Izhar-e-Muhabat by Anooshe NovelR50417

Izhar-e-Muhabat by Anooshe NovelR50417 Izhar-e-Muhabat Episode 8

219.9K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Izhar-e-Muhabat Episode 8

Izhar-e-Muhabat by Anooshe

آئے نور نماز پڑھ کر بیٹھی تھی جب ارمینہ بیگم کمرے میں آئیں….

نور آج تم سوئی نہیں نماز پڑھ کے ؟

نہیں ماما ایکسائٹمنٹ سے نیند ہی نہیں آئی ساری رات…..

ارمینہ بیگم ہنسیں پاگل ہو گئی ہو تم بلکل

ہاں ماما مجھے بھی ایسی لگ رہا ہے،،،،

اچھا چلو اٹھ گئی ہو تو ناشتہ کر لو آکر تمھارے بابا بھی آتے ہی ہونگے…

جی چلیں ماما….

ارمینہ بیگم انڈا فرائی کر رہی تھیں نور چائے نکالنے کھڑی ہوگئی چائے نکالنے کے بعد نور ناشتہ ٹیبل پر لگانے لگی جب صدیقی صاحب لاؤنج میں داخل ہوئے…..

السلام و علیکم بابا نور نے مسکراتے ہوئے کہا…..

وعلیکم السلام…. صدیقی صاحب ٹیبل پر آکر بیٹھے اور پانی کا گلاس اٹھا لیا ….

آئےنور بھی آکر بیٹھ گئی….

ارمینہ بیگم انڈے کی پلیٹ اٹھائے نور کے برابر میں آکر بیٹھیں نور نے ناشتہ صدیقی صاحب کے سامنے رکھا …..

آج تم جلدی اٹھ گئیں صدیقی صاحب نے آئےنور کی طرف دیکھے بغیر کہا….

جی بابا بس ایسی نیند نہیں آرہی تھی….

ہممم اچھا صدیقی صاحب نے ناشتہ کرتے ہوئے مصروف سے انداز میں کہا…….

یونیورسٹی کس کے ساتھ جاؤ گی ؟؟

منہا کے ساتھ ہی جاؤں گی …..

اور کب تک؟؟؟

آٹھ بجے تک بابا …..

صدیقی صاحب کچھ دیر خاموش رہے….

میں چھوڑ دوں گا جاتے ہوئے…

نور اور ارمینہ بیگم دونوں نے نظریں اٹھا کر انھے حیرت سے دیکھا….

صدیقی صاحب نے جب خاموشی اور ان دونوں کی نظریں اپنے اوپر محسوس کی تو بولے ایسے کیا دیکھ رہے ہو کچھ انوکھا بول دیا ہے میں نے؟

نور فوراً بولی نہیں نہیں بابا

لیکن……! آپ کو دیر نہیں ہو جائے گی؟؟؟

نہیں مجھے آج تھوڑی دیر سے ہی جانا تھا……

آئےنور نے خوشی سے کھلکھلاتے ہوئے کہا ٹھیک ہے بابا میں تیار ہو جاتی ہوں…….

آئےنور کھڑی ہوگئی……

صدیقی صاحب اسکی طرف دیکھ کر بولے ابھی سڑھے چھے ہوئے ہیں ناشتہ تو کر لو ……

آئےنور واپس بیٹھی جی بابا…….

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*

شافع بےسدھ لیٹا سورہا تھا موبائل لگا تار اسکے کان کے آگے بجے جارہا تھا ….

شافع نے تکیہ اٹھا کر کان پر رکھ لیا لیکن موبائل کی آواز پھر بھی اسکے کانوں تک پہنچ رہی تھی….

شافع نے غصے سے تکیہ اٹھا کر پھینکا اور آنکھیں بند کئے ہی بیڈ پر ہاتھ مار کر موبائل ڈھونڈنے لگا ….

کچھ جدوجہد کے بعد اسے موبائل ملا تو کال ریسیو کر کے کان سے لگالیا ،،،،،

دوسری طرف سے زایان دھاڑا مر گئے تھے کیا؟؟؟؟؟

شافع موبائل کان پر رکھ کر سو گیا تھا …..

زایان پھر چینخنا شافع…………. ہوش میں آ میرے بھائی،،،،

کیا مصیبت پڑ گئی ہے زایان …..

آدھی رات کو تو تمھارے گھر سے آیا ہوں اب تم پھر صبح صبح تنگ کر رہے ہو……

اچھا….. تو بادشاہ سلامت کی نیند میں خلل پیدا ہو رہا ہے گھڑی میں ٹائم دیکھو یونی نہیں جانا کیا…..

نہیں میں نہیں جاؤں گا اب سونے دو شافع موبائل بند کرنے لگا تھا

زایان چینخا خبردار جو موبائل بند کیا ورنہ کھڑکی سے اندر آجاؤ گا…….

شافع نے حیرت سے کہا کھڑکی سے؟؟؟

ہاں کھڑکی سے کیونکہ تمھارے گھر کے باہر تمھارے کمرے کے بلکل سامنے کھڑا ہوں……

شافع چادر پھینک کے آنکھیں مسلتا ہوا کھڑکی کی طرف گیا اسے اتنی نیند آرہی تھی کہ آنکھیں بھی نہیں کھولی جا رہی تھیں…….

کھڑکی کا پردہ ہٹا کر دیکھا تو زایان اپنی کار کے اوپر چڑھ کے لیٹا ہوا تھا ….

شافع کو دیکھ کر دانت نکالتے ہوئے ہاتھ ہلایا……

شافع نے دانت پیستے ہوئے کہا تم اس وقت یہاں کیا کر رہے ہو …..

زایان ہنستے ہوئے بولا…….

“تیرے بن رہ نہ پاؤں گا اب تو مر ہی جاؤں گا یہ طے ہے”

پھر قہقہہ لگاتے ہوئے بولا

تمھے لینے آیا ہوں یونی کے لئے ……

شافع وہیں کھڑکی پر بیٹھ گیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔

میں تو آج یونی نہیں جاؤں گا اور تمھے کیوں یونی جانے کی لگی ہوئی ہے کوئی پسند آگئی ہے کیا؟؟؟

زایان گاڑی سے اترتے ہوئے بولا مجھے پتا تھا تمھے یاد نہیں ہو گا……

کیا یاد نہیں ہے مجھے؟

زایان آنکھوں میں چمک لاتے ہوئے بولا آج شکار آئیں گے…….

