Izhar-e-Muhabat by Anooshe NovelR50417

Izhar-e-Muhabat by Anooshe NovelR50417 Izhar-e-Muhabat Episode 28

219.9K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Izhar-e-Muhabat Episode 28

Izhar-e-Muhabat by Anooshe

سب لاؤنج میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے جب ارحام آئےنور کے ہمراہ سیڑھیوں سے اترتی ہوئی نیچے آئی،،، ارحام نے نور کا ہاتھ مضبوطی سے تھاما ہوا تھا اسکا دل زوروں سے دھڑک رہا تھا، دل تھا کہ کچھ ماننے کو تیار ہی نہیں تھا آنکھیں تھیں جو بار بار دھندلا رہی تھیں،،،،

انھے دیکھ کر ارفہ بیگم اور میراب کھڑے ہوئے،،، نور ارحام کو انکے پاس لے آئی، ارفہ بیگم نے مسکراتے ہوئے ارحام کو گلے لگایا،،، ان سے الگ ہوکر نور نے ارحام کا میراب سے تعارف کروایا میراب جوش و خروش کے ساتھ ارحام کے گلے لگی اور سلام کرتے ہوئے بولی کیسی ہیں آپ؟ ارحام نے مسکراتے ہوئے اثبات میں گردن ہلائی میں ٹھیک ہوں نور نے محسوس کیا تھا اسکی آواز کپکپا رہی تھی،،، ارفہ بیگم نے ارحام کو اپنے پاس بٹھا لیا…. ارفہ بیگم اس سے حال احوال پوچھنے لگیں ارفہ بیگم کا خوش اخلاق رویہ دیکھ کر عائشہ بیگم کو اطمینان آیا تھا، اور انکے چہرے پر ایک مسکراہٹ سج گئی تھی،،،، کچھ بات چیت کے بعد ارفہ بیگم عائشہ بیگم سے بولیں ماشاءاللہ آپکی بیٹی بہت پیاری ہے ہمیں تو ارحام بہت پسند آئی ہے،،، عائشہ بیگم والہانہ انداز میں مسکرائیں،،،،

ارفہ بیگم ارحام کے ہاتھ میں پیسے رکھتے ہوئے بولیں ہماری طرف سے تو رشتہ پکا ہے آپ بتائیں آپ کو تو کوئی اعتراض نہیں ہے،،، عائشہ بیگم مسکراتے ہوئے بولیں، میں کیا بول سکتی ہوں جو بھی فیصلہ ہوگا وہ تو ارحام کے بابا ہی کریں گے،،، ارفہ بیگم نے مسکراتے ہوئے گردن ہلائی جی ٹھیک کہا اپنے، کچھ دیر بعد ارفہ بیگم عائشہ بیگم سے بولیں ارحام کی دادی کہیں نظر نہیں آرہیں گھر پر نہیں ہیں کیا…..؟ عائشہ بیگم مسنوعی مسکرا کر بولیں نہیں نہیں گھر پر ہی ہیں انکی کچھ طبیعیت ٹھیک نہیں ہے اسلئے اپنے کمرے میں ہیں، آپ کچھ دیر میں مل لئے گا ان سے، ارفہ بیگم نے مسکراتے ہوئے اثبات میں گردن ہلائی…

میراب ارحام اور نور سے ہنس ہنس کے باتیں کر رہی تھیں اسکا مزاج بھی زایان ہی کی طرح تھا ہر کسی سے گھل مل جانا،،،، اتنے میں ایک ملازمہ آئی اور عائشہ بیگم کے کان میں آکر بولی آپکو صاحب جی بلا رہے ہیں… عائشہ بیگم مسکرا کر معذرت کرتی ہوئی بولیں میں ابھی آتی ہوں…. عائشہ بیگم اٹھ کر صحن کی طرف آئیں جہاں ابراہیم صاحب پہلے سے کھڑے تھے،،، انھے دیکھ کر ابراہیم صاحب آگے بڑھے، عائشہ بیگم بولیں جی آپ نے مجھے بلایا؟ ابراہیم صاحب اثبات میں گردن ہلاتے ہوئے بولے کیسے لگے تمھے یہ لوگ؟ عائشہ بیگم مسکراتی ہوئی بولیں بہت اچھے ہیں اخلاق، مزاج، ہر طرح سے اچھے ہیں ارفہ بیگم نے تو اپنی طرف سے ہاں بھی کہہ دی ہے… آپ کیا کہتے ہیں؟ ابراہیم صاحب مسکراتے ہوئے بولے ہاں لوگ تو واقعی بہت اچھے ہیں اور زایان کو تو میں جانتا ہی ہوں، مجھے لگتا ہے ہمیں دیر نہیں کرنی چاہیے، ویسے بھی میں چاہتا ہوں شادی جلدی ہو جائے….

عائشہ بیگم بولیں لیکن ابراہیم صاحب اتنی جلدی یہ سب،،، ابراہیم صاحب انھے اطمینان دلاتے ہوئے بولے تم فکر مت کرو سب ہو جائے گا،،، عائشہ بیگم پریشانی سے بولیں لیکن بی اماں زایان کی امی بھی انکا پوچھ رہی تھیں میں نے طبیعیت خراب کا بہانا بنا دیا،،،، ابراہیم صاحب سانس کھینچتے ہوئے بولے اماں کچھ نہیں بولیں گی میں سنبھال لوں گا میں اپنی بیٹی کی آنکھوں میں اب خوشیاں دیکھنا چاہتا ہوں… عائشہ بیگم مسکرائیں. ابراہیم صاحب بولے بس میں پھر حیدر صاحب سے بات کر کے رشتہ پکا کرتا ہوں…. عائشہ بیگم نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا….

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حیدر صاحب، شہزاد، شافع اور زایان بیٹھے باتیں کر رہے تھے… جب ابراہیم صاحب وہاں آئے انھے دیکھ کر حیدر صاحب بولے جی تو بھائی صاحب کیا فیصلہ کیا اپنے؟ ابراہیم صاحب مسکراتے ہوئے بولے ہمیں اس رشتے پر کوئی اعتراض نہیں ہے حیدر صاحب مسکراتے ہوئے کھڑے ہوئے تو پھر یہ رشتہ پکا ہوا گلے ملیں ابراہیم صاحب…. حیدر صاحب والہانہ خوشی سے ابراہیم صاحب کے گلے ملے…. شافع بھی زایان سے گلے ملا اور اسکا کندھا تھپتھپاتے ہوئے اسکے کان میں بولا…. بہت مبارک ہو… زایان اسے آنکھ مارتے ہوئے بولا خیر مبارک…. زایان پھر ابراہیم صاحب سے گلے ملا…. ابراہیم صاحب نے ملازم سے کہہ کر مٹھائیاں منگوائیں لاؤنج میں بھی سب کا منہ میٹھا کروایا گیا…. شافع نے زایان کو مٹھائی کھلانے کے لئے اٹھائی تو زایان آہستہ سے اسکے کان میں بولا،،،،

دیکھ یار پوری کھلانا میں نے ویسے بھی کھانا کم کھایا ہے….

شافع نے ہنستے ہوئے پوری مٹھائی اسکے منہ میں ٹھوس دی زایان نے منہ پر ہاتھ رکھا اور مٹھائی کو منہ میں فٹ کرنے لگا….

حیدر صاحب ابراہیم صاحب سے شادی کے حوالے سے بات چیت کرنے لگے،،،، حیدر صاحب چاہتے تھے کے منگنی وغیرہ کی رسم آج ہی ہو جائے لیکن ابراہیم صاحب بولے دیکھیں حیدر صاحب ہم چاہتے ہیں کہ شادی جلدی ہی ہو….. حیدر صاحب مسکراتے ہوئے بولے ہاں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے…. زایان کی مسکراہٹ گہری ہوئی تو شافع نے اسے کونی ماری زایان نے اپنی مسکراہٹ سمٹی…..

ابراہیم صاحب بولے اسلئے یہ منگنی وغیرہ رہنے دیں سیدھا نکاح کی بات کرتے ہیں اگر آپکو مناسب لگے تو اس جمعے نکاح رکھ لیں؟……… زایان آنکھیں بڑی کرتے ہوئے بولا اس جمعے نکاح؟ ابراہیم صاحب مسکراتے ہوئے بولے جی بیٹا آپکو کوئی اعتراض ہے؟ زایان مسکراتے ہوئے چہرے پر ہاتھ پھیر کر بولا نہیں نہیں انکل مجھے کیا اعتراض ہوگا باقی جو بابا ٹھیک سمجھیں… ابراہیم صاحب مسکرائے…

حیدر صاحب بولے لیکن بھائی صاحب اتنی جلدی نکاح؟ میرا مطلب ہے تیاری وغیرہ میں وقت نہیں لگے گا، ابراہیم صاحب بولے نکاح اس جمعے کو رکھ لیتے ہیں رخصتی وغیرہ دس دن بعد کر لیں گے حیدر صاحب کچھ سوچتے ہوئے بولے ٹھیک ہے ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے پھر اس جمعے کو ارحام اور زایان کا نکاح طے ہوا….. زایان نے خوشی سے آنکھیں پھاڑ کر شافع کی طرف دیکھا…. شافع اسکے کان کے پاس آکر آہستہ سے بولا دوبارہ بہت مبارک ہو…. زایان کی مسکراہٹ گہری ہوئی…..

سامنے ٹیبل پر رکھی مٹھائی کی پلیٹ میں سے زایان نے مٹھائی اٹھائی سب کی نظر اس پر تھی،،، زایان مسکراتے ہوئے ابراہیم صاحب کو دیکھ کر بولے معاف کیجئے گا انکل لیکن مجھے یہ والی مٹھائی پسند بہت ہے…. سب کا قہقہہ بلند ہوا…. زایان نے مٹھائی منہ میں ڈالی….

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ابراہیم صاحب اور حیدر صاحب لاؤنج میں داخل ہوئے، شافع اور زایان ابھی بھی باہر بیٹھک میں بیٹھے تھے… سب لاؤنج میں بیٹھے تھے انھے آتا دیکھ کر سب کھڑے ہوگئے ارحام ابھی بھی لاؤنج میں ہی موجود تھی….. ابراہیم صاحب نے سب کو بیٹھنے کا کہا اور حیدر صاحب کو ساتھ لئے خود بھی صوفے پر بیٹھ گئے اور سب سے انکا تعارف کروایا…. ابراہیم صاحب عائشہ بیگم سے بولے کہ جا کر بی اماں کو بلا لائیں…. عائشہ بیگم اثبات میں سر ہلا کر چلی گئیں….

عائشہ بیگم بی اماں کے کمرے میں داخل ہوئیں بی اماں لیٹی ہوئی تھیں عائشہ بیگم انکے پاس آکر بیٹھیں اور انکا ہاتھ پکڑ کر بولیں اماں ابراہیم صاحب آپکو بلا رہے ہیں…. بی اماں بغیر کسی تاثر کے بولیں میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے مجھے آرام کرنے دو…. عائشہ بیگم دوبارہ بولیں اماں ارحام کے رشتے والے آئیں ہیں انھوں نے بات پکی کردی ہے وہ لوگ آپکا پوچھ رہے ہیں پلیز چلیں…. بی اماں تنک کر بولیں، جب سب کچھ طے کر ہی لیا ہے تو ان سے کہہ دو کہ مر گئی ہوں میں آخر میرے بغیر بھی تو سب کچھ ہو ہی رہا ہے نہ….

عائشہ بیگم انھے مناتے ہوئے بولیں اماں مان جائیں پلیز میں نے ارحام کے چہرے پر کتنے سالوں بعد ایسی مسکراہٹ دیکھی ہے وہ بہت خوش ہے،،، دروازے پر دستک ہوئی بی اماں اور عائشہ بیگم نے دروازے کی طرف دیکھا ارحام کھڑی تھی…. ارحام آہستہ سے چلتی ہوئی اندر آئی اور بی اماں کے سامنے آکر بیٹھ گئی بی اماں منہ پھیر کر دوسری طرف دیکھ رہی تھیں…. ارحام نے انکا ہاتھ پکڑا،،،،،

آپ میری خوشی کے لئے میری شادی شافع سے کروانا چاہتی تھیں نہ لیکن میں اس رشتے سے خوش ہوں کیا آپ میری خوشی میں شامل نہیں ہوں گی؟ بی اماں منہ پھیر کر بیٹھی رہیں…. ارحام دوبارہ بولی شافع نے ایک صحیح لڑکی کا انتخاب کیا ہے، وہ لڑکی بنی ہی شافع کے لئے ہے اگر میری اور شافع کی شادی ہو بھی جاتی تو ہم کبھی خوش نہیں رہ پاتے…. شافع اس شادی کو نبھا بھی لیتا کیونکہ اسے رشتوں کا پاس رکھنا آتا لیکن ہم دونوں ساری زندگی اندر ہی اندر خود سے ایک جنگ لڑتے رہتے….

آپ بتائیں اس شادی سے کس کس کی زندگی خراب نہیں ہوتی…..

