khwab e Junoon by Umme Hani readelle50005 Episode 06
Rate this Novel
Episode 06
بلاو اسے اندر۔۔۔ وہ ٹھنڈے لہجے میں عفرا سے کہتیں سہارے سے اٹھ کر بیڈ کراوں سے ٹیک لگا گئ۔۔۔ انکے چہرے پر اب سکوت تھا۔۔۔ ہر طرح کے جذبے سے خالی چہرا جسے دیکھ کر کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا تھا کہ انکے اندر کیا چل رہا ہے۔۔۔
اسلام علیکم چچی جان۔۔۔ دفعتاً کمرے میں بھاری مردانہ آواز گھونجی تو صلہ نے سر اٹھا کر سامنے دیکھا جہاں جینز پر سرمئ ڈریس شرٹ پہنے بازو پیچھے کو فولڈ کئے بال اچھے سے سیٹ کئے بالاج خاصا مہذب لگ رہا تھا۔۔۔ چہرے پر ہلکی بڑھی شیو اسکو مزید پر کشیش بنا رہی تھی۔۔۔اسکی طرف دیکھتے ہی صلہ کا دل زور سے ڈھرکا۔۔۔ کیسے دستبراد ہو سکتی تھی وہ اس شخص سے۔۔۔
ماں نے اشارے سے سلام کا جواب دیا۔۔۔ عفرا نے ایک کرسی لا کر ماں کے پاس رکھی تو وہ وہیں آ کر بیٹھ گیا۔۔
چچی آپ ہمارے میں سب جان چکی ہیں۔۔۔ میں آپکے پاوں پڑتا ہوں چچی۔۔۔ ہمیں ایک دوسرے سے جدا مت کریں۔۔۔ پلیز چچی۔۔۔۔ اپنی بیٹی کا ہاتھ میرے ہاتھ میں تھما دیں۔۔ میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں میں کبھی اسکی آنکھ میں آنسو نہیں آنے دوں گا۔۔۔ بساط بھر دنیا جہاں کی سبھی خوشیاں اسکے قدموں میں لا کر رکھوں گا۔۔۔۔ ہر دکھ ہر سکھ میں صلہ کے ساتھ کھڑا رہوں گا لیکن پلیز خدارا آپ دل بڑا کریں پرانی رنجیشوں کو بھول جائیں۔۔۔ ہمارے رشتے کو پرانی رنجیشوں اور تلخیوں کی نظر نا کریں۔۔۔ پلیز چچی۔۔۔
میں جانتا ہوں کہ آپ امی کو لے کر کچھ تحفظات کا شکار ہیں لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ ہمیشہ مجھے صلہ کی ڈھال بنیں پائیں گی۔۔۔ وہ سر جھکائے چچی کے پاوں تھامے رقت آمیز لہجے میں کہہ رہا تھا۔۔۔
نصرت بیگم بے تاثر چہرے سے اسے دیکھ رہی تھیں۔۔۔
انکی پائینتی پر بیٹھی صلہ خاموش آنسو بہا رہی تھی وہ کبھی ایک نظر سر جھکائے بیٹھے بالاج پر ڈالتی تو کبھی ایک نظر ماں پر۔۔۔
عفرا ان سے کچھ فاصلے پر کھڑی ہونٹ کچلتی ان سب کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
اپنے ماں باپ کو بھیجو کہ باقاعدہ رشتہ لے کر آئیں۔۔ وہ کسی غیر مری نقطے کو دیکھتیں بے تاثر لہجے میں گویا ہوئیں۔۔۔
انکی بات سن کر صلہ اور بالاج دونوں نے بیک وقت چہرا اوپر اٹھایا۔۔۔ دونوں کے چہرے ہی خوشی سے کھل اٹھے تھے۔۔۔۔
