Izhar-e-Muhabat by Anooshe NovelR50417 Izhar-e-Muhabat Episode 17
Rate this Novel
Izhar-e-Muhabat Episode 17
Izhar-e-Muhabat by Anooshe
شافع یونیورسٹی سے باہر نکل رہا تھا جب اسے ابراہیم صاحب کا فون آیا کچھ دیر تک وہ بے سدھ کھڑا موبائل کو دیکھتا رہا….
پھر ایک لمبا سانس کھینچ کر موبائل کان سے لگا لیا اسلام وعلیکم دوسری طرف خاموشی رہی ….
چاچو اگر اپنے کوئی بات کرنی ہے تو کریں مجھے آفس جانا ہے….
مجھ سے بھی خفا ہو؟
ابراہیم صاحب نے بڑی مشکل سے لفظ ادا کئے تھے….
شافع طنزیہ ہنسا میں خفا؟؟؟ کیا مجھے کسی سے خفا ہونے کا حق ہے…
ایسے مت کہو بیٹا ہم تمھارے اپنے ہیں تمھے پورا حق ہے ہم سے ناراض ہونے کا،،،
کوئی کسی کا اپنا نہیں ہوتا چاچو اور آپ بے فکر رہیں میں کسی سے نہیں خود سے خفا ہوں….
ابراہیم صاحب بے بسی سے بولے شافع میں نے بی اماں کو روکنے کی بہت کوشش کی تھی لیکن انھوں نے کسی کی نہیں سنی…..
شافع گاڑی کا دروازہ کھول کر اندر بیٹھا ٹھیک ہے انھوں نے آپکی نہیں سنی تو کیا ارحام نے بھی انھے منا نہیں کیا وہ تو جانتی ہے میں اس سے شادی نہیں کرنا چاہتا پھر بھی اسنے خاموشی سے انگھوٹی پہن لی….
اسکی کوئی غلطی نہیں ہے بیٹا اسنے منا کیا تھا لیکن جب بی اماں تمھاری نہیں سن رہیں تو تمھے لگتا ہے وہ اسکی سنیں گیں….
شافع خاموش رہا…..
ابراہیم صاحب نے جھجھکتے ہوئے پوچھا اب آگے کیا ارادہ ہے تمھارا؟؟؟
شافع کندھے اچکا کر بولا کیا مطلب کیا ارادہ ہے….
مطلب تم ارحام سے شادی کرو گے….؟
میں ابھی بھی اپنی بات پر قائم ہوں دادو نے زبردستی کی منگنی کی ہے نکاح نہیں اور آپ بے فکر رہیں میں نکاح تک کی نوبت آنے ہی نہیں دوں گا….
شافع نے کال کاٹ کر موبائل ڈیش بورڈ پر رکھا اور سیٹ سے ٹیک لگا لی…..
پھر گاڑی اسٹارٹ کرنے لگا اچانک بیک ویو مرر پر نظر پڑی…..
گاڑی سے کچھ فاصلے پر آئےنور کھڑی تھی…..
شافع گاڑی کا شیشہ اوپر کرنے ہی والا تھا،،، کہ اس سے پہلے آئےنور کی نظر اسکی گاڑی کے بیک ویو مرر پر پڑی شاید اسے کسی کی نظریں خود پر محسوس ہوئی تھیں….
شافع نے گھبراتے ہوئے فوراً گاڑی کا شیشہ اوپر چڑھایا…..
پھر سر پر ہاتھ رکھ کر بولا اوہ ہ ہ اسنے دیکھ لیا اب پتا نہیں کیا سوچ رہی ہوگی کے میں اسے چھپ چھپ کر تاڑ رہا تھا….
ویسے ہی اسے خیالی پلاؤ بنانے کی بہت عادت ہے
شافع نے اووفف کرتے ہوئے اسٹیئرنگ ویل پر ہاتھ مارا۔ ۔ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زایان کمرے میں سو رہا تھا جب میراب اسکے کمرے میں آئی….
اسکا فیکچر ٹھیک ہوگیا تھا بس تھوڑا بہت درد تھا جس کی وجہ سے گرم پٹی باندھی ہوئی تھی….
میراب زایان کا سر پر آکر شور مچانے لگی بھائی، بھائی، لیکن زایان کے کان پر جوں نہیں رینگی….
میراب نے اسکے بال پکڑ کر کھینچے بھائی……
زایان نے نیند میں غصے سے اسکا ہاتھ جھٹکا میراب یہاں سے چلی جاؤ اور مجھے سونے دو ورنہ مجھے غصہ آجائے گا….
لیکن وہ میراب ہی کیا جو زایان کی بات مان لے وہ وہیں اسکے سر پر کھڑی اسے آوازیں دیتی رہی جب کافی کوششوں کے بعد بھی وہ نہیں اٹھا تو میراب دروازے کی طرف جاتے ہوئے بولی۔ ۔ ۔ ۔
ٹھیک ہے مت اٹھیں وہ تو ماما نے کہا تھا کہ نگٹس بنا رہی ہوں زایان کو بلا لاؤ
زایان ایک جھٹکے سے اٹھا اور بیڈ پر سے اترتے ہوئے بولا ماما نگٹس کھانے کے لئےبلا رہی ہیں پہلے بتانا تھا نہ….
زایان اٹھا تو میراب کمر پر ہاتھ رکھ کر اسے گھورنے لگی اچھا کھانے کا نام سنتے ہی کیسے فوراً اٹھ گئے اور میں جو کب سے آوازیں لگا رہی ہوں تو بے ہوش ہوئے وے تھے…
زایان اسے سائڈ پر کر کے باہر جاتے ہوئے بولا زیادہ فالتو باتیں مت کرو مجھے نیچے جانے دو….
وہ سیڑھیاں اترنے لگا تو میراب ہنسی دباتے ہوئے بولی ہاں جائیں جائیں آپ کے نگٹس انتظار کر رہے ہیں…
زایان سیدھا کچن میں چلا گیا وہاں کوئی نہیں تھا میراب سیڑھیاں اترنے لگی….
زایان اسکی طرف دیکھ کر بولا ماما کہاں ہیں میراب دانت نکال کر بولی ماما گئی ہوئی ہیں کام سے…..
زایان دانت پیستے ہوئے بولا میراب میں تمھے کسی دن گنجا کر دوں گا….
میراب قہقہہ لگاتے ہوئے بولی کیوں بزنس چھوڑ کر سیلون کھولیں گے کیا؟؟؟؟
زایان سر تھام کر صوفے پر لیٹ گیا….
اب نیند خراب کی ہے تو میرے لئے چائے بنا کر لاؤ….
میراب قہقہہ لگا کر بولی کیا آپ نے مجھے چائے بنانے کے لئے کہا ہاہاہاہاہاہاہا….
میراب اسکے سامنے بیٹھتے ہوئے بولی میں نے آج تک پانی نہیں ابالا آپ چائے کی بات کر رہے ہیں….
