Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 01

خوابِ جنون
پہلی قسط
سارے کمرے میں موتیے اور گلاب کے پھولوں کی خوشبو پھیلی تھی۔۔۔ کمرے کی سجاوٹ آنکھوں کو خیرہ کرتی تھی جیسے اسے بہت محبت اور ارمانوں سے سجایا گیا ہو۔۔۔۔نئ دلہن کی مانند سجے کمرے میں جابجا جلتی موم بتیوں سے لیونڈر اور موتیے کی پھوٹتی خوشبو پورے کمرے کی فضا میں پھیلتی اسے معطر کر رہی تھی۔۔۔ وہ کمرے کے کونے میں کھڑی ویران چہرے متوحش اور خالی نگاہوں سمیٹ کمرے کو چاروں جانب سے دیکھتی ضبط کی آخری انتہاوں پر تھی۔۔۔ آج یہ سیج اسکے خوابوں ارمانوں اور خوشیوں کے مقبرے پر قائم کی گئ تھی۔۔ اسے اپنا دل بھی ان جلتی موم بتیوں کی مانند جلتا محسوس ہوا۔۔۔ اسے اس مسحور کن کرتے کمرے میں اپنا دم گھٹتا محسوس ہوا تو وہ نم آنکھوں سمیٹ سینے کے مقام پر ایک رکھتی اسے زور سے مسلنے لگی۔۔۔ اپنوں کی بے حسی اسے خون کے آنسو رلا رہی تھی۔۔۔ کچھ ہی خوشیوں کے محل سجا سکتا تھا بھلا۔۔۔
اسے اپنا دل پھٹتا محسوس ہوا۔۔۔ کیا اسکی زندگی میں اب کچھ بچا تھا اسنے کرب سے سوچا۔۔۔ لیکن شاید ابھی زندگی کو اسکی لمبی آزمائش منظور تھی۔۔۔۔۔

کچن کی اونچی کھڑکی سے روشنی چھن چھن کر اندر کچن میں داخل ہو رہی تھی ایسے میں وہ لان کے پرنٹڈ سوٹ میں ملبوس اونچا جوڑا کئے آنچل کندھے سے لاکر دوسری طرف کو باندھے دونوں ہاتھ کمر پر ٹکائے جھنجھلاہٹ و بیزاریت سے کچن سنک میں پڑے برتنوں کو دیکھ رہی تھی جو رات سے اسکے نظر کرم کے منتظر تھے۔۔۔ امی کی طبیعت ناساز تھی جسکے باعث ابھی تک وہ برتن اپنی ناقدری پر رو رہے تھے ورنہ امی رات میں دھونے والے برتن چھوڑ کر سونے کے سخت خلاف تھیں اور عفرا کا کل پہلا پیپر تھا تو اسے تو کتابوں سے فرصت ہی نا تھی لے دے کر اسکی ننھی سی جان ہی بچتی تھی۔۔۔۔ ہفتے میں ایک چھٹی ملتی ہے پر میری قسمت میں اس چھٹی پر بھی سکون نہیں اسنے جھنجھلاتے ہوئے منہ ٹیرھا کرتے سوچا
اسنے ناشتے کا ارادہ فلحال ملتوی کیا اور کوفت سے بازو اوپر چڑھاتے سنک کی جانب بڑھی۔۔۔
کیا ہو رہا ہے صبح صبح۔۔۔ وہ منہمک سی بعجلت صابن لگے برتنوں کو دھو رہی تھی کہ دفعتاً بالاج ہوا کے جھونکے کی مانند کچن میں داخل ہوا اور اسکے سر پر ایک چیت رسید کرتے اچھل کر شلف پر بیٹھا۔۔۔