میری اس حوصلہ افزائی کے لئے آپکا بہت بہت شکریہ چچی۔۔۔ میں شام میں ہی امی ابا کو بھیجتا ہوں۔۔۔ وہ چہکتے لہجے میں کہتا چچی کا ہاتھ تھام کر ہاتھ کا بوسہ لیتا اسی ہاتھ کو بھاری بھاری دونوں آنکھوں سے لگاتا اٹھ کر چلا گیا۔۔۔ صلہ بھی اس کے پیچھے ہی باہر نکل گئ۔۔۔
*****
امی نیچے بالاج آیا ہے اور بنا ایک بھی نظر اوپر دیکھے سیدھا چچی کے پورشن میں چلا گیا ۔۔۔ناجانے کیا کرنے گیا ہے وہ وہاں۔۔ امی میرا تو دل بہت گھبرا رہا ہے۔۔۔ تانیہ جو کہ مندیر پر ہی کھڑی نیچے دیکھ رہی تھی بالاج کو گھر میں داخل ہوتے اور بجائے اوپر آنے کے سیدھا چچی کے گھر جاتا دیکھ کر بلبلا کر پلٹتی اندر ماں کے پاس آئی۔۔۔ بیٹے کی خودسری اور حتمی انداز دیکھ رات سے ناہید بیگم کا بی پی شوٹ کر گیا تھا۔۔۔ بیٹے کا غم انہیں اندر ہی اندر کھا رہا تھا۔۔۔ اب بھی وہ آنچل سے اپنا سر زوردارانہ انداز میں باندھے مضحمل سی بستر پر لیٹیں تھیں جب ہانپتی کانپتی تانیہ کو اندر آتا دیکھ دل تھام کر ایک ہی جھٹکے سے اٹھ بیٹھیں ۔۔۔ سر پر باندھا آنچل ایک ہی جھٹکے میں اتار کرپھینکا۔۔۔ ناجانے انکے بدن میں اتنی پھرتی کہاں سے آ گئ تھی۔۔۔۔
اے ثانیہ تو بھی چل نیچے میرے ساتھ آج میں ان جادو گرنی ماں بیٹیوں کو نہیں چھوڑوں گی۔۔۔ ناہید بیگم دونوں بیٹیوں کو آوازیں لگاتیں بعجلت جوتا پہن رہی تھیں
*****
واہ زبردست بالاج تم نے تو کمال کر دیا۔۔۔ مطلب جو ابھی تک میں نہیں کر پائی وہ تم نے کر دیکھایا۔۔۔ اسے باہر تک چھوڑنے جاتی صلہ چہک کر گویا ہوئی۔۔۔
چلو شکر کوئی ایک کام تو پار لگا اب میں امی کو شام۔۔۔۔ دونوں بات کرتے کرتے لاوئنج سے باہر نکلے آئے تھے جب اوپر سے امڈتے شور کو سن وہ دونوں ہی گھبرا کر ایک دوسرے کو دیکھتے اوپر کی جانب متوجہ ہوئے۔۔۔
شٹ شٹ۔۔۔ صلہ تم اندر چچی کے پاس جاو۔۔۔ انہیں اپنی جانب متوجہ رکھنا اور لاوئنج کا دروازہ اچھے سے بند کر لو میں اوہر دیکھتا ہوں ورنہ یہ لوگ سارا بنا بنایا کام بگھار دیں گے۔۔ بالاج گھبراہٹ میں کہتا صلہ کو اندر بھیج کر خود بعجلت ایک ایک جست میں دو دو سیڑھیاں پھیلانگتا اوپر چڑھا جہاں اب وہ ماں اور بہنوں کو نیچے آتا دیکھ سکتا تھا۔۔۔
کہاں جا رہی ہیں آپ سب۔۔۔ چھت پر چڑھتا ہی وہ پھنکارا۔۔۔
قتل کردوں گی میں ان جادوگرنی ماں بیٹیوں کو جنہوں نے مجھ سے میرا بیٹا چھین لیا۔۔۔
