Izhar-e-Muhabat by Anooshe NovelR50417 Izhar-e-Muhabat Episode 22
Rate this Novel
Izhar-e-Muhabat Episode 22
Izhar-e-Muhabat by Anooshe
موسم کی خرابی کی وجہ سے فلائیٹ مزید لیٹ ہوگئی تھی، زایان ائیرپورٹ پر اِدھر اُدھر گھومنے لگا وہ سیدھا جا رہا تھا جب اسے سامنے سے ایک شناسہ چہرہ آتا ہوا نظر آیا،،، وہ موبائل میں مصروف زایان کے برابر میں سے گزرنے لگا تو زایان نے اسے آواز لگائی،،، گوہر……..! اسنے رک کر زایان کی طرف دیکھا،،، زایان نے مسکراتے ہوئے پوچھا پہچانا…؟ گوہر نے مسکراتے ہوئے اسکی طرف ہاتھ بڑھایا،،، “زایان حیدر بھی کوئی بھولنے والی چیز ہے؟” زایان نے ہنستے ہوئے اسکا ہاتھ تھام کر کندھے سے کندھا ملایا……. زایان نے اس سے الگ ہوتے ہوئے پوچھا تم یہاں کیسے؟
میں سمسٹر بریک پر آیا ہوا تھا اب وآپس جارہا ہوں…. زایان نے گردن ہلاتے ہوئے کہا اوہ اچھا پھر بھنویں اٹھاتے ہوئے بالوں میں ہاتھ پھیر کر بولا،،، گھر میں سب کیسے ہیں؟ گوہر گردن اثبات میں ہلاتے ہوئے بولا، ٹھیک ہیں سب بی اماں کی طبیعت ذرا ناساز ہے،،،،، زایان نے آنکھیں گھمائیں اس بات کو نظر انداز کرنے کے لئے اسنے بات گھمادی،،، “ارحام کیسی ہے” گوہر نے اپنے موبائل سے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا ارحام بھی ٹھیک ہے بس پہلے سے بدل گئی ہے چپ چپ رہنے لگی ہے…..
زایان نے مسکراتے ہوئے ایک لمبا سانس لیا… پھر گھڑی دیکھتے ہوئے بولا تمھاری فلائیٹ کتنے بجے کی ہے؟ آدھے گھنٹے بعد کی ہے؟ زایان کندھے اچکا کر بولا پھر ایک ایک کافی ہوجائے؟ گوہر نے آہستہ سے اثبات میں سر ہلایا ٹھیک ہے چلتے ہیں…..گوہر نے زایان سے پوچھا تم کہاں جارہے ہو؟ زایان دانت نکال کر بولا میں ورلڈ ٹوئیر پر جا رہا ہوں….. گوہر مستقل اپنے موبائل پر کچھ چیک کر رہا تھا اسنے زایان کی بات کا نوٹس نہیں لیا….. زایان نے اسکی طرف دیکھ کر پوچھا تم مصروف ہو؟ گوہر فوراً موبائل اپنی جیب میں ڈال کر پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا،،،، نہیں نہیں میں مصروف نہیں ہوں چلو کافی پیتے ہیں….
زایان نے کندھے اچکائے اور دونوں آگے بڑھ گئے…
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شافع نیچے گاڑی میں آکر اسٹیئرنگ ویل پر سر ٹکا کر بیٹھ گیا اسے اپنا روم روم تکلیف میں لگا،،،،، اسنے دل میں سوچا میرا خواب سچ ہو گیا نور عزیت میں تھی وہ پریشان تھی، اسکے پریشان ہونے سے میرے دل کا حال کیوں بگڑنے لگتا ہے؟ کیوں اسے اسطرح دیکھ کر میرے دل میں چبن اٹھی تھی اس سارے سوالوں کے جواب جو اسکا دل اسے دے رہا تھا،،،، اسے وہ نظر انداز کر رہا تھا سب کچھ جانتے پوچھتے بھی وہ اپنے دل سے لاتعلقی برط رہا تھا نیچے آنے کے بعد بھی وہ کتنی ہی دیر گاڑی میں سر ٹکائے بیٹھا رہا وہ پوری طرح بھیگا ہوا تھا اسے کوئی پرواہ نہیں تھی اسے صرف پرواہ تھی تو نور کی وہ اسے چھوڑ تو آیا تھا لیکن اسکا دل وہیں اٹک گیا تھا،،،،
کافی دیر بعد اسنے سر اٹھا کر نور کے آپارٹمنٹ کی بالکنی پر ایک نظر ڈالی اور گاڑی اسٹارٹ کر دی….. اپنے گھر پہنچ کر اسنے گاڑی پارکنگ ایریا میں روکی اور گاڑی میں سے نکلنے لگا اسکی نظر اپنے کوٹ پر پڑی جو نور نے اوڑ رکھا تھا کوٹ اٹھا کر وہ اوپر چلا آیا،،،، دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا بارش رک گئی تھی لیکن تھوڑی تھوڑی دیر بعد شروع ہو جاتی،،،،، شافع پوری طرح بھیگا ہوا تھا جوتے انٹرس پر اتار کر وہ کمرے میں آگیا…. کوٹ دروازے پر اٹکا کر وہ ورڈ روب کی طرف بڑھا اور پھر کپڑے بدلنے کے لئے باتھ روم چلا گیا…..
باہر نکلا تو اسکا چہرہ سرخ تھا اسے اس وقت کافی کی اشد ضرورت تھی لیکن وہ بنانے کے موڈ میں نہیں تھا اسلئے صوفے پر بیٹھ کر اسنے سائڈ ٹیبل کی دراز سے سگریٹ کا پیکٹ نکالا اور ایک سگریٹ نکال کر جلا لی…. سگریٹ کا دھواں ہوا میں عجیب عجیب نقوش بناتا رہا اور وہ اس دھویں میں کسی کا چہرہ…..
اچانک اسکے ذہن میں ایک سوال آیا آج نور کی شادی تھی اگر یہ سب نہ ہوتا اور اسکی شادی ہو جاتی تو…؟ اسے اپنی ہارٹ بیٹ مس ہوتی ہوئی محسوس ہوئی….
اسنے فوراً اپنا سر جھٹکا،،، میں یہ کیا فضول سوچ رہا ہوں، وہ اتفاقن میری گاڑی کے سامنے آگئی اسکے ساتھ جو ہوا غلط ہوا لیکن اس سب سے میرا کچھ لینا دینا نہیں ہے اب وہ جانے اور اسکے گھر والے….. اسنے خود سے ہم کلامی کی،،،، کافی کوششوں کے بعد بھی جب وہ نور کو اپنے دماغ سے غرق نہیں کر سکا تو کافی بنانے کے لئے اٹھ گیا،،،، تمھے اس وقت ایک بلیک کافی کی بہت ضرورت ہے شافع وارثی ورنہ نیند نہیں آئے گی…. لوگ کہتے ہیں کہ چائے یا کافی پینے سے نیند اڑ جاتی ہے لیکن شافع کافی کا اتنا عادی تھا کہ اگر وہ کافی پینے کے بعد سونا چاہے تو سو بھی جاتا تھا لیکن ساری بات اسکے چاہنے کی تھی…
لیکن یہ بات تو طے تھی کہ آج رات وہ کچھ بھی کر لے نہ اسے نیند آنے والی ہے نہ آئےنور اسکے دماغ سے جانے والی ہے,,,,
وہ خود چاہتا تھا کہ وہ نور کو سوچے لیکن خود ہی اس بات سے انکار کرتا تھا کہ میں اسے سوچنا نہیں چاہتا اسے احساس بھی نہیں تھا کہ جانے انجانے میں وہ نور کے لئے بہت الگ محسوس کرنے لگا ہے اور اس احساس کو وہ بڑی بے رحمی سے نظر انداز بھی کر رہا ہے,,,,, وہ سوچ رہا تھا کہ نور اسکی گاڑی کے سامنے اتفاقیہ آئی اور اب اس معاملے سے اسکا کچھ لینا دینا نہیں ہے لیکن وہ غلط سوچ رہا تھا…..
کیونکہ آگے قسمت جو ان دونوں کے ساتھ کرنے والی تھی وہ انھوں نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچ رکھا تھا…..
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آئےنور کپڑے بدل کر بیڈ پر آکر بیٹھی ارمینہ بیگم اسکے پاس ہی بیٹھیں تھی چوڑیاں ٹوٹنے کی وجہ سے اسکے ہاتھ میں جگہ جگہ کٹ پڑ گئے تھے جو مہندی کی وجہ سے واضح نہیں ہورہے تھے….. مستقل بھاگنے کے وجہ سے اسکے پیر بھی زخمی تھے… ارمینہ بیگم کی خود طبیعت ناساز تھی لیکن پھر بھی وہ مرہم لے کر نور کے پیر اپنی گود میں رکھ کر اسکے زخموں پر مرہم لگانے لگیں….
نور خاموش بیٹھی خلا میں دیکھتی رہی،،، ارمینہ بیگم نے اسکے زخم پر مرہم لگایا انھے لگا تھا نور چینخے لگی ، لیکن وہ اسی طرح خاموش بیٹھی خلا میں دیکھتی رہی، جنکی روح پر زخم لگتے ہیں انھے پھر جسم کے زخموں کا کہاں احساس ہوتا ہے،،،،،، ارمینہ بیگم نے اسکا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا،،،،، اب کھانا لاؤں؟ نور نے نفی میں گردن ہلائی…. وہ کب سے نور سے کھانے کا ہی کہی جارہی تھیں لیکن وہ منا کر رہی تھی،،،، نور نے گردن ارمینہ بیگم کی طرف گھمائی اور انکے چہرے کی طرف دیکھ کر آہستہ سے بولی “سونا چاہتی ہوں” ارمینہ بیگم فوراً اسکا سر اپنی گود میں رکھتے ہوئے بولیں ہاں سو جاؤ میری بچی تم تھکی ہوئی ہو,,,,, ارمینہ بیگم اپنے آنسوں صاف کرنے لگیں جو نکلے ہی جا رہے تھے…..
نور نے انکی گود میں سر رکھ لیا لیکن آنکھیں نہیں بند کیں کچھ دیر ٹھہر کر بولی ماما…..! ارمینہ بیگم نے اسکے بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اپنے پورانے انداز میں ہی کہا ہاں ماما کی جان… میں بھاگی نہیں تھی ماما، نہ ہی میرے ساتھ کچھ ہوا ہے،،،، ارمینہ بیگم نے فوراً اسے چپ کر وایا…. تمھے مجھے صفائیاں پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے میری بچی مجھے تمھارے ایک ایک الفاظ پر یقین ہے، مجھے پتا ہے میری بچی کبھی کوئی غلط کام کر ہی نہیں سکتی…. آنسوں نکل کر نور کی کنپٹی پر بہہ گیا،،، ” جب آپ مجھ پر بھروسہ کر سکتی ہیں تو بابا کیوں نہیں؟” ارمینہ بیگم نے اپنے ہونٹ بھینچیں،،،، انکی آنکھوں پر سیاہ پٹی بندھی ہوئی ہے،،،
بیٹا نہ ہونے کے غم نے انھے بیٹی کی طرف دیکھنے ہی نہیں دیا….. نور کی ہچکی نکلی،،، اگر انھے بیٹی سے اتنی ہی نفرت تھی تو پیدا ہوتے ہی مار کیوں نہیں دیا انھوں نے مجھے…..
