Izhar-e-Muhabat by Anooshe NovelR50417 Izhar-e-Muhabat Episode 21
Rate this Novel
Izhar-e-Muhabat Episode 21
Izhar-e-Muhabat by Anooshe
شافع گھر میں داخل ہوا لاؤنج میں کوئی بھی نہیں تھا اسنے تیمور صاحب کے کمرے میں جانے کا سوچا اور انکے کمرے کی طرف بڑھ گیا…..
اسنے دروازہ کھٹکھٹایا تو اندر سے تہمینہ بیگم کی آواز آئی آجاؤ شافع دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا اندر تیمور صاحب نہیں تھے…..
تہمینہ بیگم نے اسے مسکراتے ہوئے دیکھا شافع آؤ میرے بیٹے دروازے پر کیوں کھڑے ہو…..
شافع انکے کمرے میں بہت کم ہی آتا تھا اسلئے انھے حیرت بھی ہوئی….
شافع انکے سامنے بیڈ پر آکر بیٹھ گیا…..
تہمینہ بیگم نے اسکے چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھا آج یہاں کا رخ کیسے کر لیا…..
شافع ادھر ادھر نظریں گھماتا ہوا بولا بابا کہاں ہیں؟؟؟
انکی کوئی ضروری کال آگئی تھی وہ بات کرتے کرتے لاؤنج میں چلے گئے…..
شافع نیچے نظریں جھکاتے ہوئے بولا اچھا….
پھر تہمینہ بیگم کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے بولا ایک بات کرنی تھی….
تہمینہ بیگم مسکراتے ہوئے بولیں ہاں کہو…..
شافع انکا ہاتھ پکڑ کر سہلاتا رہا…..
میں نے گھر لیا ہے ماما…. تہمینہ بیگم کا خوشی کے مارے چہرہ کھل گیا….. ماشاءاللہ یہ تو بہت اچھی ہے بات ہے اللہ تمھے اور ڈھیروں کامیابیاں دیں….
وہ لاکھوں دعاؤں سے شافع کو نوازنے لگیں…. شافع سپاٹ چہرہ لئے زمین پر نظریں جمائے بیٹھا رہا….
میں یہ گھر چھوڑ کر جا رہا ہوں ماما…..
تہمینہ بیگم جو خوشی سے لگاتار بولی جارہی تھیں انھے اچانک چپکی لگ گئی…..
شافع نے نظریں اٹھا کر انکی آنکھوں میں دیکھا میں یہ گھر چھوڑ کر اپنے گھر میں شفٹ ہو رہا ہوں…..
تہمینہ بیگم کو حیرت کا جھٹکا لگا وہ شافع کا چہرہ تھامتے ہوئے بولیں یہ تم کیا بول رہے ہو بیٹا گھر چھوڑ رہے ہو لیکن کیوں اپنا گھر کون چھوڑتا ہے تم نے گھر لیا ہے اچھی بات ہے لیکن یہ تم کیا بول رہے ہو……
شافع نفی میں گردن ہلاتے ہوئے بولا یہ بابا کا گھر ہے ماما اور اب میں انکا گھر چھوڑ کر اپنے گھر میں، شفٹ ہو رہا ہوں…..
تہمینہ بیگم رونا شروع ہو گئیں یہ تم کیا کہہ رہے ہو بیٹا تم کیوں یوں اچانک گھر چھوڑنے کی بات کر رہے
میں اور تمھارے بابا تمھارے بغیر کیسے رہیں گے وہ روہانسی ہو رہیں تھی….
شافع ہنسا بابا رہ لیں گے،،، پھر تہمینہ بیگم کا ہاتھ تھپتھپاتے ہوئے بولا آپ میرے ساتھ چلیں وہ آپکا اپنا گھر ہوگا وہاں صرف آپ اور میں رہیں گے….
تہمینہ بیگم نفی میں گردن ہلاتے ہوئے بولیں میں تمھارے بابا کو چھوڑ کر کیسے جا سکتی ہوں تم بھی مت جاؤ بیٹا لڑائی جھگڑے تو ہر گھر میں چلتے رہتے ہیں، تم مت جاؤ بیٹا وہ رو رہیں تھیں…..
شافع اپنی گردن مزید جھکاتے ہوئے بولا میں پہلے ہی بہت مشکل میں ہوں ماما یوں رو کر میرے لئے اور مشکلیں مت بڑھائیں مجھے ایک نہ ایک دن اس گھر سے چلے ہی جانا تھا، آپ بس میرے لئے دعا کریں کے اللہ میرے لئے آسانیاں پیدا کرے اور میری زندگی میں سکون آجائے، پلیز مجھے روکئے گا مت……..
آپ مجھے یہ بتائیں آپ میرے ساتھ چلیں گی؟؟؟
تہمینہ بیگم نے اپنے آنسوں پوچھتے ہوئے کہا ایسے مرحلوں پر اگر اولاد اور شوہر میں سے کسی ایک کو چننا پڑتا جائے تو عورت شوہر کو چنتی ہے اور میں بھی وہی کروں گی……
میں تمھارے بابا کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتی لیکن میری دعائیں تمھارے ساتھ ہیں ہمیشہ تم جہاں رہو خوش رہو…..
شافع نے مسکراتے ہوئے انکے چہرا تھام لیا مجھے پتا تھا آپ بابا کو چھوڑ کر میرے ساتھ نہیں جائیں گی اور مجھے یہ بھی پتا ہے آپ میرے بغیر بھی نہیں رہ پائیں گی….
تہمینہ بیگم پھر سے روہانسی ہونے لگیں تو شافع انکے آنسوں پونچھتے ہوئے بولا میں آپ کے پاس آتا رہوں گا اور جس دن میں نہ آؤں آپ آجائیے گا…..
تہمینہ بیگم نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے اسکے سر پر پیار کیا….
شافع خود بھی روہانسی ہورہا تھا اسنے خود کو قابو کرتے ہوئے کھڑے ہو کر کہا اب میں جا رہا ہوں مجھے اپنی پیکنگ بھی کرنی ہے میں کل اپنا سارا سامان بھیج دوں گا اور خود بھی پرسوں تک شفٹ ہو جاؤں گا…..
آپ بابا کو بتا دیئے گا
کہہ کر وہ کمرے سے باہر نکلنے لگا تو کمرے کا تھوڑا سا درواز کھلا ہوا تھا باہر تیمور صاحب کھڑے تھے….
شافع دروازہ کھول کر باہر نکلا انکے تاثرات سے لگ رہا تھا کہ وہ سب باتیں سن چکے ہیں
انکی آنکھوں میں غصہ یا دہشت نہیں تھی انکی آنکھوں میں نمی تھی شافع کو اپنی آنکھوں کا دھوکا لگا
تیمور صاحب شافع کو کھڑے دیکھتے رہے شافع نے ان پر ایک نظر ڈالی اور اپنے کمرے کی طرف چلا گیا.…..
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آئےنور اپنے کمرے میں بیٹھی تھی ارمینہ بیگم اسکے کمرے میں داخل ہوئیں….
ایک ڈبہ اور لفافہ اسکی طرف سے بڑھایا….
نور نے سوالیہ نظروں سے انکی طرف دیکھا یہ کیا ہے….؟
مٹھائی اور لڑکے کی تصویر نور نے آنکھیں پھیر لیں تو ارمینہ بیگم بھیگے لہجے میں بولیں مبارک ہو نور “تمھارا نکاح طے ہوگیا” اس جمعے کو تمھارا نکاح ہے….
نور کو لگا اسکے کانوں میں کسی نے سیسہ پگھلا دیا ہے…..
نکاح؟؟؟ وہ بھی اس جمعے؟
ارمینہ بیگم اثبات میں سر ہلاتے ہوئے بولیں ہاں…..,
لڑکے کا بزنس نیا ہے اسے جلد وآپس جانا ہے اسلئے وہ لوگ نکاح جلد اور سادگی سے کرنا چاہتے ہیں…..
نور کھڑے ہوتے ہوئے بولی ماما یہ کیا بول رہی ہیں میں بابا سے اور وقت مانگ رہی تھی اور انھوں نے اسی جمعے میرا نکاح کروانے کی سوچ لی…..
ارمینہ بیگم اسکا بازو تھامتے ہوئے بولیں
اب تم اسی کو اللہ کی رزا سمجھو، سمجھ لو کے تمھارے نصیب میں آگے پڑھنا لکھا ہی نہیں تھا……
نور نے غصے سے انکا ہاتھ جھٹکا اور چینختے ہوئے بولی کیسے سمجھ لوں بابا اسطرح اچانک میری شادی کیسے کر سکتے ہیں ماما میں کہیں بھاگی تو نہیں جارہی پھر یوں……
کیا بابا کو اس بات کا ڈر ہے کے کہیں میں گھر سے نا بھاگ جاؤں لیکن آپ انھے جاکر بتا دیں اگر انھوں نے میرے ساتھ زبردستی کی تو میں بھاگوں گی تو نہیں لیکن یہ گھر چھوڑ کر ضرور چلی جاؤں گی….
اسکی آواز اتنی بلند تھی کہ باہر تک گئی تھی صدیقی صاحب غصے سے دھڑ کر کے دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئے آئےنور سہم گئی….
ارمینہ بیگم فوراً نور کے سامنے آئیں ورنہ صدیوں صاحب کا نور پر ہاتھ اٹھ جاتا……
صدیقی صاحب دھاڑے آخر کون ہے جس کے دم پر تم اتنی بڑی بڑی باتیں کر رہی ہو گھر چھوڑ کر کس کے پاس جاؤ گی آخر تم کون ہے جو تمھے رکھ لے گا ہاں…..؟
کیا تم نے کوئی اور سہارہ ڈھونڈ لیا ہے تبھی تم شادی سے انکار کر رہی…..
نور روتے ہوئے انکے سامنے آئی ایسا کچھ نہیں ہے بابا ایسا کچھ نہیں ہے…..
انکے آگے گڑگڑاتے ہوئے ہاتھ جوڑ کر بولی بابا آپ جہاں کہیں گے میں شادی کر لوں گی لیکن اتنی جلدی نہیں مجھے کچھ وقت دے دیں…..
