Izhar-e-Muhabat by Anooshe NovelR50417

Izhar-e-Muhabat by Anooshe NovelR50417 Izhar-e-Muhabbat Episode 4

219.9K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Izhar-e-Muhabbat Episode 4

Izhar-e-Muhabat by Anooshe

وہ جائے نماز پر بیٹھی آنسوں بہا رہی تھی ان جھیل سی آنکھوں میں جیسے صدیوں کا غم رقص کررھا تھا.

مجھے ایسے شخص سے محبت کیوں ہوگئی جو میرے نصیب میں نہیں ہے…؟

اسنے سجدے کی جگا پر ہاتھ رکھا ہوا تھا…

آنسوں تھے کہ ٹپ ٹپ بہہ رہے تھے…

وہ میرے نصیب میں نہیں ہے تو اسکی محبت میرے دل سے نکال دے میرے اللہ…!

کیا میری دعاؤں میں اتنا بھی اثر نہیں کہ نہ اسے بھول پاتی ہوں نہ اسے اپنا نصیب بنا پاتی ہوں…

یہ کیسی تکلیف ہی کہ میں جب جب اسے بھولنے کی دعا کرتی ہوں وہ اتنی ہی شدت سے مجھے یاد آتا ہے…

میں نے چار سال سے اسکے سوا کچھ نہیں مانگا میرے اللہ… تو تو سب جانتا ہے۔

وہ اب ہچکیوں سے روتے ہوئے سجدے میں جھک رہی تھی …

تو میرے درد کی دوا کردے وہ اس شخص کو یہ تو میرا نصیب بنادے یہ اسکی محبت میرے دل سے نکال دے اسکی محبت بہت دھیرے دھیرے میرے دل کے زخم کو گھیرا کر رہی ہے…

وہ سجدے میں ہچکیوں سے روئے جارہی تھی آس پاس کے منظر سے انجان بس اپنا حال اپنے رب کو سنا رہی تھی…

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*

شافع اور زایان دونوں “پروفیسر ڈاکٹر محمد عثمان” (زایان کے ماموں) کے آفس کے باہر موجود تھے…

زایان شافع کو بار بار آفس کے اندر جانے کے لئے دھکیل رہا تھا…

زایان اگر انکل نے منا کر دیا تو میں انھے اصرار نہیں کروں گا،،،،،،

ارے تم جاؤ تو سہی تم سے تو وہ زیادہ سوال جواب بھی نہیں کریں گے ہاں البتہ میں اگر گیا تو انھوں نے پہلے اگلے پچھلے رکارڈ کھولنے ہیں پھر میری کوئی بات سننی ہے اور پھر سنتے ہی منا کر دینا ہے،،،،،،،

زایان نے ہاتھوں کو لہراتے ہوئے کہا۔

اچھا ٹھیک ہے جاتا ہوں میں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

شافع نے اندر جانے کے لئے قدم بڑھائے اور پھر وآپس موڑ لیے اگر انھوں نے پوچھا یہ لڑکی تمھاری کون ہے؟ تو میں کیا بولوں گا…………

زایان نے “ااااووووففففف” کرتے ہوئے اپنا سر تھاما تھا

تجھے کیا ہوگیا ہے میرے بھائی تو

“شافع تیمور وارثی” ہے تو کیوں ڈر رہا ہے اتنا زایان نے شافع کو دونوں بازوؤں سے پکڑ کر جھنجھوڑتے ہوئے کہا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

میں ڈر نہیں رہا میں بس انکل کے سامنے اپنی پوزیشن مشکوک نہیں بنانا چاہتا ۔ ۔ ۔ ۔

وہ پتا نہیں کیا سمجھے کے کون ہے یہ لڑکی شافع نے اپنے بازو پر سے زایان کا ہاتھ ہٹاتے ہوئے کہا………

بے فکر رہو تمھاری بیوی نہیں سمجھیں گے………

شافع نے زایان کو کھا جانے والی نظروں سے گھورا ………

اچھا اب ایسے مت گھورو مجھے کہیں تمھے مجھ سے پیار نہ ہو جائے،،،،،،

شافع نے زایان کے سر پر ایک چپت لگائی اور پھر اندر جانے لگا،،،،،،

اچھا سنو ………..!