زایان اسے دیکھ کر بولا ہاہاہا بہت اچھی بات ہے یہ جو اتنے فخر سے بتا رہی ہو….
کچھ نہیں آتا تو سسرال میں جا کر جوتے کھاؤ گی…
میراب نے منہ بناتے ہوئے کہا آپ تو ایسے بول رہے ہیں جیسے آپ کو بڑے چھپن پکوان بنانے آتے ہیں کبھی اٹھ کر پانی بھی پیا ہے آپ نے جو مجھے لیکچر دے رہے ہیں….
زایان سیدھا بیٹھتا ہوا آنکھیں پھاڑ کر بولا اوہ ایکسکیوزمی آپ شاید بھول رہی ہیں کہ آپکے سامنے زایان حیدر بیٹھا ہے اور دنیا میں ایسا کوئی کام نہیں ہے جو زایان حیدر سے نہ ہو سکے….
میراب اسے چیلنج کرنے والے انداز میں بولی ایسی بات ہے تو پھر ہو جائے مقابلہ….
زایان بھی کھڑا ہوتا ہوا بولا ہو جائے……
اور دونوں ایک دوسرے کو ناک چڑھا کر کچن میں زلزلہ لانے کے لئے گھس گئے…
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آئےنور ارمینہ بیگم کے ساتھ شاپنگ کرنے آئی ہوئی تھی اسے بیگ اور کپڑے لینے تھے….
ارمینہ بیگم کپڑے دیکھ رہی تھیں آئےنور کو سامنے والی شاپ پر ایک بیگ پسند آیا تو وہ انھے وہیں چھوڑ کر سامنے چلی گئی…..
وہ بیگ دیکھ رہی تھی جب اسے کچھ فاصلے پر منہا دکھی وہ اکیلی نہیں تھی اسکے ساتھ کوئی لڑکا بھی تھا اور وہ اس لڑکے سے ہنس ہنس کر باتیں بھی کر رہی تھی آئےنور کو حیرت کا جھٹکا لگا منہا وہ بھی کسی لڑکے کے ساتھ..
اس لڑکے کی پشت نور کی طرف تھی نور شاپ سے نکل کر منہا کی طرف جانے لگی لیکن منہا نے اسے دیکھ لیا تھا۔ ۔
نور کو دیکھتے ہی منہا کا رنگ اڑا اپنے سامنے کھڑے لڑکے کو وہ فوراً وہاں سے جانے کے لئے اصرار کرنے لگی لیکن شاید وہ جانا نہیں چاہ رہا تھا اسلئے منہا نے اسکا ہاتھ پکڑ کر دھکیلنے والے انداز میں جانے کے لئے کہا….
نور نے اس لڑکے کا سائڈ سے آدھا چہرہ دیکھا تھا اور وہ کوئی شناسا چہرہ نہیں تھا….
نور منہا کہ پاس آکر رکی اور اس لڑکے کو جاتے ہوئے دیکھنے لگی …..
پھر دونوں ہاتھ باندھ کر منہا کی طرف دیکھا منہا فوراً مسکرا کر بولی ارے آئےنور تم یہاں اچانک؟؟
نور نے اسے تنقیدی نظروں سے دیکھا یہ مال ہے یہاں اچانک ہی آیا جاتا ہے کوئی انویٹیشن نہیں بھجواتا بلانے کے لئے….
منہا ہنسی میرا مطلب ہے کس کے ساتھ آئی ہو….؟
نور نے سپاٹ چہرے سے کہا ماما کے ساتھ….
ہمممم اچھا….
نور نے بھنویں اٹھاتے ہوئے پوچھا اور تم؟؟
منہا بوکھلائی میں؟؟؟ وہ…. بس،،،،،
کون تھا یہ لڑکا منہا؟؟؟
نور نے سیدھا سوال کیا… منہا نے ہنستے ہوئے ٹالنا چاہا کون یہ لڑکا وہ اسکا کوئی سامان کھو گیا تھا وہ پوچھ رہا تھا کہ آپ نے دیکھا ہے یا نہیں۔ ۔ ۔ ۔
بہانا تو کم سے کم ڈھنگ کا بناؤ منہا…
منہا کے تیور بدلے تھے وہ نور کو کچھ کہنے والی تھی کہ اچانک ارمینہ بیگم وہاں آگئیں
ارے منہا تم؟؟؟ ہیلو آنٹی کیسی ہیں آپ منہا نے مسنوعی مسکراہٹ کے ساتھ پوچھا نور اسے ابھی بھی گھور رہی تھی….
منہا بیٹا کس کے ساتھ آئی ہو تم..؟
منہا نے نور کو دیکھا پھر ارمینہ بیگم سے بولی آنٹی میں اکیلی ہی آئی ہو بس ایک دو چیزیں لینی تھیں….
چلو ٹھیک ہے بیٹا دھیان سے جانا…..
ارمینہ بیگم نور سے بولیں تم نے بیگ لے لیا ؟ چلیں….
رہنے دیں ماما مجھے پسند نہیں آیا چلتے ہیں….
منہا بھی جانے لگی تو نور اسے دیکھتے ہوئے بولی منہا گھر پہنچ کر مجھے کال کرنا بات کرنی ہے کچھ….
منہا نے مسنوعی مسکراہٹ کے ساتھ گردن ہلائی….
ارمینہ بیگم اور نور وہاں سے چلے گئے تو منہا نے پریشانی سے سر پر ہاتھ رکھا
Ohhh God
اب یہ نور نے دماغ کھپانا ہے میرا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زایان اور میراب دونوں ہاتھ باندھے چولہے کے سامنے کھڑے تھے زایان بول رہا تھا تم جلاؤ میراب بول رہی تھی آپ جلائیں آخر کار لڑ جھگڑ کر زایان چولہا جلانے کے لئے آگے بڑھا کچن میں ملازموں کا داخلہ ممنوع کر دیا تھا انھوں نے
وہ دونوں اپنی مدد آپ کے تہت چائے بنانے کا کارنامہ انجام دینا چاہتے تھے….
زایان ماچس ڈھونڈنے لگا میراب مزے سے کھڑی تھی زایان نے اسکے سر پر چپت لگائی
کھڑی تماشا دیکھ رہی ہو ماچس ہی ڈھونڈ دو….
میراب نے دانت نکال کر کہا بھائی آنکھیں بند کریں ایک جادو دکھاؤں
زایان منہ بناتے ہوئے بولا نہیں کوئی ضرورت نہیں ہے جادو دکھانے کی ماچس ڈھونڈو…..
میراب آگے بڑھی چولہے کا بٹن گھمایا اور چولہا جل گیا…. زایان نے حیرت سے آنکھیں پھاڑیں اوئے یہ کیسے کیا تم نے؟؟
زایان بہت متاثر نظر آرہا تھا…..
میراب فخریہ انداز میں بولی جادو….
زایان منہ بناکر اسکی نکل اتارکر بولا “جادو” آئی بڑی جادو کرنے والی بتاؤ جلدی کیسے جلایا تم نے چولہا؟؟؟
الیکٹرک چولہا ہے یہ بغیر ماچس کے بھی جل جاتا ہے…..