صدیقی صاحب انگلی اٹھا کر بولے اس جمعے کی رات تمھارا نکاح ہے، اور میں کوئی فضول حرکت برداشت نہیں کروں گا یاد رکھنا……
وہ جانے لگے تو نور بے تحاشہ روتے ہوئے زمین پر ڈھیتے ہوئے بولی بابا پلیز ایسا مت کریں بابا
بابا میں اپنی جان دے دوں گی پلیز یہ نکاح ابھی مت کریں اسکے آنسوؤں کا صدیقی صاحب پر کوئی اثر نہیں ہوا وہ اسکی طرف دیکھے بغیر کمرے سے نکل گئے…..
آئےنور زمین پر بیٹھی رو رہی تھی اسے اپنے پیچھے ارمینہ بیگم کی لمبی لمبی سانسیں لینے کی آواز آئی آئے نور نے فوراً پیچھے مڑ کر دیکھا….
ارمینہ بیگم کی طبیعت خراب ہو رہی تھی نور فوراً اٹھ کر انکے پاس گئی ماما….
ماما کیا ہوا آپ کو…..؟ ارمینہ بیگم ہارٹ پیشنٹ تھیں انکی حالت بگڑتی دیکھ کر نور کے ہاتھ پیر پھولنے لگے…..
نور نے پاس رکھا پانی کا گلاس اٹھا کر ارمینہ بیگم کے لبوں سے لگایا انھوں نے چند گھونٹ لے کر گلاس ا
ہٹا دیا…..
نور نے انھے بیڈ پر لٹایا….. نور گھبرائی ہوئی تھی آپ،،،، آپ رکیں ماما میں بابا سے کہتی ہوں آپ کو ڈاکٹر کے پاس لے کر چلتے ہیں….
نور جانے لگی تو ارمینہ بیگم نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا نہیں ڈاکٹر کی ضرورت نہیں ہے میں ٹھیک ہوں…..
نور کے لگاتار آنسوں نکل رہے تھے وہ انکے پاس بیٹھتے ہوئے بولی کیسے ضرورت ہے آپکی طبیعیت خراب ہورہی ہے……
ارمینہ بیگم نور کا ہاتھ تھام کر روتے ہوئے بولیں مجھے معاف کر دینا میری بچی میں تمھارے لئے کبھی کچھ نہیں کر سکی وہ زاروں قطار نور کا ہاتھ تھام کر رو رہیں تھیں……
ماما آپ ایسا کیوں کہہ رہی ہے اپنے تو کچھ نہیں کیا ہے آپ نے تو ہمیشہ میرا ساتھ دیا ہے…..
لیکن میں پھر بھی کبھی تمھارے لئے کچھ نہیں کر سکی تمھے تمھارے باپ کے قریب نہیں کر سکی تمھے تمھارے حصے کی خوشیاں نہیں دلا سکی مجھے معاف کر دینے….
نور نے اپنے آنسوں صاف کئے کیونکہ وہ جانتی تھی وہ اسکے آنسوں دیکھ کر زیادہ پریشان ہورہیں ہیں….
نور انکا ہاتھ پکڑ کر بولی آپ ایسا کچھ مت سوچیں ماما اور آپ بالکل پریشان مت ہوں….
بابا میری شادی کروانا چاہتے ہیں میں کر لوں گی وہ اس جمعے کو چاہتے ہیں میں اسی جمعے کو کروں گی پھر انھے مجھ سے کوئی شکوہ نہیں رہے گا، اور انھے احساس ہو جائے گا انکی بیٹی انکا مان رکھنے والی ہے…..
وہ جتنے اعتماد سے کہہ رہی تھی الفاظ اتنے ہی ٹوٹ رہے تھے…..
ارمینہ بیگم نے بھیگی نظروں سے اسکی طرف دیکھا…..
” میں شادی کے لئے تیار ہوں”
نور کو اپنی آواز کھائی میں سے آتی ہوئی محسوس ہوئی…..
نور نے سختی سے ہونٹ بھینچے لیکن پھر بھی ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا…..
اسنے اپنا سر ارمینہ بیگم کے ہاتھ پر رکھ دیا….
آپ پریشان مت ہوں سب ٹھیک ہو جائے گا….
الفاظ ٹوٹ ٹوٹ کر ادا ہو رہے تھے ارمینہ بیگم نے دوسرا ہاتھ اسکے سر پر رکھا…..
نور نے سختی سے ہونٹ بھینچے وہ اپنی آواز کو روکنے کی بھرپور کوشش کر رہی تھی لیکن جب برداشت نہیں ہوا تو فوراً وہاں سے اٹھا کر باہر نکل گئی۔ ۔ ۔ ۔ ۔
کمرے سے نکلتے ہی وہ باتھ روم میں گھس گئی…..
اور اسکی بے آواز چینخھیں سسکیوں میں تبدیل ہوگئیں….
وہ بیسن کو تھام کر سر جھکائے روئے چلی جارہی تھی جب کھڑے رہنے کی ساکت ختم ہوگئی تو وہیں نڈھال سی بیٹھ گئی….
خلا میں دیکھتے ہوئے اسنے اپنی زندگی کو ایک اسکرین کی طرح اپنی آنکھوں کے سامنے چلتا دیکھا وہ کھوجنا چاہ رہی تھی کہ کوئی تو ایسی خوشی ہو جو مکمل مل گئی ہو
لیکن اسے ایسی کوئی خوشی نہیں ملی لیکن ہاں اسکی زندگی میں خوشی کے کچھ پل آئے تھے یونیورسٹی کے دنوں میں وہ خوش رہنے لگی تھی ہر چیز مکمل سی لگنے لگی تھی لیکن وہ خوشی بھی اس سے چھن گئی….
وہ منہ پر ہاتھ رکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی…. سب ختم ہوگیا،،، ہر خواب ٹوٹ گیا،،، ہر خوشی ادھوری رہ گئی… وہ بول بول کر روئے چلی جارہی تھی
لیکن روتی بھی کب تک ناجانے کتنی دیر وہ وہاں بیٹھی روتی رہی تھی
آنکھیں لال انگارہ ہو کر سوج گئیں….
پھر اچانک اسنے دوپٹے سے آنکھیں رگڑیں اور کھڑی ہوگئی…
نل کھول کر اسنے بے تحاشہ اپنے منہ پر پانی ڈالا پھر بیسن کو تھامی کھڑی رہی….
کچھ دیر بعد اسنے اپنی گردن اٹھا کر شیشے کی طرف دیکھا…..
اب میں نہیں روؤں گی اگر بابا میرا نکاح کروانا چاہتے ہیں میں کر لوں گی….
لیکن میں اب اپنی وجہ سے ماما کو بابا کے ہاتھوں ذلیل نہیں ہونے دوں گی….
اب میں اپنے آنسوؤں سے انھے پریشان نہیں کروں گی…
اسکے آنسوں گال پر بہہ کر پانی میں مل رہے تھے…
نور نے دونوں گالوں پر سے آنسوں رگڑ کر صاف کئے اور پھر چہرے پر پانی ڈالا اور شیشے میں دیکھے بغیر باہر نکل گئی…
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شافع اپنے کمرے میں بیٹھا پیکنگ کر رہا تھا کپڑے اور جوتے وغیرہ اسنے پیک کر لئے تھے اب وہ اپنی کتابیں ایک کاٹن میں ڈال رہا تھا……
وہ بہت سست رفتاری سے یہ کام کر رہا تھا، جیسے اسکے ہاتھوں میں جان ہی نہ ہو….
کتابیں ایک کاٹن میں ڈالنے کے بعد وہ دیوار پر لگی تصویریں اور وہ پینٹنگ اتارنے لگا جو وہ خود لایا تھا….
وہ بار بار اپنی پلکھوں کو زور زور سے جھپک رہا تھا شاید آنکھوں میں دھند لاہٹ آرہی تھی…..
رات بھر جاگ کے اسنے اپنا سارا سامان کپڑے، جوتے، پرفیوم، پینٹنگ، کتابیں اور دوسری ضروری چیزیں پیک کر لی تھیں وہ صرف وہ سب لے کر جا رہا تھا جو وہ خود سے لایا تھا…..
وہ یہ کام دو تین دن لگا کر بھی کر سکتا تھا لیکن وہ جلد سے جلد وہاں سے جانا چاہتا تھا لیکن اسے بہت مشکل ہو رہی تھی….
صبح ہوتے ہی اسنے ڈرائیور کے ہاتھ اپنا سامان بھجوانا شروع کر دیا تھا…..
وہ اپنی کتابوں کا کاٹن لے کر نکل رہا تھا جب تیمور صاحب اسے کمرے کے باہر کھڑے ہوئے ملے…..
وہ آگے بڑھنے لگا تو تیمور صاحب بولے کیا ہمیں چھوڑ کر جانے کی اتنی جلدی ہے کہ ایک دن میں ہی ساری تیاری کر لی….
ڈرائیور سامان لینے اوپر آیا تو شافع نے کاٹن اسے تھاما دیا اور خود تیمور صاحب کی طرف مڑا اسنے کچھ کہنے کے بجائے صرف گردن اثبات میں ہلائی….
تیمور صاحب اسے بغور دیکھتے ہوئے بولے….
کیوں کر رہے ہو یہ سب؟ شافع نے انھے دیکھ کر کندھے اچکا کر کہا کیا سب؟؟
یہ گھر چھوڑ کر کیوں جارہے ہو؟؟؟ شافع ٹھہر کر بولا سکون کے لئے…..
تو کیا وہاں تمھے اکیلے سکون مل جائے گا؟
شافع کندھے اچکا کر بولا شاید…..
یعنی تمھے اس بات کا بھی نہیں پتا کہ جہاں تم سکون کی تلاش میں جا رہے ہو وہاں تمھے سکون ملے گا بھی یا نہیں…..
شافع نے نظریں اٹھا کر انھے دیکھا…. آپ میری فکر مت کریں اگر اب اگر میں سمندر میں بھی ڈوب رہا ہوں گا نہ تو آپکو نہیں پکاروں گا….
شافع بول کر جانے لگا تو تیمور صاحب بےبسی سے بولے تم مجھ سےاتنے بددل کیوں ہوں تم جانتے ہو میں نے کچھ بھی جان پوچھ کر نہیں کیا تھا….