ناہید بیگم غصے سے کانپنے لگی تھیں۔۔۔ کہاں گوارا تھی انہیں اکلوتے بیٹے کی یوں نظراندازی۔۔۔
آپ نیچے جائیں گی لیکن صرف اور صرف چچی سے میرے لئے رشتہ مانگنے ۔۔۔ بالاج سرخ نگاہوں سے ماں کو دیکھتا حتمی انداز میں چبا چبا کر گویا۔۔۔
ارے واہ ماں کیوں مانگنے لگی اسکا رشتہ۔۔۔
اتنے برے دن نہیں آئے ابھی ہمارے کہ ہم دشمنوں کے در پر جائیں۔۔۔
اس سے پہلے کہ ناہید بیگم کچھ کہتیں دو دونوں ماں کے بولنے سے پہلے ہی بازو چڑھاتیں میدان میں کود پڑیں تھیں۔۔۔ بالاج کو انکی یہ ہی عادت زہر لگتی تھی۔۔ اکلوتا بیٹا تھا ماں کا۔۔۔ انہیں تو کسی نا کسی طرح راضی کر ہی لیتا لیکن یہ دونوں ہر مرتبہ ہر مسلے میں گھس کر اسے بگھار دیتیں تھیں ۔۔
بالاج نے ان دونوں سے بحث کرنے کی بجائے غصے میں دونوں کو ہی ایک کلاوے میں بھرتے اندر لاوئنج میں پھینکا۔۔۔
آہ ماں۔۔۔
ہائے اللہ میں مر گئ۔۔۔
وہ دونوں ہی بے طرح نیچے گریں تھیں ناجانے کہاں کہاں چوٹیں آئیں تھیں تبھی تو بے طرح چلانے لگی تھیں۔۔
ناہید بیگم چیخیں چلاتیں بیٹیوں کے پیچھے اندر کی جانب لپکیں۔۔۔۔۔ ارے کیا آندھی چلادی ان ماں بیٹیوں نے ہمارے گھر۔۔۔ اللہ کرے کیڑے پڑیں انہیں۔۔۔ ناہید بیگم کے واویلے پھر سے شروع ہو چکے تھے۔۔۔ وہ ایک قیامت کا منظر تھا جب غصے میں آپے سے باہر ہوتا بالاج کچن سے پیٹرول کی کین اٹھاتا باہر نکلا جو اکثر جرنیٹر میں استعمال کرنے کے لئے وہاں موجود ہوتا تھا۔۔۔
اسے پیٹرول کی کین لئے باہر نکلتا دیکھ تینوں ماں بیٹیوں کی زبان خوف سے تالو سے چپک چکی تھی۔۔۔ کرن غالبا گھر نہیں تھی ورنہ ابھی تک انکی مدد کو آ جاتی۔۔
بہت شوق ہے نا آپ سب کو مرنے مارنے کا۔۔۔ پہلے مجھے مرتا دیکھ لیں لیکن میں اکیلا نہیں مروں گا۔۔۔ مرتے مرتے ان فساد کی جڑوں کو بھی اپنے ساتھ لے کر جاوں گا۔۔۔۔
بالاج نے محض کہنے پر اکتفا نہیں کیا تھا بلکہ وہ پھنکارتے ہوئے کین کھول کر پٹرول اپنے اوپر چھڑکنے کیساتھ ساتھ بہنوں ہر بھی چھڑک رہا تھا۔۔۔
امیییییی۔۔۔۔ نہیننننننننننن۔۔۔۔ خوف سے ان دونوں کی دلخراش چیخوں سے وہاں کے درودیوار لرزنے لگے تھے۔۔۔ رہے سہے اوسان انکے تب خطا ہوئے جب بالاج کین وہیں پھینکتا کچن سے ماچس کی ڈبی اٹھا لایا۔۔۔
ناہید بیگم تو بیٹے کا یہ روپ دیکھ تھرا کر رہ گئیں۔۔۔۔۔ جسکی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا۔۔۔ جو کہ شاید اب ہر قام کے انجام کے خوف سے آزاد ہو چکا تھا