ارحام نے بی اماں کا ہاتھ دبایا،،، شافع بہت خوش ہے اسے خوش رہنے دیں اور میری خوشیوں میں شریک ہو جائیں…. بی اماں کچھ نہیں بولیں تو ارحام اٹھتے ہوئے بولی آپ کو میری خوشیوں کا واسطہ ہے اماں اگر اپنے کبھی بھی میری خوشیوں کے بارے میں سوچا ہے تو آج میری خوشیوں میں شامل بھی ہوجائیں ورنہ کیا پتا آپ کی ناراضگی کی وجہ سے میری ساری زندگی اندھیرے میں رہے کیونکہ جن رشتوں میں بڑوں کی دعا نہیں ہوتی وہ کامیاب بھی نہیں ہوتے….

ارحام جانے کے لئے پلٹی تو بی اماں بولیں…. روکو ارحام نے پلٹ کر انکی طرف دیکھا تو وہ ہاتھ بڑھا کر بولیں اب مجھے اس بستر سے اٹھاؤ بھی خود سے اٹھنے میں تو مجھے دیر لگ جائے لگی…. ارحام مسکراتے ہوئے آگے بڑھی عائشہ بیگم بھی والہانہ انداز میں مسکرائیں…. بی اماں ارحام کا ہاتھ پکڑ کے اٹھتے ہوئے بولیں میں صرف تمھاری خوشی کے لئے شامل ہو رہی ہوں ورنہ غیروں میں شادی مجھے ابھی بھی منظور نہیں ہے…. راحام کچھ نہیں بولی بس انکا ہاتھ پکڑ کر انھے لے کر آگے بڑھ گئی……

بی اماں ارحام کا ہاتھ تھامے لاؤنج میں داخل ہوئیں تو انکے احترام میں سب کھڑے ہوگئے،،، سپاٹ چہرے سے سب کے سلام کا جواب دیتے ہوئے وہ صوفے پر بیٹھ گئیں….

سب بیٹھ گئے تو ابراہیم صاحب بولے اللہ کے کرم سے رشتہ تو پکا ہو ہی گیا ہے…. لیکن ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ منگنی وغیرہ کرنے کے بجائے اس جمعے کو نکاح کر دیا جائے….. ارحام نے بے یقینی سے نظریں اٹھا کر انھے دیکھا…. سب کے چہرے پر ایک مسکراہٹ دوڑ گئی سوائے بی اماں کے…..

بی اماں اعتراض کرتے ہوئے بولیں اتنی جلدی نکاح؟ اب اتنی بھی کیا جلدی پڑی ہے شادی کی؟ ارفہ بیگم اور حیدر صاحب کی مسکراہٹ سمٹی،،،، ابراہیم صاحب بولے اماں نیک کام جتنی جلدی ہو جائے اتنا اچھا ہے اور پھر دیر کرنے کی کوئی خاص وجہ بھی نہیں ہے، آپکو کوئی اعتراض ہے کیا….؟ بی اماں کندھے اچکا کر بولیں نہیں بھئی ہمیں کیوں کوئی اعتراض ہوگا تمھاری بیٹی ہے جو تمھے ٹھیک لگے… ماحول میں تناؤ پیدا ہونے لگا تھا…. ماحول کا تناؤ ختم کرنے کے لئے…. ابراہیم صاحب مسکراتے ہوئے نور سے بولے ارے نور بیٹا سب کو مٹھائی کھلاؤ…. نور اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کھڑی ہوئی اور مٹھائی لے کر سب سے پہلے ارحام کے پاس آئی،،،، اور اسکے منہ میں مٹھائی ڈالتے ہوئے آہستہ سے اسکے کان کے پاس آکر بولی میں نے کہا تھا نہ کہ سب ٹھیک ہوگا…. ارحام نے مسکراتے ہوئے اثبات میں گردن ہلائی اسکی آنکھوں میں بار بار نمی آرہی تھی….

نور نے پیار سے اسکے گال تھپتھپائے اور مٹھائی لے کر آگے بڑھ گئی نور نے مٹھائی بی اماں کی طرف بڑھائی بی اماں نے سپاٹ چہرے سے نظریں اٹھا کر نور کو دیکھا نور نے بڑی مشکل سے اپنے تاثرات نارمل کئے ہوئے تھے ورنہ اندر سے تو اسکا دل زوروں سے دھڑک رہا تھا…. بی اماں نے اسکے چہرے پر سے نظر ہٹائی اور اسکے ہاتھ سے مٹھائی کھانے کے بجائے مٹھائی اسکے ہاتھ سے لے کر وآپس ڈبے میں رکھتے ہوئے بولیں میں مٹھائی نہیں کھاتی شوگر ہو جائے گی…. نور شرمندگی سے سیدھی ہو گئی… اور مٹھائی لے کر آگے بڑھ گئی….

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شافع اور زایان باہر لان میں لگی کرسیوں پر بیٹھے ہوئے تھے اندر ابراہیم صاحب اور حیدر صاحب وغیرہ نکاح کی تیاریوں کے بارے میں بات چیت کر رہے تھے ابراہیم صاحب کے جانے کے بعد زایان مٹھائی کی پلیٹ چٹ کر گیا تھا اور اب لان میں بیٹھے ہوئے وہ دور موجود پیڑوں کو دیکھتے ہوئے شافع سے بولا یار ان پیڑوں پر پھل بھی آتے ہیں یا ایسی جگہ گھیرنے کے لئے لگائے ہوئے ہیں… شافع نے اسکے سر پر چپت لگائی جب شادی کہ بعد گھر میں پھلوں کی پیٹیاں آئیں گی نہ تب پوچھوں گا زایان سیدھا ہوتے ہوئے بولا شادی سے یاد آیا کہ… رشتہ پکا ہوگیا نکاح کا دن بھی طے ہوگیا لیکن مجھے ابھی تک لڑکی نہیں دکھائی گئی کیا مجھے ایسی وآپس بھیج دو گے؟؟؟ شافع ہنستا ہوا بولا لڑکی تم سے ملنا ہی نہیں چاہ رہی ہوگی…. زایان بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا ایسے کیسے نہیں ملنا چاہ رہی ہوگی،،، میں اتنی دور سے اتنا لمبا سفر کر کے آیا ہوں اسکی شکل دیکھے بغیر نہیں جاؤں گا….

شافع ہنستہ ہوا بولا ارمان جاگ رہے ہیں،،، زایان نے آنکھیں گھمائیں اس میں ارمان جاگنے والی کیا بات ہے…. مجھے نہیں پتا تم کسی بھی طرح مجھے اس سے ملواؤ…. شافع کندھے اچکاتے ہوئے بولا میں اس معاملے میں کچھ نہیں کر سکتا… زایان نے اسے گھورا تم نہیں کرو گے تو اور کون کرے گا….؟ شافع ہنسا اچھا رکو شافع نے موبائل نکال کر نمبر ڈائل کیا اور موبائل کان سے لگا لیا….

نور ارحام کے ساتھ اسکے کمرے میں بیٹھی تھی ارحام کے چہرے سے مسکراہٹ اور آنکھوں سے آنسوں جا ہی نہیں رہے تھے…. نور اسکا ہاتھ سہلاتے ہوئے بولی اب تو سب ٹھیک ہوگیا ہے اب ان آنسوؤں کو روک دو…. ارحام ہنستے ہوئے آنکھوں کے کنارے صاف کرتے ہوئے بولی انھے بہنے کی اتنی عادت ہوگئی ہے کہ اب سنبھل ہی نہیں پارہے….. نور نے مسکراتے ہوئے اسکا بازو سہلایا،،، اتنی محبت کرتی ہو زایان سے؟ ارحام نے اپنی سرخ آنکھوں اوپر کیں،،،، محبت تو بہت پیچھے رہ گئی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مجھے تو عشق ہو گیا ہے اور عشق وہ مقام ہوتا ہے جہاں پانے کی چاہ ختم ہو جاتی ہے آپ صرف شدید شدید محبت کرتے ہیں بنا کسی مطلب کے بنا کسی امید کے،،،،

میں نے بھی وہی کی تھی میں تو سب کچھ بھول گئی تھی….. اگر وہ مجھے اتنی آسانی سے مل سکتا تھا تو پھر میری زندگی کے چار سال عزیت میں کیوں گزرے؟؟؟

نور نے اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھاما… محبت کو پانے کے لئے پہلے بدترین پر سے گزرنا پڑتا ہے تب جاکر ہی تو بہترین ملتا ہے…. جب تک بد ترین سے نہیں گزریں گے تب تک بہترین کی بھی قدر نہیں ہوگی… ارحام نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا ٹھیک کہہ رہی ہیں آپ….

ارحام نے نظریں اٹھا کر نور کی طرف دیکھا ایک بات پوچھوں آپ سے؟ نور نے اثبات میں سر ہلایا ہاں پوچھو…. ارحام اپنے بال پیچھے کرتے ہوئے بولی شافع کو کب سے جانتی ہیں آپ؟ نور نظریں جھکا کر اپنے ہاتھوں کو دیکھتے ہوئے بولی یونیورسٹی ٹائم سے…. ارحام اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی اور آپ کو محبت کب ہوئی ان سے؟ نور نے نظریں اٹھا کر اسکی طرف دیکھا اور آہستہ سے بولی محبت؟؟؟ ارحام نے اثبات میں سر ہلایا ہاں محبت ،،،،نور نے نظریں چرائیں،،،،

ارحام پھر سے بولی آپ خاموش کیوں ہو گئیں؟ نور خلا میں دیکھتے ہوئے بولی ،،،،، میرا اور شافع کا ملنا ایک اتفاق تھا جو معجزے پر آکر روکا میں نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ میری شادی شافع سے ہوگی اور اسطرح ہوگی…. ارحام مسکراتے ہوئے بولی شافع آپ سے بہت محبت کرتے ہیں…. نور نے سوالیہ نظروں سے پوچھا اسنے ایسا کہا تم سے؟

ارحام مسکراتے ہوئے نفی میں سر ہلا کر بولی کچھ باتیں کہنے کی ضرورت نہیں پڑتی وہ آنکھوں میں ہی نظر آجاتی ہیں…. جیسے میری آنکھوں میں زایان کے لئے محبت…. ارحام آئےنور کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بولی جیسے آپکی آنکھوں میں شافع کا نام سن کر چمک،،، آئےنور نے نظریں چرائیں ارحام اسے زچ کرتے ہوئے بولی جیسے یہ چہرے کا لال ہو جانا،،،،

نور نے اپنے گالوں پر ہاتھ پھیرا اور گھبراتے ہوئے بولی نہیں….. یہ تو ارحام مسکراتے ہوئے بولی آپ اتنا شرما کیوں رہی ہیں شوہر ہیں وہ آپکے کوئی غیر تو نہیں….

نور کچھ کہنے والی تھی اسکا موبائل بجا… شافع کی کال تھی اسنے کال ریسیو کر کے موبائل کان سے لگا لیا دوسری طرف سے شافع کی آواز آئی،،، کیسی ہو؟ نور نے مسکراتے ہوئے بھنویں میچیں،،، ابھی بھی یہ پوچھو گے کے کیسی ہوں، ٹھیک ہوں بالکل،،، شافع مسکراتے ہوئے بولا اور کہاں ہو تم؟ شافع کے سامنے بیٹھا زایان سر پر ہاتھ مار کے بولا بھائی میری والی سے ملاقات کا کہا تھا تمھارا اپنا رومینس ختم نہیں ہوتا… شافع نے اسے گھورا اور فون پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا تمھارے لئے ہی بات کر رہا ہوں بے غیرت انسان زایان پیچھے ہو کر بیٹھتے ہوئے بولا اوہ میرے لئے بات کر رہے ہو چلو ٹھیک ہے کرو کرو….

شافع نے اسے گھورا…. نور بولی میں ارحام کے کمرے میں ہوں تمھے کوئی کام ہے کیا؟ شافع بولا ہاں زایان ارحام سے ملنا چاہتا ہے… نور بولی اچھا تو پھر؟؟؟ شافع بولا تم اسے لے کر پیچھے والے صحن میں آجاؤ…. نور نے فون پر ہاتھ رکھ کے ارحام سے کہا زایان تم سے ملنا چاہتا ہے نیچے بلا رہا ہے وہ…..

ارحام پیچھے ہوتے ہوئے بولی لیکن میں نہیں ملنا چاہتی ابھی ان سے…. نور نے حیرت سے پوچھا لیکن کیوں؟ ارحام کندھے اچکا کر بولی میں نے چار سال انکا انتظار کیا ہے تو کیا وہ نکاح تک کا انتظار نہیں کر سکتے…. بس مجھے نہیں ملنا ان سے…. نور ہنسی اور پھر شافع سے بولی ارحام کہہ رہی ہے وہ نہیں ملنا چاہتی…. شافع نہ بھنویں میچیں لیکن کیوں؟ نور نے کندھے اچکائے مجھے کیا پتا۔ ۔ ۔ ۔ شافع زایان سے بولا ارحام نہیں ملنا چاہتی تم سے…. زایان ایک جھٹکے سے سیدھا ہو کے بیٹھا اور آنکھیں بڑی کرتے ہوئے بولا کیوں بھائی؟ شافع نے کندھے اچکا دیئے…. زایان نے شافع کے ہاتھ سے موبائل جھپٹا اور کان پر لگا کر بولا بھابھی جان کیا آپ میری ارحام سے بات کر واسکتی ہیں؟ نور نہ بھنویں اٹھائیں اوہ ہو ہو…. بھابھی جان واہ کیا کہنے ہیں آپکے زایان حیدر…. لیکن معاف کیجئے گا ارحام آپ سے بات بھی نہیں کرنا چاہتی…. ارحام نے ہنستے ہوئے منہ پر ہاتھ رکھا…. زایان اسکی منت کرتے ہوئے بولا یار پلیز بات کروادو اب اپنے معصوم دیور کے ساتھ ایسا کرو گی؟ نور بھنویں اٹھاتے ہوئے بولی معصوم؟؟؟؟تم سے اگر میں بدلہ لینے پر آئی نہ زایان حیدر تو تمھے دن میں تارے نظر آنے لگے گیں…. زایان حیرت سے بولا کس بات کا بدلہ….؟ نور دانت پیستے ہوئے بولی کھا کھا کر بھول جانا تو تمھاری پرانی عادت ہے تم نے مجھ سے جتنے پیسے یونیورسٹی میں کھائے ہیں انکا بدلہ….