صلہ نے ایک غصیلی نگاہ سے اسے نوازا اور پھر سے برتن دھونے لگی۔۔۔ اچھا نا اب برتنوں کا غصہ مجھ پر تو مت نکالو نا۔۔۔ اچھا چھوڑو اسے میری بات سنو۔۔۔ وہ کچھ سوچتا ہوا شلف سے اترا اور نل بند کرتے اسکی بازو سے تھامتے اسکا رخ اپنی جانب کرتا لجاہت سے گویا ہوا۔۔۔ یہ سب لمحوں کا کھیل تھا کہ صلہ منہ کھولے اسے دیکھتی ہی رہ گئ۔۔۔
کیا تم نے گھر میں ہمارے رشتے کی بات کی۔۔۔ اسکی پرجوش سی آواز پر وہ جو کچھ کہنے کو منہ کھولنے جا رہی تھی بے بسی سے لب آپس میں پیوست کر گئ۔۔۔چہرے کے تاثرات میں اسکا جواب پوشیدہ تھا۔۔ بالاج نے تاسف سے سر نفی میں ہلاتے اسکا بازو چھوڑا۔۔۔۔
تم اپنے گھر والوں کو بھیجو تو شاید کوئی بات بن جائے۔۔۔ وہ ہونٹ چباتی چہرا جھکا کر گویا ہوئی۔۔۔
صلہ صلہ صلہ۔۔۔۔ وہ دونوں ہاتھوں سے سر تھامتے کوفت سے گویا ہوا۔۔۔
تم سمجھ نہیں رہی۔۔۔ امی کو تو میں رشتے کے لئے بھیج دوں گا مگر تم بھی تو گھر میں بات کر کے رکھو۔۔۔ کچھ تو چچی جان کا بھی ذہن بناو اس رشتے کے لئے۔۔۔ ورنہ امی اور چچی کے ازلی جھگڑوں سے تم واقف ہی ہو۔۔۔ اگر میں منت سماجت کر کے امی کو اس رشتے کے لئے راضی کر کے لے بھی آیا تو اگر خدانخواستہ چچی جان نے اس رشتے سے انکار کر دیا تو امی نے تو اس بات کو انا کا مسلہ بنا لینا ہے۔۔ اس لئے کہہ رہا ہوں چچی سے بات کر کے انکا ذہن تو بناو تاکہ اگر امی میرا رشتہ لے کر آئیں تو وہ انکار نا کریں۔۔۔۔ وہ ایک ہاتھ کمر پر رکھے دوسرے سے ماتھا مسلتا شدید اضطراب کا شکار لگ رہا تھا۔۔۔
ہمم۔۔۔ کوشیش کرتی ہوں۔۔۔ صلہ بھی الجھی الجھی سی پرسوچ انداز میں گویا ہوئی۔۔۔
مجھے جلد بتانا تا کے میں امی کو بھیج سکوں اسے تنبیہہ کرتا وہ سیڑھیاں چڑھتا اوپر اپنے پورشن میں چلا گیا جبکہ صلہ کھوئی کھوئی سی اسکی پشت تکتی رہ گئ۔۔۔ اسے امی سے بات کرنا ایک محاز سر کرنے کے برابر لگا۔۔۔ امی اور تائی کی روز اول سے کبھی نا بنی تھی۔۔۔ وہ ایک ہی گھر کے الگ الگ پورشن میں اجنبیوں کی طرح رہتی تھیں۔۔ ناجانے اب یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھنے والا تھا

دھاتی گولہ ہر جانب اپنے نارنجی پر پھیلاتا ایک نئ صبح کی نوید سنا رہا تھا ایسے میں دن کا اجالا اس چھوٹے سے سرخ اینٹوں سے بنے گھر پر بھی اپنے پر پھیلا رہا تھا ۔۔ جس میں لوہے کے مضبوط بیرونی گیٹ سے آگے بڑھو تو چھوٹی سی روش تھی جسکے دوسری جانب تھوڑا سا کچا صحن تھا جسکی ایک طرف مختلف پھول اور گھریلو سبزیاں اگا کر اسے چھوٹے سے ہوم گارڈن کی شکل دی گئ تھی۔۔۔ تھوڑا سا آگے بڑھو تو روش کے اختتام پر دو زینے چڑھ کر برآمدا آتا تھا جسکے ایک اطراف میں کچن تھا جبکہ برابر پر دو کمرے تھے۔۔۔