زایان متاثر ہوا واؤ…. پھر تفتیشی نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا تمھے کیسے پتا تم تو کبھی کبھی کچن میں بھٹکتی ہو کہیں تمھے چائے بنانی تو نہیں آتی تبھی تم نے مجھے چیلنج کیا….
میراب نے آنکھیں گھمائیں اوووفففف میں نے ایک دو بار ماما کو جلاتے ہوئے دیکھا ہے اس لئے پتا ہے اور چائے میں آج پہلی بار ہی بناؤں گی….
زایان پھر اسکے سر پر مار کر بولا تو چائے کا پانی کیا اپنے منہ میں ابالو گی چائے کس میں بنتی ہے وہ لے کر آؤ….
میراب کندھے اچکا کر بولی مجھے کیا پتا کس میں بنتی ہے ہمیں تو کپ میں ملتی ہے….
زایان نے کوفت سے منہ پر ہاتھ رکھا اوووففف اللہ اتنی پھوڑ لڑکی کسی گھر میں نہ دے….
زایان نے پھر اسکے سر پر مارا چائے کپ میں ملتی ہے تو کیا کپوں میں ہی ابلتی ہے کسی پتیلی میں بنتی ہو گی کوئی پتیلا نکالو…..
میراب نے غصے سے اسے دیکھا اور دھمکی دینے والے انداز میں بولی اب اگر ایک اور بار اپنے میرے سر پر مار کر میرے بال خراب کئے نہ تو میں…..
زایان بھنویں اٹھا کر بولا تو کیا ہاں زایان نے پھر اسکے سر پر مارا چلو جاؤ پتیلی ڈھونڈو…..
میراب نے غصے سے دونوں ہاتھ کی مٹھیاں بنا کر ہاتھ جھٹکے اور دانت پیستے ہوئے بولی بھائی……
پھر مڑ کر ایک ایک کبڈ کھولنے لگی….
ایک کبڈ میں سے بڑا سا پتیلا نکال کر لائی…..
زایان نے پتیلا دیکھتے ہوئے کہا تمھاری شادی کا کھانا نہیں پکانا چائے بنانی ہے اپنے منہ کے سائز کا پتیلا لاؤ…..
میراب نے دانت پیس کر اسے گھورا…..
پھر بڑا پتیلا وآپس رکھنے لگی تو اوپر سے دو اور پتیلے کان پھاڑ دینے والی آواز کے ساتھ زمین پر گرے ان دونوں نے کانوں پر ہاتھ رکھا
ملازم باہر سے دوڑتا ہوا آیا کیا ہوا زایان صاحب سب ٹھیک تو ہے نہ؟؟؟
جی جی سب ٹھیک ہے بس یہ بتا دیں دو چھوٹے پتیلے کہاں رکھے ہوئے ہونگے…..
ملازم پتیلے نکالنے کے لئے اندر آنے لگا تو زایان بولا آپ وہیں سے بتا دیں ہم نکال لیں گے…..
ملازم نے اسے چولہے کے نیچے والے کبڈ کا بتایا زایان نے کبڈ کھولا تو سامنے چھوٹے پتیلے رکھے تھے…..
مل گئے ٹھیک ہے بس آپ جائیں ملازم وہاں سے چلا گیا…..
زایان نے دو پتیلے نکال کر کاؤنٹر پر رکھے….
اب دونوں ہی پتیلے کو غور سے دیکھ رہے تھے چولہا وہ دو گھنٹے پہلے سے جلا کر بیٹھ گئے تھے….
میراب نے زایان سے پوچھا اب شروع کہاں سے کریں…..
زایان چولہے کی طرف بڑھتے ہوئے بولا فریج سے دودھ لے کر آؤ…..
میراب نے دودھ کا پیکٹ چولہے کے ساتھ رکھا…
زایان اسے سیکھاتے ہوئے بولا دیکھو پہلے دودھ ڈالیں گیں……
زایان نے کافی سارا دودھ پتیلی میں ڈالا زایان نے دودھ کا ڈبہ وآپس رکھا تو میراب نے بھی اسکی نکل کرتے ہوئے پتیلی میں دودھ ڈالا……
اچانک زایان کو یاد آیا،،،، ایک منٹ ایک منٹ ہمارے بیچ تو مقابلہ ہو رہا ہے نہ تو تم کس خوشی میں میری نکل اتار رہی ہو….
میراب منہ بناکر بولی ہنہہ نہیں دیکھ رہی میں آپ کو میں اپنے طریقے سے بنا رہی ہوں….
زایان منہ بنا کر بولا اوہ اپنا طریقہ جیسے تم تو جرمنی سے کلاسیز لے کر آئی ہو….
زیادہ باتیں نہ بنائیں چائے بنائیں زایان پیچھے ہوتے ہوئے بولا پہلے تم بناؤ گی ورنہ مجھے پتا ہے تم میری نکل کر کے بناؤ گی…..
میراب نے زایان کو گھورا…. زایان اسے آگے کرتے ہوئے بولا کیا ہوا بناؤ بناؤ…..
میراب بھی پرعزم انداز میں بولی ہاں ہاں بنا لوں گی….
میراب نے پتیلی میں دودھ ڈالا پھر سوچنے لگی اب کیا ڈالوں؟؟؟
پھر اچانک یاد آیا تو چٹکی بجائی ہاں چینی چینی بھی تو ڈلے گی…..
اب چینی کہاں رکھی ہوگی؟؟؟
سلپ پر رکھا ہر ڈبہ اسنے کھول کر دیکھا چینی بھی کافی جدوجہد کے بعد اسے ملی زایان پیچھے کھڑا تماشا دیکھ رہا تھا….
اسے اب سہولت ہو گئی تھی سب چیزیں سامنے تھیں کچھ ڈھونڈنا نہیں پڑے گا۔۔۔۔۔
اب میراب اس کشمکش کا شکار تھی کہ چینی ڈلے گی کتنی؟
دودھ اسنے دو کپ کا لیا تھا چینی اسنے دس کپ کے حساب سے ڈالی تھی لیکن پھر بھی زایان اس سے متاثر نظر آنے لگا،،،،
آگے آتا ہوا بولا واہ میراب تمھے تو سب پتا ہے یار میراب نے فخر سے گردن اونچی کریں….
زایان نے اسکے سر پھر چپت لگائی فالتو میں اترانے نہیں بولا کام کرو….
میراب نے دانت پیستے ہوئے خونخوار نظروں سے اسے گھورا…..
پھر پتی کے لئے ادھر ادھر نظریں دوڑائیں اب یہ ٹی بیگ کہاں رکھے ہوں گے؟؟؟؟
زایان نے حیرت سے پوچھا ٹی بیگ کیوں؟؟؟
میراب بھنویں اٹھاتے ہوئے بولی کیونکہ شاید چائے میں پتی بھی ڈلتی ہے….
