khwab e Junoon by Umme Hani readelle50005 Episode 41
Rate this Novel
Episode 41
خالہ کی بات کو مدنظر رکھتے امان نے سب بہت جلدی کیا تھا۔۔۔ خالہ کے واپس آنے سے پہلے دکان بیچ سکنا تو ناممکن امر تھا کیونکہ وہ اپنا حصہ بیچ رہی تھیں جسکے لئے انکی وہاں موجودگی یقینی تھی۔۔۔ لیکن دکان کے گاہک دھونڈنے کیساتھ ساتھ امان نے اپنے برانچ انویسٹرز سے کر کرا کر کسی طرح دو ہفتوں کے وعدے پر پیسے اکھٹے کر کے خالہ کو بیج دیئے تھے۔۔۔
وہاں فیس جمع کرواتے ہی فوراً کاروائی عمل میں لائی گئ تھی اور اب صلہ آپریش کا مخصوص گاون زیب تن کئے آپریشن ٹھیٹھر میں جانے کو بالکل تیار ماں کے پاس کھڑی تھی۔۔۔۔ابھی تک تو وہ ہوش میں تھی ۔۔۔
اور ماں کے ساتھ جڑی بار بار اپنے ہاتھ مسلتی وہ بروقت ماں سے اپنے احساسات شیئر کر رہی تھی۔۔۔
ماں مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔۔۔ ماں دعا کرنا کہ میں ٹھیک ہو جاوں۔۔۔ مجھے اپنی بیٹیوں کو دیکھنا ہے۔۔۔
وہ اپنے کپکپاتے ہاتھوں میں ماں کے ہاتھ شدت سے بھینچے اس وقت کوئی خوفزدہ سی چھوٹی بچی ہی لگ رہی تھی۔۔۔
ماں نے کئ ایک دعائیں پڑھ کر اس پر پھونکی اور اسے شدت سے خود میں بھینچتے اسکے ماتھے کا بوسہ لیا۔۔۔
سب سوچوں کو دماغ سے جھٹک دو۔۔۔ صرف درود شریف پڑھو بار بار۔۔۔ اس پوری دنیا میں اللہ کی پاک کلام سے زیادہ طاقتور اور کوئی دوسری چیز نہیں۔۔۔ اور دعائیں قسمت بدل دیتی ہیں۔۔۔ اور صدق دل اور کامل یقین سے مانگی گئ دعائیں تو بہت جلد اپنے رب کے حضور قبولیت کا شرف پا لیتی ہیں۔۔۔۔
تم فکر مت کرو۔۔۔ انشااللہ اللہ سب بہتر کرے گا۔۔۔ آج ایک ماں کی دعا اللہ کی رحمت کو دعوت دے کر رہے گئ۔۔۔ انشااللہ تم صحتیاب ہو کر باہر آو گئ۔۔۔۔وہ بہتے آنسوں سمیٹ چٹا چٹ اسکے چہرے کے بوسے لیتی اسے تسلی دے رہی تھیں۔۔۔۔
صلہ کو آپریشن ٹھیٹھر میں لیجایا گیا تو ماں وہیں ایک کونے میں جائے نماز بچھاتی سجدے میں سر جھکائے گڑاگڑا کر اپنے رب سے مدد طلب کرنے لگیں۔۔۔
روتے روتے انکی ہچکیاں بندھنے لگی تھیں لیکن وہ سر سجدے سے اٹھانے کا نام نہیں لے رہی تھیں۔۔ آج وہ اپنے رب سے مدد کی طلب گار تھیں۔۔۔ اللہ جانتی ہوں ہونی کو کوئی نہیں ٹال سکتا لیکن میں تیری رحمت کی امیدوار ہوں مالک۔۔۔ مجھ پر رحم کر۔۔۔۔
دو گھنٹے تک اندر صلہ کا آپریشن چلتا رہا اور باہر ماں ایک ہی حالت میں اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہوئی رہیں۔۔۔
دو گھنٹے بعد آپریشن ٹھیٹھر کا دروازہ کھلا اور اندر سے سٹاف باہر آیا۔۔۔
سارا سٹاف اس ماں کی تڑپ اور لگن دیکھ کر گنگ تھا۔۔۔