شافع کے قدم رک گئے، شافع نے مڑ کر انھے حیرت سے دیکھا اگر آپ یہ سوال بہت سال پہلے کر لیتے تو شاید آج آپکو میری بددلی کا سامنا نہ کرنا پڑتا…..
تیمور صاحب آگے بڑھ کر بولے جو ہوا جانے انجانے میں ہوا تم سب بھول کیوں نہیں جاتے؟؟؟
شافع پیچھے ہوتے ہوئے بولا بھول نا آسان نہیں ہے اور دل بدل نہ میرے اختیار میں نہیں ہے….
شافع تیزی سے سیڑھیاں اترتے ہوئے نیچے چلا گیا…….
تیمور صاحب وہیں کھڑے رہ گئے…..
شافع نے نیچے آکر ڈرائیور سے اپنے کمرے میں موجود سارا پیک ہوا سامان اسکے آپارٹمنٹ میں پہنچانے کا کہا اور خود آفس چلا گیا….
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زایان آفس میں بیٹھا کانوں میں ہینڈ فری ڈالےانگلش گانے سن رہا تھا وہ کرسی سے ٹیک لگا کر ٹیبل پر ٹانگیں ٹکا کر آنکھیں بند کئے بیٹھا تھا….
وہ گانے کی تھوڑی سی لائن سنتا اور پھر کہتا
“واہ واہ واہ کیا بات ہے کیا کہنے ہیں واہ”
حالانکہ وہ انگلش گانا سن رہا تھا لیکن تبصرے ایسے کر رہا تھا جیسے کوئی کلاسیکل غزل سن رہا ہو….
وہ گانا سن کر ہاتھ لہرا لہرا کر واہ کیا کہنے، واہ کیا کہنے کئے جا رہا تھا
آفس کی ایک ورکر دروازہ کھٹکھٹا کر اندر داخل ہوئی…اسنے زایان کو اسطرح دیکھ کر آواز لگائی سر…!لیکن زایان نے کہاں سننا تھا وہ تو آنکھیں بند کئے ہاتھ لہرائے کہے جارہا تھا
“I’m drowning” “I’m drowning”
واہ واہ کیا کہنے…..
سامنے کھڑی امپلائی نے ہنسی دبانے کے لئے منہ پر ہاتھ رکھا اور دروازہ بجا کر زور سے بولی زایان سر…
زایان کو آواز محسوس ہوئی تو فوراً آنکھیں کھول کر دیکھا سامنے کھڑی لڑکی اپنی ہنسی روکنے کی پوری کوشش کر رہی تھی
««««««««««««««««««««««««««««««««
زایان ہکا بکا ہو کر رہ گیا ایک جھٹکے سے اپنی ٹانگیں ٹیبل کے نیچے کیں اور کانوں سے ہینڈ فری نکال کر موبائل سائڈ پر رکھا کالر ٹھیک کرتے ہوئے ایک شرمندہ سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا
جی سارہ بولیں کوئی کام تھا؟؟؟
وہ لڑکی ہنسی دباتے ہوئے آگے آکر بولی جی سر اس فائل پر آپ کے سائن چاہیے تھے اور یہ بتانا تھا کہ….
اپنے جو ای میل کرنے بولا تھا وہ کر دی ہے….
زایان نے فائل پر سائن کرتے ہوئے کہا اچھا ٹھیک ہے گڈ…
زایان نے مسکراتے ہوئے فائل اس لڑکی کی طرف بڑھا دی وہ شکریہ کرکے جانے لگی تو زایان نے اسے روک کر شرمندگی سے کہا….
یہ سب جو ابھی آپ نے دیکھا یہ باہر کسی کو مت بتائے گا…وہ لڑکی ہنستے ہوئے بولی جی سر کسی کو نہیں بتاؤں گی۔ ۔ ۔ ۔ زایان اسے تنبیہہ کرتے ہوئے بولا اور شافع کو تو بالکل نہیں… وہ لڑکی بھی مسکراتے ہوئے بولی جی سر انکو بھی نہیں بتاؤں گی….
ٹھیک ہے آپ جائیں…وہ چلی گئی تو زایان نے سر پر ہاتھ مارا….
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شافع آفس میں بیٹھا کام کر رہا تھا فون بجا اسنے ریسیور اٹھا کر کان سے لگایا…..
سر آپ سے کوئی ملنے آیا ہے، دوسری طرف سے آواز آئی،،،شافع نے مصروف سے انداز میں کہا اچھا کون..؟
سر کوئی جرنلسٹ ہے بہت بڑے چینل کے لئے کام کرتی ہیں لیکن وہ اپنا نام نہیں بتا رہیں….
شافع نے کام چھوڑ کر پین ہونٹوں تلے رکھا پھر کچھ سوچتے ہوئے بولا اچھا ٹھیک ہے اندر بھیج دو انھے…..
ریسیور رکھ کر شافع اپنے کام میں مصروف ہو گیا..
کچھ دیر بعد دروازے پر ہلکی سی دستک دے کر ایک لڑکی اندر داخل ہوئی….
شافع کی نظر پہلے اسکے پاؤں پر پڑی اسنے کالے رنگ کے بہت اونچی ہیل والے جوتے پہنے ہوئے تھے….
شافع نے اسکے چہرے کی طرف دیکھا اور شافع حیرت سے کھڑا ہوگیا…
تاشفہ مسکراتے ہوئے آگے بڑھی اسنے وائٹ جینز پر وائٹ شرٹ پہنی ہوئی تھی بال کھلے کانوں میں ڈائمنڈ کے ٹاپس اور ہاتھ میں ایک بریسلٹ اور قیمتی سا پرس….
ہر چیز پرفیکٹ اور قیمتی… تاشفہ مسکراتی ہوئی اسکی ٹیبل کے سامنے آکر رکی… ہائے…..؟
شافع نے کوئی جواب نہیں دیا تو وہ شافع کو بغور دیکھتے ہوئے بولی کیا تم اپنے آفس میں آئے مہمانوں کو بیٹھنے تک کی دعوت نہیں دیتے…..
شافع نے سر جھٹکا پھر اسے بیٹھنے کا اشارہ کر کے خود بھی بیٹھ گیا….
تاشفہ کے چہرے سے والہانہ مسکراہٹ ایک منٹ کے لئے نہیں جا رہی تھی….
شافع نے اسکی طرف دیکھ کر پوچھا کہو کیسے آنا ہوا؟تاشفہ نے اسکی بات کا جواب دینے کے بجائے فون کی طرف اشارہ کر کے کہا میں کافی لوں گی بغیر چینی کے…
شافع آنکھیں گھما کر فون کی طرف بڑھا،،،
ایک کافی لے آئیں
…. تاشفہ آگے ہوتے ہوئے بولی تم نہیں پیو گے…؟
شافع نے اسکی بات کو نظر انداز کر کے کہا اب بتاؤ کیا کام تھا؟؟؟
تاشفہ اپنی دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو ملا کر آگے جھکتے ہوئے بولی….
میں ایک بہت بڑے نیوز چینل کے لئے کام کر رہی ہوں….شافع گردن اثبات میں ہلا کر بولا مجھے پتا ہے اور کچھ بتاؤ…..
شافع کو اسکے یونیورسٹی کے ہی دوست نے اسے تاشفہ کے بارے میں بتایا تھا، تاشفہ اپنے باپ کی سفارش پر اس چینل کے ساتھ منسلک ہوئی تھی……!
تو پھر یہ کہ میں تمھارا انٹرویو لینا چاہتی ہوں…. میرا چینل تمھے اچھا پے کرے گا تمھارے بزنس کو بھی بہت فائدہ ہوگا ہمارے چینل کی وجہ سے…..
شافع نے اسکی بات تحمل سے سنی پھر بولا بس یا اور کوئی بھی آفر ہے؟
تاشفہ مسکراتے ہوئے بولی تم بولو تمھے کیا چاہیے…..شافع نے کرسی سے ٹیک لگا کر پین ہونٹوں تلے دبایا اسکی نظریں تاشفہ کے چہرے پر تھیں…..
میں تمھاری آفر میں انٹرسٹڈ نہیں ہوں نہیں دینا مجھے انٹرویو….
تاشفہ کی مسکراہٹ ایک سیکنڈ میں غائب ہوئی شافع محفوظ ہوا….
تاشفہ اسے بغور دیکھتے ہوئے بولی تم بالکل نہیں بدلے ابھی بھی خود کو خسارے میں رکھنے کا شوق ہے تمھے…
شافع نے اثبات میں گردن ہلائی بالکل ایسا ہی ہے….
تاشفہ چبھتی ہوئی نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے بولی اگر یہ انٹرویو تمھارے لئے فائدے مند ثابت ہو سکتا ہے تو منا کر نے پر تمھارے لئے نقصان دہ بھی ہو سکتا ہے….
شافع نے طنز سے مسکراتے ہوئے بھنویں اٹھائیں اوہ تو تم دھمکی دے رہی ہو؟؟تاشفہ نفی میں گردن ہلاتے ہوئے بولی نہیں تنبیہہ کر رہی ہوں….
شافع آگے ہوتے ہوئے بولا آپکے احسان کا شکریہ اب آپ جا سکتی ہیں….
تاشفہ نے بھنویں اٹھا کر اسے گھورا پھر کھڑی ہو گئی….جانے سے پہلے اسنے اپنی دو انگلیوں سے آنکھوں کی طرف اشارہ کر کے کہا
“میری نظر تم پر رہے گی اب” شافع محفوظ ہوتے ہوئے کندھے اچکا کر بولا یہ تمھاری پرانی عادت ہے کچھ نیا کرو تاشفہ….
تاشفہ ہنسی اب تم بس انتظار کرو شافع وارثی بہت حساب باقی ہیں تم سے…..
کہہ کر وہ بڑے بڑے ڈک بھرتے ہوئے باہر چلی گئی….
شافع نے غصے سے سر جھٹکا…
شافع اسی کیفیت میں کرسی سے ٹیک لگائے آنکھوں پر ہاتھ رکھے بیٹھا تھا
زایان اسکے کمرے میں داخل ہوا…..