زایان نے اپنے ہونٹ گول کرے اوہ ہ ہ مجھے تو پتا ہی نہیں تھا ڈھونڈو ڈھونڈو…..
میراب نے اوپر والا کبڈ کھولا شکر تھا ٹی بیگ سامنے ہی رکھا تھا زیادہ محنت نہیں کرنی پڑی اسنے دو ٹی بیگ نکال کر پتیلے میں ڈالے…..
لوگ دل پر پتھر رکھتے ہیں زایان نے منہ پر پتھر رکھ کر ہنسی روکی تھی….
پتیلا چولہے پر رکھ کر میراب نے سکھ کا سانس لیا اور خوشی سے ہنستے ہوئے بولی ہوگیا…..
کیا ہوگیا ابھی پکانا بھی ہے اسے میراب کندھے اچکا کر بولی ہاں تو اب یہ خود ہی پکتی رہے گی یا میں اس میں چمچہ چلاتی رہوں…؟
زایان نے آنکھیں گھمائیں میراب اب تم سائڈ پر ہو جاؤ اب میں چائے بناؤں گا…
پیچھے ہونے کو تو ایسے بول رہے ہیں جیسے چائے نہیں بنائیں گے جنگ لڑیں گے…
زایان نے دھکیلتے ہوئے میراب کو پیچھے پھینکا
پھر پتیلا چولہے پر رکھا جس میں دودھ پہلے سے شامل تھا چینی کا ڈبہ آگے کیا،،،،
ایک ،دو، تین، چار، اور یہ آخری پانچ پورے پانچ چمچ اسنے چینی ڈالی پھر پاس پڑے دوسرے ڈبے کھولنے لگا….
میراب پیچھے سے بولی بھائی ٹی بیگ سامنے ہیں، اسکا اپنی چائے پر سے بالکل دھیان ہٹا ہوا تھا…..
زایان دانت نکالتے ہوئے بولا ڈفر اسطرح چائے بناتے ہوئے ٹی بیگ نہیں ڈالتے…..
میراب نے آنکھیں پھاڑ کر اسے دیکھا تو اپنے مجھے کیوں نہیں بتایا….
زایان پتی کا ڈبہ کھولتے ہوئے بولا کیونکہ ہم پارٹنرشپ میں کام نہیں کر رہے جو ایک دوسرے کو اچھا برا بتائیں،،،،
ڈبہ کھول ہی نہیں رہا تھا میراب نے پیچھے سے زایان کے ہاتھ پر مارا اور ڈبہ نیچے……
ساری پتی زمین پر گر گئی تھی….
زایان نے غصے سے میراب کو دیکھا یہ کیا کیا تم نے ساری پتی گرا دی….
میراب چینختے ہوئے بولی میں نے نہیں گرائی ڈبہ آپکے ہاتھ میں تھا…..
دونوں چینختے چلاتے رہے زایان نے ڈبہ اٹھایا تو اس میں تھوڑی بہت پتی تھی اس میں سے تین چمچ پتی نکال کر اسنے پتیلے میں ڈالی اور نیچے گری پتی کو دیکھ کر بولا چھوڑو اسے بعد میں صاف کر دینا تم….
میراب بھنویں اٹھا کر بولی میں کیوں صاف کرو گی گرائی آپنے ہے تو صاف بھی آپ کریں گے….
وہ دونوں پھرلڑ رہے تھے کے میراب کی چائے ابل کر فوراً باہر آگئی…
میراب چولہا ہلکا کرنے کے بجائے چینختی رہی چائے گر گئی چائے گر گئی….
زایان نے جلدی سے چولہا ہلکا کیا لیکن جب تک آدھی چائے گر چکی تھی جو اب سلپ کے ساتھ ساتھ زمین پر بھی گر رہی تھی……
زایان اور میراب دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا میراب نے چائے کو دیکھتے ہوئے کہا یہ تو اتنی سی بچی ہے پھر سوچتے ہوئے بولی پانی ڈال دوں….؟
زایان نے بھی ہامی بھر دی ہاں ڈال دو…..
میراب نے ڈھیر سارا پانی پتیلی میں ڈال دیا اب اسے یہ شکوہ تھا کہ چائے میں رنگ ہی نہیں آرہا اس لئے اسنے بچی ہوئی پتی بھی چائے میں ڈال دی…..
اب دونوں کھڑے اپنی اپنی چائے کو گھور رہے تھے…..
زایان کی چائے کا رنگ جتنا کالا تھا میراب کی چائے کا رنگ اتنا ہی پھیکا…..
کچھ منٹوں بعد دونوں نے فیصلہ کیا کہ اب چائے کو کپ میں ڈال لینا چاہیے…..
دونوں نے ایک ایک کپ نکالا…..
میراب نے پتیلی کا ہینڈل پکڑا اور چھوڑ دیا یہ تو اتنا گرم ہورہا ہے….
زایان اداکاری کرتے ہوئے بولا اچھا گرم ہورہا ہے؟؟ چائے تو تم نے برف پر پکائی تھی نہ اس لئے گرم ہو رہا ہے….
میراب نے اسے گھورا زایان نے اپنی چائے کپ میں ڈالی تو میراب کی بھی اسکے کپ میں ڈال دی
اور چائے ڈالتے ہوئے اسنے ڈالی کم تھی گرائی زیادہ تھی…..
وہ دونوں چائے کا کپ اٹھائے باہر نکل رہے تھے جب ارفہ بیگم کچن میں داخل ہوئیں اور کچن کی حالت دیکھ کر انھے اٹیک ہوتے ہوتے بچا تھا
پتیلے گرے پڑے تھے ٹائلز پر پتی کا ڈبہ اور پتی دونوں ہی بے حال پڑے تھے اور سلپ سے لے کر زمین تک چائے کی ایک ندی بہی تھی…..
ارفہ بیگم ان دونوں کو خونخوار نظروں سے دیکھ کر چینخھی یہ کیا حشر کیا ہے تم لوگوں نے کچن کا…..
کیا کوئی زلزلہ آیا تھا یا طوفان….
وہ دونوں ہی خاموشی سے کھڑے رہے پھر زایان ماحول کو ٹھنڈا کر نے کے لئے آگے آتا ہوا بولا ماما ہم دونوں نے چائے بنائی ہے آپ پی کر بتائیں کس کی زیادہ اچھی ہے؟؟؟
ارفہ بیگم نے ان دونوں کے کپ کی طرف دیکھا اور پھر انکے چہروں کی طرف….
تم دونوں خود یہ چائے پیوں…..
زایان اور میراب دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا
ارفہ بیگم ہاتھ باندھ کر بولیں پیو پیو ۔ ۔ ۔ زایان اور میراب دونوں نے اپنی اپنی چائے کا ایک گھونٹ لیا اور دونوں کی آنکھیں پھٹ کر باہر آئیں
دونوں تیزی سے سنک کی طرف بھاگے ارفہ بیگم پیچھے سے بولیں یہ زہریلی چائے مجھے پلا کر مارنا چاہتے تھے….