ارمینہ بیگم نور کے بال اپنے ہاتھوں سے سمیٹتے ہوئے بولیں تمھے پل پل جو مارنا تھا انھوں نے اسلئے ایک دفعہ میں مار کے قصہ کیوں تمام کر دیتے…. ارمینہ بیگم کی آواز میں درد تھا….جب تم پہلی بار میری گود میں آئی تھیں نہ نور تو مجھے لگا تھا میری دنیا مکمل ہوگئی اس دن مجھے احساس ہوا کہ اولاد ایسی چیز ہے کہ اسکے آگے پھر کچھ نظر نہیں آتا یہاں تک کے اپنا آپ بھی,,,,,
لیکن میں غلط تھی یہ بات سب پر لاگو نہیں ہوتی….. تمھاری پیدائش کے بعد ڈاکٹر نے ہمیں بتایا کہ ہماری دوبارہ اولاد نہیں ہوسکتی میں تھوڑی دکھی ہوئی لیکن تمھے دیکھ کر میرے سارے غم کہیں دور جاکر سو گئے کے اللہ نے کم سے کم مجھے تم سے تو نواز دیا لیکن جب صدیقی صاحب کو یہ بات پتا چلی تو انھوں نے تمھے پندرہ دن تک گود میں نہیں اٹھایا تھا،،،،،
وہ مجھ سے اتنا لڑے جیسے یہ سب میرے ہاتھ میں ہو بیٹا نہ ہونے کی طعنے دے دے کر انھوں نے مجھے ذہنی عزیت میں مبتلا کر دیا تھا،،،، لیکن میں نے بھی عزم کر لیا تھا کہ میں اپنی بیٹی پر کبھی کوئی آنچ نہیں آنے دوں گی،،،، وہ اچانک خاموش ہوئیں تو نور انکی طرف دیکھ کر بولی لیکن پھر بھی قسمت نے آپکی بیٹی کے دامن کو داغ دار کر دیا ماما،،،
ارمینہ بیگم پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں،،، انسان ہر چیز سے لڑ لیتا ہے لیکن بیٹیوں کے نصیب سے نہیں لڑ سکتا…. بیٹیوں کے قدم نہ بھی لڑکھڑائیں تو بھی اکثر قسمت انھے منہ کے بل گرا ہی دیتی ہے…..
نور نے انکی گود میں منہ چھپا لیا… اور ان سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی،،،، ارمینہ بیگم نے بھی اسکے سر پر اپنا سر رکھا،،، انکی حالت ٹھیک نہیں تھی، دونوں ایک دوسرے سے لپٹ کر روتے رہے باہر بارش نے بھی آج نہ رکنے کا نام لے رکھا تھا….. شاید نور کی قسمت پر اسے بھی رونا آیا تھا،،،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صدیقی صاحب نے پوری رات خود کو کمرے میں بند رکھا اور صبح ہوتے ہی وہ باہر نکل گئے ارمینہ بیگم نے منہا کو آئےنور کے گھر آجانے کی اطلاع دے دی تھی صبح ہوتے ہی منہا انکے گھر پر آگئی ارمینہ بیگم اپنے کمرے میں آرام کر رہی تھیں دروازہ نور نے ہی کھولا…..
منہا نور کا ہاتھ پکڑ کر اسے کمرے میں کھینچتے ہوئے لے آئی…… نور نے اپنا ہاتھ چھڑایا منہا نے غصے سے اسکی طرف دیکھا،،، اور نور پر برس پڑی کس کے ساتھ آئی تھیں تم؟ آئےنور بیڈ پر بیٹھتے ہوئے آہستہ سے بولی شافع کے ساتھ…… نور طنزیہ ہنسی اور ہاتھ اوپر کرتے ہوئے بولی اوہ تو اب میں سمجھی یہ سارا ڈرامہ اسلئے کیا تھا تم نے….. نور نے نہ سمجھی سے اسکی طرف دیکھا کیا مطلب ہے تمھارا؟ منہا طنز سے بولی مطلب یہ کے جب تمھے شادی کرنی ہی نہیں تھی تو اتنا ڈرامہ کیوں کیا؟ جب شافع اور تمھارے بیچ کچھ تھا تو اپنے گھر والوں کو کیوں نہیں بتایا؟ نور کو ایک اور جھٹکا لگا وہ حیرت سے منہ کھولے منہا کو دیکھے جارہی تھی…..
منہا یہ سب تم کہہ رہی ہو؟ تمھے لگتا ہے کہ شافع اور میرے بیچ ایسا کچھ؟ نور سکتے کے عالم میں تھی….. تو اور کیا کہوں تم تو چلی گئی تھیں پیچھے سب نے سوالوں کی بوچھاڑ تو مجھ پر کی نہ کہ نور تمھارے ساتھ تھی ایسے کیسے گئی، سب مجھ پر شک کر رہے تھے کہ میں نے تمھے بھگایا ہے…
نور ایک جھٹکے سے اٹھی اور انگلی اٹھاتے ہوئے بولی میں بھاگی نہیں تھی منہا اور نہ ہی شافع اور میرے بیچ ایسا کچھ ہے….. میں اتفاقن اسکی گاڑی کے سامنے آگئی تھی….. اور مجھے تو یقین نہیں آرہا کہ تم میرے بارے میں ایسا سوچتی ہو؟ منہا طنزیہ ہنسی میں کیا سب یہی سوچ رہے ہیں تم کس کس کا منہ بند کرواؤ گی؟ نور بے سدھ سی خاموش ہو کر بیڈ پر بیٹھ گئی،،،، تم نے ٹھیک کہا میں کس کس کا منہ بند کر واؤں گی اور کروانے کا فائدہ بھی کیا جب پہلا وار اپنے گھر سے ہی ہو رہا ہو…….. منہا نے آنکھیں گھمائیں،،، دیکھو نور دنیا وہی کہے گی جو انھوں نے دیکھا ورنہ پارسا تو ہر کوئی بنا پھرتا ہے…… نور نے نظریں اٹھا کر اسکی طرف دیکھ کر بھنویں اٹھا کر کہا ہاں بالکل پارسا تو ہر کوئی بنا پھرتا ہے جیسے کے تم……. منہا کی بھنویں تن گئیں دانت پیس کر بولی نور یہ کیا بکواس کر رہی ہو تم؟ نور کچھ نہیں بولی،،،،، منہا نے مٹھیاں بھینچیں اور ہاتھ جھٹک کر وہاں سے چلی گئی……
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صدیقی صاحب گھر لوٹے نور اپنے کمرے میں تھی کل کے بعد ان دونوں کا دوبارہ آمنا سامنا نہیں ہوا تھا….. صدیقی صاحب صوفے کی پشت سے سر پیچھے ٹکائے اپنی آنکھیں مسل رہے تھے…… وہ اسی طرح بیٹھے تھے جب انکا موبائل بجا کل رات کے واقعئے کے بعد انھے کوئی ہزاروں کال موصول ہوئی تھیں وہ سب کو طرح طرح کے سوالوں کے جواب دے کر تھک گئے تھے…… انھوں نے کال نہیں اٹھائی فون اسی طرح بچتا رہا اور بند ہو گیا لیکن تھوڑی ہی دیر بعد دوبارہ کال آنے لگی تو انھوں نے سر جھٹک کر کال اٹھا لی…. دوسری طرف سے ناجانے کس نے کیا کہا تھا لیکن انکے چہرے پر پریشانی چھا گئی تھی…. ” کیوں فرحان صاحب ایسا کیا آرہا ہے نیوز چینل پر؟؟؟ اچھا میں دیکھتا ہوں”
صدیقی صاحب نے کال کاٹی اور ٹیبل پر پڑا ریموٹ اٹھا کر ٹی وی آن کرنے لگے اتنے میں ارمینہ بیگم بھی کمرے سے نکل کر باہر آگئیں وہ کمرے کے دروازے پر ہی کھڑی تھیں، صدیقی صاحب نے جلدی سے ٹی وی آن کر کے چینل گھمانا شروع کئے…. نیوز چینل پر آکر انکا ہاتھ اور سانس دونوں اٹک گئیں…..
ٹی وی پر شافع اور نور کی تصویریں چل رہی تھیں وہ تصویر کل رات جب نور شافع کی گاڑی کے آگے آئی تھی اسکے بعد کی تھیں…. جس میں شافع نور کو خود سے لگائے گاڑی میں بیٹھا رہا تھا، نور نے شافع کا کالر پکڑ کر اسکے سینے پر سر رکھا ہوا تھا…. وہ تصویریں اسطرح سے لی گئی تھیں کے دیکھنے والا غلط فہمی کا شکار ہو جائے نیوز اینکر چینخ چینخ کر کہہ رہی تھی،،،
” اپکو ایک اہم خبر سے آگاہ کرتے چلیں مشہور و معروف بزنس مین تیمور علی وارثی کے بیٹے شافع وارثی جنہوں نے حال ہی میں بزنس میں اپنے قدم جمائے ہیں اور تیزی سے بلندیوں کی طرف جارہے تھے انکا ایک سکینڈل سامنے آیا ہے،،، انکی کچھ تصاویر سوشل میڈیا پر لیک ہوگئیں ہیں، جو اب آگ کی طرح پھیل رہی ہیں،،، اس تصویر میں انکے ساتھ ایک لڑکی کو واضح دیکھا جائے سکتا ہے جس نے عروسی لباس زیب تن کیا ہوا ہے سوال یہ ہے کہ شافع وارثی اس برستی بارش میں اس لڑکی کے ساتھ کیا کر رہے تھے؟ کیا یہ لڑکی انکی بیوی ہے جسے انھوں نے دنیا سے چھپایا ہوا ہے یہ پھر معاملہ کچھ اور ہے ہم شافع وارثی سے بھی اس بارے میں بات کرنے کی کوشش کریں گے ہر خبر سے آگاہی کے لئے ہمارے ساتھ بنے رہیئے”
صدیقی صاحب کے ہاتھ سے ریموٹ چھوٹ کر زمین پر گر گیا اور وہ صوفے پر ایک جھٹکے سے بیٹھ گئے….. آئےنور کمرے سے باہر نکلی تو پہلی نظر اسکی ٹی وی پر ہی پڑی اور ٹی وی پر چلتی تصویریں دیکھ کر اسے کھڑے رہنے کے لئے ٹیبل کا سہارا لینا پڑا اسنے پھٹی آنکھوں سے منہ پر ہاتھ رکھا اور ہیڈ لائن پڑھ کر اسنے نفی میں سر ہلایا….. ارمینہ بیگم اپنے دل پر ہاتھ رکھے کھڑی تھیں،،،، اچانک انھے درد مکڑی کے جالے کی طرح دل میں پھیلتا ہوا محسوس ہے، اور پھر وہ کھڑی نہیں رہ پائیں ایک جھٹکے سے زمین پر گر گئیں….. نور چینختی ہوئی انکی طرف دوڑی ماما…….!