وہ گھر نفاست اور سلیقے کا منہ بولتا ثبوت تھا۔۔۔
ایسے میں وہاں دائیں جانب بنے کچن سے پراٹھوں کا دھواں اور چائے کی مخصوص خوشبو اٹھ رہی تھی۔۔۔
باہر برآمدے میں موجود تخت پر منیبہ بیٹھی اپنے ایک سالہ بیٹے کو دہی کھلا رہی تھی۔۔۔۔
دفعتاً اپنے کمرے کا دروازہ کھول کر سفید کرتا شلوار میں ملبوس امان گیلے بال اچھے سے سیٹ کئے کرتے کے بازو فولڈ کئے اپنے کام پر جانے کو بالکل تیار سا کمرے سے نکلا۔۔۔
امی ناشتہ تیار ہے کیا۔۔۔۔ وہ مسکراتا ہوا سیدھا تخت کے پاس آیا اور جھک کر ایک سالہ مغیث کو پیار کرتا وہیں سے گویا ہوا۔۔۔
ہاں بیٹا ناشتہ تیار ہے آجاو تم دونوں بھی۔۔۔ نزہت بیگم چائے چھانتے دوسری طرف انڈے فرائی کرنے لگیں۔۔۔
بھائی آپ اسے پکڑیں میں زرا امی کیساتھ ناشتہ لگوا دوں۔۔۔ منیبہ نے بعجلت تخت سے اترتے مغیث امان کو پکڑا اور خود کچن کی جانب بڑھی۔۔۔
کچھ ہی دیر میں وہ تیوں اسی برآمدے کے دوسرے کونے میں پڑی چھوٹی سی گول میز کے گرد بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے۔۔۔
امان بیٹا جاتے ہوئے بہن کو اسکے گھر چھوڑ دینا۔۔۔۔ امان ناشتہ ختم کرکے ہاتھ صاف کرتا چائے کی چسکیاں لے رہا تھا جب نزہت بیگم برتن سمیٹے گویا ہوئیں۔۔۔
تم رکو گئ نہیں۔۔۔ وہ چونک کر منیبہ کی جانب متوجہ ہوا جو اب مغیث کیساتھ کھیل رہی تھی۔۔۔
نہیں بھیا ابھی نہیں۔۔۔ جلد دوبارہ چکر لگا لوں گی کیونکہ نعمان پیچھے اکیلے ہیں اور باہر کا کھانا بھی وہ پسند نہیں کرتے تو پھر بہت مسلہ ہو جاتا ہے پیچھے انہیں۔۔۔ اب بھی کل سے سینکڑوں فون کالز آچکی ہیں انکی کبھی انہیں ٹائی نہیں ملتی تو کبھی والٹ۔۔۔۔ کافی پریشانی ہو جاتی ہے پھر انہیں اسی لئے واپس جا رہی ہوں لیکن جلد ہی دوبارہ چکر لگا لوں گی۔۔۔
تو اس میں بھی سراسر غلطی تمہاری ہی ہے۔۔۔ کیوں اچھے بھلے سیلف میڈ بندے کی سبھی عادتیں بگھاڑ کر رکھ دی ہیں تم نے۔۔۔ وہ مسکرا کر اسکے سر پر چیت رسید کرتا گویا ہوا تو منیبہ کھلکھلا کر ہستی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
یہ سب تو میرا فرض ہے نا بھائی۔۔۔ مانا کہ وہ سیلف میڈ بندے ہیں اپنے سبھی کام خود کرتے تھے کیونکہ پھوپھو اور پھوپھا جی کی ڈیٹھ کے بعد وہ بہت اکیلے ہوگئے تھے لیکن ہماری شادی کے بعد میری موجودگی میں وہ اپنے کام خود کرتے تو پھر میرا انکی بیوی ہونے کا کیا فائدہ بھلا۔۔۔ یہ سب تو میرا فرض ہے نا۔۔۔وہ اب کبھی برآمدے اور کبھی کمرے کے چکر لگاتی مغیث کی چیزیں اپنے منی بیگ میں رکھ رہی تھی۔۔۔
