Izhar-e-Muhabat by Anooshe NovelR50417 Izhar-e-Muhabat Episode 5
Rate this Novel
Izhar-e-Muhabat Episode 5
Izhar-e-Muhabat by Anooshe
زایان گہری نیند کے مزے اڑا رہا تھا….
جب کسی نے پانی سے بھرا جگ پورے زور سے اسکے منہ پر انڈیل دیا
زایان ہڑبڑاتے ہوئے چینخھا کہاں آگ لگ گئی کہاں؟؟؟
پورے شہر میں آگ لگی ہوئی ہے.
ہیٹ سٹروک ہورا ہے اور آپ کتنے مزے کی نیند لے رہے ہیں
زایان نے غصے سے بولا تو تم کیا چاہتی ہوں میں سڑک پر کھڑے ہو کر سب پر پانی کا سپرے کروں ؟؟
اور یہ پانی پھینکنے والی کیا حرکت تھی تمیز نہیں ہے تمھیں بڑے بھائی کے ساتھ کیسے پیش آتے ہیں…..
اوووہ ….!
بڑے بھائی وہ بھائی جو رات کو چھپکے سے اپنی بہن کے حصے کی بچی ہوئی آئسکریم اور پیزا چوری کر کھا جاتے ہیں….
میراب نے بھی چینخھتے ہوئے کہا۔۔
اس میں چوری والی کیا بات ہے تمنے وہ کہاوت نہیں سنی “دانے دانے پر لکھا ہے کھانے والے کا نام” زایان نے اطمینان سے کہا اور واپس لیٹ گیا……
ہاں بلکل سنی ہے تبھی تو میں نے وہ پوری چوکلیٹ کھالی جو اپنے رات کو فریج میں رکھی تھی میراب نے آنکھوں کو اوپر نیچے کرتے ہوئے کہا اور باہر کی طرف دوڑ لگا دی…..
زایان کے کانوں نے جب یہ بات سنی کے اسکی کوئی چیز خالی گئی ہے
پھر تو وہ چینخھتے ہوئے اٹھا اور میراب کے پیچھے دوڑا۔…….
چھپکلی میں تمھے جان سے مار دوں گا اگر مجھے میری چاکلیٹ نہیں ملی تو….
میراب نے بھاگتے ہوئے زور سے کہا بھائی آپ بھول رہے ہیں دانے دانے پر لکھا ہے کھانے والے کا نام……
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*
شافع ، تیمور صاحب، اور تہمینہ بیگم ناشتے کی ٹیبل پر بیٹھے ناشتہ کرنے میں مصروف تھے ایسا کم ہی موقعوں پر ہوتا تھا جب تیمور صاحب اور شافع اتفاقن ساتھ بیٹھ جائیں……
امتحان کب سے شروع ہیں تمھارے؟؟؟
تیمور صاحب شافع سے مخاطب ہوئے……
شافع نے کھاتے ہوئے ہاتھ نہیں روکا
اور مصروف سے انداز میں بولا تین مہینے ہیں ابھی…..
اور آگے کیا کرنے کا سوچا ہے؟
جب آپ کو پتا ہے تو پوچھ کیوں رہے ہیں؟؟
تمھارے ارادوں سے واقف ہوں اس لئے پوچھ رہا ہوں ……تیمور صاحب اسے ناشتہ تو کرنے دیں یہ باتیں باد میں کر لئے گا تہمینہ بیگم نے کہا۔
یہ صاحب زادہ ہمارے ساتھ بیٹھنا کب پسند کرتا تھا جو اس سے بات کری جائے….
شافع نے کھٹ کر کے چمچہ پلیٹ میں پھیکا ضبط سے ایک لمبا سانس کھینچا….
اگر آپ چاہتے ہیں کہ میں اٹھ کر چلا جاؤں تو آپ ایسی بتادیں یہ باتیں سنانے کا کوئی خاص مقصد؟
تیمور صاحب تیش میں آگئے ڈائننگ ٹیبل پر ہاتھ مارتے ہوئے بولے…..
میں پوچھتا ہوں یہ میرا جما جمایا بزنس چھوڑ کر تم الگ بزنس کے چکروں میں کیوں پڑھ رہے ہو؟
اور اگر کر ہی رہے ہوں تو اپنی کمپنی چھوڑ کر یہ دو ٹکے کی کمپنیوں کے شئیرز کیوں لگا رہے ہو؟
اااوووووو…!
