Izhar-e-Muhabat by Anooshe NovelR50417 Izhar-e-Muhabat Episode 1
Rate this Novel
Izhar-e-Muhabat Episode 1
Izhar-e-Muhabat by Anooshe
دوپہر کے وقت بھی کھڑکی پر پردے گرے ہونے کے باعث کمرے میں قدرے اندھیرا تھا۔
وہ کتاب کو سینے سے لگائے سیدھی لیٹی چھت کو گھور رہی تھی۔
آنکھوں سے مسلسل آنسوں نکل کر کنپٹی پر سے بہتے ہوئے بالوں میں جذب ہو رہے تھے،
بیڈ پر آس پاس اور بھی کتابیں بکھری پڑی تھیں۔
ناجانے وہ کتنے پیھر ایسی طرح روتے ہوئے گزار دیتی کہ اسکا فون بجنے لگ گیا اسنے سائڈ ٹیبل سے موبائل اٹھا کر کال ریسیو کر کے موبائل کان سے لگا لیا دوسری طرف سے چہکتی ہوئی آواز آئی۔ ۔ ۔
ہیلو آۓنور کیا کر رہی ہو؟
کچھ نہیں لیٹی ہوئی تھی
اسنے اٹھتے ہوئے کہا۔ ۔ ۔
اسکی آواز سن کر منہا ایک لمحے کے لئے ٹھٹکی تھی ۔
تمھاری آواز کو کیا ہوا ہے؟ تم رو رہی تھیں کیا؟
منہا کا اتنا کہنا تھا اور نور کے آنسوں ایسے نکلنا شروع ہوئے جیسے اس سوال کے منتظر ہوں۔
for god sake
نور کیا ہوا ہے؟ یار بتاؤ تو سہی۔ ۔ ۔ !
منہا ……! وہ مر گیا یار
نور روتے ہوئے کہہ رہی تھی منہا نے چینخھتے ہوئے پوچھا کون مر گیا؟
عابی۔ ۔ ۔ ۔ !
یار کوئی اتنا اچھا ٬ اتنا پیار کرنے والا کیسے ہو سکتا ہے۔
وہ اپنے ماما پاپا کو منانے جارہا تھا اور پھر اسکا آ
آکسیڈنٹ ہوگیا, اور وہ مر گیا.
اب وہ باقائدہ آواز سے رو رہی تھی آۓنور خدا کا واسطہ ہے تمھاری پہیلیاں ختم ہوگئی ہوں تو مجھے سیدھے سیدھے بتا دو کون عابی کس کا آکسیڈنٹ ہو گیا نور نے اپنے آنسوں پوچھ کر ناک رگڑتے ہوئے کہا۔ ۔ ۔ ۔!
اس دن جب ہم بک فیسٹیول میں گئے تھے٬ دوسری طرف سے جواب آیا ہاں تو؟
میں نے ایک ناول لیا تھا٬ ہاں تو پھر آگے بتاؤ یار؟ منہا نے جھنجھلاہٹ سے کہا تھا تو اس ناول کا ہیرو تھا عابی “عباد عزیر” نور کی آواز پھر بھرائی ہوئی تھی۔۔۔
دوسری طرف منہا نے غصے میں سختی سے دانت بھینچے تھے اسنے دانت بھیچتے ہوئے کہا نور خبردار جو تمنے آگے یہ بولا کے تم اس افسانوی کردار اپنے عابی کے لئے رو رہی تھیں۔
ورنہ میں نے موبائل میں گھس کے تمھارا منہ توڑ دینا ہے منہا نے غصے سے چیخھتے ہوئے کہا تھا
ہاں تو میں اور کس کے لئے رو رہی تھی اسی کے لئے تو رو رہی تھی وہ اتنا اچھا………
نور..! پلیز پلیز چپ کر جاؤ میں تمھارے ناول کریکٹر کی تعریف سننے کے بلکل موڈ میں نہیں ہوں،
نا ہی میں تم سے تمھارے عابی کے تعزیت کر سکتی ہوں، منہا کو پتا تھا
کہ اب آۓنور نے ناول اور اسکے ہیرو کی تعریفوں کے پل باندھ دینے ہیں اور کیونکہ ہیرو بیچارہ مر گیا ہے تو کم سے کم اسے ہفتہ بھر اسکے مرنے کا سوگ منانا تھا.