شافع نے مڑ کر دیکھا

زایان شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ بولا

میری ناک نہیں کٹوانا،،،،،

شافع دانت پیستا ہوا دروازے کی طرف بڑھ گیا…….

شافع نے دروازا کھٹکھٹا کر کھولا

میں اندر آجاؤ سر؟

سامنے بیٹھا شخص جو اپنے سامنے کچھ فائلوں کا ڈھیر لگا کر بیٹھے تھے…

ناک پر آئے ہوئے چشمے کو اوپر کرتے ہوئے اسکی طرف دیکھا۔۔ ۔

ارے شافع تم آؤ اندر آؤ…….

انھوں نے شافع کو بڑی اپنائیت سے مخاطب کیا تھا،،،،

اسّلام وعلیکم..……!

شافع نے اندر داخل ہوتے ہوئے کہا،،،

وعلیکم اسّلام………!

کوئی کام تھا کیا؟

جی سر ایک ضروری کام تھا آپ سے,,

تو بیٹھو… تم اب تک کھڑے کیوں ہو… انھوں نے اپنے سامنے رکھی فائلوں کو سائڈ پر کرتے ہوئے کہا جیسے خود کو اسکے کام کے لئے مکمل طور پر فارغ کر لیا ہو……

اچھا یہ بتاؤ چائے پیو گے یا کوفی؟ انھوں نے ریسیور کی طرف بڑھتے ہوئے پوچھا۔ ۔ ۔ ۔

نہیں سر کچھ نہیں شافع نے تکلفانہ انداز میں کہا،،،

دیکھو پہلی بات تو یہ کے میں تمھے پہلے بھی بول چکا ہوں کے یونیورسٹی کے علاوہ تم مجھے انکل ہی بولا کرو۔۔۔۔۔ اور ابھی تو کوئی ہے بھی نہیں

تم مجھے زایان کی طرح ہی بہت پیارے ہو انھوں نے مسکراتے ہوئے کہا تھا……

شافع نے بھی مسکراتے ہوئے کہا جی انکل….

انھوں نے چائے کا آرڈر دیا تو شافع سے مخاطب ہوئے

ہاں تو بتاؤ کیا کام تھا؟؟

شافع نے بولنے کے لئے منہ کھولا ہی تھا,,,

لیکن پہلے یہ بتاؤ وہ بھوکا زایان کہاں ہے ؟تمھارے ساتھ نہیں آیا ؟

باہر کھڑا زایان جو کان لگائے ساری باتیں سن رہا تھا…

اپنے ماموں کی بات سن کر خود سی ہی کہنے لگا …..

اچھا…. میں بھوکا ہوں ذرا گھر آئیں پھر پوچھوں گا۔ ۔ ۔ ۔

ان کی بات سن کر شافع نے کہا ابھی آپ نے ہی تو کہا بھوکا تو شکار ڈھونڈ رہا ہوگا کوئی اپنی بھوک مٹانے کے لیئے

کمرے میں قہقہہ بلند ہوا تھا،،،،

باہر کھڑے زایان نے خود کو دھائی دیتے ہوئے گانا گنگنایا،…..

“دوست دوست نہ رہا پیار پیار نہ رہا”

اچھا شافع تو بتاؤ کیا کام تھا تمھے ؟

شافع نے گلہ کھنکھارتے ہوئے بات شروع کری دراصل انکل کسی کو اسکالرشپ دلوانی ہے اگر آپ میری کوئی مدد کر سکیں تو،،،،،

شافع کو کہتے ہوئے عجیب لگ رہا تھا….