نہیں بالاج نہیں۔۔۔ بچے میں جاوں گی نیچے نصرت سے رشتہ مانگنے۔۔۔ اسے دور۔۔ دور کردو۔۔۔۔ مجھے منظور ہے ۔۔۔ میں خود تمہاری شادی صلہ سے کرواوں گی۔۔۔ ناہید بیگم کانپتی آواز میں کہتیں سسک اٹھی تھی ورنہ جو تباہی وہ بالاج کی آنکھوں میں دیکھ چکی تھی کچھ بعید نا تھا کہ وہ لمحے میں انکے ہستے بستے گھرانے کو جلا کر راکھ کر دیتا۔۔۔
انکی بات سن کر بالاج ماچس اور ہاتھ میں تھامی تیلی وہیں پھینکتا لمبے لمبے ڈگ بھرتا اندر چلا گیا۔۔۔ جبکہ پیچھے ناہید بیگم اپنے کپکپاتے جسم کا بوجھ نا سہارتے وہیں نیچے ڈھے گئیں۔۔۔ امی۔۔۔ وہ دونوں بھی بالاج کے وہاں سے جاتے کھسک کر ماں کی جانب لپکیں اور ان سے لپٹتیں ڈھارے مار مار کر رو دیں۔۔۔ انکے دل ابھی تک خوف سے کانپ رہے تھے۔۔۔ ناہید بیگم خود بے بسی سے رو دیں۔۔۔
جتنا ان ماں بیٹیوں نے ہمیں رلایا ہے قسم خدا کی اگر انہیں خون کے آنسو نا رلایا نا تو کہنا کہ میرا نام بھی ناہید نہیں۔۔۔
اٹھو اپنے باپ کو فون کر کے گھر بلاو شام میں نیچے اپنے دشمنوں کے گھر جانا ہے ہمیں۔۔۔وہ اپنے آنسو صاف کرتیں خطرناک عزائم سے کہتیں اٹھ کھڑی ہوئیں۔۔۔
*****
آپا۔۔۔ آپا میں آپ سے بہت شرمندہ ہوں۔۔۔ سر شام ہی نزہت بیگم کو اپنے گھر دیکھ نصرت بیگم کسی بچے کی مانند ان سے لپٹتی ہشیمانی سے رو دیں۔۔۔ عفرا وہیں ان دونوں کے پاس موجود تھی جبکہ صلہ نے انہیں محض سلام ہی کیا تھا اور وہاں سے نکل گئ ویسے بھی کچھ دیر تک اسکے سسرال والے اسکا رشتہ مانگنے آ رہے تھے وہ ان لوگوں کے لئے کھانے کا انتظام کر رہی تھی۔۔۔
بس نصرت جو اللہ کو منظور تم خود کو ہلکان مت کرو مجھے تم سے کوئی شکوہ نہیں۔۔۔ انہوں نے بہن کو ساتھ لگائے دلاسہ دیا تو انکی کافی ڈھارس بندھی۔۔۔
بس آپا میں نے ایک فیصلہ کیا ہے بس آپکی رضا مندی چاہیے۔۔۔ نصرت بیگم آنسو صاف کرتیں سیدھی ہوئیں۔۔۔ عفرا بھی ماں کے حتمی انداز پر انکی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔
آپا میں اولاد کے ہاتھوں ہار گئ ہوں اس لئے میں نے شام میں ناہید بھابھی لوگوں کو بلوایا ہے اس سے پہلے کہ میری منہ زور اولاد کوئی غلط قدم اٹھائے میں اسے عزت سے رخصت کردینا چاہتی ہوں۔۔۔
بہت اچھی سوچ ہے نصرت۔۔۔ نزہت بیگم نے دل بڑا کرتے انہیں سراہا۔۔۔
لیکن میں نے آپکو اس ہفتے نکاح کا کہا تھا اس لئے میں چاہتی ہوں کہ امان اسی روز یہاں نکاح کے لئے آئے۔۔۔ ماں حتمی انداز میں مضبوط لہجے میں کہہ رہی تھیں۔۔