وہ اسی طرح کوئی بھی ناول پڑھنے کے بعد منہا کو اس ناول کے بارے میں بتاکے اسکا سر کھاتی تھی اور کیونکہ منہا کو ناولوں میں کوئی دلچسپی نہیں تھی ۔
تو وہ بامشکل ہی یہ سب ہضم کر پاتی تھی
آۓنور نے خفا ہوتے ہوۓ کہا میں کونسا تمھیں کچھ بتا رہی ہوں وہ تو تم نے پوچھا اسلئے بتا دیا ورنہ تم ناول نا پڑھنے والے کیا جانو ہم ناول ریڈرز کا درد۔ ۔ ۔
ہنہہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
منہا نہ قہقہہ لگاتے ہوۓ کہا اچھا اب خفا نہ ہوجانا یار۔ ۔ ۔
میں نے تمھے اسلئے فون کیا تھا اگر تمھیں اسکالرشپ کے لئے اپلائے کرنا ہو تو کل یونیورسٹی جا کر پتا کر لو ۔۔ ۔
کیا مطلب جا کے پتا کر لو نور نے فوراً کہا ۔۔۔
بیشک تمھے اسکالرشپ نہیں لینی لیکن کمزکم میرے ساتھ تو چلو ۔۔۔
سوری نور میں ضرور چلتی لیکن مجھے کل ماما کو ڈاکٹر کے پاس لے کر جانا ہے وہاں جانا بھی ضروری ہے میں نہیں چل سکوں گی تم چلی جانا ۔۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے آۓنور نے افسردہ لہجے میں کہا اور بتاؤ آنٹی کیسی ہیں۔ ۔ ۔ ۔ !
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*
کیفے میں سگریٹ ،شیشے اور چائے کی ملی جلی خوشبو چاروں طرف پھیلی ہوئی تھی۔۔۔
وہ لوگوں کے ہجوم میں کرسی پر گٹار تھامے بیٹھا کوئی گانا گنگنا رہا تھا۔
اسنے بلو جینز پر وائٹ شرٹ پھن رکھی تھی آستینوں کو کہنیوں سے تھوڑا نیچے تک موڑا ہوا تھا۔۔۔
بائیں ہاتھ میں ایک مہنگے برینڈ کی گھڑی پہنی ہوئی تھی، جس کی چمک دور سے ہی اپنی طرف متوجہ کر رہی تھی
جب وہ گا چکا تو پورا کیفے تالیوں سے گونج اٹھا تھا۔۔
اسنے صرف مسکرا کر داد وصول کی اور وہاں سے اٹھ کر کونے کی ایک ٹیبل کے ساتھ لگی کرسی پر ٹیک لگا کے بیٹھ گیا ۔ ۔ ۔ ۔
اپنے لال اور کالے رنگ کے گٹار کو اسنے ٹیبل سے لگا کر کھڑا کر دیا تھا ۔ گٹار کے تاروں کے پاس کونے میں نگوں سے کچھ الفاظ لکھے گئے تھے شاید دو نام تھے اور ان ناموں کے بلکل نیچے لکھا تھا
“Buddies”
ایک لڑکا اسکے سامنے آکر بیٹھا تھا ۔ ۔ ۔
یار شافع تم کہاں ان بزنس کے چکروں میں پڑھ رہے ہو تم اتنا اچھا گاتے ہو تمھے تو گلوکار ہی بننا چاہیے تمھے آفر تو آتی ہوں گی؟
وہ کرسی پر سیدھا ہو کر بیٹھا تھا دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو آپس میں ملا کر ہاتھ ٹیبل پر رکھتے ہوئے سامنے بیٹھے لڑکے کو دیکھا
پھر کچھ دیر بعد بولا۔ ۔ ۔
میرے باپ کو جانتے ہو؟؟
سامنے بیٹھے لڑکے نے مسکرا کر کہا انھے کون نہیں جانتا یار۔ ۔ ۔
میرے بابا کہتے ہیں یہ گانا بجانا میراسیوں کے کام ہیں.