شافع نے حیرت سے پوچھا کونسے شکار ….

اوووففف ایک تو تمھے ہر بات ڈیٹیل میں بتانی پڑتی …..

آج نیو سٹوڈنٹس آئیں گے…..

شافع نے غصے سے کہا تو تمنے کیا مجھے ان نیو اسٹوڈنٹ کی آرتی اتارنے کے لئے اٹھایا ہے…..

نہیں میری جان رسم نبھانے کے لئے…..

رسم؟؟؟؟ کیا نیو اسٹوڈنٹ کی مائیو کا انتظام کیا ہے یونی نے؟؟؟

زایان نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا تمھے لگتا ہے کہ جب تک میں کنوارہ ہوں تب تک میں کسی جونیئر کی شادی ہونے دوں گا……..

شافع نے قہقہہ لگایا تو تمھے کس نے روکا ہے کرو شادی اور اپنے ان جونئیرز کو آزاد کرو جنکی شادیاں تمنے روکی ہوئی ہیں…….

ہاہاہاہاہاہاہا……..!

میں پہلے تمھاری شادی انجوائے کروں گا پھر میں سوچوں گا کوئی میری ٹائپ کی ملی تو ……

تمھاری ٹائپ کی تو صرف مارس پر ہی ملے گی شافع نے شرارت سے کہا….

چلو ٹھیک ہے پھر میں مارس کا بھی وزٹ کر لوں گا لیکن تمھاری شادی کے بعد……..

ویسے شافع تم بہت پتھر دل نہیں ہو گئے…..

شافع نے حیرت سے کہا کیوں بھائی میں نے کیا کیا؟؟؟؟

کب سے اس دھوپ میں کھڑا ہوں اور تم مزے سے اے سی والے کمرے میں بیٹھ کر باتیں کر رہے ہو لیکن مجال ہے کہ تم نے مجھ سے کہا ہو میرے بھائی اوپر آکر کچھ کھا پیلو …..

نہیں میرے بھائی تمھے پتا ہی نہیں ہے تم اتنی دور سے مجھے کتنے خوبصورت لگ رہے ہو اور جہاں تک دھوپ اور کھانے کا سوال ہے تو اپنی گاڑی میں بیٹھو دھوپ سے بھی بچو گے اور وہاں ماشاءاللہ کھانے کی بھی کمی نہیں ہے……

زایان نے منہ پھلایا “ظالم” …..

چلو اب جلدی آؤ پھر یونی میں رسمِ ریگنگ بھی نبھانی ہے…….

اچھا تو تم ریگنگ کی بات کر رہے ہو تم شاید بھول رہے ہو یونی میں ریگنگ کرنا سختی سے منا ہے ……

زایان نے بھرپور حیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا اچھا۔ ۔ ۔ ۔

مجھے تو پتا ہی نہیں تھا کونسا تم ریگنگ کرتے ہو ،،،، اور اگر کچھ مسلئہ ہوا تو تم ہونا سنبھالنے والے …….

شافع کھڑکی میں سے ہٹتے ہوئے بولا میں تمھے اس دفعہ ایسا کچھ کرنے ہی نہیں دوں گا شافع نے فون بند کر کے بیڈ پر پھینکا اور ورڈ روب کی طرف چلا گیا……

کچھ دیر بعد جب شافع سر تولیے سے رگڑتے ہوئے باہر نکلا تو ایک دم ٹھٹکا زایان سامنے صوفے پر لیٹا کاجو کھا رہا تھا ،،،،

شافع نے تولیہ کھینچ کر زایان کے منہ پر مارا تم یہاں کیسے آئے زایان نے بغیر کسی ردعمل کے تولیہ منہ پر سے ہٹایا اور گلاس ڈور کی طرف اشارہ کیا

جس کا لوک اب کھلا ہوا تھا……..

شافع نے ضبط سے سر پر ہاتھ پھیرا…..

زایان مجھے سچ سچ بتاؤ یہ چوروں والے طریقے تم نے کہاں سے سیکھے

تمھاری حرکتیں مشکوک ہوتی جارہی ہیں….

زایان اٹھ کر بیٹھا اور کاجو کی پلیٹ ٹیبل پر رکھی …..

خدا کا خوف کرو یار…. تم مستقبل کے مشہور و معروف بزنس مین “زایان حیدر” کو چور بول رہے ہو…..

توبہ توبہ زایان نے تسلی سے ٹیک لگاتے ہوئے کانوں کو ہاتھ لگایا………

آج کل اپنے نام کے ساتھ مشہور و معروف بزنس مین لگانا اسنے اپنے اوپر فرض کر لیا تھا

شافع اپنا ایک گٹھنا صوفے پر رکھ کر جھکا اور زایان کو گریبان سے پکڑ کر بولا……

سچ سچ بتاؤ تم نے یہ گلاس ڈور کیسے کھولا کیوں کہ تم اچھے سے جانتے ہو کہ یہ دروازا چور تو کیا چور کے باپ بھی نہیں کھول سکتے…..

زایان نے اپنا گریبان شافع کے ہاتھ سے چھڑایا اور تھوڑا پیچھے کو ہوا…….

اچھا یار تم تو ڈرا رہے ہو ایک تو تم نے یہ بوڈی بنالی ہے جسے دیکھ کر مجھے اب ڈر لگ رہا ہے زایان نے بھرپور ڈرنے کی ایکٹنگ کری……

شافع دانت پیستے ہوئے بولا

ڈرامے بند کرو اور سچ سچ بتاؤ یہ دروازا کیسے کھولا

پہلے بتاؤ مارو گے تو نہیں؟؟

شافع نے مکاّ بنا کر کہا اگر تین سیکنڈ میں تمنے نہیں بتایا نا تو تمھاری ایک آنکھ کھلنے کے قابل نہیں رہے گی…..