زایان بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا ارے یار اب تو تم اتنے امیر آدمی کی بیوی ہو اور خوش قسمتی سے میں تمھارا دیور تو چھوڑو اب ان بدلے وغیرہ کو…. نور نے دانت پیسے،،، زایان پھر سے بولا اچھا یار بات تو کروا دو… ارحام سے… نور اسے تنگ کرتے ہوئے بولی اگر میں تمھارے انداز میں بات کروں تو پہلے یہ بتاؤ ارحام سے بات کروانے پر مجھے کیا ملے گا؟؟؟

زایان نے فون کی طرف دیکھا پھر شافع سے بولا یار تمھاری بیوی تو دھاندلی پر اتر آئی ہے…. شافع کندھے اچکا کر بولا بھئی تم خود سنبھال لو میں کچھ نہیں بولوں گا…. زایان اسے گھورتے ہوئے بولا ہاں تم نے تو زن مریدی کے سارے ریکارڈ توڑنے ہیں، شافع ہنستے ہوئے بولا ہاں ہاں بول لو لیکن جب تمھاری شادی ہوگی تب دیکھوں گا زایان ہاتھ ہلاتے ہوئے بولا ہاں ہاں دیکھ لینا…. زایان دوبارہ فون کان پر لگا کر بولا اچھا بولو کیا ڈیمانڈ ہے تمھاری؟

نور سوچتے ہوئے بولی ابھی تو مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا لیکن سمجھ لو ادھار رہا زایان خوش ہوتے ہوئے بولا یہ تو بہت اچھی بات ہے چلو اب جلدی سے ارحام کو فون دو….

نور نے ہنستے ہوئے فون ارحام کو تھما دیا اور خود وہاں سے چلی گئی… ارحام نے فون کان سے لگایا,,,, جی کہیں کیا بات کرنی ہے آپکو؟ زایان فون پر ہاتھ رکھ کر اٹھتے ہوئے شافع سے بولا میں ذرا بات کر کے آتا ہوں…. شافع ہنستے ہوئے بولا ہاں ہاں بالکل بالکل آپکی ہونے منکوحہ ہیں آرام سے بات کریں… زایان دانت نکالتے ہوئے لان کی دوسری طرف چلا گیا٬ اور گلہ کھنکار کر بولا کیسی ہیں آپ؟ ارحام گردن جھکاتے ہوئے بولی میں ٹھیک ہوں آپ کیسے ہیں؟ زایان مسکراتے ہوئے بولا میں بھی بالکل فٹ فاٹ مزے میں… مجھ سے ملنے سے منا کیوں کر رہی ہو؟ ارحام بیڈ سے اٹھتے ہوئے بولی کیونکہ میں ابھی ملنا نہیں چاہتی…

لیکن کیوں؟ ارحام بولی کیونکہ میں نہیں چاہتی کہ ہمارے ملنے سے اب کچھ غلط ہو،،، آخری بار ہم ملے تھے تو بچھڑ گئے تھی میں چاہتی ہوں کہ اب ہم ملیں تو صرف ایک دوسرے کو ہوں….

زایان مسکراتے ہوئے بولا ایسی باتیں کہاں سے سیکھی تم نے؟ ارحام بھنویں اچکاتے ہوئے بولی کیسی باتیں؟؟؟ زایان مسکراتے ہوئے بولا یہی ملنے، بچھڑنے، والی باتیں… ارحام نے گردن جھکائی جب محبت ہوتی ہے تو ایسی باتیں خود ہی آجاتی ہیں… زایان بالوں میں ہاتھ پھیرتا ہوا بولا یعنی میں تو اسطرح کی باتیں کبھی نہیں کر سکوں گا…. ارحام اپنے ہاتھ دیکھتے ہوئے بولی کیوں آپکو مجھ سے کبھی محبت نہیں ہوگی کیا؟ زایان اسے زچ کرتے ہوئے بولا “مشکل ہے” ارحام مسکراتے ہوئے بولی لیکن ناممکن تو نہیں….

زایان ہنسا ہاں یہ بھی میں بہت بگڑا ہوا ہوں تم سدھار دینا…. ارحام مسکراتے ہوئے بولی، آپ سدھرے ہوئے ہیں میں بس آپ کو بگاڑ دوں گی… زایان نے قہقہہ لگایا،،،، پھر ٹھہر کر بولا جمعے کو ہمارا نکاح ہے… ارحام نے گردن جھکائی جانتی ہوں کچھ جلدی نہیں ہے؟ زایان بھنویں میچتے ہوئے بولا جلدی؟؟؟؟ تمھارا دل نہیں بھرا میرا انتظار کر کر کے؟ ارحام مسکرائی میرا مطلب ہے چار دن بعد ہی تو جمعہ ہے،،،، اتنی جلدی سب کیسے ہوگا؟ زایان مسکراتے ہوئے بولا میرا بس چلے تو کل ہی نکاح رکھوا لوں…. ارحام بھنویں اٹھاتے ہوئے بولی، آپکو تو محبت نہیں ہے پھر کس بات کی جلدی ہے؟ زایان شرارت سے بولا محبت مجھے نہیں ہے لیکن تمھے تو ہے نہ میں تو تمھارا انتظار ختم کرنا چاہتا ہوں…..

ارحام ہنسی زایان بھی ہنستے ہوئے بولا۔ ۔ ۔ اچھا چلو سب چھوڑو یہ بتاؤ نکاح کے چھواروں کے ساتھ چاکلیٹس رکھوانی ہے یا ٹوفیس…. ارحام نے نہ سمجھی سے پوچھا کیا؟؟؟ زایان اسے سمجھاتے ہوئے بولا دیکھو یار میں سوچ رہا ہوں نکاح کے چھواروں کے ساتھ چاکلیٹس بھی رکھیں گے… ارحام آنکھیں گھماتے ہوئے بولی چاکلیٹس، ٹوفیس، چپس سب نہ رکھ لیں؟ زایان آنکھیں بڑی کرتے ہوئے بولا…… آئیڈیا برا نہیں ہے… ارحام ہنسی…. اچھا اب میں فون رکھوں؟ زایان بولا اچھا یار مل نہیں رہیں تو کم سے کم اپنا چہرہ ہی دکھادو…. ارحام مسکراتے ہوئے بولی اب آپ ایک ہی دفعہ اپنی بیوی کے روپ میں مجھے دیکھئے گا زایان حیدر….. ارحام نے کال کاٹ دی دوسری طرف سے زایان بولتا رہ گیا ارحام میری بات تو سنو….

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سارے معاملات طے ہونے کے بعد حیدر صاحب چلنے کی کر رہے تھے لیکن ابراہیم صاحب نے ان لوگوں کو شام کے ناشتے پر روک لیا تھا،،، ابراہیم صاحب نے ناشتہ لان میں لگوایا تھا… بی اماں اپنے کمرے میں چلی گئی تھیں ارحام اور نازیہ کے علاوہ وہاں سب موجود تھے…. قہوے کے ساتھ ناشتہ میں اتنا کچھ تھا کہ زایان سے برداشت نہیں ہورہا تھا اسلئے وہ گھر کے بنے سموسوں کی پلیٹ اٹھاتے ہوئے بولا دیکھئے انکل اب رشتہ جڑ ہی رہا ہے تو کسی سے شرمانے والی بات بھی نہیں ہے اسلئے میں بلا کسی تکلف کے کھا رہا ہوں آپکو کوئی اعتراض تو نہیں ہے؟ ابراہیم صاحب ہنستے ہوئے بولے ارے بیٹا اس میں برا مان نے والی کیا بات ہے یہ سب کچھ کھانے کے لئے ہی لگوایا ہے… ابراہیم صاحب نے اور چیزوں کی پلیٹیں بھی زایان کے آگے رکھی کھاؤ بیٹا تمھارا اپنا ہی گھر ہے زایان نے دانت نکالے اور سموسہ کھانے لگا حیدر صاحب نے اسے کن آکھائیوں سے گھورا تھا جس کا اسنے ذرہ برابر بھی اثر نہیں لیا تھا….

حیدر صاحب ابراہیم صاحب سے بولے نکاح سے پہلے آپ بھی ہمارے گھر آئے نہ ہمیں اچھا لگے گا…. ابراہیم صاحب اثبات میں گردن ہلاتے ہوئے بولے جی بھائی صاحب ضرور آئیں گے ویسے بھی تیاریاں اتنی جلدی کرنی ہیں تو آنا جانا تو لگا ہی رہے گا…..ناشتے وغیرہ کا سلسلہ ختم ہوا تو حیدر صاحب جانے کے لئے اٹھ گئے…. ابراہیم صاحب انھے رکنے پر اصرار کر رہے تھے لیکن حیدر صاحب نے معذرت کر لی….. عائشہ بیگم اور میراب ارحام اور بی اماں سے مل کر آئیں تو وہ لوگ گاڑی کی طرف چل دیئے،،،، شافع ابراہیم صاحب کے پاس آکر سرگوشی میں بولا چاچو میں بھی ان کے ساتھ ہی نکل جاتا ہوں…. ابراہیم صاحب نے اسے آنکھیں دکھائیں کیسی باتیں کر رہے ہو چپ چاپ یہیں کھڑے رہو کہیں نہیں جا رہے تم ابھی… شافع اصرار کرتے ہوئے بولا لیکن چاچو میں جس مقصد کے لئے آیا تھا وہ ہو گیا اب مجھے چلنا چاہیے…

ابراہیم صاحب خفا ہوتے ہوئے بولے کیا ہم تمھارے کچھ نہیں لگتے کیا ہمارے کہنے پر تم رک نہیں سکتے؟ شافع نفی میں گردن ہلاتے ہوئے بولا نہیں چاچو ایسا کچھ نہیں ہے… ابراہیم صاحب اسکی بات کاٹ کر بولے تو بس پھر خاموش رہو تم ابھی کہیں نہیں جارہے…. ابراہیم صاحب اسکی سنے بغیر آگے بڑھ گئے…

سب لوگ گاڑی کے پاس موجود ایک دوسرے سے مل رہے تھے…. زایان شافع سے بولا تم کب تک آؤ گے؟ شافع سانس کھینچتا ہوا بولا میں تو ابھی تم لوگوں کے ساتھ ہی نکلنا چاہتا تھا لیکن چاچو رکنے پر اصرار کر رہے ہیں کل تک آجاؤں گا…. زایان نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا اور شافع کے گلے لگ گیا… یہ سب تمھاری وجہ سے ممکن ہوا ہے… شافع مسکرایا، پھر الگ ہوتے ہوئے بولا بس تم نے ارحام کو خوش رکھنا ہے اب بہت عزیت اٹھائی ہے اسنے تمھاری وجہ سے تمھے اسکے ہر آنسوں کا حساب دینا پڑے گا…. زایان شرارت سے بولا ویسے میں حساب میں کچھ اچھا نہیں ہوں لیکن کوئی بات نہیں دے دوں گا حساب….. شافع بھی ہنسا نور ان دونوں کی طرف آئی زایان منہ بناتے ہوئے اسے دیکھ کر بولا ویسے کسی کام کی نہیں ہو تم، ایک ملاقات کروانے ہی تو کہا تھا وہ بھی نہیں ہوسکا تم سے… نور نے آنکھیں گھمائیں مل کر تم نے کونسا اسکے آگے پھول لے کر بیٹھنا تھا تم نے تو بس اس سے یہی باتیں کرنی تھیں کہ کھانے میں کیا بنا لیتی ہو؟ کون کون سے کھانے پسند ہیں یہ ڈش کبھی کھائی ہے؟ اسکا ٹیسٹ کیسا ہوتا ہے وغیرہ وغیرہ…. زایان دانت پیستے ہوئے اسے دیکھ کر شافع سے بولا تمھاری بیوی ہے اسی لیے کچھ نہیں بول رہا…. نور منہ بنا کر بولی ورنہ کیا کر لیتے؟؟؟ زایان آنکھیں بڑی کرتے ہوئے بولے سانپ چھوڑ دیتا میں تم پر…..

