Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 30

کیا واقعی اسکی نظر اسکی اپنی ہی بہن کو لگ گئ تھی۔۔۔ ہر لمحہ صلہ کا خون خشک ہو رہا تھا۔۔۔ کیا یہ اسکی وجہ سے ہوا۔۔۔ اسکی سوچیں انہیں چیزوں کے گرد گھوم رہی تھیں۔۔۔ اور قدم جیسے جکڑے گئے تھے۔۔ گویا وہ ایک بھی قدم اٹھنے سے انکاری ہوں۔

اندر عفرا کی دلدوز چیخیں سن کر دروازہ مزید شدت سے کھٹکھٹایا جانے لگا تھا۔۔۔

عفرا کی حالت دیکھ کر ماں کی اپنی حالت غیر ہونے لگی تھی۔۔۔ وہ درد سے دہری ہوتی بے حال ہو رہی تھی۔۔۔ چوریاں ٹوٹنے سے خون بازوں سے بہتا چلا جا رہا تھا۔۔۔ لمحوں میں کھلتے گلاب کی مانند چہرا کملا گیا تھا۔۔۔

پے در پے کھٹکتے دروازے کے پیش نظر صلہ تھوک نگلتی بے جان ہوتے وجود کو کھینچتی گیٹ تک گئ اور گیٹ وا کیا ۔۔

گیٹ کھلتے ہی امان اندھا دھند اندر کو بھاگا ۔۔۔ مگر سامنے کا منظر دیکھ کر گویا اسکے سر پر آسمان ٹوٹا تھا۔۔۔

خالہ کی گود میں بے حال ہوتی عفرا کو دیکھ وہ ساکت رہ گیا تھا۔۔۔ پھر لمحے کے ہزارویں حصے میں سب سمجھتا وہ آگے بڑھا اور درد سے کراہتی عفرا کو بنا ایک بھی لمحہ ضائع کئے بازوں میں بھرا۔۔۔

خالہ میں اسے لے کر ہسپتال جا رہا ہوں آپ پیچھے آ جائیے گا۔۔۔ اسکی جلدبازیاں دیکھنے لائق تھیں۔۔۔ خالہ نے عفرا کا وہی سرخ آنچل اسکے سر پر لپیٹا۔۔۔

امان بنا دیر کئے لمبے لمبے ڈگ بھرتا باہر نکل گیا۔۔۔

صلہ میری چادر لاو۔۔۔ جلدی کرو صلہ میری بچی کو میری ضرورت ہے۔۔۔ وہ بہت۔۔۔ بہت تکلیف میں ہے۔۔۔

اے میرے اللہ تو اپنا کرم کرنا۔۔۔ کوئی دکھ کوئی تکلیف میری بچی کو چھو کے بھی نا گزرے۔۔۔

مدد کرنا میرے مالک۔۔۔ ماں زارو قطار آنسو بہاتی گویا حواس کھونے لگی تھیں۔۔۔ دل پر ہاتھ رکھتیں وہ بمشکل اندر لاوئنج میں آ کر صوفے پر ڈھ گئیں۔۔۔

دل سوکھے پتے کی مانند کپکپا رہا تھا تو جسم پر بھی کپکپی طاری ہونے لگی تھی۔۔۔ ابھی کچھ دیر پہلے تو وہ کیسے چہک رہی تھی لمحوں کا کھیل تھا اور کیا سے کیا ہو گیا۔۔۔

صلہ نے چادر لا کر ماں کو دی تو ماں کپکپاتے ہاتھوں سے چادر اوڑھتیں باہر کی جانب لپکیں۔۔۔

ماں میں بھی چلوں آپکے ساتھ۔۔ صلہ تڑپ کر آگے بڑھی۔۔۔

نہیں میرے بچی تم گھر پر ہی رہو۔۔۔ تمہاری تو اپنی طبیعت ٹھیک نہیں۔۔۔ میں دیکھتی ہوں وہاں جا کر۔۔۔

ماں اسے ہاتھ سے وہیں رکنے کا اشارہ کرتیں باہر نکل گئیں

******

ہسپتال کی مرمریں راہداری میں سامنے نصب بینچ پر نرہت بیگم اود نصرت بیگم ریشان حال سی بیٹھیں تھیں۔۔۔ فکر مندی انکے چہرے سے چھلک رہی تھی۔۔۔ امان نے ماں کو فون کر دیا تھا جسے سنتے ہی وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ ہسپتال میں بہن کے پاس موجود تھیں۔۔۔