تو ساری بات یہ ہے آپ کی انا کو ٹھیس پہنچ رہی ہے٬ کہ میں آپ کی کمپنی کو چھوڑ کر کیسی اور کے ساتھ کیوں بزنس کر رہا ہوں….
شافع نے طنزیہ ہنسی کے ساتھ کہا۔
یہ بزنس میرے اکیلے کا نہیں ہے میں اور زایان پارٹنرشپ میں کر رہے ہیں…..
تیمور صاحب کے تیور چڑھ گئے.
تو یہ بزنس جس پر میں نے دن رات لگا کر محنت کی یہ سب کیا میں نے غریب اور مسکینوں کے لئے کیا ہے؟
شافع نے ٹیبل پر سے اٹھ کر کہا ارے ارے آپ کا اتنا ظرف کہاں کے آپ غریب اور مسکینوں کے لئے کچھ کریں………
“شافع”۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
تیمور صاحب چینخھتے ہوئے کھڑے ہوگئے…..
تہمینہ بیگم بھی گھبرا کر کھڑی ہوگئی…
تم حد سے بڑھ رہے ہو….
تمھے کیا لگتا ہے بزنس سیٹ کرنا بچوں کا کھیل ہے بزنس میں صرف پیسہ نہیں لگتا عقل اور تجربہ بھی لگتا ہے….
“شافع نے مسکراتے ہوئے کہا عقل میرے پاس ہے تجربہ مجھے ہو جائے گا….
ہاں مکّاری کی ضرورت پڑی تو آپ کے پاس ضرور آؤں گا…..
شافع نے کہہ کر اپنا موبائل اور گاڑی کی چابیاں اٹھائی اور باہر نکل گیا”….
تیمور صاحب نے غصے میں پانی سے بھرا ہوا گلاس زمین پر پٹک دیا…
اور اپنی بیوی سے چینخھتے ہوئے بولے یہ لڑکا کسی دن بہت بڑا کارنامہ سر انجام دے گا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*
شافع اور زایان اپنے بزنس کے ہی سلسلے میں کسی سے ملنے آئے تھے….
واپسی میں شافع نے گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے زایان سے پوچھا کیا ہوا ایک ہفتہ ہونے کو ہے تمھاری ڈیل والا معاملہ کہاں تک پہنچا ؟؟؟
زایان نے شافع کی طرف مڑ کر کہا….
ابھی تو کچھ نہیں ہوا یار ، مجھے لگتا ہے اسے ابھی تک ای میل موصول نہیں ہوئی ورنہ مجھے پتا چل جاتا،،،
ہہہہممم…!
تمھے لگتا ہے کے وہ ایڈمیشن کے بعد تم سے رابطہ کرے گی؟
وہ نہ کرے ہم کر لیں گے وہ یونی میں قدم رکھے گی اور میرے جن مجھے خبر کر دیں گے زایان نے فخریا انداز میں کہا….
انھے جن نہیں شیطان کہتے ہیں شافع نے ہنستے ہوئے کہا….
زایان نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا ہاں کہہ سکتے ہیں…..
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*
آئےنور بالکنی میں لگے پودوں کو پانی دے رہی تھی جب اسے موبائل پر میسج ٹیون کی آواز آئی لاونج میں آکر اسنے ٹیبل پر رکھا موبائل اٹھایا
کوئی ای میل آئی تھی…….
اسنے انباکس اون کرا دروازے کی گھنٹی بج گئی…..
اس وقت کون آگیا نور نے موبائل ٹیبل پر رکھتے ہوئے سوچا…..
دروازا کھولا تو سامنے صدیقی صاحب کھڑے تھے….
بابا آپ اتنی جلدی آگئے طبیعت تو ٹھیک ہے نا آپ کی؟ نور نے تشویش سے پوچھا…. ہاں بس سر میں زرا درد تھا تو آگیا
صدیقی صاحب نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا ارمینہ بیگم بھی باہر آگئیں تھی اور فکر مندی سے ان سے پوچھ رہی تھیں…..
ارے ٹھیک ہوں میں بس نور مجھے چائے بنا دو….
جی بابا وہ تو بنا دیتی ہوں پہلے سر دبا دوں آپ کا؟
نہیں اسکی ضرورت نہیں ہے چائے پیوں گا تو ٹھیک ہو جائے گا تم چائے لیاؤ…..