نور اسے گھورتے ہوئے فوراً پیچھے ہوئی اور دانت پیستے ہوئے آہستہ سے بولی بھکڑ،،،، ان دونوں کی لڑائی پر شافع ہنسا… سب گاڑی میں بیٹھ چکے تھے حیدر صاحب زایان کو آواز لگاتے ہوئے بولے زایان بیٹا دیر ہو رہی ہے….

زایان اثبات میں سر ہلا کر گاڑی میں بیٹھنے لگا جب اچانک اسکی نظر دور اوپر کھڑکی پر پڑی جہاں ارحام آڑ میں کھڑی تھی… جیسے ہی زایان نے اسکی طرف دیکھا وہ فوراً پیچھے ہوگئی…. زایان اسے ایک ہی نظر میں پہچان گیا تھا وہ ارحام ہی تھی اسکی مسکراہٹ گہری ہوئی…… مسکراتے ہوئے وہ گاڑی میں بیٹھ گیا اور وآپس کھڑکی کی طرف دیکھا… کھڑکی پر اب کوئی نہیں تھا اسنے گاڑی اسٹارٹ کردی اور سب کو خدا حافظ کہتے ہوئے گاڑی آگے بڑھا دی……

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ابراہیم صاحب نیچے اسٹڈی میں بیٹھے فون پر تیمور صاحب کو ارحام اور زایان کے رشتے کی اطلاع دے رہے تھے…. تیمور صاحب حیرت سے بولے زایان سے ارحام کا رشتہ؟ ابراہیم صاحب بولے جی بھائی صاحب آپکو کوئی اعتراض ہے کیا؟ تیمور صاحب نفی میں گردن ہلاتے ہوئے بولے نہیں مجھے کیا اعتراض ہوگا لیکن اماں مان گئیں اس رشتے کے لئے؟

میں نے صرف اپنی بیٹی کی خوشیوں کا سوچا ہے بھائی صاحب اب میں سب کو خوش کرنے کے چکر میں اپنی بیٹی کی خوشیوں کو نظر انداز نہیں کر سکتا نہ ویسے بھی زایان اچھا لڑکا ہے گھر والے بھی اچھے ہیں اسکے آپ تو مجھ سے زیادہ اچھے سے جانتے ہیں انھے….

تیمور صاحب اثبات میں سر ہلاتے ہوئے بولے ہاں میں جانتا ہوں اچھے لوگ ہیں وہ… ابراہیم صاحب ٹھہر کر بولے جمعے کو نکاح رکھا ہے…. تیمور صاحب کو شاکڈ لگا اس جمعے کو؟ ابراہیم صاحب بولے جی ہاں اسی جمعے کو…. تیمور صاحب بولے اتنی بھی کیا جلدی ہے تمھے اس شادی کی کہ چار دن بعد نکاح رکھ دیا. ابراہیم صاحب سانس کھینچتے ہوئے بولے بھائی صاحب دیر کرنے کی کوئی وجہ بھی تو نہیں تھی ان لوگوں کو بھی نکاح کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے دس دن بعد رخصتی رکھ دیں گے…..

تیمور صاحب تنے تیور سے بولے جب سب کچھ طے کر ہی لیا ہے تو مجھے بتانے کی بھی کیوں ذہمت کی یہ بھی نہ بتاتے…. ابراہیم صاحب بولے بھائی صاحب آپ بزنس ٹوئٹر پر ہیں آپ تو ایسے بول رہے ہیں کہ اگر میں آپ کو آنے بولتا تو آپ پہلی فلائٹ پکڑ کے آجاتے…. تیمور صاحب کی بولتی بند ہوئی،،،، اس جمعے کو نکاح ہے آپ بھابھی کو لے کر ضرور شامل ہوئے گا، مجھے خوشی ہوگی…… ابراہیم صاحب نے کال کاٹ دی، وہ کرسی سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے جب شافع وہاں آیا… اسے دیکھ کر ابراہیم صاحب مسکرائے اسکے ہاتھ میں کافی کے دو کپ تھے اسنے ایک کپ ابراہیم صاحب کی طرف بڑھایا اور مسکراتے ہوئے انکے سامنے بیٹھتا ہوا بولا میں جانتا ہوں آپ کوفی زیادہ نہیں پیتے لیکن یہ نور سے بنوائی ہے وہ بہت اچھی کوفی بناتی ہے یا شاید مجھے اچھے لگتی ہے لیکن مجھے یقین ہے آپکو پسند آئے گی….. ابراہیم صاحب نے مسکراتے ہوئے اثبات میں گردن ہلائی،،،، تمھارا بہت شکریہ بیٹا…. شافع کوفی کا گھونٹ لیتے ہوئے بولا کس چیز کے لئے؟

ابراہیم صاحب گردن ہلاتے ہوئے بولے مجھے اس بات کا احساس دلانے کے لئے ہر چیز سے زیادہ میری بیٹی کی خوشیاں اہم ہیں اگر تم مجھے نہ سمجھاتے تو شاید میں بھی خاندان اور ذات برادری کے بھنور میں پھنس کے اپنی بیٹی کی خوشیوں کو سولی پر چڑھا دیتا… شافع مسکراتے ہوئے نفی میں گردن ہلاتے ہوئے بولا یہ سب تو قسمت کے کھیل ہوتے ہیں چاچو، جو چیز جس کے لئے بنی ہوتی ہے وہ ہزار مشکلوں کے بعد بھی اسے مل ہی جاتی ہے…. اور جو چیز جس انسان کے لئے نہیں بنی تو وہ شخص چاہے زمین آسمان کیوں نہ ایک کرلے وہ اسے نہیں ملتی…

ابراہیم صاحب نے اثبات میں گردن ہلائی….. شافع نے پوچھا ارحام اب خوش ہے؟ ابراہیم صاحب مسکراتے ہوئے بولے اسکی خوشی تو اسکے چہرے سے بیاں ہورہی ہے اسکی ہنسی کو دیکھ کر لگتا ہے جیسے کتنے سالوں بعد اسے ہنستے ہوئے دیکھا ہے میں نے اور یہ سب تمھاری وجہ سے ممکن ہوا ہے بیٹا… شافع نے مسکراتے ہوئے ابراہیم صاحب کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا….،،،،،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈرائیو کے دوران زایان نے سب سے پوچھا ہاں تو بھئی اب بتائیں آپ لوگوں کو ارحام کیسی لگی؟ سب سے پہلے میراب پرجوش انداز میں زور سے بولی…. بھئی مجھے تو بھابھی بہت ہی پسند آئیں کتنی پیاری ہیں وہ٬ ارفہ بیگم بھی مسکراتے ہوئے بولی ہاں ہے تو بہت پیاری اور گھر والے بھی اچھے ہی بس مجھے بی اماں کا مزاج تھوڑا عجیب لگا،،، حیدر صاحب بولے ارے چھوڑیں ارفہ بیگم ابراہیم صاحب نے بتایا نہ انکی طبیعت ٹھیک نہیں تھی،،، حیدر صاحب زایان سے بولے ویسے ابراہیم صاحب کا مزاج تیمور صاحب سے بہت مختلف ہے وہ بہت تحمل اور خوشی سے ملنے والے انسان ہیں… زایان نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا… ارفہ بیگم مسکراتے ہوئے بولیں ویسے قسمت کے کھیل بھی نرالے ہوتے ہیں کہاں ہم صرف رشتہ لے کر گئے تھے اور آج ہی بات پکی کر کے نکاح کی تاریخ بھی طے کر لی…. حیدر صاحب مسکراتے ہوئے بولے بس ہر کام میں اللہ کی بہتری ہوتی ہے…

ارفہ بیگم نے اثبات میں گردن ہلائی جی اپنے ٹھیک کہا لیکن مجھے تو ٹینشن ہورہی ہے اتنی جلدی سب تیاریاں کیسے مکمل ہوں گی اتنی تیاریاں کرنی ہیں….. حیدر صاحب بولے سب ہو جائے گا آپ فکر نہ کریں بس آپ لوگ کل سے ہی نکاح کی شاپنگ شروع کر دیں پھر رخصتی اور ولیمے کی تیاریاں کر لیں گا….

زایان بولا بابا یہ سب تو ہوتا رہے گا پہلے یہ ڈیسائڈ کریں کہ مینیو میں کیا کیا ہو گا….. حیدر صاحب نے سر پر ہاتھ مارا یہاں ابھی کوئی تیاری ہوئی نہیں ہے ان صاحب زادے کو کھانے کی فکر پہلے لگ گئی…. میراب بولی بھائی میں سوچ رہی ہوں شادی میں پھولوں کے ہار کی جگہ کیوں نہ چاکلیٹ کے اور فرٹس وغیرہ کے ہار بنوائے جائیں….؟ زایان نے اسے منہ بنا کر گھورا تو سب کا قہقہہ بلند ہوا….

میراب پھر اسے تنگ کرنے کے لئے بولی ماما ہم نے بھابھی سے یہ تو پوچھا ہی نہیں کہ انھے کیا کیا بنانا آتا ہے؟ اگر انھے کچھ نہیں آتا ہوگا پھر تو بھائی کا گزارا انکے ساتھ بہت مشکل ہو جائے گا ہے ناں بھائی؟ زایان اسے گھورتا ہوا بولا میراب اگر ایک اور الفاظ تم نے کہا نہ تو میں اس سردی میں تمھے گاڑی سے باہر نکال کر گاڑی کی چھت سے باندھ کر لے کے جاؤں گا…. میراب بھنویں چڑھاتے ہوئے بولی ایسی میں مجھے چھت پر باندھیں گے بابا آپکی ٹانگیں نہیں توڑ دیں گے…. زایان اسے گھورتے ہوئے بولا بس جہاں تم سے خود کچھ نہیں کیا جاتا وہاں تم بابا کو بیچ میں لے آتی ہو….. ارفہ بیگم انھے دپٹتے ہوئے بولیں چپ کر جاؤ کتنا لڑو گے تم لوگ،،،،، زایان نے میراب کو منہ چڑھایا تو میراب نے بھی اسے منہ چڑھایا زایان نے ایک ہاتھ سے اسٹیرنگ ویل تھام کے دوسرے ہاتھ سے اسکے سر پر چپت لگائی…. پیچھے سے حیدر صاحب چینخھے زایان بری بات….. زایان نے ضبط سے سانس کھینچا اور ڈرائیو کرنے لگا….

شافع کمرے میں داخل ہوا، نور کمرے میں نہیں تھی،،،، جب سے وہ لوگ حویلی آئے تھے نور اور اسے ساتھ بیٹھنے کا وقت ہی نہیں ملتا تھا وہ دونوں ہی ہر وقت کسی نہ کسی کے بیچ گھیرے رہتے تھے،،،، شافع کھڑکی کے پاس آکر کھڑا ہوگیا ٹھنڈی ہوا نے جب جسم کو چھوا تو اسے سردی کا احساس ہونے لگا….. لیکن وہ وہاں سے ہٹا نہیں وہیں کھڑا رہا…….

کچھ دیر بعد نور کمرے میں آئی اسنے شافع کو کھڑکی کی طرف کھڑے دیکھا تو خود بھی وہیں آگئی کھڑکی سے کھڑے ہو کر باہر کشادہ لان کا نظارہ بہت خوبصورت لگتا تھا لیکن دن میں وہ کبھی کھڑی ہی نہیں ہو پاتی تھی لیکن اس وقت سب سوئے ہوئے تھے اسلئے وہ شافع کے سامنے آکر کھڑی ہوگئی…. اسے دیکھ کر شافع بغیر کسی تاثر کے بولا کہاں تھیں تم؟ نور باہر دیکھتے ہوئے بولی حارث جاگا ہوا تھا تو اسکے پاس تھی…. شافع کچھ نہیں بولا اور باہر دیکھنے لگا پھر ٹھہر کر بولا میں تمھے آئندہ کہیں نہیں لے کے جاؤں گا…. نور نے اچھنبے سے اسکی طرف دیکھ کر پوچھا کیوں کیا ہوا؟ میں نے کیا کیا ہے؟ شافع اسکی طرف دیکھ کر بولا تم دوسروں کو دیکھ کر مجھے بھول جاتی ہو،،،، تم بھول جاتی ہو کہ تمھارا ایک عدد شوہر بھی ہے…. نور ہنستے ہوئے بولی سب کے ایک عدد شوہر ہوتے ہیں درجن بھر تھوڑی ہوتے ہیں…. شافع سپاٹ چہرے سے بولا بات مت بدلو… تمھے میرا ذرا خیال نہیں ہے، تم سب کے سامنے مجھے نظر انداز کرتی ہو…

نور آگے ہوتے ہوئے بولی ایسی تو کوئی بات نہیں ہے میں تمھے نظر انداز کیوں کروں گی… بس ارحام اور بھابھی اتنی اچھی ہیں کہ مجھے اپنے پاس سے کہیں جانے ہی نہیں دیتیں… شافع کچھ نہیں بولا خاموشی سے باہر دیکھتا رہا،،، نور اسکا چہرہ دیکھتے ہوئے بولی ناراض ہو؟ شافع کندھے اچکا کر بولا میں کیوں ناراض ہوں گا؟ نور اسکا چہرہ بغور دیکھتے ہوئے بولی پھر یہ منہ کیوں پھیلایا ہوا ہے؟ شافع اسکی طرف دیکھے بغیر بولا پیدائشی ایسا ہے….