جبکہ امان دروازے کے باہر بے صبری سے یہاں سے وہاں ٹہل رہا تھا ۔۔ اندر عفرا کا علاج چل رہا تھا جبکہ باہر ہر لمحہ امان کے دل کی ڈھرکن کم سے کم تر ہوتی چلی جا رہی تھی۔۔۔

دفعتا ڈاکٹر کمرے کا دروازہ کھول کر باہر نکلی۔۔۔ امان کے ساتھ ساتھ ماں اور خالہ بھی اس ڈاکٹر کی جانب متوجہ ہوئیں۔۔۔

پیشینٹ کی حالت اب کافی بہتر ہے بینڈیج کر دی گئ۔۔۔ ڈاکٹر کے کہنے کی دیر تھی کہ ان تینوں نے بے ساختہ اپنے رب کا شکر ادا کرتے شکر کا سانس لیا۔۔۔

لیکن ایک بری خبر ہے کہ ہم بےبی کو بچا نہیں پائے۔۔۔ انکی پریگنینسی ابھی بہت ابتدائی مراحل میں تھی تو اس وقت بہت اختیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔

لیکن خیر ابھی وہ دوائیوں کے زیر اثر سو رہی ہیں۔۔ کچھ دیر تک انہیں ہوش آ جائے گا۔۔۔ ڈاکٹر پیشہ وارانہ انداز میں کہتی آگے بڑھ گئ۔۔۔ جبکہ امان کو اپنے اندر تک سناٹے اترے محسوس ہوئے۔۔۔

جیسے اندر ایک چھوٹا سا گوشت کا لوتھرا جو کہ دل کہلاتا ہے وہ کرلا اٹھا ہو۔۔۔ جسکی تکلیف کی شدت آج حد سے زیادہ تھی۔۔۔ اور جسے برداشت کرنے میں وہ ہلکان ہو رہا تھا۔۔۔۔ اور اسکے ضبط کی گواہ اسکے بھینچے لب اور شدت سے گلابی پڑتیں آنکھیں تھیں۔۔۔

اس مختصر سے وقت میں اس نے اس بچے کے حوالے سے کتنے خواب سجا لیے تھے جو اس دنیا میں آنے سے پہلے ہی کہیں دور چلا گیا تھا ۔۔ کتنی مختصر سی مدت تھی نا اسکی خوشیوں کی۔۔۔ وہ ضبط کی انتہاوں کو چھوتا چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا باہر کی جانب چلنے لگا۔۔۔

صدمے کی یہ پہلی چوٹ خاصی کاری تھی۔۔۔ اسے اس فیز سے ابھرنے کو وقت درکار تھا۔۔۔ وہ کچھ پل تنہائی میں اپنے ساتھ گزارانا چاہتا تھا۔۔۔

یہ تکلیف اس کے لئے ناقابل برداشت تھی تو ناجانے ہوش میں آنے کے بعد عفرا کا کیا ردعمل ہوتا۔۔۔

اسنے انگوٹھے اور شہادت کی انگلی کی مدد سے اپنی نم ہوتی آنکھوں کو بے طرح مسلہ اور ہسپتال سے باہر نکل گیا۔۔۔

*****

رات کی ہیبت ناکی چار سو اپنے پنکھ پھیلائے بیٹھی تھی ۔۔۔ ایسے میں کمرے میں زیرو پاور کی روشنی پھیلی تھی جہاں بیڈ پر گھٹنے سینے سے لگائے کپکپاتا ایک وجود زارو قطار رو رہا تھا۔۔۔

تو کیا میری بہن کی خوشیوں کو میری نظر کھا گئ۔۔ صلہ کے آنسو زارو قطار بہہ رہے تھے۔۔۔ ابھی ابھی اسے ماں کا فون آیا تھا۔۔۔ اور جو خبر اسے سننے کو ملی تھی اس خبر نے اسکے دل پر بوجھ مزید بڑھا دیا تھا اور تب سے ہی اسکی یہ حالت تھی۔۔۔

