Izhar-e-Muhabat by Anooshe NovelR50417 Izhar-e-Muhabat Episode 14
Rate this Novel
Izhar-e-Muhabat Episode 14
Izhar-e-Muhabat by Anooshe
شافع اور زایان آفس پہنچے تو سیدھا میٹنگ حال میں چلے گئے..
کچھ انویسٹرز وہاں پہلے سے موجود تھے کچھ نے ابھی آنا تھا شافع اور زایان ان سے سلام دعا کر کے ساتھ ہی بیٹھ گئے…..
شافع فائل کھول کر دیکھنے لگا تو زایان اسکے کان کے پاس آکر بولا
شافع یار مجھے تو گھبراہٹ ہو رہی ہے…
شافع نے اچھنبے سے پوچھا،،،،کیوں؟؟
کیا کیوں یار میں نے تو کبھی کلاس میں ڈھنگ سے پریزنٹیشن نہیں دی میں یہاں کیا کروں گا؟؟؟
شافع نے فائل کو دیکھتے ہوئے کہا..
یہ لوگ تمھے کھائیں گے نہیں،،،
کھائیں گے نہیں لیکن مزاق تو اڑا سکتے ہیں تمھے تو عادت ہے ان سب کی لیکن میرا تو ڈر کے مارے برا حال ہو رہا ہے…
پلیز میں آج کوئی پریزنٹیشن نہیں دوں گا تم سب سمبھالنا،،،،
شافع اسکی طرف گھوم کر بولا اچھا سب کی ناک میں دم کرنے والے کو آج ڈر لگ رہا ہے
میں پریزنٹیشن دوں گا اور تم میری شکل دیکھو گے؟؟؟
زایان مسکراتے ہوئے بولا نہیں میں ہر تھوڑی دیر بعد تمھارے لئے تالی بجاؤں گا،،،،
شافع نے ضبط سے سانس کھینچنا…..
سارے انویسٹر اور اسٹاف وہاں پہنچ چکے تھے
شافع میٹنگ شروع کرنے کے لئے کھڑا ہونے لگا جب اسے حیدر صاحب آتے ہوئے نظر آئے…..
انھوں نے مسکراتے ہوئے زور سے سب کو سلام کیا….
وہاں تقریباً سب ہی انکو جانتے تھے….
شافع نے پہلے حیرت سے زایان کو دیکھا پھر حیدر صاحب کو….
حیدر صاحب مسکراتے ہوئے شافع کے پاس آئے،،،،
شافع نے ان سے گلے ملتے ہوئے پوچھا انکل آپ آرہے ہیں زایان نے تو نہیں بتایا….
حیدر صاحب الگ ہوتے ہوئے بولے زایان کو پتا ہی نہیں تھا تو کیا بتاتا….
میرے بیٹے اپنے بزنس کا اسٹارٹ لے رہے ہوں اور میں نہ ہوں ایسا ہو سکتا ہے….
شافع مسکرا دیا….
حیدر صاحب اس کا بازو تھپتھپاتے ہوئے زایان کے برابر میں بیٹھ گئے….
زایان انکی طرف دیکھ کر شرارت سے بولا خوش آمدید…
حیدر صاحب نے بھی مسکرا کر اسی کے انداز میں کہا
آپکو بھی……
شافع نے سلام اور تعارف سے میٹنگ کا آغاز کیا،،،،،
وہ انویسٹر سے نئے پروجیکٹس کے بارے میں ڈسکس کرنے لگا وہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد میٹنگ میں موجود لوگوں کے سوالوں کا بھی جواب دے رہا تھا
تھوڑی تھوڑی دیر بعد وہ سب کی توجہ زایان کی طرف مبعوث کرواتا تو زایان مسکرا مسکرا کر سب کو دیکھتا انویسٹرز کی میٹنگ ختم ہونے کے بعد وہ اسٹاف کو رول اور روٹین سمجھانے لگا…..
اسنے اس دوران آدھی زمہ داریاں اپنے مینیجر پر ڈالیں تھی کیونکہ پیپر ہونے تک وہ اور زایان آفس کو فل ٹائم نہیں دے سکتے تھے…..
میٹنگ ڈھائی بجے شروع ہوئی اور پانچ بجے ختم ہوئے جب سب چلے گئے تو میٹنگ حال میں شافع ، زایان اور حیدر صاحب رہ گئے…..
شافع فائلیں سمیٹ رہا تھا….
جب حیدر صاحب اٹھے اور اسے زور سے گلے لگا کر اسکی پیٹھ تھپھپائی…..
تم بہت جلد بلندیوں پر پہنچو گے مجھے بہت فخر ہے تم پر….
شافع مسکرایا دیا،،،،
زایان پیچھے سے اداکاری کرتے ہوئے بولا “لوگ پل میں پرایا کر دیتے ہیں”
حیدر صاحب اسکی طرف گھومیں اور اسکا کان ماروڑا،،،
زایان چنخھا بابا کیا کر رہے ہیں کان نکالیں گے کیا؟؟
تم نے دانت نکال نے کے علاوہ یہاں بیٹھ کر کیا ہی کیا ہے جو میں تم پر فخر کروں…
پھر اسکا کان چھوڑ کر شافع سے بولے شافع میں تمھے ابھی بھی کہہ رہا ہوں کے اسے اپنا پارٹنر مت بناؤں یہ تباہ کر دے گا بزنس…..
زایان نے کان سہلاتے ہوئے انھے گھورا….
نہیں انکل ایسا نہیں ہے جب سر پر پڑے گی تو خود ہی ٹھیک ہو جائے گا، ویسے بھی دنیا میں ایسا کوئی کام نہیں ہے جو زایان حیدر سے نا ہو….
زایان آگے آتے ہوئے بولا اور نہیں تو کیا ابھی تو میں معصوم سا چھوٹا سا بچہ ہوں،،،،
اور پارٹنر میرا پیدائشی بزنس مین تو اب مجھ معصوم کو سیٹ ہونے میں کچھ وقت تو لگے گا نا…..