صدیقی صاحب بھی اٹھ کر انکی طرف دوڑے ارمینہ بیگم کے دل میں شدید درد اٹھا تھا جو آہستہ آہستہ پورے سینے کو جکڑ رہا تھا درد اتنا تھا کے ان سے چینخا بھی نہ گیا….. نور روتے ہوئے چینخھی بابا ایمبولینس بلائیں جلدی،،،، صدیقی صاحب تیزی سے ایمبولینس کو کال ملانے لگےارمینہ کا سر نور کی گود میں تھا ارمینہ بیگم نے ایک سانس کھینچنے کی کوشش کی لیکن ان سے سانس نہیں لیا گیا…… نور روتے ہوئے چینخی بابا،،،، آپ ماما کو لے کر چلیں جلدی…. نور روتے ہوئے ارمینہ بیگم کا گال تھپتھپاتے ہوئے انھے آوازیں لگاتی رہی،،،، ماما آنکھیں کھولیں،،،، انکی آنکھیں آہستہ آہستہ بند ہو رہی تھیں…..
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شافع پوری رات نہیں سویا تھا صبح کے ٹائم ذرا سی دیر کے لئے اسکی آنکھ لگی تھی تو تہمینہ بیگم نے اسکا حال احوال پوچھنے کے لئے فون کر لیا…. اسکے بعد وہ سویا نہیں آفس کے لئے تیار ہوا اور آفس آگیا…. دوپہر کے وقت زایان نے کال کر اسے اپنے پہچنے کی اطلاع دے دی تھی لیکن شافع نے اسے نور کے بارے میں کچھ نہیں بتایا وہ اسے پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا…… سارا دن کام کرتے ہوئے بھی اسے نور کی فکر ہوتی رہی وہ اسکی خیریت دریافت کرنا چاہتا تھا لیکن اسکے پاس اسکا نمبر نہیں تھا….. وہ اتنا ڈسٹرب تھا کہ اسنے آج کے دن کی ساری میٹنگ بھی کینسل کرا دی تھیں وہ پورا دن آفس میں تھا باہر بھی نہیں گیا۔ ۔ ۔ ۔
شام کے وقت آفس آور ختم ہونے سے کچھ دیر پہلے وہ لیپ ٹاپ پر کوئی ای میل چیک کر رہا تھا جب ایک ایملوئی لیپ ٹاپ اٹھا کر اسکے آفس میں داخل ہوئی اسنے دروازہ بھی نہیں کھٹکھٹایا تھا……
شافع نے حیرت سے پوچھا ایسا کیا ہوگیا جو آپنے نوک کرنے کی بھی ذہمت نہیں کی…. اس لڑکی نے اسکی بات کا جواب دینے کے بجائے اجلت میں لیپ ٹاپ اسکی طرف گھما دیا سر یہ دیکھیں…..
شافع نے ہونٹوں پر انگلیاں رکھ کر نظریں لیپ ٹاپ کی طرف گھمائیں،،، اور نیوز دیکھ کر اسکے چہرے کے تاثرات بدلنے لگے….. شافع کی بھنویں تن گئیں،،،، کرسی پر سے کھڑے ہو کر ٹیبل پر زور سے ہاتھ مار کر چینخھا کیا بکواس ہے یہ….. سامنے کھڑی ایملائی اسے اسطرح غصے میں دیکھ کر سہم گئی،،،، سر یہ خبر کچھ دیر پہلے نیوز چینلز پر چلائی گئی ہے سب سے پہلے یہ تصویریں سوشل میڈیا پر ڈالی گئیں ہیں اور اب ہر چینل سے آپکے لئے کال آرہی ہیں سر….
شافع نے پریشانی سے سر پر ہاتھ پھیرا،،،، پھر سامنے کھڑی لڑکی سے بولا یہ تصویریں کس نے ڈالی ہیں، کس چینل پر سب سے پہلے یہ نیوز دیکھائی گئی ہے مجھے سب انفارمیشن آدھے گھنٹے میں لاکر دو….. وہ لڑکی اثبات میں سر ہلا کر باہر چلی گئی،،، لیپ ٹاپ سامنے ہی رکھا تھا اور لگاتار شافع اور نور کی تصویریں چل رہی تھیں جس پر نیوز اینکر طرح طرح کے تبصرے کر رہے تھے…. شافع نے غصے میں لیپ ٹاپ اٹھا کر دور فرش پر پٹک دیا…. سر پر ہاتھ پھیر کر وہ لمبی لمبی سانسیں لینے لگا اور جھٹکے سے کرسی پر بیٹھا اچانک اسے نور کا خیال آیا….. ” آئےنور……….! اوہ نو اسکے گھر پر اگر کسی نے نیوز دیکھ لی تو… شافع نے پریشانی سے نفی میں گردن ہلائی،،،، وہ باہر جانے کے لئے کرسی سے اٹھا اسکا موبائل بجا… اس نے اپنی گاڑی کی چابی اٹھا کر موبائل کان سے لگا لیا….. دوسری طرف سے آواز آئی مسٹر شافع ہم نیوز چینل سے بات کر رہے ہیں،،،، ہم آپ سے بات کرنا چاہ رہے تھے،،، یہ جو تصویریں چینل پر چل رہی ہیں یہ کب کی ہیں…..
شافع کی آنکھوں میں خون اترا شافع اپنے کمرے سے باہر نکلتے ہوئے غصے سے چلا کر بولا “تمھارے باپ کے ولیمے کی ہیں” اور کال کاٹ کر موبائل جیب میں ڈال لیا اسکی بھنویں تنی ہوئی تھیں وہ اپنے کمرے سے باہر نکلا تو سب کی نظر اس پر ہی تھی وہ سب کو نظر انداز کر کے باہر کی طرف جانے لگا تو باہر کی طرف سے مینیجر دوڑتا ہوا اسکے قریب آیا سر آپ باہر مت جائیں….
شافع نے اچھنبے سے اسکی طرف دیکھا اور بغیر رکے بولا کیوں کیا ہوا…..
سر باہر میڈیا آئی ہوئی ہے بہت مشکل سے انھے اندر آنے سے روکا ہے….. شافع نے دانت پیسے،،، اور بغیر رکے باہر جانے لگا… وہ باہر نکلا تو باہر میڈیا کا ایک ہجوم تھا سیکیورٹی گارڈ نے شافع کو کور کیا…. میڈیا والے اسکے پیچھے دوڑے وہ اس سے طرح طرح کے سوال کر رہے تھے…. شافع وارثی آپکے ساتھ وہ لڑکی کون تھی؟ کیا آپ نے خوفیہ شادی کی ہوئی ہے؟ کیا اس لڑکی کا آپ سے کوئی تعلق ہے؟ اگر بات صرف اکیلے شافع کی ہوتی تو وہ ان میڈیا والوں کو بھی ایسا ہی جواب دیتا جیسا نیوز چینل والے کو دیا تھا لیکن اس وقت میڈیا کے سامنے اسکا ایک بھی غلط کہا ہوا الفاظ نور کے لئے حماقت ثابت ہو سکتا تھا….
شافع میڈیا سے پیچھا چھوڑا کر اپنی گاڑی میں بیٹھا گارڈز نے اسکی گاڑی کو کور کیا ہوا تھا،،،، شافع نے تیزی سے گاڑی وہاں سےنکال لی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تیمور صاحب نے ریموٹ کھینچ کر ٹی وی پر دے مارا اور زور سے دھاڑے یہ کیا بکواس چلا رہے ہیں نیوز چینل والے کون ہے یہ لڑکی جس کی وجہ سے یہ دو ٹکے کے لوگ مجھ پر اور میرے بیٹے پر باتیں بنا رہے ہیں….. تہمینہ بیگم سہمی ہوئی بولیں آپ شافع کو فون لگائیں نہ وہ بتا دے گا سب….. تیمور صاحب دھاڑے تو کھڑی میری شکل کیا دیکھ رہی ہو فون لا کر دو…. تہمینہ بیگم نے تیزی سے فون اٹھا کر انھے تھمایا تیمور صاحب نے تیش کے عالم میں شافع کو فون لگایا شافع ڈرائیو کر رہا تھا اسنے جب دیکھا کہ تیمور صاحب کا فون ہے تو کاٹ دیا وہ اس وقت جلد سے جلد نور کے گھر پہنچا چاہتا تھا تیمور صاحب کو سمجھانے کا اسکے پاس وقت نہیں تھا…… تیمور صاحب نے اسے دو تین بار فون کیا جب اسنے ہر دفعہ کاٹ دیا تو تیمور صاحب نے فون بھی غصے میں زمین پر پٹک دیا…… یہ لڑکا بار بار میرا فون کیوں کاٹ رہا ہے؟ تہمینہ بیگم ڈرتے ہوئے بولیں آپ کچھ دیر انتظار کر لیں کیا پتا وہ کہیں مصروف ہو…… تیمور صاحب چینختے ہوئے آگے آکر بولے آخر ایسی کونسی مصروفیت ہے جو وہ میرا فون نہیں اٹھا رہا…. یہ ٹی وی پر اتنا بڑا تماشہ جو بن گیا ہے اب کیسے سنبھالے گا یہ سب,,, ابھی کچھ دیر میں دو ٹکے کے لوگ مجھے فون کر کر کے پوچھیں گے کے یہ سب کیا ہے …. تہمینہ بیگم انھے ٹھنڈا کرنے کے لئے بولیں آپ تحمل رکھیں شافع کچھ نہ کچھ کر کے سنبھال لے گا وہ آئے گا تو آپ سب پوچھ لئے گا اس سے…..
ارے کیسے سنبھالے گا وہ ان نیوز چینل والوں کو یہ لوگ بے لگام گھوڑا ہوتے ہیں….. میرے بغیر وہ کچھ نہیں کر سکے گا،،،، تو آپ کچھ کرتے کیوں نہیں؟ تیمور صاحب کندھے اچکا کر بولے میں کیوں کروں کچھ بہت شوق تھا نہ اسے بڑے بڑے اسکینڈلز بنانے کا اب سنبھالے سب کچھ میں بھی دیکھتا ہوں کیا کرتا ہے وہ…..۔
یہ بات نہ اب تک بی اماں تک پہنچی تھی اور نہ ہی زایان تک لیکن جس طرح یہ خبر پھیل رہی تھی زیادہ دیر تک ان لوگوں سے بھی چھپی نہیں رہ سکتی تھی…..
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شافع نے نور کے گھر کے سامنے پہنچ کر گاڑی کے بریک لگائے اور تیزی سے نور کے آپارٹمنٹ کی طرف بھاگا نور کے دروازے پر پہنچ کر اسکے قدموں کو بریک لگے،،، لاک لگا ہوا تھا اسنے دروازے کو دیکھ کر سوچا کہاں جا سکتے ہیں اتنے میں نور کے برابر والے آپارٹمنٹ سے ایک خاتون نکل کر نیچے جانیں لگیں تو شافع نے انھے روک کر پوچھا…. ” کیا آپ بتا سکتی ہیں کہ صدیقی صاحب کہاں گئے ہیں؟” وہ خاتون ہاتھ ہلا ہلا کر بولیں صدیقی صاحب کی بیوی کو ہارٹ اٹیک آیا ہے ہاسپٹل لے کر گئے ہیں انھے بس اللہ ہی رحم کرے،،، شافع کو جھٹکا لگا ہارٹ اٹیک؟ پھر جلدی سے بولا آپ کو پتا ہے کہ کس ہاسپٹل میں لے کر گئے ہیں؟ ان خاتون نے شافع کو ہاسپٹل کا نام بتانے کے بعد اسے بغور دیکھا اور گال پر ہاتھ رکھ کر بولیں،،،، ارے تم تو وہی لڑکے لگ رہے ہو جس کے ساتھ صدیقی صاحب کی بیٹی کی تصویر ٹی وی پر چل رہی ہے…. شافع انکی بات کو ان سنا کر کے تیزی سے باہر بھاگا….