ماں جی اٹھیے۔۔ آپ کی بیٹی کا آپریشن کامیاب رہا ہے۔۔ اللہ نے آپکی سن لی۔۔۔ ایک نرس نے آ کر انکے کندھے پر ہاتھ رکھتے انہیں ہلایا تو انہوں نے سر سجدے سے اٹھا کر آنسووں بھری نم آنکھوں سے اسے دیکھا اور اسکی بات سمجھ میں آتے ہی انکے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئ۔۔۔ اور وہ مزید شدت سے پھوٹ پھوٹ کر رو دیں۔۔ لیکن اب یہ خوشی کے آنسو تھے ان پر سجدہ شکر واجب تھا۔۔۔
انہیں کمرے میں شفٹ کیا جا رہا ہے آپ کمرے میں چلیں۔۔۔
وہ نرس ماں کو سہارا دے کر اٹھاتی کمرے کی طرف لے کر آئی جہاں صلہ کو شفٹ کی جا رہا تھا۔۔۔
ابھی اسکی آنکھوں پر پٹی بندھی تھی جو چند دنوں بعد کھلنی تھی۔۔۔
ماں نے موبائل اٹھاتے سب سے پہلے اس پر امان کا نمبر ملانا شروع کیا۔۔۔ آخر انہیں یہ خبر اپنے پیاروں کو بھی تو دینی تھی نا۔۔۔
******
امان اس وقت اپنے ڈریم ٹی پلیس پر کھڑا ورکرز کو کام کرتا دیکھا رہا تھا۔۔۔ اسکا نقشہ آپروو ہو گیا تھا اور اب اس پر زور و شور سے کام جاری تھا۔۔۔
وہ اپنے خواب کو اپنی آنکھوں کے سامنے حقیقت کا روپ دھارتے دیکھ رہا تھا۔۔۔
وہ روز کچھ وقت کے لئے وہاں کی پروگریس دیکھنے آتا۔۔۔
وہاں ہر جانب سریہ مٹی سیمٹ بجری اور اینٹوں کے ڈھیر لگے ہوئے تھے۔۔۔ جبکہ ورکرز تندہی سے اپنا کام کر رہے تھے۔۔۔ امان نے چمکتی آنکھوں سے اس جگہ کو دیکھا جس کی بنیادیں اٹھائی جا رہی تھیں۔۔۔
نقشے کے مطابق تقریباً ہر جگہ کی بنیادیں اٹھائی جا رہی تھیں۔۔ اسکے پاس کھڑا ایک سائٹ انجینئر اسے بریف کر رہا تھا جبکہ وہ ہاتھ پشت پر باندھے سامنے کام کرتے ورکرز کو دیکھتا ہاں میں سر ہلاتا اسے سن رہا تھا۔۔۔
سامنے ورکر ایک ایک اینٹ لگاتے دن با دن تیزی سے اسکے خواب کو حقیقت میں ڈھال رہے تھے۔۔۔
اسکے ڈریم ٹی پلیس پر پیسہ پانی کی طرح لگ رہا تھا۔۔۔ اور اسکی بھرپور کوشیش یہ ہی تھی کہ وہ بینک سے لان نا لے ۔۔۔ سب کچھ اسکے پرافٹ سے نکل آئے لیکن جو حالات چل رہے تھے اسے اب لگنے لگا تھا کہ اسے بینک سے لان منظور کروا لینا چاہیے۔۔۔
وہ سائٹ انجینیر سے بات کر رہا تھا جب اسکی جیب میں موجود موبائل کی بیل بجی ۔۔ اسنے ہاتھ سے اسے رکنے کو کہا اور موبائل لئے دوسری سائڈ پر چلا آیا۔۔۔
جی اسلام علیکم خالہ۔۔۔۔ صلہ کیسی ہے ۔۔۔ وہ آ گئ آپریشن ٹھیٹھر سے باہر۔۔۔ کیا کہا ڈاکٹر نے۔۔۔
آج صلہ کا آپریشن تھا وہ جانتا تھا۔۔۔ اور باقی سب کیساتھ ساتھ وہ بھی صبح سے پل پل انکے ساتھ رابطے میں تھا۔۔۔
تبھی اب فون اٹھاتے ہی وہ بے چینی سے گویا ہوا۔۔۔
ہاں امان بیٹا۔۔ اللہ کا لاکھ لاکھ دفعہ شکر ہے کہ صلہ کا آپریشن کامیاب رہا۔۔۔ ابھی اسے ہوش نہیں آیا لیکن اسے آپریشن ٹھیٹھر سے کمرے میں شفٹ کر دیا ہے۔۔۔
ماں کی آواز میں آنسووں کی آمیزش کیساتھ ساتھ ایک کھنک بھی تھی۔۔۔
Ohhh thank God….