وہ لوگوں کے احسان لینے کا عادی نہیں تھا یہ سب بھی وہ صرف زایان کے کہنے پر کر رہا تھا۔ ۔ ۔ ۔

اچھا کیسے ؟؟ شافع نے تھوک نگلا جس سوال سے وہ بچنا چاہتا تھا انھوں نے آغاز میں ہی وہ سوال کر لیا…..

وہ…….. وہ میرا ایک دوست ہے اسکی بہن ہے اسے دلوانی ہے….

دراصل اسکی پرسنٹیج اسکالرشپ کے لئے کم ہیں….

شافع نے اپنی جیب سے مارک شیٹ نکال کر عثمان صاحب کی طرف بڑھائی یہ مارک شیٹ ہے آپ دیکھ لیں اگر کچھ ہو سکے تو…..

شافع کو ڈر تھا کہ اب اور کچھ نہ پوچھ لیں……

عثمان صاحب نے مارک شیٹ لے کر اس کو بغور دیکھنا شروع کیا…..

“آئےنور صدیقی”

ہہہہممم…….!

شافع نے اب تک مارک شیٹ کو دیکھا تک نہیں تھا ،اس لئے نام بھی اسے اب پتا چلا تھا….

شافع نے زیر لب دھرایا “آئےنور”

وہ مسلسل فائلوں پر نظریں جمائے بیٹھا تھا عثمان صاحب کی آواز پر انکی طرف متوجہ ہوا،،،،

دیکھو شافع اسطرح سے ہم کسی کو اسکالرشپ دیتے نہیں ہیں انھوں نے مارک شیٹ ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا

شافع کے چہرے پر مایوسی چھائی تھی…..

لیکن تم نے پہلی بار مجھ سے کوئی کام کہا ہے اور تم ہماری یونیورسٹی کے قابل اسٹوڈنٹس میں سے ایک ہو تو میں تمھے منا نہیں کر پاؤں گا….

میں 100٪ تو نہیں 75٪ اسکالرشپ دے سکتا وہ بھی صرف تمھاری وجہ سے

شافع کے چہرے پر مسکراہٹ پھیلی تھی…..

زایان جو باہر کان لگائے کھڑا تھا… اسنے وہیں لوڈّّیاں ڈالنی شروع کر دی تھیں اسے اسطرح ناچتے ہوئے دیکھ کر قریب سے گزرتے ہوئے اسٹوڈنٹ نے حیرت سے رک کر پوچھا…..

زایان بھائی خیریت تو ہے؟ شادی وادی طے ہوگئ ہے کیا؟

زایان نے رک کر اس لڑکے کی طرف غصے سے دیکھ کر کہا۔۔

ہاں بھائی پھوپھو کی بیٹی سے شادی طے ہوگئی ہے آجانا کھانے میں پلاؤ رکھوایا ہے لڑکی لاہور کی ہے نا……

وہ لڑکا زایان کو برہم ہوتا ہوا دیکھ کر وہاں سے سیدھا چلا گیا

عجیب دنیا ہے مجال ہے جو کسی کو خوش دیکھ سکے کہتے ہی زایان نے دوبارا ناچنا شروع کر دیا……

عثمان صاحب کمپیوٹر پر کچھ چیک کر رہے تھے پھر شافع کی طرف مڑے،،،،،،

بس ٹھیک ہے شافع کام ہو جائے گا۔ ڈیٹیلس میں چیک کر لوں گا باقی…..

شافع ان سے ہاتھ ملا کے شکریہ ادا کر کے باہر جانے کے لئے اٹھا تو عثمان صاحب مڑے اور انکی نظر سکرین پر پڑی جس پر باہر لگے سی سی ٹی کمرے کی فوٹیج چل رہی تھی،،،،

روکو شافع…..!

شافع جو دروازے تک پہنچا تھا انکی آواز پر پلٹا

یہ زایان باہر کیا کر رہا ہے؟؟

شافع کی نظر اسکرین پر پڑی تو اسکی ہنسی قابو نہ رہ سکی جسے اس نے بہت مشکل سے ضبط کیا…..

زایان باہر کھڑا اکیلے ہی گھوم گھوم کر پشتو ڈانس کر رہا تھا….