زایان فوراً ہاتھ آگے کرتے ہوئے چینخھا اچھا اچھا بتاتا ہوں……

زایان نے جیب میں ہاتھ ڈال کر ایک چابی نکالی جو عام چابیوں سے زرا مختلف تھی اس پر ایک بٹن بھی بنا ہوا تھا……..

زایان نے مسکراہٹ دباتے ہوئے وہ چابی زایان کے آگے لہرائی ایک دن تمھاری گاڑی کے ڈیش بورڈ پر سے لی تھی…..

شافع نے وہ چابی زایان کے ہاتھ سے جھپٹی زایان فوراً بھاگا ……

شافع نے زایان کی شرٹ پیچھے سے پکڑی اور اسکو بیڈ پر دھکاّ دیا…….

شافع اب لگاتار زایان کو گھونسے مار رہا تھا

اور زایان خود کو دھائی دیتا رہا……

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*

آئے نور صدیقی صاحب کے ساتھ گاڑی میں بیٹھی تھی…

صدیقی صاحب ڈرائیو کر رہے تھے آئےنور کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں تھا….

تمھے کچھ چائیے تو نہیں صدیقی صاحب نے آئےنور سے پوچھا….

نہیں بابا کچھ نہیں چاہیے،،،،،،

کچھ دیر ٹھہر کر بولے نور تمھارا سبجیکٹ کیا ہے…….

آئےنور جو اب تک خوشی سے کھلکھلا رہی تھی ایک جھٹکے سے اسکی مسکراہٹ اڑی تھی ….

“تو کیا بابا کو یہ بھی نہیں پتا کہ میرا سبجیکٹ کیا ہے اسنے دل میں سوچا”….

پھر اپنے ہاتھوں کو دیکھتے ہوئے دھیمے لہجے میں بولی….

“ایکنومکس”

ایکنومکس؟؟؟تمھے اس سبجیکٹ سے کیا فائدہ پونچھے گا تمھے کونسا جوب کرنی ہے….

نور کچھ نہیں بولی بس کھڑکی کے باہر دیکھتی رہی کچھ دیر پہلے تک جو خوشی تھی وہ اب مانند پڑ گئی تھی……..

نور ایک بات بتانا چاہتا ہوں، اگر تم یہ سوچ رہی ہو کہ پڑھائی کے بعد میں تمھے جوب کرنے دوں گا تو جتنی جلدی ہو سکے اپنے ذہن سے اس بات کو نکال دو ……

آئےنور نے بے یقینی سے انکی طرف دیکھا…….

بابا آپ کو لگتا ہے کہ میں اپنی بات سے پھر جاؤں گی، میں نے آپ سے صرف پڑھائی کی اجازت مانگی ہے تو میں صرف پڑھوں گی جوب کی بات کبھی نہیں کروں گی ،چاہے کتنی بھی اچھی کیوں نہ ہو …….

ہممم ٹھیک ہے…..

میں بھی اپنی بات سے نہیں پھروں گا کوئی اچھا رشتہ آگیا تو میں تمھاری شادی طے کر دوں گا……

اور تم اس بات سے بھی نہیں پھرو گی….

آئےنور نے نظریں ان پر سے ہٹا لیں وہ روہانسی ہو رہی تھی اسنے پلکھوں کو جلدی جلدی جھنپکا کر آنسوؤں کو روکا تھا……..

یونیورسٹی پہنچ کر نور خدا حافظ بول کر گاڑی سے اترنے لگی جب صدیقی صاحب نے اسے روکا کچھ پیسے اسکے ہاتھ میں دئیے اور اپنا ہاتھ اسکے سر پر رکھ دیا…….

آئےنور نے آنکھیں بند کر کے اس لمحے کو محسوس کرنے کی کوشش کری…..

“میری عزت کا پاس رکھنا”……

اور اگلے الفاظ سن کر اسکی کوشش رد ہو گئی،،،،،،

تو کیا یہ شفقت بھی صرف اپنی عزت کی حفاظت کے لئے کی گئی تھی

نہ کہ اس سے محبت کے لئے……..

آئےنور نے سانس کھینچ کر ضبط سے اثبات میں گردن ہلاتے ہوئے کہا…….

“آپ بھروسہ رکھیں”

آئےنور گاڑی سے نکل کر آگے بڑھ گئی تھی…….

تھوڑا سا آگے آکر اسنے نظریں اٹھا کر یونیورسٹی کو دیکھا آج تک وہ اس یونی کو صرف حسرت سے دیکھتے آئی تھی آج فرست سے دیکھ رہی تھی……

“زندگی بھی کیسے کیسے موڑ لاتی ہے ایک لمحے میں بڑی بڑی خوشیاں دے دیتی ہے اور ایک لمحے میں انھی خوشیوں پر پانی پھیر دیتی ہے”

آئےنور سر جھٹک کر آگے بڑھنے لگی جب اسکا فون بجا منہا کی کال تھی آئےنور نے فون اٹھا کر کان سے لگالیا …..

نور کہاں ہو تم میں گیٹ کے بائیں طرف کھڑی ہوں…….

میں بس پہنچ گئی ہوں آرہی ہوں نور نے اندر داخل ہو کر بائیں جانب دیکھا تو اسے تھوڑی دور کھڑی منہا نظر آگئ….

منہا نے نور کو دیکھ کر ہاتھ ہلایا نور موبائل رکھ کر اسکی طرف بڑھ گئی….

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*

شافع اور زایان کلاس میں بیٹھے تھے حسبِ معمول زایان لیکچر کے دوران اونگ رہا تھا…..

پروفیسر کی نظر اس پر پڑی اسے اونگتے ہوئے دیکھا تو آواز لگا دی زایان……

لیکن زایان تو اپنی ہی دنیا میں کھویا ہوا تھا انھوں نے دوبارہ آواز لگائی شافع نے اسے کونی ماری تو زایان ہڑبڑا کر اٹھا لیکچر ختم کیا؟؟

پروفیسر صاحب اس سے مخاطب ہوئے نہیں لیکچر ابھی چل رہا ہے…….