شافع یہ فائل دیکھو ذرا مجھے یہ سمجھ نہیں آرہا وہ یہ بولتے ہوئے اندر آیا تھا لیکن شافع کو اسطرح بیٹھا دیکھ کر ٹھٹھک گیا….
کیا ہو گیا تمھے اسطرح کیوں بیٹھے ہو؟؟؟
شافع سر جھٹک کر بولا کچھ نہیں بس رات بھر سویا نہیں تو تھکن ہو رہی ہو تم دیکھاؤ کیا دیکھا رہے تھے…
زایان فائلیں شافع کی طرف بڑھانے لگا تو پی اون کافی کا کپ لے کر اس کے آفس میں آیا تو شافع نے کافی واپس لیجانے کا کہا….
زایان فوراً بولا ارے وآپس کیوں بھیجوا رہے ہو میں ہوں نہ آپ یہاں رکھ دیں…. پھر زایان نے شافع کو دیکھ کر پوچھا جب پینی نہیں تھی تو منگوائی کیوں ہے کافی؟؟
شافع فائل دیکھتا ہوا بولا اپنے لئے نہیں منگوائی تھی زایان کافی کا گھونٹ لیتے ہوئے بولا تو کوئی آیا تھا کیا؟؟
شافع نے گردن اٹھا کر زایان کو دیکھا جو کافی پینے میں مصروف تھا
ہاں تاشفہ آئی تھی…. زایان کے منہ سے کافی نکلتے نکلتے بچی….
زایان ٹشو لے کر منہ صاف کر کے بھرپور حیرت کا مظاہرہ کر کے بولا تاشفہ آئی تھی لیکن کیوں؟؟؟
شافع نے ایک لمبا سانس کھینچا،،، اپنے چینل کے لئے انٹرویو لینا چاہ رہی تھی میرا….
زایان کو تجسس ہوا اچھا پھر تم دو گے انٹرویو…؟
شافع نے نفی میں گردن ہلاتے ہوئے کہا نہیں بالکل بھی نہیں زایان کو حیرت ہوئی لیکن وہ بہت بڑا چینل ہے ہمارے خلاف کچھ الٹا بھی بول سکتے ہیں…..
شافع سر جھٹک کر بولا مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے جب ہم کچھ غلط نہیں کر رہے تو کوئی ہمیں غلط کیسے بول سکتا ہے….
زایان نے کندھے اچکا دیئے اچھا چلو چھوڑو….
پھر وہ دونوں فائل ڈسکس کرنے لگ گئے…..
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آئےنور کمرے میں بیٹھی بیڈ پر پڑے سامان کو دیکھ رہی تھی…..اسکے سسرال سے نکاح کا جوڑا اور زیور وغیرہ آیا تھا…..
نور نے نکاح کے جوڑے پر ہاتھ پھیرا لال رنگ کا شرارہ اور ساتھ نکاح کی چنری بھی تھی…
ماضی کی کچھ یادیں اسکی آنکھوں میں گھوم گئیں….
نور اور ارمینہ بیگم مارکیٹ میں تھے ارمینہ بیگم ایک شرارے کی طرف دیکھ کر نور سے بولیں نور تمھاری جب شادی ہوگی نہ ہم لڑکے والوں سے لال رنگ کا ہی جوڑا دینے کو کہیں گے دلہن پر تو لال رنگ ہی سجتا ہے….
نور منہ بنا کر بولی نہیں ماما مجھے نہیں پسند لال رنگ کے جوڑے میں اپنے نکاح پر سفید رنگ کا جوڑا پہنوں گی ہاں اسکے اوپر چنری لال ہی لوں گی….
اچانک سے دروازہ کھولا تو نور کی سوچوں کا تسلسل ٹوٹ گیا…..
ارمینہ بیگم کو دیکھ کر نور مسکرائی ماما آئیے نہ نور نے اپنے سامنے سے چیزیں اٹھا کر سائڈ پر رکھیں….
ارمینہ بیگم اسکے سامنے آکر بیٹھیں نور ان سے آنکھیں نہیں ملا رہی تھی کیونکہ نور کی آنکھوں میں نمی تھی…..
ارمینہ بیگم نے ایک نظر جوڑے کی طرف دیکھا پھر گال پر ہاتھ رکھ کر سہلاتے ہوئے بولیں
اپنے نکاح کا جوڑا دیکھ لیا تم نے نور نے اثبات میں سر ہلا دیا حالانکہ جوڑا ویسے کا ویسی پیک تھا….
ارمینہ بیگم نے اسکے چہرے پر سے ہاتھ ہٹا کے اسکے دونوں ہاتھ تھام لئے…..
نور جب اللہ ہمیں کچھ اچھا دینے والا ہوتا ہے نہ تو اس سے پہلے بہت سی مشکلات اور پریشانیاں آتی ہیں کچھ لوگ ان مشکلات اور پریشانی سے ڈر کر بھاگ جاتے ہیں اور کچھ لوگ ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں ہو سکتا ہے بیٹا یہ نیا رشتہ تمھارے لئے بھی بہت سی خوشیاں لا رہا ہو، ہو سکتا ہے یہ نئی صبح سے پہلے کا اندھیرا ہو…..
نور نے نظریں اٹھا کر انھے دیکھا پھر انکے ہاتھ تھپتھپاتے ہوئے بولی…..
ماما اپنے سنا ہے لوگ کہتے ہیں طوفان سے پہلے بہت خاموشی ہوتی ہے اور مجھے یہ خاموشی طوفان سے پہلے کی معلوم ہوتی ہے…..
ارمینہ بیگم اسے ٹوکتے ہوئے بولیں نہیں بیٹا ایسے نہیں بولتے اللہ پاک تمھاری زندگی میں خوشیاں لائے……نور انکا ہاتھ تھامتے ہوئے بولی اللہ آپکی زبان مبارک کرے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شافع آفس سے وآپس تیمور شاہ ویلا میں آیا وہ سیدھا اپنے کمرے میں آیا…..
کمرے میں گھستے ہی وہ ٹھٹھکا تھا کیونکہ کمرہ روز جیسا دکھتا تھا ویسا نہیں تھا آج وہ کمرہ شافع کی چیزوں سے خالی تھا ہر چیز جیسے ادھوری تھی…
شافع چھوٹے چھوٹے قدم لیتے ہوئے آگے بڑھا اپنے آگے پیچھے اسے اپنے بچپن سے جوانی تک کے منظر دیکھائی دینے لگے کہیں وہ کھیل رہا تھا ، کہیں وہ دوڑ رہا تھا کہیں وہ بیڈ پر سر ٹکائے رو رہا تھا….
شافع کھڑکی کے پاس آکر کھڑا ہوا جہاں سے لان نظر آرہا تھا…..
کہیں لان میں وہ چھوٹا سا شافع پھول لگا رہا تھا، کہیں شافع فوارے کے ارد گرد گھوم کر اپنی ماما کو اپنے پیچھے بھگا رہا تھا….
شافع ڈریسنگ کے سامنے آیا ڈریسنگ خالی تھی اسنے خالی ڈریسنگ پر ہاتھ پھیرا وہ روز یہاں کھڑا تیار ہوتا تھا کیا یہ کمرہ بھی اسے یاد کرے گا…..؟
شافع نے نظریں اٹھا کر شیشے کی طرف دیکھا اسکا چہرے آنسوؤں سے بھیگا ہوا تھا اور اسے پتا بھی نہیں چلا شافع نے فوراً اپنا چہرا صاف کیا…..
پھر شیشے کی طرف دیکھ کر پر اعتماد انداز میں سانس کھینچا اسنے کمرے پر ایک نظر دوڑائی ڈرائیور اسکا سارا سامان لے گیا تھا صرف اسکا گٹار وہاں پڑا ہوا تھا….
شافع نے اپنا گٹار کندھے پر ڈالا آگے بڑھنے کے لئے قدم بڑھائے اسے اپنا ایک ایک قدم من بھر کا لگا……
دروازے پر پہنچ کر اسنے پورے کمرے پر نظر گھمائی وہ اس بات سے انکار نہیں کر سکتا تھا کہ اسے رونا آرہا تھا….
وہ چینخ چینخ کر رونا چاہتا تھا…. رونا بھی کیوں نہ آتا اپنا گھر چھوڑنا آسان بات تو نہیں ہوتی…..
جب اسے لگا کے اسکی آنکھوں میں نمی آرہی ہے تو اسنے اپنی شرٹ کی آستین سے آنکھیں رگڑیں اور دوبارہ کمرے پر نظر ڈالے بغیر تیزی سے دروازہ بند کر کے نیچے چلا گیا….
وہ نیچے اترا تو تہمینہ بیگم اور تیمور صاحب لاؤنج میں بیٹھے تھے…..
اسے اسطرح دیکھ کر وہ دونوں اٹھ گئے وہ لوگ سمجھ رہے تھے کہ وہ کل تک جائے گا…..
کہاں جا رہے ہو بیٹا؟؟ تہمینہ بیگم بولیں شافع انکے قریب آکر بولا اپنے گھر جارہا ہوں ماما جلدی سے دعاؤں کے ساتھ رخصت کر دیں
تہمینہ بیگم فوراً بولیں لیکن بیٹا تم نے تو کہا تھا کہ تم کل جاؤ گے پھر آج کیوں جارہے ہو بیٹا، وہ روہانسی ہو گئیں تھی….
شافع انھے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے بولا آج جاؤں یا کل کیا فرق پڑتا ہے بس آپ روئے گا مت میں آتا رہوں گا ملنے…..
اسکے کہنے کے باوجود وہ رو دی تھیں مت جاؤ بیٹا تم یہیں رہو ہمارے ساتھ بیٹا…..
شافع کا خود کا دل پھٹ رہا تھا شافع ضبط سے مسکرا کر بولا یہ ممکن نہیں ہے ماما….
پھر انکا ہاتھ اپنے سر پر رکھ کر مسکراتے ہوئے بولا روئیں مت بس مجھے ڈھیر ساری دعائیں دے کر رخصت کریں…..تہمینہ بیگم زارو قطار روتے ہوئے اسے دعاؤں سے نوازنے لگیں…
شافع سیدھا ہوا تو ایک نظر تیمور صاحب پر ڈالی انکے چہرے پر کل والا کوئی تاثر نہیں تھا ہاں لیکن چہرہ تھوڑا بجھا ہوا ضرور تھا…..
