Izhar-e-Muhabat by Anooshe NovelR50417

Izhar-e-Muhabat by Anooshe NovelR50417 Izhar-e-Muhabat Episode 24

219.9K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Izhar-e-Muhabat Episode 24

Izhar-e-Muhabat by Anooshe

اگلے دن شافع سوکر اٹھا نور ابھی بھی سو رہی تھی وہ اٹھ کر آفس کے لئے تیار ہونے چلا گیا۔ ۔ ۔ شافع شیشے کے سامنے کھڑا شرٹ کے بٹن لگا رہا تھا جب نور کی آنکھ کھولی نور نے پہلے آنکھ کھول کر سامنے دیکھا پھر دوبارہ آنکھیں بند کر کے سونے کی تیاری پکڑی لیکن ایک جھٹکے سے اٹھ گئی اور گھڑی کی طرف دیکھ کر بولی ٹائم کیا ہوا ہے؟ شافع اسکی طرف گھوما اور مسکراتے ہوئے بولا آٹھ بجے ہیں ابھی…. نور شافع کو تیار ہوتا دیکھ کر بولی تم کہاں جا رہے ہو؟ شافع اسکے سامنے آکر بیٹھا…. میں کام کرتا ہوں فارغ گھر پر نہیں بیٹھا رہتا آفس جانے کے لئے تیار ہو رہا ہوں… نور نے اسکی طرف دیکھ کر حیرت کا مظاہرہ کیا آفس؟ شافع ہنسا ہاں بھئی آفس ڈرو مت تمھے چھوڑ کر نہیں جارہا کہیں بھاگوں گا تو تمھے ساتھ لے کر بھاگوں گا…. نور خاموش رہی…. پھر اٹھتے ہوئے بولی میں تمھارے لئے ناشتہ بنا دوں؟ شافع نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے وآپس بیٹھایا نہیں میں آفس میں کر لوں گا… نور اسکی طرف دیکھ کر بولی کیوں میں بناکر دوں تو کوئی مسئلہ ہے کیا؟ شافع اسکے ہاتھ پر اپنا انگھوٹا سہلاتا ہوا بولا نہیں مسئلہ تو کوئی نہیں ہے… نور وآپس اٹھتے ہوئے بولی تو پھر میں بنا دیتی ہوں تم مجھے آرام کروانے کے لئے تو اپنے گھر نہیں لائے ہو شافع نے اسکا ہاتھ کھینچ کر اسے وآپس بیڈ پر بیٹھایا تو میں تمھے کام کروانے کے لئے بھی نہیں لایا ہوں… نور نے نظریں جھکا لیں…… تم مجھ پر پہلے ہی بہت احسان کر چکے ہو میں تمھارے احسانوں کا بدلہ تو نہیں چکا سکتی لیکن….؛ شافع نے فوراً ششش کہہ کر اسے خاموش کروایا… میں نے تم پر کونسا احسان کیا ہے؟ نور زخمی مسکراہٹ سےاسکی طرف دیکھتے ہوئے بولی کوئی ایک ہو تو یاد کرواؤں…. شافع نے ایک لمبا سانس کھینچا… پھر اسکے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے بولا تم یہ سب سوچنا چھوڑ دو کے میں نے تم پر کوئی احسان کیا ہے یہ میں نے مجبورا ً تم سے شادی کی ہے… نور اپنے ہاتھوں کو دیکھتے ہوئے بولی میرے سوچنے نہ سوچنے سے کیا ہوتا ہے حقیقت بدل تو نہیں جائے گی…. شافع نے اسکی طرف دیکھا اور اگر میں یہ کہوں کے یہ شادی میں نے اپنی مرضی اپنی خوشی سے کی ہے تو؟ نور نظریں اٹھاتے ہوئے بولی تو تم مجھ پر پھر ایک احسان کر رہے ہو. یہ سب بول کے….. شافع نے سانس کھینچتے ہوئے منہ پر ہاتھ پھیرا اس سے پہلے کے وہ کچھ بولتا نور اس سے ہاتھ چھڑا کر اٹھ گئی میں ناشتہ بنا رہی ہوں تم تیار ہو کے آجاؤ…. شافع نے اووفف کرتے ہوئے آنکھیں گھمائیں،،،، اور وآپس ڈریسنگ کے سامنے جاکر تیار ہونے لگا، نور کچن میں آئی تو اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا اور شافع کی پسند نا پسند کا بھی اسے اندازہ نہیں تھا،،،، اسنے چیز آملیٹ بنانے کا سوچا اور کام کرنا شروع کر دیا…. کچھ دیر بعد شافع اپنا کوٹ ہاتھ میں ڈالے گھڑی باندھتے ہوئے باہر آیا،،، وہ نور کو دیکھ کر مسکرایا اور ڈائیننگ ٹیبل پر بیٹھ گیا، نور نے اسکی طرف دیکھ کر پوچھا تم ناشتے میں کیا لیتے ہو ویسے؟ شافع اپنا موبائل چیک کرتے ہوئے بولا میں صرف کافی پی کر چلا جاتا ہوں یا کبھی کبھی ایک بریڈ بس… نور کام کرتے ہوئے بولی میں نے چیز آملیٹ بنایا ہے تم کھالو گے؟ شافع اسکی طرف دیکھ کر مسکرایا،، کھانے کے لیے بنایا ہے تو ظاہر سی بات ہے کھاؤں گا ہی… نور نے ناشتے کی پلیٹ اسکے سامنے لاکر رکھی، شافع سیدھا ہو کر بیٹھا،،، اسنے آملیٹ کی شکل دیکھی شکل سے تو اچھا ہی لگ رہا تھا… نور نے دو تین پلیٹ اور دو کپ لاکر رکھے شافع نے اسکا ہاتھ پکڑ کر روکا اب بیٹھ بھی جاؤ… نور بول نے لگی میں بس سمیٹ کے آجاؤں… شافع اسے زبردستی بیٹھاتے ہوئے بولا وہ سب ہو جائے گا تم بیٹھ جاؤ…. نور بیٹھ گئی، شافع نے پہلا نوالہ لیا نور اسکے تاثرات پر غور کر رہی تھی, جیسے ہی شافع نے نوالہ منہ میں لیا نور نے فوراً پوچھا ٹھیک بنا ہے؟ شافع نے عجیب و غریب سے منہ بنائے اور نور کو دیکھتے ہوئے بولا نور پلیز دوبارہ کبھی میرے لئے کچھ مت بنانا،،، نور ڈر گئی کیوں کیا ہوا بہت برا بنا ہے کیا،،،، اسکی شکل دیکھ کر شافع ہنسا اور اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بولا،،،، ایسی روتی ہوئی شکل مت بناؤ یار بہت اچھا بنا ہے یہ تو میں اسلئے کہہ رہا ہوں کہ اگر تم اتنا اچھا بناؤ گی تو مجھے تمھارے ہاتھ کے کھانوں کی عادت پڑ جائے گی اور میں تم سے ہر وقت کھانا پکوانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا….

نور کی سانس بھال ہوئی پھر وہ بولی کوئی بات نہیں میں بنا دوں گی اس میں کونسی بڑی بات ہے؟ شافع آنکھیں بڑی کر کے بولا تمھے کھانا پکانا آتا ہے…. نور نے ہونٹ بھینچیں نہیں بس تھوڑا بہت بنالیتی ہوں،،، ماما نے کبھی کچھ کرنے ہی نہیں دیا اپنی ماما کا ذکر کر کے اسکے چہرے پر ویرانی چھاہ گئ تھی… شافع نے اسے اداس ہوتے دیکھا تو فوراً بولا ٹھیک ہے تو تم اب سیکھ لینا پھر تم دن رات میرے لئے کھانے پکاتی رہنا… نور ہنسی تم کیا زایان ہو جو ہر وقت کھاتے رہو گے…؟ اسے دیکھ کر شافع بھی ہنسا،،،، شافع نے ایک نوالہ بنا کر نور کے سامنے کیا…. نور نے حیرت سے اسے دیکھا، شافع شوخ انداز میں بولا کھالو تمھارا شوہر ہوں یار اتنا حق تو بنتا ہی ہے… نور نے جھینپتے ہوئے اسکے ہاتھ سے کھالیا شافع محفوظ ہوا،،، شافع نے جلدی جلدی ناشتہ ختم کیا وہ کافی پی رہا تھا،،، نور نے اس سے کہا شافع تمھاری ماما نے کہا تھا کہ اپنے بابا سے بات کر لو تمھاری ان سے بات نہیں ہوئی کیا؟ شافع کا ہاتھ رکا وہ گلا کھنکار کر بولا نہیں بات نہیں ہوئی میں کر لوں گا، وہ ابھی نور کو اپنے اور تیمور صاحب کے تعلقات کے بارے میں بتانا نہیں چاہتا تھا،،،

نور نے اثبات میں سر ہلایا،،، تم آفس سے کب تک آؤ گے؟ شافع مسکراتے ہوئے بولا تم کہو تو جاتا ہی نہیں ہوں…. نور جھینپ گئی،،، اسے شافع کا انداز نیا لگا تھا “آپ کسی انسان کے قریب رہ کر ہی اسے ٹھیک سے جان سکتے ہیں، دور رہ کر تو اکثر غلط فہمیاں بھی ہو جاتی ہیں”

شافع کافی کا آخری گھونٹ لیتے ہوئے بولا ویسے تو میں گھر لیٹ نائٹ آتا ہوں، نور کا دم نکل گیا،،، تو کیا میں رات تک اس گھر میں اکیلی پڑی رہوں گی؟ شافع کا موڈ اسے تنگ کرنے کو چاہا تو وہ اسے دیکھتے ہوئے بولا ہاں تو کیا ہو گیا کچھ ہوگا تھوڑی، بس تم دوسرے والے بیڈ روم میں مت جانا، نور نے تعجب سے پوچھا کیوں؟ شافع قریب ہوتے ہوئے سرگوشی میں بولا وہاں سے آوازیں آتی ہیں مجھے لگتا ہے وہاں بھوت ہیں، نور نے چینختے ہوئے اسکا بازو زور سے دبایا اور آنکھیں بند کرتے ہوئے بولی شافع اگر ایسا کچھ ہوا تو میں بالکنی سے کود جاؤں گی،،، شافع نے اسے دیکھ کر قہقہہ لگایا،،، نور نے آنکھیں کھول کر اسے گھورا،،، مزاق کر رہا تھا یار ایسا کچھ نہیں میں آجاؤں گا چار پانچ بجے تک کہیں تم سچ میں بالکنی سے کود جاؤ،،، شافع کھڑے ہوکر کرسی پر سے اپنا کوٹ اتارنے لگا،،، اسے دیکھ کر نور بھی کھڑی ہوگئی، اور اگر کوئی آیا تو؟ شافع اسکے قریب آیا، کوئی نہیں آئے گا کوئی آیا بھی تو تم پوچھ کے دروازہ کھولنا،،، شافع نور کے کچھ زیادہ ہی قریب آکر کھڑا ہوگیا تھا نور آہستہ آہستہ پیچھے ہونے لگی، شافع نے اسکے گال پر ہاتھ رکھا،،،نور کی تو سانس ہی رک گئی،،، شافع اسکا گال اپنے انگھوٹے سے سہلاتا ہوا بولا… اپنا خیال رکھنا، کھانا کھالینا اور……..! نور نے گھبراتے ہوئے نظریں اٹھا کر اسکی طرف دیکھ کر پوچھا اور کیا؟؟؟ شافع نے اسکے ماتھے پر سے بال پیچھے کئے “اور مجھے یاد کرتی رہنا”

نور جھینپ کر فوراً پیچھے ہوئی اسکی اس حرکت پر شافع نے مسکراتے ہوئے گردن جھکا لی،،،،پھر الٹے قدموں پیچھے ہوتے ہوئے بولا ٹھیک ہے پھر میں جارہا ہوں،،،، نور اسکے پیچھے اسے دروازے تک چھوڑنے آئی شافع نے مڑ کر اس پر ایک بھرپور نگاہ ڈالی،،، اور خدا حافظ بول کر چلا گیا نور دروازہ بند کر کے اندر آگئی،،،،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زایان آفس کے لئے تیار صوفے پر موبائل تھامے بیٹھا تھا وہ تصویریں آگے پیچھے کر کے دیکھ رہا تھا جو اسنے تاشفہ کی فائل میں سے لی تھیں،،، جب وہ ساری تصویریں دیکھ چکا تو اسکے چہرے پر ایک فاتحانہ مسکراہٹ آئی،،، یہ تو بہت ہی کام کی چیز ہے ویسے، اب دیکھنا یہ ہے کہ شافع ان کو استعمال کس طرح کرتا ہے,,,,,

زایان مسکراتے ہوئے اٹھا اور شیشے میں دیکھ کر اپنا جائزہ لینے لگا، اتنے میں ارفہ بیگم اسکے کمرے میں آئیں زایان تم ناشتے میں کیا کھاؤ گے؟ زایان اپنے بال سیٹ کرتے ہوئے بولا ماما ابھی تک ناشتہ نہیں بنا مجھے ویسے ہی دیر ہو رہی ہے,,,, ارفہ بیگم اسکے سامنے آتے ہوئے بولیں مجھے اور بھی کام ہوتے ہیں اور میں تمھے کب سے آوازیں لگا کر نیچے بلا رہی تھی لیکن تمھارے کان میں تو جوں تک نہیں رینگی،،، زایان نے دانت نکالتے ہوئے ارفہ بیگم کے گلے میں ہاتھ ڈالا ارے ماما میرے سر میں جوں ہو گی تو رینگے گی نہ…. ارفہ بیگم نے اسکے سر پر چپت لگائی زایان نے فوراً گردن نیچے کی ماما بال نہیں خراب کیا کریں کتنی مشکل سے سیٹ کرتا ہوں میں،،،، زایان پھر سے شیشے میں دیکھ کر بال سیٹ کرنے لگا،،، ارفہ بیگم اسے دیکھتے ہوئے بولیں اب تمھے دیر نہیں ہورہی…. زایان انکی طرف مڑا ہاں ہو رہی ہے اسلئے صرف تین پراٹھے بنادیں ابھی پھر میں آفس میں جاکر ناشتہ کر لوں گا،،،،

ارفہ بیگم نے آنکھیں گھمائیں اور کمرے سے جاتے ہوئے بولیں اب اگر تمھاری زلفیں سنور جائیں تو فٹافٹ نیچے آؤ ورنہ میں نے تمھے پراٹھوں کی جگہ چپٹا کھلانا ہے….