حیدر صاحب نے ایک بھنویں اٹھاتے ہوئے کہا تم اور معصوم….
زایان نے دانت نکالے….
انکل آپ یہ سب چھوڑیں یہ بتائیں آپ کو آفس کیسا لگا؟؟؟
حیدر صاحب چاروں طرف نظریں دوڑاتے ہوئے بولے….
کہنا پڑے گا آفس میں کافی پیسا لگایا ہے تم لوگوں نے اور کام بھی شاندار کروایا ہے…..
I am impressed.
شافع زایان کے گلے میں ہاتھ ڈالتے ہوئے بولا تو پھر زایان کو شاباشی دیں کیونکہ تھیم ، فرنیچر اور باقی سب زیان نے سلیکٹ کی ہیں اور کچھ ڈیزائن تو اسنے اپنے سامنے بنوائیں ہیں….
حیدر صاحب سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولے اچھا میں تبھی سوچوں انٹرس پر ہی پھلوں کی پینٹنگ کیوں لگی ہے…..
شافع ہنستا ہوا بولا انکل وہ تو چھوڑیں آپ زایان کا کمرہ جاکر دیکھیں اسنے وہاں بھی کھانے کی دو پینٹنگ لگائی ہیں….
شافع اور حیدر صاحب ہنسنے لگے تو زایان منہ بنا کر بولا…..
بابا مجھے باورچی ہی بننے دیں مجھ سے نہیں ہوگا یہ بزنس….
شافع زایان کی گردن دبوچتے ہوئے بولا تم تو ساری دنیا میں خود کو مستقبل کا مشہور و معروف بزنس مین مشہور کر چکے ہو اب تم پیچھے نہیں ہٹ سکتے….
کمرے میں قہقہہ بلند ہوا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*
میراب بیڈ پر بیٹھی پینٹنگ بنا رہی تھی پینٹنگ کا رخ اسنے پوری طرح اپنی طرف کیا ہوا تھا……
ارفہ بیگم سامنے صوفے پر بیٹھی سیب کاٹ رہیں تھی…
ماما ہمارے گھر کے مسٹر معصوم اور بھکڑ کہاں ہیں؟
ارفہ بیگم نے اسے ڈانتا میراب بری بات بڑے بھائی کو ایسے نہیں کہتے….
میراب منہ بناتے ہوئے بولی اچھا تو بڑے بھائی چھوٹی بہنوں کو کچھ بھی بول سکتے ہیں….
گئے کہاں ہیں یہ تو بتائیں….
آفس گیا ہے میٹنگ ہے…..
آفس گئے ہیں یا دونوں لَو برڈز کہیں ڈیٹ پر گئے ہیں؟؟
ارفہ بیگم نے اسے گھورا….
ارے مجھے کیوں گھور رہی ہیں وہ ہے ہیں لَو برڈز کسی ہوٹل میں بیٹھ کر ہاتھوں میں ہاتھ دے کر پیار بھری باتیں کر رہے ہوں گے…
بولتے ہی میراب نے زور دار قہقہہ لگایا تھا….
ارفہ بیگم نے پاس پڑے ہینگر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا…
میراب اب تم نے کچھ الٹا سیدھا کہا نا تو یہ ہینگر پڑے گا….
میراب فوراً بولی ماما مزاق کر رہی ہوں مجال ہے جو آپ کے بیٹے کی برائی آپ کو برداشت ہو جائے…..
ارفہ بیگم نے کوئی جواب نہیں دیا اپنے کام میں لگی رہیں….
ماما اب سیب کاٹ لئے ہوں تو دے بھی دیں….
ارفہ بیگم اسے سیب دینے آئیں تو اسنے پینٹنگ کا رخ مزید اپنی طرف کر لیا….
ارے لڑکی نہیں دیکھ رہی میں تم تو ایسے چھپا رہی ہو جیسے پتا نہیں کونسا خزانہ بنا رہی ہو….
بنا کیا رہی ہو ویسے یہ بتاؤ گی؟؟؟
میراب نفی میں گردن ہلا کر بولی سرپرائز ہے ہاں یہ بتا سکتی ہوں کس کے لئے بنا رہی ہوں…
ارفہ بیگم نے پوچھا کس کے لئے؟؟
شافع بھائی کے لئے گفٹ میری طرف سے…..
ٹھیک ہے اسی کو دیکھانا لیکن پھر زایان کے لئے بھی کچھ بنا لینا ورنہ تمھے پتا ہے اسنے تمھاری دوسری ٹانگ توڑ دینی ہے….
میراب منہ بناتے ہوئے بولی
ہو ایسی توڑ دیں گے بھلا….
ارفہ بیگم ہنستے ہوئے کمرے سے باہر چلی گئیں…..
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*
آئےنور صدیقی صاحب کے ساتھ ڈاکٹر کے پاس آئی ہوئی تھی….
پٹی کرانے کے بعد وہ لوگ گاڑی میں آکر بیٹھے تو صدیقی صاحب نے اس سے پوچھا کچھ کھاؤ گی؟؟
نور نے نفی میں سر ہلا دیا…..
صدیقی صاحب نے گاڑی اسٹارٹ کر دی…..
کچھ آگے جاکر انھوں نے ایک بیکری کے سامنے گاڑی روک دی….
نور نے انکی طرف دیکھا….
چلو کچھ کھانے کے لئے لے لو مجھے سمجھ نہیں آئے گا کیا لاؤں
آئےنور انکے ساتھ بیکری میں چلی گئی….
زایان اور شافع دونوں آفس سے نکل رہے تھے حیدر صاحب کچھ دیر پہلے جا چکے تھے….