اور تو اور امی جن دنوں میں یہاں ہوتی ہوں وہ کام والی کو بھی چھٹی دے دیتے ہیں کہتے ہیں کہ میری غیر موجودگی میں کام والی گھر کام کرنے آئے یہ بہت نامناسب بات ہے اور اب جب میں نے گھر جانا ہے نا تو اللہ گھر کا حال دیکھنے لائق ہونا ہے۔۔۔ بات کرتے اچانک اسے اپنا دکھڑا یاد آیا تو ہاتھ روکتی کچن سے نکلتی ماں کو دیکھ کر شکایتی انداز میں گویا ہوئی۔۔۔۔
نزہت بیگم اسے دیکھ کر مسکرا دی۔۔۔ اچھا سمجھدار بچہ ہے وہ اس لئے۔۔۔
اچھا تم زرا جلدی کرو مجھے دیر ہو رہی ہے۔۔۔ موبائل کی ٹچ اسکرین پر انگلی چلاتے امان نے اسے وقت کا احساس دلاتے ٹوکا تو وہ ہڑابڑا کر واپس مغیث کا فیڈر اور پیمپر وغیرا سمیٹنے لگی کہ دفعتاً اسکی آنکھیں چمکیں اور وہ بیگ کی زپ بند کرکے امان کے پیچھے آ کھڑی ہوئی۔۔۔
امی ی ی ی ی ۔۔۔ ویسے آپ خالہ کی طرف بھائی کے لئے صلہ کا ہاتھ مانگنے کب جا رہی ہیں۔۔۔
وہ ایک نظر بھائی کو دیکھتی ماں سے گویا ہوئی۔۔۔ اسکی بات سن کر فون پر چلتا امان کا ہاتھ زرا کی زرا ٹھٹھکا لیکن وہ جلد ہی خود کو کمپوز کرتا پھر سے اپنے کام میں مشغول ہو گیا۔۔۔
آج ہی جانے کا سوچا ہے بیٹا۔۔۔ اب تو میں بھی جلد از جلد صلہ کو بہو بنا کر گھر لانا چاہتی ہوں آخر ایک ہی تو خواہش ظاہر کی ہے میرے بیٹے نے میں جلد از جلد اسے پورا کرنا چاہتی ہوں۔۔۔
وہ اپنے دراز قد خوبرو بیٹے کی ذہانت سے پر آنکھوں کی جانب دیکھتی گویا ہوئیں جو بظاہر ان سب سے لاتعلق سا موبائل پر کچھ کر رہا تھا لیکن درحقیقت اسکی سبھی حسیں انہی کی جانب متوجہ تھیں۔۔۔ گندمی رنگت پر ذہانت سے بھرپور چمکتی آنکھیں۔۔۔ کھڑی مغرور ناک اور گھنی مونچھوں تلے کٹاو دار عنابی لب اسکی پرسنالٹی خاصی روبدار تھی۔۔۔ نزہت بیگم نے دل ہی دل بیٹے کو دیکھتے ماشااللہ کہا۔۔۔
چلو منیبہ دیر ہو رہی ہے۔۔۔ وہ موبائل بند کر کے جیب میں ڈالتا اٹھ کھڑا ہوا جبکہ منیبہ بھی اسے باہر نکلتا دیکھ بھاگ کر چادر اوڑھتی مغیث کو اٹھا کر ماں سے ملتی باہر نکلی

اے جنگلی بلی کیا دیکھ رہی ہو ۔۔۔ ہر وقت ہی کسی نا کسی کی ٹوہ میں لگی رہتی ہو۔۔۔
کِرن شارٹ شرٹ اور پلازو میں ملبوس آنچل کندھے پر ڈالے شانوں سے زرا نیچے تک جاتے بال کھلے چھوڑے آنچل کا پلو دونوں ہاتھوں سے گھماتی چھت کی مندیر پر کھڑی اچک اچک نیچے صحن میں جھانک رہی تھی۔۔۔ جب موبائل پر کچھ ٹائپ کرتا بالاج کمرے سے نکلا اور بہن کو یوں نیچے جھانکتے پا کر اسکے سر پر چیت رسید کرتا گویا ہوا۔۔۔۔