وہ عورت پیچھے سے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے بولیں توبہ توبہ کیا زمانہ آگیا ہے اسی بیٹیوں سے تو اچھا ہے اولاد ہی نہ ہو….
شافع گاڑی میں آکر بیٹھا اور تیزی سے دروازہ بند کر کے گاڑی اسٹارٹ کر دی کچھ دیر بعد وہ ہاسپٹل میں موجود تھا وہ بھاگتا ہوا ریسیپشن پر گیا اور معلومات لے کر وہ دوسرے فلور کی طرف بھاگا دوسرے فلور پر پہنچ کر اسنے بائیں جانب دیکھا آئےنور ایک کمرے کے آگے دائیں سے بائیں چکر لگا رہی تھی، اور بار بار اپنے آنسوں بھی صاف کر رہی تھی وہ وہاں اکیلی تھی… شافع اسکی طرف بھاگا نور نے اسے اپنی طرف آتے ہوئے دیکھ لیا تھا شافع اسکے پاس آکر رکا تو نور کے تاثرات بدل گئے نور شافع کے اوپر جھپٹی اور اسکا کالر جھنجھوڑتے ہوئے بولی تم نے یہ سب کیوں کیا ؟ شافع بدلہ لینے کا ایک یہی راستہ ملا تھا تمھے میری زندگی ویسے ہی مشکل میں تھی تم نے مجھے اور عزیت میں مبتلا کر دیا.. کیوں کیا تم نے ایسا… شافع کو مزید حیرت کا جھٹکا لگا،،،، وہ نرمی سے نور کے ہاتھوں سے اپنا کالر نکالتے ہوئے بولا آئےنور تم یہ سب کیا کہہ رہی ہو میں کیوں کرواؤں گا یہ سب میں تم سے کس بات کا بدلہ لوں گا؟ نور چینختے ہوئے بولی اپنی بے عزتی کا تم نے کہا تھا کہ تم کنسرٹ والی بات کبھی نہیں بھول گے تم نے اسی بات کا بدلہ لیا ہے مجھ سے ورنہ اور کون یہ تصویریں اسطرح دے گا شافع اسے جھنجھوڑتے ہوئے بولا میں نے یہ سب نہیں کیا اور کنسرٹ والی بات میں کب کا بھول چکا تمھے لگتا ہے کہ اتنی سی بات کے لئے میں اتنی گری ہوئی حرکت کروں گا…..
نور پھر دھاڑی لیکن میں کیسے تمھاری بات کا یقین کر لوں مجھے جس نے اغواہ کیا تھا اسنے بھی اپنے آدمی سے بات کرتے ہوئے تمھارا نام لیا تھا تو ہو سکتا ہے یہ سب تم نے ہی کروایا ہو…. بدلہ لینے والا یہ نہیں سوچتا کہ بات چھوٹی تھی یا بڑی وہ صرف بدلہ لیتا ہے اور تم نے بھی وہی کیا ہے شافع وارثی….
شافع کو جیسے سانپ سونگھ گیا تھا اسے نور کے لفظوں سے تکلیف بھی ہوئی تھی لیکن پھر بھی وہ خود کو سنبھالتے ہوئے بولا تمھے اغواہ کرنے والے نے میرا نام لیا تھا؟ لیکن کیوں؟ نور روتے ہوئے بولی مجھے نہیں یاد میں نیم بے ہوش تھی لیکن مجھے یہ یاد ہے کے اسنے ایک بار شافع کہا تھا کسی بات میں….
شافع نے نفی میں گردن ہلائی،،، تم خود کہہ رہی ہو کہ تم نیم بے ہوش تھیں تو ہو سکتا ہے کہ تم نے غلط سنا ہو اور اگر اسنے شافع کہا بھی تھا تو ضروری ہے پوری دنیا میں ایک ہی شافع ہو جس طرح تمھارے نام کی غلط فہمی میں انھوں نے تمھے اغواہ کیا تھا اسی طرح ہو سکتا ہے اسنے کسی اور شافع کا نام لیا ہو….۔
نور کو چپکی لگ گئی وہ ڈھے نے والے انداز میں زمین پر بیٹھ گئی اور منہ پر ہاتھ رکھ کے بولی مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ کیا ہو رہا ہے…. شافع اسکے پاس گٹھنوں کے بل بیٹھتا ہوا بولا تم اس سب کی فکر مت کرو میں بہت جلد سب کچھ پتا لگا لوں گا اور تم دیکھنا جس نے بھی یہ سب کیا ہے اسے میں زندہ گاڑ دوں گا…. تم بس اپنی ماما کی فکر کرو….. شافع نے نور کو اٹھا کر کرسی پر بیٹھایا…. کیسی طبعیت ہے تمھاری ماما کی؟ نور نے ہونٹ بھینچتے ہوئے نفی میں گردن ہلائی ٹھیک نہیں ہیں وہ ہارٹ اٹیک آیا ہے انھے کچھ اور ماسئلہ بھی ہے آپریشن کرنے کا کہا ہے ڈاکٹر نے بات ختم کرتے کرتے نور کی ہچکیاں بندھ گئیں شافع کا دل کیا تھا کہ اسے اپنے سینے لگا لے…. لیکن اس نے صرف اسے تسلی دی تم فکر مت کرو وہ ٹھیک ہو جائیں گی….. بابا کہاں ہے تمھارے؟؟؟ وہ بلڈ ارینج کرنے گئے ہیں ڈاکٹر نے کہا ہے کہ جلد سے جلد آپریشن کرنا پڑھے گا ابھی کچھ انجیکشن دیئے ہیں……
شافع گردن اثبات میں ہلا کر بولا میں ڈاکٹر سے بات کر لیتا ہوں… وہ جانے لگا تو نور نے اسے روکا سنو…. شافع نے مڑ کر اسکی طرف دیکھا،،،، تم یہاں مت روکو تم چلے جاؤ… شافع مسکرایا اور اسے بغور دیکھتے ہوئے بولا “کوئی وعدہ نہیں کیا تھا لیکن پھر بھی کہہ رہا ہوں اکیلے نہیں چھوڑوں گا تمھے” نور نے نظریں جھکا لیں وہ مزید کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن شافع وہاں سے چلا گیا….. شافع ڈاکٹر کے کمرے میں آیا اور ارمینہ بیگم کی طبیعت کے بارے میں پوچھنے لگا….. ڈاکٹر نے ایک لمبا سانس کھینچا پھر شافع کو دیکھتے ہوئے پوچھا آپ کون ہیں انکے؟ شافع نے ہونٹ بھینچے اسے سمجھ ہی نہیں آیا کے کیا بولے ،،،، آپ یہ سب چھوڑیں کہ میں انکا کون ہوں آپ بس انکی طبیعت کا بتائیں مجھے…..
ڈاکٹر نے اثبات میں سر ہلایا دیکھیں مسٹر شافع میں آپ کو سب سچ بتاؤں تو،،،، انکی حالت ٹھیک نہیں ہے انھے کچھ عرصہ پہلے بھی اٹیک پڑا تھا اور اس دفعہ انھے میجر اٹیک پڑا ہے، انھے بلڈ پریشر کا بھی مسئلہ ہے… اسلئے آپریشن کرنا پڑے گا لیکن…… شافع نے ضبط سے مٹھیاں بھینچیں لیکن کیا؟ لیکن آپریشن کے بعد بھی ہم کچھ کہہ نہیں سکتے کے ہم انھے بچا پائیں گے یا نہیں ہے وہ اس وقت ایمرجنسی وارڈ میں ہیں انھے اس وقت صرف دعاؤں کی ضرورت ہے باقی زندگی اور موت تو اللہ کے ہی ہاتھ میں ہے…….
شافع نے تھوک نگلا اور اثبات میں گردن ہلائی…. آپریشن کب تک کریں گے؟؟؟ شافع نے پوچھا…. بس جب پیسے جما کر وادیں شافع کھڑے ہوتے ہوئے بولا پیسے ابھی جما ہو جائیں گے آپ آپریشن کی تیاری کریں…. شافع اٹھ کر باہر جانے لگا پھر مڑ کر پوچھا کیا میں ان سے مل سکتا ہوں؟؟؟۔
ویسے ہم کسی کو اجازت نہیں دے رہے لیکن اگر وہ ہوش میں ہوں تو آپ مل لیں لیکن جلدی باہر آجائے گا کیونکہ زیادہ بولنا انکے لئے صحیح نہیں ہے…..
شافع نے اثبات میں گردن ہلائی اور باہر آگیا باہر آکر وہ ریسیپشن کی طرف گیا اور کارڈ سے پیسے جما کروا دیئے…. پھر نور کی طرف وآپس آیا صدیقی صاحب ابھی بھی نہیں آئے تھے… شافع کو آتا دیکھ کر نور فوراً کھڑی ہوئی…. کیا کہا ڈاکٹر نے؟ شافع اسے تسلی دیتا ہوا بولا تم فکر مت کرو ڈاکٹر نے کہا ہے ٹھیک ہو جائیں گی وہ…. نور وآپس بیٹھ گئی شافع اسے دیکھتا ہوا بولا “تم بس دعا کرو” نور وہیں ہاتھ جوڑ کر بیٹھ گئی….. تم اپنے بابا کو فون کر کے بولو کہ وآپس آجائیں ایک دو گھنٹے بعد آپریشن ہے… نور نے اثبات میں سر ہلایا….