نور نے اپنی ہنسی دبائی،،، نہیں روز تو ایسا نہیں ہوتا بس ابھی لگ رہا ہے، شافع خاموش رہا اور اسکی خاموشی نور کو چب رہی تھی… نور اسکا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے بولی اچھا اب تو میں آگئی ہوں…. اسکا ہاتھ پکڑ کر نور کو ااحساس ہوا کہ اسکے ہاتھ ٹھنڈے برف ہو رہے تھے، نور اسکے ہاتھ سہلاتے ہوئے بولی تمھارے ہاتھ کتنے ٹھنڈے ہورہے ہیں اسنے شافع پر نظر ڈالی تو فکر مندی سے بولی شافع اتنی سردی ہورہی ہے اور تم بغیر کسی جیکٹ یا شال کے یہاں کھڑے ہو ہوا بھی چل رہی ہے…. نور اسے کھڑکی سے ہٹانے کے لئے کھینچنے لگی تو شافع اپنا ہاتھ چھڑاتے ہوئے بولا تو تمھے کیا فرق پڑتا ہے….

نور نے اسے گھورا نور کو اندازہ ہوا تھا وہ ناراض تھا،،، اسکا حق تھا ناراض ہونے کا،،، نور کا فرض تھا اسے منانا۔۔۔۔ جب شافع کھڑکی پر سے نہیں ہٹا تو نور الماری کی طرف گئی اور ایک مردانہ شال نکال کر لے آئی… اسنے پیچھے سے وہ شال شافع کے کندھوں کے گرد پھیلائی… شافع نے کندھے اچکا کر شال ہٹا دی…..

نور نے پہلے اسکی طرف دیکھا وہ نور کی طرف نہیں دیکھ رہا تھا اسنے بغیر کچھ کہے شال وآپس اسکے کندھے پر ڈالی شافع نے پھر شال ہٹا دی….. نور نے اسے گھورا اور پھر دوبارہ شال اسکے کندھے پر ڈالی،،، شافع نے دوبارہ ہٹا دی…… نور نے ایک بار پھر شال اسکے کندھوں کے گرد ڈالی اس سے پہلے کے شافع شال ہٹاتا نور نے اسکے دونوں ہاتھ پکڑ لئے…. شافع نے اسکی طرف دیکھا تو نور اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی ٹھنڈ لگ جائے گی….

شافع نے نظریں پھیر لیں، اور ہاتھ چھڑا کر صوفے پر آکر بیٹھ گیا…. نور پیچھے سے بولی ناراض کیوں ہو یہ تو بتا دو؟ شافع کندھے اچکا کر بولا میں کوئی ناراض نہیں ہوں تم جا کر حارث کو سنبھال لو…. نور کھڑکی کی طرف کھڑے ہی بولی تم اس بچے سے کیوں جل رہے ہو اتنا؟ شافع نے نظریں اٹھا کر اسکی طرف دیکھا کس نے کہا کہ میں جل رہا ہوں، میں ایک بچے سے جلوں گا کیا؟

نور مسکرائی اور خاموشی سے بیڈ پر آکے بیٹھ گئی،،،، شافع سامنے صوفے پر بیٹھا موبائل دیکھ رہا تھا، اسکی خاموشی نور کو بری طرح کاٹ رہی تھی۔ ۔ ۔ ۔ کافی دیر بعد بھی جب شافع نے نور سے کوئی بات نہیں کی تو نور بولی…. تم کچھ بول کیوں نہیں رہے؟ شافع اسکی طرف دیکھے بغیر بولا کیونکہ میرے پاس کوئی بات نہیں ہے کرنے کو….. شافع نے اسے وہی جواب دیا تھا جو وہ اکثر شافع کو دیا کرتی تھی اور اسے آج اندازہ ہورہا تھا کہ یہ جملہ سننے میں کتنا عجیب لگ رہا تھا…..

کچھ دیر بعد نور بات کرنے کے بہانے سے بولی ارحام بہت خوش ہے… شافع نے کچھ کہنے کے بجائے اثبات میں گردن ہلا دی….. نور پھر بولی ارفہ آنٹی کو ارحام بہت پسند آئی تھی. بہت خوش لگ رہی تھیں وہ،،، شافع نے کوئی تاثر نہیں دیا اپنا موبائل دیکھتا رہا….

نور بے چینی سے ناخن کترتے ہوئے سوچنے لگی یہ تو کسی بھی طرح بات نہیں کر رہا…. نور دوبارہ کچھ بولنے والی تھی لیکن اسکے کچھ بولنے سے پہلے شافع صوفے پر سے اٹھا اور بیڈ پر آکے اپنی طرف کا لیمپ آف کیا اور آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر سیدھا ہوکر لیٹ گیا…. نور نے اسکی طرف دیکھا،،، شافع آنکھوں پر سے ہاتھ ہٹائے بغیر بولا نور لیمپ آف کردو مجھے سونا ہے….. نور کچھ دیر ایسی بیٹھی رہی اور لیمپ آف کرنے کے بجائے اپنا سر شافع کے سینے پر رکھ کر لیٹ گئی….

نور کو پتا تھا شافع چاہے کتنا بھی ناراض کیوں نہ ہو وہ اپنے سینے پر سے اسکا سر نہیں ہٹائے گا…. شافع نے حیرت سے آنکھوں پر سے ہاتھ ہٹا کر اسکی طرف دیکھا لیکن نور کےچہرے کا رخ دوسری طرف تھا… شافع ہلکا سا مسکرایا، اسنے اپنی آنکھیں بند کیں کچھ دیر وہ اسی طرح لیٹا رہا،،،، لیکن نور اسکے اتنے قریب ہو اور وہ بے سدھ سا لیٹا رہے یہ تو ناممکن سی بات تھی… اسنے آہستہ سے نور کے سر پر ہاتھ رکھا اور اسکے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوئے بولا…. “ایسے مت کیا کرو یار مجھے تم سے عشق ہو جائے گا”….

نور مسکرائی،،،، اور اسکے سینے پر سے سر اٹھائے بغیر بولی، “تو ہو جانے دو” شافع کی مسکراہٹ گہری ہوئی…. اسنے اپنے دونوں بازو اسکے گرد پھیلائے٬ مجھے تو تم سے عشق بھی ہو جائے گا لیکن تمھے مجھ سے محبت کب ہوگی…. نور اپنے سر پر موجود اسکا ہاتھ پکڑتے ہوئے بولی محبت تو ہو ہی جائے گی لیکن “اظہارِ محبت مشکل ہے” شافع مسکراتے ہوئے بولا مطلب محبت ہو جائے گی لیکن اظہار کبھی نہیں کرو گی؟ نور اسے تنگ کرنے کے لئے بولی ہاں کچھ ایسا ہی ہے…..

شافع بھی اسے تنگ کرنے کے لئے بولا میرے مرنے پر بھی اظہار نہیں کرو گی؟ نور نے ایک جھٹکے سے اپنا سر اسکے سینے سے ہٹھایا… اور غصے سے اسکی طرف دیکھنے لگی کیا فالتو باتیں کر رہے ہو تم…. شافع ہنستے ہوئے بولا میں تو بس ایک بات کر رہا تھا….. نور بیڈ سے اترتے ہوئے بولی ٹھیک ہے تو تم کر لو میں چلی جاتی ہوں….. شافع نے اٹھ کر اسکا ہاتھ پکڑا اچھا اچھا یار میں تو بس ایسی تمھے تنگ کر رہا تھا…. میں نے کہاں جانا ہے تمھے چھوڑ کے…. نور اسکا کالر سختی سے پکڑتے ہوئے بولی ایسا کبھی سوچنا بھی مت….

شافع اسکا گال اپنے انگھوٹے سے سہلاتا ہوا بولا،،،، پر شرط یہ ہے کہ ساتھ نبھانا پڑے گا۔ ۔ ۔ ۔ نور براہ راست اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی ساتھ نبھانے کے لئے ہی ساتھ چلی ہوں،،،، شافع مسکرایا اور اسے ذچ کرتے ہوئے بولا….. تو پھر کہو کہ تمھاری آنکھوں میں مجھے جو محبت دیکھ رہی ہے وہ سچ ہے، نور نے نظریں جھکائیں پھر دوبارہ اسکی طرف دیکھ کر بولی I شافع بے تابی سے بولا ہاں آگے؟ نور نے اپنی ہنسی دبائی پھر روانی سے بولی I hate you shafay

شافع نے پہلے سپاٹ چہرے سے اسے دیکھا پھر ایک قہقہہ لگاتے ہوئے اسکے کندھے پر ماتھا ٹکاتے ہوئے بولا I love you too Mrs Shafay نور نے اسکے ہاتھوں میں ہاتھ دیا اور ہنس دی….

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔صبح ہوتے ہی زایان کے گھر میں شادی کی تیاریاں شروع ہو گئی تھیں…. دوسری طرف حویلی میں بھی کچھ ایسا ہی ماحول تھا،،،دوپہر کے کھانے کے بعد نور اور شافع کا نکل جانے کا اردہ تھا ناشتے کے بعد نور ارحام کے ساتھ تھی جبکہ شافع حویلی میں نہیں تھا….

شافع اپنی ماں کی قبر پر آیا ہوا تھا وہ حویلی بیشک نہیں جاتا تھا لیکن اپنی ماں کی قبر پر ضرور آتا تھا وہ جب بھی آتا تھا اپنی ماں کی قبر سے لپٹ کر بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر روتا لیکن آج پہلی بار ایسا ہوا تھا جب شافع رو نہیں رہا تھا اسنے قبر پر پھول ڈالے اور فاتحہ پڑھنے کے بعد وہ گردن جھکائے قبر کی طرف دیکھ رہا…. اسنے اپنا دائیں ہاتھ قبر پر رکھا اور پھر آہستہ سے بولا…..

آپ حیران ہونگی کہ آج میں رو نہیں رہا لیکن میں جانتا ہوں آپ حیران ہونے سے زیادہ خوش ہونگی کیونکہ آپ خواب میں بھی ہمیشہ مجھے رونے سے منا کرتی تھیں،،،، لیکن جب خوش ہونے کی بھی کوئی وجہ نہیں تھی،،، لیکن اب ہے “آئے نور” نور کا نام لیتے ہی اسکے چہرے پر مسکراہٹ پھیلی تھی…. میں بہت محبت کرتا ہوں اس سے ماما اسکے لفظوں میں بھی محبت تھی….

اور مجھے پتا ہے وہ بھی مجھ سے بہت محبت کرتی ہے لیکن اظہار نہیں کرتی شاید ڈرتی ہے کسی بات سے لیکن میں جانتا ہوں وہ مجھ سے محبت کرتی ہے میری پرواہ کرتا ہے….. اگر ایک منٹ کے لئے بھی میں اسکی آنکھوں سے اوجھل ہو جاؤں نہ تو پنجرے میں قید پنچھی کی طرح پھڑ پھڑا جاتی ہے وہ…. وہ بہت اچھی ہے ماما لیکن اسکے ہاتھ بھی میری طرح رشتوں سے خالی ہیں… لیکن میں سب ٹھیک کر دوں گا میں اسے اسکے بابا سے ملواؤں گا ان کے بیچ سب ٹھیک ہو جائے گا….

وہ بہت ٹھہر ٹھہر کر بول رہا تھا…. میں اسے آپکے گھر لے کے جاؤں گا جہاں آپ رہتی تھیں پہاڑوں اور دریا کے بیچ موجود وہ خوبصورت وادی جہاں آپ رہتی تھیں… آپ کو تو پتا ہے میں وہاں جاتا رہتا ہوں لیکن میں اس بار اسے ساتھ لے کر جاؤں گا…. وہ ساتھ ہوتی ہے تو سکون رہتا ہے وہ دور ہوجاتی ہے تو جیسے ہر چیز بے معنی لگتی ہے….

ناجانے اس سے اتنی محبت کب ہوگئی کہ اسکے بغیر ایک لمحہ جینے کے تصور سے بھی خوف آتا ہے…. اس سے دور ہونے کا خیال کبھی ذہن میں آتا ہے تو میری روح تک کانپ جاتی ہے،،، اس سے دوری مجھے برداشت نہیں ہے ماما اور نہ وہ مجھ سے دور رہ پاتی ہے،،، کہتی ہے کہ محبت نہیں کرتی لیکن میں جانتا ہوں وہ مجھ سے محبت کرتی ہے بس اظہار نہیں کرتی….

ناجانے وہ کب سے یوں ہی بیٹھا باتیں کر رہا تھا جیسے اسکی ماما سامنے بیٹھی اسکی باتیں سن رہی ہوں….

اسکا موبائل بجا،،، شافع کا تسلسل ٹوٹ گیا… اس نے جیب میں سے موبائل نکالا،،،، نور کا فون تھا، اسنے مسکراتے ہوئے قبر کی طرف دیکھا اسی کا فون ہے میں نے کہا تھا نہ میرے بغیر ایک منٹ نہیں رہ سکتی…. میں چلتا ہوں اب پھر آؤں گا…

شافع کھڑا ہوا اور چند منٹ قبر کو یوں ہی دیکھنے کے بعد وہ قبرستان سے باہر نکل آیا،،، گاڑی کے پاس آکر اسنے کال ریسیو کی…. دوسری طرف سے نور کی آواز آئی شافع کہاں ہو تم کب سے گئے ہوئے ہو؟ شافع گاڑی میں بیٹھتے ہوئے بولا قبرستان آیا تھا ماما کی قبر پر…..