زایان نے انکی طرف دیکھے بغیر آنکھیں بند کرتے ہوئے کہا تو پھر مجھے کیوں اٹھایا؟؟؟

پروفیسر صاحب نے زرا زور سے کہا

کیونکہ یہ میری کلاس ہے زایان اور میں آپ کو کلاس سے باہر بھی نکال سکتا ہوں پھر آپ یہ مت بولئے گا کہ “مجھے کیوں نکالا”

پوری کلاس میں قہقہ بلند ہوا…….

…..

زایان فوراً ہوش میں آیا اور بچوں کی طرح آنکھیں مسل کر انھے دیکھنے لگا….

سر میں لیکچر سن رہا تھا دراصل آنکھیں بند کر کے زیادہ اچھے سے سمجھ آتا ہے……

اوہ ہاں آپ نے بلکل سہی کہا زایان آنکھیں بند کر کے زیادہ اچھا سمجھ آتا ہے تو اب آپ آکر یہاں بتائیں ہم کیا ڈسکس کر رہے تھے……

زایان نے انگلی اپنے سینے پر رکھ کر حیرت سے آنکھیں پھاڑیں سر میں؟؟؟

ظاہر سی بات ہے میں آپ سے مخاطب ہوں تو آپ ہی کو بلا رہا ہوں……..

زایان نے ایک لمبا سانس کھینچا پھر شافع کی طرف جھکا ٹاپک کا نام بتا دے یار،،،،،

شافع نے شرارتی مسکراہٹ سے کہا…..

Human resources Managment

زایان نے سر کھجاتے ہوئے آنکھیں گھمائیں یہ تو مجھے آتا ہی نہیں ہے…..

پروفیسر صاحب کی آواز آئی زایان آپ خود تشریف لائیں گے یا آپ کے عزاز میں دو تین لوگ بھیجے جائیں……

زایان کھڑے ہوتے ہوئے بولا ارے نہیں نہیں سر اتنی عزت افزائی کی ضرورت نہیں ہے میں خود ہی آجاتا ہوں….

زایان جانے لگا پیچھے سے دو تین سٹوڈنٹس نے باآواز بلند کہا بیسٹ آف لک زایان ،،،،،

زایان نے ہاتھ ہلاتے ہوئے کہا ہاں ہاں شکریہ……جیسے وہ کوئی انوکھا کام سر انجام دینے جارہا ہوں……..

زایان آپ کی حوصلہ افزائی کا سلسلہ مکمل ہو گیا ہو تو تشریف لے آئیں….

زایان جلدی جلدی چلتا ہوا انکے پاس آیا جی جی سر میں تو آہی رہا ہوں…..

سارے اسٹوڈنٹ ٹیک لگا کر تسلی سے اگلے منظر کے لئے منتظر بیٹھ گئے……

شافع نے بھی ٹیک لگا کر موبائل نکال کر ویڈیو اون کر لی اور موبائل ٹیبل کی آڑ میں چھپا کر اسکا کیمرہ اوپر کر لیا……

زایان ہاتھ باندھ کر پروفیسر کی طرف مڑا سر آپ کی اجازت ہو تو شروع کروں ؟؟

پوچھ تو تم ایسے رہے ہو زایان جیسے تم سے زیادہ فرمابردار اسٹوڈنٹ کوئی ہو ہی نہیں……

زایان نے سینے پر ہاتھ رکھ کر سر جھکا کر داد وصول کی…..

کلاس میں سب کی گھٹی گھٹی ہنسی نکلی تھی……

زایان سیدھا ہوا……

اسّلام وعلیکم…….!

پوری کلاس نے بڑے جوش وخروش سے اسکے سلام کا جواب دیا……

جی……… مجھے تو آپ سب ظاہر سی بات ہے جانتے ہی ہیں……

میں ہو “زایان حیدر” مستقبل کا مشہور و معروف بزنس مین…….

پوری کلاس میں قہقہ بلند ہوا تھا پروفیسر صاحب نے زایان کو گھورا…..

جس کا اسنے ردی برابر بھی نوٹس نہیں لیا……

جی تو مجھے آج جس موضوع پر لب کشائی کا موقع ملا ہے کلاس میں پھر قہقہہ بلند ہوا……

پروفیسر صاحب دھاڑے کیا آپ لوگ دانت نکالے جارہے ہیں اور زایان تمھے یہاں میں نے تقریر کرنے کے لئے بلایا ہے……

زایان نے بھرپور حیرت کا مظاہرہ کیا….

سر تو آپ تقریر نہیں کر رہے تھے؟؟؟

پھر مجھے کیوں آنکھیں بند کر کے آواز آرہی تھی کہ آپ پاکستان کی آزادی کے کسی موضوع پر تقریر کر رہے تھے……

پھر آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے بولا یا اللہ کہیں میری سننے کی حس تو خراب نہیں ہوگئی……

سامنے بیٹھے اسٹوڈنٹ ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ہو رہے تھے ایک اسٹوڈنٹ نے تو سیٹی بھی بجا دی تھی……..

پروفیسر صاحب کو غصہ آگیا یہ کیا بے ہودگی ہے کون سیٹی بجا رہا ہے ……

سارے اسٹوڈنٹ ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر انجان بنتے ہوئے بولے کون سر کون کوئی بھی تو نہیں بجا رہا……

زایان فوراً انکے قریب آکر بولا سر کہیں آپ کی بھی تو سننے کی حس خراب نہیں ہوگئی ……..

آج کل وائرس پھیلا ہوا ہے سر انسان کی سننے ، بولنے، سمجھنے کی حس کچھ دیر کے لئے خراب ہو جاتی ہے لیکن آپ فکر مت کریں کچھ دیر بعد ٹھیک ہو جاتی ہے یہ گارنٹی میں آپ کو دیتا ہوں……

کلاس میں پھر قہقہ بلند ہوا…..