زایان شرارت سے بولا اچھا پھر ایسا کریئے گا چمٹے میں ادرک تھوڑی کم ڈالئے گامجھے زیادہ پسند نہیں ہے،،، ارفہ بیگم اسے مارنے کے لئے وآپس مڑیں تو زایان فوراً اپنے بال بچاتے ہوئے بولا ارے ارے ماما مزاق کر رہا ہوں بال مت خراب کرئے گا،،،، ارفہ بیگم نے اس پر ایک گھورنے والی نگاہ ڈالی اور باہر چلی گئیں،،،

زایان نے ایک آخری بار اپنے بالوں پر ہاتھ پھیرا کوٹ، موبائل اور گاڑی کی چابیاں اٹھاتے ہوۓ کمرے سے باہر نکل گیا تیزی سے سیڑھیاں اترتے ہوئے وہ نیچے آیا اور کچن کے سامنے لگی ڈائنگ ٹیبل پر آکر بیٹھ گیا،،، حیدر صاحب آج کل کسی اہم کیس میں مصروف تھے اسلئے وہ جلدی ہی آفس چلے گئے تھے میراب لاؤنج میں کتابیں کھولی بیٹھی تھی،،،،، زایان نے ٹیبل پر پڑے ایک ٹشو کا گولہ بنا کر میراب کو مارا،،، آج موٹے لوگ گھر پر کیوں ہیں کالج نہیں جانا کیا؟ میراب نے خون خوار نظر اس پر ڈالی کیا آپ کو نظر نہیں آرہا میں پڑھ رہی ہوں،،، زایان نے اپنی آنکھوں کے نیچے کی کھال انگلی سے کھینچی نہیں مجھے موٹے لوگوں کے سامنے چھوٹی چھوٹی کتابیں نظر ہی نہیں آئیں اپنی بات پر اسنے خود ہی قہقہہ لگایا، اور میراب کے غصے کا کوئی تاثر لئے بغیر پلیٹ میں چمچہ بجانا شروع ہوگیا ماما پلیز جلدی کر دیں دیر ہورہی ہے،،، میراب اسے دیکھ کر بھنویں اٹھاتے ہوئے بولی دیر ہو رہی ہے تو چلے جائیں نہ ٹھوسے بغیر بھی کام ہو سکتا ہے،،، زایان اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر میراب کو بولا “خاموش”

ارفہ بیگم نے پراٹھے اسکے سامنے لاکر رکھے اور آملیٹ بھی زایان نے نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ،،، اور فٹافٹ کھانا شروع کر دیا، ارفہ بیگم اپنی چائے کا کپ لے کر اسکے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گئیں زایان کھانے میں مصروف تھا ارفہ بیگم نے چائے کا گھونٹ لے کر کپ رکھا پھر زایان کو دیکھتے ہوئے بولیں ، زایان میں اور تمھارے بابا سوچ رہے ہیں کہ کیوں نہ تمھاری شادی کر دیں اب؟؟؟ زایان نے نظریں اٹھا کر انکی طرف دیکھا اور مسکراتے ہوئے بولا ” بہت اچھا سوچ رہے ہیں ویسے” ارفہ بیگم خوش ہوتے ہوئے بولیں پھر میں لڑکی دیکھنا شروع کروں؟؟؟ زایان نے پراٹھا منہ میں ڈالا اور مصروف سے انداز میں بولا نہیں ابھی رہنے دیں ہو سکتا ہے ڈھونڈنے کی ضرورت ہی نہ پڑے،،، ارفہ بیگم نے بھنویں سکیڑ کر پوچھا کیا تم نے لڑکی ڈھونڈ لی ہے؟

میراب چینختی ہوئی کھڑی ہوئی یہ کب ہوا مجھے پتا کیسے نہیں چلا؟؟ زایان نے اسے گھور کر کہا خاموش ہو کر بیٹھی رہو… زایان ارفہ بیگم کی طرف دیکھ کر بولا نہیں میں ابھی کچھ کہہ نہیں سکتا میں آپ لوگوں کو کچھ دنوں میں پوری بات بتاؤں گا،،، ارفہ بیگم نے اسے دیکھ کر اچھنبے سے پوچھا کیا تم اس لڑکی کو پسند کرتے ہو؟ زایان ہنسا ماما پہلی بات تو یہ کہ آپ یہ پوچھیں کہ کیا تم اس لڑکی سے محبت کرتے ہو؟ کیونکہ پسند اور محبت میں فرق ہوتا ہے پسند ہزاروں آجاتے ہیں لیکن محبت ایک سے ہوتی ہے، ارفہ بیگم بھنویں چڑھاتے ہوئے گردن ہلا کر بولیں اچھا تو تم محبت کرتے ہو اس سے،،، زایان کا ہاتھ رکا ہاتھ آگے کرتے ہوئے بولا ایک منٹ منٹ… کس نے کہا کہ میں محبت کرتا ہوں یہ محبت وحبت والا سسٹم میرے اندر فٹ نہیں کیا گیا، تو پھر جب محبت نہیں کرتے تو شادی کیوں کرنا چاہتے ہو اس سے زایان بھنویں اٹھاتے ہوئے بولا ضروری تو نہیں جس سے شادی ہو اس سے پہلے سے محبت ہونا ضروری ہے، اگر ایسا کچھ ہوا پھر تو میں زندگی بھر کنوارہ ہی رہوں گا،،، ارفہ بیگم سر تھام کر بولیں زایان تم مجھے پاگل کر دو گے مجھے تمھاری کچھ سمجھ نہیں آرہی زایان ٹشو سے ہاتھ صاف کر کے ارفہ بیگم کے گال کھینچتے ہوئے بولا میں سمجھا دوں گا سب لیکن بعد میں،،، ابھی مجھے دیر ہو رہی ہے زایان اٹھنے لگا تو ارفہ بیگم اٹھتے ہوئے بولیں اچھا سنو تمھارے بابا نے کہا ہے کہ آج رات شافع کو ڈنر پر انوائیٹ کر دینا اور اسے کہنا اپنی بیوی کو ساتھ لے کر آئے،،،

جب اے بزنس شروع کیا ہے یہ لڑکا شکل ہی نہیں دیکھاتا،،، حیدر صاحب اور ارفہ بیگم شافع کے نکاح والی صورتحال سے پوری طرح آگاہ تھا اور وہ ان لوگوں میں سے نہیں تھے جو رائی کا پہاڑ بنائیں شافع انھے ویسے بھی زایان کی طرح پیارا تھا تو وہ سب کچھ سمجھتے تھے،،، زایان سر پر ہاتھ لیجاتے ہوئے سلوٹ کرنے والے انداز میں بولا،، اوکے باس اور کوئی حکم؟ ارفہ بیگم نے اسکے سر پر چپت لگائی،،، زایان چینخھا ماما،،،، پھر بال خراب کر دیئے یار،،، وہ خفا ہوتے ہوئے وہاں سے جانے لگا تو میراب پیچھے سے بولی شافع بھائی کو بولئے گا کہ رات کو آتے ہوئے میرے لئے ڈونٹ لے کر آئیں،،، زایان اسے منہ چڑھاتے ہوئے بولا تم خود ڈونٹ جیسی ہو رہی ہو تمھے ڈونٹ کی کیا ضرورت… میراب نے دانت پیستے ہوئے کشن کھینچ کر اسکو مارا لیکن زایان بچ کر باہر چلا گیا،،،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شافع آفس پہنچا اسنے وائٹ شرٹ کے ساتھ رؤیل بلو رنگ کا کوٹ پینٹ پہن رکھا تھا،،، ایک ہاتھ گھڑی اور آنکھوں پر گلاسیز اسنے گاڑی آفس کے سامنے روکی آفس کے باہر گارڈز اسے عام دن سے کچھ زیادہ لگے،،، گارڈز نے اسے سلام کیا انکے سلام کا جواب دے کر وہ اندر آیا،،، اسکے کالیگ نے ہمیشہ کی طرح اسکی آمد پر مسکرا کر سلام کیا، اور اسے نکاح کی مبارک باد بھی دی شافع بھی مسکرا کر ان سے ملا کچھ لوگوں نے تو مٹھائی کی فرمائش بھی کر دی تھی، شافع نے ایک ورکر سے سب کے لئے مٹھائی کے ڈبوں کا انتظام کرنے بھی کہہ دیا،،،، اسکے آفس کے اسٹاف کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں تھی،،،، شافع اپنے کمرے کی طرف جانے لگا مینیجر اسکے پاس آیا سلام دعا کے بعد شافع نے اس سے پوچھا آفس کے باہر سیکیورٹی کیوں زیادہ ہے،،، مینیجر بولا سر میں نے احتیاط کے طور پر سیکیورٹی اہلکار تعینات کروادیے تھے آپ کو بھی اپنے ساتھ سیکیورٹی رکھنی چاہیے تھی سر،،، شافع اپنے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے بولا مجھے اس سب کی ضرورت نہیں ہے آپ یہ بتائیں میں نہیں آیا تھا تو کوئی مسئلہ تو نہیں ہوا؟ مینجر نفی میں گردن ہلاتے ہوئے بولا نہیں سر کوئی مسئلہ تو نہیں ہوا بس میڈیا نے ذرا تنگ کیا تھا لیکن جب آپکے نکاح کی خبر چلی تو سب کچھ تھوڑا بہت نارمل ہوتا گیا لیکن پھر انکا یہ سوال تھا کہ یہ نکاح کب ہوا؟ شافع بالوں میں ہاتھ پھیرتا ہوا بولا اب اگر پوچھیں تو انکو کہہ دینا تین سال پہلے نکاح ہوا تھا اور شافع کی ایک سال کی بیٹی بھی ہے اسکی برتھ ڈے میں آپ سب کو ضرور بلائیں گے، مینیجر ہنسا،،

زایان آگیا کیا؟؟؟ نہیں سر زایان سر تو ابھی تک نہیں آئے ہیں،،، شافع نے اثبات میں گردن ہلائی چلیں ٹھیک ہے اب سب کام پر لگیں،،، اور باقی سارے پروجیکٹس کی ڈیٹیل آپ مجھے بھیج دیں،،،، مینیجر اثبات میں سر ہلا کر باہر چلا گیا،،، شافع نے اپنا لیپ ٹاپ آن کر کے ریسیور اٹھایا،،، جی مس آنم آپ میرے آفس میں آئیں یہ کہہ کر اسنے ریسیور رکھ دیا،،، کچھ دیر بعد دروازہ کھٹکھٹا کر ایک لڑکی اندر آئی جی سر آپ نے مجھے بلایا؟ شافع نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا،،، وہ شافع کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گئی،،، آنم آپ مجھے تاشفہ کے بارے میں معلومات حاصل کر کے دے سکتی ہیں؟ اس لڑکی نے نا سمجھی سے پوچھا سر کس طرح کی معلومات؟ شافع بولا مطلب وہ کس طرح کی رپورٹ بناتی ہے اسکے چینل میں اسکی کیا اہمیت ہے وغیرہ وغیرہ…. اس لڑکی نے اثبات میں سر ہلایا ٹھیک ہے سر میں کوشش کروں گی،،، شافع نے اثبات میں گردن ہلائی ٹھیک ہے لیکن دھیان رہے یہ بات آپ کے علاوہ کسی اور تک نہ پہنچے وہ لڑکی کھڑے ہو کر اثبات میں سر ہلا کر باہر چلی گئی، شافع وآپس اپنے کام میں مصروف ہوگیا،،،، اسے کام کرتے ہوئے کچھ دیر ہوئی تھی جب زایان اسکے آفس میں داخل ہوا شافع نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا،،، زایان دانت نکالتے ہوئے اسکے سامنے بیٹھتا ہوا بولا کیا ہوا ایسے کیوں گھور رہے ہو؟

شافع اسکی طرف دیکھ کر بولا ٹائم دیکھا ہے تم نے؟ زایان اثبات میں گردن ہلاتے ہوئے بولا ہاں بالکل دیکھا ہے بہت ہی غلط وقت چل رہا ہے یار کوئی کسی کا نہیں ہے لیکن پھر بھی ہم دونوں ایک دوسرے کے ہیں،،، شافع نے پین انگلیوں سے گھماتے ہوئے پیچھے کرسی سے ٹیک لگائی زایان اپنا موبائل نکالتے ہوئے بولا بری بری شکلیں بنانا بند کرو میں ایسا کچھ لایا ہوں کہ تم میری تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکو گے،،، شافع نے بھنویں اٹھائیں اچھا ایسی بات ہے؟ زایان موبائل اسکے آگے کرتے ہوئے بولا ہاں بالکل ایسی ہی بات ہے….

شافع نے موبائل ہاتھ میں لیا یہ کیا ہے؟ زایان ہاتھ گدی پر رکھ کے کرسی سے ٹیک لگاتے ہوئے بولا پڑھ کر دیکھو خود ہی پتا چل جائے گا،،،، شافع نے ان تصویروں میں موجود صفحے پڑھنا شروع کئے،،،، کچھ صفحے پڑھ کر اسنے نظریں اٹھا کر زایان کو دیکھا زایان فخریہ انداز میں مسکرا کر اسے دیکھ رہا تھا شافع نے دوبارہ نظریں موبائل پر ڈال کر پڑھنا شروع کیا،،،، سارے صفحے پڑھنے میں اسے کم سے کم پندرہ منٹ لگے ان پندرہ منٹوں میں کمرے میں خاموشی رہی تھی،،،

شافع نے موبائل ٹیبل پر رکھا اور زایان کی طرف دیکھ کر مشکوک نظروں سے پوچھا کیا ہے یہ سب؟ زایان دونوں ہاتھ ٹیبل پر رکھ کر آگے جھکا اور سیدھا شافع کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا تاشفہ اس رپورٹ پر کام کر رہی ہے،،،، شافع کی آنکھیں پھٹیں،،،، اور اچانک کرسی سے اٹھ گیا تم سچ کہہ رہے ہو؟ زایان نے منہ پر ہاتھ رکھ کر اثبات میں گردن ہلائی،،،

شافع تیزی سے زایان کی طرف دوڑا زایان ڈر گیا… کیا ہوا بھائی؟ شافع نے اسے کھڑے ہونے کا اشارہ کیا،،، زایان کھڑا ہوا تو شافع نے اسے زور سے گلے لگایا تمھے نہیں پتا کہ تم تاشفہ کی سانسیں اٹھا لائے ہو یار…. زایان مسکراتے ہوئے شرارت سے بولا بس بھائی الگ ہوجا ورنہ کوئی آگیا تو کیا سوچے گا،،،، شافع اس سے الگ ہوا اور اسکے سینے پر مکا مارا زایان نے خود کو دوھائی دی،،، لیکن تمھے یہ ملا کیسے؟, زایان بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا بس بھائی یہ مت پوچھو جان پر کھیل کر لایا ہوں،،، اگر اس چوڑیل تاشفہ کو پتا چل جاتا نہ تو وہ تو مجھے سیدھا جیل میں بند کرواتی،،، شافع وآپس اسکے گلے لگا،،،، یار تمھے نہیں پتا یہ میرے کتنے کام آئے گا،،، شافع الگ ہوا تو زایان بولا تمھارا کام تو ہوگیا اب میرے کام کا کیا۔ ۔ ۔ ۔ ؟ شافع اسکے گلے میں ہاتھ ڈالتے ہوئے بولا ہاں بھائی لنچ ،ڈنر سب کر وادوں گا… زایان نفی میں گردن ہلاتے ہوئے بولا نہیں اس بار لنچ ڈنر نہیں،، شافع بھنویں اٹھاتے ہوئے بولا تو پھر کیا چاہیے؟ زایان پہلے اسے اعتماد میں لیتے ہوئے بولا غصہ تو نہیں کرو گے؟ شافع بھنویں میچ کر بولا غصہ کیوں کروں گا تم بتاؤ کیا چاہیے؟زایان نے جھجھکتے ہوئے گردن جھکائی وہ دراصل مجھے……!