شافع چہرے پر سنجیدگی لاتے ہوئے بولا …..

مجھے نہیں پتا سر یہ یہاں کب آیا

اچھا تم جاؤ اور اسے اندر بھیجو ناچ تو ایسے رہا ہے جیسے اسکے ماموں کی بارات نکل رہی ہو……

شافع نے ہنسی کو ضبط کرتے ہوئے کہا

جی انکل بھیج دیتا ہوں….

شافع کمرے سے باہر نکلا تو زایان اسکی طرف لپکنے ہی والے تھا…..

شافع نے فوراً کہا انکل تمھے اندر بولا رہے ہیں

زایان کا سارا جوش و خروش اور مسکراہٹ ایک جھٹکے میں اڑ گئی….

مممممم مممج مجھے کیوں؟

زایان نے ہکلاتے ہوئے پوچھا سالے تو نے میرا نام تو نہیں لے لیا؟؟؟

شافع زایان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر شرارتی مسکراہٹ سے بولا تمھارے رقص کی تعریف میں قصیدے پڑھنے کے لئے……

زایان کی شکل دیکھنے والی تھی….

شافع اسکا کندھا تھپ تھپا کر جانے کے لئے آگے بڑھا پھر اچانک رک کر بولا دیکھ یارا میری ناک نہ کٹوانا اندر جا کے،،،

زایان نے مکّا بنا کر شافع کو مارنا چاہا تھا کہ شافع فوراً باہر کی طرف بھاگا……

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*

آئےنور ارمینہ بیگم اور صدیقی صاحب ٹیبل پر بیٹھے کھانا کھا رہے تھے…

تمھارے ایڈمیشن کا کیا ہوا نور؟

صدیقی صاحب سنجیدگی سے مخاطب ہوئے…

نور نے چمچہ پلیٹ میں رکھ کر ٬ تھوڑا سا پانی پیا نہیں بابا ابھی تو کچھ نہیں ہوا فورم بھر دیا ہے دیکھیں اب کیا ہوتا ہے،،،،

ہونا کیا ہے ان بڑی بڑی یونیورسٹی میں صرف سفارشیں اور پیسہ چلتا ہے سفارشیں لگاؤ اور پیسہ کھلاؤ کام ہو گیا،،،،،

نہیں بابا ایسا نہیں ہے وہاں۔ ۔ ۔ ۔

ارے بیٹا تمھے کیا پتا تم نے ابھی باہر کی دنیا دیکھی ہی کب ہے صدیقی صاحب نور کی بات کاٹ کر بولے،،،،،

میں تمھارے پڑھنے کے خلاف نہیں ہوں لیکن تم پرائیویٹ پڑھنا نہیں چاہتیں، اور میں اس یونیورسٹی کی اتنی فیس بھرنے کے لئے آمادہ نہیں ہوں……

اگر اسکالرشپ ملے تو ٹھیک ورنہ پھر گھر بیٹھو کوئی اچھا رشتہ آئے گا تو میں دیر نہیں کروں گا انھوں نے دو ٹوک انداز میں بولا…..

نور کی تو بھوک ہی مر گئی

اسکا پلیٹ میں چمچہ چلاتا ہوا ہاتھ رک گیا

میں نے کھالیا بس اتنا کہہ کر وہ وہاں سے اٹھ کر چلی گئی صدیقی صاحب بغیر کسی ردعمل کے کھانا کھاتے رہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*

شافع کینٹین میں بیٹھا تھا جب زایان منہ پھلائے ہوئے اسکے سامنے آکر بیٹھ گیا…….

شافع نے مسکراتے ہوئے کہا تو کیسی رہی ماموں جان سے ملاقات شکل سے تو لگ رہا ہے کافی خاطر تواضع کی ہے ……..