شافع اپنے جوتوں کو دیکھتے ہوئے بولا جارہا ہوں اور آپکی دی ہوئی چیزوں میں سے کچھ نہیں لے کر جارہا….شافع نے طنز کیا لیکن تیمور صاحب نے اسکی بات کو نظر انداز کر کے کہا کھانا لگ گیا ہے کھانا کھا کر نہیں جاؤ گے؟
شافع نے ایک زخمی مسکراہٹ کے ساتھ انکی طرف دیکھا اور نفی میں گردن ہلاتے ہوئے بولا نہیں اب اور رک نہیں پاؤں گا….
تیمور صاحب نے اسے گلے لگانے کے لئے اپنے ہاتھ ہلکے سے اٹھائے تھے لیکن شافع انھے نظر انداز کر کے بولا اب چلتا ہوں خدا حافظ….
شافع نے تہمینہ بیگم کے سر پر پیار کیا اور انھے روتا ہوا چھوڑ کر باہر نکل گیا….
گٹار پیچھے والی سیٹ پر ڈال کر شافع نے تیمور ویلا پر ایک نظر گھمائی…..پورے گھر کو وہ جیسے آخری بار نظروں میں قید کر رہا تھا……
پھر نظریں جھکا کر وہ گاڑی میں بیٹھ گیا…
گاڑی باہر لےجاتے ہوئے وہ بیک ویو مرر سے گھر کو جب تک دیکھتا رہا جب تک مرر پر سے گھر نہیں ہٹ گیا…..
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارحام ٹیلیفون کے پاس کریڈل ہاتھ میں لئے بیٹھی تھی…..کسی کو نمبر ملانا تھا لیکن جیسے ہی ملانے لگتی دل زوروں کا دھڑکنا شروع ہو جاتا….
ہمت کر کے اسنے نمبر ملاہی دیا دوسری بیل پر کال اٹھالی گئی….
دوسری طرف سے کسی نے ہیلو کہا ارحام کے بے اختیار آنسوں نکلے ارحام نے سختی سے منہ پر ہاتھ رکھا،،،دوسری طرف سے کوئی پوچھ رہا تھا کہ کون بات کر رہا ہے….
جب کوئی جواب نہیں ملا تو کال کاٹ دی گئی….
ارحام کا دل چاہا وہ دوبارہ یہ آواز سنے اسنے تین سال پہلے یہ آواز آخری بار سنی تھی اور اس تین سال کے عرصے میں یہ آواز اسکے دل و دماغ پر قابض رہی تھی….
اسنے دوبارہ والہانہ انداز میں نمبر ملایا،،،،
دوسری طرف سے کال اٹھا لی گئ….
ہیلو کون؟؟؟ ارحام نے ماؤتھ پیس پر ہاتھ رکھ لیا…..
دوسری طرف سے مخاطب شخص شاید ڈرائیو کر رہا تھا اس لئے گاڑیوں کا شور بھی آرہا تھا
دیکھیں آپ جو بھی ہیں اگر بات نہیں کرنی تو فون کیوں کیا ہے، انسان مصروف ہوتا ہے…. یہ بول کر دوسری طرف سے کال کاٹ دی گئی…..
ارحام فون رکھ کر تیزی سے اپنے کمرے کی طرف بھاگی….
بیڈ پر آکر لیٹ گئی اسکا دل زوروں سے دھڑک رہا تھا….آنسوں تھے کہ رک ہی نہیں رہے تھے…. اسکی آواز بالکل ویسی ہی ہے جیسے پہلے تھی اسکا لہجہ ،اسکا بولنے کا انداز ….
وہ والہانہ انداز میں کہہ رہی تھی…. پھر اٹھ کر شیشے کے سامنے جاکر کھڑی ہوئی خود کو شیشے میں دیکھتے ہوئے بولی اگر میں اسکی بات کا جواب دیتی تو کیا وہ مجھے ایک آواز میں پہچان لیتا؟
پیچھے سے اسکے تصور نے اس پر طنز کیا پہچانا انھے جاتا ہے جن سے محبت ہوتی ہے اور تم سے وہ محبت نہیں کرتا ورنہ صرف سانسوں سے پہچان لیتا…..
ارحام نے بے یقینی سے خود کو شیشے میں دیکھا اسنے اپنے آنسوں صاف کئے لیکن آنسوں دوبارہ نکل گئے اسنے پھر صاف کئے لیکن آنسوں رک ہی نہیں رہےتھے جب ضبط کی ساری ترکیبیں ضائع گئیں تو وہ خود کو دیکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی…..
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شافع نے اپنے نئے گھر میں قدم رکھا وہ آہستہ آہستہ قدم بڑھانے لگا……
گٹار اسنے لاؤنج کے صوفے پر رکھا اور کچن کی طرف چلا گیا…..
آتے ہوئے وہ دودھ اور کافی لیتا آیا تھا کیونکہ اسکے بغیر وہ ذیادہ دیر زندہ نہیں رہ سکتا تھا…..
اپنے لئے ایک کپ کافی بنا کر وہ دائیں جانب کا گلاس ڈور کھول کر باہر آگیا….
تازہ ہوا نے جب چہرے کو چھوا تو اسے اندر تک سکون اترتا ہوا محسوس ہوا…..
شافع اسٹول لے کر ہاتھ میں کپ لئے دیوار سے ٹیک لگا کر سمندر کے دل منہہ لینے والے منظر کو دیکھنے لگا اسے ہمیشہ سمندر دیکھ کر سکون ملتا تھا اسنے اس گھر کو ترجیح بھی اس وجہ سے زیادہ دی تھی کیونکہ یہاں سے سمندر قریب تھا لیکن یہ منظر بھی اسے سکون نہیں بخش رہا تھا اسے اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہوا۔۔
وہ اسی طرح ہاتھ میں دھواں اڑتی کافی کا کپ لئے بیٹھا تھا جب ڈور بیل بجی….
وہ ٹھٹکا اس وقت یہاں کون آسکتا ہے یہ سوچتے ہوئے وہ دروازے کی طرف بڑھا جیسے ہی دروازہ کھولا چھ،سات غبارے چہرے کے سامنے کئے زایان کھڑا تھا،،،
شافع کے دروازہ کھولنے پر فوراً بولا سر پرائز…..
شافع کو حیرت ہوئی زایان تم اس وقت ؟
زایان اندر آتے ہوئے بولا سوچا تو میں نے یہ تھا کہ پہلے میں یہاں آؤں اور تمھارا ویلکم کروں لیکن پھر میں بزی ہو گیا تو آ نہیں سکا….
شافع مسکراتے ہوئے بولا کوئی بات نہیں اب آگئے نہ اچھا کیا…..شافع زایان کے لائے ہوئے شاپر کی طرف اشارہ کر کے بولا اس میں کیا ہے؟؟زایان غبارے شوپیز کے اسٹینڈ سے باندھ رہا تھا….یہ؟ یہ میں اپنے لئے پیزا لایا ہوں تم ایک پیس کھا سکتے ہو اور ساتھ میں پیسٹری بھی ہیں….
شافع اپنی جیب میں ہاتھ ڈال کر چیک کرنے لگا تو زایان نے اسے حیرت سے دیکھتے ہوئے پوچھا کیا ڈھونڈ رہے ہو..؟
شافع زایان کو دیکھتے ہوئے بولا میرا والٹ تمھارے پاس ہے؟ زایان نے نفی میں سر ہلایا…
تو کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ ہے؟ زایان نفی میں گردن ہلاتے ہوئے بولا نہیں بھائی کچھ بھی نہیں ہے….
شافع بھنویں اٹھاتے ہوئے بولا تو کس کے پیسے چوری کر کے یہ پیزا اور پیسٹری لائے ہو؟؟؟
زایان نے اسے گھورا تو شافع ہنسا،،، میں یہ سب اپنے ذاتی پیسوں سے اپنی محنت کی کمائی سے لے کر آیا ہوں سمجھے تم…
شافع زایان کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا مزاق کر رہا ہوں یار
زایان پیزے کا ڈبہ کھول کر بولا کھاؤ یہ میں تمھارے لئے ہی لایا ہوں لیکن تمھارا ساتھ دینے کے لئے کھا لوں گا….
نہیں مجھے بھوک نہیں ہے میری کافی آدھی بچی ہوئی ہے میں بس وہ پیوں گا….
زایان نے شافع کے ہاتھ سے کافی کا کپ لے لیا اور اسے دپٹتے ہوئے بولا چپ کر کے کھاؤ پیسے کھرچ کر کے لایا ہوں تم نے آج لنچ بھی نہیں کیا تھا.۔۔۔
شافع کا دل نہیں تھا لیکن زایان کے اصرار پر اسنے ایک پیس کھا لیا زایان نے شافع کے حصے کی بچی ہوئی کافی کا ایک گھونٹ لیا اور پھر عجیب سا منہ بنایا….
یار ایک تو یہ تمھے بغیر چینی کی کافی پینے کا پتا نہیں کیا شوق ہے ٹیسٹ لیس بندے ہو تم….
شافع ہنستا ہوا بولا میرے ہاتھ کی بلیک کافی اگر تم نے پی لی تو تم تو الٹیاں کرتے رہو گے یہاں پر…
زایان آنکھیں گھما کر بولا ہاں پتا ہے مجھے ایک بار چھپ کے پی تھی کچھ ایسا ہی حال تھا…..
تم دیکھنا تمھاری بیوی تم سے کبھی خوش نہیں رہے گی….
شافع حیرت سے بولا اس سے میری بیوی کے خوش رہنے یا نہ رہنے کا کیا تعلق ہے؟
زایان ہاتھ مارتے ہوئے بولا تعلق ہے نہ جب تم اس کے روٹھ جانے پر اچھی چائے یا اچھی کافی بناکر ہی نہیں پلا سکو گے تو وہ تم سے خوش کیسے رہے گی…؟شافع ہنس دیا
زایان تھوڑی دیر تک بیٹھا اس سے باتیں کرتا رہا اور پھر چلا گیا…..