سامنے بیٹھے لڑکے نے قہقہہ لگاتے ہوۓ کہا کیا شافع آج کل ایسا کون سوچتا ہے.
میرے بابا سوچتے ہیں۔
لیکن تم تو گاتے ہونا یار
ہاں تو ایسا میرے بابا سوچتے ہیں میں تو نہیں
کیا مطلب؟؟؟
شافع اپنا گٹار اٹھا کر کھڑا ہو گیا تھا
کچھ نہیں۔ ۔ ۔
اتنا کہہ کر وہ سامنے والے کو سوچوں میں الجھا کر باہر کی طرف چل دیا تھا
سامنے بیٹھے لڑکے نے اسے باہر جاتے ہوۓ دیکھا تو زیر لب بولا
”مجال ہے جو یہ لڑکا کبھی سیدھی طرح بات کرلے“
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*
وہ ہاتھ میں سموسہ لئے کرسی پر بیٹھا سامنے والے شخص کو بہت غور سے دیکھ رہا تھا ۔ ۔۔ ۔
سامنے ٹیبل پر دو پلیٹ اور ایک خالی کین پڑا تھا جس میں سے ایک پلیٹ میں تھوڑے سے فرائس تھے۔ ۔ ۔ جنھے وہ وقتاً فوقتاً سموسے کے ساتھ منہ میں ڈال رہا تھا، دوسری پلیٹ کو دیکھ کر پتا چل رہا تھا کے کچھ دیر پہلے چاٹ سے انصاف کیا گیا ہے۔ ۔ ۔ ۔
ہاں تو آفتاب صاحب آپ نیوٹن کا تھرڈ لو کب تک سنائیں گے؟ سوال بڑی سنجیدگی سے پوچھا گیا تھا ۔ ۔ ۔
زایان میں آپ کو پچھلے آدھے گھنٹے سے تقریباً ہر سبجیکٹ کا پیپر دے چکا ہوں اب مجھے بخش دو ۔ ۔ ۔ ۔!
آفتاب صاحب کے چہرے پر جھنجھلاہٹ صاف واضح تھی
ارے آفتاب صاحب دو ہی تو سوال پوچھے ہیں.
” بڑی معصومیت سے کہا گیا تھا “
آپ اتنی بڑی یونیورسٹی کے اتنے بڑے عہدے پر فائز ہیں اب مجھ ناچیز کا اتنا تو حق بنتا ہے کے آپ کا تھوڑا سا امتحان ہی لے لیا جائے۔ ۔
اسنے تین فرائس اٹھا کر ایک ساتھ منہ میں ڈالے تھے۔ ۔ ۔
اگر نہیں یاد تو سیدھے سیدھے بول دیں کے مجھے نہیں یاد ۔ ۔ ۔
اس میں شرمانے والی کونسی بات ہے۔
آفتاب صاحب کو پتا تھا ” یہ بولنا کہ انھے نیوٹن کا تھرڈ لا نہیں یاد ” انکے لئے کتنی بڑی حماقت ثابت ہوگا۔۔۔
زایان نے پوری یونیورسٹی میں یہ بات آگ کی طرح پھیلا دینی تھی۔
وہ اسے جھڑک بھی نہیں سکتے تھے کیونکہ آخر وہ یونیورسٹی کے “ایڈمیشن ڈائریکٹر” کا بھانجا اور شہر کے بہت ہی قابل اور مشہور “بینسٹر حیدر آفاق” کا بیٹا جو ٹھیرا۔ ۔ ۔
زایان اسی یونیورسٹی سے “ایم بی اے” کررہا تھا آج کل اسکا لاسٹ سمسٹر چل رہا تھا ۔ ۔ ۔
وہ مزاج کا نہایت ہی شوخ و چنچل تھا یونیورسٹی میں تو اسنے اپنے لئے گھر جیسا ماحول بنایا ہوا تھا۔ ۔ ۔
اسکا معمول تھا کبھی کسی پروفیسر سے عجیب و غریب سوال کر کے انھے پریشان کرنا تو کبھی کسی اسٹوڈنٹ کے پیسوں سے کینٹین خالی کرنا۔