شافع نے کیمرہ زوم کر کے زایان اور پروفیسر پر فوکس کیا تھا……

پروفیسر صاحب چینخھتے ہوئے بولے تم نے مجھے بے وقوف سمجھ رکھا ہے کیا؟؟؟

زایان فوراً معصوم بنتے ہوئے بولا نہیں سر کیسی باتیں کر رہے ہیں میں آپ کو بے وقوف کیوں سمجھوں گا میں اپنے استاد کی بہت عزت کرتا ہوں ……

آپ کو پتا ہے؟ مجھے میرے اسکول کے ٹیچر آج بھی کہیں ملتے ہیں نہ تو پانچ منٹ سے زیادہ نہیں رکتے کیونکہ میں انکا فیورٹ اسٹوڈنٹ ہوا کرتا تھا وہ کہتے ہیں میرے جیسا قابل اور ذہین اسٹوڈنٹ انھے آج تک نہیں ملا………

ہاں بلکل میں بہت اچھے سے سمجھ سکتا ہوں کہ وہ تمھارے پاس پانچ منٹ سے زیادہ کیوں نہیں رکتے ہوں گے،،،،،

زایان ہاتھ ہلاتے ہوئے بولا آہاں لگتا ہے آپ بھی مجھ سے کافی امپریس ہیں…

اچھا سر میں وائرس کی بات کر رہا تھا کنٹینیو کریں……

پروفیسر صاحب سپاٹ چہرے سے بولے کون سا وائرس؟؟؟؟؟

وہی جس کے بارے میں ابھی میں آپ سب کو بتا رہا تھا……

جس کی ایک مثال ابھی ابھی ہم نے اس کلاس میں دیکھی،،،،

زایان گھوم کر پروفیسر صاحب کی دوسری طرف آگیا،،،،

وہ بھرپور اداکاری کرتے ہوئے ہاتھ ہلا ہلا کر بول رہا تھا…….

دیکھیں سر جیسے کے ابھی آپ کو لگا کہ آپ کچھ اور پڑا رہے تھے لیکن ہم سب کو ایک جوش وخروش سے بھرپور تقریر سنائی دے رہی تھی،،،،،،

ایسی ہی چھوٹے چھوٹے واقعات سے اس وائرس کی ابتداء ہوتی ہے…….

پروفیسر صاحب دانت پیس کر بولے یہاں سب کو وہی سنائی دے رہا تھا جو میں سنا رہا تھا صرف ایک تمھے ہی تقریر سنائی دے رہی تھی مجھے لگتا ہے اس وائرس کا اثر صرف تم پر ہی ہو رہا ہے…….

زایان آنکھیں بڑی کر کے بولا سر آپ کو کس نے بولا کے صرف مجھے ہی تقریر سنائی دے رہی تھی یہاں سب کو ہی تقریر سنائی دے رہی تھی،،،،،،،،

پھر کلاس کی طرف منہ کر کے بولا ہاں بھئی کس کس کو تقریر سنائی دے رہی تھی زرا ہاتھ اوپر کرے زایان کی آنکھوں کے اشارے پر تقریباً سب نے ہی ہاتھ اٹھا لئے تھے جن میں لڑکیوں کی تعداد زیادہ تھی ………

پروفیسر صاحب نے سب کو ایک نظر دیکھا اور بولے جی تو جس جس کو تقریر سنائی دے رہی تھی نہ رزلٹ کے بعد ان سب کو سپلی سنائی دے گا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

سب نے جھٹ سے ہاتھ نیچے کئے تھے زایان فوراً بولا سر آپ تو دھمکی دے رہے ہیں ،،،،،

ہاں آپ ایسے دھمکی سمجھ لیں،،،،،،

اور بیگ اٹھا کر کلاس سے باہر تشریف لے جائیں میں نے آپ کو ایک ہفتے کے لئے سسپینٹ کر دیا ہے …….

زایان خوشی سے چیخھا سر سچ کہہ رہیں ہیں کھائیں قسم ،،،،،،

اوپس سوری سر آپ کے ہاتھ کہاں ہیں میں ان ہاتھوں کو چومنا چاہتا ہوں،،،،،،

پھر بیگ کی طرف بھاگتے ہوئے بولا اچھا چلیں رہنے دیں یہ نیک کام کسی اور دن کروں گا ابھی میں نے پچھلے پندرہ منٹ سے کچھ نہیں کھایا ہے مجھے کمزوری ہو رہی ہے میری کینٹین میرا انتظار کر رہی ہو گی تھینک یو سو مچ سر ،،،،،،،

زایان بیگ اٹھا کر کلاس سے باہر جانے کےلئے بھاگا تھا کہ پروفیسر صاحب نے اسے آواز لگائی زایان……

زایان ریورس میں الٹا چلتا ہوا دو قدم پیچھے ہوا،،،،

جی سر کہیے…….!

تمھاری خوشی کو دیکھ کر میرا ارادہ بدل گیا ہے اب تم سسپینٹ نہیں ہوں گے بلکہ میں تمھاری ایکسٹرا کلاس لوں گا،،،،،،،،

زایان ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے بولا سوری سر وائرس کا اثر مجھ تک پہنچ گیا ہے ابھی آپ نے جو کچھ کہا وہ مجھے سمجھ نہیں آیا اللہ حافظ سر زایان ہاتھ ہلاتے ہوئے بھاگا تھا……

پروفیسر صاحب نے مارکر زایان کو مارنے کے لئے اسکی طرف پھینکا جس کے لگنے سے پہلے ہی زایان بھاگ گیا تھا…….

پروفیسر صاحب نے بلند آواز میں کہا “ڈفر تم زندگی میں کبھی کچھ نہیں بن پاؤ”

کلاس میں قہقہ بلند ہوا

پروفیسر صاحب زور سے چینخھے شٹپ اپ سب کی ہنسی غائب ہوئی……

شافع زیر لب بولا

زایان بیٹا سر نے بول دیا ہے کہ” تم زندگی میں کچھ نہیں بن پاؤ گے یعنی اب کامیابیاں تمھارے قدم چومیں گی”.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*

آئےنور اور منہا کلاس میں داخل ہوئیں تو آئےنور ایک دم ٹھٹکی منہا جو آگے بڑھ رہی تھی اسے دیکھ کر رکی …..

کیا ہوا رک کیوں گئیں،،،،،

آئےنور دروازے کی آڑ میں ہوتے ہوئے گھبرا کر بولی منہا اتنے لڑکے ……

کلاس میں مشکل سے آٹھ سے نو لڑکیاں تھیں اور باقی سب لڑکے منہا اور آئےنور کو دروازے پر رکتے ہوئے دیکھ کر تقریباً سب نے نظریں اٹھا کر انھے دیکھا تھا…..