زایان نے شافع کو گھورا،،

بتاؤ بھی مزا آیا ؟؟؟؟

ہاں بہت مزا آیا دل چاہ رہا تھا تمھے بھی ساتھ لے جاؤں اندر ،،

ایسی ایسی باتیں سنائیں ماموں نے کے پوچھو مت

شافع نے ہنستے ہوئے پوچھا ایسا کیا سنا دیا ماموں نے ؟

مجھ سے کہنے لگے باہر تمھارے ابّا کی بارات نکل رہی تھی یہ ماموں کی جو لڈّیاں ڈال رہے تھے…..

میں نے کہا بابا کی بارات نکلنے کے تو کوئی امکان نہیں ہیں،، کیونکہ ماما نہیں مانیں گی اور بابا بھی ماما سے بہت پیار کرتے ہیں تو وہ خود بھی نہیں مانیں گے،،،

لیکن اگر آپ کی دوبارا خواہش ہے تو میں مامی سے اجازت طلب کروں؟؟

اب تم ہی بتاؤ میں نے تو صرف انکی بات کا جواب دیا تھا،،،

لیکن ماموں تو مجھ پر برہم ہوگئے

پھر ماموں نے میری جو عزت افزائی کی توبہ توبہ نہ پوچھو زایان نے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے خود کو حد درجے کا معصوم ظاہر کیا

وہ تو بابا کو فون کرنے لگے تھے بڑی مشکلوں سے روکا ہے،،،

شافع نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا تو تمھے کونسا کچھ فرق پڑا ہوگا تم تو ماشاءاللہ سے غیرت پروف ہو،،،،،

زایان نے کالر جھارتے ہوئے کہا ہاں یہ بھی بات ٹھیک کہی تم نے،،،

پاس سے گزرتی تاشفہ پر زایان کی نظر پڑی تو آواز دئیے بغیر نہ رہ سکا

ہائے تاشفہ کیسی ہو؟؟

تاشفہ نے مڑکر پہلے زایان کو دیکھا اور پھر شافع کو شافع کو دیکھتے ہی اسکے چہرے کے آثار بدل گئے،،،،

ٹھیک ہوں زایان کی طرف دیکھ کر اسنے روکھے لہجے میں جواب دیا اور وہاں سے چل دی،،

زایان کا حیرت کے مارے منہ کھول گیا

آسمان کی طرف منہ کر کے بولا

یہ اللہ یہ آج کیا ہو رہا ہے تاشفہ بیگم نے “شافع تیمور وارثی” کو دیکھا اور ان سے مخاطب ہوئے بغیر چلی گئیں….

ایسے چھوڑو تم یہ اب کبھی خواب میں بھی مجھ سے مخاطب نہیں ہوگی….

واہ واہ کیا بات ہے ایسی بات پر چکن رول ہو جائے؟؟؟

ہاں بلکل ہوجائے لیکن تمھارے پیسوں کا شافع نے شرارت سے کہا

کیا تم چھوٹی چھوٹی سی باتوں میں پیسے کو بیچ میں لاتے ہو اتنے بڑے باپ کے بیٹے ہو زرا خرچا کیا کرو اپنے ہینڈسم دوست پر

شافع کے تیور بدلے تھے یہ تم ہر بات میں بابا کو کیوں لے آتے ہوں؟؟؟

زایان نے شافع کے قریب آکر بولا کیونکہ مجھے انکل سے بہت پیار ہے……

لیکن پھر شافع کا سپاٹ چہرا دیکھ کر فوراً بولا اچھا اب ایسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھنے کے بجائے کچھ کھانے کے لئے منگواؤ

شافع نے ہاتھ کے اشارے سے دو رول کا آرڈر دے دیا

اچھا دو رول مطلب تم نہیں کھاؤ گے؟

ہاں میں نہیں کھاؤں گا بھکڑ دونوں تم کھا لینا…..

ہائے کتنا پیارا بھائی ہے میرا اللہ تمھے میری بیوی سے کم خوبصورت بیوی دے زایان نے شرارت سے پیچھے ہوتے ہوئے کہا…..