کیا مطلب۔۔۔ ماں کی نافہم بات پر نزہت بیگم اور عفرا دونوں چونک کر انکی جانب متوجہ ہوئیں۔۔
مطلب یہ کہ میں اپنی عفرا کو امان کے نکاح میں دینا چاہتی ہوں اور میری آپ سے التجا ہے کہ صلہ نا سہی آپ میری عفرا کو بیٹی بنا لیں۔۔۔۔
ایک چھت تھی جو ماں کے لفظوں کی صورت عفرا پر گری تھی وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے ماں کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ ساکت تو ماں سے کچھ پوچھنے کے لئے آتی صلہ بھی ماں کی یہ بات سن کر رہ گئ تھی۔۔۔
ارے یہ تو تم نے بہت اچھا فیصلہ کیا نصرت میرے لئے تو صلہ اور عفرا دونوں ہی ایک جیسی ہیں۔۔۔ پھر بھلا مجھے کیا اعتراض ہوگا۔۔۔۔ خالہ کی چہکتی آواز سن کر عفرا قدم با قدم پیچھے ہٹتی خاموشی سے کمرے سے باہر نکل گئ۔۔۔
اپنے کمرے میں آتے ہی وہ بیڈ پر اوندھے منہ گرتی سسک اٹھی۔۔۔
ماں میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتی ہیں۔۔۔ امان بھائی وہ تو بھائی ہیں میرے۔۔۔ وہ سسکتے ہوئے خود سے گویا ہوئی
چچ۔۔۔چچ۔۔۔چچ۔۔۔
کیا ہوا خود پر بات آئی تو ساری نصیحتیں بھول گئ۔۔۔ دفعتا صلہ اندر داخل ہوتی سینے پر بازو باندھے مضنوعی تاسف سے گویا ہوئی۔۔۔ ویسے بھی جب سے ماں نے تائی لوگوں کو گھر پر بلایا تھا تب سے وہ یونہی بات بے بات چہک رہی تھی۔۔۔
آہ۔۔۔ بہت افسوس ہوا میرے لیے بچھائے جال میں تم خود پھنس گئ۔۔۔ صلہ کے یوں چٹخارا لے کر کہنے پر عفرا نے زخمی نگاہوں سے اسے دیکھا۔۔۔ دیکھو میں جانتی ہوں امان جیسے ٹٹ پونچھیے کے ساتھ گزارا کرنا بہت دل گردے کا کام ہے اور میں تمہاری بہن ہوں دشمن نہیں اس لئے تمہیں مشورہ دے رہی ہوں کے ابھی کے ابھی جاو اور امی کو ناں بول دو۔۔ ورنہ بات بڑھی تو تمہارے لئے ہی مشکل ہو جائے گئ۔۔۔ وہ اسکے قریب بستر پر بیٹھتی تاسف سے گویا ہوئی۔۔۔
یہ دیکھو صلہ میرے جڑے ہوئے ہاتھ مجھے کچھ دیر کے لئے اکیلا چھوڑ دو۔۔۔ دل تو پہلے ہی زخمی ہوا پڑا تھا اوپر سے مزید صلہ کی باتیں۔۔۔۔جاو تم جا کر تیاری کرو تمہارے سسرال والے آنے والے ہیں۔۔۔ وہ بے مروتی سے کہتی چہرا تکیے میں گھسا گئ۔۔۔
ارے بھلائی کا تو زمانہ ہی نہیں وہ ہاتھ جھارتی کمرے سے نکل گئ۔۔۔۔