امان نے چہرے پر ہاتھ پھیرتے ایک گہری سانس خارج کی۔۔۔
آپ نے ابھی یہ خبر امی یا عفرا کو تو نہیں دی نا۔۔۔
وہ مسکراتا ہوا گویا ہوا۔۔۔
ابھی دینے والی ہی تھی۔۔ سوچا پہلے تمہیں بتا دوں۔۔
بہت اچھا کیا آپ نے۔۔۔ آپ انہیں کچھ مت بتانا ان دونوں کو یہ گڈ نیوز میں خود گھر جا کر دیتا ہوں۔۔۔ آپ بھی اب زرا آرام کریں میں بھی اب گھر کے لئے نکل رہا ہوں۔۔۔ وہ ان سے بات کرتا ہی سائٹ انجینر کو اشارے سے بعد میں آنے کا کہتا باہر کی جانب بڑھا۔۔۔ ٹھیک ہے بیٹا ۔۔۔ ماں نے مسکراتے ہوئے فون بند کیا تو امان نے فون واپس جیب میں رکھتے بائیک سٹارٹ کی۔۔۔
*****
۔۔نزہت کا کوئی فون آیا کیا عفرا۔۔۔۔
جس وقت سے صلہ کو آپریشن ٹھیٹھر میں لیجایا گیا تھا تب سے ہی خالہ اور عفرا بیٹھیں مختلف آیات کا ورد کرتیں صلہ کی صحتیابی کے لئے شدت سے دعا گو تھیں۔۔۔ انہیں بے چینی سے ہسپتال سے کسی اچھی خبر کے آنے کا انتظار تھا۔۔۔ تبھی خالہ گھڑی کی جانب دیکھتیں سامنے صوفے پر براجماں عفرا سے گویا ہوئیں۔۔۔ جو آنچل کو سر پر اچھے سے لپیٹے سر صوفے کی پشت سے ٹکائے آنکھیں موندے مسلسل کچھ پڑھ رہی تھی۔۔۔
اسنے ویسے ہی زرا کی زرا آنکھیں کھولی اور سر نفی میں ہلایا۔۔۔
ایک نظر پاس پڑے موبائل کو دیکھا کہ اگر صلہ آپریشن ٹھیٹھر سے باہر آگئ ہوتی تو ضرور ماں انہیں بتا دیتی اور پھر سے آنکھیں موندتی زیر لب کچھ پڑھنے لگی۔۔
جب امان مسکراتا ہوا گھر میں داخل ہوا۔۔۔
آپ سب کے لئے ایک بہت بڑی خوشخبری ہے وہ ہاتھ میں تھاما مٹھائی کا ڈبہ صوفوں کے درمیان میں پڑے میز پر رکھتا خود گھٹنوں کے بل بیٹھ کر ماں کے پاس دائیں بائیں لیٹی بچیوں کے برابر بیٹھا اور ڈبہ کھول کر اندر سے ایک چٹکی کی مدد سے مٹھائی نکال کر اسے ایک بچی کے منہ میں ڈالا۔۔۔
ماں اور عفرا حیرت سے اسے دیکھنے لگیں۔۔۔
میری شہزادیوں کی ماں کا آپریشن کامیاب رہا۔۔۔ اسے کمرے میں شفٹ کر دیا گیا ہے۔۔۔
اسنے خبر سناتے ویسے ہی مٹھائی دوسری بچی کے منہ میں ڈالتے انکے ماتھے کے بوسے لیے۔۔۔
یا اللہ تیرا شکر ہے میرے مالک۔۔۔ عفرا کی آنکھوں سے آنسوں جاری ہو گئے تھے۔۔ جبکہ خالہ کی بھی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نا تھا۔۔۔۔