زایان اور میراب نے انھے پلٹ کر دیکھا،،،، زایان کو تو سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ اسکی چائے میٹھی زیادہ ہے یا کڑوی…..
اور میراب کو سمجھ نہیں آرہا تھا کے اسنے چائے میں چینی ملائی تھی یا پانی میں…..
ارفہ بیگم ان دونوں کو کچن سے نکل کر جاتے ہوئے بولیں میں دس منٹ بعد آکر دیکھوں تم دونوں نے کچن صاف کر دیا ہو….
زایان اور میراب دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ماما ہم….
ارفہ بیگم طنزیہ مسکرا کر بولیں ہاں تم دونوں جب پھیلا سکتے ہو تو صاف بھی کر سکتے ہو…..
زایان چینختے ہوئے بولا لیکن ماما میرا تو پیپر ہے مجھے پڑھنا ہے….
ارفہ بیگم اسے گھورتے ہوئے بولیں پڑھ لیا تم نے پہلے سب صاف کرو اور پھر جاؤ…
زایان اور میراب دونوں کپڑا اٹھا کر کچن صاف کرنے کے لئے آگے بڑھے
آئےنور نے گھر پہنچ کر فوراً منہا کو فون کیا پہلے تو منہا نے فون نہیں اٹھایا پھر کچھ دیر بعد اٹھا لیا…..
ہیلو…. نور ہائے ہیلو کو سائڈ پر رکھ کر سیدھا اہم بات پر آئی
منہا تم مال میں کس لڑکے کے ساتھ تھیں؟؟
منہا نے اکتائے ہوئے انداز میں کہا دوست تھا میرا…
نور نے حیرت سے کہا دوست؟؟؟؟ تمھارا ایسا کونسا دوست آگیا جسے میں نہیں جانتی…
منہا آواز اونچی کرتے ہوئے بولی اب تم میرے ہر دوست کو تو نہیں جانتی نہ فیس بک فرینڈ ہے وہ ویسے بھی وہ یہاں نہیں رہتا آیا ہوا ہے….
آئےنور کو حیرت کا جھٹکا لگا فیس بک فرینڈ؟؟؟؟ تو کیا فیس بک فرینڈ سے تم ملنے بھی جاتی ہو؟؟؟
منہا کچھ نہیں بولی….
کیا تم اس سے شادی کرنا چاہتی ہو….؟
منہا دھچکے سے بولی پاگل ہو تم میں اس سے شادی کیوں کروں گی میں تو اس سے بس ایسی بات کرتی ہوں we are just friends
نور نے دکھ سے کہا منہا تم ایسی کب سے ہو گئیں کے تم کسی انجان لڑکے سے اُسے جانے بغیر اس سے بات کرتی ہو اور بات تو دور تم اس سے ملنے بھی چلی گئیں تم اسے صرف دوست کہہ رہی ہو تو کیا وہ بھی تمھے صرف دوست سمجھ رہا ہے؟؟؟
منہا نے چڑ کر کہا دیکھو نور پلیز مجھے تمھارا کوئی لیکچر نہیں سننا اسی وجہ سے میں نے تمھے یہ بات بتائی بھی نہیں…
اس لئے بہتر ہے کہ ہم اس بارے میں بات نہ کریں ورنہ ہماری دوستی پر بھی اثر پڑ سکتا ہے جو جیسا چل رہا ہے چلنے دو…..
نور کو حیرت ہوئی اسنے دکھ سے سوچا “تو کیا ہماری دوستی اتنی کمزور ہے کے ایک انجان انسان کی وجہ سے ہماری دوستی پر اثر پڑے گا”
ٹھیک ہے منہا میں تم سے اس بارے میں کوئی بات نہیں کروں گی تم ہے جو کرنا ہے کرو….
منہا نے بھی کندھے اچکا کر کہا گڈ اسی میں بہتری ہے کل ملتے ہیں یونی میں…..
منہا نے فون کاٹ دیا نور فون ہاتھ میں لئے وہیں بیٹھی رہی……
“کیا وقت کے ساتھ ساتھ دوستی بھی کمزور ہوجاتی ہے؟ نہیں دوستی کبھی کمزور نہیں ہوتی انسان کی سوچ کمزور ہو جاتی ہے یہ انسانوں پر بات ہوتی ہے کہ کون کس حد تک دوستی نبھا سکتا ہے” کیونکہ…..!
” دوستی کرنا آسان ہے دوستی نبھانا مشکل ہے….
محبت کرنا آسان ہے اظہارِ محبت ہی تو مشکل ہے”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امتحان کا سلسلہ تقریباً پندرہ بیس دن تک چلا اور یہ پندرہ بیس دن اسٹوڈنٹس کی زندگی کے سب سے لمبے دن تھے جو انھوں نے رو رو کر گزارے…..
آخری امتحان خوشیاں عروج پر،،، جہاں ایک طرف پیپر سے جان چھوٹ جانے کی خوشی تھی وہیں دوسری طرف زندگی کے خوبصورت دنوں کا اختتام تھا….
جہاں ایک طرف زندگی کا ایک اہم مرحلہ ختم ہوا تھا تو وہیں دوسری طرف کچھ جان سے پیارے بنے رشتوں سے بچھڑنے کا غم بھی تھا….
یہاں سے جانے کے بعد کس کو کیا پتا کہ زندگی کب کہاں لے جائے پھر کبھی ایک دوسرے سے ملیں بھی یا نہ ملیں….
پھر کبھی وہ کینٹین میں ساتھ بیٹھ کر چائے کے چسکے لینا دوبارہ نصیب ہونا ہو….
ایک دوسرے کے ڈپارٹمنٹ کے باہر بیٹھ کر انتظار کرنا، پروفیسرز کی نکل اتارنا، لائبریری کی کتابیں لے کر مہینوں وآپس نہ کرنا اپنے دوست کو کسی کا نام لے کر بار بار تنگ کرنا ، کسی کی ایک مسکراہٹ دیکھنے کے لئے اسے گھنٹوں تاڑنا، نیو اسٹوڈنٹس کو تنگ کرنا، پیڑ کے نیچے بیٹھ کر گلوکار دوست سے گانوں کی فرمائش کرنا……..
کیا دوبارہ وآپس آسکیں گے یہ دن یا کبھی بھول سکیں گیں ان دنوں کو ہاں زندگی کی مصروفیات میں دھندلے ضرور پڑ جائیں گے لیکن اچانک کوئی شناسا چہرہ دیکھتے ہی سب یاد آجائیں گے کیونکہ کچھ لوگ اور دوست کبھی بھلائے نہیں بھولتے،،،،،
آخری پیپر دے کر سب باہر نکلے تو کچھ چہروں پر ہنسی تھی تو کچھ چہروں پر اداسی سب کے چہرے دیکھ کر زایان شافع کے کندھے پر سر رکھ کر بولا….
یار ان سب کو دیکھ کر تو مجھے رونا آرہا ہے….