دونوں نے ہی اپنے کوٹ ہاتھ میں لئے ہوئے تھے
زایان نے تو ٹائی بھی اتار دی تھی شرٹ کے اوپر کے دو بٹن کھول کر اسنے آستینوں کو کافی حد تک اسپر چڑھا لیا تھا ….
ایک ہی ہاتھ میں دو بینڈ اور گھڑی….
شافع نے آستینوں کو کونی سے تھوڑا نیچے تک موڑا ہوا تھا بائیں ہاتھ میں اسکی وہی قیمتی سی گھڑی….
تھکن اسکے چہرے پر صاف واضح تھی….
وہ اس وقت سیدھا گھر جانا چاہتا تھا کیونکہ گھر جاکر بھی اسے دو آسائمنٹ تیار کرنے تھے….
لیکن زایان کا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا اسکا کہیں گھومنے جانے کا یا کچھ کھانے کا موڈ تھا اور وہ اسی بات کے لئے شافع کو منا رہا تھا…..
یار پلیز چلو نہ بہت اچھا ہے وہ کلب ہماری کلاس کا فاحد ہے نہ وہ گیا تھا اسنے تصویریں دکھائی تھیں بہت اچھی جگہ ہے…..
شافع تھکن سے آنکھوں پر ہاتھ پھیرتا ہوا بولا
زایان کچھ تو خیال کرو میں ساری رات نہیں سویا یار گھر جاکر آسائمنٹ بھی بنانے ہیں تمھاری طرح میں نے لڑکیاں نہیں رکھی ہوئی جو میرے نوٹس اور آسائمنٹ بنا دیں….
تو تم بھی بنوا لیا کرو یار تم تو اگر دوسرے ڈپارٹمنٹ کی لڑکی سے بھی بولو گے تو وہ بھی بنانے کے لئے راضی ہو جائے گی….
شافع گردن کو دائیں بائیں کرتے ہوئے بولا بہت شکریہ میں اپنے کام خود کر سکتا ہوں….
شافع گاڑی میں بیٹھ گیا تھا….
زایان کی نظر سامنے بیکری پر پڑی جس میں مزے مزے کی چیزوں کی تصاویر لگی تھیں….
وہ فوراً شافع کی گاڑی کا دروازہ کھول کر بیٹھا…
شافع حیرت سے بولا تم کہاں آرہے ہو تم اپنی گاڑی لائے ہو اس میں جاؤ…..
وہ سیدھا سیدھا اسے گاڑی سے نکلنے کے لئے بول رہا تھا….
زایان منہ بناتے ہوئے بولا ارے نہیں جارہا تمھاری گاڑی میں اپنی گاڑی میں ہی جاؤں گا پھر پیچھے اطمینان سے ٹیک لگا کر بولا …
وہ سامنے بیکری دیکھو وہاں لاوا کیک ملتا ہے چلو مجھے دلاؤ……
شافع کوفت سے آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر ڈھے گیا تھا….
یار میں نے تمھے کیا گود لیا ہوا ہے یا تم میری کوئی گرل فرینڈ ہو جو کبھی یہ دلا دو ، کبھی وہ دلا دو، وہاں لے جاؤ ،یہ کام کردو وہ کام کر دو
زایان اطمینان سے دانت نکالتے ہوئے بولا میں تمھارا معصوم سا بھائی ہوں جسے تم نے گود لیا ہوا اور تم نے ہی اسے لاڈ پیار سے پالنا ہے….
پھر گاڑی سے نکلتے ہوئے بولا جلدی سے گاڑی اس بیکری پر لے جاکر روکو میں اپنی گاڑی میں آرہا ہوں….
شافع نے اسے دیکھ کر دانت پیسے اور گاڑی بیکری کی طرف لے گیا…..
بیکری کے آگے اسنے گاڑی روکی زایان نے بھی اسکے پیچھے ہی گاڑی لگائی تھی…
وہ دونوں ساتھ بیکری کے دروازے کی طرف بڑھے تھے جب آئےنور اور صدیقی صاحب دروازہ کھولتے ہوئے باہر آئے….
شافع موبائل میں مصروف تھا اس لئے اسنے غور نہیں کیا لیکن….
زایان نور کو دیکھ کر فوراً بولا ارے آئےنور تم……
آئےنور نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا اسکا ایک رنگ آیا تھا اور دوسرا گیا تھا
وہ صدیقی صاحب کے سامنے ان سے بات نہیں کر سکتی تھی کیونکہ صدیقی صاحب کے مزاج سے وہ بہت اچھے سے واقف تھی اور کچھ دیر پہلے جو وہ اس پر پیار دکھا رہے تھے وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس میں کمی آئے…..
نور سن کر بھی انجان بن کر آگے بڑھنا چاہتی تھی لیکن صدیقی صاحب رک گئے اور نور کی طرف دیکھ کر پوچھا کون ہے یہ؟؟؟
زایان اور شافع دونوں نے صدیقی صاحب کی طرف دیکھا تھا شافع کو زایان کی حماقت کا اندازہ ہوا تھا….
آئےنور کے ہاتھ کپکپانے لگے بابا وہ یہ لوگ یونیورسٹی میں پڑھتے ہیں….
پھر ان دونوں کی طرف دیکھ کر دانت پیستے ہوئے صدیقی صاحب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی بابا ہیں میرے….
شافع نے اسکے ہاتھوں کی کپکپاہٹ دیکھی تھی….
لیکن زایان کو تو کوئی فرق ہی نہیں پڑھا تھا گو اسکے لئے یہ ایک عام سی بات تھی کہ اپنی یونی کی اسٹوڈنٹس سے سلام دعا کر لینا اس لئے اسے اندازہ نہیں تھا کہ اسکی اس سلام دعا سے کتنا بڑا پہاڑ کھڑا ہو سکتا ہے….
نور کا دل زوروں سے دھڑک رہا تھا جیسے ابھی باہر آجائے گا…..