عفرا پہلے مجھے نزہت کا نمبر ملا کر دو مجھے اسے مبارکباد دینی ہے۔۔۔ خالہ کے بے چینی سے کہنے پر عفرانے جھٹ سے نمبر ملا کر فون انہیں پکڑایا۔۔۔
امان مجھے صلہ کے پاس جانا ہے۔۔ مجھے وہاں لے جائیں۔۔۔ اب مجھ سے مزید صبر نہیں ہو رہا۔۔۔
وہ ننگے پاوں ہی بچیوں کے ساتھ مصروف امان کے پاس آتی گویا ہوئی۔۔۔ امان نے سر اٹھا کر اپنے پاس کھڑی حجاب کے ہالے میں لپٹی نم آنکھیں لئے اس سے مخاطب اپنی بیوی کو دیکھا اور مسکراتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
ٹھیک ہے۔۔ تم تیاری کرو۔۔ اسکی پٹی تین دن بعد کھلنی ہے ہم کل شام یا پرسوں صبح نکل جائیں گے۔۔۔۔
اچھی بات ہے۔۔۔ آنکھیں کھولتے ہی وہ بھی اپنی شہزادیوں کو دیکھ لے گی۔۔۔ ویسے بھی خالہ بتا رہی تھیں کہ ان دنوں وہ سب سے زیادہ اپنی بیٹیوں کے لئے ہی تڑپی ہے۔۔۔
امان کے کہنے پر وہ نم آنکھوں سمیت مسکرا کر اندر کو جانے لگی۔۔۔ جب جاتے جاتے رک کر پلٹی۔۔۔
کیا آپکو کسی نے بتایا ہے امان کہ آپ بہتتتتت سویٹتتت ہو۔۔۔۔۔ وہ مسکرا کر اسکی گال زور سے کھینچتی شرارت سے گویا ہوتی اندر کو بھاگ گئ۔۔۔
جبکہ امان کا قہقہ فضا میں چہار سو گونج اٹھا تھا۔۔۔
اب بھاگ کہاں رہی ہو جواب تو لیتی جاو۔۔۔ اسنے مسکراتے ہوئے پیچھے سے آواز لگائی تو انکا شور سن کر فون پر بات کرتی خالہ نے امان کو گھور کر دیکھا جسکا مطلب سمجھتا وہ فورا سے سنجیدہ ہوتا واپس بچوں کی جانب متوجہ ہوا۔۔۔
*****
ابھی کچھ دیر پہلے ہی امان عفرا اور خالہ بچیوں سمیٹ کراچی ہسپتال پہنچے تھے۔۔۔ اتنا طویل سفر تھا کہ عفرا کی ٹانگیں جواب دے گئ تھیں۔۔۔ راستے سے امان نے بہت سے پھل جوس کے ڈبے اور مٹھائی لی تھی۔۔۔
امان نے ہاتھ میں شاپر تھام رکھے تھے جبکہ عینا کو عفرا اور نینا کو خالہ نے اٹھا رکھا تھا۔۔۔
فون پر وہ مسلسل خالہ کے ساتھ رابطے میں تھا۔۔ آج صلہ کی آنکھوں کی پٹی کھلنی تھی۔۔۔ اور عفرا کی ایک ہی ضد تھی کہ کچھ بھی ہو انکے پہنچنے سے پہلے صلہ کی پٹی نہیں کھلنی چاہی۔۔۔ آنکھ کھلتے ہی وہ سب سے پہلے اپنی بیٹیوں کو دیکھے گی۔۔۔