اللہ تعالی میں نے یہ تو نہیں چاہا تھا۔۔۔

میں اپنی بہن کی خوشیوں سے جلتی نہیں ہوں۔۔۔ میں اس سے حسد نہیں کرتی تھی۔۔۔ بس میں اپنے احساسات سمجھنے سے قاصر تھی اللہ تعالی۔۔۔

میں اسکا برا نہیں چاہتی تھی۔۔۔ وہ۔۔۔ وہ میری چھوٹی بہن ہے۔۔۔ مجھ۔۔ مجھے اس سے ۔۔ بہت پیار ہے۔۔۔

میں نے یہ نہیں چاہا تھا۔۔۔ وہ ہچکیوں سے روتی دیوانوں کی مانند اپنے رب سے باتیں کر رہی تھی۔۔۔ اللہ تعالی مجھے معاف کر دے۔۔۔ معاف کر دے مجھے اللہ۔۔ میں نے یہ نہیں چاہا تھا۔۔۔ وہ اپنے کپکپاتے ہاتھ جوڑتی مزید شدت سے رو دی۔۔۔

وہ کیسے سہے گی اتنا پہاڑ جتنا غم۔۔۔ ایسا کیوں ہوا اسکے ساتھ۔۔۔۔

اللہ تعالی میں واقعی ایسا نہیں چاہتی تھی۔۔۔ میں اسکی خوشیوں کی دشمن نہیں تھی۔۔۔ ہر گزرتے لمحے کیساتھ اسکا پچھتاوا بڑھتا ہی جا رہا تھا۔۔

اللہ مجھے معاف کر دے۔۔۔ اللہ سب ٹھیک کر دے۔۔۔ اللہ ایک دفعہ سب ٹھیک کر دے۔۔۔

میں کبھی اس سے حسد نہیں کروں گی۔۔۔ میں کبھی اسکے بارے میں کوئی منفی خیال بھی ذہن میں نہیں لاوں گی۔۔۔ میں اپنی سوچوں تک کو تالا لگا دوں گی۔۔۔ انہیں قابو کر لوں گی۔۔۔ بس تو میری مدد کر دے مالک۔۔ عفرا کی اندگی میں سب سیٹ کر دے۔۔۔

قطرہ قطرہ رات کی ہیبت ناکی سوکھی ریت کی مانند مٹھی سے پھسلتی جا رہی تھی اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ صلہ کے پچھتاوے میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔۔۔ کتنا خوبصورت آغاز تھا آج کے دن کا۔۔۔ کتنے کام دونوں نے اکھٹے کیے تھے۔۔۔ کیسے عفرا نے لمحہ لمحہ ہر ہر سٹیپ پر صلہ کی مدد کی تھی اور کتنا بھیانک انجام ہوا تھا اس خوبصورت دن کا۔۔۔ زندگی کی کتاب کے اگلے ورق پر کیا رقم ہے کاش کہ کوئی جان پاتا۔۔۔

*****

ساری رات اپنے رب کے حضور رو رو کر معافیاں مانگتے کہیں فجر کی اذانوں کیساتھ اسکی آنکھ لگی تھی ۔۔۔ لیکن وہ نیند میں بھی بڑی غیر آرام دہ تھی۔۔۔ دو گھنٹوں بعد ہی وہ ہڑبڑا کر نیند سے جاگی۔۔۔

رات کے واقعات یاد آتے ہی وہ اچھل کر بستر سے اٹھی۔۔۔ ساری رات وہ لوگ ہسپتال میں ہی رہے تھے۔۔۔ بعجلت منہ پر پانی کے چھپاکے مار کر اسکا رخ کچن کی جانب تھا۔۔۔

اسنے تیزی سے ناشتہ تیار کیا اور اپنا حلیہ درست کرتی بالاج کو میسج پر ساری بات بتا کر سب کے لئے ناشتہ لے کر اسکے ساتھ ہی ہسپتال کے لئے روانہ ہوگئ۔۔۔

بالاج اسے ہسپتال کے باہر ہی اتار کر اپنے آفس چلا گیا تھا۔۔ وہ ہاتھ میں ناشتے کا ٹفن تھامے مرے مرے قدم اٹھاتی مطلوبہ کمرے کی جانب بڑھی۔۔۔۔