شافع اب زایان کو کھینچ کر بھی نہیں لے جاسکتا تھا کیونکہ صدیقی صاحب ان دونوں کو ہی دیکھ رہے تھے….
زایان نے مسکراتے ہوئے ہاتھ آگے بڑھا کر صدیقی صاحب کو سلام کر کے اپنا تعارف کرایا…..
صدیقی صاحب نے بغیر کسی تاثر کے ساتھ اس سے ہاتھ ملایا….
زایان نے ہاتھ ملایا تھا تو شافع کو بھی ہاتھ ملانا پڑھا
اسلام وعلیکم شافع وارثی….
صدیقی صاحب نے اسکے سلام کا جواب دے کر نور کی طرف دیکھا اسکو لگا تھا وہ ابھی گر جائے گی….
اس سے پہلے زایان کچھ اور بولتا شافع فوراً بولا
اچھا خدا حافظ ہم لوگ چلتے ہیں….
شافع اسکا ہاتھ پکڑ کر بیکری میں لے گیا….
زایان نے اچھنبے سے اسے دیکھا تمھیں کیا ہو گیا یار…
اسکا زخم کیسا ہے یہ تو پوچھنے دیتے…..
شافع نے اسکا ہاتھ چھوڑ کر کہا تم پاگل ہو زایان وہ اپنے بابا کے ساتھ تھی اور تم حال چال پوچھنا شروع ہوگئے….
زایان کندھے اچکاتے ہوئے تعجب سے بولا تو اس میں کونسی بری بات تھی یار حال چال ہی تو پوچھا ہے کونسا میں نے اسے پرپوز کیا ہے….
تم نے اسکی شکل دیکھی تھی کیسے پسینے چھوٹ رہے تھے ہو سکتا ہے اسکے بابا کو ہمارا یوں بات کرنا اچھا نا لگا ہو،،، تبھی تو وہ ہم دونوں کو عجیب سی نظروں سے دیکھ رہے تھے….
زایان سر کھجاتے ہوئے بولا
ہاں یار میں نے تو سوچا ہی نہیں کہ شاید اسکے بابا کو اچھا نا لگا ہو….
شافع آگے بڑھتا ہوا بولا اسلئے بولتا ہوں کبھی دماغ بھی استعمال کر لیا کرو….
زایان کندھے اچکا کر بولا چھوڑو اب جو ہونا تھا ہو گیا……
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*
آئےنور اور صدیقی صاحب گاڑی میں آکر بیٹھے نور نے اسکارف سے چہرہ تھپتھپایا…..
صدیقی صاحب نے گاڑی اسٹارٹ کردی سارے راستے انھوں نے ایک لفظ نہیں کہا تھا….
آئےنور کے ہاتھ پاؤں پھولنے لگے دل ہی دل میں اسنے زایان اور شافع کو ڈھیروں گالیاں دے ڈالی تھیں….
گھر پہنچ کر صدیقی صاحب لاؤنج کے صوفے پر آکر بیٹھے….
ارمینہ بیگم نور سے پوچھنے لگیں ڈاکٹر نے کیا کہا زخم گہرا تو نہیں ہے؟؟؟؟
نور صوفے پر بیٹھتے ہوئے آہستہ سے بولی نہیں ماما ٹھیک ہے….
صدیقی صاحب اچانک بولے کون تھے یہ لڑکے؟؟؟
ارمینہ بیگم نے حیرت سے پوچھا کون لڑکے….
صدیقی صاحب نور کی طرف دیکھ رہے تھے….
بابا،،،،،،
بابا وہ یونیورسٹی میں پڑھتے ہیں….
تمھاری کلاس کے ہیں؟؟؟
آواز میں سختی تھی….
نور کا دل دھڑکا ہکلاتے ہوئے بولی نہیں بابا دوسرے ڈپارٹمنٹ کے ہیں
تو تمھے کیسے جانتے ہیں؟؟؟
نور خاموش رہی….
ارمینہ بیگم خاموشی سے ان دونوں کو دیکھ رہی تھیں….
صدیقی صاحب نے چیختے ہوئے لفظوں پر زور دیا
تمھیں کیسے جانتے ہیں….؟
نور انھے اسکالرشپ کا نہیں بتا سکتی تھی ہو سکتا تھا وہ اسکا یونیورسٹی جانا ہی بند کر دیتے….
بابا وہ سینئر ہیں کبھی کچھ پوچھنا ہوتا ہے تو وہ بتا دیتے ہیں….
صدیقی صاحب کچھ دیر خاموش رہے….
پھر ایک لمبا سانس کھینچتے ہوئے بولے آئندہ میں کبھی نا دیکھوں کہ بیچ سڑک میں کسی لڑکے نے تم سے بات کی ہے….
یہ سب معاملات صرف پڑھائی تک رکھو دوستیاں بڑھانے کی ضرورت نہیں ہے بلکل….
نور نے ہونٹ بھینچ کر اثبات میں گردن ہلائی آنسوں نکل کر اسکے گال پر بہنے لگے…
ارمینہ چائے بنا کر کمرے میں دے جاؤ
صدیقی صاحب اٹھ کر کمرے میں چلے گئے….
انکے جاتے ہی نور روتے ہوئے فوراً اٹھ کر کمرے میں چلی گئ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*
ارحام بی اماں کے کمرے میں بیٹھی انکے لئے پھل کاٹ رہی تھی…
لاڈو میری الماری تو کھول ذرا
ارحام نے گردن اٹھا کر انھے دیکھا جی اچھا…..
اسنے الماری کھولی تو بی اماں اشارے سے بتانے لگیں یہ بائیں طرف ہاتھ مار ایک تعویذ رکھا ہوگا….
ارحام وہ تعویذ انکے پاس لے کر آگئی….
بیٹھ ادھر
ارحام انکے سامنے بیٹھ گئی تو بی اماں تعویذ اسکے ہاتھ میں ڈالنے لگیں ارحام نے فوراً اپنا ہاتھ کھینچا یہ کیا کر رہی ہیں بی اماں….