اسکا جملہ مکمل ہونے سے پہلے شافع بولا ایک منٹ ایک منٹ…! زایان حیدر کچھ مانگنے کے لئے جھجھک رہا ہے بات کچھ عجیب سی ہے،،، زایان مسکرایا، چلو اب بتاؤ بھی کیا چاہئے؟ زایان ٹھہر ٹھہر کر بولا مجھے کسی کا نمبر چاہیئے،،،، شافع نے بھنویں اٹھاتے ہوئے پوچھا کس کا؟ زایان خاموش ہوا پھر آہستہ سے بولا “ارحام کا” شافع کو کچھ سمجھ نہیں آیا تو اسنے تعجب سے پوچھا ارحام کا نمبر لیکن تم کیا کرو گے؟؟؟ زایان نے سانس کھینچا اور شافع کی طرف دیکھ کر بولا مجھ پر یقین کرتے ہونا؟ شافع کندھے اچکا کر بولا ظاہر سی بات ہے، تو بس پھر مجھے اسکا نمبر دے دو میں پہلے اس سے بات کروں گا پھر تمھے سب کچھ بتاؤں گا، شافع نے بھنویں اچکا کر اسے مشکوک نظروں سے دیکھا معملہ کچھ گڑبڑ لگ رہا ہے مجھے…. زایان ہنسا اور اسے آنکھ مارتے ہوئے بولا “ہو سکتا ہے لیکن سب سنبھالنا تمھے ہی پڑے گا…. شافع حیرت سے بولا مطلب جو میں سمجھ رہا ہوں وہ سچ ہے؟ مطلب یہ کیسے ہو سکتا ہے ارحام اور تم……؟ مجھے تو کچھ سمجھ ہی نہیں آرہا،،، زایان نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا میں سب سمجھادوں گا لیکن ابھی نہیں بعد میں تم مجھے نمبر دو اسکا شافع موبائل نکالتا ہوا بولا ٹھیک ہے دے دیتا ہوں، لیکن کچھ الٹا سیدھا نہیں ہونا چاہیے،،،، زایان مسکراتے ہوئے بولا یقین رکھو یار،،،

شافع نے زایان کے سینے پر مکا مارا مجھے جلد سے جلد سب بتا دینا…. زایان نے اثبات میں گردن ہلائی،،، اور اسکے آفس سے جانے لگا لیکن پھر وآپس مڑا،،، اوہ میں تمھے بتانا بھول گیا ماما بابا نے تمھے اور آئےنور کو ڈنر پر بلایا ہے…. شافع نے پوچھا آج….؟ زایان گردن ہلاتا ہوا بولا ہاں آج اور میراب نے کہا ہے کہ آتے ہوئے اسکے لئے ڈونٹ لے آنا….. شافع نے بھنویں اٹھاتے ہوئے پوچھا اور تم بھی بتا دو تمھارے لئے کیا لے کر آؤں؟ زایان نے دانت نکالتے ہوئے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا سمجھ دار ہو بہت…. میرے لئے تو جو تم خوشی سے لاؤ گے کھا لوں گا آخر چڑیا جیسی تو خوراک ہے میری،،،، زایان نے قہقہہ لگایا شافع نے کانچ کا پیپر ویٹ اسے مارنے کے لئے اٹھایا تو وہ تیزی سے قہقہہ لگاتے ہوئے کمرے سے نکل گیا…..

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آئےنور گھر میں اکیلی بور ہوگئی تھی کچھ کرنے کو ہی نہیں تھا شافع نے کام کاج کے لئے ایک ملازمہ رکھ دی تھی جو صفائی اور باقی کام وغیرہ آکر کر جاتی تھی،،، کھانا فریج میں رکھا ہوا تھا،،، کچھ دیر وہ لاؤنج میں بیٹھی رہی پھر کمرے میں آگئی،،، اور بک شیلف کی طرف بڑھی اسنے کتابیں دیکھیں لیکن وہاں اسکے مطلب کی کوئی کتاب نہیں تھی،،، ٹھلتے ٹھلتے وہ شافع کی ورڈ روب کی طرف آئی اسنے سوچا اسکے کپڑے بکھرے ہوئے رکھے ہونگے تو وہ اسکی ورڈ روب ہی سیٹ کر دے گی,, لیکن جب اسنے ورڈ روب کھولی تو کچھ بھی بکھرا ہوا نہیں تھا سب کچھ سیٹ تھا،،، نور نے کوفت سے ایک لمبا سا سانس لیا اور ورڈ روب بند کر کے ڈریسنگ کی طرف آگئی،،، ڈریسنگ پر سات، آٹھ پرفیوم رکھے تھے، نور نے ایک پرفیوم کی بوتل اٹھا کر اپنی آستین کے کونے پر اسپرے کیا،،، خوشبو اتنی تیز تھی کہ اچانک سونگھنے سے نور کو کھانسی آگئی،،،، نور نے آنکھیں میچتے ہوئے کہا اللہ اتنا تیز پرفیوم،،،، اسنے وہ پرفیوم رکھ کر دوسرا اٹھایا اور اسے سونگھا اسے سونگھ کر نور کو اندازہ ہوا کہ شافع نے آج یہ پرفیوم لگایا تھا،،، اسنے ایک ایک کر کے سارے پرفیوم چیک کئے سب کی خوشبو ایک سے بڑھ کر ایک،،، پھر اسنے ڈریسنگ کے نیچے والی دراز کھولی اس میں کچھ کتابیں رکھیں تھی کتابوں کو ادھر ادھر کر کے اسنے دیکھا پھر کوفت سے آنکھیں گھما کر دراز بند کرنے لگی لیکن اچانک رکی اور پوری دراز کھولی پیچھے کی طرف اسے ایک البم نظر آیا،،،، نور نے آہستہ سے وہ البم نکالا اور دراز بند کر دی، البم لے کر وہ بیڈ پر آکر بیٹھی اور البم کھول کر دیکھنے لگی،، سب انجان چہرے بس اگر ان تصویروں میں وہ کسی کو پہچان پائی تھی تو شافع کو اس میں شافع کے بچپن کی تصویریں تھیں، نور کے چہرے پر مسکراہٹ آئی،،، ایک تصویر میں چھوٹا سا شافع کسی کے گلے لگا ہوا تھا، اس تصویر میں شافع کی ہلکی بھوری آنکھیں بہت واضح تھیں وہ جس کے گلے لگا ہوا تھا انکی شکل نظر نہیں آرہی تھی،،،، نور نے آگے کی تصویریں دیکھنا شروع کیں،،، اچانک وہ ایک تصویر پر رک گئی،،، یہ تصویر تو شاید میں نے پہلے بھی دیکھی ہے…. اسے یاد آیا سائڈ ٹیبل کی دراز میں ایک تصویر تھی یہ وہی تصویر لگ رہی ہے، اسنے فوراً سائڈ ٹیبل کی دراز کھولی، تصویر وہاں نہیں تھی اسنے بہت تلاش کیا لیکن وہ تصویر اسے نہیں ملی،،، اسنے سوچا چھوڑو شاید شافع نے کہیں رکھ دی ہوگی وہ وآپس تصویروں کی طرف متوجہ ہوئی،،،،

آگے کافی تصویریں شافع کی انھی کے ساتھ تھیں،،، نور سوچ میں پڑ گئی آخر یہ ہے کون؟ وہ انھی سوچوں میں گم تھی جب اسکا موبائل بجنے لگا… موبائل لاؤنج میں رکھا تھا تو وہ تصویریں وآپس دراز میں رکھ کر لاؤنج میں آئی، موبائل اٹھا کر دیکھا شافع کا فون تھا کال ریسیو کر کے اسنے موبائل کان سے لگا لیا…. ہیلو… دوسری طرف سے شافع کی آواز آئی کیسی ہو؟ میں ویسی ہی ہوں جیسی صبح چھوڑ کے گئے تھے،،، شافع مسکراتے ہوئے بولا مطلب ٹھیک نور نے گردن ہلاتے ہوئے کہا ہممم… شافع نے شرارت سے پوچھا مجھے یاد کر رہی تھیں؟ نور فوراً بولی نہیں تو… شافع مسنوعی سا خفا ہو کر بولا یہ تو غلط بات ہے پھر، اب میں دیر سے آؤں گا گھر…. نور فوراً بولی نہیں تم دیر سے مت آنا پلیز مجھے اکیلے گھر میں وحشت ہو رہی ہے،،، شافع ہنسا،،، نور بولی اچھا سنو تم آکر مجھے گروسری کے لئے لے جانا کھانا بنانے میں میرا کچھ ٹائم پاس بھی ہوجائے گا،،، شافع بولا ٹائم پاس کرنے کے اور بھی طریقے ہیں تم ٹی وی دیکھ لیا کرو بکس پڑھ لیا کرو…. مجھے ٹی وی دیکھنا نہیں پسند اور تمھارے گھر میں میرے مطلب کی کوئی کتاب نہیں ہے،،، شافع بولا اچھا پھر ہم کل پرسوں چلیں گے تمھے جو کچھ لینا ہو لے لینا،،،، آج کیوں نہیں،،؟ شافع کرسی گھوماتے ہوئے بولا آج ہمیں زایان کے گھر ڈنر پر جانا ہے….

نور فوراً بولی ڈنر پر لیکن کیوں؟ شافع اچھنبے سے بولا کیوں کا کیا مطلب؟ زایان کے پیرنٹس نے ہمیں انوائیٹ کیا ہے… نور اپنے ناخنوں پر انگلی پھیرتے ہوئے بولی میں نہیں جاؤں گی تم چلے جانا… شافع سیدھا ہوا تم کیوں نہیں جاؤ گی؟ میں ابھی لوگوں کو فیس کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں شافع…. شافع سانس کھینچ کر بولا تم لوگوں کو فیس کرنے کی وجہ سے زندگی بھر چھپ کے تو نہیں رہ سکتیں،،، نور نفی میں گردن ہلاتے ہوئے بولی نہیں میں گھر پر ہی رہوں گی،،، شافع نے سانس کھینچا،،، “تم کیوں ڈرتی ہو میں ہوں نہ تمھارے ساتھ”

یہ الفاظ نور کو کانوں کے ذریعے اپنے دل پر اترتے ہوئے محسوس ہوئے کیا نہیں تھا ان لفظوں میں نور نے آنکھیں بند کر کے سوچنا چاہا کہ اس وقت شافع کے علاوہ کون ہے جو اسے سہارہ دے سکتا ہے کون ہے جو ہر چیز کو نظر انداز کر کے اس کی خوشیوں کو چاہتا ہے نور کو ارد گرد کے اندھیرے میں صرف شافع وارثی کا چہرہ نظر آیا،،،

“ہاں صرف شافع وارثی ہے جو اسکے ساتھ ہے” نور نے آنکھیں کھول دیں،،، دوسری طرف سے شافع بولا کیا ہوا چپ کیوں ہو گئیں،،، اس کی بات کا جواب دینے کے بجائے نور بولی ٹھیک ہے میں چلوں گی تمھارے ساتھ،،، شافع مسکرایا،،، ٹھیک ہے پھر تم اپنے کپڑے پریس کر کے رکھ لو،،، نور نے اس سے پوچھا تم کیا پہنو گے… شافع مسکراتے ہوئے بولا “جو تمھے اچھا لگے”…. نور خاموش ہوگئی،،، شافع اسے ذچ کرنے کے لئے بولا اگر کوئی دو پیار بھرے بول بول رہا ہے تو انسان دوسرے پر ترس کھا کر ہی پیارا سا جواب دے دیتا ہے،،، نور نے گردن جھکائی شافع مجھے وقت چاہیے،،، شافع پیار بھرے لہجے میں بولا جتنا وقت چاہیے لے لو مجھے کوئی جلدی بھی نہیں ہے،،، اب میں فون رکھوں؟ تم بزی ہوگے… شافع کرسی سے ٹیک لگا کر بولا نہیں میں بالکل بھی بزی نہیں ہوں تم بات کرو…. میں کیا بات کروں؟ شافع بھنویں اٹھاتے ہوئے بولا کچھ بھی،،،، نور بولی تم نے اپنے بابا سے بات کی؟؟؟ شافع نے کوفت سے آنکھیں گھمائیں،،،، میں نے ہمارے بارے میں بات کرنے کو کہا ہے نور….. نور آہستہ سے بولی تمھارے بابا ہماری شادی کو ایکسیپٹ نہیں کر رہے ہونگے تمھے میری وجہ سے بہت پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہوگا….

شافع سر پر ہاتھ رکھ کر بولا نور تم یہ گلٹ اپنے اندر سے نکال دو کے مجھے تمھاری وجہ سے کسی پریشانی کا سامنا ہے یا تمھاری وجہ سے مجھے کوئی مشکلات پیش آرہی ہیں مجھے کسی سے کوئی مطلب نہیں ہے،،،،، نور بولی لیکن وہ تمھاری فیملی ہے تم میری وجہ سے اپنے بابا سے بات نہیں کر رہے ہونگے…. “میری فیملی صرف تم ہو نور” میرے لئے تم کیا سوچتی ہو یہ معنی رکھتا ہے دوسرے کیا سوچتے ہیں وہ نہیں اور تم یہ مت سمجھو کہ تمھاری وجہ سے میری بابا سے کوئی ناراضگی چل رہی ہے اس سے پہلے بھی ہمارے تعلقات کچھ خاص نہیں تھے….

نور الجھی کیا مطلب….؟ شافع خاموش ہوگیا، نور مجھے کام ہے بعد میں بات کروں گا…. شافع نے کال کاٹ دی، نور نے الجھن سے فون دیکھا پھر سر جھٹک کر کھڑی گئ،،، اور اندر کمرے میں آکر شافع کی ورڈ روب کی طرف بڑھی،،، تھری پیس سوٹ، پینٹ، ٹی شرٹ، شلوار قمیض سب کے خانے الگ الگ بنے ہوئے تھے نور نے اسکی شلوار قمیض کے کھانے کو آگے پیچھے کیا،،، اسنے ایک وائٹ اور ایک بلیک کلر کی شلوار قمیض نکالیں ان دونوں میں سے کوئی ایک چننا اسکے بس میں بالکل نہیں تھا اسلئے اسنے دونوں ہی باہر نکال کر ٹنگا دیں شافع کو جو پسند ہوگی وہ پہن لے گا… پھر نور اپنے سوٹ کیس کی طرف بڑھی اپنے کپڑے اسنے ابھی تک سیٹ نہیں کئے تھے،،،، اپنے نئے کپڑوں میں سے اسنے ایک ریڈ کلر کا جوڑا نکالا یہ جوڑا اسکی شادی کی تیاریوں کے دوران ارمینہ بیگم نے بہت شوق سے اسکے لئے لیا تھا،،، اس جوڑے کو دیکھتے ہی اسے ارمینہ بیگم اور انکے الفاظ دونوں بہت شدت سے یاد آئے تھے ” نور یہ جوڑا تم شادی کے بعد کسی ڈنر پر پہننا تم پر یہ رنگ بہت اچھا لگے گا” نور نے اس سوٹ کو اپنے سینے سے لگا کر آنکھیں بند کیں آنسؤں کی لڑی اسکے گال پر بہہ گئی،،،،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تاشفہ اپنے آفس میں بیٹھی تھی جب اسنے ای میل چیک کیا جو اسے کچھ دیر پہلے موصول ہوا تھا،،، اور ای میل دیکھ کر اسکی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی اس ای میل میں وہ ساری انفارمیشن تھی جو اسنے تیار کی تھی،،، وہ ای میل دیکھ کر سن بیٹھی تھی جب گارڈ نے آکر اسے ایک چھوٹا سا پارسل دیا،،، تاشفہ نے فٹا فٹ وہ پارسل کھولا مٹھائی کا ڈبہ تھا،،، اور ساتھ ہی ایک نوٹ بھی لگا ہوا تھا،،، تاشفہ نے نوٹ ڈبے سے نکال کر اپنی نظروں کے سامنے کیا،،، میری شادی کی مٹھائی،،،، امید ہے تمھے سرپرائز پسند آیا ہوگا،،، نیچے کونے پر لکھا تھا شافع وارثی،،، تاشفہ نے چینختے ہوئے مٹھائی کا ڈبہ ٹیبل پر پھینکا اور والہانہ انداز میں موبائل کی طرف بڑھی اور نمبر ڈائل کرنے لگی،،،

کال ریسیو کر لی گئی اور دوسری طرف سے آواز آئی ڈی،ایس،پی سراج عالم،،، تین غیر قانونی بار کا مالک، جو ایک دن میں تین سے چار لاکھ روپے کماتے ہیں، تین قتل کیس اور تین سو ایکڑ زمین پر ناجائز قبضہ یہی رپورٹ تیار کی ہے نہ تم نے اس پولیس والے کی؟ تاشفہ دھاڑی تمھے یہ سب معلومات کہاں سے ملیں شافع…. شافع ہنسا اب اتنی پہنچ تو ہے ہماری کہ یہ چھوٹی موٹی خبروں کا پتا لگا لیں،،،، اور دوسری رپورٹ تم نے کسی جج پر تیار کی ہے “اسنے پیسے کھا کر کوئی بیس پچیس کیس کا فیصلہ پیسے کھلانے والوں کے حق میں کیا ہے اور اسکی کوئی خوفیہ ویڈیو بھی ہے تمھارے پاس جو تم اپنے چینل پر چلواؤ گی

am I right?