میں تمھاری ماما سے مل کر آتا ہوں نور فوراً کھڑی ہوتے ہوئے بولی ڈاکٹر نے ہمیں اندر جانے سے منا کر دیا تھا… میں نے ڈاکٹر سے پوچھ لیا ہے….. نور آگے بڑھتے ہوئے بولی تو پھر میں بھی چلتی ہوں…. شافع نے نفی میں سر ہلا کر اسے وآپس کرسی پر بیٹھایا،،، تم ان کے لئے یہاں بیٹھ کر دعا کرو…. بعد میں مل لینا یہ کہہ کر شافع اندر کمرے میں چلا گیا….. دروازہ کھول کر وہ اندر داخل ہوا ارمینہ بیگم کو مسنوعی سانس دی جارہی تھی… شافع آہستہ آہستہ چل کے انکے پاس رکھی کرسی پر آکر بیٹھ گیا….. انکی آنکھیں بند تھیں….. شافع نے آہستہ سے انکا ہاتھ تھاما شافع کا دل زوروں سے دھڑک رہا تھا ارمینہ بیگم نے آہستہ سے آنکھیں کھولیں…. شافع انھے دیکھ کر ہلکا سا مسکرایا….. ارمینہ بیگم کی آنکھ سے آنسوں نکل کر کنپٹی پر بہہ گیا….. شافع انکے آنسوں صاف کر کے بولا نہیں رونا نہیں ہے آپ نے آپ جلدی ہی ٹھیک ہو جائیں گی…. ارمینہ بیگم کچھ بولنا چاہ رہی تھیں لیکن ان سے بولا نہیں گیا….. شافع نے انکا ہاتھ تھپتھپایا فکر مت کریں آپ جلدی ہی ٹھیک ہو جائیں گی،،، شافع کو وہاں بیٹھنا مشکل لگ رہا تھا اسلئے وہ وہاں سے جانے کے لئے اٹھا لیکن ارمینہ بیگم نے اسکا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیا…. شافع نے انکی طرف دیکھا وہ کچھ بولنا چاہ رہی تھیں…. شافع نے اپنا کان انکے قریب کیا….. ارمینہ بیگم اٹک اٹک کر بولیں
“میری آئےنور کو اپنا لو” شافع کو جھٹکا لگا وہ سیدھا ہوا اور ارمینہ بیگم کو دیکھنے لگا … ایک جھٹکے سے شافع کرسی پر بیٹھ گیا کیونکہ کھڑے رہنا مشکل ہو گیا تھا… ارمینہ بیگم ہمت کر کے پھر آہستہ آہستہ بولیں میری نور سے شادی کر لو….
شافع نے نفی میں سر ہلایا آنٹی میں ایسا نہیں کر سکتا اور نور بھی یہ نہیں مانے گی….ارمینہ بیگم رونے لگیں، پھر ٹھہر ٹھہر کر بولیں ایک ماں کی آخری خواہش سمجھ کر میری بات مان لو نور میری بات نہیں ٹالے گی…میں نہیں چاہتی میرے بعد میری بچی دربدر ہو جائے،،، شافع نے انکے ہاتھ پر گرفت مضبوط کی آپکو کچھ نہیں ہوگا،،،، ارمینہ بیگم اسکی بات کاٹ کر بولیں میں تمھے نہیں جانتی بیٹا لیکن میں اپنے اللہ پر یقین رکھ کر نور کو تمھارے حوالے کرنا چاہتی ہوں، انکار مت کرنا یہ سمجھ لو کے یہ میری آخری خواہش ہے میری بچی ویسے ہی آزمائش میں ہی یہ دنیا میری بیٹی کو طعنوں سے مار دے گی….
شافع نے انکا ہاتھ تھاما ہوا تھا اسے ارمینہ بیگم کی بے بسی پر بہت ترس آیا تھا شافع نظریں نیچے جھکاتا ہوا بولا”آئےنور نہیں مانے گی”ارمینہ بیگم بولیں تم صرف اسے یہ کہنا تمھاری ماما چاہتی ہیں ایسا وہ آنکھیں بند کر کے راضی ہو جائے گی….. شافع نے انکے آنسوں پوچھ کر کہا ٹھیک ہے پہلے آپ ٹھیک ہو جائیں پھر اپنے ہاتھوں سے یہ کام کرئیے گا… ارمینہ بیگم نے نفی میں آہستہ سے گردن ہلائی،،،، نکاح ابھی ہوگا میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہے…. شافع کا دل پھٹا وہ ایک ماں کو مرتے ہوئے دیکھ رہا تھا جو مرتے وقت بھی صرف اپنی بیٹی کا سوچ رہی تھی….شافع نے ارمینہ بیگم کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر اثبات میں گردن ہلائی “نکاح ابھی ہوگا”
اور پھر اٹھ کر باہر آگیا،،،،، وہ باہر آیا تو صدیقی صاحب آچکے تھے اور نور سے کچھ پوچھ رہے تھے انھوں نے شافع کو کمرے سے نکلتے دیکھا تو انکی بھنویں تن گئیں، قریب آکر دبی آواز میں دانت پیس کر بولے تم یہاں کیوں آئے ہو؟ کیا ہماری بدنامی کرنے میں اور کوئی قصر باقی ہے؟ نور انکے قریب آئی…. شافع نے نظریں اٹھا کر نور کو دیکھا…. پھر سانس کھینچ کر آنکھیں بند کیں اور صدیقی صاحب کی باتوں کو نظر انداز کر کے بولا “میں نور سے نکاح کرنا چاہتا ہوں ابھی اور اسی وقت”
نور ایک جھٹکے سے پیچھے ہوئی اسے اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا،،، وہ شافع کو حیرت سے آنکھیں پھاڑ کر دیکھ رہی تھی… صدیقی صاحب کو بھی جیسے سکتا ہو گیا تھا…. شافع نے گردن اٹھائی اور صدیقی صاحب کی طرف دیکھ کر دوبارہ بولا “میں نور سے نکاح کرنا چاہتا ہوں اسی وقت” صدیقی صاحب خاموش رہے نور آگے آکر چینختے ہوئے بولی یہ تم کیا کہہ رہے ہو ہوش میں تو ہو….؟ شافع نے ہونٹ بھینچیں اور پھر نور کی طرف دیکھا نور ابھی بھی حیرت کے عالم میں تھی…. ” نور تمھاری ماما چاہتی ہیں کہ میں تم سے نکاح کر لوں” نور پیچھے ہوئی منہ ہی منہ میں بولی ماما چاہتی ہیں؟ لیکن وہ ایسا کیوں چاہتی ہیں….؟
اس سے پہلے کے نور کچھ اور بولتی صدیقی صاحب بولے “میں تیار ہوں تم دونوں کے نکاح کے لئے تم اپنے گواہ بولا لو”
نور نے بے یقینی سے صدیقی صاحب کی طرف دیکھا بابا آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں… صدیقی صاحب نور کی کوئی بھی بات سنے بغیر وہاں سے چلے گئے….. نور شافع کی طرف مڑی نور ہڑبڑاہٹ کے ساتھ بولی… “تم……! تم منا کردو اس نکاح کے لئے، شافع اسکی طرف دیکھ کر بولا تمھاری ماما چاہتی ہیں یہ” نور سر تھام کر کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولی لیکن ماما ایسا کیوں چاہتی ہیں وہ بھی اس وقت؟ میں…..! میں یہ نکاح نہیں کر سکتی میں منا کر دوں گی….
شافع اسکے برابر میں بیٹھتے ہوئے بولا میں نے بھی تمھاری ماما سے یہی کہا تھا کہ نور نہیں مانے گی لیکن پتا ہے انھوں نے کیا کہا… نور نے سوالیہ نظروں سے شافع کی طرف دیکھا….. “کیا کہا؟” شافع سامنے دیوار کی طرف دیکھتے ہوئے بولا انھوں نے کہا کہ نور کو جاکر بولنا کہ اسکی ماما ایسا چاہتی ہیں, وہ کبھی انکار نہیں کرے گی” نور کی نظریں شافع پر تھیں،،، نور نے ہونٹ بھینچیں آنسوں نکل کر اسکے گال پر بہہ گئے… “ماما نے ایسا کہا تھا؟” شافع نے اثبات میں سر ہلایا… نور کچھ دیر میں انھے آپریشن کے لئے لیجائیں گے ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں ہے…
شافع نے گردن موڑ کر نور کی طرف دیکھا نور کی نظریں فرش پر تھیں آنسوں بہہ رہے تھے اور چہرہ سپاٹ تھا۔۔۔۔۔ “کیا تم تیار ہو اس نکاح کے لئے؟” شافع نور کی طرف دیکھتا رہا….. کچھ لمحوں کی خاموشی کے بعد نور نے اثبات میں گردن ہلائی…. شافع نے منہ پر ہاتھ رکھ کر ایک لمبا سانس کھینچا…..
شافع باہر آیا اور موبائل نکال کر آن کیا جو کے اسنے بند کر کے رکھ دیا تھا…. اسنے جیسے ہی موبائل آن کیا تیمور صاحب اور دوسرے لوگوں کے میسیجز، اور کال کی برسات تھی اسنے کال کاٹ کر سب سے پہلے زایان کو فون گھمایا، اسے اس وقت صرف زایان یاد آیا تھا…. اسنے کال لگائی لیکن حیرت کی بات یہ تھی کہ زایان کا فون بند تھا اسے حیرت ہوئی، اسنے دوبارہ فون لگایا…. لگاتار دس بارہ بار اسنے فون لگایا لیکن موبائل لگاتار بند تھا…. اسنے سر پر ہاتھ رکھا، وہ اپنی زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ زایان کی غیر موجودگی میں کیسے کرسکتا تھا، لیکن وقت کم تھا…. اسنے زایان کے لئے میسج چھوڑ دیا “جیسے ہی میری کال دیکھو مجھے فون کرنا” اسکے موبائل پر سارے میسیجز اور کال میں ایک بھی زایان کی کال یا میسج نہیں تھا شاید ابھی تک وہ اس خبر سے آگاہ نہیں تھا….
شافع نے کچھ اور لوگوں کو کال لگائی اور کچھ ضروری سامان لینے جانے کے لئے گاڑی میں بیٹھ گیا….
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹھیک ایک گھنٹے بعد وہ سب ہاسپٹل میں ڈاکٹر کی اجازت سے ارمینہ بیگم کے کمرے میں موجود تھے… نور ارمینہ بیگم کے پاس رکھی کرسی پر بیٹھی تھے اسکا ہاتھ ارمینہ بیگم کے ہاتھ میں تھا اسنے سادھا سفید سوٹ پہنا ہوا شافع جاکر نکاح کی لال چنری لے آیا تھا نور نے وہ چنری سر پر اوڑھ کر چہرے پر گرائی ہوئی تھی… صدیقی صاحب نور کے ساتھ ہی کھڑے تھے…. سامنے صوفے پر شافع اپنے آفس کے تین چار لوگوں کے ساتھ بیٹھا تھا اور انکے سامنے کرسی پر نکاح خواں بیٹھے تھے….
شافع نے صدیقی صاحب کی طرف دیکھ کر کہا انکل آپ کی اجازت ہو تو شروع کریں؟ صدیقی صاحب نے آہستہ سے اثبات میں گردن ہلا دی… نکاح خواں نے نکاح کے کلمات ادا کرنا شروع کئے… نور نے اپنے ہونٹ سختی سے بھینچیں چنری کے نیچے اسکا چہرہ آنسوؤں سے بھیگا ہوا تھا…. اسنے اپنی مہندی والے ہاتھوں کو دیکھا کس نے سوچا تھا کہ یہ مہندی کسی اور کے نام سے لگے گی لیکن نصیب شافع کی بنے گی؟ کیا کسی نے سوچا تھا کہ ایک رات میں اسے آسمان سے زمین پر پٹک دیا جائے گا… اور ایک گھنٹے میں اسے اچانک کسی اور کے نام کر دیا جائے گا….