زایان چلا گیا تو تہمینہ بیگم کی کال آگئی وہ فون پر زاروں قطار رو رہیں تھیں…
ماما آپ تو ایسے رو رہی ہیں جیسے میں مر گیا ہوں میں کل ہی آپ سے ملنے آجاؤں گا….
انھے سمجھاتے ہوئے شافع نے کال کاٹ دی زایان کے آنے سے جو اسکا دل زرا بہل گیا تھا تہمینہ بیگم کی آواز سن کر وہ پھر بے چین ہو گیا تھا…..
وہ اٹھ کر کمرے میں چلا گیا کمرے کا دروازہ کھول کر اسنے چاروں طرف نظر دوڑائی کمرے میں فرنیچر کے علاوہ کچھ نہ تھا شافع کے سامان کے کارٹن پیک ہوئے رکھے تھے….
آج رات اسے نیند تو آنی نہیں تھی اسنے اپنا سامان سیٹ کرنا شروع کر دیا سب سے پہلے اسنے اپنی ورڈ روب سیٹ کی….
پھر پینٹنگ اور تصویروں کا کارٹن کھول کر ایک ایک تصویر اور پینٹنگ صاف کر کے لگانے لگا…..
کارٹن کے نیچے ایک پرانی تصویروں کا البم تھا شافع زمین پر بیٹھ کر وہ البم دیکھنے لگا اس میں شافع کی بچپن کی تصویریں تھیں اسکے ماما، بابا، دادو ، چاچو سب تھے،
شافع ایک ایک تصویر پر ہاتھ پھیر کر دیکھ رہا تھا…..
اچانک اسے شدت سے گھر یاد آنے لگا….
اسنے گٹھنوں میں سر دیا اور دونوں ہاتھ سر پر ٹکا کر کسی بچے کی طرح م ہ چھپا کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔۔۔۔۔
وہ بے اختیار زور زور سے رو رہا تھا…..
گدی پر ہاتھ رکھ کر اسنے سر اٹھایا
ماما……….. ماما…. وہ چینخھ رہا تھا وہ خود کو بے بسی کی انتہا پر محسوس کر رہا تھا کیونکہ وہ کچھ کر نہیں سکتا تھا..
وہ پھر چینخھا ماں……..
میرے پاس آجائیں پلیز……
جدائی نے شافع وارثی کو رلا دیا تھا…..
وہ پہلے بھی رو لیتا تھا لیکن اسطرح چینخ کر وہ بچپن میں آخری بار رویا تھا
ناجانے وہ کتنی ہی دیر اسی طرح روتے ہوئے تڑپتا رہا اور جب تھک گیا تو کسی معصوم بچے کی طرح روتے روتے وہیں سو گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آئےنور لاؤنج میں بیٹھی تھی دروازے پر بیل بجی وہ اٹھنے ہی والی تھی ارمینہ بیگم چلی گئیں…….
منہا آئی تھی،،، منہا آتے ہی ارمینہ بیگم کے گلے لگی مبارک ہو آنٹی ارمینہ بیگم مسنوعی سا مسکرائیں….
آئےنور حیرت سے کھڑی ہوئی تھی منہا مسکراتے ہوئے آئی اور نور کے گلے لگ گئی شادی کر رہی ہو اور مجھے خبر تک نہیں ہونی دی؟؟؟
نور نے الگ ہوتے ہوئے پوچھا تم ہے کس نے بتایا؟؟
منہا ارمینہ بیگم کی طرف اشارہ کرکے بولی آنٹی نے ورنہ تم نے تو مجھے بتائے بغیر ہی رخصت ہو جانا تھا…..
نور نے خفا ہونے کے انداز میں ارمینہ بیگم کو دیکھا….
انھوں نے آگے آتے ہوئے کہا منہا اب تم آگئی ہو نہ نور کا دل لگ جائے گا ورنہ نور اداس ہو رہی تھی….
منہا آئےنور کے گلے میں ہاتھ ڈال کر بولی ارے آنٹی اب میں آگئی ہوں نہ دیکھیں میں کیسی رونق لگاتی ہوں کہیں سے لگ رہا ہے کہ یہ شادی کا گھر ہے دو دن بعد شادی ہے اور سب ایسے منہ لٹکائے بیٹھے ہیں…
آنٹی آپ ڈھولک کا انتظام کروایں ڈھولکی کریں گے……
نور کے منا کرنے سے پہلے ہی ارمینہ بیگم بولیں نہیں بیٹا ڈھولکی نہیں اسکے بابا کو یہ سب شور شرابا کرنا ذرا پسند نہیں ہے….
اور ویسے بھی نکاح سادگی سے ہی ہوگا….
منہا منہ بناتے ہوئے بولی ارے آنٹی یہ کیسی شادی ہے….
ارمینہ بیگم بس پھیکا سا مسکرا کر وہاں سے چلی گئیں…
منہا آئے نور کی طرف مڑی اور خفا ہوتے ہوئے بولی یار تم تو بڑی چھپی رستم ہو اچانک شادی کا پلین بنا لیا اور کسی کو کانوں کان خبر بھی نہیں ہونے دی…..
آئےنور نظریں جھکاتے ہوئے بولی ایسا کچھ نہیں ہے سب کچھ بس جلدی میں طے ہوا….
منہا پھر شرارت سے نور کو کونی مارتے ہوئے بولی یہ تو بتاؤ جی جو کیسے ہیں؟ کون ہیں؟ کیا کرتے ہیں؟؟؟
نور اسکی طرف دیکھ کر بولی بابا کے جاننے والے ہیں…..
پھر کندھے اچکا کر بولی کیسے ہیں یہ مجھے نہیں پتا…. منہا نے حیرت سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا کیا مطلب تم نے دیکھا نہیں کیا؟؟؟ نور خلا میں دیکھتے ہوئے بولی تصویر دی تھی ماما نے میں نے بس ایک نظر دیکھا…..
منہا پھر شرارت سے بولی تو وہ پہلی نظر میں کیسے لگے؟؟
نور کندھے اچکا کر بولی جیسے سارے مرد ہوتے ہیں…..
تو تمھے اُن میں کچھ خاص نہیں لگا؟؟؟
میں انھے جانتی نہیں ہوں تو کیسے کہہ دوں کے ان میں کیا خاص ہے…
منہا نے کوفت سے آنکھیں گھمائیں اوففف نور….. اچھا یہ بتاؤ تمھارا سسرال کہاں ہے….
منہا اس سے لگاتار باتیں کر رہی تھی اسکے موبائل استعمال کرنے میں اچانک کمی آگئی تھی.…..
نور چڑ کر بولی ابھی نکاح نہیں ہوا سسرال تو مت بولو…. پھر نور دھیمے لہجے میں بولی میں امریکہ چلی جاؤں گی شادی کے بعد….
منہا کی حیرت سے آنکھیں پھٹیں کیا تم سچ کہہ رہی ہوں نور نے خلا میں دیکھتے ہوئے ویران چہرے سے اثبات میں گردن ہلائی۔۔۔۔
منہا والہانہ انداز میں اسکے ہاتھ پر ہاتھ مارتے ہوئے بولی واہ بھئی بہت بڑی جگہ ہاتھ مارا ہے…..
نور نے بھنویں اٹھا کر اسے دیکھا رشتہ بابا نے طے کیا ہے……
منہا سیدھی ہوتے ہوئے بولی ہاں ہاں میرا مطلب تھا اچھی جگہ پر رشتہ ہوا ہے، خوش رہو گی……
منہا اور بھی اس سے ناجانے کیا کیا پوچھتی رہی اور آئےنور گردن جھکائے بجھے ہوئے لہجے میں اسکا جواب دیتی رہی……
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آئےنور اسکے سامنے کھڑی رو رہی تھی…..
وہ جتنا آگے بڑھ کر اسکے پاس جانا چاہ رہا تھا وہ اتنا ہی خود بہ خود اس سے دور ہو رہی تھی…..
وہ اسے آواز لگا رہا تھا اسکا ہاتھ تھامنا چاہ رہا تھا لیکن وہ دور ہوتی چلی جارہی تھی…..
نور……… اچانک شافع اسکا نام لے کر چینخ اٹھا شافع نے اٹھ کر اپنے آگے پیچھے دیکھا جگہ انجان تھی کمرے میں ہلکی ہلکی روشنی تھی….
اسنے نظریں گھما کر ادھر ادھر دیکھا اسے یاد آیا وہ اپنے نئے گھر میں ہے وہ رات میں زمین پر ہی سو گیا تھا….
اسنے اپنے دل پر ہاتھ رکھا دل زوروں سے دھڑک رہا تھا، سانسیں بے ترتیب ہورہی تھیں، اسنے گھڑی کی طرف دیکھا صبح کے چھ بج رہے تھے…
اسنے بالوں پر ہاتھ پھیرا یہ سب کیا ہو رہا ہے میرے ساتھ وہ بڑبڑایا….
میں رات کو ماما کو یاد کر کے روتے ہوئے یہاں سو گیا تھا،،، اسے خواب یاد آیا نور……
نور رو رہی تھی وہ وہ…. میرے خواب میں آئی آخر کیوں…..
سب کچھ سوچ کر اسکا دماغ گھوم رہا تھا اسنے زور سے بیڈ کے کونے پر ہاتھ مارا….
اچانک ہی اسکا دل گھبرانے لگا وہ جلدی سے اٹھا اور ساری کھڑکیاں کھول دیں، وہ اس بات سے انکار نہیں کر سکتا تھا کہ اسے اس وقت نور کی فکر ہو رہی تھی اسے اسکی شدت سے یاد آرہی تھی…..
وہ اس کی خیریت معلوم کرنا چاہتا تھا لیکن کیسے؟ اچانک اسکے ذہن میں زایان کا خیال آیا وہ فوراً والہانہ انداز میں موبائل کی طرف دوڑا…..
موبائل مل جانے پر اسنے تیزی سے زایان کا نمبر ملایا بیل جانے لگی….
اگر زایان نے پوچھ لیا کہ اتنی صبح تمھے نور کا خیال کیوں آیا تو تم کیا کہو گے شافع وارثی؟؟؟
اسنے فوراً کال کاٹ دی…. اور زور سے موبائل بیڈ پر پھینکا……
وہ دونوں ہاتھوں میں سر دے کر کراہیاں آآآآآآآآ….. یہ کیا ہو رہا ہے میرے ساتھ ایک خواب تھا بس آگیا میں اسکے لئے کیوں پریشان ہورہا ہوں وہ ٹھیک ہوگی…..