جی لائی کہہ کر نور کچن کی طرف بڑھ گئی…..
چائے کا پانی چڑھا کر نور وہیں کھڑی تھی جب اسے ای میل کا خیال آیا…..
چیک کر لوں کہیں امپورٹنٹ نہ ہو
نور نے موبائل اٹھایا اور ای میل اون کری…..
ای میل پڑھنے کے ساتھ ساتھ اسکے چہرے کے تاثرات بھی بدلتے رہے….
ای میل یونیورسٹی کی طرف سے آئی تھی اسے 75% اسکالرشپ فراہم کر دی گئی تھی….
ای میل پڑھتے ہی نور خوشی سے چینختے ہوئے باہر کی طرف بھاگی….
ماما…. بابا….. ارمینہ بیگم پریشانی سے اٹھ گئیں کہ کہیں ہاتھ نا جلا لیا ہو….
نور دوڑتی ہوئی آکر انکے گلے لگ گئی
ارے آرام سے لڑکی کیا ہوا ہے جو یوں چینخھتے ہوئے دوڑ رہی ہو….
صدیقی صاحب کمرے میں فریش ہونے کے لئے گئے ہوئے تھے…..
ماما ماما معجزہ ہوگیا سمجھیں نور نے خوشی سے گھومتے ہوئے کہا….
ارے ہوا کیا ہے؟ بتاؤ تو سہی
ماما مجھے یونیورسٹی کی طرف سے اسکالرشپ مل گئی ہے نور نے ارمینہ بیگم کا ہاتھ پکڑ کر صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا……
ارمینہ بیگم کا خوشی سے منہ کھل گیا سچ کہہ رہی ہو جی ماما یہ دیکھیں ای میل آئی ہے کچھ دیر پہلے
ارمینہ بیگم نے ای میل دیکھے بغیر آئےنور کو خوشی سے گلے لگاتے ہوئے پیار کیا….
اللہ پاک نے تمھاری دعائیں سن لیں نور تمھاری کتنی بڑی خواہش پوری ہوگئی….
جی ماما
” دعائیں قبول ہوجاتی ہیں بس ہم صبر نہیں کر پاتے معجزے ہو جاتے ہیں بس ہم دیکھ ہی نہیں پاتے”
نور نے مسکراتے ہوئے کہا….
صدیقی صاحب نے کمرے سے باہر نکلتے ہوئے کہا یہ اتنا شور کیوں مچا رہی ہو؟؟؟ انھوں نے سختی سے کہا تھا….
نور صوفے پر سے کھڑی ہوگئی بابا وہ یونیورسٹی کی طرف سے ای میل آئی ہے مجھے اسکالرشپ مل گئی ہے….
صدیقی صاحب کے تاثرات بدلے قریب آکر نور کا سر تھپ تھپایا اور صوفے پر بیٹھ گئے
چلو اچھا ہے ۔ ۔ ۔ ۔
لیکن بابا آئےنور نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے پریشانی سے انکی طرف دیکھا
اب کیا ہوا؟؟؟
اسکالرشپ 75٪ ملی ہے نور کو پھر ڈر لاحق ہوگیا تھا….
صدیقی صاحب کچھ دیر خاموش رہے پھر اسکی طرف دیکھ کر بولے ٹھیک ہے کوئی بات نہیں اتنی فیس تو میں بھر دوں گا…..
نور خوشی سے کھلکھلاتے ہوئے انکے ہاتھ پر اپنا سر رکھ دیا اوووہ تھینک یو بابا…..
نور اٹھ کے جانے لگے جب صدیقی صاحب نے اسے روکا….
نور رکو نور واپس بیٹھ گئی جی بابا
ارمینہ بیگم بھی وہیں قریب کرسی پر بیٹھی تھیں.
یونیورسٹی جاؤ گی تو لیکن…..!
اپنے حدود توڑنے کی کوشش مت کرنا٬ میں کبھی کوئی ایسی حرکت برداشت نہیں کروں گا جو میری عزت پر آنچ آنے کا سبب بنے صدیقی صاحب نے سنجیدگی سے کہا…..
بابا آپ بھروسہ رکھیں میں کبھی کوئی ایسا کام نہیں کروں گی جس سے آپ کے اوپر کوئی انگلی اٹھائے
یا آپ کی اور ماما کی تربیت پر کوئی سوال کرے….