اس لئے نور دروازے کی آڑ میں ہو گئی تھی۔

کیا مطلب ہے نور لڑکے ہیں تو کیا تمھارے لئے الگ سے کلاس لگوائیں گے جہاں خاص پردے کا انتظام ہو منہا نےچڑتے ہوئےکہا…..

میرا وہ مطلب نہیں تھا یار مطلب کے اتنے لڑکے۔ ۔ ۔ لڑکیاں تو نظر ہی نہیں آرہیں ہم بیٹھیں گے کہاں یہاں تو سب ساتھ ساتھ بیٹھے ہیں میں ان لڑکوں کے بیچ میں نہیں بیٹھوں گی آئےنور نے دو ٹوک انداز میں کہا……..

منہا دانت پیستے ہوئے بولی ایڈمیشن سے پہلے تمھے پتا نہیں تھا کیا کہ یہاں لڑکے بھی ہوں گے جو تم اب اتنے نکھرے دکھا رہی ہو…..

ظاہر سی بات ہے پتا تھا لیکن لڑکوں کے ساتھ پڑنے کا یہ مطلب تو نہیں کہ آپ لڑکوں کے بیچ میں جاکر بیٹھ جائیں یہ بولتے ہی نور نے اپنی چادر ٹھیک کی دو لمبی لمبی سانسیں لیں اور تیز تیز چلتی ہوئی کلاس میں داخل ہوئی…..

اسلام وعلیکم ……..

داخل ہوتے ہی اسنے بلند آواز میں سلام کیا اور پھر بڑے بڑے ڈک بھرتی ہوئی آخری بینچ پر جاکر بیٹھ گئی،،، کچھ لڑکوں نے بڑے لہراتے ہوئے اسکے سلام کا جواب دیا تھا اور دو میک اپ سے لدی ہوئی لڑکیوں نے اسے بڑی چبھتی ہوئی نظروں سے اوپر سے نیچے تک دیکھا تھا…….

منہا پیر پٹکھتی ہوئی اسکے پاس آئی…..

آئےنور کیا ہوگیا ہے تمھے یہ لاسٹ بینچ پر آکر کیوں بیٹھ گئی ہو ٹیچرز ہمیں ڈفر سمجھیں گے…..

میں یہاں کمرفرٹیبل ہوں اور ٹیچر ہمیں ہماری قابلیت پر جج کریں گے ناکہ ہمارے آگے یہ پیچھے بیٹھنے سے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

منہا منہ بناتی ہوئی نور کے برابر میں بیٹھ گئی اور کلاس کا جائزہ لینے لگی،،،،،

یار نور ان لڑکیوں کو تو دیکھو کتنا میک اپ کر کے آئی ہیں ہمیں بھی تھوڑا میک اپ کر لینا چاہیے تھا

ہاں منہا بیگم آپ نے بلکل سہی کہا آج ہمارا یونی میں فرسٹ ڈے تھوڑی ہے بلکے عنول فنکشن ہے

منہا منہ بنا کر بولی کیا کھا کے آئی ہو ہر بات میں چڑے جارہی ہو،،،،،

ہاں تو تم باتیں ہی چڑانے والی کر رہی ہو،،،،،،

پروفیسر صاحب کلاس میں آگئے تھے نور کھڑے ہوتے ہوئے بولی

اب چپ رہنا خبر دار جو تم نے اب کوئی فضول بات کری……

منہا نے اسے منہ چڑھایا

ہنہہ…………….

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*

شافع کلاس سے باہر نکلا تو زایان کو ڈھونڈنے لگا پیچھے سے ایک لڑکا اسکے پاس آیا سنیں……

شافع نے پیچھے مڑ کر دیکھا جی کہیں……

آپ شافع ہیں ؟

شافع نے حیرت سے کہا جی میں ہی ہوں کوئی کام ہے آپ کو؟

جی زایان بھائی نے آپ کو کیمسٹری ڈپارٹمنٹ کے پیچھے والے گراؤنڈ میں بلایا ہے،،،،،

زایان کو حیرت ہوئی اسنے اس لڑکے کو پہلے کبھی یونی میں نہیں دیکھا تھا اور اگر زایان کو اسے کہیں بلانا ہوتا تو وہ اسے کال کر لیتا شافع نے موبائل نکال کر چیک کرا زایان کا میسج آیا ہوا تھا جس میں ایک زبان نکلی ایموجی بنی تھی اور آگے لکھا تھا ہیش ٹیگ فریشر،،،،،،

شافع کے چہرے پر مسکراہٹ آئی،،،،،،

بھائی جلدی چلیں آپ یہاں مسکرا رہے ہیں وہاں انھوں نے نیو اسٹوڈنٹ کے ناک میں دم کیا ہوا ہے۔

شافع ہنستے ہوئے بولا فریشر ہو یہ تو تمھاری شکل سے پتا چل رہا ہے یہ بتاؤ زایان نے تمھارا کیا لیا ہوا ہے……

سامنے کھڑا لڑکا بےبسی سے بولا موبائل،،،،،،،

شافع ہنستے ہوئے بولا تو تم پروفیسر سے اسکی شکایت کیوں نہیں کررہے.

لڑکا نظریں جھکاتے ہوئے بولا ہم گارڈن میں بیٹھ کر سگریٹ پی رہے تھے انھوں نے ہماری ویڈیو بنالی اب اگر ہم نے کسی پروفیسر سے کچھ کہا تو وہ ہماری ویڈیو ایڈمیشن ڈریکٹر کو دیکھا دیں گے

ویسے بھی وہ کہہ رہے تھے کہ وہ ایڈمیشن ڈریکٹر کے بھانجے ہیں اس لئے کوئی انکا کچھ نہیں بگاڑ سکتا….

شافع نے ہنستے ہوئے دل میں سوچا اگر انکل کو پتا چل گیا نا تو زایان کا کیا کیا بگڑے گا یہ پوری یونی دیکھے گی….

