹ ہی لیں مجھے۔۔ وہ دانت پیستی گویا ہوئی۔۔۔
اچھا چلو چھوڑو اس بات کو ورنہ بحث شروع ہوئی تو صبح تک چلتی رہے گی۔۔۔ ویسے بھی میں اپنی جنگلی بلی کے ساتھ مقابلے بازی میں کبھی پورا نہیں اتر سکتا۔۔۔ امان نے مسکراہٹ دابتے اسکی ناک دبائی۔۔۔
اچھا نا یہ برتن رکھ کر آ کر میرا سر دبا دو بہت درد کر رہا ہے۔۔۔ وہ عفرا کو پھر سے کچھ کہنے کے لئے منہ کھولتا دیکھ گویا ہوا۔۔۔ عفرا اسکی بات سن کر خاموشی سے برتن سمیٹٹی کمرے سے نکل گئ جبکہ وہ خود بھی بستر کی جانب بڑھا۔۔۔
*****
اس روز سے صلہ کی یہ ہی روٹین تھی۔۔۔ بالاج صبح جاتا ہوا اسے نیچے اسکی ماں کے پاس چھوڑ جاتا اور واپسی پر اسے اپنے ساتھ اوپر لیتا ہوا آتا۔۔۔
اس سے صلہ کو کافی سہولت ہو گئ تھی۔۔۔ ماں کی آغوش میں اسے ویسے ہی بڑا سکون ملتا۔۔۔ یہاں وہ آسانی سے اپنا یوٹیوب پر کام بھی کر لیتی۔۔ وقت پڑ لگا کر اڑ رہا تھا۔۔۔ اسکا آخری مہینہ چل رہا تھا۔۔۔ آج کل اسکی طبیعت ویسے ہی بہت خراب رہتی تھی اوپر سے وہ سٹریس بھی بہت لے رہی تھی۔۔۔
یوٹیوب پر پچھلے چھ مہینوں میں اسنے اپنی ہر ٹرِک آزما لی تھی لیکن چینل تھا کہ چل کر ہی نا دے رہا تھا۔۔۔
چھ چھ گھنٹے لگاتار کام کرنے کے بعد بھی اسکے ویوز ہوتے دس یا زیادہ سے زیادہ پندرہ۔۔۔۔ پانچ سے سات منٹ کی ویڈیو بنانے میں اسے کئ کئ گھنٹے لگتے۔۔۔ ویڈیو کی ایڈیٹنگ کرنا اس پر ایفیکٹس لگانا ٹرانزکشنز سیٹ کرنا وائس اوور کرنا ویڈیو کا پروفیشنل تھمب نیل بنانا اور سب سے مشکل کام ویڈیو کی ایس ای او کرنا۔۔۔ اسکا سر چکرا جاتا یہ سب مراحل پورے کرتے کرتے۔۔۔۔ اور اس سب کے باوجود رزلٹ زیرو۔۔۔ اسکا دل چاہتا یا اپنا سر پھاڑ لے یا موبائل دیوار پر مار کر ٹور دے ۔۔۔۔ ناجانے کون لوگ تھے جو یوٹیوب پر آتے تھے اور آتے ہی چھا جاتے تھے۔۔۔ کم از کم اسے تو یوٹیوب پر چھانے کا اپنا کوئی چانس نہیں دکھائی دے رہا تھا۔۔۔
اور تو اور اب تو امان کی ویڈیو پر بھی لاکھوں میں ویوز آنے لگے تھے مدرز ڈے والے ایونٹ کے بعد اسکا چینل بھی بہت تیزی سے گرو ہوا تھا۔۔۔ وہ اسکی ویڈیوز کے ویوز دیکھ دیکھ کر بھی دلبرداشتہ ہوتی کہ جب وہ اتنا مقبول ہو سکتا تھا تو پھر صلہ کیوں نہیں۔۔
رہتی کسر امان کی ویڈیوز کے نیچے موجود سینکڑوں کمنٹس پڑھ کر پوری ہو جاتی جہاں تقریباً سبھی ینگزسٹرز اسے اپنا آئیڈیل کہتے۔۔۔۔ اسے مختلف موضوع سینڈ کر کے ان پر ویڈیوز بنانے کو کہتے۔۔۔