اسنے لمبی لمبی سانسیں لے کر خود کو ان سوچوں میں سے نکالنا چاہا جب کامیاب نہیں ہوا تو پاس پڑا گلدان اٹھا کر دیوار پر دے مارا…..
اور بڑے بڑے ڈک بھرتے ہوئے باتھ روم کی طرف چلا گیا……
کچھ دیر بعد جب وہ نکلا تو کچھ پر سکون لگ رہا تھا دماغ پر پانی پڑنے سے دماغ ٹھنڈا بھی ہوا تھا…..
ابھی سات بھی نہیں بجے تھے اور وہ آج آفس بھی نہیں جانا چاہتا تھا اسکی ہلکی بھوری آنکھیں کافی حد تک سوجی ہوئی تھیں…..
شیشے کے سامنے کھڑے ہو کر اسنے اپنے گیلے بالوں پر برش پھیرا….
اسکی کتابوں کے تین کاٹن ابھی بھی پیک رکھے تھے باقی سب چیزیں وہ تقریباً سیٹ کر چکا تھا…..
مڑ کر اسنے کمرے پر ایک نظر دوڑائی….
گلدان ٹوٹا ہوا نیچے بکھرا پڑا تھا نیچے بیٹھ کر وہ ٹکرے سمیٹنے لگا…..
پھر کچن کی طرف آیا اسے شدت سے کافی کی طلب ہورہی تھی….
لیکن وہ کافی بنانے نہیں کھڑا ہوا کیونکہ اگر وہ رکتا تو منفی سوچیں پھر اسے گھیر لیتیں….
اسلئے اپنا موبائل لے کر وہ گھر سے باہر آگیا….
وہ پیدل ہی چل رہا تھا نیا گھر، نیا ماحول، نئے راستے وہ اپنے آپارٹمنٹ سے باہر نکلا سامنے سےاس سے کچھ زیادہ عمر کا ایک شخص جاگنگ کرتا آرہا تھا شافع کے پاس آکر رکا….
ہائے،، شافع نے انکی طرف دیکھا میں آپکے برابر والے آپارٹمنٹ میں رہتا ہوں….
شافع نے ان سے ہاتھ ملایا انھوں نے اپنا تعارف کروایا شافع اپنا نام بتانے ہی لگا تھا اسکے بتانے سے پہلے ہی وہ بول پڑے…
شافع وارثی رائٹ؟ شافع نے مسکراتے ہوئے سوالیہ نظروں سے انکی طرف دیکھا آپ مجھے کیسے جانتے ہیں؟
وہ مسکراتے ہوئے بولے آپکو کون نہیں جانتا میں بھی بزنس کرتا ہوں….
شافع نے مسکرا کر گردن ہلائی…
آپ اکیلے شفٹ ہوئے ہیں یا آپکی فیملی بھی؟
نہیں میں اکیلا ہی ہوں….
انھوں نے مسکراتے ہوئے الوداع کے لئے شافع سے ہاتھ ملایا اوہ اچھا اپ سے مل کر خوشی ہوئی کبھی آئے گا ہمارے گھر اور کسی چیز کی ضرورت ہو تو ضرور بتائے گا…..
شافع نے بھی مسکراتے ہوئے ان سے ہاتھ ملا کر الوداع کلمات کہے اور آگے بڑھ گیا…..
کچھ آگے پہنچ کر اسے ایک چائے کا کیبن دیکھا اس وقت کوئی کیفے کھلا ہونا تو مشکل تھا اسلئے اسنے وہیں سے چائے پینے کا ارادہ کیا…
ایک چائے کے کپ کا بول کر وہ پاس رکھی بینچ پر بیٹھ گیا….
اسنے موبائل نکال کر تہمینہ بیگم کو کال ملائی کال اٹھا لی گئی…
وہ والہانہ انداز میں اسکا حال احوال پوچھ رہی تھیں….
شافع انھے تسلی دلانے لگا چائے والے نے چائے کا کپ لاکر شافع کو دیا شافع نے بینچ پر کپ رکھ دیا۔۔۔۔
صاحب آپکو کچھ اور چاہیے؟
شافع نے نفی میں گردن ہلائی…. شافع فون پر بات کرتے ہوئے بولا نہیں ماما آج آفس نہیں جاؤں گا کچھ چیزیں سیٹ کرنی رہ گیئں ہیں…
تہمینہ بیگم اسے گھر آنے کا کہہ رہی تھیں جبکہ شافع کا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا لیکن وہ انھے پھر بھی تسلی دلانے لگا
کچھ دیر بات کر کے اسنے کال کاٹ دی…
اور چائے کا کپ اٹھا کر خلا میں دیکھتے ہوئے چائے پینے لگا…
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منہا نے آئےنور کے گھر پر ڈیرہ ڈال لیا تھا شادی میں صرف ایک ہی دن بچا تھا کچھ قریبی رشتے دار بھی گھر پر موجود تھے….
نور تم مہندی کہاں سے لگوا رہی ہو؟؟؟
نور نفی میں گردن ہلاتے ہوئے بولی کہیں سے نہیں…
منہا نے اچھنبے سے پوچھا کہیں سے نہیں کیا مطلب؟
مطلب یہ کے مجھے نہیں لگوانی…
منہا نے منہ بنایا اور ارمینہ بیگم کو آواز لگا دی آنٹی نور کو دیکھیں مہندی لگوانے سے منا کر رہی ہے بھلا ایسی بھی کوئی دلہن ہوتی ہے جو مہندی نہ لگوائے….
ارمینہ بیگم نے بےبسی سے نور کی طرف دیکھا نور اپنے ہاتھوں کو دیکھ رہی تھی….
بیٹا اسکا دل نہیں ہے رہنے دو مہندی….
منہا اپنا فون اٹھاتے ہوئے بولی ارے آنٹی کیسے رہنے دیں شادی تو ایک بار ہی ہوتی ہے میں ایک لڑکی کو جانتی ہوں وہ بہت اچھی مہندی لگاتی ہے میں اسے بلا لیتی ہوں…..
نور کے لاکھ منا کرنے کے باوجود بھی منہا نے مہندی والی کو فون کر دیا….
پھر فون رکھتے ہوئے بولی بس ابھی تھوڑی دیر میں ہی آرہی ہے پھر تمھارے ان خوبصورت سے ہاتھوں میں مہندی سجی ہوگی…..
آئےنور اسکے ہاتھوں میں سے اپنے ہاتھ نکال کر وہاں سے اٹھ کر چلی گئی…….
نور کمرے میں آکر گٹھنوں کے گرد بازو پھیلا کر سر گھٹنوں میں چھپائے بیٹھ گئی، اسنے پیلا سوٹ پہن رکھا تھا باقاعدہ مائیو نہیں رکھی گئی تھی……
صرف ایک دن بعد وہ کسی اور کی ہو جائے گی اپنے گھر سے اپنے ماں باپ سے اپنے ملک سے بہت دور چلی جائے گی….
انجان شخص، انجان لوگ ، انجان دنیا…..
سب کچھ انجان تھا جو اپنے تھے انھے وہ پیچھے چھوڑ کر جا رہی تھی….
کسی کا نام اسکے نام کے ساتھ جڑنے والا اسکا ہنسنا ،رونا، جینا اب کسی ایک انجان شخص سے منصوب ہو رہا تھا….
وہ اسی طرح گٹھنوں میں سر دیئے بیٹھی تھی…. ایک لڑکی نے دروازہ کھٹکھٹا کر کہا مہندی والی آگئی ہے آپ باہر آجائیں….
نور نے بس اچھا کہہ دیا اور اسی طرح بیٹھی رہی باہر نہیں گئی….
جب وہ باہر نہیں آئی تو کچھ دیر بعد منہا اس لڑکی کو اندر ہی لے کر آگئی….
وہ مہندی والی لڑکی نور کے سامنے بیٹھی….
نور نے اپنا ہاتھ آگے نہیں کیا تو اسنے نور کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا ہاتھ آگے کریں اپنا….
نور نے آہستہ سے اپنے ہاتھ آگے کئے اسنے محسوس کیا اسکے ہاتھوں میں کپکپاہٹ تھی….
لیکن حیرت کی بات یہ تھی اسکی آنکھیں خشک تھیں اسے تو اس وقت چینخ چینخ کر رونا چاہیے تھا لیکن ،،،،،،
لیکن اس وقت اسے بالکل رونا نہیں آرہا تھا شاید اسنے حالات کے ساتھ سمجھوتا کر لیا تھا…..
اسکے ہاتھ پر مہندی کا پہلا پھول بنایا گیا تو ہاتھوں کی کپکپاہٹ بھی خود با خود ختم ہوگئی…
اسنے آنکھیں بند کیں،،،
تو اس انجان شخص کے نام کی مہندی بھی اسکے ہاتھوں میں لگ ہی گئی…. اب رہا نکاح تو اس میں بھی ایک ہی دن بچا ہے…
پھر کون جانے کے کس کا دل کس کے لئے دھڑکتا ہے اور کس کے لئے اظہارِ محبت مشکل ہے…..
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شافع گھر لوٹ کر اپنی کتابیں سیٹ کر رہا تھا جب زایان کا فون آیا شافع نے کال اٹھا کر موبائل کان سے لگا لیا……
کہاں ہو یار ؟ابھی تک آفس نہیں آئے تم..
شافع صوفے سے ٹیک لگاتا ہوا بولا آج نہیں آؤں گا میں سامان سیٹ کر رہا ہوں…..
زایان کچھ سوچتے ہوئے بولا اچھا چلو ٹھیک ہے….
تمھاری کال آئی ہوئی تھی صبح کوئی کام تھا کیا؟؟
شافع کو اپنا خواب یاد آیا….
نہیں میں بس ایسی یہی بتانے کے لئے کال کر رہا تھا کہ میں آج نہیں آؤں گا…
اچھا یار سنو کینیڈا والی پارٹی کچھ مسئلہ کر رہی ہے ہم دونوں میں سے کسی کو کل کینیڈا جانا ہوگا…..