نور دھیمی آواز میں بولی اوہ اچھا پھر کب تک آؤ گے؟ شافع گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے بولا بس آرہا ہوں تم نے بیگ پیک کر لیا؟ ہم لنچ کے فوراً بعد نکل جائیں گے… نور نے اثبات میں سر ہلایا ہاں کر لیا ہے پیک… شافع مسکرایا ٹھیک ہے پھر فون رکھو میں آرہا ہوں…. نور نے مسکراتے ہوئے فون کاٹ دیا

_______________________________________

شافع ابراہیم صاحب کے ساتھ اندر بیٹھا تھا کچھ دیر میں انھے نکلنا تھا…. نور ارحام کے ساتھ باہر لان میں تھی لیکن عائشہ بیگم نے کسی کام سے ارحام کو اندر بلا لیا تھا اسلئے نور اکیلی ہی وہاں چہل قدمی کر رہی تھی ہر طرف سبز رنگ جو آنکھوں کو سکون پہنچا رہا تھا…. نور نے اپنے کندھوں کے گرد پھیلی چادر آگے کو کی اور لان میں لگے پیڑوں کو دیکھنے لگی…….

دور سے ہی اسے ایک کالے رنگ کی گاڑی حویلی میں داخل ہوتی ہوئی نظر آئی نور نے دل میں سوچا کون آیا ہوگا… نور آگے کی طرف آئی گاڑی دروازے سے اندر آکر کچھ فاصلے پر رک گئی تھی…. نور وہیں کھڑی ہو کر گاڑی میں سے نکلنے والے شخص کو دیکھنے لگی…. سب سے پہلے ملازم نے گاڑی کے پیچھے سے بیگ نکالا تھا گاڑی میں آنے والا شخص ابھی بھی گاڑی سے باہر نہیں نکلا تھا ملازم بیگ نکالنے کے بعد گاڑی میں بیٹھے شخص سے کوئی بات کر رہا تھا…. ملازم نے گاڑی کا دروازہ کھولا گاڑی میں سے ایک نوجوان شخص باہر نکلا اسنے نیلے رنگ کی جینز پر سفید رنگ کی ٹی شرٹ پہنی ہوئی تھی اور آنکھوں پر گلاسیز تھے نور نے اس شخص کو حیرت سے دیکھا اور پہچاننے کی کوشش کرنے لگی،،، جیسے ہی اس شخص نے آنکھوں سے گلاسیز ہٹائے نور ایک جھٹکے سے پیچھے ہوئی اور پیڑ سے ٹکرا گئی…. نور نے اپنے پیچھے موجود پیڑ کو تھاما اور بے یقینی سے اس شخص کو دیکھنے لگی…. اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا،،، ماضی کے تلخ واقعات آنکھوں کے سامنے گھومنے لگے، وہ حواس کھو رہی تھی…. اس شخص کی نظر نور پر نہیں پڑی تھی وہ اندر کی طرف بڑھنے لگا….

نور تیزی سے مڑی اور اندر کی طرف بھاگی اندر پہنچنے سے پہلے ہی وہ شافع سے ٹکرا گئی،،،، شافع اسی کے پاس آرہا تھا اسکا سر شافع کے سینے پر لگا تھا شافع نے پریشانی سے اسکا سر تھاما اور اسکے کھوئے ہوئے حواس دیکھ کر بولا کیا ہوا ہے تمھے اتنی گھبرائی ہوئی کیوں ہو؟ نور کا چہرہ زرد پڑھ رہا ہاتھوں میں کپ کپاہٹ تھی… نور ہکلاتے ہوئے بولی وہ……… وہ…. ادھر وہ لڑکا…. نور کا جملہ مکمل ہونے سے پہلے ہی نور کو اپنے عقب میں کسی کی آواز سنائی دی….. شافع؟ کیسے ہو تم؟ نور کا حیرت کا جھٹکا لگا،،،، وہ لڑکا مسکراتے ہوئے شافع کی طرف دیکھ رہا تھا نور نے آہستہ سے گردن موڑی….. اس لڑکے کی نظر جیسے ہی نور پر پڑی اسکی مسکراہٹ ایک سیکنڈ میں اڑ گئی…..

وہ لڑکا بے تاثر کھڑا تھا شافع اسکے تاثرات پر غور کئے بغیر اسکے گلے لگا….. “گوہر کیسے ہو تم؟” لیکن گوہر بنا پلکھیں جھپکائے سکتے کے عالم میں نور کو دیکھ رہا تھا…. شافع اس سے الگ ہوا اسکی نظر نور پر دیکھی تو مسکراتے ہوئے بولا “میری بیوی ہے یہ آئےنور” گوہر نے بے یقینی سے شافع کی طرف دیکھا تمھاری بیوی ہے؟ گوہر کو اپنی آواز کھائی میں سے آتی ہوئی محسوس ہوئی…. شافع نور کی طرف دیکھ کر بولا یہ گوہر ہے ابراہیم چاچو کا بیٹا…. نور نے شافع کی طرف دیکھا٬ نور کی نظروں سے شافع کو کچھ الجھن ہوئی…. اسنے گوہر کی طرف دیکھا اسکے بھی کچھ ایسے ہی تاثرات تھے…. شافع نے فکرمندی سے نور سے پوچھا کیا ہوا ہے؟ نور نے پہلے گوہر کی طرف دیکھا پھر شافع کی طرف دیکھ کر پوچھا “یہ گوہر ہے؟” شافع نے اثبات میں سر ہلایا ہاں تم پہلے سے جانتی ہو کیا؟ نور کے کچھ بولنے سے پہلے گوہر آگے آتے ہوئے ہکلا کر بولا،،، میں………. میری بات سنو شافع،،،،، شافع نے گوہر کی طرف دیکھا اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا ہوا ہے…..

شافع گوہر کی بات سننے کے بجائے نور کی طرف دیکھ کر بولا نور کیا ہوا ہے بتاؤ مجھے….

گوہر شافع کا ہاتھ پکڑتے ہوئے بولا شافع میں…. میری بات سنو میں بتاتا ہوں سب…. اسکے کچھ کہنے سے پہلے نور گوہر کی طرف دیکھتے ہوئے بولی “میرا کڈنیپ اسنے کروایا تھا شافع”….. شافع کو اپنے آگے پیچھے دھماکے ہوتے ہوئے محسوس ہوئے….. گوہر کو چپکی لگی شافع نے نور کی طرف دیکھا پھر بے یقینی سے گوہر کی طرف،،،، اسنے کروایا تھا تمھارا کڈنیپ؟ شافع کو الفاظ ادا کرنا مشکل لگا…. نور کی آنکھوں سے آنسوں جاری ہوئے، اسنے اثبات میں سر ہلایا….. شافع نے مٹھیاں بھینچ کر ضبط سے ایک لمبا سانس کھینچا…. اور ایک زور دار مکا گھما کر گوہر کے منہ پر رسید کیا…. نور نے ڈر سے منہ پر ہاتھ رکھا گوہر اس وار کے لئے بالکل تیار نہیں تھا اسلئے ایک جھٹکے سے پیچھے زمین پر جا گرا…

لیکن اسنے بغیر کسی غصے سے کہا ایک بار میری بات سن لو شافع….. لیکن شافع کے سر پر خون سوار ہوگیا تھا اسنے اسکا گریبان پکڑتے ہوئے اٹھایا اور ایک اور مکا اسکے منہ پر مارا گوہر کے ہونٹ میں سے خون رسنے لگا…. نور تیزی سے شافع کی طرف بڑھی شافع نے اسکا ہاتھ جھٹک کر اسے پیچھے کیا…. اور گوہر کے منہ پر تھپڑ مارتے ہوئے بولا تم اتنا کیسے گر سکتے ہو کہ ایک لڑکی کی زندگی سے کھیلو… شافع نے ایک اور بار اسکے منہ پر گھونسا مارا لیکن گوہر نے اس پر پلٹ کے وار نہیں کیا تھا،،، نہ ہی وہ خود کو اس سے بچانے کی کوشش کر رہا تھا….

نور نے شافع کا بازو پکڑا، اور روتے ہوئے بولی اسے چھوڑ دو پلیز شافع…. شافع نے اسکا ہاتھ جھٹکا اور جنونی انداز میں گوہر کو مارتے ہوئے بولا تمھاری وجہ سے اسے کن کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے کچھ اندازہ ہے تمھے تمھاری وجہ سے اسے لوگوں کی گھٹیا باتیں سننی پڑیں، تمھاری وجہ سے یہ تیز بارش میں آدھی رات کو سڑکوں کی خاک چھانتی رہی، تمھاری وجہ سے اسے اپنوں کی ہی نظروں میں گرنا پڑا، تمھاری وجہ سے اسے اپنے بابا کی نظروں میں نفرت دیکھنی پڑی آخر تم اتنا کیسے گر سکتے ہو…. شافع نے اسے ایک اور گھونسا مارا وہ پیچھے زمین پر جا گرا اسکے گال میں سے بھی اب خون نکل رہا تھا…. نور مسلسل اسے روکنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن شافع اسکی ایک نہیں سن رہا تھا،،،،

وہ نیچے گر گیا تو شافع اسے پھر مارنے کے لئے جنونی انداز میں نیچے جھکا اسنے مارنے کے لئے ہاتھ اٹھایا تھا….. نور فوراً اسکے آگے آئی اور اسکا ہاتھ مضبوطی سے پکڑتے ہوئے چینخ کر بولی “تمھے میری قسم ہے شافع چھوڑ دو اسے اسطرح مارو گے تو مر جائے گا یہ” شافع کا ہاتھ ہوا میں ہی رک گیا….. اتنے میں اندر سے ابراہیم صاحب، شہزاد اور باقی سب بھی بھاگتے ہوئے باہر آئے……

ابراہیم صاحب نے فوراً شافع کو گوہر سے دور کیا…. شہزاد گوہر کی طرف بڑھا اسکے منہ پر جگہ جگہ سے خون رس رہا تھا…. عائشہ بیگم روتے ہوئے گوہر کے پاس بیٹھیں اور اسے سہارا دے کر بٹھایا پھر غصے سے شافع کی طرف دیکھ کر بولیں،،، پوچھیں اس سے کیوں مارا ہے اسنے میرے بیٹے کو اتنا آخر کس بات کی دشمنی نکالی ہے اسنے،،، نور مسلسل رو رہی تھی اسنے ابھی بھی شافع کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا…. شافع کے سر پر خون سوار تھا…. ابراہیم صاحب پریشانی سے بولے آخر کیا ہوا ہے تم دونوں کے بیچ ایسا،،،، جو تم نے اس قدر اسے مارا ہے شافع…. شافع کھڑے ہوتے ہوئے چینخ کر بولا پوچھیں اپنے بیٹے سے،،،، پوچھیں اس سے کے کیا کرتا پھرا ہے یہ پوچھیں اس سے کے کس طرح ایک لڑکی کی زندگی برباد ہوتے ہوتے بچی ہے اسکے ہاتھوں میرا بس چلے تو میں اسے ابھی اور اسی وقت جان سے مار دوں…. نور نے شافع کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے پیچھے کیا…. نور روتے ہوئے بولی پلیز شافع خاموش ہو جاؤ…. پلیز….

شافع نے نور کی طرف دیکھا وہ بری طرح رو رہی تھی،،،، شافع نے اسکا ہاتھ پکڑا اور اسے وہاں سے لے جاتے ہوئے بولا چلو ہم ابھی اسی وقت یہاں سے جارہے ہیں…. شافع نور کا ہاتھ پکڑ کر اسے وہاں سے لے جانے لگا تو گوہر شہزاد کا سہارا لے کر اٹھتے ہوئے بولا شافع تم میری بات سنے بغیر نہیں جاسکتے دھوکا میرے ساتھ بھی ہوا ہے تکلیف میں میں بھی مبتلہ ہوں،،، وہ سب جانے انجانے میں ہوا،،، تم میری بات تو سنو…. وہاں سب ہی حیران اور پریشان کھڑے تھے،،، ابراہیم صاحب الجھتے ہوئے بولے آخر یہ سب ہو کیا رہا ہے کوئی بتائے گا مجھے؟؟؟

شافع مڑ کر خونخوار نظروں سے گوہر کی طرف دیکھتے ہوئے بولا میں نور کے کردار پر ایک آنچ نہیں آنے دوں گا، اور یہاں نور کی بات کا یقین کرنے والا کوئی نہیں ہوگا اسلئے میں تم سے کوئی بات نہیں کرسکتا…. شافع جانے کے لئے مڑا تو گوہر بولا میں گواہی دوں گا نور کی پاک دامنی کی آخر سب کچھ میری وجہ سے ہوا ہے تو سب کو یقین بھی میں ہی دلاؤں گا…. لیکن تم ایک بار تسلی سے میری بات تو سنو…. شافع منہ پھیر کر نور کو وہاں سے لے کر جانے لگا تو نور نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے روکا…. شافع نے مڑ کر اسکی طرف دیکھا…. “پلیز ایک بار اسکی بات سن لو کہ وہ کیا کہنا چاہتا ہے، شافع نے گردن جھکائی تو نور اسکا ہاتھ مضبوطی سے تھامتے ہوئے بولی میری خاطر….. شافع نے ایک لمبا سانس کھینچا…اور ضبط سے بولا ٹھیک ہے.