شافع نے اسکا کندھا اپنے سر سے اٹھا کر کہا زیادہ ڈرامے مت کرو تم تو روز میرے سر پر ناچتے ہو تمھے کیوں رونا آرہا ہے….
زایان کندھے جھاڑتے ہوئے بولا توبہ ہے مجال ہے جو کبھی میری سنجیدہ شکل تم سے برداشت ہو جائے…..
سامنے سے انکی کلاس کا گروپ شافع اور زایان کی طرف بڑھا…..
فاحد اور اسد دونوں روتی سی شکل بنا کر زایان کے گلے لگے….
زایان گھبراتے ہوئے بولا کیا ہوگیا بھائیوں ایسی شکل کیوں بنائی ہوئی ہے میری ہنسی نکل جائے گی….
فاحد اس سے الگ ہوتے ہوئے بولا یار آخری سمسٹر ختم مطلب یونی اور آزادی دونوں کے دن ختم، میں تو سب کو بہت یاد کروں گا…..
زایان اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا جب بھی یاد کرو فون کر کے ڈنر پر بلا لینا میں دوڑا دوڑا آجاؤں گا اپنے بھائی سے ملنے کے لئے….
سب کا قہقہہ بلند ہوا تھا….
فاحد اپنے کندھے پر سے ہاتھ ہٹاتے ہوئے بولا تم وہ واحد بلع ہو جیسے پوری یونیورسٹی مرتے دم تک نہیں بھولے گی….
زایان نے فخر سے کالر کھڑے کئے….
اسد بولا یار اب تو سب ایک ساتھ پتا نہیں کہاں ملیں اپنے ڈپارٹمنٹ میں ڈنر ارینج کرتے ہیں…..
سب نے ہامی بھری تھی سوائے شافع کے….
سوری میں نہیں آسکوں گا پیپرز کی وجہ سے ویسے ہی میں آفس کو ٹائم نہیں دے پایا تو میں تو آفس میں ہونگا…..
سب نے شافع کو منانا شروع کیا….
یار شافع مانا کے تم بہت بڑے اور بزی آدمی ہو لیکن پھر بھی ٹائم نکال کر آجانا یار پھر پتا نہیں کون کہاں ہو اور کب ملیں….
شافع مسلسل انکار کر رہا تھا…..
انھی کی کلاس کی لڑکیاں بولیں شافع پلیز آجانا ہم سب آخری بار تمھارا گانا بھی سن لیں گے پھر تو شافع وارثی نے بڑا بزنس مین بن جانا ہے پھر تم ہمیں کہاں لفٹ کرواؤ گے…..
شافع ہنستے ہوئے بولا ایسا کچھ نہیں ہے میں سب سے ملتا رہوں گا لیکن ڈنر پر میں نہیں…..
زایان فوراً شافع کے گلے میں ہاتھ ڈال کر بولا تم لوگ فکر مت کرو ایسے تو میں کندھے پر اٹھا کر لیاؤ گا یہ بتاؤ ڈنر رکھیں کب کا؟ کل کا رکھ لیں ؟
سب نے کل کے لئے ہامی بھر لی…..
شافع نے زایان کو گھورتے ہوئے کہا تم پاگل ہو آفس میں اتنا کام ہے…… زایان اسکی بات کاٹ کر بولا ہاں ہاں مجھے پتا ہے آفس میں بہت کام ہے تم بے فکر رہو میں اب دل لگا کر کام کروں گا، مجھے پتا ہے میرے بھائی نے سب اکیلے سنبھالا ہوا ہے میں بس نام کا پارٹنر ہوں….
شافع اسکا ہاتھ پکڑ کر بولا میں نے ایسا کچھ نہیں کہا کہ تم کام نہیں کرتے یا….
زایان اسکے ہاتھ پر گرفت مضبوط کر کے اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے بولا
ہاں مجھے پتا ہے کہ تم نے ایسا کچھ نہیں کہا اور اگر میں زندگی بھر بھی تمھارے ساتھ کام کرے بغیر پارٹنر بنا رہوں تم تب بھی کچھ نہیں کہو گے…..
زایان شافع کے گلے لگا شافع اپنی گرفت زایان کے گرد مضبوط کر کے بولا
ہاں میں کچھ نہیں بولوں گا بس ہیڈکوارٹر تک بات پہنچا دوں گا….
زایان نے ہنستے ہوئے اسکے پیٹ میں مکا مارا….
دھمکیاں کم دیا کرو مجھے…..
شافع ہنسا……
پھر زایان الگ ہوتے ہوئے شافع سے بولا تمھے کسی کو انوائیٹ تو نہیں کرنا ڈنر پر سب اپنے فرینڈز کو انوائیٹ کریں گے….
شافع کندھے اچکا کر بولا مجھے کس کو انوائیٹ کرنا ہوگا….
زایان معنی خیز نظروں سے مسکراتے ہوئے بولا سوچ لو کہیں تاشفہ وغیرہ کو تو نہیں کرنا؟؟؟
شافع نے غصے سے دانت پیسے،،،، زایان فوراً بولا اچھا اچھا بھائی مزاق کر رہا ہوں…..
پھر زایان کچھ سوچتے ہوئے بولا تمھے کسی کو انوائیٹ نہیں کرنا لیکن مجھے کرنا ہے چلو میرے ساتھ زایان شافع کا ہاتھ کھینچ کرلے جانے لگا تو شافع بولا۔۔۔
کیسے انوائیٹ کرنا ہے کہاں لے جارہے ہو؟؟
زایان رکے بغیر بولا آئےنور کو شافع نے فوراً اپنا ہاتھ زایان کے ہاتھ میں سے نکالا،،،،
آئےنور کو؟؟ اسے کس خوشی میں انوائیٹ کررہے ہو؟؟؟
زایان کندھے اچکا کر بولا ایسی یار دوست ہے….
شافع چڑ کر بولا تم تو ہر کسی کو دوست بنالیتےہو،،، زایان دانت نکال کر بولا بس یار پرسنیلٹی ہی ایسی ہے ہر کوئی دوست بن جاتا ہے لیکن وہ نور میری ابھی دوست نہیں ہے لیکن بن جائے گی…..
سامنے والے گارڈن میں آئےنور اور منہا بینچ پر بیٹھی تھیں
زایان انکی طرف اشارہ کر کے بولا چلو وہ دیکھو وہاں بیٹھی ہوئی ہیں….
شافع فوراً پیچھے ہوتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔
میں نہیں جاؤں گا تمھے جانا ہے تو جاؤ….
زایان نے اسے حیرت سے دیکھا,,,,,
یار تم دونوں کب تک ایک دوسرے سے اسطرح چڑتے رہو گے….؟
شافع کندھے اچکا کر بولا تو میں نے اس سے بات کر کے کونسی رشتے داری بڑھانی ہے،،،
زایان نے اسکے کندھے پر ہاتھ مارتے ہوئے شرارت سے کہا،،، کیا پتا بڑھانی پڑ جائے…۔
شافع نے اسکا ہاتھ ہٹا کر کہا زیادہ بکواس مت کرو جانا ہے تو جاؤ اور فوراً وآپس آؤ……۔
زایان ہنستے ہوئے نور کی طرف چلا گیا، اور شافع پاس ہی بنی بنیچ پر موبائل نکال کر بیٹھ گیا….