ارے یہ تعویذ ہے بابا جی نے بھیجا ہے اس سے تو ٹھیک ہو جائے گی ذرا اپنی آنکھیں دیکھ کبھی ان آنکھوں میں کتنی چمک کتنی شرارت ہوتی ہے اور اب ہر وقت ویران پڑی رہتی ہیں….
ایسا لگتا ہے جیسے کسی بلا نے سارے جسم کا خون نچوڑ لیا ہو…..
ارحام خلا میں دیکھتے ہوئے بولی ہاں خون ہی تو نچوڑا ہے قطرہ قطرہ کر کے اور کسی کو خبر تک نہیں ہوئی….
بی اماں پھر سے اسکا ہاتھ آگے کر کے تعویذ باندھنے لگیں تھیں…..
اس سے میری اداسی ختم ہو جائے گی کیا؟؟؟؟
بیٹا بیماری یا شِفاء تو اللہ کے ہاتھ میں ہے،،،،
تو آپ ان تعویذوں کو بیچ میں لا کر اللہ کے کام میں دخل اندازی کیوں کر رہی ہیں؟؟؟؟
ارے بیٹا ان میں بھی اللہ کا ہی کلام ہے دیکھنا تو اب بلکل ٹھیک ہو جائے پہلے سے تو کتنی بہتر ہو گئی ہے میری لاڈو…..
ارحام تعویز کو دوسرے ہاتھ سے گھماتے ہوئے بولی ہاں اب میں ٹھیک ہونے لگی ہوں اب سارے راستے آسان لگنے لگے ہیں اب لگ رہا ہے کہ رہوں کو منزلیں تو نہیں ملیں گی لیکن شاید درد کو ٹھکانہ ہی مل جائے….
ارے یہ اتنی مشکل مشکل باتیں مجھ سے نہ کیا کر تو دیکھ یو میں سب ٹھیک کر دوں گی….
کان مروڑ کر شادی کے لئے راضی کروں گی اسے
اور اگر وہ راضی نہ ہوئے تو؟؟؟
تو میں اسکی مرضی کے بغیر شادی کر واؤں گی…..
ایک اذیت میں سے نکال کر دوسری اذیت میں ڈالنا چاہتی ہیں؟؟
ارے کیسی اذیت مجھے تو تیری باتیں سمجھ نہیں آتی لاڈو تو جا جاکر ابراہیم کو بلا کرلا….
میں خود سمجھنے سے قاصر ہوں میں کیا کسی کو سمجھاؤں گی……
ارحام اٹھ کر چلی گئی،،،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*
شافع گھر پہنچا تو اسکی آنکھیں تھکن سے شدید لال ہو رہی تھیں…..
اسنے کوٹ اور واسکٹ اتار کر صوفے پر رکھی،،،
ٹائی ڈھیلی کر کے شرٹ کے بٹن کھولتے ہوئے آنکھوں کو انگلیوں کے پوروں سے مسلتے ہوئے اسنے پیچھے کو سر ٹکا لیا….
کچھ دیر وہ اسی طرح بیٹھا رہا
دروازے پر دستک ہوئی تو اسنے سر اٹھایا….
آجائیں…..
تہمینہ بیگم دروازہ کھول کر اندر آئیں
شافع انھے دیکھ کر مسکرا دیا….
وہ بھی مسکراتے ہوئے شافع کے پاس آکر بیٹھ گئیں….
بہت تھکے ہوئے لگ رہے ہو شافع نے اثبات میں سر ہلا دیا….
کھانا کھایا ؟؟؟؟
جی کھالیا تھا….
آپ نے کھایا؟؟؟ تہمینہ بیگم نے اس کے گال تھپتھپاتے ہوئے کہا ہاں کھا لیا تھا…
میٹنگ کیسی رہی؟؟؟؟
جی میٹنگ اچھی رہی میں جاتے ہوئے آپکے پاس آتا لیکن…..
میں جانتی ہوں،،،،،
شافع خاموش ہو گیا،،،،،
بی اماں کا فون آیا تھا……
شافع نے گردن ہلاتے ہوئے کہا اچھا پھر…؟
بہت غصے میں تھیں…..
شافع نے عام سے انداز میں پوچھا کیوں….؟
تم نے شادی سے منا جو کر دیا اسلئے….
شافع کوفت سے سر پر ہاتھ پھیرتا ہوا بولا آخر یہ اچانک سب کو میری شادی کی فکر لاحق کیوں ہوگئی ہے میں کہیں بھاگا جا رہا ہوں یا میری عمر نکلی جارہی ہے،،،،
سیٹل ہوا نہیں ہوں شادی کر لوں……
اور ویسے بھی میں نے کہا نا مجھے خاندان میں شادی نہیں کرنی ہے تین چار سال تک تو بلکل بھی نہیں…..
تین چار سال بعد خاندان میں شادی کر لو گے؟؟؟
نہیں ماما میں خاندان میں شادی کبھی نہیں کروں گا…..
بیٹا یہ تو تم کہہ رہے ہو اگر اللہ نے تمھارا نصیب خاندان میں لکھا ہو تب کیا کرو گے…..
شافع انکا ہاتھ تھامتے ہوئے بولا اور اگر اللہ نے میرا نصیب باہر لکھا ہو تو؟؟؟
تہمینہ بیگم کچھ دیر اسے دیکھتی رہیں پھر بولیں….
تم کسی کو پسند کرتے ہو…..؟
شافع نے آنکھیں گھمائیں….
اوففف سب کو یہ کیوں لگ رہا ہے کہ میں کسی لڑکی کی وجہ سے شادی کے لئے منا کر رہا رہوں کوئی یہ کیوں نہیں سوچ رہا کہ میرے بزنس کو میری ضرورت ہے میں ابھی صرف اپنے کام پر توجہ دینا چاہتا ہوں بس…..