اچھا تو پھر کب لارہے رہے ہو اپنی خوبصورت بیوی ؟

میرا بس چلے تو کل لے آؤں لیکن یو نو ابھی تو میں چھوٹا ہوں ،،،

ہاں اتنے چھوٹے ہو کہ دس بندوں کے حصے کا کھانا اکیلے ہضم کر جاتے ہو بیوی کو کیا گھاس کھلاؤ گے ؟

دیکھو یار اب آگر وہ خود گھاس کھانا پسند کرے تو میں اسے منا تو نہیں کر سکتا نہ سب کی اپنی پسند ہوتی ہے،،

زایان نے قہقہ لگاتے ہوئے شافع کے ہاتھ پر ہاتھ مارا تھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*

آئےنور اکثر شام میں قریب ہی موجود لائبریری میں جایا کرتی تھی لائبریری اتنی دور نہ تھی لیکن روڈ پار کر کے تھوڑا پیدل چلنا پڑتا تھے

آپارٹمنٹ کے حدود سے نکل کر روڈ پر پہنچی تو گاڑیوں کی تیز رفتاری کی وجہ سے کچھ دیر وہیں سڑک کے کنارے کھڑی رہی،،،،

جب اسنے دیکھا کہ گاڑیاں رکنے کا نام نہیں لے رہیں تو اسی طرح چلتے ہوئے سگنل سے روڈ پار کرنے کا سوچ لیا۔ ۔ ۔

وہ دو قدم ہی آگے بڑھی تھی کہ ایک تیز رفتار گاڑی نے اچانک اسکے بلکل قریب آکر بریک لگائے تھے اگر وقت پر بریک نہ لگتے تو نور گاڑی سے ٹکرا جاتی

ڈر کے مارے نور کے ہاتھ سے کتابیں چھوٹ کر زمین پر گر گئیں جو اسے لائبریری میں وآپس دینی تھی اور اسنے منہ پر ہاتھ رکھ لیا،،،،

گاڑی میں سے ایک شخص گلاسیز اتارتا ہوا تیزی سے نکل کر اسکے قریب آیا تھا

آئم سوری آپ ٹھیک ہیں؟

آئےنور کو جب احساس ہوا کہ وہ بچ گئی ہے تو اسنے منہ پر سے ہاتھ ہٹایا

دل زوروں سے دھڑک رہا تھا چادر ایک کندھے سے سرک گئی تھی،،،

جی

میں ٹھیک ہوں…..

کہہ کر سامنے کھڑے شخص پر صرف ایک نظر ڈال کر وہ کتابیں اٹھانے کے لئے جھک گئی تھی،،،

کتابیں اٹھاتے ہوئے وہ اچانک ٹھٹکی سر اٹھا کر سامنے کھڑے شخص کو پہچان نے میں اسے پھر ایک لمحہ نہیں لگا

سامنے کھڑے شخص کے تاثرات بھی یہی بتا رہے تھے اسنے بھی نور کو پہچان لیا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*

شافع بیڈ پر لیٹا لیپ ٹاپ پر کوئی فلم دیکھ رہا جب اسکا فون بجا

سکرین پر زایان کا نام جگمگاتا دیکھ کر اسنے مسکراتے ہوئے فون اٹھا لیا

اور میرے بھائی کیا کر رہے ہو زایان کی چہکتی ہوئی آواز گونجی،،،،،

گھڑی میں ٹائم دیکھو ایک بج رہا ہے اور تمھے نہیں پتا میں اس وقت کبوتر اڑاتا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔

اوہ ہاں میں تو بھول ہی گیا تھا کتنے اڑا لئے پھر اب تک؟ زایان نے شرارت سے پوچھا،،

سب اڑ گئے بس تمھے اڑانا باقی ہے

زایان نے قہقہ لگاتے ہوئے کہا یہ کبوتر اتنی آسانی سے نہیں اڑے گا….