تاشفہ سر تھام کر کرسی پر بیٹھ گئی،،، اسنے یہ رپورٹ پورے چار مہینے لگا کر تیار کی تھی اور یہ رپورٹ اسے خوفیہ طور پر تیار کرنے کا حکم دیا گیا تھا جو کہ اسکے چینل کی طرف سے آرڈر تھا یہ نیوز سب سے پہلے اسکا چینل بریک کرتا،،،، تاشفہ کو اس نیوز کے بدلے بہت کچھ ملتا وہ زمین سے آسمان پر پہنچ سکتی تھی کیونکہ یہ خبر بہت بڑی تھی،،،،

شافع دوبارہ بولا ہاں تو تاشفہ میں یہ کہہ رہا تھا کہ اگر میں یہ نیوز کسی اور چینل کو بیچ دوں تو؟؟؟ تاشفہ فوراً بولی نہیں… نہیں شافع تم ایسا کچھ نہیں کرو گے…. شافع نے مسکراتے ہوئے بھنویں اٹھائیں میں ایسا بالکل کروں گا تاشفہ…. چلو یہ سب چھوڑو اور تم یہ سوچو اگر میں اس ڈی ایس پی یا چیف جسٹس کو تمھارا نام دے دوں یا اگر انھے پتا چل جائے کہ انکی اتنی خوفیہ معلومات تمھارے پاس ہیں جو تم اپنے چینل کو بیچنے والیں تھیں تو ذرا سوچو وہ تمھارے ساتھ کیا کریں گے… تمھارے چینل پر نیوز بریک ہونے کے بعد تو ظاہر سی بات ہے وہ تمھارے ساتھ کچھ کرنے کے بجائے اپنے فرار کے راستے ڈھونڈتے اور تمھارا نام انھے کبھی پتا بھی نہیں چلتا لیکن اگر نیوز چلنے سے پہلے ہی انھے پتا چل جائے کہ انکے خلاف تم نے یہ سب جمع کیا ہوا ہے،،،، تو تمھے پتا ہے تمھارے ساتھ کیا ہوگا…. شافع اسے ڈرانے والے انداز میں بولا تم راستے سے جارہی ہونگی،،، اور اچانک تمھاری گاڑی پر اندھا دھن فائرنگ شروع ہوجائے گی اور تم تو ایک گولی میں ہی شششییییووں….. شافع نے ہاتھ سے جہاز اڑانے کا اشارہ کیا، چلو مان لیتے ہیں ایسا نہیں بھی ہوا تو پھر ایسا ہوگا کہ اچانک تم منظر عام پر سے غائب ہو جاؤ گی ہوگا تمھارا قتل ہی،،، لیکن کچھ دنوں بعد نیوز چلے گی کہ ایک مشہور اور قابل جرنلسٹ تاشفہ شاہزیب نے اپنے ہی گھر میں پنکھیں سے لٹک کر خود خوشی کر لی، چچچچ افسوس در افسوس،،،،

تاشفہ کے پسینے چھوٹ رہے تھے اسنے اپنے چھرے پر ہاتھ پھیرا اسے پتا تھا وہ چاروں طرف سے پھنس گئی ہے،،، شافع دوباہ بولا اور اگر یہ بھی نہیں ہوا تو کچھ یوں ہوگا کہ….. شافع تم کیا چاہتے ہو یہ بتاؤ؟؟؟ تاشفہ کا چہرا زرد پڑ رہا تھا شافع ہنسا یہ ہوئی نا بات تمھاری یہی اچھی بات ہے کہ تم گھما پھرا نے کے بجائے سیدھا مدعے پر آجاتی ہوں… تاشفہ نے ضبط سے مٹھیاں بھینچ کر دانت پیسے،،،، بتاؤ تمھے کیا چاہیے… شافع نے بھنویں اٹھائیں اور سانس کھینچتے ہوئے بولا تم پریس کانفرنس بلاؤ گی۔۔۔ تاشفہ کو کچھ سمجھ نہیں آیا تو اسنے حیرت سے پوچھا پریس کانفرنس لیکن کیوں…؟

شافع دانت پیس کر بولا تم پریس کانفرنس بلاؤ گی اور اس میں تم یہ کنفیشن کرو گی کہ میری اور آئےنور کی تصویریں تم نے سوشل میڈیا پر ڈالی تھیں اپنے مفاد کے لئے اور جیسا ان تصویروں میں دیکھانے کی کوشش کی گئی تھی ویسا کچھ نہیں تھا تم بتاؤ گی کہ یہ جھوٹی تصویریں تم نے ڈالی ہیں،،، تاشفہ کو تو اپنے آگے پیچھے سناٹا چھاتا ہوا محسوس ہوا،،،، نہیں شافع میں ایسا نہیں کر سکتی میرا مستقبل داؤ پر لگ جائیں گا مجھے نوکری سے نکال دیا جائے گا…. میں یہ سب بالکل نہیں کر سکتی،،، شافو کندھے اچکا کر بولا تو یہ سب تمھارا مسئلہ ہے تاشفہ میرا نہیں،،، تمھارے پاس تین دن کا ٹائم ہے پریس کانفرنس بلاؤ اور یہ سب کنفیش کرو ورنہ تین دن کے بعد تمھاری تیار کی ہوئی رپورٹ میں کسی چینل کو بیچ دوں گا،،، لیکن نیوز بیچنے سے پہلے میں اس ڈی ایس پی اور جج کو تمھارا نام بھی بتا دوں گا اب یہ تم پر ہے کہ تمھے اپنا مستقبل زیادہ پیارا ہے یا جان شافع نے گھڑی کو دیکھا اور تمھارا ٹائم شروع ہوتا ہے اب،،،، تاشفہ چینخی شافع میری بات سنو تم ایسا کچھ نہیں کرو گے میری بات سنو،،، شافع نے فون کاٹ دیا….

فون کاٹ کر اسنے موبائل ٹیبل پر رکھا اور ایک لمبا سانس لیتے ہوئے کرسی پر بیٹھ گیا،،، وہ یہ سب نہیں کرنا چاہتا ہے لیکن وہ چاہتا تھا کہ دنیا جس طرح سوچ رہی ہے انھے پتا چلے کے ویسا نہیں ہے ان تصویروں کی وجہ سے سب سے زیادہ نور کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا، اور وہ چاہتا تھا کہ نور کی مشکلات کم ہوں اور پھر اسے تاشفہ کو سبق بھی تو سکھانا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔

شافع نے گھڑی کی طرف دیکھا پانچ بجنے والے تھے، اسنے ساری فائلیں وغیرہ سمیٹیں لیپ ٹاپ بند کیا اور اپنی چیزیں اٹھا کر جانے کے لئے کھڑا ہوگیا….

نور ٹی وی آن کئے لاؤنج کے صوفے پر لیٹی تھی اسنے اپنی اب تک کی زندگی میں اس سے پہلے اتنی بوریت بھرا دن نہیں گزارہ تھا….لیٹے لیٹے اسکی آنکھ لگ گئی تھی کچھ ہی دیر ہوئی تھی جب ڈور بیل بجی وہ ہڑبڑا کر اٹھ گئی،،، اپنا دوپٹہ سنبھالتے ہوئے وہ دروازے کی طرف بڑھی،،، شافع کی ہدایت کے مطابق اسنے دروازہ کھولنے سے پہلے پوچھا دوسری طرف سے شافع کی آواز آئی تو اسنے جلدی سے دروازہ کھولا شافع کو دیکھ کر اسے ایک انجانا سا سکون آیا تھا شافع مسکراتے ہوئے اندر داخل ہوا، اور اسکے سر پر پیار کیا،،، نور کو پہلی بار شافع کی اس حرکت پر جتنا جھٹکا لگا تھا دوسری بار اتنا نہیں لگا تھا لیکن وہ جھینپ گئی تھی…. شافع نے سلام کے بعد اس سے سب سے پہلے یہ سوال کیا “کیسی ہو” نور نے بال کان کے پیچھے کرتے ہوئے کہا “ٹھیک ہوں” شافع اسے ساتھ لئے لاؤنج کے صوفے پر آکر بیٹھا، اور مسکراتے ہوئے اس سے پوچھا دن کیسا رہا تھمارا نور آنکھیں گھماتے ہوئے بولی نہایت ہی بور… شافع ہنسا تو تم اپنی کسی دوست یا اپنے بابا سے بات کر لیتیں،،،، دوست اور بابا کا ذکر سن کر نور کو اپنے اندر تک کڑواہٹ اترتی ہوئی محسوس ہوئی،،،، نور اٹھ کر کچن کی طرف جانے لگی میں پانی لاتی ہوں تمھارے لئے,،،، شافع نے اپنی گھڑی اتار کر ٹیبل پر رکھی،،، نور نے پانی لاکر اسے تھمایا،،، نور اس سے کچھ فاصلے پر ہی بیٹھ گئی،،،، شافع نے اسکی طرف مڑ کر پوچھا کھانا کھایا تم نے؟ نور نے اثبات میں گردن ہلائی… شافع پانی کا گلاس رکھ کر اسکے قریب ہوا لگتا ہے تم کچھ زیادہ ہی بور ہوئی ہو آج؟ نور نے اثبات میں گردن ہلائی… شافع نے اسکے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لئے،،، اگر تم چاہو تو اپنی اسٹڈیز اسٹارٹ کردو سمسٹر ابھی کمپلیٹ بھی نہیں ہوا ہے میں بات کر لوں گا… نور نے نفی میں گردن ہلاتے ہوئے کہا نہیں مجھ سے اب پڑھا نہیں جائے گا… شافع نے آنکھیں بڑی کرتے ہوئے سر پیچھے کیا، کسی سے بات نہیں کرنی، اسٹڈیز اسٹارٹ نہیں کرنی تو پھر کرنا کیا ہے؟ تم ایک کام کرو میرے ساتھ آفس چلنا کل سے…. نور نے حیرت سے پوچھا کس خوشی میں؟ شافع شوخ انداز میں اسے دیکھتے ہوئے بولا تم آفس میں رہو گی تو میرا بھی دل لگا رہے گا اور تمھارا وقت بھی گزر جائے گا پھر آفس سے وآپسی میں ہم لانگ ڈرائیو پر جایا کریں گے پھر ایک اچھی سی جگہ پر ڈنر کیا کریں گے اور پھر گھر….

نور اٹھتے ہوئے بولی خیالی پلاؤ ختم ہوگیا ہو تو جاکر چینج کر لو میں کافی بنا کر لاتی ہوں،،، شافع اٹھتا ہوا بولا نہیں آج کافی نہیں چائے بنانا لیکن میری چائے میں چینی مت ڈالنا…

شافع اٹھ کر کمرے میں چلا گیا… نور چائے چڑھا کر اس میں ابال آنے کے بعد وآپس لاؤنج کی طرف آئی تو صوفے پر شافع کا کوٹ ، ٹائی، اور ٹیبل پر گھڑی پڑی تھی،،، نور نے اسکا کوٹ، ٹائی اور گھڑی اٹھائی اور کمرے کی طرف چلی گئی،،، کوٹ اور ٹائی اسٹینڈ پر لٹکا کر وہ گھڑی ڈریسنگ پر رکھنے کے لئے بڑی شافع تولیے سے اپنا سر خشک کرتے ہوئے باتھ روم سے باہر نکلا،،، اسنے ٹی شرٹ اور ٹراؤ زر پہن رکھا تھا،،،، گھڑی رکھ کر وہ وآپس جانے لگی جب شافع نے اسے روکا… نور نے مڑ کر اسکی طرف دیکھا کیا؟؟؟ شافع آگے آتا ہوا بولا تم نے اپنے کپڑے اب تک سوٹ کیس میں سے کیوں نہیں نکالے؟؟؟ نور نے ہلکا سا مسکراتے ہوئے کندھے اچکائے کہاں رکھتی تمھاری ورڈ روب میں جگہ ہی نہیں ہے….. شافع نے سر پر ہاتھ پھیرا اوہ تو تم مجھے بتاتیں نہ میں ایک سائڈ سے اپنے کپڑے نکال دیتا، وہ ورڈ روب کی طرف بڑھنے لگا تو نور اسے روکتے ہوئے بولی نہیں شافع رہنے دو شافع اسکی طرف گھومتا ہوا بولا کیا رہنے دو زندگی بھر کیا اپنے کپڑے اس سوٹ کیس میں ہی رکھو گی شافع نے ایک سائڈ سے اپنے کپڑوں کے ہینگر نکالنا شروع کئے تو نور نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے روکا رہنے دو ابھی میں خود کر لوں گی،،، شافع سانس کھینچتا ہوا اسکی طرف مڑا اچھا ٹھیک ہے ابھی تم یہ والی سائڈ خالی کر کے اپنے کپڑے رکھ لینا پھر ایک دو دن میں میں نئی ورڈ روب بنوادوں گا…. نور نے مسکراتے ہوئے اثبات میں گردن ہلائی،،، شافع نے اپنا سر نیچے کر کے اپنے بالوں پر ہاتھ پھیرا نور کے اوپر چھینٹے گئی تو نور چڑ کر بولی شافع یہ کیا کر رہے ہو…. شافع ہنسا اچھا اچھا مزاق کر رہا تھا یار ایسی کھا جانے والی نظروں سے تو مت دیکھو،،،