آپ ہنستے ہی رہیں گے یا چلیں گے بھی مجھے جاکر ابھی گراؤنڈ کے دس چکر بھی لگانے ہیں ورنہ وہ میرا موبائل نہیں دیں گے

تم شکل سے اتنے بےوقوف لگتے تو نہیں ہو،،،

میں ہوں بھی نہیں بس ویڈیو کی وجہ سے کرنا پڑ رہا ہے پہلا دن ہے کہیں آخری دن نہ ہو جائے بس اس لئے ،،،

اچھا چلو…….

آپ اپنا بیگ مجھے پکڑا دیں .

شافع نے حیرت سے پوچھا کیوں؟

زایان بھائی نے بولا ہے کہ آپ کو ادب واحترام سے لیکر آؤں ،،،،،

شافع اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا تم چھوڑو اسے تھوڑا پاگل ہے وہ چلو………

شافع جب وہاں پہنچا تو وہاں کا منظر کچھ یوں تھا کہ………….

ایک لڑکا لال دوپٹہ سر پر لے کر گول گول گھوم رہا تھا اور آگے پیچھے دو تین لڑکے ناچ رہے تھے جن میں سے ایک زایان تھا اور باقی اسکی کلاس کے ہی لڑکے تھے جو زایان کے چیلے بنے ہوئے تھے

آس پاس کھڑی لڑکیاں منہ پر ہاتھ رکھ کر کھکھی کھکھی کر رہی تھیں اور کچھ لڑکے ویڈیو بنا رہے تھے……..

منظر دیکھ کر شافع اپنی ہنسی کو قابو نا رکھ سکا اور بے اختیار ہنس پڑا……

زایان کی نظر جب شافع پر پڑی تو دوڑ کر اسکے پاس آیا اور اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے کھینچ کر وہاں لے آیا……..

زایان یہ سب کیا کر رہے ہو اگر اوفس میں کسی کو پتا چل گیا نہ تو تم سب کی خیر نہیں…….

ارے یار لاسٹ ائیر ہے پھر کس کو کیا پتا کہ کون کب ملے ان جونیئرز کو بھی ہم جیسے سینیئرز نصیب ہوں یہ نہ ہوں تو زرا زندگی کو جی لینے دو،،،،،،

لیکن یہ لڑکے کو کیا بنایا ہے زایان شافع سامنے والے لڑکے کی طرف اشارہ کر کے بولا جو لال دوپٹہ پہن کر ڈانس کر رہا تھا……

زایان فوراً شرارتی نظروں سے بولا ارے یہ تو کچھ بھی نہیں ہے میری جان تمھارے لئے تو ابھی ایک سرپرائز رکھا ہے……

سرپرائز کونسا سرپرائز شافع نے حیرت سے پوچھا……

روکو بتاتا ہوں ،،،،،،

زایان نے تالی بجا کر سب کو اپنی طرف متوجہ کیا پھر اپنے کلاس فیلو سے بولا

ایان اس لڑکے کو اسکا والٹ دو بس اسکا ڈانس آج کے لئے اتنا کافی ہے……

وہ لڑکا فوراً دوپٹہ اتار کے والٹ کی طرف بڑھا زایان نے والٹ اپنے ہاتھ میں لے لیا……

ارے بچے زرا تحمل سے

چلو پہلے بتاؤ میں کون ہوں

وہ لڑکا فوراً بولا زایان بھائی اور مستقبل کے مشہور و معروف بزنس مین،،،،

زایان نے اس لڑکے کا گال تھپتھپایا

شاباش بہت اچھے پھر شافع کی طرف مڑتے ہوئے بولا اور یہ ہے شافع ،،،،،،

ہو سکتا ہے یہ بھی اچھے بزنس مین بن جائیں چلو انکو سلام کرو….

سامنے کھڑا لڑکا سر پر ہاتھ لے جاتے ہوئے سلوٹ کرنے والے انداز میں بولا سلام شافع بھائی……

شافع زایان کے کان کے پاس آکر بولا زایان تو یہ کیا کروا رہا ہے سب سے…..

زایان کھینچتے ہوئے بولا سلاممممم۔

پھر سامنے کھڑے لڑکے کو اسکا والٹ دیتے ہوئے بولا یہ لو تمھارا والٹ اور وہ رہی سامنے کینٹین وہاں سے دو جوس پکڑ لو…….

سامنے کھڑا لڑکا پریشانی سے بولا پکڑ لوں؟ کیوں پکڑ لوں ؟

پکڑ لو مطلب لے کر آؤ مجھے دے دے۔

کیوں بھائی کس خوشی میں ڈانس کر کے تو دکھادیا…..

زایان مسکراتے ہوئے بولا ہاں بیٹا بلکل ڈانس تو دکھا دیا لیکن میں نے ابھی تمھاری کلاس کے باہر ڈانس کرنے والی ویڈیو ڈیلیٹ نہیں کری اس لئے شاباش جلدی سے جاؤ اور جوس لے کر آؤ…….

وہ لڑکا منہ بنا کر کینٹین کی طرف بڑھ گیا……

شافع نے زایان کے سر پر تھپڑ مارا کیوں تم نیو اسٹوڈنٹ کو پاگل بنا رہے ہو؟؟

زایان دانت نکال کر بولا انکا یہ دن یادگار بنانے کے لئے…..

پھر ایک لڑکے کو آواز لگا کر بولا یار علی اسے تیار کر دیا ہو تو لیکر آؤ……

شافع حیرت سے بولا کیسے تیار کروا رہے ہو…

ارے تم دیکھو تو سہی میں نے اسے تمھارے لئے تیار کر وایا ہے……..

زایان کے کلاس کے ہی چار لڑکے ایک لڑکے کو پکڑ کر لارہے تھے جس نے دوپٹے سے گھونگھٹ کرا ہوا تھا……

شافع آنکھیں بڑی بڑی کر کے اس لڑکے کو دیکھتے ہوئے بولا،،،،،

زایان تم نے اسے میرے لئے تیار کروایا ہے تم نے مجھے سمجھ کیا رکھا ہے یار،،،،،

زایان قہقہہ لگاتے ہوئے بولے ارے تم نے ابھی اسے دیکھا ہی کب ہے اسے آنے تو دو…….