_________________________________

سب لوگ لاؤنج میں موجود تھے وہ لوگ جب لاؤنج میں آئے تو بی اماں اپنے کمرے سے نکل کر آئیں اور گوہر کی ایسی حالت دیکھ کر اسکی طرف بڑھی اور والہانہ انداز میں اسکا چہرہ تھامتے ہوئے بولیں ارے یہ کیسے ہوا،کس نے یہ سب کیا ہے میرے بچے کے ساتھ…..میں ٹھیک ہوں دادو کچھ نہیں ہوا ہے مجھے گوہر نے انھے اطمینان دلاتے ہوئے صوفے پر بٹھایا…. بی اماں سب کے تاثرات دیکھتے ہوئے بولیں آخر کیا ہوا ہے تم سب کے چہرے ایسے کیوں لٹکے ہوئے ہیں…. گوہر بولا آپ لوگ بیٹھ جائیں میں سب بتاتا ہوں….. سب بیٹھ گئے لیکن شافع کھڑا رہا تو گوہر اس سے بولا شافع تم بھی بیٹھ جاؤ مجھے امید ہے کہ تم میری بات تسلی سے سنو گے اور سمجھو گے بھی…. شافع نور کے برابر میں بیٹھ گیا….

گوہر نے ایک نظر سب پر ڈالی پھر ایک سانس کھینچتے ہوئے اپنی بات کا آغاز کیا……

“ایک لڑکی تھی……انٹرنیٹ کے ذریعے میری اس سے بات چیت شروع ہوئی تھی، اسکا نام نور تھا یا یہ کہہ لیں کہ اسنے مجھے اپنا نام نور ہی بتایا تھا کچھ دنوں بعد ہماری بات چیت ملاقات کی طرف بڑھ گئی میں جب بھی پاکستان آتا تھا اس سے جا کر ملتا تھا…. بی اماں تنک کر بولیں کون لڑکی؟ ابراہیم صاحب برہم ہوتے ہوئے بولے اماں اسے بات مکمل تو کرنے دیں… بی اماں چپ ہوگئیں….

گوہر نے دوبارہ بات کا آغاز کیا وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میری اس میں دلچسپی بڑھنے لگی، اسنے مجھے کبھی کہا نہیں تھا لیکن……. لیکن اسکے رویے سے مجھے یقین تھا کہ وہ بھی مجھ سے محبت کرتی ہے میں اسے کافی گفٹس وغیرہ بھیجتا تھا میں جب پاکستان آتا تو اس سے ملتا بھی تھا وہ جانتی تھی میں اسکے بارے میں کس حد تک سنجیدہ ہوں لیکن اسنے پھر بھی مجھے دھوکا دیا، ہماری چند مہینے کی بات چیت کے بعد میں نے اس سے محبت کا اظہار کر دیا اسنے میرے اظہار کے جواب میں نہ اظہار کیا اور نہ ہی انکار بس بات چیت کم کر دی مجھے اسکا رویہ عجیب لگنے گا وہ مجھ سے ٹھیک سے بات نہیں کرتی تھی میرے میسجز کا جواب نہیں دیتی تھی وہ مجھے نظر انداز کر رہی تھی…. مجھے لگا اسے کچھ وقت چاہیے ہوگا لیکن کچھ دنوں بعد جب میں نے اسے کال کی تو اسنے کال اٹھا لی….

اسنے مجھ سے کہا کہ اسکی شادی ہورہی ہے اور شادی کے فوراً بعد ہی وہ پاکستان سے باہر چلی جائے گی،،،، مجھے حیرت ہوئی میں نے جب اس سے کہا کہ تم تو مجھ سے محبت کرتی ہو تو وہ ہر طرح سے مقرر گئی بیشک اسنے کبھی اظہار نہیں کیا تھا لیکن زبان سے اظہار کرنا ہی تو سب کچھ نہیں ہوتا، لیکن شاید میں اسکی وقت گزاری کو محبت سمجھ بیٹھا تھا…. اسنے مجھ سے کہا کہ اسنے مجھ سے کبھی محبت کی ہی نہیں….. اسنے بیشک مجھ سے محبت نہیں کی تھی لیکن میں تو اپنی محبت میں سنجیدہ تھا، میں نے اسکی بہت منت سماجت کیں لیکن وہ تو مجھ سے اسطرح بات کر رہی تھی جیسے مجھے جانتی ہی نہ ہو…..

میں اسے کسی بھی طرح پانا چاہتا تھا اور جب مجھے احساس ہوا کہ وہ مجھ سے محبت نہیں وقت گزاری کر رہی تھی تب میری محبت ضد میں بدل گئی میں نے بھی ٹھان لیا کہ میں اسے اپنا بنا کر ہی رہوں گا میں نے اس پر نظر رکھوانی شروع کر دی، اس دوران میں اسی سلسلے میں پاکستان آیا ہوا تھا میرا سمسٹر بریک نہیں تھا، گوہر نے سب سے نظریں چرائیں… جو دن اسنے اپنی شادی کا بتایا تھا اس دن میرے آدمیوں نے اسے پارلر جاتے ہوئے دیکھا تھا…. انھوں نے مجھے بتایا تو میں نے انھے کہا،،، کہ وہ جب نکلے تو اسے کڈنیپ کر لیں……

گوہر سانس لینے کے لئے رکا…. ابراہیم صاحب نے تنے تیور سے پوچھا پھر……؟ گوہر نے نظریں جھکائیں اور ہونٹ کانٹتے ہوئے بولا میں کڈنیپ کر کے اس سے نکاح کرنا چاہتا تھا….. بی اماں نے چینختے ہوئے منہ پر ہاتھ رکھا تو اب تم یہ کام بھی کرنے لگے ہو….. گوہر کی گردن مزید جھک گئ….. شافع سپاٹ چہرے سے بولا جب تمھارے آدمیوں نے اس لڑکی کو جاتے ہوئے دیکھا تھا تو پھر نور کو کیسے کڈنیپ کر لیا؟

انھوں نے مجھے بعد میں بتایا تھا کہ جو چادر اسنے پہن رکھی تھی بالکل ویسی ہی چادر باہر آتے ہوئے تمھاری نور نے پہن رکھی تھی، اور گھونگھٹ بھی کر رکھا تھا… پھر کسی لڑکی نے اسے نور کہہ کر پکارہ بھی تھا،،، اسلئے ان لوگوں کو لگا تمھاری بیوی ہی وہ لڑکی ہے جسے میں نے کڈنیپ کرنے کو کہا تھا،،،،

وہ لوگ جب نور کو بے ہوش کر کے لے آئے اور نور کا چہرہ دیکھا تو ان لوگوں کو شک ہوا کہ شاید یہ وہ لڑکی نہیں ہے، لیکن اس دوران میرا موبائل بھی کھویا ہوا تھا اسلئے اس لڑکی کی کوئی تصویر میرے پاس نہیں تھی جو ایک تصویر تھی اس میں چہرہ صحیح طرح واضح نہیں تھا،،، لیکن پھر انہوں نے سوچا کہ شاید میک اپ کی وجہ سے الگ لگ رہی ہوگی… اگر میں وہاں جلدی پہنچ جاتا تب بھی شاید معاملہ سنبھل جاتا لیکن مجھے تم نے فون کر کے کیفے بلا لیا تھا ملنے کے لئے اور میں تمھے منا نہیں کر سکتا تھا کیونکہ اسی رات کی میں نے ٹکٹ بھی لے رکھی تھیں، مجھے وآپس چلے جانا تھا…. تمھارے پاس سے جب میں جانے لگا تو بارش کی وجہ سے راستے میں گاڑی خراب ہوگئی اور موبائل نیٹ ورک بھی ٹھیک طرح کام نہیں کر رہے تھے، میں گاڑی صحیح کروانے لے کر گیا وہاں مجھے دو ڈھائی، گھنٹے لگ گئے…..

پھر میں جب وہاں پہنچا تب میں خود شاکڈ ہوگیا تھا….. مجھے ان آدمیوں پر بہت غصہ آیا، میرا دل کر رہا تھا کہ میں زمین آسمان ایک کر دوں،،، جو کچھ ہوا جانے انجانے میں ہوا لیکن میں جانتا ہوں میری وجہ سے نور کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہوگا میں جانتا ہوں کہ میں نے غلط کیا مجھے نور کو اکیلے جانے نہیں دینا چاہیئے تھا لیکن اس وقت میں خود بہت پریشان تھا مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا،،،،

شافع دانت پیستے ہوئے بولا تمھے اندازہ ہے کہ اگر اس رات نور مجھے نہ ملتی اور اگر اسکے ساتھ کچھ ہوجاتا تو….. گوہر گردن جھکاتے ہوئے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیر کر بولا میں بہت شرمندہ ہوں اس سب کے لئے میں جانتا ہوں میری شرمندگی سے کچھ بدل نہیں سکتا،،، لیکن اس واقعے کے بعد میں ایک رات چین سے نہیں سو سکا میرے دل میں ہر وقت ایک پھانس سی پھسی رہتی تھی کہ ناجانے نور کے ساتھ کیا ہوا ہوگا…..

شافع نے اس سے پوچھا تم نے میری اور نور کی وائرل ہونے والی تصویریں دیکھی تھیں؟ گوہر نے نفی میں سر ہلایا تمھاری شادی کے بارے میں نے سنا تھا لیکن میں اتنا مینٹلی ڈسٹرب تھا کہ کسی چیز پر غور ہی نہیں کر سکا دن با دن میرے اندر لاوا بھر رہا تھا مجھے میرا ضمیر چین سے جینے ہی نہیں دے رہا تھا،،،، میں امریکہ میں دو دو دن بغیر سوئے گزار دیتا تھا یہ سوچ سوچ کے،،، کہ ایک لڑکی کے چکر میں نے شاید ایک معصوم لڑکی کی زندگی برباد کر دی،،،، شافع سانس کھینچتے ہوئے بولا غلط تو تم نے کیا ہے ہماری وائرل ہونے والی تصویریں اسی رات کی تھیں،،،، سب نے حیرت سے شافع کی طرف دیکھا کیونکہ وہاں سب یہی سمجھتے تھے کہ وہ تصویریں تاشفہ نے شافع کو پریشان کرنے کے لئے چلوائی ہیں،،، اور ان تصویروں کی وجہ سے نور کی ماما کو ہارٹ اٹیک آیا تھا جس کی وجہ سے شافع کو یوں اچانک نور سے نکاح کرنا پڑا….

شافع سانس کھینچتا ہوا بولا اس رات جب گوہر مجھ سے مل کر گیا تو میں دیر رات تک کیفے میں ہی تھا،،، نور بولی جبھی میں نے نیم بیہوشی میں گوہر کے منہ سے تمھارا نام سنا تھا،،، وہ شاید اپنے دیر سے آنے کی وجہ بتا رہا تھا، تبھی اسنے تمھارا نام لیا تھا،،، گوہر نے اثبات میں گردن ہلائی،،،

شافع پھر سے بولا جب میں گھر جانے کے لئے نکلا تو راستے میں اچانک نور میری گاڑی کے آگے آگئی،،،، اس رات بارش بھی بہت ہورہی تھی نور نیم بیہوشی کی حالت میں تھی میں اسے اٹھا کر گاڑی میں بٹھا رہا تھا جب کسی نے ہماری تصویریں لیں اور وہ تصویریں تاشفہ کے کہنے پر لی گئی تھیں،،، اور پھر ان تصویروں کو چینل پر اپنے حساب سے مرچ مصالحہ لگا کر دیکھایا گیا…. اور یہ سب کس کی وجہ سے ہوا تمھاری وجہ سے گوہر…. تم ایک منٹ کے لئے بھی سوچ سکتے ہو کہ اگر اس دن نور مجھے نہ ملتی اور کسی غلط انسان کے ہاتھ لگ جاتی تو اسکے ساتھ کیا ہوتا…. شافع نے سختی سی مٹھیاں بھینچیں ضبط سے اسکے دماغ کے رگیں ابھر گئی تھیں….

نور کو اپنے رونگٹے کھڑے ہوتے ہوئے محسوس ہوئے….

ساری بات سننے کے بعد ابراہیم صاحب آہستہ سے اٹھے اور گوہر کی طرف بڑھے…. گوہر نے گردن جھکائی ہوئی تھی،،، لاؤنج میں ایک زناٹے دار تھپڑ کی آواز گونجی،،،، ابراہیم صاحب چینختے ہوئے بولے تمھاری جیسی اولاد سے تو اچھا تھا تم میری اولاد ہی نہ ہوتے…. عائشہ بیگم روتے ہوئے اسے بچانے کے لئے آگے آئیں لیکن ابراہیم صاحب نے انھے فوراً پیچھے کر دیا اور گوہر کے گریبان پر جھپٹتے ہوئے بولے تمھاری وجہ سے ایک لڑکی کی زندگی خراب ہوتے ہوتے بچی ہے تم اتنا گر گئے تھے ایک لڑکی کو اغواہ کر کے نکاح کرنے چلے تھے…. ابراہیم صاحب نے ایک اور تھپڑ اسکے منہ پر مارا…..