زایان چلتا ہوا انکی طرف جارہا تھا نور اور منہا نے اسے دیکھ لیا تھا زایان نےدور سے ہی انھے دیکھ کر ہاتھ ہلایا……
پھر انکے قریب پہنچ کر بولا کیا ہو رہا ہے….؟
آئےنور نے کتاب کی طرف دیکھ کر کہا فٹ بال کھیل رہے ہیں تم کھیلو گے؟؟
زایان نے قہقہ لگایا اور نور کو سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا آپکو فٹبال بھی کھیل نہ آتا ہے…؟
نور نے نظریں اٹھا کر دیکھا ہاں نہ مجھے فٹبال کھیل نہ فٹبال سے منہ توڑنا سب آتا ہے…..
زایان نے منہ بناتے ہوئے کہا جب بھی منہ کھولنا زہر اگلنا…..
آئےنور فخریہ انداز میں مسکرائی تعریف کا بہت شکریہ….
شافع دور بیٹھا تھوڑی تھوڑی دیر بعد نظریں اٹھا کر انھے دیکھ رہا تھا…..
میں تم لوگوں کو انوائیٹ کرنے آیا ہوں زایان آیا تو صرف نور کو انوائیٹ کرنے تھا لیکن کیونکہ منہا بھی بیٹھی تھی اسلئے اسے بھی بول دیا…..
آئےنور بھنویں اٹھاتے ہوئے بولی
کس کی شادی میں؟؟؟؟ اپنی شادی میں؟؟؟ کیا تم شادی کر رہے ہو؟؟؟
زایان نے دانت نکالے اور شرمانے والے انداز میں بولا نہیں نہیں میری شادی ابھی کہاں ابھی اگر میں نے شادی کا نام لیا نہ تو شافع نے مجھے زندہ گاڑ دینا ہے….
شافع کا نام سن کر آئےنور کے تاثرات بدلے جنھے زایان نے بخوبی نوٹ کیا تھا….
اسکا تمھاری شادی سے کیا لینا دینا….
زایان پیار بھرے لہجے میں بولا بھائی ہے میرا میری زندگی کے ہر فیصلے سے اسکا لینا دینا ہے…..
نور نے تجسّس اور حیرت سے پوچھا کیا تم دونوں سگے بھائی ہو؟؟؟
زایان مسکراتے ہوئے بولا نہیں سگوں سے بڑھ کر ہے….
نور نے کوفت سے آنکھیں گھمائیں کیا تم اپنا بھائی نامہ سنانے آئے ہو..؟
زایان نے آنکھیں بڑی کیں عجیب لڑکی ہو پہلے خود نے ہی پوچھا اور اب بول رہی ہو کے بھائی نامہ سنانے آئے ہو کیا؟؟؟؟
منہا بات کے بیچ میں کود کر بولی تم کسی چیز کا انویٹیشن دینے آئے تھے….
زایان کو یاد آیا ارے ہاں کل ہمارے ڈپارٹمنٹ نے ڈنر رکھا ہے میں تم لوگوں کو اسکے لئے انوائیٹ کرنے آیا تھا…..
نور بھنویں اچکا کر بولی ڈپارٹمنٹ تمھارا، ڈنر تمھارا تو ہمیں کیوں انوائیٹ کرنے آئے ہو؟؟؟
ارے بھئ سب اپنے دوستوں کو انوائیٹ کریں گیں اس لئے میں نے تم لوگوں کو کر دیا…..
منہا خوش ہوتے ہوئے بولی واؤ زایان you are so sweet نور نے منہا کی بات کو نظر انداز کر کے زایان سے پوچھا پہلے مجھے یہ بتاؤ ہم تمھارے دوست کب بنے؟؟؟
زایان نے آنکھیں بڑی کر کے پوچھا تو کیا تم اب تک مجھے اپنا دوست نہیں سمجھتیں،،،
میں نے تمھارا ایڈمیشن کروایا، کچھ دنوں پہلے تمھے ایک ٹاپک بھی سمجھایا اور کتنے دنوں سے تم نے مجھے کچھ نہیں کھلایا میں نے کچھ نہیں کہا پھر بھی تم پوچھ رہی ہو کہ ہم تمھارے دوست کب بنے…..
نور انگلی اٹھاتے ہوئے بولی اپنے ڈرامے مت کرو تم ہمارے سینئر ہو بس دوست نہیں….
ہاں وہ سینئر جسے ضرورت پڑنے پر یاد کیا جاتا ہے زایان نے طنز کیا…
نور نے اسے گھورا,,,, زایان اسے دیکھتا ہوا بولا گھورو مت یہ بتاؤ کل آرہی ہو؟
منہا نے تو فوراً ہامی بھرلی جبکہ نور نے نہ ہامی بھری اور نہ انکار کیا…..
میں کچھ کہہ نہیں سکتی دیکھوں گی اگر آسکی تو…..
زایان نے کوفت سے آنکھیں گھمائیں یار یہ تمھارا اور شافع کا کیا مسئلہ ہے ہر وقت ہٹلر تم دونوں بنے رہتے ہو، ہر جگہ آنے سے منا تم دونوں کر دیتے ہو….
نور غصے سے کھڑی ہوئی یہ تم میری ہر بات شافع سے کیوں ملا دیتے ہو؟؟
زایان دانت نکال کر بولا کیونکہ تم دونوں ہٹلر ہو….
نور نے غصے سے دانت پیسے….
زایان نے اسے ترچھی نظروں سے دیکھا غصہ بھی ججتا ہے تم پر نور نے غصے سے کیا زایان میں تمھارا منہ توڑ دوں گی…..
پندرہ بیس منٹ ہونے کو آئے تھے جب زایان وہاں سے ہلنے کا نام نہیں لے رہا تھا تو شافع کو ہی وہاں آنا پڑا….
شافع نے گلاسیز لگایا ہوا تھا….
وہاں پہنچ کر اسنے زایان سے کہا تم وآپسی کا راستہ بھول گئے ہو کیا؟؟؟؟
شافع نے گلاسیز اتارے آنکھیں نور سے ملی تھیں جو اسنے فوراً ہٹا لیں….
منہا فوراً آگے آتے ہوئے بولی شافع آپ بہت اچھا گاتے ہیں….
شافع نے تکلفانہ انداز میں مسکرا کر کہا شکریہ،،،،،
زایان چلیں؟؟؟؟ ایک منٹ رک جاؤ یار…..
آئےنور تم بتاؤ کل آؤ گی یا نہیں….
نور نے ایک نظر شافع پر ڈالی اور ہٹالی پھر کڑے تیور سے زایان سے بولی کہا نہ کنفرم نہیں ہے….