****
صلہ کچن کی کھڑکی سے اچک اچک کر لاوئنج میں دیکھ رہی تھی جہاں اسکے سسرال والے آئے بیٹھے تھے۔۔۔ تائی اور تایا کے ساتھ انکی دونوں بڑی بیٹیاں تھیں بچے غالباً کرن کے پاس چھوڑ کر آئے تھے اور یہ بھی اچھا تھا ورنہ گھر نے مچھلی بازار کا سا نقشہ پیش کرنا تھا۔۔۔ سبکے منہ سوجھے ہوئے تھے لیکن بھلا صلہ کو اس سے کیا غرض اسکے لئے اتنا ہی کافی تھا کہ وہ لوگ ایک فارمیلٹی کے تحت یہاں اسکا رشتہ مانگنے پہنچ گئے تھے۔۔۔ یہ سب کیسے ممکن ہو پایا تھا یہ سب اسے بالاج پہلے ہی بتا چکا تھا۔۔۔
اسنے ٹرالی سیٹ کی اور سر پر آنچل درست کرتی ٹرالی گھسیٹے ہوئے لاوئنج میں داخل ہوئی جہاں ماں اور خالہ ان لوگوں کے پاس خاموشی سے بیٹھیں تھیں۔۔ عفرا تو تب سے کمرا نشین ہوئی ابھی تک باہر نہیں نکلی تھی۔۔۔
اسلام علیکم۔۔۔ اسنے لاوئنج میں جاتے سب کو اجتماعی سلام کیا۔۔۔
ناہید بیگم اور انکی دونوں بیٹیوں نے صلہ کے کھلے کھلے سے روپ کو حقارت سے دیکھا۔۔
دیکھو نصرت آج کل کے بچے بہت ایڈوانس ہو گئے ہیں۔۔۔ بیٹیاں ہمارے گھروں میں بھی ہیں پر مجال جو آج تک کسی نے منہ بھر کر رشتوں کے حوالے سے کوئی رائے دی ہو۔۔۔ جو کہا جہاں کہا انہوں نے حرف آخر سمجھ کر سر جھکا دیا۔۔۔ ناہید بیگم نے بات شروع کی تھی۔۔ انکی باتیں سن نصرت بیگم کا سر مزید جھک گیا۔۔۔
بحرحال اب جو بھی ہے بچے تو سب خود طے کر ہی چکے ہیں اور یقیناً تم بھی سب جانتی ہی ہو تو ہم صلہ کا رشتہ بالاج کے لئے مانگنے آئے ہیں۔۔۔ تائی نے چائے مین بسکٹ ڈبو ڈبو کر کھاتے لٹھ مار انداز میں کہا۔۔۔
صحیح کہا آپ نے بھابھی۔۔۔ آپ کی سبھی باتیں بجا ہیں اس لئے اس ہفتے سادگی سے نکاح پڑھوا کر صلہ کو لے جائیں۔۔ ماں کی شکستہ خور آواز سن کر ان سب نے حیرت زدہ سا سر اٹھا کر انہیں دیکھا۔۔۔
ارے ایسی کیا آندھی آ گئ ہے بھلا۔۔۔ اتنی جلدی۔۔۔ ناہید بیگم تو ویسے ہی بوکھلا گئ تھیں۔۔۔ کہاں وہ انکی تزلیل کر کے لٹھ مار انداز میں رشتہ پوچھنا چاہتی تھیں کہ وہ خود ہی رشتے سے انکار کر دیتیں۔۔۔ اور کہاں وہ اتنی جلدی نکاح کے لئے کہہ رہی تھی۔۔۔
ٹھیک کہا آپ نے بھابھی جب اولاد منہ زور ہو جائے تو ماں باپ کی نہیں چلتی۔۔ خیر آپ لوگ کھانا کھا کر جائیے گا۔۔۔ ماں گلوگیر لہجے میں کہیتی گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
******
ارے ماں آپ نے رویہ دیکھا تھا چچی کا کیسے لٹھ مار انداز میں بات کر رہی تھیں۔۔ وہ سب ابھی ابھی اوپر اپنے پورشن میں آئے تھے جب ثانیہ ماں کے صوفے پر بیٹھتے ہی شروع ہو گئ۔۔۔