یونیورسٹی کے سب لوگ اسکی حرکتوں سے واقف تھے اس لئے بعض اسٹوڈنٹ تو اسے دور سے ہی دیکھ کر اپنا راستہ بدل لیتے۔ ۔ ۔۔
“خود کو معصوم ظاہر کرنا اور کہلوانا بھی اسکا پسندیدہ مشغلہ تھا”
کچھ لڑکیوں کے لئے وہ “کیوٹ اور سویٹ” تھا تو کچھ لڑکوں کے لئے “بھوکا شیطان”
کھانا اسکی کمزوری تھی جہاں کھانا وہاں “زایان حیدر”
وہ ان خوش نصیب لوگوں میں بھی شامل تھا جو جتنا بھی کھالیں لیکن موٹاپا انھیں چھو کر بھی نہیں گزرتا ۔ ۔
جہاں وہ اتنا شوخ و چنچل تھا وہیں دوسری طرف نرم دل طبیعت کا مالک تھا
جس سے صرف کچھ ہی لوگ باخبر تھے
آج اسنے آفتاب صاحب کو گھیرا ہوا تھا ہاں تو آفتاب صاحب آپ کے پاس دو آپشن ہیں
نمبر ایک ۔ ۔ آپ کہہ دیں آپ کو اس سوال کا جواب نہیں آتا
اور نمبر دو ۔ ۔ آپ کہہ دیں کہ
“I don’t know”
زایان نے مسکراہٹ دباتے ہوۓ کہا تھا
آفتاب صاحب نے آنکھوں کو بڑا کرکے کہا یہ کیا بات ہوئی دونوں باتوں کا ایک ہی تو مطلب ہے. ۔ ۔ ۔
ان کے گڑبڑا جانے والے انداز پر زایان کا قہقہہ بلند ہوا تھا
ہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔
چلیں میں دوسرا سوال پوچھ لیتا ہوں اسنے بچے ہوئے فرائس ایک ساتھ منہ میں ڈالتے ہوئے کہا سموسہ تو وہ پہلے ہی ہضم کر چکا تھا ۔۔ ۔۔
زایان نے ٹیبل پر ذرا آگے ہو کر بڑی سنجیدگی سے کہا ۔۔ ۔۔
لیکن پہلے ایک اور کین تو منگوا دیں یہ کہہ کر وہ وآپس اطمینان سے ٹانگ پر ٹانگ چڑھا کر بیٹھ گیا تھا ۔۔۔
آفتاب صاحب کا دل کیا تھا کہ اپنے بال نوچ لیں کے کونسی گھڑی میں انھوں نے اس لڑکے کو اپنے آفس میں بٹھایا تھا۔ ۔ ۔
زایان نے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو ملا کر پھر سنجیدگی سے کہا ہاں تو آفتاب صاحب آپ کا اگلا سوال بہت ہی آسان سا ہے۔ ۔۔
سوال یہ ہے کہ قائدے اعظم کے چودہ نکات تو سنا دیں ؟
آفتاب صاحب کی برداشت جواب دے گئ تھی انھوں نے فوراً کرسی پر سے کھڑے ہوتے ہوئے کہا زایان بیٹا مجھے بہت ضروری کام ہے مجھے نیچے جانا ہوگا۔۔۔
وہ کرسی پر سے اٹھے ہی تھے جب دروازے پر دستک ہوئی
“May I come in ”
آفتاب صاحب کے لئے یہ آمد غنیمت ثابت ہوئی کم سے کم انھے اب زایان کے سوالوں کا جواب تو نہیں دینا پڑے گا انھوں نے سکون کا سانس لیا۔ ۔ ۔
جی come in
اسّلام و علیکم۔۔۔۔!
وعلیکم اسّلام آفتاب صاحب نے سنجیدگی سے جواب دیا تھا۔
جی کہیے۔ ۔ ۔ !