آئےنور نے انھے اطمینان دلاتے ہوئے انکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا…. اور میری بات یاد رکھنا اگر کوئی مناسب رشتہ آگیا تو میں انتظار نہیں کروں گا….
نور نے سوچا دو ڈھائی سال کی تو بات ہے اور جب پڑھائی شروع ہوجائے گی تو بابا خود ہی ایسا کچھ نہیں سوچیں گئیں اور یہی نور کی سب سے بڑی غلطی تھی….
ٹھیک ہے بابا آپ کو جو مناسب لگے
نور نے اٹھتے ہوئے کہا….
میں چائے لے آتی ہوں آپ کے لئے .
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*
نور اور منہا ایڈمیشن پروسیس پورا کرنے کے لئے یونیورسٹی میں آئی تھیں
جس میں کافی وقت لگ گیا تھا
یار نور بہت تھک گئی ہوں میں تو کیوں نہ کچھ کھالیں ؟
نور نے گھڑی دیکھتے ہوئے کہا نہیں منہا بہت ٹائم ہوگیا ہے ماما پریشان ہورہی ہوں گی کھانے کا ٹائم نہیں ہے ابھی گھر چلو ……
اوہو اچھا یار پانی کی بوتل تو لینے دو ویسی اتنی گرمی ہو رہی ہے…
ابھی تم کینٹین کہاں ڈھونڈو گی دیر ہو رہی ہے نور نے جلدی جلدی چلتے ہوئے غصے سے کہا…..
یہیں کہیں ہوگی کسی سے پوچھنے تو دو
منہا رک کر ایک لڑکے سے کینٹین کا پوچھنے لگی آئےنور منہا سے تھوڑا آگے تھی……
یار نور رک تو جاؤ یہیں آگے ہی ہے کینٹین چلو…..
کینٹین پر پہنچ کر منہا پانی لینے چلی گئی اور آئےنور دور ہی کھڑی تھی جب اسے اپنے پیچھے کسی کی آواز آئی ۔ ۔ ۔ ۔
کام نکل جانے کے بعد آپ لوگوں کو بھول جاتی ہیں کیا؟
نور نے جھٹ سے پیچھے مڑ کر دیکھا
زایان اسی سے مخاطب تھا
ہائے کیسی ہیں آپ؟ زایان نے مسکراتے ہوئے پوچھا
آئےنور اس وقت سچ میں اسے بھول گئی تھی اسطرح اچانک اسے دیکھ کر نور گڑبڑا گئی تھی
اسّلام وعلیکم…..
زایان شرمندہ ہوا وعلیکم اسّلام کیسی ہیں آپ ؟؟؟
جی میں ٹھیک ہوں آئےنور نے نیچے دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا…..
نور نے زایان سے نہیں پوچھا کے آپ کیسے ہیں؟ اسلئے زایان نے اپنی حرکتوں پر قائم رہتے ہوئے خود ہی بول دیا
میں بھی ٹھیک ہوں؟ ایڈمیشن ہوگیا آپ کا؟
جی ہوگیا ……….!
تو آپ کو تھینک یو بولنا نہیں سکھایا کسی نے؟
آئےنور شرمندہ ہوئی جی میں بولنے ہی والی تھی آپ کا بہت شکر ……..
زایان نے بیچ میں سے بات کاٹ دی
رہنے دیں اسکی ضرورت نہیں ہے….
منہا نور کے برابر میں آکر کھڑی ہوگئی تھی اسکے ہاتھ میں پانی کی دو بوتلیں تھیں……
کون ہے یہ منہا نے نور کو کونی مارتے ہوئے پوچھا…..
نور نے اسے گھورا جیسے کہہ رہی ہو چپ رہو ابھی…..
زایان نے منہا سے خود ہی اپنا تعارف کروا لیا
ہائے میرا نام زایان حیدر ہے زایان نے مسکراتے ہوئے کہا……
منہا نے صرف مسکرانے میں اکتفا کیا
اوکے مس آئےنور اب تو ملنا ملانا لگا رہے گا ….
شکریہ کی مجھے ضرورت نہیں ہے بس آپ ڈیل یاد رکھئے گا پھر ملاقات ہوگی
ہاتھ ماتھے پر لے جاتے ہوئے کہا اللہ حافظ زایان مکینیکی انداز میں کہہ کر بغیر کچھ سنے چلا گیا…….