اسے تو لگا تھا کہ یوٹیوب بہت آسان کام ہے جہاں بس ویڈیو بناو اور ڈالرز کماو۔۔۔ لیکن دور کے ڈھول ہمیشہ سہانے ہوتے ہیں اب اسنے اس فیلڈ میں قدم رکھا تھا تو سمجھ آئی تھی کہ یہاں پاوں جمانا مطلب ناکوں چنے چبانے کے مترادف تھا۔۔۔ یہاں ویوز کی بجائے واچ ٹائم زیادہ اہمیت رکھتا تھا کہ کوئی آپکی ویڈیو پر آنے کے بعد وہاں کتنی دیر تک رکتا تھا۔۔۔ اور یہ دیکھ دیکھ صلہ کا ڈپریشن مزید بڑھ جاتا کہ جو گنے چنے لوگ اسکی ویڈیو پر آتے تھے وہ بھی ایک منٹ سے زیادہ وہاں نہیں رکتے تھے۔۔۔
اسکی پانچ سات منٹ کی ویڈیو پر ایوریج ٹائم ڈیوریشن زیادہ سے زیادہ ایک منٹ ہوتا۔۔۔
روز رات اسکی ہمت ٹوٹ جاتی وہ گڑگڑا کر اپنے رب کے حضور اپنی کامیابی کی لئے دعا گو ہوتی کہ اسکا اللہ اسے کامیاب کر دے وہ اپنے بچے کے لئے کچھ کرنا چاہتی تھی اور ہر صبح وہ ہمت کر کے پھر سے اپنا کام شروع کر دیتی کہ اسکے پاس کوئی دوسری چوائس نہیں تھی۔۔۔
آج بالاج کو چھٹی تھی اور آج چونکہ بالاج گھر پر ہی تھا تو وہ بھی ماں کے گھر نہیں گئ۔۔ بالاج کسی کام سے گھر سے باہر گیا تھا جبکہ وہ موبائل پر اپنا یوٹیوب اینالیٹکس چیک کرنے لگی اور یہ دیکھ کر وہ مزید دلبرداشتہ ہوگئ کہ کل اپلوڈ کی جانے والی ویڈیو پر اسکا واچ ٹائم محض دس منٹ تھا۔۔۔ یہ دیکھ کر اسکی آنکھوں میں پانی جمع ہونے لگا۔۔۔ پتہ نہیں لوگ اسے سپورٹ کیوں نہیں کرتے تھے ۔۔۔ پچھلے چھ ماہ میں اسکا واچ ٹائم ایک سو گھنٹہ بھی مکمل نا ہوا تھا۔۔۔
ہنننہ کرنا ہے چار ہزر گھنٹہ واچ ٹائم پورا اور ہمارا تو چار سو گھنٹہ بھی پورا نہیں ہوا۔۔۔
مجھے تو لگ رہا ہے الگے دو سالوں میں میرا چارسو گھنٹہ واچ ٹائم پورا ہو گا اور اگلے دس سالوں میں چار ہزار گھنٹہ۔۔۔ پھر کہیں جا کر میرے چینل پر مونیٹائزیشن آن ہو گئ۔۔۔ اور اگلے بیس سالوں میں مجھے میرا پہلا وڈرا ملے گا۔۔
مطلب مرنے سے پہلے میں اپنی پہلی انکم تو حاصل کر ہی لوں گی۔۔۔
ہنہہ ایسے ہوتے ہیں کامیاب یوٹیوب پر۔۔۔ کیا میں کبھی کامیاب ہو سکتی ہوں۔۔۔۔
اللہ تعالی کر دے نا مجھے کامیاب ۔۔۔ کس چیز کی کمی ہے تیرے پاس۔۔ توچاہے تو کیا نہیں کر سکتا۔۔۔ مجھے بھی کامیاب کردے۔۔۔