ارحام اچھی لڑکی ہے بیٹا….
شافع کو کوفت ہونے لگی تھی….
فوراً کھڑا ہوتا ہوا بولا تو میں نے کب کہا کہ بری لڑکی ہے وہ ایک اچھی لڑکی ہے اسے کوئی بھی اچھا لڑکا مل جائے گا لیکن مجھے بخش دیں….
بولتے ہی شافع باتھ روم میں چلا گیا تھا……
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*
آئےنور کمرے میں بیٹھی بے آواز آنسوں بہا رہی تھی ارمینہ بیگم کمرے میں آئیں…..
نور نے آنسوں صاف نہیں کرے روتی ہی رہی….
ارمینہ بیگم اسکے سامنے آکر بیٹھیں
کون تھے وہ لڑکے…؟
آئےنور کچھ دیر خاموش رہی پھر بولی زایان وہ اسکالرشپ والا لڑکا اور اسکا دوست شافع……
انھوں نے راستے میں تم سے بات کی تھی جو تمھارے بابا اتنا غصہ کر گئے؟؟؟
ماما وہ اچانک ہمیں بیکری کے باہر مل گئے اگر انسان کسی کو جانتا ہے تو حال احوال تو پوچھ ہی لیتا ہے نا اسنے تو بابا سے بھی سلام دعا کی اس میں اتنا غصہ کرنے والی کیا بات تھی….؟
تم اپنے بابا کو جانتی ہو…..
جانتی ہوں تبھی کہہ رہی ہوں لڑکے لڑکیوں کی بات چیت کو کیا صرف ایک ہی نظریہ سے دیکھا جاتا ہے…
ہاں کیونکہ معاشرہ ایک ہی نظر سے دیکھاتا ہے…
نور دوکھ سے بولی لیکن میں انکی بیٹی ہوں ماما کیا میرے لاکھ یقین دلانے پر بھی وہ میرا کبھی یقین نہیں کریں گے کیا ان تئیس سالوں میں ہمارے بیچ یقین کا رشتہ بھی قائم نہیں ہو سکا؟؟؟
مجھے تو لگتا ہے کہ اگر کبھی کوئی راہگیر انھے میرے بارے میں کچھ کہہ دے تو وہ مجھ سے زیادہ اس راہگیر پر یقین کریں گے…..
کیا بیٹیاں اتنی ناقابل یقین ہوتی ہیں؟؟
کیا بیٹیوں کو اس حد تک محبت کے لئے ترسہ دیا جاتا ہے….
میں نے تو ان سے کبھی کوئی فرمائش کوئی خواہش نہیں کی….
میں تو ہر پل انکی محبت کے لئے تڑپی ہوں ہر پل میں نے انکے آگے اپنی چھوٹی چھوٹی خواہشوں کو زندہ دفن ہوتے دیکھا ہے
لیکن وہ بدلے میں مجھے یقین، بھروسہ، محبت نام کی کوئی چیز نہیں دے سکے
میں نے اپنے بچپن کے ایک ایک دن کو انکی محبت کے لئے ترستے دیکھا ہے ماما…
میں نے اپنے ایک ایک خواب کو انکی ایک دھاڑ کے آگے سسکتے دیکھا ہے….
تو کیا بدلے میں وہ مجھے یہ بھی نہیں دے سکتے کے مجھ پر ایک لمحے کے لئے بھروسہ کر لیں
اگر میری جگہ انکا بیٹا ہوتا تو کیا تب بھی وہ انکے لئے اتنا ہی ناقابل اعتبار ہوتا…..؟
کیا گارنٹی ہے کہ میری جگہ انکا بیٹا ہوتا تو بہت فرمابردار ہوتا، انکا مانا رکھنے والا ہوتا اپنے خواب انکے لئے دفنانے والا ہوتا….
ارمینہ بیگم بھیگی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھیں
وہ کسی جنونی انداز میں سب کہی جارہی تھی دل میں بہت درد بھر گیا تھا شاید…
پتا ہے ماما آج تو یہ ایک بہت ہی چھوٹی سی بات تھی اگر کل کو کوئی بڑی بات ہوئی نہ تب وہ میری بات سنے بغیر ہی مجھے زندہ دفن کر دیں گے….
کہتے ہی نور اپنے آنکھوں کو رگڑتی ہوئی کمرے سے باہر چلی گئی تھی….
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*
شافع صوفے پر بیٹھا کام کر رہا تھا سامنے ٹیبل پر لیپ ٹاپ موبائل کتابیں سب بکھری پڑی تھیں….
رات کا ایک بج گیا تھا لیکن کام ختم ہونے کو نہیں آرہا تھا…..
شام سے اب تک اسنے کافی اور چائے کے آٹھ دس کپ اپنے اندر اتار لئے تھے….
اسنے گھڑی کی طرف دیکھا…..
ایک بھی بج گیا،،،،
اب اسکی ہمت جواب دے رہی تھی ساری چیزیں ٹیبل پر رکھ کر آنکھوں کو سہلاتے ہوئے وہ صوفے پر لیٹ گیا…..
پھر اچانک ٹیبل پر پڑا موبائل اٹھایا اور ایک تصویر کھولی…..
مسکراتے ہوئے موبائل سینے پر رکھا اور آنکھیں بند کر لیں….
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*
آئےنور اسٹیشنری شاپ پر نوٹس فوٹو اسٹیٹ کروانے کے لئے کھڑی تھی،،،،
شافع ابھی تک یونی نہیں آیا تھا زایان اپنے ڈپارٹمنٹ کی طرف جا رہا تھا جب اسکی نظر نور پر پڑی اسے دور سے ہی دیکھ کر دوڑتا ہوا اسکی طرف آیا..==
اسلام وعلیکم…..
نور نے اسکی طرف دیکھا تو کوفت سے آنکھیں گھماتے ہوئے بڑبڑائی کہیں بھی چلے جاؤ یہ بندر ڈھونڈ ہی لیتا ہے….