منہا اور آئےنور نے ایک دوسرے کو دیکھا منہا نے حیرت سے پوچھا یہ کیا سین تھا؟
آئے نور نے اسکے ہاتھ سے پانی کی بوتل لیتے ہوئے کہا یہ وہی کارٹون ہے جو مجھے پہلے ملا تھا….
اچھا جس نے اسکالرشپ دلوائی آئےنور نے اثبات میں سر ہلایا……
ویسے ہے تو بڑا ہینڈسم منہا نے شرارت سے کہا
آئےنور نے گھورا تو اسکی ہنسی غائب ہوئی….
منہا نے سنجیدگی سے ہاتھ اوپر کرتے ہوئے کہا اوکے,,,,
آپ کے کومنٹس ہو گئے ہوں تو اب چلیں آئےنور نے کہا ,,,,ہاں چلو یار میں نے کب روکا ہے
منہا نے جلدی جلدی آگے بڑھتے ہوئے کہا.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*
شافع کلاس سے باہر نکلا تو زایان کو ڈھونڈنے لگا…..
باہر گراؤنڈ میں پوچھا تو زایان سامنے سے آتا ہوا نظر آیا
تم نے کلاس کیوں نہیں اٹینڈ کری؟
یار تمھے تو پتا ہے نہ مجھ سے سر فرقان کا لیکچر ہضم نہیں ہوتا
تمھے تو کسی بھی ٹیچر کا لیکچر ہضم نہیں ہوتا لاسٹ سمسٹر ہے پیپر ہونے والے
“now be serious zayan”
ارے تم ہونا پھر فکر کس بات کی زایان نے شافع کے گلے میں ہاتھ ڈالتے ہوئے کہا….
اور اچھا ہوا آج میں نے کلاس نہیں لی وہ آئی تھی ؟
وہ کون شافع نے حیرت سے پوچھا آئےنور وہی اسکالرشپ والی…..
اووہ ہ ہ ہ
تو ملاقات ہو گئی تمھاری اس سے
ہاں ہو گئی….
یار عجیب لڑکی ہے کام نکل جانے کے بعد ایسے دیکھ رہی تھی جیسے مجھے پہچانا ہی نہ ہو زایان منہ بناتے ہوئے بولا
تو تم نے دل پر لے لیا کیا کہ کسی لڑکی نے تمھے پہچاننے سے انکار کر دیا شافع نے شرارت سے کہا…..
اب ایسا بھی کچھ نہیں ہے پہچان تو لیا تھا اسنے بس تھوڑی مغرور ٹائپ کی ہے سیدھے منہ بات نہیں کرتی ….
ہاں تو اچھی بات ہے تم کونسا اس کے بچپن کے دوست ہو جو وہ تم سے ہنس ہنس کے بات کرے گی دوسری بار ہی تو ملے ہو تم اس سے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ہاں یہ بھی ہے اب ہر لڑکی تاشفہ کی طرح چپکو تھوڑی ہوتی ہے زایان نے قہقہہ لگا کر شافع کے ہاتھ پر تالی مارتے ہوئے کہا…..
ہائے۔ ۔ ۔! تاشفہ کیسی ہو شافع نے زایان کے عقب میں دیکھتے ہوئے بولا
زایان نے دانتوں تلے زبان دباتے ہوئے دھیرے سے کہا۔ ۔ ۔ “سن نہ لیا ہو چڑیل نے”
ایک آنکھ بند کر کے پیچھے مڑا پیچھے کوئی نہیں تھا….
شافع نے قہقہہ لگایا….
زایان نے غصے سے شافع کو گھورا
ایسے کیا دیکھ رہے ہو پتا ہے مجھے کے میں ہینڈسم ہوں اب نظر لگاؤ گے کیا
شافع نے کہا…..
نہیں گلے لگاؤں گا زایان نے بازو کھولے
اور شافع کے گلے لگ گیا….
اور جب ہٹا تو شافع کا والٹ زایان کے ہاتھ میں تھا…. زایان نے فوراً کینٹین کی طرف دوڑ لگا دی….
شافع بھی اسکے پیچھے بھاگا
“یہ تم نے جیب کاٹنے کی کلاسز کب سے لینی شروع کردیں
میں کلاسز لیتا نہیں دیتا ہوں میری جان”
زایان نے بھاگتے ہوئے کہا۔ ۔ ۔ ۔ ۔