اچھا یہ بتاؤ کہ تم نے ڈنر کے لئے میرے لئے کونسا سوٹ نکالا ہے؟ نور نے ورڈ روب سائڈ کی دیوار پر لٹکے ہوئے کپڑوں کی طرف اشارہ کیا؟ شافع نے گردن موڑ کر دیکھا، شلوار قمیض؟نور نے اثبات میں گردن ہلاتے ہوئے کہا کیوں تم نہیں پہنتے کیا؟ شافع ہنسا پہنتا ہوں تمھے یاد نہیں ایک دفعہ پھول کی دکان کے باہر جب تم نے مجھے وڈیرہ کہا تھا جب میں نے شلوار قمیض ہی پہنی ہوئی تھی…. نور منہ پر ہاتھ رکھ کے بے ساختہ ہنسی… شافع ہاتھ باندھ کر اسے دیکھنے لگا…نور نے اسے خود کو ایسے دیکھتے دیکھا تو فوراً اپنی ہنسی کو قابو کیا شافع نے فوراً پلکھیں جھپکائیں پھر بولا تم خود بتاؤ یار میں کہاں سے تمھے وڈیرہ لگا تھا،،،، میں نے تو بڑی بڑی مونچھیں بھی نہیں رکھی ہوئی….. نور ہنستے ہوئے بولی وہ تو میں نے ایسی غصے میں کہہ دیا تھا بس اس دن تمھارے پاس گاڑی بھی تو وڈیروں والی تھی پجیرو شافع ہنسا،،، نور نے دونوں سوٹ اسکے سامنے کر کے پوچھا مجھے تو ان دونوں میں سے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کونسا زیادہ اچھا ہے تمھے جو پسند آئے وہ پہن لو،،،، شافع دونوں سوٹ کو دیکھتے ہوئے بولا پہلے تم مجھے یہ بتاؤ تم کیا پہن رہی ہو؟ نور نے اپنا سوٹ اسے دیکھایا،،،، شافع اسکے سوٹ کو دیکھ کر بولا ریڈ کے ساتھ تو بلیک ہی اچھا لگے تو تم یہ وائٹ والا سوٹ رکھ دو اور بلیک والا باہر ہی رہنے دو…. نور نے اسکا بلیک اور اپنا سوٹ صوفے پر رکھا اور وائٹ سوٹ ورڈ روب میں رکھ دیا…

اور کچن میں آگئی…. اسنے چائے کپوں میں نکالی وہ لاؤنج کی طرف آرہی تھی جب شافع کمرے سے نکلا اسے لاؤنج کی طرف چائے لاتے دیکھا تو بولا چائے بالکنی میں لیجاؤ وہاں پیئیں گے نور اثبات میں سر ہلا کر چائے بالکنی میں لے گئی….

زایان آفس سے گھر آیا چینج کر کے وہ بیڈ پر لیٹ گیا اور موبائل نکال کر چہرے کے آگے کیا،،، شافع سے لیا ہوا ارحام کا نمبر نکالا اور کال لگا دی اور اٹھ کر کھڑکی کے پاس آکر کھڑا ہوگیا کال جاتی رہی لیکن کسی نے فون نہیں اٹھایا،،، زایان نے دوبارہ کال لگائی،،، کچھ دیر بعد کال اٹھالی گئی دوسری طرف سے آواز آئی ہیلو…. زایان نے ایک سانس کھینچا ہیلو،،، ارحام بات کر رہی ہیں؟ دوسری طرف سناٹا چھایا تھا،،،، زایان نے پھر مخاطب کیا ارحام بات کر رہی ہیں؟؟؟ میں زایان ہوں زایان حیدر شافع کا دوست…. دوسری طرف سے آواز آئی شششششش مجھے،،، مجھے یقین تو کر لینے دیں کہ آپ نے،،،،، آپ نے میرا نام لیا ہے…. زایان کو حیرت ہوئی ارحام میں زایان بات کر رہا ہوں،،، ارحام بے ساختہ بولی ہاں تو بولئے نا آپ کو سننے کے لئے ہی تو اب تک زندہ ہوں،،، زایان کو اسکی آواز بھیگی ہوئی لگی… زایان نے ایک لمبا سا سانس کھینچا کیسی ہو؟ ارحام فوراً بولی کیسا ہونا چاہئیے؟ ویسی نہیں ہوں جیسی چار سال پہلے تھی بڑی ہوگئی ہوں الفاظ اور انسان دونوں کو دیکھ کر بات کرتی ہوں کس وقت پر کونسی بات کہنی چاہیئے اس بات کا بھی پورا دھیان رکھتی ہوں….

اور آپ کیسے ہیں؟ اس سے پہلے کے زایان کچھ کہتا اس سے پہلی ہی ارحام بولی مجھے پتا ہے آپکا “جواب ٹھیک ہوں، مزے میں ہوں تبھی تو بات کر رہا ہوں” …. زایان نے آنکھیں بند کیں اسکے دل کی کیفیت عجیب ہو رہی تھی،،، ارحام میں تم سے بات کرنا چاہتا ہوں،،، دوسری طرف سے ارحام کے ہنسنے کی آواز آئی آپ مجھ سے بات کرنا چاہتے ہیں؟ مجھے لگتا ہے میں ابھی بھی نیند ہوں بس دعا ہے کہ جلد سے جلد آکر کوئی نیند توڑ دے کیونکہ اگر خواب آگے بڑھ گیا تو تکلیف زیادہ ہوگی، کہیں یہ خواب ہے نہ؟ زایان نے نفی میں گردن ہلاتے ہوئے کہا نہیں یہ حقیقت ہے… ارحام نے تعجب سے کہا تو کیا سچ میں میں آپ سے بات کر رہی ہوں؟ زایان نے اس سے بات کرنے کے لئے کال کی تھی لیکن اسے پہلی بار لگا تھا کہ اسکے پاس الفاظ ختم ہو رہے ہیں،،،

ارحام پھر بولی آپ نے مجھے یاد کیا ہے تو ضرور کوئی وجہ ہو گی جلدی سے فون کرنے کی وجہ بتا دیں کہیں ایسا نہ ہو ضبط سےمیرا دل پھٹ جائے اور میں رو دوں،،، حالانکہ میں پوری کوشش کرتی ہوں کہ کسی کے سامنے آنسوں نہ بہیں لیکن آنسوؤں پر کس کا زور ہوتا ہے یہ تو بھری محفل میں رسوا کروادیتے ہیں اکثر بات بے بات پر بھی نکل جاتے ہیں،،، ارحام نے اپنے گال پر بہتے آنسوں صاف کئے دیکھیں نہ ابھی بھی بلاوجہ نکلے جارہے ہیں جبکہ اب تک آپنے تو کوئی قیامت توڑ دینے والے الفاظ کہے بھی نہیں ہیں….

زایان نے اس سے یہ جاننے کہ لئے فون کیا تھا کہ کیا وہ اب بھی اسکے لئے پہلے والے جذبات رکھتی ہے؟ لیکن اسکی باتیں سننے کے بعد اسے کچھ پوچھنے کی ضرورت ہی نہیں پڑی تھی… کچھ دیر دونوں طرف خاموشی چھائی رہی…. میں اپنے ماما بابا کو تمھارے گھر رشتہ لے کر بھیجنا چاہتا ہوں ارحام… دوسری طرف خاموشی چھائی کچھ دیر بعد بولی،،، کیوں آپ کو مجھ سے محبت ہوگئی ہے کیا؟ زایان کو امید نہیں تھی کہ وہ بے دھڑک اس سے پوچھ بیٹھے گی… نہیں ہوئی تو نہیں ہے لیکن تم سکھا دینا نا… ارحام ہنستے ہوئے بولی میرے زخم سوئے ہیں مرے نہیں اگر جاگ گئے نہ تو آپ سے ایک ایک بات کا حساب لے لیں گے تو بہتر ہے کہ آپ اسی باتیں نہ کریں جن سے زخم تازہ ہونے کا اندیشہ ہو،،،، زایان نے منہ پر ہاتھ پھیرا،،،، میں سچ میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں…. دوسری طرف خاموشی چھائی تمھے کوئی اعتراض ہے…. “ایک مرتے ہوئے انسان سے آپ پوچھ رہے ہیں کہ اگر اسے زندگی کی طرف دوبارہ لوٹا دیا جائے تو اسے کوئی اعتراض ہے”

تم پہلے تو ایسی باتیں نہیں کرتی تھیں ارحام،،، پہلے میں نے آپکو نہیں دیکھا تھا نہ جب سے آپ کو دیکھا ہے ایسی ہی باتیں کرتی ہوں… زایان سانس کھینچ کر بولا میں پہلے شافع کو بھیجوں گا تمھارے بابا سے بات کرنے کے لئے پھر اپنے پیرنٹس کو بھی بھیج دوں گا…. آپ کو میری بچکانہ محبت پر یقین آیا ہے یا ترس؟ زایان کو چپکی لگی پھر ٹھہر کر بولا اس وقت مجھے یہ سب بچکانہ ہی لگا تھا مجھے لگا تمھے مجھ سے سولہ سال کی عمر میں سولہ دن والا پیار ہوا ہے ارحام بے ساختہ بولج مجھے سولہ نہیں اٹھارہ سال کی عمر میں آپ سے پیار ہوا تھا زایان سر جھٹک کر بولا جو بھی تھا وہ سب جلدی تھا اس وقت،،،،

تو کیا اب آپ کو مناسب وقت لگتا ہے؟ زایان نے کندھے اچکائے ہاں…. لیکن آپ تو کہتے ہیں کہ آپکو مجھ سے محبت نہیں ہے تو پھر مجھ سے شادی کرنے کی کیوں سوچ لی آپ نے….؟ زایان بولا میں نے سنا ہے کہ انسان کو شادی اس سے کرنی چاہیے جو آپ سے محبت کرتا ہے، ارحام کندھے اچکا کر بولی لیکن آپ تو مجھ سے محبت نہیں کرتے پھر… زایان مسکراتے ہوئے بولا میں نے کہا نا کہ تم مجھے سکھا دینا…. ارحام خاموش ہوگئی،،، کچھ دیر کی خاموشی کے بعد زایان نے پوچھا تم خوش ہو؟ ارحام بولی کوشش کر رہی ہوں لیکن میرا عکس میرے سامنے آکر بار بار مجھے بول رہا ہے نہیں ارحام اس سب پر یقین مت کرو یہ ایک خواب ہے جب ٹوٹے گا تو تمھاری آنکھیں چھلنی ہو جائیں گی….

زایان اسے اعتماد میں لیتے ہوئے بولا نہیں ارحام اب سب کچھ حقیقت ہے خواب نہیں اور تم بے فکر رہو میں تمھے ان خوفناک خوابوں اور سوچوں سے نکال دوں گا تم میری وجہ سے ان خوفناک خوابوں کے دلدل میں پھنسی ہو میں ہی تمھے ان میں سے باہر نکالوں گی بس اب تم میرا انتظار کرو… ارحام بے ساختہ بولی چار سال سے کر ہی تو رہی ہوں… زایان مسکرا کر بولا بس کچھ دن اور کر لو پھر میں تمھے ویرانیوں سے نکالوں گا اور تم مجھے محبت سکھا دینا حساب برابر…. ارحام نے گردن جھکائی اس کے لئے اچانک اس سب پر یقین کرنا مشکل تھا اسلئے اس نے خود کی کسی خوش فہمی میں مبتلا نہیں کیا کیونکہ وہ جانتی تھی اگر حقیقت نے دھوکا کیا تو تکلیف اسے ہی ہوگی…..

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آئےنور شیشے کے سامنے کھڑی ٹاپس پہن رہی تھی بالوں کو اسنے جوڑے کی شکل دے رکھی تھی اسنے چوڑیوں کی طرف ہاتھ بڑھایا شافع نے پیچھے سے آکر اسکے بالوں پر لگا کیچر نکال دیا اسکے بال کھل گئے،،، نور بال سنبھالتے ہوئے بولی کیا کر رہے ہو شافع… شافع اسکے سامنے آکر ڈریسنگ پر بیٹھتا ہوا بولا کھلے رہنے دو اچھے لگ رہے ہیں،،، نور دوبارہ جوڑا بناتے ہوئے بولی نہیں مجھے اسکارف باندھنا ہے… شافع نے اسکے ہاتھ آگے کئے بال پھر کھل گئے ہاں تو جاتے ہوئے باندھو گی نہ ابھی تو کھلے رہنے دو… شافع نے اسکے تھوڑے سے بال آگے کئے… نور نے جھینپ کر منہ پر آئی لٹوں کو کانوں کے پیچھے کیا شافع نے اسکا ہاتھ روک دیا رہنے دو اچھے لگ رہے ہیں بعد میں باندھ لینا،،، نور ہلکا سا مسکرائی اور ڈریسنگ پر سے چوڑیاں اٹھا کر پہنے لگی،،، شافع نے اسکے ہاتھ سے چوڑیاں لے لیں اور اسے پہنانے لگا….

نور اسے روکتے ہوئے بولی شافع یہ کیا کر رہے ہو میں خود پہن لوں گی… شافع نے نظریں اٹھا کر براہ راست اسکی آنکھوں میں دیکھا میں پہناؤں تو کوئی مسئلہ ہے کیا؟ نور نے نظریں جھکا لیں اسکی آنکھوں میں دیکھ کر وہ الجھتی تھی اسکی نظریں جھکانے سے شافع محفوظ ہوا اور مسکراتے ہوئے اسکے ہاتھ میں چوڑیاں ڈالنے لگا نور کے ہاتھوں کی مہندی تقریبا ہٹ گئی تھی بس ایک دو جگہ ہلکی ہلکی لگی تھی… شافع نے اسکے ہاتھ میں چوڑیاں ڈال کر ان پر انگلی پھیری،،، perfect پھر مسکراتے ہوئے نور کی طرف دیکھا،،، اسکے کان میں موجود ٹاپس کو چھوتے ہوئے اسکے چہرے پر نظریں جمائے ہوئے بولا Looking beautiful نور کا دل زوروں سے دھک دھک کر رہا تھا نور مسنوعی سا مسکرائی… شافع نے اسکے تاثر دیکھ کر مسکراتے ہوئے نظریں جھکائیں تمھاری ہارٹ بیٹ تو ایسے چل رہی ہے جیسے تمھارے سامنے کوئی جن بیٹھا ہو… نور کی تیز ہوتی دھڑکن شافع کو محسوس ہوئی تھی… نور تھوڑا سا پیچھے ہوئی،،، شافع کھڑے ہوتے ہوئے بولا اچھا بھئی ٹھیک ہے میں ہٹ جاتا ہوں سامنے سے ورنہ تمھارا دل جتنی زوروں سے دھڑک رہا ہے مجھے ڈر ہے کی کہیں نکل کر باہر ہی نہ آجائے،،، شافع اسکے سامنے سے ہٹ کر صوفے پر جاکر بیٹھ گیا،،، لیکن نظریں اسکی نور پر ہی تھیں،، اور چہرے پر ایک والہانہ مسکراہٹ،،، نور مسلسل اسکی نظروں سے کنفیوز ہورہی تھی اسکے ہاتھوں میں بھی ہلکی سی کپکپاہٹ تھی اور شافع اسکے انداز سے محفوظ ہورہا تھا،،، نور نے جلدی سے بالوں کا جوڑا باندھا اور دوپٹے کا اسکارف بنا کر لپیٹا،،، کرسی پر سے چادر اٹھا کر کندھے پر ڈالی اور شافع کی طرف مڑ کر بولی چلو میں تیار ہوں… شافع مسکراتے ہوئے اٹھا اسکے چہرے پر مسکراہٹ تھی… شافع نور کے قریب آیا اور آستہ سے اسکا سر پیچھے سے پکڑ کر اسکے ماتھے پر اپنے لب رکھ دیئے…. نور کا ہاتھ اسکے سینے پر عین دل کے اوپر تھا نور نے آنکھیں بند کیں وہ ہاتھ کے نیچے اسکے دھڑکتے دل کو محسوس کر سکتی تھی… شافع سیدھا ہوا نور نے آنکھیں نہیں کھولیں،،، شافع اسے دیکھتا ہوا بولا بہت پیاری لگ رہی ہو… نور کو لگا جیسے ایک سحر ٹوٹا ہے… مجھے ڈر ہے کہیں تمھے میری ہی نظر نہ لگ جائے نور نے مسکراتے ہوئے گردن جھکائی،،،