کمرے کے باہر اسے دور سے ہی امان کھڑا نظر آگیا تھا۔۔۔ وہ دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے پاوں قینچی کی مانند بنائے بازو سینے پر باندھے نظریں نیچے فرش پر جھکائے بے حس و حرکت ساکت و جامد سا کھڑا تھا۔۔۔ جبکہ اندر سے عفرا کی ماہی بے آب کی مانند تڑپنے کی آوازیں باہر تک آ رہی تھیں۔۔۔ خالہ اور امی اسے سمنبھالنے میں بری طرح ناکام ہو رہی تھیں۔۔۔ غالباً اسے اپنے عظیم نقصان کا اندازہ ہو چکا تھا۔۔۔

عفرا کی آہ و بکا سن کر صلہ کے قدم ڈگمگائے۔۔۔ دل پر جیسے نشتر چلنے لگے تھے۔۔۔ وہ دھک دھک کرتے دل کیساتھ لمبے لمبے ڈگ بھرتی کمرے میں آئی جہاں سامنے ہی عفرا ہسپتال کے مخصوص لباس میں الجھے بالوں اور متوحش سوجھی ہوئی آنکھوں کیساتھ ماں اور خالہ کے ہاتِوں سے پھسلتی جا رہی تھی۔۔۔ چہرے پر اتنی ویرانی تھی کے ایک پل کو تو اسے دیکھ کر صلہ کا دل بھی دھک سے رہ گیا۔۔۔ رات والی چہکتی ہوئی عفرا اور اب ویران صورت والی عفرا میں زمین آسمان کا فرق تھا۔۔۔

صلہ ناشتے کا ٹفن وہیں موجود میز پر رکھ کر آگے بڑھی تو عفرا ٹرپ کر اس سے لپٹی۔۔۔

یہ دیکھو صلہ میرے ساتھ کیا ہوگیا۔۔۔ میرا بچہ صلہ۔۔۔ میرا بچہ مجھے چھوڑ کر چلا گیا۔۔۔ پتہ نہیں کس کی بری نظریں میری خوشیاں کھا گئ۔۔۔

میرا بچہہہہہ۔۔۔ میرا بچہہہہہہ۔۔۔ وہ صلہ کے گلے لگی ٹوٹ کر بکھری تھی۔۔ جسے سمبھالنا ان اب سے ہی بہت مشکل ہو رہا تھا۔۔۔ اسکی حالت دیکھ صلہ کی اپنی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ ٹوٹ کر گرنے لگے تھے۔۔۔۔

****

انہیں ہسپتال سے چھٹی مل گئ تھی۔۔۔ عفرا ہنوز دوائیوں کے زیر اثر سو رہی تھی۔۔۔ اسکی بگڑتی حالت دیکھ ڈاکٹر نے اسے نیند کا انجیکشن لگا دیا تھا۔۔۔ شاید ابھی یہ صدمہ برداشت کرنے کے لئے اسے کچھ وقت درکار تھا۔۔

ماں عفرا کو اپنے ساتھ لیجانا چاہتی تھی لیکن یہاں تب سے گم صم اور خاموش کھڑا امان بول اٹھا تھا۔۔۔۔

خالہ میرے خیال سے عفرا کو اپنے گھر ہی جانا چاہیے۔۔۔ اس سے شاید اسے اپنے ان زخموں کو بھرنے میں آسانی ملے۔۔

پلیز آپ منع مت کرنا۔۔۔۔۔ بلکہ آپ بھی وہیں آ جائے۔۔ یوں اگر کسی بھی پہر اسکی طبعت خراب ہوئی تو اسے ہسپتال لانے لیجانے میں آسانی رہے گی۔۔۔

وہ جیسے ہی کچھ بہتر ہوئی پھر سے آپکے پاس آ جائے گی۔۔۔ امان نے بہت احترام سے اپنا نقطہ نظر انکے سامنے رکھا تھا۔۔۔ جس کی وہ قائل بھی ہوگئیں تھیں۔۔۔ انہوں نے نم آنکھوں سے امان کے سر پر پیار دیا اور واپس کمرے کی جانب بڑھ گئیں جبکہ امان فون نکال کر کسی کا نمبر ملا کر عفرا کو گھر لیجانے کے لئے گاڑی کا انتظام کرنے لگا۔۔۔

****