تم نے کیا ڈال کر کھانا ہے انکے رویے میں۔۔۔ ہر بات میں تم شر کا پہلو نکال ہی لیا کرو۔۔۔ بالاج جو جلے ہیر کی بلی کی مانند اوپر یہاں سے وہاں چکر لگا رہا تھا انکے گھر واپس آنے پر بھاگ کر انکی جانب بڑھا ثانیہ کی بات پر خود کو کچھ کہنے سے روک نا سکا۔۔۔
ثانیہ اسے خون خوار نگاہوں سے دیکھتی خاموش ہی رہی ابھی صبح والے واقعہ کی دہشت باقی تھی۔۔۔ اسکا بھائی پاگل ہو گیا تھا اور وہ اپنے پاگل پن میں کچھ بھی کر سکتا تھا۔۔۔
ارے اسکی ماں تو اسے نحوست کی مانند اپنے پلے سے جھاڑ رہی ہے جیسے اسکی حرکتوں سے بہت اکتائی ہوئی ہو۔۔۔ کہتی ہے اگلے ہفتے آ کر سادگی سے اسکا نکاح پڑھوا کر لے جانا۔۔۔ ناہید بیگم کے ناک سے مکھی اڑا کر کہنے پر بالاج تو اچھل ہی پڑا تھا۔۔۔
کیا واقعی۔۔۔ اوہ جیو میری ماں۔۔۔ ماں کے ہاتھ تھام کر انہیں اٹھاتا وہ انہیں گول گول گھما چکا تھا۔۔۔
ارے پڑے ہٹ اب کیا میری کوئی ہڈی وڈی ٹورے گا کیا۔۔۔ ناہید بیگم نے اس سے اپنے ہاتھ چھڑواتے اسے پیچھے کیا۔۔۔
میں آپکو بتا نہیں سکتا ماں کہ میں کتنا خوش ہوں۔۔۔
اب انہوں نے نکاح سادگی سے کرنے کو کہا ہے تو سادگی سے ہی ہو گا۔۔۔ اتنے کم وقت میں اب بری وری تو تیار ہونے سے رہی۔۔۔ تانیہ نے بھائی کے خوشی سے دمکتے چہرے کو دیکھ تاسف سے کہا البتہ بات کرنے میں ایک لحاظ تھا کیونکہ وہ بھی بھائی کے پاگل پن کا ٹریلر دیکھ چکی تھی۔۔۔
ارے اسکی فکر کرنے کی آپ لوگوں کو ضرورت نہیں وہ سب میں خود صلہ کے ساتھ جا کر اسے شاپنگ کروا دوں گا۔۔۔
پیسے کہاں سے آئیں گے۔۔۔ بالاج کی اتنی بڑی بات پر تینوں ماں بیٹیوں نے اکھٹے حیرت سے اسے دیکھا ۔۔۔ یہ تو آ بیل مجھے مار والا حساب ہو گیا تھا۔۔ ناجانے اب وہ کتنا کچھ اس جادو گرنی ہر لٹاتا۔۔
وہ بھی آپ کا مسلہ نہیں ہے میں خود ارینج کر لوں گا۔۔۔ وہ انہیں سرسری سا کہتا باہر نکل گیا۔۔
دیکھا ماں دیکھا۔۔۔ میں نا کہتی تھی کہ اسنے آپکو اپنی پوری تنخواہ نہیں بتائی۔۔۔ اسکی تنخواہ زیادہ ہے اور یہ اندر ہی اندر اپنے پاس سیونگ کرتا ہے۔۔ ادھر چاہیے ماں دوائیوں کی کمی کے باعث مر جائے لیکن اس شہنشاہ کے اللے ترلے نہیں ختم ہوتے۔۔۔
اسکے جاتے ہی ثانیہ ماں کے سامنے آتی اندرکی کھولن نکالنے لگی تھی کہ ابھی یہ سب اسکے سامنے نہیں کہہ سکتی تھی۔۔۔
ناہید بیگم کو بیٹا ہاتھوں سے نکلتا محسوس ہو رہا تھا وہ جلد از جلد اس چیز کا کوئی صد باب کرنا چاہتی تھیں۔۔۔
******