دلبرداشتہ سی خود کلامی کرتی وہ آخر میں نم آنکھوں سے اپنے رب سے مخاطب ہوئی اور آنسو رگڑ کر صاف کرتی موبائل وہیں بیڈ پر رکھ کر اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
سوچ سوچ کر دماغ پھٹنے والا تھا۔۔۔ سر درد حد سے سوا تھا اس لئے شدید چائے کی طلب کے احساس کے تحت وہ کمرے سے باہر نکلی
۔۔ ابھی وہ کچن کی جانب بڑھ ہی رہی تھی کہ تائی کے کمرے کے سامنے سے گزرتے باتوں کی آوازوں نے اسکے قدم جھکڑے۔۔۔
وہ کبھی بھی چھپ چھپا کر باتیں سننے والوں میں سے نہیں تھی لیکن یہاں پر موضوع گفتگو اسکی اپنی ذات تھی اسی لئے اسکے کان کھڑے ہوئے اور وہ دیوار کی اوٹ میں ہوتی اندر ہونے والے بحث و مباحثہ کو سننے لگی۔۔۔
ارے مشل تم تو فکر ہی مت کرو۔۔۔
بکرے کی ماں آخر کب تک خیر منائے گی۔۔ بہت جلد ہم اسے بالاج کی زندگی سے دفع کرنے والے ہیں۔۔۔
تم تو ابھی بھی اسے بالاج کی زندگی سے نکلا ہی سمجھو۔۔۔ اسکا اس گھر میں ہونا نا ہونا ایک برابر ہے۔۔ صبح تو دفع ہو جاتی ہے یہاں سے شام میں بالاج اسے دل بہلانے کو واپس ساتھ لے آتا ہے اور صبح ہوتے ہی پھر سے اسکی شکل غائب کر دیتا ہے اس گھر سے۔۔
اسکی اس گھر میں اہمیت صرف بالاج کے دل بہلانے تک محدود ہے اور بہت جلد وہ بھی بھر جائے گا ۔۔۔میرا وعدہ ہے تم سے جلد۔۔۔ بہت جلد ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ہم اسے بالاج کی زندگی سے نکال دیں گے اور بڑی شان سے اور دھوم دھام سے تمہیں اس گھر کی بہو بنا کر لائیں گے۔۔۔
تب تک بہلا لینے دو بالاج کو بھی اپنا دل۔۔۔ ویسے میرے خیال میں تو بالاج کا دل اس سے بھر ہی گیا ہے اب تو وہ صرف بامشکل اس رشتے کی گاڑی کو کھینچ رہا ہے۔۔۔ ارے اب اس میں ایسا بچا ہی کیا ہے جس کے قصدے پڑھیں جائیں۔۔۔
کبھی شکل دیکھو اسکی اللہ کی پھٹکار نازل ہو رہی ہے وہاں۔۔۔ مرجھایا پچکا چہرا۔۔ کملائی رنگت۔۔۔ سیاہ حلقے۔۔ توبہ توبہ اللہ کی لعنت برس رہی ہے اسکی شکل پر۔۔۔ تم فکر نا کرو۔۔۔
اندرثانیہ فون پر مشل سے باتیں کرتی آگے کی پلانینگ کر رہی تھی اور باہر دیوار کے سہارے فق ہوتی رنگت کے ساتھ کھڑی صلہ کو اپنے جسم سے روح نکلتی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔
ہر لمحے اسکی رنگت سفید پڑتی جا رہی تھی۔۔۔ ٹانگیں کپکپانے لگیں تھیں جیسے اسکا بوجھ سہارنے سے انکاری ہوں۔۔۔ اسے سانس لینے میں دشواری ہو رہی تھی۔۔۔