ارے ہٹو نا۔۔۔ اسنے جھنجھلا کر بالاج کا ہاتھ جھٹکا محویت ابھی تک وہیں تھی۔۔۔
لگتا ہے نیچے چچی کے گھر کوئی خاص مہمان آئے ہیں خاصا اہتمام کیا لگتا ہے۔۔۔
کیااااا۔۔۔۔ کرن کی بات پر بالاج کے کان کھڑے ہوئے وہ بھی اچک کر آگے کو ہوتا نیچے دیکھنے لگا جہاں عفرا مسکراتی ہوئی ہاتھ میں برتنوں کی ٹرے تھامے واپس کچن میں رکھنے جا رہی تھی پیچھے ہی چچی بھی برتن تھامے کچن کی جانب بڑھی ۔۔۔ دونوں کے چہروں پر الوہی چمک تھی وہ مسکرا کر آسودگی سے آپس میں کچھ باتیں کر رہی تھیں۔۔۔ غالباً کھانا کھانے کے بعد مہمانوں کے چلے جانے کے بعد وہ لوگ برتن سمیٹ رہے تھے۔۔۔
بالاج کے گرد خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگی۔۔۔ ناجانے کیوں اسکی چھٹی حس اسے شدت سے کچھ غلط ہونے کا احساس دلا رہی تھی۔۔۔ اسنے بعجلت ہاتھ میں تھامے موبائل پر واٹس ایپ کھول کر صلہ کے نام کی چیٹ کھولی۔۔۔ اب اسکے ہاتھ تیزی سے میسج ٹائپ کر رہے تھے۔۔۔ وہ اب سارا معاملہ صلہ کی زبانی جاننا چاہتا تھا۔۔۔

دھاتی گولہ جیسے سوا نیزے پر موجود ہر جانب آگ برسا رہا تھا۔۔ گرمیوں کی سخت دوپہر میں آگ برساتے سورج تلے سفید یونیفارم میں ملبوس صلہ پسینے میں نہائی تیز تیز قدم اٹھاتی گھر کی جانب رواں تھی۔۔۔ کالج وین اسے مین روڈ پر ہی اتار دیتی تھی۔۔۔ مین روڈ سے گھر تک کے درمیان ایک لمبی گلی تھی اور گرمیوں کی دوپہر میں اس گلی کو پاٹنا اسکے لئے محال ہو جاتا۔۔۔۔ حلق سوکھ کر کانٹا بن گیا تھا۔۔ وہ گھر جاتے ہی ٹھنڈا پانی حلق سے اندر انڈیلنے کے بعد ٹھنڈے پانی سے شاور لینے کی شدت سے خواہشمند تھی۔۔۔
اللہ اللہ کر کے وہ گھر پہنچی۔۔۔ چھے مرلے کا وہ ایک متوسط درجے کا گھر تھا۔۔۔ جس میں آہنی گیٹ سے اندر داخل ہوتے ہی کھلا سا صحن تھا جس کے آگے چھوٹے سے لاوئنج کے بعد سامنے دو کمرے تھے جبکہ ایک سائڈ پر کچن اور بیٹھک تھی اور لاوئنج کی دوسری سمت سے اوپر چھت کو جانے والی سیڑھیاں تھی جہاں پر صلہ کے تایا کی فیملی مقیم تھی۔۔۔ لاوئنج میں داخل ہوتے ہی اسنے بیگ صوفے پر پھینکا اور چادر بھی اتار کر وہیں بیگ کے پاس رکھتی فریج کی جانب بڑھی۔۔۔ فریج سے یخ ٹھنڈے پانی کی بوتل نکال کر وہ واپس لاوئنج کے صوفے پر بیٹھتی بوتل ہی منہ کو لگا کر گھونٹ گھونٹ پانی کے پینے لگی۔۔۔ ٹھنڈا پانی اندر جاتے ہی دماغ کو سکون ملنے لگا تھا۔۔۔ امی اور عفرا غالباً سو رہی تھیں۔۔۔