سر مجھے اسکالرشپ کے بارے میں انفرمیشن چاہیے تھی۔۔۔
آفتاب صاحب نے سپاٹ چہرے سے کہا جی تو آپ آن لائن اپلائے کریں ۔۔
زایان نے اپنی کرسی نہیں موڑی تھی وہ اسی طرح آفتاب صاحب کی طرف منہ کئے بیٹھا پیپر ویٹ گھما رہا تھا ۔ ۔ ۔
نور نے اپنی بوکھلاہٹ پر قابو پانے کی کوشش کی وہ پہلی بار اسطرح اکیلی آئی تھی ورنہ وہ ہمیشہ منہا یہ اپنی کسی اور دوست کو ساتھ لاتی اگر اسکی اس یونیورسٹی میں ایڈمیشن کی اتنی خواہش نہ ہوتی تو وہ آج بھی یہاں اکیلے نہ آتی۔
سر دراصل اسکالرشپ کے لئے یونیورسٹی نے جتنی پرسنٹیج ریکوائرڈ کی ہے میری اس سے کم پرسنٹیج ہے اس لئے میں پوچھنا چاہ رہی تھی کہ کم پرسنٹیج والوں کا کوئی چانس ہے؟ نور نے جھجھکتے ہوئے پوچھا۔۔
آپ کا نام کیا ہے آفتاب صاحب نے پوچھا
آئےنور ۔۔۔۔۔
” آۓنور صدیقی“
زایان اب تک خاموش بیٹھا ہوا تھا شاید کچھ سوچ رہا تھا ۔۔۔
دیکھیں مس آئےنور صدیقی یونیورسٹی نے اپنے لیول کے حساب سے اسکالرشپ کے لئے پرسنٹیج رکھی ہیں ،ہمارے یہاں قابل اسٹوڈنٹس کو ہی اسکالرشپ فراہم کی جاتی ہے ،
اور جو اس پرسنٹیج کو کراس کرتے ہیں انھے پھر ایک ٹیسٹ دینا پڑتا ہے، جو پاس ہوتا ہے ان میں سے بھی کچھ اسٹوڈنٹس کو ہی اسکالرشپ دی جاتی ہے .اور آپکی تو پرسنٹیج ہی اتنی نہیں ہے جتنی یونی نے رکھی ہے
نور کو لگا تھا وہ اب رو دے گی اسکی شدید خواہش تھی اس یونی میں ایڈمیشن کی بابا ایڈمیشن کے لئے مان نہیں رہے تھے، اور اس یونیورسٹی کی فیس بھی بہت زیادہ تھی اسنے کہا تھا وہ اسکالرشپ پر پڑھ لے گی لیکن اسے پتا تھا اسے یہاں اسکالرشپ بھی نہیں ملے گی ۔
وہ ہر چیز سے واقف تھی لیکن وہ چاہتی تھی کوئی معجزہ ہوجائے اسے اس یونی میں ایڈمیشن مل جائے وہ اپنی کھوکھلی امیدوں کے ساتھ یہاں آئی تھی۔ ۔ ۔
اور اسے پتا تھا امید اب ٹوٹ جائے گی اسنے اپنے آنسوں اور آواز پر قابو پاتے ہوئے کہا ۔۔
سر مجھے اسکالرشپ کی ضرورت ہے۔۔
دیکھیں مس آئےنور ایسے ہزاروں اسٹوڈنٹس ہیں جنہیں اسکالرشپ کی ضرورت ہے جو اس یونی میں پڑھنا چاہتے ہیں۔
اور وہ آپ سے ذیادہ قابل ہیں
انٹر اور بیچلر کے بعد اگر کوئی اسٹوڈنٹ یونی میں پڑھنا چاہتا ہے تو زیادہ تر اسٹوڈنٹ کی پہلی خواہش یہ یونی ہوتی ہے ہم ہر کسی کو تو ایڈمیشن نہیں دے سکتے نا؟۔۔۔
اور بھی بہت اچھی یونیورسٹی ہیں آپ وہاں اپلائے کر کے دیکھیں۔
نور کو اب وہاں کھڑے رہنا مشکل لگ رہا تھا ،آنسوں تھے کے نکلنے کے لئے بیتاب ہو رہے تھے
اس کو آنسوں پر بھی غصہ آرہا تھا کوئی لندن، امریکہ کی یونیورسٹی کی خواہش تو نہیں کی تھی اسنے تلخی سے سوچا تھا۔ ۔ ۔
اوکے تھینکیو سر۔ ۔ ۔
کہتے ہی وہ فوراً باہر نکل گئی تھی مڑتے ہی آنکھوں کو بیدردی سے رگڑا تھا
آپ کی پرسنٹیج کتنی ہے؟ مس آئےنور وہ دروازے سے نکل کر چند قدم ہی چلی تھی۔۔
جب کسی کی آواز اسکے کانوں سے ٹکرائی …..