وہ لڑکا جب زایان کے سامنے آکر کھڑا ہوا تو زایان شافع کو آگے کرتے ہوئے بولا……

شافع اسکا گھونگھٹ اٹھا

شافع ایک جھٹکے سے پیچھے ہوتے ہوئے بولا،،،،،

میں کیوں اٹھاؤں اسکا گھونگھٹ……

اوہو شافع ڈر تو ایسے رہا ہے جیسے اندر انسان نہیں جن ہو……

زایان اگر ان میں سے کسی نے جاکر تمھاری کمپلین کردی نہ تو تمھارے لاسٹ سمسٹر کے جو کچھ دن بچے ہیں نہ وہ پوری یونی دیکھے گی…..

زایان شافع کے گلے میں ہاتھ ڈالتے ہوئے بولا میں نے پکّا کام کیا ہے ایک ایک کے خلاف پہلے ثبوت اکھٹے کئے ہیں پھر ان سب کو پکڑا ہے…….

اچھا اس بےچارے کی کیا مجبوری تھی جو اسے تم نے اس حال تک پہنچا دیا شافع سامنے گھونگٹ والے لڑکے کی طرف اشارہ کر کے بولا،،،،،

اسکی کوئی مجبوری نہیں تھی بس اسکی گاڑی کی چابی گر گئی تھی جو غلطی سے میرے ہاتھ لگ گئی بس پھر اسے یہ سب کرنا پڑا ،،،،،،

اب تم تو اس کا گھونگھٹ اٹھا نہیں رہے ہو تو میں ہی اٹھا دیتا ہوں…..

زایان نے اس لڑکے کا گھونگھٹ اٹھایا تو سب کو ہنسی کا دوراہ پڑگیا۔

اسکے چہرے پر لال رنگ کی لپ اسٹک کثرت سے ملی گئی تھی ،اور ناک میں ایک بڑی سی نتھ اٹکائی ہوئی تھی، ہونٹوں پر بلیک رنگ کی لپ اسٹک ، کانوں میں بڑے بڑے جمکے اٹکائے گئے تھے اور سر پر گولڈن رنگ کی وِک لگی تھی زایان کے سارے چیلے اسکی ویڈیو بنانے لگے پیچھے کھڑے لڑکے سیٹیاں بجا رہے تھے…..

اسے دیکھ کر شافع اور باقی سب کا ہنس ہنس کر برا حال تھا…..

شافع ہنستے ہنستے زایان کے گلے لگ گیا…….

شافع کی کلاس کے آدھے سے زیادہ اسٹوڈنٹ شافع کو حیرت سے دیکھنے لگے،،،،

کیونکہ ان لوگوں نے شافع کو اسطرح ہنستے ہوئے پہلی بار دیکھا تھا،،،،،

آیان شافع کی پیٹ پر ہاتھ مارتے ہوئے بولا چلو اس ریگنگ کا کچھ تو فائدہ ہوا کہ ہم لوگوں کو آخری سمسٹر میں شافع تیمور وارثی کی ہنسی دیکھنے کا شرف حاصل ہوا……

شافع اپنی ہنسی پر قابو پاتے ہوئے سیدھا ہوا……

زایان یہ اسے تیار تم لوگوں نے کیا ہے یہ میک اپ جولری کہاں سے آئی تم لوگوں کے پاس…….

پیچھے سے انکی کلاس کی تین لڑکیاں چہکتی ہوئی شافع کے سامنے آئیں…..

نہیں شافع اسے تو ہم لوگوں نے تیار کیا ہے تمھے پسند آیا میک اپ…..

شافع آنکھیں گھماتا ہوا بولا

استغفر اللہ……..

پھر ایک لڑکی بولی شافع تم ہنستے ہوئے زیادہ ہینڈسم لگتے ہو ہمارے سامنے بھی ہنس لیا کرو

زایان فوراً شافع کے سامنے آتا ہوا بولا جی جی بلکل پیپرز کے بعد ہم ایک تقریب رکھیں گے وہاں شافع کی ہنسی پر ٹکٹ لگائیں گے پیسے دیں اور شافع کی ہنسی دیکھنے کا شرف حاصل کریں۔ ۔ ۔ ۔

شافع نے زایان کی کمر پر گھونسا مارا……

اچھا بھائی چلو تم اب یہ اپنی گاڑی کی چابی پکڑو اور جاؤ تمھارے لیے آج اتنا کافی ہے…….

اس لڑکے نے غصے سے دوپٹہ اور وِک کھینچ کر پھینکی اور زایان کے ہاتھ سے گاڑی کی چابی جھنپٹی….

اور تھوڑی دور جاکر بولا زایان حیدر میں تمھے چھوڑوں گا نہیں اگر تم ایڈمیشن ڈائریکٹر کے بھانجے ہونا تو میں بھی ڈی ایس پی کا بیٹا ہوں میں اوفس میں تمھاری کمپلین کروں گا…….

زایان ہنستے ہوئے بولا اپنا شوق ضرور پورا کرنا یہاں سے سیدھے ہاتھ پر جاکر تھوڑا چلنا سامنے والی بلڈنگ کے دوسرے فلور پر اوفس ہے وہاں شکایت کرنا…….

وہ لڑکا جنونی نظروں سے زایان کو دیکھتا ہو پیر پٹک کر چلا گیا……

زایان دوسرے لڑکے کی طرف مڑنے لگا تھا جب اسے کافی دور آئےنور نظر آگئی ایک شریر مسکراہٹ اسکے چہرے پر پھیلی پھر شافع سے بولا چلو تمھے کسی سے ملؤاں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

شافع نے سوالیہ نظروں سے پوچھا کس سے؟

ارے تم چلو تو سہی پھر بتاتا ہوں….

شافع زایان کے ساتھ چلنے لگا جب شافع کا فون بجا شافع نے فون نکال کر دیکھا……

یار انویسٹر کی کال ہے تم چلو میں آتا ہوں

زایان منہ بناتے ہوئے بولا اچھا جلدی آجانا چپک نہیں جانا کال پر میں جارہا ہوں……

پھر آیان کو آواز لگاتے ہوئے بولا

آیان باقی سب کو چھوڑ دو میں بعد میں دیکھ لوں گا……

اور بھاگتے ہوئے نور کی طرف جانے لگا……..