عفرا کے پیپرز ختم ہو گئے تھے کل اسکا آخری پیپر تھا اسی لئے شاید وہ آج آرام فرما رہی تھی۔۔۔
پانی پی کر وہ شاور لینے کی نیت سے اپنے کمرے کی جانب بڑھی۔۔۔ کچھ ہی دیر بعد وہ فریش سی لان کے ہلکے گلابی کلر کے سوٹ میں ملبوس گیلے بال پشت پر بکھرائے واپس لاوئنج میں آئی۔۔۔
گلابی سوٹ میں اسکی رنگت بھی گلاب کی مانند دمک رہی تھی۔۔۔۔ بلاشبہ وہ ایک خوبصورت لڑکی تھی۔۔۔ اب اسکا رخ کچن کی جانب تھا۔۔۔ کچن میں پہلا قدم رکھتے ہی وہ ٹھٹک کر رکی۔۔۔ اسکے ٹھٹکنے کی وجہ کاونَر ٹاپ پر موجود امی کے نئے ڈنر سیٹ کی موجودگی تھی۔۔۔ یہ ڈنر سیٹ انکے گھر میں تب ہی نکلتا جب گھر میں کوئی مہمان آئے ہوتے ۔۔ وہ ہونٹ چباتی آگے بڑھی۔۔۔ اسنے باری باری سبھی ڈھکن اٹھا کر کھانوں کا جائزہ لیا۔۔ چکن بریانی ۔۔۔ کورمہ۔۔۔ وائٹ کراہی۔۔۔ آلو قیمہ۔۔۔ اسکے علاوہ فروٹ ٹرائفل اور کھیر تو وہ پہلے ہی فریج میں پڑی دیکھ ہی چکی تھی۔۔۔
اتنا اہتمام۔۔۔ وہ بڑابڑاتی ہوئی بریانی پلیٹ میں ڈالنے لگی جب اسے اپنے پیچھے قدموں کی ابھرتی چاپ سنائی دی۔۔۔
ارے صلہ تم کب پہنچی ہمیں پتہ ہی نہیں چلا۔۔۔ عفرا کچن میں داخل ہوتی اسے دیکھ کر مسکرائی۔۔۔۔
آج گھر میں کوئی آیا تھا کیا۔۔۔ وہ نافہم نگاہوں سے عفرا کو دیکھتی وہیں کھڑے کھڑے کھانا کھانے لگی۔۔۔
ہاں نا۔۔۔ خالہ اور امان بھائی آئے تھے۔۔۔ پتہ ہے کیوں۔۔۔ عفرا فریج سے پانی کی بوتل نکال کر پانی گلاس میں انڈیلتی پرجوش سی گویا ہوئی ۔۔۔ کیوں۔۔۔۔
عفرا کا یوں تجسس پھیلانا صلہ کو ایک آنکھ نا بھایا۔۔۔
خالہ امان بھائی کے لئے امی سے تمہارا رشتہ مانگنے آئی تھیں۔۔۔
کیاااااا۔۔۔۔ عفرا کے چہک کر کہنے پر صلہ کو اپنے گلے میں کھانا اٹکتا محسوس ہوا۔۔۔
حیرت در حیرت تھی۔۔۔ ایسا کیسے ہو سکتا تھا بھلا۔۔۔ اسکی ساری بھوک مر گئ تھی۔۔۔ شاک تھا کہ ختم ہونے کا نام ہی نا لے رہا تھا۔۔۔
پھر امی نے کیا کیا۔۔۔ بمشکل وہ اپنے حواس قائم کرتی گویا ہوئی۔۔۔ جو بالاج کو اس بات کا پتہ چلتا تو وہ ناجانے کیا ہنگامہ بھرپا کرتا۔۔۔
وہ تو پہلے ہی دن رت اسکے پیچھے پڑا تھا کہ وہ چچی سے انکے رشتے کی بات کرے۔۔۔
امی نے انہیں جواب دینے کے لئے وقت مانگا ہے۔۔۔ اسکی بات سن کر
بے ساختہ صلہ نے پلیٹ وہیں رکھتے تھوک نگلا۔۔
سائیں سائیں کرتے دماغ کیساتھ وہ امی کے کمرے کی جانب بڑھی۔۔۔ وہ اب امی سے براہ راست ساری بات کرنا چاہتی تھی اور اسکی یہ جرات ناجانے کونسے طوفان کا پیش خیمہ بننی تھی۔۔۔

جاری ہے