شافع نے زایان کو دیکھتے ہوئے کہا جب وہ نہیں آنا چاہ رہیں تو تم زبردستی کیوں کر رہے ہو…؟
زایان مصروف سے انداز میں بولا کیونکہ اب ہم یونیورسٹی تو آئیں گے نہیں اس لئے کل میں نور کو ایک سچ بتاؤں گا….
نور نے سے حیرت سے دیکھا کیسا سچ؟؟؟
وہ تو تم کل آؤ گی تب ہی پتا چلے گا….
اور آؤ گی نہ تو ہمارے لئے گفٹ لے کر آنا ہم یونیورسٹی چھوڑ کر جارہے ہیں….
“یونیورسٹی چھوڑ کر جا رہے ہیں اسنے ایسے کہا تھا جیسے دنیا چھوڑ کے جارہے ہوں”
نور کو حیرت کا جھٹکا لگا گفٹ ؟؟؟؟؟ اور ہمارے لئے لے کر آنا سے کیا مطلب ہے؟؟
زایان اپنی اور شافع کی طرف اشارہ کر کے بولا میرے اور شافع کے لئے شافع نے حیرت سے زایان کو گھورا زایان کیا بول رہا ہے یہ؟؟؟
نور نے پہلے زایان کو دیکھا اور پھر شافع کو پھر زایان سے بولی تم نے ہمیں انوائیٹ کیا ہے تمھارے لئے گفٹ لانا سمجھ میں آتا ہے پھر شافع کو چبھتی ہوئی نظروں سے دیکھ کر بولی لیکن ان کے لئے کس خوشی میں لاؤں؟؟
شافع نور سے کافی فاصلے پر کھڑا تھا کیونکہ وہ نور کو یہ بولنے کا موقعہ نہیں دینا چاہتا تھا کہ مجھ سے فاصلے پر رہو…
شافع نور سے بات نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن نور کی بات اسکے دماغ پر جا کر لگی….
ایکسکیوزمی کیا میں نے آپ کو کچھ کہا گفٹ کے بارے میں جو آپنے اسطرح طنز کیا…
نور نے پرعزم لیکن ہلکے لہجے میں کہا میں نے آپ پر طنز تو نہیں کیا۔۔۔۔۔
شافع نے بات ختم کرنے کے لئے کہا ٹھیک ہے میں آپ سے بحث نہیں کرنا چاہتا….
نور نے بھی بھنویں اچکا کر کہا تو نہ کریں کوئی آپکے سر پر گن رکھ کر تو نہیں کہہ رہا کے آپ مجھ سے بات کریں….
شافع دانت پیس کر بولا آپ ہر کسی سے اتنی ہی بد تمیزی سے پیش آتی ہیں یا مجھ سے کوئی خاص دشمنی ہے؟؟؟
نور حقارت سے بولی آپ سے تو میں دشمنی کرنا بھی نہ پسند کروں….
شافع کچھ لمحے خاموشی سے کھڑا اسے گھورتا رہا،،،
نور اسکی نظروں سے اضطراب کا شکار ہوئی تو فوراً منہا سے بولی چلو منہا….
نور آگے بڑھنے لگی تو شافع نے نظریں اس پر گاڑتے ہوئے ہی کہا….
اتنا غرور اچھا نہیں ہوتا کہ جب منہ کے بل گرو تو خود سے ہی نظریں نہ ملا پاؤ….
نور نے شافع کی طرف دیکھ کر کہا آپ بے فکر رہیں غرور ہوگا تو ٹوٹ جائے گا ورنہ گرنے سے پہلے ہی کوئی تھام لے گا…
شافع نے گلاسیز لگاتے ہوئے کہا ،،،
ہمیشہ کوئی ہاتھ تھامنے کے لئے میسر نہیں ہوتا کبھی کبھی خود ہی اٹھنا پڑتا ہے…..
شافع نور کے قریب آنے لگا نور گھبرا گئی…..
شافع نے اسے نظروں کے حسار میں لیا ہوا تھا….
شافع نور کے آگے آیا اور سامنے سے ایک بڑا سا پتھر ہٹایا نور کیونکہ کتاب کھول کر چل رہی تھی اسلئے بے دھیانی میں وہ گر جاتی….
شافع نے اپنے گلاسیز ناک پر نیچے کیا نور نے اس پر سے نظریں ہٹالیں
دیکھیں ابھی یہ چھوٹا سا پتھر آپکو منہ کے بل گرا دیتا اور کوئی ہاتھ بھی نہیں تھامتا ،،، دھیان خود ہی دینا پڑتا ہے…..
زایان نے نور کی شکل دیکھ کر اپنی ہنسی روکنے کےلئے منہ پر ہاتھ رکھا….
شافع نے اپنے گلاسیز اوپر کئے اور زایان کو لے کر وہاں سے چلا گیا نور نے شافع کو دیکھا…..
اسکے چہرے پر نہ غصہ تھا نہ اکتاہٹ بس ایک عجیب سا تاثر تھا وہ شافع کی باتوں اور آنکھوں دونوں میں الجھ گئی تھی پھر اسنے سر جھٹکا اور چلی گئ…..
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زایان اور شافع گاڑی کی طرف آئے تو زایان ہنستا ہوا بولا صحیح جواب دیا بھائی شکل دیکھی تھی کیسے غصے سے دیکھ رہی تھی مجھے تو ہنسی آرہی تھی….
شافع عام سے تاثر سے بولا چھوڑو اسے اور یہ تم کیا کنفیش کرنے والے ہو؟؟
زایان گلہ کھنکار کر بولا یہ تو کل ہی بتاؤں گا تمھے بھی….
شافع نے کوئی دلچسپی نہیں لی ٹھیک ہے نہیں بتاؤ،،،،
زایان پرجوش انداز میں بولا ویسے یار مزا آئے گا کل میں تو بہت ایکسائیٹڈ ہوں….
کتنے مزے مزے کے کھانے ہوں گے زایان کے تو سوچ کر ہی منہ میں پانی آرہا تھا…
مزا ہی آجائے گا کل تو….
شافع نے زایان کے سر پر چپت لگائی کھانوں کی دنیا سے باہر آگئے ہوں تو آفس چلیں؟؟؟
زایان اپنی گاڑی کی طرف جاتے ہوئے جوشیلے انداز میں بولا ہاں ہاں چلو،،،،
لیکن سنو آفس سے کافی پہلے ایک بڑی سی دکان پڑتی ہے وہاں کے سموسے بہت اچھے ہیں وہ لے آنا….
شافع نے منہ پر ہاتھ رکھ کر سیٹ سے ٹیک لگائی زایان میں کچھ نہیں لاؤں گا….
زایان اپنی گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے بولا شرافت سے لے آنا مجھے بہت کام ہے آفس میں زایان نے گاڑی ریورس لی اور باہر کی طرف گاڑی لے گیا…
شافع اوووفففف کرتے ہوئے سیدھا ہوا اور گاڑی اسٹارٹ کر دی