اب دو دفعہ سٹاف اسکی پٹی کھولنے آ چکا تھا لیکن جب ماں نے اپنی بیٹی کی خواہش انہیں بتائی تو وہ بھی انکے جذبات کی قدر کرتے انکا انتظار کرنے لگے۔۔۔۔۔ ویسے بھی اس ماں نے وہاں سب کا دل جیت لیا تھا اور اتنے دنوں تک مسلسل ہسپتال میں رہنے سے انکے ساتھ سٹاف کی ایک الگ ہی وابستگی بن گئ تھی۔۔۔ اب تو ہر شفٹ کا سٹاف آ کر صلہ کی طبیعت دریافت کر کے جاتا۔۔۔۔
ماں کمرے سے باہر ہی ان سب کا بے صبری سے انتظار کر رہی تھیں۔۔۔ عفرا تو دور سے ہی ماں کو دیکھتی شور مچاتی انکی جانب لپکی اور شدت سے ماں سے لپٹ گئ۔۔۔
جبکہ اس اچانک افتاد پر اسکی گود میں موجود بچی کسمسا کر رو دی۔۔۔
اوہ سوری سوری۔۔۔ وہ فورا سے پیچھے ہوتی اسے بہلانے لگی۔۔۔ ماں نے بچی اسکی گود سے لی اور اسے محبت سے دیکھتے اسکا بوسہ لیا۔۔۔
یہ انکی بیٹی کی زندگی تھی۔۔۔
امان یہ سب کیا ہے بیٹا۔۔۔ ماں اسے شاپروں سے لدے پھندے دیکھ اچھا خاصا غصہ ہوئیں۔۔۔ اس معاملے میں ایک ماں کا غصہ بیٹے کو بالکل قبول نہیں۔۔۔ اسنے شاپر عفرا کو پکڑاتے انکے گرد حصار قائم کرتے کہا تو ماں کی آنکھیں چھلک پڑیں۔۔۔
اللہ تمہیں دن دگنی رات چگنی ترقی عطا کرے۔۔ وہ صدق دل سے گویا ہوئیں۔۔
کچھ ہی دیر میں وہ سب کمرے میں صلہ کے بیڈ کے ارد گرد کھڑے اسکی پٹی کھلنے کے منتظر تھے جبکہ ڈاکٹر اسکی پٹی کھول رہا تھا۔۔۔
اسکی پٹی کھلتے ہی اسکی آنکھیں کھلنے سے پہلے عفرا نے دونوں بچیاں باری باری اسکی گود میں رکھیں اور خود پیچھے ہو کر کھڑی ہوگئ۔۔۔
صلہ نے چونک کر آہستگی سے آنکھیں کھولتے نیچے اپنی گود میں دیکھا اور وہاں دھندلے دھندلے سے دو ننھے وجودوں کو دیکھ کر اسکی آنکھوں سے آنسووں جاری ہو گئے۔۔۔
یہ اسکی بیٹیاں تھیں۔۔ اسکی ننھی پریاں۔۔۔ اسکے وجود کا حصہ۔۔۔ اسکے جینے کی وجہ۔۔۔ کتنی خواہش کی تھی اسنے انہیں دیکھنے کی ۔۔۔ چھونے کی۔۔۔ انکے لمس کو محسوس کرنے کی۔۔۔ انہیں سینے سے لگانے کی۔۔۔
آنسو ہے در ہے اسکی آنکھوں سے بہہ رہے تھے۔۔۔
اسنے شدت سے ان دونوں کو اپنے سینے میں بھینچا۔۔ اسکی پرشدت گرفت کے باعث بچیاں کسمسا کر رونے لگیں جب عفرا نے آگے بڑھ کر اسے اہنے حصار میں لیتے اسکے ماتھے کا بوسہ لیا اور آہستہ سے دونوں بچیاں اسکی گود سے اٹھا لیں۔۔۔
مس صلہ روئیں مت۔۔ رونا آپکے لئے بہتر نہیں۔۔ ڈاکٹر نے اسے نرمی سے کہا۔۔۔ اور اب آپ کیسا محسوس کر رہی ہیں۔۔۔