نکاح کے کلمات پہلی بار دھرائے گئے، شافع آخری وقت تک اپنے موبائل کو دیکھتا رہا کہ شاید اب زایان کا فون آجائے لیکن نہیں آیا…. شافع نے اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو آپس میں ملایا ہوا تھا، “اسنے تو کبھی خواب میں بھی تصور نہیں کیا تھا کہ اسکا نکاح اسطرح ہوگا اور اس سے بڑھ کر یہ تھا کہ زایان کی غیر موجودگی میں ہوگا؟” “قبول ہے” نور کی آنکھ سے ایک آنسوں نکل کر اسکے ہاتھ پر گرا…
صدیقی صاحب خاموشی سے نظریں جھکائے کھڑے تھے, نکاح خواں نے دوسری بار نکاح کے کلمات دوہرائے،،،، ” شافع کے سامنے ااسکی اور نور کی اب تک کی ملاقات ایک فلم کی طرف چلتی ہوئی نظر آئی” اسے یقین نہیں آیا کہ اسکا آئےنور سے نکاح ہو رہا ہے… “دوسری بار نکاح کے کلمات ادا ہوئے شافع نے کہا “قبول ہے” تیسری بار نکاح کے کلمات ادا ہوئے شافع نے نظریں اٹھا کر نور کی طرف دیکھا اسکا چہرہ اسے صاف نظر نہیں آرہا تھا لیکن اسے پتا تھا کہ اس وقت اسنے ہونٹ بھینچے ہوئے ہونگے، آنکھیں بند ہونگی، اور آنسوں جاری ہوں گے شافع نے اس پر سے نظریں ہٹا کر کہا “قبول ہے”……
نکاح خواں نے نکاح کے کاغذات دستخط کے لئے شافع کی طرف بڑھائے شافع نے پیپر پر سائن کئے تو نکاح خواں نے دعا کروائی اور نور کی طرف مڑے……انھوں نے نکاح کے کلمات دہرائے،،، آئےنور خاموش رہی ارمینہ بیگم نے اسکا ہاتھ آہستہ سے دبایا نور جیسے ہوش میں آئی… اسنے نظریں اٹھا کر ادھر ادھر دیکھا چنری میں سے دھندلا سا اسے شافع کا چہرہ نظر آیا جس کی نظریں اسی پر تھیں… نور نے کپکتے لفظوں سے کہا “قبول ہے” دوسری بار نکاح خواں نے پوچھا،،، نور کی نظریں شافع پر ہی تھیں “قبول ہے” تیسری بار پوچھا گیا نور خاموش رہی… صدیقی صاحب نے آہستہ سے نور کے سر پر ہاتھ رکھا نور نے آنکھیں بند کیں…. “قبول ہے” شافع نے آنکھیں بند کر کے ایک لمبا سانس کھینچا…. نور نے کپکپاتے ہاتھوں سے سائن کئے دعا کروائی گئی….
شافع کھڑے ہوکر اپنے آفس کے لوگوں سے گلے مل رہا تھا وہ لوگ اسے مبارکباد دے رہے تھے لیکن شافع کا چہرہ سپاٹ تھا…. ارمینہ بیگم رو رہیں تھیں نور نے انکے آنسوں صاف کئے… شافع صدیقی صاحب کے قریب آیا…. اور انکے گلے لگا صدیقی صاحب نے آہستہ سے اسکی پیٹھ تھپتھپائی….
صدیقی صاحب نے شافع سے کوئی سوال نہیں کیا تھا نہ ہی نکاح میں اسکے گھر والوں کی غیر موجودگی پر کچھ کہا…. وہ اس موقع کو غنیمت سمجھ رہے تھے کہ نور سے کوئی نکاح کرنے کے لئے راضی ہو گیا ورنہ وہ جانتے تھے کہ اب تو نور کی کسی اور سے شادی ہونا ناممکن سی بات تھی…..
صدیقی صاحب شافع کے آفس کے لوگوں کو لے کر کمرے سے باہر نکلے سب چلے گئے تو کمرے میں ارمینہ بیگم نور اور شافع بچے….. نور نے اپنی چنری چہرے پر سے ہٹائی… شافع کو سب کچھ اپنا سا لگا تھا،،،، ایک گھنٹے کے اندر اندر نور “آئےنور صدیقی سے آئےنور شافع وارثی ہو گئی تھی” شافع کی نظریں نور پر تھیں اور نور کی ارمینہ بیگم پر انکے لگاتار آنسوں نکل رہے تھے….
نور انکی آنکھوں کے کنارے صاف کر کے بولی اب آپ جلدی سے ٹھیک ہو جائیں، ارمینہ بیگم نے شافع کی طرف دیکھا وہ کچھ بولنا چاہ رہی تھیں لیکن ان سے بولا نہیں گیا وہ آئےنور کا ہاتھ شافع کی طرف بڑھا رہی تھیں لیکن انکے ہاتھوں میں جان نہیں تھی شافع نے آگے بڑھ کر انکے ہاتھ میں موجود نور کا ہاتھ تھام لیا نور نے نظریں اٹھا کر شافع کی طرف دیکھا…. دونوں کی نظریں ملیں،،،، شافع سمجھ گیا تھا کہ ارمینہ بیگم اس سے کیا کہنا چاہ رہی ہیں شافع نے نور کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر انھے تسلی دلائی “آپ فکر مت کریں میں ہمیشہ نور کے ساتھ کھڑا رہوں گا” شافع اور بھی نا جانے ان سے کیا کیا کہہ رہا تھا لیکن نور کی نظریں شافع کے چہرے پر اٹک گئیں…….
شافع وہیں بیٹھا تھا جب اسکا موبائل بجا اسے لگا زایان کا فون ہوگا لیکن فون کسی انجان نمبر سے تھا شافع نے کال اٹھا کر موبائل کان سے لگا لیا ہیلو….؟ کال پھر کسی نیوز چینل سے تھی، شافع صاحب ہم آپ سے آپکی وائیرل ہونے والی تصاویروں سے متعلق کچھ جاننا چاہتے ہیں… شافع اٹھ کر کونے پر آگیا اور ضبط سے ایک لمبا سانس کھینچ کر بولا جی کہیں….. دوسری طرف سے آدمی نے سوال پوچھا سب سے پہلے آپ یہ بتائیں شافع صاحب آپکے ساتھ جو لڑکی ہے وہ کون ہے کیا وہ آپکی کوئی معشوق…. انکا جملہ مکمل ہونے سے پہلے ہی شافع دانت بھینچ کر بولا “بیوی ہے وہ میری” اور اپنے یہ گھٹیا الفاظ آئندہ مجھ سے بات کرتے وقت استعمال مت کرنا ورنہ ایک چینل پر تو کیا سارے چینلز پر تمھارا مجرا نشر کر واؤں گااور وہ بھی لائو…. شافع نے دانت پیستے ہوئے کال کاٹ دی….
پھر پلٹا نرس کمرے میں داخل ہوئی تھی اسکے ساتھ ہی صدیقی صاحب بھی تھے وہ نرس نور کو ارمینہ بیگم کے پاس سے ہٹاتے ہوئے بولی ہمیں انھے آپریشن کے لئے لے کر جانا ہے انکا بی پی چیک کرنا ہے نور وہاں سے اٹھ گئی… شافع اسکے پیچھے آکر کھڑا ہوا….. صدیقی صاحب سامنے کھڑے تھے…. نرس بی پی چیک کرنے کے بعد بولی انکا بی پی نارمل نہیں ہے،خیر میں انھے ایک انجیکشن دے دیتی ہوں پھر ہم انھے لے کر چلے جائیں گے….. ارمینہ بیگم کی آنکھیں بند تھیں.. نرس نے انھے انجیکشن دیا دو وارڈ بوائے اسٹیچر لے کر کمرے میں آئے نرس نور کی طرف دیکھ کر بولی آپ لوگ باہر چلے جائیں…. نور نے پریشانی سے شافع کی طرف شافع نے اثبات میں سر ہلا کر اسے باہر چلنے کا اشارہ کیا…. صدیقی صاحب اور وہ دونوں باہر آگئے, نور کرسی پر بیٹھ گئی صدیقی صاحب کچھ فاصلے پر دیوار سے ٹیک لگائے پریشانی کے عالم میں آنکھیں بند کئے کھڑے تھے شافع انکے قریب گیا اور انکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر تسلی دیتے ہوئے بولا آپ پریشان مت ہوں بس دعا کریں، صدیقی صاحب نے اسکی طرف دیکھا,,,, شافع انکے ساتھ ہی کھڑا ہو گیا، صدیقی صاحب ٹھہر ٹھہر کر بولے آپریشن کے لئے پیسے تم نے جما کروائے ہیں؟ شافع سیدھا ہوا اور گلا کھنکار کر بولا نہیں میں نے نہیں کروائے،،،، صدیقی صاحب اسکی طرف دیکھ کر بولے ریسیپشن پر پیسے جما کروانے والے کا نام شافع وارثی لکھا ہے تمھارا نام ہی شافع ہے نہ؟ شافع ہلکا سا مسکرایا اور انکے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا پیسے آپکے بیٹے نے جما کروائے ہیں،،، صدیقی صاحب نے زیر لب دہرایا بیٹے نے؟ شافع مسکراتے ہوئے انکی آنکھوں میں جھانکتا ہوا بولا کیوں میں آپکا بیٹا نہیں ہوں کیا؟ صدیقی صاحب کے ہونٹ کپکپائے اتنے میں ارمینہ بیگم کو اپریشن تھیٹر لیجانے کے لئے کمرے سے باہر لایا گیا…. نور کھڑی ہوکر انکے پاس آئی اور انھے آہستہ سے آواز لگائی ماما…..
لیکن ارمینہ بیگم بیہوش تھیں،،، اسے بہت طلب تھی کہ آپریشن تھیٹر میں جانے سے پہلے وہ ایک بار ان سے بات کر لے لیکن وہ آنکھیں بند کئے لیٹی تھیں انکے چہرے پر سکون تھا،،،، لیکن نور اس بات سے انجان تھی کے شاید وہ اب ان سے کبھی بات نہ کر پائے….