اسنے بے طرح اپنا سینہ مسلتے باہر سے تازہ ہوا کھینچ کر اندر اتارنی چاہی مگر وہ بری طرح ناکام رہی۔۔۔ اسکی بے جان ہوتی آنکھیں ابلنے لگیں تھیں۔۔۔ جن میں واحد زندگی کی رمق کو ظاہر کرتا وہاں سے بہنے والا چشمہ تھا۔۔
ہونٹ بے طرح کپکپانے لگے تھے۔۔۔ دل یوں پھڑپھڑا رہا تھا جیسے بجھنے سے پہلے شمع پھڑپھڑاتی ہے ۔۔۔۔ اسے لگا کہ شاید یہ جان کنی کا مرحلہ آن پہنچا ہے ۔۔۔۔ روح بس تن سے جدا ہونے کے در پر ہے۔۔۔
اتنی تکلیف۔۔۔ اتنی پر شدت تکلیف اسنے کبھی زندگی میں نہیں سہی تھی۔۔۔
سانس رکنے کیساتھ ساتھ اسے اپنے پیٹ کے نچلے حصے اور کمر سے درد کی شدید ٹھیسیں اٹھتی محسوس ہوئیں لیکن ستم یہ کی سینے میں الجھتی تنگ پڑتیں سانسیں اسے چیخنے کے لئے منہ کھولنے کی بھی اجازت نہیں دے رہی تھیں۔۔۔
وہ گرتی پڑتی بے جان ہوتی ٹانگوں کو گھسیٹتی واپس اپنے کمرے میں جا رہی تھی۔۔ بے طرح سینے کو مسلتی وہ سانس لینے کو بے تاب تھی۔۔۔ آنکھوں کے سامنے اسکی زندگی کسی فلم کی مانند چل رہی تھی۔۔۔ کیا یہ اسکا اختتام تھا۔۔۔ کیا وہ اس دنیا سے جانے والی تھی۔۔۔
اتنا منفی اسنے خود کو کبھی محسوس نا کیا تھا جتنا اب کر رہی تھی۔۔
دماغ درست اور غلط کی پہچان کرنے سے قاصر تھا۔۔۔
دل بہلانے کا سامان۔۔۔ صبح ہوتے ہی دفعہ کر دینا۔۔۔ بہت جلد اس گھر سے نکال دیا جانا۔۔۔ بالاج کا دل بھر جانا۔۔۔ اللہ کی لعنت ۔۔۔ اللہ کی پھٹکار۔۔۔ اسنے بے جان ہوتے جسم کے ساتھ بیڈ پر ڈھتے سامنے لگے آئینے میں اپنا چہرا دیکھنا چاہا۔۔ کیا وہاں واقع اللہ کی پھٹکار اور لعنت پڑ رہی تھی۔۔۔ دھندلی آنکھوں سے اسے وہ چہرا بالکل بے جان اور بنجر ہی لگا۔۔۔
ثانیہ کی باتیں جتنی دفعہ دماغ میں ابھرتیں وہ پہلے سے زیادہ کاری وار کرتیں انی کی مانند سینہ چیرتی جا رہی تھی۔۔۔۔۔
بیڈ پر گرتی وہ بے طرح ٹرپنے لگی تھی۔۔۔ بن جل مچھلی کی مانند ۔۔۔ جسے پانی سے نکال کر خشکی پر پھینک دو تو جیسے وہ ٹرپتی ہے۔۔۔
اسنے کچھ دور فاصلہ پر پڑا موبائل اٹھانے کو ہاتھ بڑھایا۔۔ وہ بالاج کو فون کرنا چاہتی تھی۔۔۔ اسے اپنے پاس بلانا چاہتی تھی۔۔۔
اگر یہ اسکا آخری وقت تھا تو وہ اسی کی پناہوں میں دم توڑنا چاہتی تھی۔۔۔ اگر بالاج کا اس سے دل بھر بھی گیا تھا تو بھی اسنے تو بالاج سے محبت کی تھی نا۔۔۔ بے حد و حساب۔۔ وہ اس شخص کا چہرا دیکھتےاپنی آنکھیں بند کرنا چاہتی تھی۔۔۔