اسنے مڑ کر دیکھا تو زایان اسی سے مخاطب تھا۔ ۔ ۔
اسنے بلیک جینز پر بلیک ہی ٹی شرٹ پہنی ہوئی تھی۔ ایک ہی ہاتھ میں ایک چوڑا سا بینڈ اور گھڑی پھنی ہوئی تھی ۔۔۔
اندر ساری گفتگو میں نور نے اس پر صرف ایک نظر ڈالی تھی۔ ۔
جی؟ نور الجھن کا شکار ہوئی تھی ۔۔۔
میں نے فارسی یہ عربی میں تو کچھ نہیں پوچھا آپ کی پرسنٹیج کتنی ہے؟
نور نے کچھ جھجھکتے ہوئے کہا تھا ”٪75“
زایان نے پرسوچ انداز میں کہا
ہہہمممم ۔ ۔ ۔ ۔ ۔!
اگر آپ کا ایڈمیشن ہو گیا تو آپ مجھے کیا انعام دیں گی ۔۔۔
جی؟؟ نور نے چونکتے ہوئے کہا ۔۔۔
دیکھیں میں اردو میں بات کر رہا ہوں آپ پھر بھی جی ؟؟جی ؟؟ کی جارہی ہیں اگر آپ کوئی اور زبان سمجھتی ہیں تو مجھے بتا دیں میں اس میں آپ سے مخاطب ہو جاؤں گا۔۔۔
نور مسلسل الجھن کا شکار تھی
آپ کیا کہنا چاہتے ہیں سیدھی طرح کہیں ۔ ۔ ۔
میں آپ کو اسکالرشپ دلوا سکتا ہوں لیکن بات یہ ہے اس سب میں مجھے کیا فائدہ ہوگا ۔۔۔
نور کو کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا تھا
جی لیکن۔۔۔! سر نے تو کہا کہ میری پرسنٹیج اسکالرشپ کے لئے کم ہے تو مجھے ایڈمیشن نہیں مل سکتا اور آپ کیوں مجھے اسکالرشپ دلوائیں گے۔۔
”ایڈمیشن ڈائریکٹر آپ کے ماما لگتے ہیں کیا؟“
زایان نے شوخ مسکراہٹ لاتے ہوئے کہا ایسا ہی سمجھ لیں۔ ۔
اور آپ نے کہا نہ آپ کو ضرورت ہے
وہ تو اور لوگوں کو بھی ہے آۓنور نے فوراً کہا۔۔
میں آپ کی بات کر رہا ہوں مس آئےنور
آپ مجھ پر ترس کھا کر یہ سب کہہ رہےہیں؟ نور کچھ شرمندہ سی ہوئی تھی
نہیں میں نے کوئی خدمت خلق فاؤنڈیشن تو نہیں کھولا کے میں آپ پر ترس کھاؤں گا میں آپ سے ڈیل کروں گا ۔۔۔۔
نور ایک لمحے کے لیے ٹھٹک کر دو قدم پیچھے ہوئی اور تیز لہجے میں کہا کس طرح کی ڈیل ؟
ارے ارے ذرا تحمل سے محترمہ میں کوئی ایسا ویسا لڑکا نہیں ہوں آپ میری ڈیل سن تو لیں۔۔۔
اگر میں نے آپ کو اسکالرشپ دلوا دی تو اور آپ اس یونی کا حصہ بن گئیں تو
”آپ کو روز دو برگر تین فرائس کی پلیٹ اور تین سوفٹ ڈرنک کے کین مجھے دینے پڑیں گے اور ہاں ہفتے میں ایک دن آئسکریم بھی کھلانی پڑے گی“ وہ بھی صرف پانچ زایان نے سب چیزیں ہاتھ پر گنتے ہوۓ کہا
آۓنور کو لگا تھا سامنے کھڑا ہوا شخص یا تو خود پاگل ہے یا اسے سمجھ رہا ہے دیکھیں میرے پاس فالتو ٹائم نہیں ہے آپ اپنا ٹائم پاس کہیں اور جاکر کریں ۔