ارمینہ بیگم کو لے گئے کشمکش کی گھڑی شروع ہو گئی تھی…. صدیقی صاحب وہاں سے جاتے ہوئے بولے میں ذرا نماز پڑھنے جا رہا ہوں،،، شافع نے اثبات میں گردن ہلائی وہ چلے گئے تو شافع نے نور کی طرف دیکھا نور ہاتھ جوڑے ان پر سر ٹکائے بیٹھی تھی وہ کچھ پڑھ رہی تھی آنسوں بھی نکل رہے تھے اور ایک ٹانگ مسلسل ہل رہی تھی….. شافع اسکے برابر میں آکر بیٹھا نور نے سر نہیں اٹھایا اسی طرح بیٹھی رہی اسنے ابھی بھی نکاح کی چنری سر پر اوڑھ رکھی تھی، شافع کے پاس اسے تسلی دینے کے لئے بھی الفاظ نہیں تھے، وہ کچھ دیر اسے اسی طرح دیکھتا رہا، جب نور نے نہ کوئی ردے عمل ظاہر کیا نہ سر اٹھا کر اسکی طرف دیکھا تو شافع بولا تم نے کچھ کھایا ہے؟ نور نے ششش کر کے اسے آنکھیں دکھا کر چپ رہنے کا اشارہ کیا…. اور وآپس اپنے پہلے والے انداز میں بیٹھ گئی،،،، شافع چپ ہوگیا آپریشن دو ڈھائی گھنٹے کہ تھا، شافع وہاں سے اٹھ کر کہیں چلا گیا کچھ دیر بعد وہ لوٹا تو نور تب بھی اسطرح بیٹھی تھی شافع کے ہاتھ میں جوس اور سینڈوچ تھا…. شافع اسکے برابر میں آکر بیٹھا اور اسے آواز لگائی نور نے دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ چھپایا ہوا تھا اسنے دوبارہ اسے آواز لگائی لیکن اسنے چہرے پر سے ہاتھ نہیں ہٹائے، شافع نے اسکا ہاتھ پکڑ کر چہرے سے ہٹایا تو اسکا چہرہ آنسوؤں سے بھیگا ہوا تھا اور وہ ہچکیوں سے رو رہی تھی شافع گھبرا گیا کیا ہوا تمھے اچانک اسطرح کیوں رونے لگیں، ڈاکٹر باہر آیا تھا کیا؟ کچھ کہا ہے کسی نے؟ نور نے نفی میں گردن ہلائی مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے، ماما کو اگر کچھ ہو گیا تو؟ شافع کے پاس الفاظ ختم ہو گئے… اسنے ہونٹ بھینچے پھر آہستہ سے نور کے آنسوں صاف کئے… نور نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا تو اسنے ہاتھ نیچے کر لئے، تم اسطرح رونے کے بجائے ان کے لئے دعا کرو کہ وہ ٹھیک ہوجائیں، نور نے اپنے آنسوں پوچھتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا،،، شافع سینڈوچ کھولتا ہوا بولا اب جلدی سے یہ کھا لو،،،، نور نفی میں گردن ہلاتے ہوئے بولی نہیں مجھے نہیں کھانا شافع نے بہت اصرار کیا لیکن اس نے نہیں کھایا اچھا یہ جوس پی لو پلیز، نور نے پھر نفی میں سر ہلایا،،،
تو شافع اسے دیکھتا ہوا بولا ،،،کچھ دیر پہلے میں نے تمھاری ماما سے بہت سے وعدے کئے ہیں نور ان وعدوں کو پورا کرنے کی شروعات تو کرنے دو مجھے, نور نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا “لوگ تو سفر کے آغاز میں ہی چھوڑ جاتے ہیں تم وعدے نبھانے کی بات کر رہو” شافع اسکی آنکھوں میں دیکھاتا ہوا بولا میں نہیں چھوڑوں گا یقین رکھو…..
نور نے اس پر سے نظریں ہٹائیں، پلکھیں جھکاتے ہوئے بولی یقین نہیں کر پاؤں گی میں…. شافع نے سانس کھینچا ٹھیک ہے مت کر نہ یقین، پھر جوس نور کے ہاتھ میں پکڑایا پیو اسے، اس دفعہ نور نے ضد نہیں کی اور جوس کے ایک دو گھونٹ لے رکھ دیا تو شافع کو کچھ تسلی ہوئی اتنے میں صدیقی صاحب بھی وآپس آگئے….
کچھ پل خاموشی سے گزرے نور آنکھیں بند کر کے دعاؤں میں مصروف تھی آپریشن ڈھائی گھنٹے کا تھا لیکن ایک گھنٹے بعد ہی ڈاکٹر آپریشن تھیٹر سے نکلا،،،، آئےنور ، شافع اور صدیقی صاحب تینوں کھڑے ہوگئے آئے نور اپنی جگہ پر ہی کھڑی تھی اسکا دل زوروں سے دھڑک رہا تھا،،، صدیقی صاحب اور شافع ڈاکٹر کی طرف بڑھے، ڈاکٹر نے صدیقی صاحب کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر نفی میں گردن ہلاتے ہوئے کہا، آپریشن کے بیچ میں ہی انکی حالت مزید خراب ہونے لگی بلڈ پریشر بھی نارمل نہیں ہورہا تھا اسلئے ہم انکو بچا نہیں پائے،،، نور ایک جھٹکے سے سکتے کے عالم میں کرسی پر گری صدیقی صاحب لڑکھڑائے شافع نے فوراً آگے بڑھ کر انھے سنبھالا اور کرسی پر بیٹھایا وہ سر پکڑ کر رونے لگے، شافع نے نور کی طرف دیکھا وہ سکتے کے عالم میں تھی جو آنسوں کب سے جاری تھے وہ اچانک بند ہو گئے تھے….
شافع صدیقی صاحب کو سنبھال رہا تھا لیکن اسکی نظریں آئےنور پر تھیں جو بے سدھ سی بیٹھی تھیں وہاں ان دونوں کو سنبھالنے کے لئے وہ اکیلا ہی تھا، شافع کو نور ٹھیک نہیں لگی اتنے میں آپریشن تھیٹر سے ارمینہ بیگم کو اسٹیچر پر لایا گیا انکا منہ سفید چادر سے ڈھکا ہوا تھا…. نور فوراً اٹھی اور دیوانہ وار اسٹیچر کی طرف بھاگی شافع اسکی طرف دوڑا، نور نے ارمینہ بیگم کے منہ پر سے کپڑا ہٹایا اور دیوانہ وار بولی “ماما،،،،، ماما اٹھیں،،، ماما آپ مجھے اسطرح، اس وقت نہیں چھوڑ کے جا سکتیں،ماما اٹھیں وہ دھاڑیں مار کر چینخ رہی تھی شافع نے اسے بازو سے پکڑا تو اسنے شافع کا ہاتھ جھٹکا،، ماما اٹھیں، ماما پلیز ابھی نہیں،،،، ابھی نہیں ماما،،،، ماما میں آپکے بغیر کیسے رہوں گی،،، مجھے آپکے بغیر رہنا نہیں آتا ماما، آپ اپنی بیٹی کو اسطرح مشکل میں چھوڑ کر کیسے جا سکتی ہیں آپ جو چاہتی تھیں میں نے وہ بھی کر لیا تو آپ مجھے اسطرح چھوڑ کر کیسے جا سکتی ہیں؟ وہ چینخی کیسے جاسکتی ہیں آپ مجھے چھوڑ کے ماما میں کیسے رہوں گی آپ نے ذرا سا بھی نہیں سوچا نور اسٹیچر کو نہیں چھوڑ رہی تھی شافع نے اسکے ہاتھ سے اسٹیچر چھوڑ کر اسے اپنی طرف گھمایا، تو وہ شافع پر چینخی میں اپنی ماما سے بات کر رہی ہوں تم مجھے ان سے بات کیوں نہیں کرنے دیتے چھوڑو مجھے اسنے شافع کو دھکا دیا تو شافع اسے جھنجھوڑتے ہوئے لڑکھڑاتی آواز سے بولا وہ چلی گئی ہیں نور وہ جس کی امانت تھیں اسنے انھے وآپس لے لیا تمھارے یا ہمارے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا جس کا جو وقت مقرر ہے اسے تب ہی جانا پڑتا ہے…. نور نے سکتے کے عالم میں اسکی بات سنی اور اسکی باہوں میں جھول گئی…..
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان کے تقریباً سارے نیوز چینل پر یہ بات پھیل گئی تھی کہ شافع وارثی کی جس لڑکی کے ساتھ تصاویریں پھیلی ہیں وہ اور کوئی نہیں اسکی بیوی ہے،،، نیوز چینل والے اس خبر کو اور مرچ مصالحہ لگا کر پیش کر رہے تھے تیمور صاحب تک جیسے ہی یہ خبر پہنچی انکا غضہ برداشت سے باہر ہو گیا،،،، حد تو تب ہوئی جب شافع نے انکی کال اٹھانے کے بجائے اپنا موبائل ہی بند کر دیا اور جب دوبارہ موبائل آن کیا تب بھی انکی کال نہیں اٹھائی….
جب شافع نے زایان کو کال کی تھی تب زایان ایک میٹنگ میں تھا اور کینیڈا پہنچ کر وہ ہوٹل میں تھا جب سیڑھیوں سے اترتے ہوئے اسکا موبائل گر گیا، جب سے اسکا موبائل بار بار بند ہو رہا تھا… زایان فارغ ہو کر جب ہوٹل وآپس آیا اور موبائل چارج پر لگا کر آن کیا تو شافع کی اتنی ساری کال اور میسج دیکھ کر اسے پریشانی نے گھیر لیا… اسنے فوراً ہوٹل کے فون سے شافع کو کال کرنے کا ارادہ کیا لیکن اس سے پہلے اسنے دوسرے میسج چیک کئے اسنے سب سے پہلے حیدر صاحب کا آیا ہوا میسج دیکھا انھوں نے اسے کوئی لنک سینڈ کیا تھا اسنے لنک کھولا تو شافع اور آئے نور کی وائیرل ہوئی تصویریں سامنے آئیں جس پر میڈیا اور عام لوگوں نے طرح طرح کے تبصرے کئے ہوئے تھے، زایان کی آنکھیں حیرت سے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں وہ فوراً کمرے میں موجود فون کی طرف بھاگا کیونکہ اگر وہ اپنے موبائل سے کام کرتا تو موبائل بند ہوجاتا،،،، زایان ابھی تک شافع اور نور کے نکاح والی خبروں سے بے خبر تھا کیونکہ دوسرے میسج اسنے کھولے ہی نہیں تھے اسنے تیزی سے شافع کا نمبر ملایا، اس وقت پاکستان میں رات کا ایک بج رہا تھا شافع اور باقی سب اس وقت صدیقی صاحب کے گھر میں موجود تھے کچھ لوگ بھی آئے ہوئے تھے، شافع نے دیکھا کسی انجان نمبر سے کال ہے اسے لگا پھر کسی نیوز چینل والوں کا ہوگا اس لئے وہ گھر سے باہر آگیا اور کال ریسیو کر کے کان سے لگائی،،،
دوسری طرف سے زایان کی آواز گونجی شافع یہ سب کیا ہو رہا ہے؟ تمھاری اور آئےنور کی اسطرح تصویریں کس نے نیوز چینل پر چلائیں شافع نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولا یہ سب مجھے ابھی نہیں پتا، میں ابھی دوسرے معاملوں میں الجھا ہوا ہوں… زایان نے پریشانی سے پوچھا کن معاملوں میں اور کیا ہوا ہے…؟ شافع نے اپنے ہونٹ دانتوں سے کانٹیں، میرا اور آئےنور کا نکاح ہوگیا ہے زایان،،، زایان کو آس پاس سب کچھ دھندلا ہوتے ہوئے لگا اسے لگا شاید اسنے کچھ غلط سنا ہے اسلئے بولا کیا کہا ہے تم نے؟ مجھے سمجھ نہیں آیا،،،، شافع پھر سے بولا میں نے آئےنور سے نکاح کر لیا ہے…. زایان کے کانوں میں کڑواہٹ اتری تھی،،،، مزاق کر رہے ہو؟ شافع چڑ کر بولا یہ مزاق کا وقت نہیں ہے زایان،،، زایان چینختے ہوئے بولا تو پھر تم یہ کیا بول رہے ہو کہ تمھارا اور آئےنور کا نکاح ہوگیا ہے اسطرح اچانک یوں کسی کو بنا بتائے یہ سب کیسے ہو سکتا ہے زایان بوکھلاہٹ کا شکار ہوا…. شافع نفی میں گردن ہلا کر بولا تمھے نہیں پتا یہاں ایک دن میں کیا کیا ہوگیا….