آپ نے کچھ کہا….
نور فوراً بولی نہیں تو….
وہ زایان کو شافع کی طرح باتیں نہیں سنا سکتی تھی آخر اسنے ایڈمیشن کروایا ہے اسکا….
پھر زایان اسکے ہاتھ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا آپکا ہاتھ کیسا ہے؟؟
آئےنور پھیکا سا مسکرا کر بولی جی پہلے سے بہتر ہے.
ہمممم آپکی دوست کہاں ہے نظر نہیں آرہی؟؟؟
کینٹن میں آپکو کوئی کام ہے کیا؟؟؟
زایان کندھے اچکا کر بولا نہیں ایسی پوچھ رہا تھا…
کچھ دیر بعد زایان بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا آپ سے کچھ کہنا تھا…
نور نے تعجب سے پوچھا کیا؟؟؟
سوری….
نور کو حیرت ہوئی سوری کس لئے؟؟؟
وہ کل آپکے بابا آپکے ساتھ تھے اور میں نے بنا سوچے سمجھے ہی سلام دعا شروع کر دی مجھے لگا آپ کو برا لگا ہوگا اس لئے سوری….
نور کچھ دیر خاموش رہی پھر بولی کوئی بات نہیں بس آئندہ خیال رکھئے گا….
آپ کچھ کاپی کروانے کے لئے کھڑی ہے…؟؟
نہیں میں تو یہاں فلم دیکھنے آئی تھی…
زایان نے ادھر ادھر نظریں دوڑاتے ہوئے پوچھا…..
اچھا کہاں ہے سینما اور کونسی فلم لگی ہے؟؟؟
آئےنور سپاٹ انداز میں کھڑی تھی لیکن زایان کی اداکاری دیکھ کر اسکی ہنسی نکل گئی….
زایان اسے دیکھ کر بولا ارے آپ ہنستی بھی ہیں ؟؟؟
مجھے تو لگا تھا آپ صرف ڈستی ہیں….
آئےنور نے بھنویں اٹھا کر اسے گھورا…
زایان فوراً ہاتھ اٹھاتے ہوئے بولا مزاق…
پھر اسٹیشنری شاپ پر رش دیکھ کر بولا آپ کو لگتا ہے کہ آج کی تاریخ میں آپ نوٹس کاپی کروا پائیں گی…..
نور رش کی طرف دیکھ کر بولی میں بھی یہی سوچ رہی ہوں….
پھر ہاتھ آگے کرتے ہوئے بولا میں مدد کر دوں؟؟؟
نور نے پہلے کچھ سوچا پھر بولی….
نہیں رہنے دیں پہلے ہی آپکے ایک احسان کی قیمت چکا رہی ہوں اس احسان کے بدلے آپ پتا نہیں کیا مانگ لیں….
زایان اسکے ہاتھ سے نوٹس لیتے ہوئے بولا اب اتنے چھوٹے چھوٹے کاموں کی بھی قیمت نہیں لیتا ہاں آپ اپنی خوشی سے کچھ کھلا دیں تو میں منا تھوڑی کر سکتا ہوں….
پھر دکان میں کھڑے ایک لڑکے کو آواز لگا کر اسنے بلایا….
آپ اسے بتا دیں کیا کیا کاپی کرنا ہے دو منٹ میں کر کے دے دے گا…..
نور اس لڑکے کو نوٹس دے کر مڑی تو زایان اسے ہی دیکھ رہا تھا….
کیا ہوا؟؟؟
زایان موبائل نکالتے ہوئے بولا سوچ رہا ہوں آپ لوگ بغیر ہنسے اور اتنی سنجیدگی سے زندہ کیسے رہ لیتے ہیں؟؟
آئےنور نے آگے پیچھے دیکھتے ہوئے اچھنبے سے پوچھا آپ لوگ مطلب؟؟؟
مطلب کہ آپ اور شافع وہ بھی اسی طرح بغیر ہنسے زندہ رہتا ہے لیکن میں اسے اسطرح رہنے نہیں دیتا میرے ہوتے ہوئے میرا بھائی اداس رہے ایسا ہو سکتا ہے کیا؟؟؟
شافع کا نام سنتے ہی اسکے تیور چڑھے گئے تھے….
اسکے تیور اور تب بگڑے جب شافع وہاں پہنچا….
شافع نے ایک نظر آئےنور پر ڈالی اور فوراً ہٹالی وہ زایان سے ملنے لگا
ارے یار ہم ابھی تمھاری ہی بات کر رہے تھے….
پھر شافع کے کان کے پاس آکر بولا میں نے تو کل والی بات کے لئے سوری بول دیا تم چوٹ والی بات کے لئے بول دو….
شافع نے اسے گھورتے ہوئے کہا میں کیسے کہوں…
زایان دانت نکالتے ہوئے بولا منہ سے…
دکان والا لڑکا نوٹس کی کاپی لے کر آگیا تھا نور انھے گننے لگی…
شافع زایان کے کان کے پاس آکر بولا میں اس سے کچھ بولوں گا تو یہ پھر سے شروع ہو جائے گی اور مجھ سے اسکی چے پیں برداشت نہیں ہوتی….
تو تم کیا سوری نہیں بولو گے…
آئےنور نے ایک چبھتی ہوئی نگاہ شافع پر ڈالی اور جانے کے لئے مڑی…
زایان نے شافع کو کونی ماری تو وہ فوراً گلہ کھنکار کر بولا سنیں….
آئےنور نے ایک بھنویں اٹھا کر پوچھا…
کیا؟؟؟
شافع دانت پیس کر آہستہ سے زایان سے بولا اسکے اسی ایٹیٹیوڈ سے نفرت ہے مجھے…
جو کہنا ہے کہہ بھی دو فالتو ٹائم نہیں ہے میرے پاس…
شافع نے بھی سپاٹ چہرے سے کہا
سوری…
نور نے حیرت سے پوچھا کس خوشی میں آج کیا سوری ڈے منایا جا رہا ہے جو ہر کوئی آکر سوری بول رہا ہے….