شافع نے اپنا ہاتھ آگے بڑھاتے ہوئے کہا چلیں اب؟ نور نے پہلے اسکے ہاتھ کی طرف دیکھا پھر اپنا دائیں ہاتھ اسکے بائیں ہاتھ میں دے دیا شافع نے اسکے ہاتھ پر گرفت مضبوط کی نور مسکرا کر بولی چلو……

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حیدر صاحب زایان سے پوچھ رہے تھے بھئی یہ شافع کہاں رہ گیا ہے ابھی تک نہیں آیا تم نے اسے بولا تو تھا نا آنے کا؟ زایان گردن ہلاتے ہوئے بولا جی بابا بولا تھا آتا ہی ہوگا بس…. ارفہ بیگم کھانے کی ٹیبل لگا کر لاؤنج میں آئیں میراب موبائل پر کوئی گیم کھیل رہی تھی جب شافع اور آئےنور وہاں پہنچے سب سے پہلے زایان کی نظر ان پر پڑی وہ کھڑے ہوتے ہوئے بولا لیں آگئے آپکے مہمان… حیدر صاحب اٹھے شافع مسکراتے ہوئے انکی طرف بڑھا حیدر صاحب بھی آگے بڑھ کر والہانہ خوشی سے اس سے گلے ملے…. وہ اسے مبارکباد اور دعائیں دے رہے تھے، وہ شافع سے الگ ہوئے تو شافع نے آئےنور سے انکا تعارف کروایا حیدر صاحب نے مسکراتے ہوئے آئےنور کے سر پر ہاتھ رکھا اور اسے دعائیں دیں… اتنے میں ارفہ بیگم بھی وہاں پہنچیں اور نور سے گلے ملیں،،، میراب بھی آکر نور سے ملی شافع زایان سے گلے مل رہا تھا جب میراب بولی شافع بھائی آپکی وائف تو بہت ہی پیاری ہیں آپ جیسے ہٹلر کو انھوں نے کیسے پسند کر لیا… سب کا قہقہہ بلند ہوا شافع مسنوعی سا خفا ہو کر بولا اچھا میں ہٹلر ہوں تو پھر ٹھیک ہے یہ ڈونٹس میں زایان کو دے دیتا ہوں اس سے پہلے کے شاپر زایان کے ہاتھ تک پہنچتا میراب نے اسکے ہاتھ سے شاپر جھپٹا،،،، ارے ارے میں تو مزاق کر رہی تھی آپ تو سیریس ہی ہوگئے آپ تو بہت سوئٹ ہیں بالکل اس ڈونٹ کی طرح… سب ہنسے ارفہ بیگم بولیں اب ساری باتیں کیا یہیں کھڑے کھڑے کرنی ہیں اندر بھی آؤ،،، اندر آتے ہوئے نور نے ایک شاپر ارفہ بیگم کی طرف بڑھایا وہ لوگ آتے ہوئے کیک لے کر آئے تھے… ارفہ بیگم نے تکلفانہ کلمات ادا کئے اسکی کیا ضرورت تھی بیٹا؟ نور صرف مسکرا دی…. وہ لوگ سب لاؤنج کے صوفوں پر بیٹھ گئے… شافع حیدر صاحب سے باتوں میں مصروف ہوگیا جبکہ میراب اور زایان آئےنور کو کمپنی دینے لگے،،، ارفہ بیگم کچن کی طرف گئیں تھیں… زایان میراب کے برابر میں بیٹھتے ہوئے میراب کی طرف اشارہ کر کے بولا آئےنور یہ پتا ہے کون ہے؟ نور نے گردن ہلاتے ہوئے کہا تمھاری بہن ہے… زایان نے اثبات میں سر ہلایا ہاں بہن تو ہے لیکن سگی نہیں ہم اسے کچرے سے اٹھا کر لائے تھے مگر یہ مانتی ہی نہیں ہے آئےنور اسکی باتوں میں آگئی اور حیرانی سے بولی سچ میں؟؟؟ زایان نے پوری سنجیدگی سے اثبات میں سر ہلایا میراب چینخی بابا انھیں سمجھالیں دیکھیں پتا نہیں کیا کیا بول رہے ہیں… حیدر صاحب نے ان دونوں کو ڈانٹا تم دونوں آرام سے نہیں بیٹھ سکتے…؟ میراب نور کی طرف دیکھ کر بول آئےنور بھابھی ایسا کچھ نہیں ہے انھے جھوٹ بولنے کی عادت ہے،،، آئےنور ہنسی زایان میراب کے سر پر مارتے ہوئے بولا رشتے بنانے میں تو ایک منٹ نہیں لگاتی یہ نور تمھے پتا ہے اس دن کیا ہوا ہم ایک ریسٹورنٹ میں گئے وہاں ویٹر کو بول رہی سنیں بھائی اس برگر پر کٹ لگادیں اور ساتھ آئسکریم بھی لے آئے گا اس لڑکے کو اسنے بھائی ایسے بولا تھا جیسے وہ اسکا سگا بھائی ہو،،، میں تو اسے اسکے اصلی بہن بھائیوں کے پاس کتنی دفعہ چھوڑنے گیا ہوں لیکن یہ جاتی ہی نہیں ہے میراب پھر زور سے چینخھی تو حیدر صاحب نے غصے سے زایان کو گھورا اور اسے اپنے پاس بلالیا اتنے میں ارفہ بیگم بھی آگئیں اور نور کے پاس آکر بیٹھ گئیں…

کچھ دیر باتوں کے بعد کھانا بھی لگ گیا،،،، شافع اور آئےنور ساتھ ساتھ ہی بیٹھے تھے ارفہ بیگم نے ڈنر پر بہت کچھ بنوا لیا تھا…. شافع نے اپنی پلیٹ میں نکالنے سے پہلے نور کے لئے نکالا تھا اور اسکی یہ حرکت دیکھ کر ارفہ بیگم اور حیدر صاحب دونوں ہی مسکرائے تھے…. کھانے کے بیچ میں وہ لوگ آپس میں بھی کوئی نہ کوئی بات کر لیتے حیدر صاحب زایان کی طرف دیکھ کر بولے میں نے سنا ہے کہ میرے قابل بیٹے نے ایک اور کارنامہ انجام دیا ہے لڑکی پسند کر لی ہے… زایان نے کھاتے ہوئے ہاتھ نہیں روکا صرف مسکرایا…. حیدر صاحب شافع کو دیکھ کر بولے شافع تم نے بھی ہمیں اس بات کی خبر نہیں ہونے دی،،، شافع نوالہ نگل کر بولا انکل مجھے خود خبر آج ہوئی ہے… حیدر صاحب تعجب سے بولے بڑی حیرت کی بات ہے…. زایان نے مسکراتے ہوئے انکی طرف دیکھا آپ لوگ جیسا سوچ رہے ہیں ویسا کچھ نہیں ہے میں نے کوئی افیئر نہیں چلایا ہے… حیدر صاحب اسکی طرف دیکھ کر بولے اچھا جو بھی ہے لیکن یہ تو بتاؤ کے لڑکی ہے کون؟ شافع اور زایان دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا… زایان نے نوالہ نگلہ،،، ارحام سے….! وہ بات کر چکا تھا اسلئے گھر والوں سے بات کرنے میں کوئی حرج بھی نہیں تھا،،، زایان پلیٹ میں چمچہ چلاتے ہوئے بولا، میں ارحام سے شادی کرنا چاہتا ہوں… شافع اور نور کے علاوہ سب نے حیرت سے پوچھا ارحام کون؟ زایان شافع کی طرف اشارہ کر کے بولا شافع کی کزن ارحام….. نور نے نظریں اٹھائیں،،، ارفہ بیگم نے اچھنبے سے پوچھا وہ ارحام جس کی شافع کے ساتھ بی اماں نے منگنی کرا دی تھی…. آئےنور کو پھندا لگا شافع نے فوراً گھبرا کر اسکی طرف دیکھا اور پانی کا گلاس اسے تھمایا… نور نے تھوڑا سا پانی پیا اسکے آنسوں نکل گئے تھے… ارفہ بیگم گھبرا کر بولیں بیٹا تم ٹھیک ہو ؟ نور آنسوں صاف کرتے ہوئے مسنوعی مسکرا کر بولی جی میں ٹھیک ہوں شاید مرچیں آگئیں تھیں منہ میں لیکن صرف شافع جانتا تھا کہ اسے ارحام اور شافع کی منگنی کا سن کر پھندا لگا ہے…. شافع نے اسکے قریب ہو کر آہستہ سے کہا ریلیکس… زایان بولا جی وہی ارحام آپ لوگوں کو کوئی اعتراض تو نہیں ہے؟ حیدر صاحب بولے اعتراض تو کوئی نہیں ہے لیکن تم وہاں کیسے پہنچ گئے تم کبھی ملے ہو اس سے؟ زایان وآپس کھانا کھاتے ہوئے بولا جی ملا تھا کچھ سال پہلے… حیدر صاحب نوالہ لیتے ہوئے بولے چلو تم ملے ہوئے ہو پھر تو ٹھیک ہے باقی معاملات ان سے مل کر طے کر لیں گے….. کھانے کے کچھ دیر بعد چائے کافی کا سلسلہ شروع ہوا سب لاؤنج میں بیٹھے تھے زایان اور شافع اپنا اپنا کپ اٹھا کر باہر لان میں آگئے… شافع نے کافی کا ایک سپ لیتے ہوئے سامنے دیکھ کر پوچھا ہوگئی تمھاری ارحام سے بات؟ زایان نے ہونٹ بھینچے چائے کا ایک سپ لیا پھر ایک لمبا سا سانس کھینچ کر بولا ہاں ہو گئی۔۔۔ شافع زایان کی طرف گھوما اب تم مجھے بتانا پسند کرو گے کہ یہ سب کب سے چل رہا ہے؟ زایان نے مسکراتے ہوئے بھنویں میچیں یہ سب چل تو نہیں رہا تھا لیکن شروع چار سال پہلے ہوا تھا….. شافع کے منہ سے کافی نکلتے نکلتے بچی،،،، اسنے بہت مشکل سے کافی نگلی آنکھیں بڑی کرکے چینختے ہوئے بولا چار سال پہلے؟؟؟؟ زایان نے اثبات میں گردن ہلائی…

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چار سال پہلے زایان اور ارحام کی پہلی ملاقات تیمور ویلا میں ہی ہوئی ابراہیم صاحب اور ارحام انکے گھر آئے ہوئے تھا شافع یونیورسٹی سے وآپسی پر زایان کو اپنے ساتھ گھر لے آیا اسے پتا بھی نہیں تھا کے گھر پر ابراہیم صاحب آئے ہوئے ہیں…. تیمور ویلا کے لاؤنج میں تیمور صاحب، تہمینہ بیگم، ابراہیم صاحب اور ارحام بیٹھے باتیں کر رہے تھے،،، زایان باہر سے ہی چینختا ہوا اندر داخل ہوا ان دونوں کا ایک دوسرے کے گھر شروع سے ہی آنا جانا تھا دوپہر کے وقت تیمور صاحب گھر پر نہیں ہوا کرتے تھے اسلئے زایان شور مچاتا ہوا آیا تھا لیکن لاؤنج میں بیٹھے تیمور صاحب کو دیکھ کر اسکی آواز کو بریک لگا… منہ پر ہاتھ رکھ کر شافع سے سرگوشی میں بولا انکل گھر پر تھے مجھے بتایا کیوں نہیں… شافع بھی سرگوشی میں بولا مجھے بھی نہیں پتا تھا… سب انکی طرف ہی دیکھ رہے تھے خاموشی توڑ نے کے لئے شافع ابراہیم صاحب کی طرف بڑھا چاچو آپ کب آئے…؟ ابراہیم صاحب خوش دلی سے اسکے گلے لگتے ہوئے بولے میں کچھ دیر پہلے آیا ہوں بیٹا… شافع ان سے الگ ہوا تو ارحام سے پوچھا تم کیسی ہو؟ ارحام نے مسکراتے ہوئے کندھے اچکائے جیسی آپ کو نظر آ رہی ہوں بہت پیاری، شافع ہلکا سا مسکرا دیا وہ کہاں کسی کو زیادہ فری کیا کرتا تھا…. شافع نے ابراہیم صاحب سے زایان کا تعارف کروایا…. ابراہیم صاحب زایان سے بھی خوشی سے ملے…

شافع زایان کو لے کر اپنے کمرے میں جانا چاہتا تھا لیکن تیمور صاحب نے انھے وہیں بیٹھنے بول دیا تو ان دونوں کو مجبوراً وہیں بیٹھنا پڑا… کچھ دیر بعد تیمور صاحب اور ابراہیم صاحب کسی ضروری کام سے وہاں سے چلے گئے جب تک تیمور صاحب وہاں تھے تب تک زایان معصومیت کی مثال بن کر بیٹھا رہا انکے جاتے ہی زایان نے دونوں ٹانگیں صوفے کے اوپر کریں اور آرام سے بیٹھ گیا اور تہمینہ بیگم سے بولا آنٹی کچھ کھانے کا انتظام ہے یا مجھے اسی طرح بھوکا بھیجنا ہے… تہمینہ بیگم مسکراتے ہوئے بولیں ارے ابھی کھانا لگواتی ہوں بیٹا… شافع فریش ہونے کے لئے کمرے میں چلا گیا…. ارحام خاموش بیٹھی تھی زایان ارحام سے بولا آپ کا نام کیا ہے؟ ارحام نے اسکی طرف دیکھ کر پوچھا میرا؟ اسے توقع نہیں تھی کہ زایان اسے یوں براہ راست مخاطب کر لے گا… زایان نفی میں گردن ہلاتے ہوئے بولا نہیں آپکا نہیں آپکے پیچھے جو دس بارہ لوگ بیٹھے ہیں نہ انکا… ارحام اور تہمینہ بیگم ہنسیں،،، ارحام نام ہے میرا… زایان حیرت کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہوئے بولا ارحام یہ تو لڑکوں کا نام ہوتا ہے ارحام چڑ کر بولی ارحم لڑکوں کا نام ہوتا ہے میرا نام ارحام ہے،،، زایان کندھے اچکا کر بولا جو بھی ہے لیکن یہ نام تو لڑکوں کا ہی ہوتا ہے، ارحام ناک چڑھاتے ہوئے بولی آپ کو نہیں پتا…. زایان فخر سے بولا دنیا میں ایسا کچھ نہیں ہے جو زایان حیدر کو نہیں پتا ہو…. تہمینہ بیگم ارحام سے بولیں ارے بیٹا زایان کی عادت ہے مزاق کرنے کی…. تہمینہ بیگم زایان سے بولیں تم لوگوں کا دن کیسا رہے آج….. زایان پرجوش انداز میں سیدھا ہو کر بیٹھا ارے آنٹی مت پوچھیں آج میرے فرائس کا قتل ہوا ہے… تہمینہ بیگم نے بھی دلچسپی سے پوچھا وہ کیسے؟ میں کینٹین سے دو فرائس کی پلیٹیں لے کر جارہا تھا، دو لڑکے پیچھے سے بھاگتے ہوئے آئے اور میرے فرائس زمین بوس ہوگئے….. زایان کا منہ لٹک گیا اسکی ایسی شکل دیکھ کر ارحام کی ہنسی چھوٹ گئی،،،، زایان نے اسے گھورا۔ ۔ ۔ تہمینہ بیگم اسکے فرائس کا افسوس کرتے ہوئے بولیں تو پھر تم نے ان لڑکوں کو کچھ کہا نہیں آخر تمھارے فرائس کا قتل ہوا تھا… زایان آگے ہوتے ہوئے بولا آنٹی میں کہتا نہیں کرتا ہوں… اتنے میں شافع اسکے برابر میں آکر بیٹھا اور اسکے گلے میں ہاتھ ڈال کر بولا اور پھر اس نے یہ کیا کہ ان دونوں لڑکوں کو پیچھے والے گراؤنڈ میں لے جا کر انکے پیروں میں رسی باندھی اور انھے درخت پر الٹا لٹکا کر پوری یونی کو انکا سرکس دیکھایا،،،،تہمینہ بیگم اور ارحام کا قہقہہ بلند ہوا….