نور جانے کےلئے مڑی تھی۔۔۔
لگتا ہے آپ مجھے سنجیدگی سے نہیں لے رہیں ۔ ۔ ۔
نور رک کر وآپس مڑی اور کہا جی آپ نے بلکل صحیح سمجھا کیونکہ میں اتنی پاگل بھی نہیں ہوں کے آپ ٹائم پاس کریں اور میں ہمدردی سمجھوں۔۔۔
دیکھیں میں نہ ٹائم پاس کر رہا ہوں نہ
ہی کوئی ہمدردی میں آپ سے ڈیل کر رہا ہوں میں نے آپ کو اپنی ڈیمانڈز بتائی ہیں آگے آپ کی مرضی ہے زایان نے ہاتھ اٹھاتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔
نور کو حیرانگی ہو رہی تھی
آپ سچ میں صرف برگر اور فرائس کے لیے مجھے اسکالرشپ دلوا سکتے ہیں؟
زایان آنکھوں کو بڑا کر کے بولا لگتا ہے آپ نے میری بات ٹھیک سے نہیں سنی میں نے برگر، فرائس ،آئسکریم اور کولڈرنک کی بات کی تھی اور جہاں تک بات اسکالرشپ کی ہے تو فرائس کے لئے تو میں کسی کا قتل بھی کر سکتا ہوں
نور کو لگا تھا سامنے کھڑے شخص کا کوئی نٹ ڈھیلا ہے۔ ۔ ۔
میں نے آپ کو اپنی ڈیل بتا دی باقی آپ کی مرضی ہے۔ ۔ ۔
اگر آپ آفر میں انٹرسٹڈ ہیں تو اپنی مارک شیٹ اور دوسرے ضروری ڈاکومنٹس مجھے دے دیں اور اسکالرشپ کا آن لائن فارم جاکر فل کر دیں اسنے بڑے اطمینان کے ساتھ کہتے ہی واپسی کے لیے قدم بڑھا دئے تھے۔۔۔
نور کو اس شخص کی باتوں پر ذرّہ بھر بھی یقین نہیں تھا لیکن اسنے قسمت کو ایک بار پھر آزمانہ چاہا تھا
رکیں۔ ۔ ۔ ۔
اسنے بیگ میں سے مارک شیٹ اور ایک دو ضروری ڈاکومنٹس نکال کر زایان کی طرف بڑھاۓ اور پھر ہاتھ واپس کھینچ لیا۔۔۔
اگر آپ فروڈی نکلے تو؟ میں آپ پر یقین نہیں کر سکتی آپ ایک کام کریں آپ اپنے N.I.C کی کاپی مجھے دے دیں
زایان نے کوفت سے ااااووووففففف کیا تھا۔۔۔
پھر اپنا والٹ نکال کر اس میں سے N.I.C کی کاپی نکال کر نور کی طرف بڑھائی
جیسے ہی نور نے لینے کے لئے ہاتھ آگے بڑھایا زایان نے فوراً ہاتھ پیچھے کر لیا۔۔۔
اگر آپ فروڈی نکلیں تو؟؟؟؟ میں آپ پر یقین نہیں کر سکتا زایان نے اسی کے لہجے میں کہا تھا ۔۔۔
پھر جیب میں سے پین نکال کر فوٹو کاپی پر ایک ترچھی لکیر کھینچی تھی اب ٹھیک ہے ۔۔۔۔
وہ کیا ہے نہ زمانہ خراب ہے اور میں معصوم N.I.C ایسے ہی کسی کو نہیں دینا چاہیے ۔۔۔
آۓنور نے زایان کے ہاتھ سے فوٹو کاپی لے کر بیگ میں رکھ لی
اوکے پھر کام ہونے کے بعد ملتے ہیں
اللہ حافظ
زایان نے ہاتھ ماتھے پر لیجاتے ہوۓ کہا اور مڑ گیا۔۔۔۔