شافع نے ضبط سے ہونٹ بھینچے سوری بولنا گناہ ہے؟
زایان نے دل میں سوچا چلو بھئی شروع ہوگئے پھر سے..
نہیں گناہ تو نہیں ہے لیکن تم کیوں سوری بول رہے ہو وجہ بتاؤ…
شافع اپنا سر پکڑتے ہوئے بولا میرا دماغ خراب تھا اسلئے بولا
نور طنزیہ ہنسی سے بولی تمھے اب پتا چلا ہے…
شافع نے حیرت سے پوچھا کیا؟؟؟
یہی کے تمھارا دماغ خراب ہے….
زایان ہنسا شافع نے اسے گھورا تو اسکی ہنسی غائب ہوئی۔ ۔ ۔ ۔ ۔
شافع نے غصے سے نور کی طرف دیکھ کر کہا میرا کس حد تک دماغ خراب ہے اس بات کا آپکو اندازہ نہیں ہے…
زایان پاس پڑی کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولا رائٹ….
آئےنور ہاتھ لہراتے ہوئے بولی
اااوو تم کتنے سر پھرے ہو اسکا تمھاری شکل سے اندازہ ہوتا ہے….
شافع بھی ہاتھ باندھتے ہوئے بولا آپ میری شکل سے اتنا جلتی کیوں ہیں؟؟
زایان گال پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا why وہ جیسے بیچ بیچ میں تبصرے کرنے کے لئے ہی وہاں بیٹھا تھا…..
میں….. جلتی ہوں وہ بھی تمھاری اس لنگور جیسی شکل سے…..
زایان اور شافع دونوں نے ایک ساتھ کہا لنگور؟؟؟؟
زایان کا تو قہقہہ نکلا تھا ہنس ہنس کر وہ کرسی پر ادھر سے ادھر لوٹتا رہا…
شافع تجھے لنگور کہا ہے اسنے….
شافع نے زایان کو کھینچتے ہوئے اٹھایا تم کیا یہاں بیٹھ کر تماشہ دیکھ رہے ہو….
آئےنور بھنویں اٹھاتے ہوئے بولی تم تماشہ کر رہے ہو تو دیکھ رہا ہے نہ….
شافع دانت پیس کر انگلی اٹھاتے ہوئے آگے بڑھا دیکھیں آپ،،،،
نور پیچھے ہوتے ہوئے دھاڑی پیچھے رہ کر بات کرو تمھے بار بار کیوں یاد دلانا پڑتا ہے….
شافع نے ہونٹ بھینچ کر ہاتھ نیچے کیا آپ سے بات کرنا مطلب دیواروں سے سر ٹکرانا…..
بولتے ہی وہ زایان کو لے کر مڑا….
آئے نور منہ بنا کر اسکی نکل اتارتے ہوئے بولی آپ سے بات کرنا مطلب پتھروں سے سر ٹکرانا
جیسے اس سے بات کرنا مطلب بھینس آں آں بھینس نہیں لنگور کے آگے بین بجانا
ہنہہ….
منہ چڑھا کر آئےنور بھی اپنے ڈپارٹمنٹ کی طرف چل دی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*
شافع اور زایان کلاس لے کر نکلے تھے جب ایک لڑکے نے آکر شافع سے کہا…..
تم دونوں کو سر آیاز نے آفس میں بلایا ہے،،،،
اچھا ٹھیک ہے،،،
شافع اور زایان سر آیاز کے آفس میں پہنچے تو وہ انھی کے منتظر تھے،،،،
آؤ……… شافع اور زایان انکے سامنے والی کرسی پر آکر بیٹھ گئے…
جی سر کوئی کام تھا؟
زایان فوراً بولا جی جی سر بتائیں ہمارے لائق کوئی کام….
سر آیاز مسکراتے ہوئے بولے تم لوگوں کے یونی میں کچھ ہی دن بچے ہیں اگلے ہفتے سے تم لوگوں کے امتحان ہیں
پھر تو تم لوگوں نے اس یونیورسٹی میں پلٹنا ہی نہیں ہے…..
ارے سر کیسی باتیں کر رہے ہیں کیوں نہیں پلٹیں گے اس یونی کی چائے اور پراٹھے ہمیں پلٹنے پر مجبور کر دیں گے،،،
قہقہ بلند ہوا تھا…..
میں نے تم لوگوں کو اس لئے بلایا ہے یونی نے دو دن بعد ایک کنسرٹ ارینج کیا ہے اور اس کنسرٹ میں شافع تمھے پرفارم کرنا ہے…..
زایان خوشی سے اچھلا ارے وہ کنسرٹ…۔
شافع نے اسے گھورا سر دو دن بعد کنسرٹ اتنی جلدی سب کچھ کیسے ہوگا؟…
تم اسکی فکر مت کرو سب کچھ اسٹاف سمبھال لے گا اور ویسے بھی اسٹوڈنٹس کی فرمائش پر ہی تمھے کہا گیا ہے پرفارم کرنے اور ویسے بھی نئے اسٹوڈنٹس کو بھی تو اپنی آواز سننے کا شرف حاصل کرنے دو،،،،،
شافع مسکراتے ہوئے بولا سر ایسا کچھ نہیں ہے…..
زایان شافع کے گلے میں ہاتھ ڈالتے ہوئے بولا، ارے بس بس شرماؤ نہیں تمھارے فینس کی فرمائش آئی ہے…
شافع نے اسے کونی ماری…..
بس سر آپ فکر ہی نہ کریں شافع آجائے گا یہ آپ مجھ پر چھوڑ دیں…..
شافع کی ذمہ داری زایان حیدر کی ہوئی.