اچھا دماغ مت کھاؤ میرا ویسے ہی شام میں بہت مغز ماری کی ہے کسی نے شافع نے لیپ ٹاپ بند کرتے ہوئے کہا،،،،،

کس نے کردی مغز ماری زرا ہمیں بھی تو پتا چلے، زایان نے تجسّس سے پوچھا

بعد میں بتاؤں گا تم یہ بتاؤ فون کرنے کی کوئی خاص وجہ ؟

اب تمھے فون کرنے کے لئے کیا مجھے وجہ چاہیے ہوگی

نہیں ایسا تو کچھ نہیں ہے اچھا ایک بات بتاؤ……

ایک نہیں دو بتاؤں گا

شافع ہنستے ہوئے بولا پہلے ایک بتاؤ پھر دوسری بتانا…

ہاہاہاہاہاہاہاہا………!

اچھا پوچھو

یہ اسکالرشپ کا چکر صرف کھانے پینے کے لئے تو نہیں ہے اتنا تو میں جانتا ہوں اصل بات کیا ہے؟ کہیں تمھے پیار ویار تو نہیں ہوگیا نہ شافع نے شرارت سے پوچھا…

کیا ہوگیا شافع تمھے لگتا ہے مجھے پیار ہوگا اور تمھے پتا نہیں چلے گا ؟

زایان نے حیرت کا بھرپور مظاہرہ کیا.

پھر بتاؤ اصل بات کیا ہے

زایان کی طرف سے کچھ دیر خاموشی رہی

اب کچھ بتاؤ گے بھی یہ نہیں…

یار اس لڑکی کو اسکالرشپ کی ضرورت تھی ، وہ آفتاب صاحب کے پاس بہت امید لے کر آئی تھی ، اسکی آواز میں التجا تھی ، آفتاب صاحب نے تو اسے دوٹوک جواب دے کر فارغ کر دیا لیکن جب وہ جارہی تھی میں نے کھڑکی سے دیکھا تھا……

اسنے بہت بے دردی سے اپنی آنکھیں رگڑی تھیں جیسے آنکھوں سے آنسوں کے ساتھ ساتھ خواب بھی مٹانا چاہ رہی ہو۔ ۔ ۔ ۔

زایان ایک لمحے کے لئے رکا تو شافع نے مسکراتے ہوئے بولا

ہمممم…..! مجھے پتا تھا ایسا ہی کچھ ہوگا میرے اس بھوکے دوست کا دل کتنا نرم ہے یہ صرف مجھے پتا ہے۔

زایان نے فوراً محبت بھرے لہجے میں کہا

اور میرا یہ دوست جو اکڑو بنا پھرتا ہے یہ کتنا ہنسنے مسکرانے والا ہے یہ صرف مجھے پتا ہے۔

اور ویسے بھی میں گھاٹے کا سودا نہیں کرتا میں نے اسکی مدد کی تو اسے میرا احسان تو چوکانہ ہی تھا نا،،

تو بس میں نے اس سے ڈیل کر لی کیونکہ اسے دیکھ کر مجھے اتنا اندازہ تو ہوگیا تھا کہ وہ کم سے کم کوئی غریب لڑکی نہیں ہے

پھر ہم اپنے پیٹ پر لات کیوں ماریں،،

شافع نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا

کہیں نہ کہیں سے اپنے کھانے کا انتظام تم کر ہی لیتے ہو ویسے سارا کام تو میں نے کروایا ہے تو اس ڈیل میں سے مجھے کیا ملے گا ؟

ارے میری جان کیسی باتیں کر رہے تو تمھے کیا لگتا ہے میں تمھے چھوڑ کر کچھ کھاؤں گا ؟

ہر برگر کے اوپر لگے تل، ہر پلیٹ میں سے پورے تین فرائس اور ہر کین کا آخری گھونٹ تمھارا ہوا میری جان

اب شکریہ مت کہنا……

شافع زایان کو اپنے الفاظوں سے نواز نے ہی والا تھا کہ زایان نے فوراً فون بند کر دیا۔