نور فوراً اٹھ کر انکی طرف آئی انکل مت ماریں اسے ابراہیم صاحب اسکی سنے بغیر گوہر کو دھکا دیتے ہوئے بولے دفاع ہوجاؤ اس گھر سے اور اپنی شکل مت دکھانا مجھے،،،، نور انکے آگے آتے ہوئے بولی انکل چھوڑ دیں اسے یہ سب میرے نصیب میں لکھا تھا اور نصیب کا لکھا کوئی بدل نہیں سکتا اور نہ ہی ماضی میں وآپس جایا جا سکتا ہے…. جو کچھ ہوا جانے انجانے میں ہوا لیکن اسے اسکی غلطیوں کا احساس ہے یہ اہم بات ہے اسے کم ازکم اس بات کا احساس تو ہے کہ جو اسنے کیا وہ غلط تھا اگر میری جگہ یہ اس لڑکی کو کڈنیپ کر لیتا تب بھی یہ غلط ہوتا…. کیونکہ یہ اس وقت صحیح فیصلہ لے ہی نہیں سکتا تھا…. اسے اس لڑکی نے دھوکا دیا اور اسنے بدلہ لینے کی ٹھان لی لیکن اس سب کے بیچ میں آگئی کیونکہ میرے ساتھ یہ سب ہونا تھا،،، کیونکہ شافع نے میری زندگی میں آنا تھا….

نور نے نظریں اٹھا کر شافع کی طرف دیکھا شافع کی نظریں اسی پر تھیں…. اسے مار کر یا گھر سے نکال کر کچھ نہیں ہوگا…. آپ لوگ بس اسے سمجھائیں کے فیصلے جوش میں نہیں ہوش میں کئے جاتے ہیں جو ہوگیا اسے بدل نہیں سکتے لیکن آنے والے وقت کو بہتر تو بنا سکتے ہیں…. کیونکہ دل تو اسکا بھی ٹوٹا ہے نہ دھوکا تو اسکے ساتھ بھی ہوا ہے…..

ابراہیم صاحب صوفے پر ڈھے گئے,,,, گوہر آہستہ سے چلتے ہوئے نور کے سامنے آیا٬ اور گردن جھکا کر اسکے آگے ہاتھ جوڑ دیئے “میں معافی کے قابل تو نہیں ہوں پھر بھی ہو سکے تو مجھے معاف کر دے نہ پلیز”

نور نے اپنے آنسوں صاف کرتے ہوئے شافع کی طرف دیکھا، نور نے کچھ کہنے کے بجائے بس اثبات میں گردن ہلا دی٬٬٬٬ گوہر شافع کی طرف بڑھا اور اسے دیکھتے ہوئے بولا ہو سکے تو تم بھی مجھے معاف کر دے نہ میرے بھائی تم جانتے ہو میں جنونی ضرور ہوں لیکن دل کا برا نہیں ہوں میں نے صرف اپنی محبت کو پانا چاہا تھا لیکن جانے انجانے میں یہ سب ہو گیا…. پلیز مجھے معاف کر دینا…. شافع آہستہ سے آگے بڑھا اور اسے گلے لگایا، میں جانتا ہوں تم دل کے برے نہیں ہو لیکن تمھارے دماغ نے تمھے غلطی کرنے پر مجبور کر دیا اور قسمت نے اور غلط کرنے کی ٹھانی ہوئی تھی…..

شافع اس سے الگ ہوتے ہوئے ارحام سے بولا فرسٹ ایڈ بکس لا دینا پلیز…..

ارحام نے اثبات میں گردن ہلائی اور جلدی سے فرسٹ ایڈ بکس لا کر شافع کو دیا…. شافع نے گوہر کا ہاتھ پکڑ کر اسے صوفے پر کرسی پر بٹھایا اور خود اسکے سامنے کرسی پر بیٹھ کر اسکے زخم صاف کرنے لگے گوہر کی کراہ نکلی تھی…. عائشہ بیگم روتے ہوئے بولیں جب زخموں پر مرہم ہی لگانا تھا تو زخم دیئے ہی کیوں؟ گوہر اپنے ہونٹ کا کنارے سے رستہ ہوا خون صاف کرتے ہوئے بولا مجھے اسکی اشد ضرورت تھی امی…. اگر چہرے پر زخم نہ لگتے تو دل پر لگے زخم کبھی ختم نہیں ہوتے چہرے کا درد بڑا ہے تو دل کا درد کم ہوا ہے….

بی اماں بولیں اچھا کھیل لگایا ہوا ہے ویسے جس کا جہاں دل کر رہا ہے وہاں شادی کرنے کے لئے بھاگ رہا ہے آخر یہ سارا کھیل تمھاری وجہ سے ہی شروع ہوا تھا بی اماں عائشہ بیگم سے بولیں میں نہ کہتی تھی کہ تمھارا یہ بیٹا ایک نہ ایک دن کوئی چاند چڑھائے گا….

جب کسی نے انکی بات کا کوئی جواب نہیں دیا تو وہ منہ بنا کر اپنے کمرے میں چل دیں…. شافع نے گوہر کے زخموں پر مرہم پٹی کرنے کے بعد نور کی طرف دیکھا تو وہ کسی سوچ میں گم تھی… شافع اٹھ کر اسکے سامنے آیا اور اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا کیا سوچ رہی ہو….؟ نور اچانک چونکی…. اور گوہر کی طرف دیکھا وہ شہزاد کا سہارا لئے کمرے کی طرف جارہا تھا نور نے اچانک کھڑے ہو کر اسے آواز لگائی گوہر نے مڑ کر اسکی طرف دیکھا…. نور آگے آتے ہوئے بولی اس لڑکی کی کوئی تصویر ہے تمھارے پاس؟ گوہر آہستہ سے نفی میں سر ہلا کر بولا جس موبائل میں تصویریں تھیں وہ موبائل کھو گیا تھا، دوسرے موبائل میں ایک تصویر تھی میں نے وہ ڈیلیٹ کر دی، نور کچھ سوچتے ہوئے بولی،،، ایک منٹ رکو میں ابھی آتی ہیں نور تیزی سے کمرے کی طرف بھاگی سب اسے حیرانی سے دیکھ رہے تھے…. کچھ دیر بعد وہ اپنا موبائل کمرے سے لے کر آئی،،، اور باہر آکر کچھ آن کرنے لگی…. اسنے ایک تصویر آن کر کے موبائل گوہر کی طرف کیا…..

گوہر کے اعصاب تنے نور اسکی طرف دیکھتے ہوئے بولی یہی ہے وہ لڑکی؟ گوہر نے چبھتی ہوئی نظروں سے اس تصویر کو دیکھا اور اثبات میں گردن ہلا کر بولا ہاں یہی ہے وہ لڑکی نور….. سب نے تعجب سے نور کو دیکھا گوہر نے بھی حیرانی سے پوچھا لیکن تم اسے کیسے جانتی ہوں؟ شافع آگے بڑھا اور موبائل کی اسکرین اپنی طرف کرتے ہوئے بولا کون ہے مجھے دکھاؤ….. شافع نے تصویر دیکھی تو اسکے منہ سے بے ساختہ نکلا منہا؟ گوہر نے تعجب سے پوچھا منہا؟ نور نے اثبات میں گردن ہلاتے ہوئے کہا ہاں یہ منہا ہے میری دوست، اور اس دن شادی اسکی نہیں میری تھی….

گوہر بے یقینی سے نفی میں گردن ہلاتے ہوئے بولا لیکن اسنے مجھے اپنا نام نور بتایا تھا…. نور سپاٹ چہرے سے زخمی لہجے میں بولی جھوٹ کہا تھا اس نے تم سے…..

اسنے تم سے بات کرنے کے لئے اپنے نام کی جگہ میرا نام استعمال کیا٬ نور کے گال پر آنسوں بہے شادی والے دن وآپسی پر میں نے منہا کی چادر اوڑھی ہوئی تھی، اسلئے تمھارے آدمیوں کو دھوکا ہوا…..

نور اپنے آنسوں صاف کرتے ہوئے گوہر سے ہمدردانہ لہجے میں بولی تم نے اپنی محبت ایک غلط لڑکی پر برباد کی ہے گوہر وہ تم سے محبت نہیں کرتی تھی وہ تم سے تو کیا کسی سے بھی محبت نہیں کر سکتی کیونکہ جو انسان دوستی نہیں نبھا سکتا وہ محبت کیا خاک کرے گا…. گوہر نے اپنا سر تھاما…. نور تیزی سے پلٹ کر کمرے میں چلی گئی….

ابراہیم صاحب اور باقی سب پریشانی سے صوفے پر بیٹھے تھے، شافع نور کے پیچھے جاتے ہوئے بولا میں دیکھتا ہوں…… نور کمرے میں آکر منہ پر ہاتھ رکھ کے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی…. شافع کمرے میں داخل ہوا….. اور آہستہ سے چل کر اسکے برابر میں آکر بیٹھ گیا نور مسلسل روئی جارہی تھی شافع نے قریب ہوتے ہوئے اسکا سر اپنے سینے پر رکھا لیکن اسے رونے سے منا نہیں کیا بس اسکا سر سہلاتا رہا…. نور روتے ہوئے بولی آخر مجھے میرے اپنوں سے ہی اتنا درد کیوں ملا ہے؟ میں تو دوستی میں مخلص تھی پھر اسنے کیوں ایسا کیا وہ اپنے مفاد کے لئے میرا نام استعمال کر رہی تھی….

شافع اسکے بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا اپنے ہی ہوتے ہیں جو پیچھے سے وار کرتے ہیں ورنہ غیروں کو کیا پتا کہ کونسی بات درد دیتی ہے…. نور نے اسکے سینے پر سے سر اٹھایا اور بھیگی آنکھوں سے اسکی طرف دیکھ کر بولی لیکن وہ میری دوست تھی….. شافع اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے بولا وہ کبھی تمھاری دوست نہیں تھی، دوست تو دھڑکن کی طرح ہوتا ہے…. اور وہ آستین کا سانپ تھی… تم بس یہ شکر کرو اللہ نے تمھے غلط لوگوں سے بچا لیا، اب تو تم محفوظ ہو….. نور نے گردن جھکائی، شافع نے اپنے لب اسکے ماتھے پر رکھے پھر اسکا چہرہ تھامتے ہوئے بولا اب تمھارے ساتھ میں ہوں اور جب تک میں تمھارے ساتھ ہوں تمھارے ساتھ کچھ غلط نہیں ہونے دوں گا…..

نور نے اپنے آنسوں صاف کئے…. دروازے پر دستک ہوئی…. شافع نور سے فاصلے پر ہوتے ہوئے بولا آجائیں، ارحام دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی اسکے ہاتھ میں پانی کا گلاس تھا اور چہرے پر پریشانی اسے دیکھ کر شافع بیڈ پر سے اٹھ گیا اور اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا ارحام پانی کا گلاس لئے نور کے سامنے آکر بیٹھ گئی…. ارحام نے پانی کا گلاس نور کی طرف بڑھایا….. نور نے گلاس تھام کر لبوں سے لگایا اور چند گھونٹ لے کر رکھ دیا…..

شافع سامنے صوفے پر جا بیٹھا، ارحام نے نور کے ہاتھ تھامے اور اسکے ہاتھوں کو دیکھتے ہوئے بولی نور آپکو پتا ہے “ہر انسان کی ایک کہانی ہوتی ہے، ہر کہانی میں کچھ کردار ہوتے ہیں، ان کرداروں میں سے ایک محبت ہوتی ہے اور آپکو پتا ہے ساری کہانی اس محبت کے گرد گھومتی ہے باقی سب تو محض عام کردار ہوتے ہیں کہانی کے اختتام تک جو چلتی ہے وہ ہوتی ہے محبت” اسی طرح ہماری زندگی میں بھی صرف وہی شخص اختتام تک ہمارے ساتھ چلتا ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے، باقی سب تو محض اپنا کردار ادا کر رہے ہوتے ہیں….

نور نے نظریں اٹھا کر اسکی طرف دیکھا ارحام اپنی گردن جھکاتے ہوئے بولی میرے بھائی کو معاف کر دیئے گا پلیز وہ برا انسان نہیں ہے بس….. نور نے اسکی بات کاٹ دی مجھے کسی سے کوئی شکوہ نہیں ہے ارحام یہ سب ہونا ہمارے نصیب میں لکھا تھا اور نصیب سے کوئی لڑ نہیں سکتا….. ارحام نے اثبات میں گردن ہلائی…. نور آگے بڑھ کر اسکے گلے لگی،،،، اپنے دل میں کوئی بات مت رکھنا مجھے کسی سے کوئی شکوہ نہیں ہے،،، ارحام مسکراتے ہوئے اس سے الگ ہوئی….

شافع کھڑا ہوتا ہوا بولا، نور ہمیں اب نکلنا چاہیے، جاتے جاتے دیر ہو جائے گی…. نور نے اثبات میں گردن ہلائی.