اسکی آنکھیں بار بار بند ہو رہی تھی مگر اسے بھی ضد تھی آج اسے بالاج کو دیکھے بنا یہ آنکھیں بند ہونے نہیں دینی تھیں۔۔۔
موبائل اس سے فاصلے پر تھا اسکا ہاتھ وہاں تک نہیں پہنچ پا رہا تھا۔۔۔ وہ موبائل تک ہاتھ بڑھانے کو مچل رہی تھی۔۔۔
آنسو ابل ابل بہہ رہے تھے کہ دفعتا بالاج خود ہی کچھ گنگناتا باہر سے کمرے میں داخل ہوا۔۔۔
مگر صلہ کو بستر پر ماہی بے آب کی مانند ٹرپتا دیکھ تڑپ کر اسکی جانب بڑھا۔۔۔
صلہہہہہہ۔۔۔ صلہہہ۔۔۔
کیا ہوا تم ٹھیک تو ہو۔۔۔ بالاج کو لگا کسی نے اسکے قدموں تلے سے زمین کھینچ لی ہو۔۔۔
اسنے متوحش نگاہوں اور کپکپاتے ہاتھوں سے اسے سیدھا کرتے اسکا چہرا تھپتھپایا۔۔
صلہ نے نیم وا آنکھوں سے بالاج کو دیکھا۔۔۔
آئی لو یو بالاج۔۔۔ آئی رئیلی رئیلی لو یو۔۔۔
وہ بہتی آنکھوں سے گویا اسے یقین کروا رہی تھی۔۔۔
لیکن وہ اسے سن کہاں رہا تھا ۔۔۔
تمہین کچھ نہیں ہو گا صلہ۔۔۔ میں تمہیں کچھ نہیں. ہونے دوں گا۔۔ صلہ کی حالت دیکھ وہ تو جیسے بوکھلا ہی گیا تھا۔۔۔
اسکے چہرے سے چھلکتی فکر اسکا دیوانہ پن۔۔۔ اسکی متوحش نگاہیں اسکا ٹرپنا ۔۔ کچھ بھی تو ظاہر نہیں کرتا تھا کہ اسکا صلہ سے دل بھر گیا۔۔۔
صلہ تکیلف میں بھی اسے یک ٹک دیکھے گئ۔۔۔
نہیں ثانیہ بکواس کر رہی تھی۔۔ اسکا بالاج ایسا نہیں۔۔ وہ محبت کرتا ہے اس سے۔۔۔
نم آنکھوں سمیٹاسکے چہرے پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ نے چھب دکھلائی۔۔۔
بالاج مجھے چھوڑنا مت۔۔۔ خدارا مجھے خود سے الگ مت کرنا۔۔
مم۔۔ میں۔۔۔
صلہ۔۔ میں تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا۔۔۔ سنا تم نے کچھ نہیں ہونے دوں گا۔۔ تم زندگی ہو میری۔۔۔ بالاج تیزی سے کچھ سوچ رہا تھا جبکہ صلہ کی باتیں ا
سن کر وہ اپنے ماتھے پر پھوٹتا پسینہ صاف کرکے اسکا چہرا دونوں ہاتھوں کے پیالے میں بھرتا دیوانہ وار شدت سے گویا ہوا۔۔۔
یہ اعتراف سن کر صلہ کے چہرے پر ایک چمک پھوٹی۔۔۔ ایک موٹی ٹوٹ کر آنکھ سے پھسلا اور وہ آسودہ سے آنکھیں موند گئ۔۔۔ جبکہ اسکا سر بالاج کے ہاتھ سے دھلک کر بستر پر جا گرا۔۔۔
صلہہہہہہہہہ۔۔۔۔ بالاج کی آنکھیں پھٹ پڑیں جبکہ اسکی آواز درو دیوار تک ہلا گئ۔۔۔
*****