شافع نے مسکراتے ہوئے فون کو دیکھ کر کہا ایڈیٹ۔ ۔ ۔

زایان کا فوراً میسج آیا یو ٹو میری جان اور ساتھ میں زبان نکلی ہوئی سمائل بھی تھی.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*

آپ………… دونوں نے یک زبان ہو کر کہا

شافع کو دیکھ کر آئےنور کا خفت سے چہرہ لال ہوگیا کتابیں اٹھا کر فوراً کھڑی ہوئی،،

اپنے نے کیا مجھ سے ٹکرانے کا ٹھیکا اٹھا رکھا ہے……؟ اپنے خود کو اتنی خوش فہمیوں میں کیوں مبتلا کر رکھا ہے…… ؟

آئےنور نے غصے سے بھنوے اوپر چڑھائیں….

جب آپ کو چشمے کی ضرورت ہے تو لگاتے کیوں نہیں ہیں………؟

جب آپ کو صحیح سے چلنا نہیں آتا تو اکیلے نکلتی کیوں ہیں……….؟

اااووہ …….تو آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ غلطی میری تھی۔ ۔ ۔

آئےنور نے حیرت کا مظاہرہ کیا

جی بلکل غلطی اس دن بھی آپ کی تھی اور آج بھی شافع نے بے حد اطمینان سے کہا…..

اچھا تو آپ کو کیا لگتا ہے مجھے مرنے کا شوق ہے میں جان پوچھ کر آپ کی گاڑی کے سامنے آئی ہوں؟………

ہو سکتا ہے،،،

شافع نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا….

وہ برج آپ کے روڈ پار کرنے کے لئے ہی لگوایا ہے میڈم شافع نے کچھ دور بنے برج کے طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا…..

لیکن آپ پھر بھی چلتی ہوئی گاڑیوں کے بیچ میں سے روڈ پار کر رہی ہیں اسکا مطلب تو یہی ہوا نا کہ آپ کو مرنے کا شوق ہے.

آئے نور پر چپکی طاری ہوگئی تھی

تو آپ کی خاموشی سے یہ ثابت ہوا کے غلطی آپ کی تھی شافع نے طنزیہ مسکراہٹ سے کہا….

میں آپ سے کسی فضول بحث میں نہیں پڑنا چاہتی….

اچھا جیسے میں تو تڑپ رہا تھا نہ آپ سے بحث کرنے کے لئے شافع نے آنکھیں گھما کر کہا اور گاڑی کی طرف مڑ گیا…

“سڑیل”

شافع کو حیرت کا جھٹکا لگا اسنے آج تک اپنے نام کے ساتھ ” ہینڈسم، سمارٹ، کول، کرش” طرح کے نام تو سنے تھے لیکن سڑیل سننے کا شرف اسے پہلی بار حاصل ہوا تھا…..

شافع فوراً مڑا کچھ کہا آپ نے مجھے سے؟

نور نے حیرت سے کندھے اچکاتے ہوئے کہا کیا

میں نے کیا کہا؟

مجھے لگا آپ نے مجھے کچھ کہا….

اووہ تو آنکھوں کے ساتھ ساتھ آپ کے کان بھی خراب ہیں دیکھنے میں تو غریب نہیں لگتے کسی اچھے ڈاکٹر سے علاج کیوں نہیں کرواتے؟

یہ آپ کو ہر بات میں اووووہ اوووہ کچھ زیادہ بولنے کی عادت نہیں ہے؟

شافع نے انگلی سے ہوا میں او بناتے ہوئے کہا……

آپ میری عادتوں پر مت جائیں اپنی محرومیوں کا علاج کر وائیں….

شافع نے ضبط سے دانت پیسے اور جیسے ہی اسنے بولنے کے لئے منہ کھولا نور نے برج کی طرف دوڑ لگا دی……

شافع نے اسے دور جاتے دیکھا تو زور سے بولا آپ بھی کسی اچھے مینٹل ہاسپٹل سے اپنا علاج کروائیں

اور غصے میں گلاسیز پہنتے ہوئے گاڑی میں بیٹھ گیا…….