اور حد تو تب ہوئی جب ان دونوں کی رسی اسنے اوپر نیچے کر کے کھینچی ان دونوں لڑکوں کی تو جان ہی نکل گئی تھی،،، زایان بھنویں اٹھاتے ہوئے بولا آخر میرے فرائس کا سوال تھا ایسے ہی تھوڑی نہ چھوڑ سکتا تھا…. ارحام کی تو ہنسی ہی نہیں رک رہی تھی اپنی ہنسی کو وہ قابو میں کرتے ہوئے بولی فرائس کے لئے اتنا تماشہ کرنے کی کیا ضرورت تھی آخر،،، زایان آنکھیں بڑی کر کے ہاتھ ہلاتے ہوئے بولا وہ میرے فرائس تھے اور فرائس کے لئے تو میں کسی کا قتل بھی کر سکتا ہوں… ارحام پھر ہنسی کسی کو پہلی بار کھانے کے لئے اتنا دیوانہ دیکھا ہے۔۔۔ زایان نے آنکھیں گھمائیں تہمینہ بیگم بولیں اچھا بھئی یہ باتیں تو ہوتی ہی رہیں گی اب کھانا کھا لو چل کے زایان اٹھتے ہوئے بولا ہاں چلو بھائی چلو اب تو بہت بھوک لگ رہی… زایان سب سے پہلے اٹھ کر ڈائننگ ٹیبل کی طرف جانے لگا ارحام نے اسے کن آکھائیوں سے دیکھا اور مسکرا دی….

کھانے کے دوران بھی زایان اپنی باتوں سے سب کو ہنساتا رہا وہ اپنے پتا نہیں کون کون سے قصے یاد کر کے سنا رہا تھا ارحام کے تو ہنس ہنس کے جبڑے درد کر گئے تھے…. اسے زایان کے مزاج سے اس بات کا اندازہ ہوگیا تھا کہ کھانا اور بولنا اسکا پسندیدہ مشغلہ ہے…. ارحام کو وہ پہلی ہی نظر میں اچھا لگا تھا، کھانا کھانے کے کچھ دیر بعد زایان نے کافی کی فرمائش کر دی کافی ارحام نے بنائی،،، اسنے کافی کا کپ زایان کے سامنے کیا تو زایان کافی پکڑتے ہوئے بولا سچ بتاؤ اس میں زہر تو نہیں ملایا ہے؟ ارحام بھنویں اٹھاتے ہوئے بولی ہاں ملایا ہے اور اتنی مقدار میں ملایا ہے کہ پوری کافی ختم کرنے آپ کے لئے مشکل ہو جائے گا زایان ہنستے ہوئے بولا چھوٹی سی ہو لیکن باتیں بنانی خوب آتی ہیں، ارحام نے اسے گھورا زایان نے کافی کا سپ لیا اور عجیب سا منہ بنا کر بولا اللہ معاف کرے اتنی کڑوی کافی چینی ڈالنا بھول گئی ہو کیا…؟ ارحام نے جان پوچھ کر اسکے کپ میں چینی نہیں ڈالی تھی وہ بھنویں اٹھا کر بولی کافی کڑوی ہی پی جاتی ہے زایان حیدر،،، زایان نے منہ بنایا اور تہمینہ بیگم سے بولا آنٹی پلیز اس میں چینی ڈال وادیں ایک سپ لے کر ہی اندر تک کڑواہٹ پھیل گئی ہے تہمینہ بیگم نے ملازم سے کہہ کر اسکے کپ میں چینی ڈالوئی،،، کافی ختم کر نے کے بعد زایان نے روانگی پکڑی اور کھڑے ہوتے ہوئے بولا اوکے آنٹی اب میں چلتا ہوں کافی دیر ہوگئی ہے شافع اور ارحام بھی کھڑے ہوگئے، زایان ارحام کی طرف دیکھ کر بولا امید ہے آپ زایان حیدر کی کمپنی میں بور بالکل نہیں ہوئی ہونگیں… ارحام مسکرا کر بولی مجھے تو لگتا ہے اگر آپ کو کسی مردے کے پاس بیٹھا دیا جائے تو وہ بھی اٹھ کر آپکی باتوں پر ہنسنے کے لئے مجبور ہوجائے گا انسان کو آپکے جیسا ہی زندہ دل ہونا چاہیے… زایان نے مسکرا کر سینے پر ہاتھ رکھا اس ناچیز کی تعریف کا بہت شکریہ…. سب کا قہقہہ بلند ہوا….

زایان شافع کے ہمراہ باہر آگیا،،، وہ جب تک نظروں سے اوجھل نہیں ہوا ارحام تب تک اسے دیکھتی رہی اور اس پہلی ملاقات میں ہی ارحام ابراہیم کو زایان حیدر اپنے دل میں اترتا ہوا محسوس ہوا… اس بات کا احساس اسے وآپس حویلی جاکر زیادہ ہوا… اس ملاقات کے ایک سال بعد تک اسکا زایان سے ملنا نہیں ہوا ایک سال بعد اچانک اسنے بی اماں کو تیمور صاحب سے بات کرتے سنا وہ ارحام اور شافع کے رشتے کی بات کر رہی تھیں،،، ارحام کو اپنا دل بند ہوتا ہوا محسوس ہوا اسے اس وقت احساس ہوا زایان اسکے دل پر ہی نہیں اسکی سوچ پر بھی حاوی ہو چکا ہے زایان کے علاوہ کسی اور کے ساتھ زندگی گزارنے کے تصور سے بھی اسے اپنے رونگٹے کھڑے ہوتے ہوئے محسوس ہوئے…. زایان نے اس سے کوئی وعدہ نہیں کیا تھا کوئی امید نہیں دلائی تھی، لیکن پھر بھی ناجانے کیوں اسے امید تھی کہ اگر وہ زایان سے محبت کا اظہار کرے گی تو وہ منا نہیں کرے گا….

ارحام اور شافع کے رشتے کی بات اس وقت باقاعدہ طور پر طے نہیں کی گئی تھی، لیکن ارحام کو پھر بھی خدشہ تھا کہ کبھی نہ کبھی یہ بات اٹھے گی ضرور اور وہ بی اماں کے فیصلے کے سامنے کچھ کہہ نہیں پائے گی،،، اسلئے ارحام نے زایان سے بات کرنے کا فیصلہ کیا اور قسمت نے اسے موقع بھی فراہم کر دیا… زایان سے اسکی پہلی ملاقات کے ٹھیک ایک سال بعد ابراہیم صاحب اپنے بڑے بیٹے کی شادی کے سلسلے میں شہر جارہے تھے ارحام نے بھی ان کے ساتھ چلنے کی ضد کی تو ابراہیم صاحب اسے بھی اپنے ساتھ شہر لے گئے،،،، ابراہیم صاحب نے ارحام کو تیمور صاحب کے گھر چھوڑ دیا انھے کہیں جانا تھا تو وہ چلے گئے…. شام کے وقت شافع گھر پر نہیں تھا، تہمینہ بیگم اپنے کمرے میں تھیں اور ارحام لان میں ٹھل رہی تھی، اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کس طرح زایان سے بات کرے،،،، وہ یہ سوچ ہی رہی تھی جب ایک گاڑی اندر آئی،،، ارحام کو لگا شافع ہوگا لیکن اسکی حیرت کی انتہا جب ہوئی جب گاڑی میں سے زایان گلاسز اتارتے ہوئے نکلا زایان نے اسے نہیں دیکھا تھا، وہ اندر کی طرف جانے لگا، ارحام نے اسے آواز لگائی زایان….. زایان نے گردن موڑ کر اسکی طرف دیکھا اچانک شاید وہ پہچانا نہیں تھا یا شاید اسے وہاں دیکھنے کی توقع نہیں تھی، اس لئے چونکا پھر مسکراتے ہوئے اسکی طرف آیا ارحام کو اپنا دل زوروں سے دھڑکتا ہوا محسوس ہوا… زایان اسکے سامنے آکر بولا ارحام… کسی ہو تم؟ ارحام نے مسکراتے ہوئے کندھے اچکا کر کہا ٹھیک ہوں آپ کیسے ہیں…؟ زایان گول گھما اور ہاتھ پھیلاتے ہوئے بولا میں بالکل ٹھیک بہت مزے میں ارحام ہنسی، تم کب آئیں؟ زایان نے ارحام سے پوچھا… ارحام سر پر دوپٹہ آگے کرتے ہوئے بولی میں دوپہر میں بابا کے ساتھ آئی ہوں،شہزاد بھائی کی شادی ہونے والی ہے انکی شادی کے سلسلے میں آئے ہیں ہم؟ شافع نے بھنویں اٹھا کر پوچھا شہزاد کون؟ تھمارا بڑا بھائی؟ ارحام نے اثبات میں گردن ہلائی زایان ہاتھ ہلاتے ہوئے بولی ہاں وہی تو کیونکہ گوہر سے تو میں مل چکا ہوں… اچھا یہ بتاؤ شافع کہاں ہے…؟ ارحام کندھے اچکا کر بولی وہ گھر پر نہیں ہیں… زایان نے بالوں میں ہاتھ پھیرا اوہ اچھا میں اسے فون کئے بغیر ہی آگیا تھا چلو ٹھیک ہے میں آنٹی سے مل لوں مجھے کہیں جانا ہے… وہ جانے کے لئے مڑا تو راحام بولی سنیں… زایان نے مڑکر اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا ہاں؟؟؟

ارحام نے سانس کھینچا اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہاں سے بات شروع کرے….

زایان کندھے اچکا کر بولا بولو بھی کیا کہنا ہے؟؟؟ ارحام نے نظریں جھکائیں اور آنکھیں بند کیں پھر گردن اٹھا کر زایان کی طرف دیکھ کر بولی،،، آپ مجھے اچھے لگتے ہیں…. زایان کو اسکی بات کا مطلب سمجھ نہیں آیا تو وہ مسکرا کر بولا وہ تو میں سب کو ہی لگتا ہوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ارحام نے نفی میں گردن ہلائی،،، میرا وہ مطلب نہیں ہے، میں میں یہ کہنا چاہتی ہوں کہ…. “مجھے آپ سے محبت ہوگئی ہے” زایان کا چہرہ سپاٹ ہوا،،،، ایک، دو، تین، چار ٹھیک پانچ سیکنڈ بعد زایان کا بے اختیار قہقہہ چھوٹا…. ارحام کو اسکے قہقے کی وجہ سمجھ نہیں آئی،،، زایان بے اختیار ہنستا رہا اور ہنستے ہنستے پاس رکھی کرسی پر بیٹھ گیا،،، ارحام نے شرمندگی سے پوچھا کیا ہوا آپ ہنس کیوں رہے ہیں؟ زایان اپنی ہنسی پر قابو پاتے ہوئے بولا دوبارہ بولو تم نے کیا کہا تھا… ارحام جھجھکتے ہوئے بولی “میں پسند کرتی ہوں آپ کو” زایان کا پھر قہقہ بلند ہوا کچھ دیر اسی طرح ہنسنے کے بعد زایان اپنی ٹانگ پر ہاتھ مارتے ہوئے ہنسی قابو کر کے کھڑا ہوا… پھر سانس کھینچ کر مسکراتے ہوئے بولا ہوگیا تمھارا مزاق؟ تمھے کب سے مزاق کرنے کی عادت پڑگئی؟؟؟ ارحام کو جیسے جھٹکا لگا… میں مزاق نہیں کر رہی زایان میں سچ میں آپ سے محبت کرتی ہوں، زایان ہنستے ہوئے ہاتھ آگے کر کے بولا تمھے کیا ہو گیا ہے ارحام یہ محبت وحبت کچھ نہیں ہوتی اور اس عمر میں تو بالکل نہیں اسلئے یہ فالتو باتیں دماغ سے نکالو اور اپنی اسٹڈیز پر دھیان دو زایان ہنستے ہوئے وآپس جانے کے لئے مڑا تو ارحام نے آگے پڑھ کر زایان کا ہاتھ پکڑا…. زایان میں سچ کہہ رہی ہوں میں سچ میں آپ سے محبت کرتی ہوں… زایان نے سپاٹ چہرے سے پہلے مڑ کر اسے دیکھا پھر اپنے ہاتھ کو اور آہستہ سے اسکے ہاتھ میں سے اپنا ہاتھ نکالا اور اسکی طرف دیکھ کر بولا،،، دیکھو ارحام تم شافع کی کزن ہو اسلئے میں تمھے آرام سے سمجھا رہا ہوں تمھے محبت نہیں ہوئی یہ محض ایک عام سا جذبہ ہے جسے تم محبت کا نام دے رہی ہو اس عمر میں ایسا ہو جاتا ہے کوئی اچھا لگتا ہے تو ہم اسے محبت کا نام دے دیتے ہیں لیکن ایسا کچھ نہیں ہوتا یہ محبت وغیرہ سب کتابی باتیں ہوتی ہیں…. ارحام کے آنسوں نکل کر گال پر بہہ گئے آپ مجھ سے محبت نہیں کرتے تو نہ کریں لیکن میری محبت کو ایک عام سے جذبے کا نام تو نہ دیں…. میری محبت عام نہیں ہے، زایان نے کوفت سے سر پر ہاتھ پھیرا، ارحام تم پاگل ہوگئی ہو؟ دماغ خراب ہوگیا ہے تمھارا؟ تم فضول میں ایک چیز کو اپنے اوپر حاوی کر رہی ہو،،،، تم دیکھ لینا تم کچھ دن اس بارے میں سوچو گی پھر خود ہی نارمل ہو جاؤ گی،،، وہ جانے کے لئے مڑا تو ارحام چینختے ہوئے بولی میں نے کہا نا میری محبت سچی ہے اور اب میں نارمل نہیں ہو سکتی مجھے آپکا ساتھ چاہیے زایان مڑا اور چینختے ہوئے بولا تو یہ تمھارا مسئلہ ہے کہ تم نے اس سوچ کو خود پر حاوی کیا میں نے تو تمھے اسطرح کا کوئی تاثر نہیں دیا،،،، زایان نے سانس کھینچا اور نارمل ہوتے ہوئے بولا دیکھو ارحام تم سمجھ نہیں رہیں یہ محبت وغیرہ میرے بس کی بات نہیں ہے اور نہ ہی تمھاری عمر ہے یہ سب سوچنے کی، وقت گزرے کا تو تمھارا دماغ بھی ٹھیک ہو جائے گا گھر میں اس موضوع پر کسی سے کوئی بات مت کرنا میں نہیں چاہتا کہ کسی کی وجہ سے بھی میری اور شافع کی دوستی میں کوئی درار پڑے اسلئے بہتر یہی ہے کہ تم خود کو سنبھال لو اور اپنی اسٹڈیز پر فوکس کرو…. زایان مڑ کر تیزی سے اپنی گاڑی کی طرف گیا،،،، اور گاڑی ریورس میں کر باہر نکال لی،،،،ارحام اپنے خالی ہاتھ لیے وہیں گٹھنوں کے بل زمین پر بیٹھ گئی،،، “میں اس یکطرفہ محبت کو کیسے نبھاؤں گی زایان حیدر؟ مجھے اپنے دل پر اختیار نہیں ہے، یہ یکطرفہ محبت مجھے پاگل کردے گی”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ساری بات سننے کے بعد شافع اپنا سر تھامے کرسی پر بیٹھا تھا اور زایان اسکے سامنے کھڑا تھا… بات اتنی آگے تک پہنچ گئی تھی اور تم نے مجھے کچھ بتایا ہی نہیں اگر بی اماں کسی طرح میری اور ارحام کی شادی کروادیتیں تو؟ کیونکہ وہاں تو سب یہی سمجھتے ہیں کہ وہ میری محبت میں پاگل ہے…. زایان کندھے اچکا کر بولا میری طرف سے ایسی کوئی بات ہی نہیں تھی تو میں کیا بتاتا یار مجھے لگا خواہ مخواہ ایک فالتو بات کی وجہ سے ہماری دوستی خراب ہوگئی،،، شافع کھڑا ہوا فالتو بات؟ کسی لڑکی کے جذبات کو تم فالتو کہہ رہے ہو میں تم سے یہ ایکسپیکٹ نہیں کر رہا تھا زایان،،، زایان نفی میں گردن ہلاتے ہوئے بولا اس وقت مجھے اندازہ نہیں تھا کہ ارحام اس حد تک مجھ میں انوالو ہو جائے گی کہ اپنی زندگی کے چار سال اس روگ میں گزار دے گی آج فون پر اس سے بات کر کے مجھے اندازہ ہوا کہ اگر کوئی سچ میں کسی سے محبت کرتا ہے تو وہ سالوں کیا صدیوں تک انتظار کر سکتا ہے،،،،