ڈاکٹر مجھے سب دھندلا دھندلا سا دکھائی دے رہا ہے۔۔۔ وہ تھوک نگلتی ڈاکٹرکی جانب دیکھتی پریشانی سے گویا ہوئی۔۔۔
ایسا آپکو اپنی آنکھوں کی نمی کے باعث محسوس ہو رہا ہے۔۔۔ اس لئے رونے سے پرہیز کریں۔۔ اور آنکھوں کو ملنا نہیں ہے۔۔۔
ڈاکٹر انہیں بریف کرتا وہاں سے چلا گیا تو عفرا نے بچیاں واپس صلہ کی گود میں ڈالتے موبائل نکالا اور ان سب کی ایک ساتھ سیلفی لیتے ان خوبصورت لمحات کو کیمرے کی آنکھ میں بند کرنے لگی۔۔۔
منظر مکمل تھا ۔۔۔ صلہ کی گود میں موجود اسکی ننھی پریاں اور ارد گرد موجود اسکی فکر میں گھلتے اسکے اپنے۔۔۔
لیکن یہ کوئی صلہ سے پوچھتا کہ اسکے لئے یہ منظر کس قدر ادھورا تھا۔۔۔
آج اسکے اتنے اہم دن کے موقع پر اسکا ہمسفر اسکے ساتھ نہیں تھا۔۔۔
وہ اسکی مجبوریاں سمجھنا چاہتی تھی لیکن آج دل کوئی بات سمجھنا نہیں چاہتا تھا۔۔۔ ٹھیک ہے وہ مجبور تھا۔۔۔ اسکے سر بہت سی ذمہ داریاں تھیں لیکن وہ اسکی مجبوری کیوں نہیں سمجھ سکتا کہ اسے بھی آج اپنے شوہر کی ضرورت ہے۔۔۔ نمی کو آنکھوں میں امڈنے سے پہلے ہی وہ روک چکی تھی۔۔۔
پچھلے دنوں وہ جس قدر اذیت میں رہی تھی یہ وہی جانتی تھی۔۔۔
دنیا صرف اسکے لئے رک گئ تھی۔۔۔ باقی سب کے لئے تو چل رہی تھی۔۔۔ وہ اپنے رب کی مشکور تھی جس نے اسے اتنا بڑ دھچکا لگا کر دوبارہ آنکھوں کا نور عطا کر دیا تھا ورنہ اندھا رہ کر وہ دیکھ چکی تھی۔۔۔ یہ دنیا اسکی سوچ سے زیادہ ظالم ہے اسے اچھے سے سمجھ آ گیا تھا۔۔۔
دنیا کو آپ سے کوئی غرض نہیں۔۔۔ اسے اپنی پرواہ اب خود کرنی تھی۔۔ دوسروں کی باتوں کو ذہن پر سوار کرنے کا انجام وہ دیکھ چکی تھی ۔ اس لئے اب وہ کسی بھی سوچ کو ذہن پر ہاوی ہونے نہیں دے سکتی تھی۔۔۔
اسنے دل کی حسرتوں کو زبان پر لانا چھوڑ دیا تھا۔۔۔ لیکن لاشعور کا کیا کرتی جو بار بار بھٹک بھٹک کر اسی کی جانب جا رہا تھا۔۔۔
بلآخر اسکے موبائل کی بیل بجی تو سکرین پر جگمگاتا نمبر دیکھ اسکے ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ ابھری۔۔۔
مانا کہ تم برے ہو لیکن اتنے بھی نہیں۔۔۔ وہ دل ہی دل اس سے مخاطب ہوئی۔۔۔ کاش کے انکے درمیان سے ان مجبوریوں کی دیوار ہٹ جائے۔۔۔ اسنے سوچتے ہوئے موبائل اٹھا کر کان سے لگایا۔۔۔
*****