زایان خاموش رہا “نور کی ماما کی بھی ڈیتھ ہوگئی ہے” زایان کے سر پر ایک اور بم پھٹا زایان نے سکتے کے عالم میں پوچھا کیسے؟ شافع آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے بولا ہارٹ اٹیک ہوا تھا انھا…. زایان خاموش رہا……
شافع پھر دوبارہ بولا یہاں حالات کچھ ایسے ہوگئے تھے کہ نور اور مجھے اچانک نکاح کرنا پڑا میں تمھے کال کر رہا تھا لیکن تمھارا موبائل مستقل بند جا رہا تھا اور وہ تصویروں معاملہ بھی اسی سے جڑا ہوا ہے تم آؤ گے تو بتاؤں گا….. زایان کچھ دیر سکتے کے عالم میں بیٹھا رہا پھر بھرائی ہوئی آواز سے بولا “میں آرہا ہوں پہلی فلائیٹ سے” یہ بول کر اسنے کال کاٹ دی شافع نے موبائل جیب میں رکھ لیا….
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آدھی رات میں شافع نے تہمینہ بیگم کے نمبر پر کال لگائی کال اٹھالی گئی وہ شاید اسی کی کال کی منتظر تھیں،،،، شافع تم کہاں ہو اور فون کیوں نہیں اٹھا رہے تھے، یہ سب کیا چل رہا ہے بیٹا؟ انھوں نے سوالوں کی بوچھاڑ کی،،، شافع نے سانس کھینچ کر آنکھیں بند کیں “کہانی ایک دن کی ہے ماما لیکن کافی لمبی ہے ابھی سنانے کا وقت نہیں ہے” تہمینہ بیگم اسکی آواز سن کر بولیں تم ٹھیک تو ہو بیٹا؟ شافع کندھے اچکا کر بولا پتا نہیں،،، تہمینہ بیگم اس سے کچھ اور پوچھتیں اس سے پہلے تیمور صاحب نے انکے ہاتھ سے موبائل چھین لیا اور شافع پر دھاڑے…. یہ شام سے کیا تماشہ لگایا ہوا ہے تم نے آخر چاہ کیا رہے ہو تم ذرا سی شہرت ملی ہے اسے کیا ڈبونہ چاہتے ہو اور آخر کون ہے یہ سڑک چھاپ لڑکی جیسے تم اپنی بیوی کہتے پھر رہے ہو…..
شافع کی رگیں تن گئیں،،، پہلی بات تو یہ کہ وہ لڑکی میری بیوی ہے آپکے گھر کی بہو بیشک میں اسے نہیں کہوں گا لیکن وہ میری بیوی ہے اور اسکا نام “آئےنور شافع وارثی” ہے سمجھے آپ؟, تیمور صاحب دھاڑے وہ جو بھی اسے فارغ کرو کسی ایری غیری لڑکی کو میں اپنے گھر کی بہو ہر گز تسلیم نہیں کروں گا،،،،، یہ خبر ابھی حویلی تک پہنچی نہیں ہے اگر بی اماں کو یہ سب پتا چل گیا تو کتنا دل برداشتہ ہوں گی وہ تم نے سوچا ہے ؟؟؟ تم ایک بات کان کھول کر سن لو شافع میں اس لڑکی کو اپنے گھر کی بہو کبھی نہیں مانوں گا اور نہ ہی وہ کبھی میرے گھر میں قدم رکھے گی….
شافع طنزیہ ہنسہ آپ شاید بھول رہے ہیں کہ میں آپکے گھر میں نہیں اپنے گھر میں رہتا ہوں اور یہ بات تو آپ بھول ہی جائیں کہ میں اپنی بیوی کو آپکے گھر کی شکل بھی دکھاؤں گا آپکا گھر آپکو مبارک ہو تیمور صاحب….. شافع نے دانت پیستے ہوئے کال کاٹ دی……
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح تک حویلی میں بھی شافع کی شادی کی خبر پہنچ گئی بی اماں اور عائشہ بیگم نے ایک ہنگامہ کھڑا کر دیا، بی اماں ہر کسی پر دھاڑ رہی تھیں آخر یہ ہو کیا رہا ہے اس خاندان میں؟ یہ شافع چاہتا کیا ہے کس لڑکی سے نکاح کر کے بیٹھ گیا، یہی وجہ تھی اسکے انکار کی، ہم نے تو سارے خاندان میں ارحام اور شافع کی شادی کی خبر بھی پھیلا دی تھی اب کیا منہ دکھائیں گے ہم سب کو…. عائشہ بیگم روتے ہوئے بولیں، اماں میری بیٹی سے کون شادی کرے گا اب وہ تو پہلے سی شافع کے لئے آدھی ہو چکی ہے اب اسے شافع کی شادی کا پتا چلے گا تو کیسے برداشت کر پائے گی وہ؟
ابراہیم صاحب سامنے سر تھامے بیٹھے تھے، بی اماں کو دیکھتے ہوئے بولے ارحام سے شادی کے لئے تو وہ پہلے ہی راضی نہیں تھا اماں آپ لوگ ہی زبردستی کر رہے تھے لیکن میں نے یہ کبھی نہیں سوچا تھا کہ شافع اسطرح شادی کر لے گا یقیناً بات کچھ اور ہے…. بی اماں غصے سے چینختے ہوئے بولیں ارے میاں یہ اب اسنے پہلے سے ہی سوچ رکھا تھا کہ کس طرح ہمیں سارے خاندان میں ذلیل اور رسوا کرے گا، تبھی تو اسنے پہلے ہی گھر چھوڑ دیا تھا تاکہ کوئی اسے کچھ کہنا سکے….
لیکن میں شافع کو کبھی معاف نہیں کروں گا،،، بس ختم اسکا اور ہمارا رشتہ…. ابراہیم صاحب صوفے پر سے اٹھتے ہوئے بولے اماں ہر بات میں رشتے ختم کرنے کی بات مت کیا کریں اس نکاح کی ضرور کوئی وجہ ہو گی ورنہ شافع اسطرح کبھی نہیں کرتا… عائشہ بیگم روتے ہوئے بولیں، ہماری بیٹی کی زندگی جو برباد ہوئی ہے آپ کو وہ نظر نہیں آتا آپ کو بس شافع کی لگی ہوئی ہے…. ابراہیم صاحب غصے میں بولے عائشہ تم ہر بات میں رونا دھونا مت مچایا کرو ہماری بیٹی کے نصیب میں جو لکھا ہوگا اسے وہی ملے گا زبردستی سے کچھ نہیں ہوتا… میں شافع سے بات کرتا ہوں، اور خبردار مجھے اب تمھارے دھاڑے مارنے کی آواز آئی…. ابراہیم صاحب غصے سے باہر چلے گئے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ظہر ہوتے ہی ارمینہ بیگم کو دفنا دیا گیا…. شافع صدیقی صاحب کا کندھا تھامے انھے گھر لایا، اور انھے انکے کمرے میں آرام کرنے کے لئے لیٹا دیا… آہستہ آہستہ سب مہمان بھی جانے لگے زایان کا ابھی تک کچھ پتا نہیں تھا… نور کی حالت بھی ٹھیک نہیں تھی رو رو کر اسکا برا حال تھا شافع نور کے کمرے کے باہر پہنچا… اور دروازہ کھٹکھٹا کر اندر داخل ہوا نور کمرے میں اکیلی تھی… اور گٹھنوں پر سر رکھے بیٹھی تھی….. شافع نے ایک نظر اسکے کمرے پر دوڑائی اور آہستہ سے کچھ فاصلے پر اسکے سامنے آکر بیٹھ گیا….. سائڈ ٹیبل پر کھانے کی ٹرے رکھی تھی جو ویسے کی ویسے ہی بھری تھی۔۔۔۔ شافع نے اسے پکارا… آئےنور…. نور نے سر اوپر اٹھایا…. اسکی آنکھیں سرخ ہوکر سوجی ہوئی تھیں….. شافع کو دیکھ کر وہ پھر رو دی….
میری ماما مجھے چھوڑ کر چلی گئیں شافع،،، میری ماما چلی گئیں،،، وہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی شافع کو تکلیف ہوئی شافع آہستہ سے آگے بڑھا اور اسکا سر تھام کر اپنے کندھے پر رکھ لیا اسنے آنکھیں بند کیں… نور لگاتار رو رہی تھی انھوں نے میرے بارے میں نہیں سوچا کہ میں کیسے رہوں گی انکے بغیر، وہ مجھے چھوڑ کر ایسے کیسے جا سکتی ہیں، وہ کہتی تھیں نور تمھارے رونے سے مجھے تکلیف ہوتی ہے، تم مت رویا کرو، میں روتی تھی تو وہ میرے پاس آجاتی تھی وہ اب میرے پاس کیوں نہیں آرہیں، وہ شافع کے کندھے پر سر رکھ کر دیوانہ وار رو رہی تھی… شافع نے آہستہ سے اسکے سر پر ہاتھ رکھا اسکے سر پر دوپٹہ تھا…
شافع آہستہ سے بولا تم ایسے کیسے کہہ سکتی ہو نور کے انھوں نے تمھارے بارے میں نہیں سوچا انھوں نے اپنے آخری وقت میں بھی صرف تمھارے بارے میں سوچا ہے نور…. انھے پتا تھا انکے بعد تم اکیلی ہو جاؤ گی اسی لئے تو انھوں نے تمھے مجھے سونپ دیا،،، اور پھر جانا تو ہر ایک کو ہوتا ہے، اللہ اگر ہم سے ایک سہارہ چھینتا ہے تو دوسرا بھی تو دے دیتا ہے….. انھے تمھارے رونے سے تکلیف ہوتی تھی نہ تو تم کیوں رو کر انھے تکلیف پہنچا رہی ہو… شافع کا ہاتھ نور کے سر پر تھا وہ اب خاموشی سے اسکے کندھے پر سر رکھے بیٹھی تھی اسنے اپنی آنکھیں بند کر لی تھیں…….
شافع کچھ دیر ٹھہرہ پھر آہستہ سے بولا مت رویا کرو نور، مجھے بھی تمھارے رونے سے تکلیف ہوتی ہے،،، نور نے آنکھیں کھولیں…. اور آہستہ سے اس سے الگ ہوئی “ایک سحر تھا جو ٹوٹا تھا” نور نے اپنا چہرہ صاف کیا….. شافع تھوڑا پیچھے ہوا۔ ۔ ۔ ۔ شافع کی آنکھوں میں نمی تھی، شافع اسکی طرف دیکھ کر بولا جاؤ منہ دھو کر آؤ پھر کھانا کھا لو تمھارے بابا نے بھی کچھ نہیں کھایا، تم انھے اسی طرح بھوکا رکھو گی کیا۔۔۔۔؟ نور نے نفی میں گردن ہلاتے ہوئے آنسوں صاف کئے…
اورمنہ دھونے جانے کے لئے اٹھ گئی…. اسنے ابھی بھی کل والا سوٹ پہنا ہوا تھا،،، شافع نے اسے جاتے دیکھا تو آنکھیں بند کر کے پیچھے کی طرف گردن جھکاتے ہوئے بولا……
“Now you are my responsibility AiNoor shafay”