شافع بولا اسلئے اسنے چاچو کے آنے سے ایک دن پہلے مجھے رات میں فون کیا تھا ہماری عام طور پر فون پر کبھی بات نہیں ہوئی اور اس دن رات کے وقت اسنے مجھے فون کیا تو مجھے حیرانی ہوئی، میں اٹھ کر بالکنی میں آگیا،،، اسنے مجھ سے سیدھا یہ سوال کیا کہ کیا تم مجھ سے شادی کرنے پر راضی ہو شاید وہ یہ جاننا چاہتی تھی کہ تم نے آج تک مجھ سے اسکے بارے میں کوئی بات کی یا نہیں لیکن مجھے تو یہ سب پتا ہی نہیں تھا… میں نے بغیر کوئی تہمید باندھے اسے سیدھا سیدھا کہہ دیا کہ میں اس سے شادی نہیں کرنا چاہتا، اس سے آگے میری کوئی بات سنے بغیر ہی اسنے فون کاٹ دیا،،،

زایان نے سانس کھینچا، مجھے لگتا ہے میری وجہ سے اسنے بہت سال عزیت میں کاٹیں ہیں لیکن میں کیا کروں یار تم تو جانتے ہو یہ محبت وغیرہ مجھے سمجھ نہیں آتی…. شافع اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا، لیکن اب اچانک تمھے اسکا خیال کیسے آگیا؟ زایان نے مسکراتے ہوئے بالوں پر ہاتھ پھیرا، کینیڈا سے وآپسی پر ایک سائیکالوجسٹ ملی تھی، اسنے میرے دماغ کی تھوڑی سی صفائی کردی،،، شافع ہنسا زایان اسکی طرف دیکھتے ہوئے بولا اب تمھے میرا ساتھ دینا ہے تمھے حویلی جانا ہوگا… شافع کا چہرہ سپاٹ ہوا،،، وہ ایک جھٹکے سے پیچھے ہوا حویلی؟ اس نے نفی میں گردن ہلائی… زایان نے قریب آکر اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا یار میں جانتا ہوں تم وہاں نہیں جانا چاہتے لیکن پلیز میری خاطر چلے جاؤ اپنے چاچو اور دادو سے بات کرنے… شافع کچھ دیر سکتے کے عالم میں خاموش کھڑا رہا پھر ہلکے سے اثبات میں گردن ہلا کر بولا اچھا ٹھیک ہے چلا جاؤں گا لیکن کچھ دن بعد زایان نے ہنستے ہوئے اسے زور سے گلے لگایا….شافع نے اسکی پیٹھ تھپتھپائی، زایان شرارت سے بولا یار پتا نہیں اور کتنی لڑکیاں ہمارا روگ لئے بیٹھی ہونگیں، شافو ہنسا،،، پیچھے سے میراب آکر گلہ کھنکار کر بولی شافع بھائی اب تو آپکی شادی ہوگئی ہے اپکی بیوی آپ دونوں کو اسطرح رومینس کرتے دیکھیں گی تو کیا سوچے گیں؟؟؟ زایان نے بھنویں میچتے ہوئے میراب کا کان موڑا تم بہت بول نے لگ گئی ہو موٹی،،، میراب اپنا کان اسکے ہاتھ سے چھڑاتے ہوئے بولی ارے ارے میں تو یہ بولنے آئی تھی کہ آپ کو آئےنور بھابھی بلا رہی ہیں،،، میراب بول کر تیزی سے اندر بھاگی،،، زایان شافع کے گلے میں ہاتھ ڈالتے ہوئے بولا چلو بھئی آپکی ذوجہ محترمہ کا بلاوا آگیا… شافع ہنستا ہوا بولا تم فکر نا کرو کچھ دنوں بعد تمھارا بلاوا بھی آئے گا….. زایان اداکاری کرتے ہوئے منہ پر ہاتھ رکھ کر بولا ناں کرو یار مجھے شرم آرہی ہے،،، شافع نے اسکے سر پر مارا تو دونوں کا قہقہہ بلند ہوا…

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شافع اور زایان دونوں اندر آئے شافع نے آئےنور کو دیکھا، نور نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا چلیں؟ شافع نے کندھے اچکا کر جیب میں ہاتھ ڈالے ہاں چلو چلتے ہیں،،، ارفہ بیگم انھے کچھ دیر اور رکنے پر اصرار کر رہی تھیں لیکن شافع نے کہہ دیا نہیں آنٹی ہم پھر آئیں گے،،، ارفہ بیگم نے نور سے ملتے ہوئے اسے ایک بڑا سا گفٹ تھمایا،،، نور تکلفانہ انداز میں بولی آنٹی اسکی کیا ضرورت ہے؟ ارفہ بیگم اسے پیار کرتے ہوئے بولیں اسکی بالکل ضرورت تھی، پھر شافع سے بولیں شافع تمھاری بیوی ماشاءاللہ بہت پیاری ہے اللہ تم دونوں کو نظر بد سے بچائے شافع نے مسکراتے ہوئے آئےنور کو دیکھا نور نے اس پر سے نظریں ہٹا لیں،، سب سے مل کر وہ لوگ گاڑی کے پاس آئے گاڑی تک زایان انکے ساتھ آیا،،، شافع نے نور کے ہاتھ سے گفٹ لے کر پیچھے والی سیٹ پر رکھا زایان نے نور سے پوچھا،،، نور کیسی لگی تمھے میری فیملی ہے نا ایک دم میری طرح کول،،، آئے نور نے مسکراتے ہوئے کہا نہیں تمھاری فیملی تمھاری طرح نہیں ہے وہ بہت سوئٹ ہیں، زایان بالوں میں ہاتھ پھیرتا ہوا بولا وہی میری طرح سوئٹ…. شافع ہنستا ہوا اس سے گلے اور پھر وہ دونوں گاڑی میں بیٹھ کر گھر کے لئے روانہ ہوگئے… نور سارے راستے خاموش رہی تھی شافع کو اسکی خاموشی کی وجہ پتا تھی لیکن شافع چاہتا تھا کہ وہ خود اس سے پوچھے،،، گھر پہنچ کر نور نے اپنی چادر صوفے پر رکھی اور اسکارف کھول کر دوپٹہ گلے میں ڈال لیا… شافع موبائل نکالے صوفے پر بیٹھ گیا لیکن اسکی نظریں نور پر ہی تھیں،،، نور اپنے ٹاپس اتارتے ہوئے بولی شافع تمھاری منگنی ہوئی وی تھی تم نے کبھی ذکر نہیں کیا، ،شافع نے اسکی طرف دیکھا منگنی ہوئی تھی نکاح تو نہیں ہوا تھا، اور ویسے بھی وہ منگنی دادو اور بابا نے زبردستی کروائی تھی،،، نور اسکی طرف گھومی اسلئے تمھارے بابا تم سے خفا ہیں،،،، وہ تمھاری شادی تمھاری کزن سے کروانا چاہتے تھے،،، لیکن تمھے مجھ سے شادی کرنی پڑی نور روہانسی ہو رہی تھی، شافع کھڑا ہوا اور اسکے پاس آیا ایسا کچھ نہیں ہے نور میری اور میرے بابا کے تعلقات کچھ خاص نہیں ہیں یز وجہ ابھی مت پوچھنا میں بعد میں خود ہی بتا دوں گا….. نور خاموش ہو گئی اسکا بجھا ہوا چہرا دیکھ کر شافع نے اسکا چہرہ تھام کر اوپر کیا،،، اب کیوں پریشان ہو؟ نور پلکھیں جھپکاتے ہوئے بولی تم کسی سے محبت تو نہیں کرتے تھے…؟ شافع ہنسا….” ہاں کرتا تھا نا” نور کو اپنے کانوں میں کڑواہٹ اترتی ہوئی محسوس ہوئی،،،، نور نے کپکپاتے لفظوں سے پوچھا کس سے؟ شافع نے اسے خود سے قریب کیا اور اسکے گال پر انگلی پھیرتے ہوئے آہستہ سے بولا “تم سے” نور کو اپنی سانس رکتی ہوئی محسوس ہوئی،،، شافع اسکے بہت قریب تھا اسنے پیچھے ہونا چاہا شافع نے اسکے بازو پر گرفت مضبوط کر دی،،،، شافع اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا “مجھے تم سے محبت ہے نور” نور نے آہستہ سے پوچھا مجھ سے؟ شافع نے مسکراتے ہوئے اثبات میں گردن ہلائی ہاں تم سے مجھے نہیں پتا یہ حادثہ کب پیش آیا لیکن مجھے تم سے محبت ہوگئی،،، نور نے کچھ بولنا چاہا شافع نے اسکے ہونٹوں پر انگلی رکھ دی مجھے پتا ہے تم کیا کہنا چاہتی ہو میں جانتا ہوں تم ابھی مجھ سے محبت نہیں کرتیں لیکن تم فکر کیوں کر رہی ہو میں سکھا دوں گا نا،،، نور نے نظریں جھکا لیں شافع اسکی اس ادا پر مسکرایا،،،، شافع نے اسے خود سے اور قریب کر کے گلے سے لگا کر اسکے کندھے پر اپنا چہرہ رکھا اور اسکے گرد بازو پھیلا کر آنکھیں بند کر لیں،،،، نور کی حیرت کے مارے آنکھیں پھٹ گئیں،

I love you Noor, I really love you

آئےنور کا دل زوروں سے دھڑک رہا تھا، وہ آہستہ سے بولی شافع تمھے مجھ سے محبت لیکن کب؟ شافع نے آنکھیں نہیں کھولیں اور نہ ہی اسے خود سے الگ کیا…. پتا نہیں مجھے پتا ہی نہیں چلا کہ کب تم میرے لئے اتنی اہم ہوگئیں کہ مجھے ہر وقت تمھاری ہی تلاش رہنے لگی، میں خود کو تمھے سوچنے سے روک نہیں پاتا تھا جب تم بارش والی رات میری گاڑی کے آگے آگئیں تھیں تمھے اسطرح دیکھ کر مجھے لگا تھا کہ مجھے اگلی سانس نہیں آئے گی،،، تمھاری ماما نے جب نکاح کے لئے کہا تو…… تو میں منا ہی نہیں کر پایا،،، اب تم میری زندگی میں آگئی ہو تو مجھے لگ رہا ہے کہ میری زندگی مکمل ہوگئی ہے، جیسے میری زندگی کے سارے درد کہیں دور جاکر سو گئے ہیں،،، میں جانتا ہوں تم مجھ سے ابھی محبت نہیں کرتیں لیکن تم زیادہ دن تک مجھ سے محبت کئے بغیر رہ نہیں پاؤ گی،،، اپنی محبت پر اتنا تو یقین ہے مجھے،،، کیا تم اب مجھ پر یقین کرتی ہو؟ شافع کو لگا تھا کہ وہ اس دفعہ بھی انکار کرے گی، نور نے اسکے بازو پر اور کمر کے گرد ہاتھ پھیلاتے ہوئے کہا ہاں تھوڑا تھوڑا، شافع مسکرایا،،، اسکے بالوں پر ہاتھ پھیرتا ہوا بولا چلو جہاں تھوڑا یقین ہوا ہے وہاں محبت بھی ہو ہی جائے گی،،، نور شرارت سے بولی لیکن میں اظہار کبھی نہیں کروں گی،،، شافع نے اسکے گرد گرفت مضبوط کی چلو ٹھیک ہے میںاظہار اور انتظار دونوں کر لوں گا آخر کب تک نہیں کرو گی…. نور ہلکا سا مسکرا دی، شافع اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگا نور نے اپنی آنکھیں بند کر لیں، زندگی میں پہلی بار اسنے خود کو مکمل طور پر محفوظ محسوس کیا تھا،،، شافع اسے ذچ کرنے کے لئے بولا نور تمھے نہیں لگتا میرے اظہارِ محبت کے جواب میں تمھے بھی کچھ کہنا چاہئیے نور اسکا مطلب سمجھ رہی تھی، اسلئے محفوظ ہوتے ہوئے بولی شکریہ شافع… شافع نے خود کو دھائی دی، اور آسمان کی طرف دیکھ کر بولی یہ تو ناانصافی ہے، کچھ رحم کر میرے مولا نور ہنس دی…. اسکے ساتھ شافع بھی مسکرا دیا….