شافع نے سر پر ہاتھ پھیرا کل…..؟ کچھ زیادہ مسئلہ ہے کیا؟؟
زایان گردن ہلاتے ہوئے بولا ہاں مسئلہ تو زیادہ ہے انکے ہمارے ساتھ پروجیکٹ سائن ہے اب ایسی تو نہیں چھوڑ سکتے….
شافع نے اثبات میں گردن ہلائی میں تو ابھی نہیں جا سکتا تم چلے جاؤ…
زایان چینخھا میں دماغ خراب ہوگیا ہے تمھارا میں اکیلے کیسے سب سنبھالوں گا….
ویسے ہی سنبھالو گے جیسے سنبھالتے ہو میں کوئی بہانا نہیں سنوں گا تم ہی جاؤ گے….
زایان کچھ نخرے کرنے لگا لیکن پھر شافع کے اصرار پر مان گیا….
کچھ ادھر ادھر کی باتیں کرنے کے بعد شافع نے اس سے محتاط انداز میں پوچھا زایان تم یونی گئے تھے؟؟
نہیں کافی ٹائم ہو گیا نہیں گیا تمھے کوئی کام تھا؟؟؟
شافع فوراً بولا نہیں نہیں کوئی کام نہیں تھا بس ویسے ہی پھر ٹھہر کر بولا آئےنور سے بات ہوتی ہے تمھاری؟؟
ہاں کچھ دنوں پہلے ہوئی تھی پھر دوبارہ میں نے اسے فون کیا اسکا نمبر بند جا رہا تھا….
شافع نے دوبارہ پوچھا اچھا وہ ٹھیک یے؟؟
زایان نے کندھے اچکا کر عام سے انداز میں کہا ہاں ٹھیک ہے لیکن تمھے اچانک اسکا خیال کیسے آگیا …..؟
شافع نے فوراً بات گھمائی نہیں میں بس ویسے ہی پوچھ رہا تھا….
اس سے پہلے کے زایان اور سوال کرتا شافع نے کام کا بہانا بنا کر فون کاٹ دیا اور زایان نے اسکے انداز ہر زیادہ غور بھی نہیں کیا….
کال کاٹ کر شافع نے پیچھے صوفے سے سر ٹکایا شکر ہے وہ ٹھیک ہے، میں خواہ مخواہ میں ایک خواب کی وجہ سے پریشان ہوگیا….
سر جھٹک کے وہ دوبارہ اپنی کتابیں سیٹ کرنے لگا لیکن پھر بھی نور کا خیال اسکے دماغ میں مسلسل تھا…..
<><><><><><><><><><><><><><><><><><><><><><><><><><>
بی اماں صوفے پر بیٹھیں ملازمہ سے پیر دبوا رہی تھیں….جب “گوہر جو کے ابراہیم صاحب کا چھوٹا بیٹا ہے” آج کل چھٹیوں پر آیا ہوا ہے بی اماں کے پاس آکر بولا….
بی اماں تایا جی کا فون آیا تھا…. بی اماں فوراً اپنی چھڑی سنبھال کر سیدھی ہوتے ہوئے بولیں
لو تو تم نے خود ہی بات کر لی مجھ سے بات کروانی تھی نہ مجھے اس سے شادی کے متعلق کچھ بات کرنی تھی۔ ۔ ۔ ۔
گوہر کو بی اماں کی باتوں سے کوفت ہوئی بی اماں اپنی کہیں جارہی تھیں جب گوہر بولا،،،،،، شافع گھر چھوڑ کر چلا گیا ہے…
بی اماں کو جھٹکا لگا ہائے یہ کیا کہہ رہا ہے گھر چھوڑ کر چلا گیا کہاں چلا گیا؟؟؟
گوہر اپنا موبائل نکالتا ہوا بولا شافع نے اپنا الگ گھر لے لیا ہے وہ اب وہیں رہے گا تایا جی کا گھر چھوڑ دیا ہے…..
بی اماں صدمے سے اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بولیں،،، ہائے کیا کر دیا اس لڑکے نے سارے کئے کرائے پر پانی پھیرنے پر تولا ہوا ہے شادی سر پر ہے اور اسکی نوٹنکیاں ہی ختم نہیں ہورہیں، بی اماں کھڑی ہوتے ہوئے بولیں گوہر تو ایک کام کر مجھے شہر لے چل میں جاکر ذرا اس شافع کے کان مروڑ کر اسے سیدھا کروں ،،،،ہائے بتاؤ ذرا اپنا گھر بھی کوئی چھوڑ کر جاتا ہے….
گوہر فوراً اپنے ہاتھ اوپر کرتا ہوا بھنویں چڑھا کر بولا میں آپکو کہیں لے کر نہیں جارہا ویسے بھی پرسوں تک مجھے وآپس چلے جانا ہے میرے کچھ ضروری کام ہیں مجھے وہ نپٹانے ہیں….
بی اماں بھنویں سکیڑ کر بولیں آئے تو پرسوں چلا جائے گا بہن کی شادی تک نہیں رکے گا؟ بی اماں سر پر ہاتھ رکھ کر بولیں
پتا نہیں میرے بیٹوں کی کیسی اولاد پیدا ہوگئی ہے وہاں شافع نے سب کی ناک میں دم کیا ہوا ہے یہاں اس نواب ذادے کے الگ ہی ٹھاٹ ہیں….
گوہر انکی بات کو نظر انداز کر کے موبائل میں مصروف باہر چلا گیا……
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نور نے مہندی دھونے کے لئے نل کے نیچے ہاتھ کیا….. آہستہ آہستہ مہندی اترنے لگی شدید سرخ رنگ….. اسنے اپنے دونوں مہندی والے ہاتھوں کو اوپر کر کے آنکھوں کے سامنے کیا……
“تیری محبت کا اثر اپنے ہاتھوں میں سجائے بیٹھی ہوں……
میں تیرے نام کی مہندی اپنے ہاتھوں میں لگائے بیٹھی ہوں…”
ہاتھ نیچے کر کے اسنے شیشے میں اپنا چہرہ دیکھا ویران بجھا ہوا…. اسنے منہ پر پانی مارا اور تولیے سے ہاتھ منہ پونچھتے ہوئے باہر آگئی…..وہ جیسے ہی باہر آئی ایسا لگ رہا تھا منہا اسی کے منتظر تھی…..
منہا نے فوراً اسکے ہاتھ آگے کئے….
اور آنکھیں بڑی کرتے ہوئے بولی ماشاءاللہ اتنا گہرہ رنگ لگتا ہے……. اسکے کچھ الٹا سیدھا بولنے سے پہلے نور نے سختی سے کہا منہا کوئی فالتو بات مت کرنا…..منہا نے منہ بنایا ایک تو جب سے آئی ہوں تب سے دیکھ رہی ہوں تمھارے چہرے پر بارہ بجے ہوئے ہیں….
کوئی مسئلہ ہے کیا؟ کیا تم شادی سے خوش نہیں ہو؟؟ نور اسکی بات کا جواب دینے کے بجائے بیڈ پر پڑے کپڑے سمیٹنے لگی…..جب نور نے کوئی جواب نہیں دیا تو منہا محتاط انداز میں بولی تم کسی کو پسند کرتی ہو نور؟ نور کو اپنے کانوں میں کڑواہٹ اترتی ہوئی محسوس ہوئی نور نے ہاتھ میں موجود کپڑے ایک جھٹکے سے بیڈ پر پھینک کر منہا کی طرف مڑ کر برس پڑی….
منہا تمھارا دماغ خراب ہے، تم سوچے سمجھے بغیر کچھ بھی بول دیتی ہو تمھے لگتا ہے کہ میں کسی میں انٹرسٹڈ ہوں…..منہا خاموش ہو گئی….میری پڑھائی چھوٹی ہے،،، ایک ہفتے میں میری شادی طے کردی گئی،،، میں اپنے گھر سے میلوں دور اپنے نام کے ساتھ ایک انجان شخص کا نام لگا کر جارہی ہوں تو تم مجھ سے کیا ایکسپیکٹ کرتی ہو کہ میں شادی کی خوشی میں ناچوں گاؤں؟ یا پھر اس بات پر خوش ہوؤں کے میں امریکہ جارہی ہوں….
منہا نے آنکھیں گھمائیں نور تم او ور ری ایکٹ کر رہی ہو میں نے بس ایسی ہی پوچھ لیا تھا….
نور کڑے لہجے میں بولی اور تمھے اندازہ ہے تمھارا یہ ایسی پوچھا جانے والا سوال اگر باہر آئے کسی مہمان نے سن لیا تو انکے دماغ میں بھی ایسی ہی کچھ کھچڑی پکے گی….
اچانک دروازہ کھول کر ارمینہ بیگم اندر آئیں….کیا ہوگیا اتنی زور زور سے کیوں بول رہے ہو باہر آواز آرہی ہے…. نور بیڈ سے کپڑے اٹھاتے ہوئے بولی کچھ نہیں ہوا…..
منہا نے بھی بات گھمانے کے لئے فوراً مسکرا کر کہا آنٹی چائے بن گئی کیا؟ اگر نہیں بنی تو میں بنا دیتی ہوں منہا باہر چلی گئی تو ارمینہ بیگم نے نور کو بغور دیکھا وہ الماری میں کپڑے رکھ رہی تھی….
نور کچھ ہوا ہے کیا؟؟؟ نور نے نفی میں گردن ہلائی، اچھا یہ سب چھوڑو اور کھانا کھالو…..نور بیڈ پر بیٹھتے ہوئے بولی نہیں مجھے بھوک نہیں ہے، آپ بس میرے لئے چائے بھجوا دیں…ارمینہ بیگم اثبات میں سر ہلا کر باہر جانیں لگیں تو نور نے انھے روکا ماما بابا کہاں ہیں؟؟
ارمینہ بیگم نے نور کو دیکھا پھر نظریں جھکاتے ہوئے بولیں وہ باہر ہیں کام وغیرہ میں لگے ہوئے ہیں….نور نے ہونٹ بھینچ کر گردن ہلاتے ہوئے کہا اب وہ خوش ہیں؟؟؟خوش ہی ہوں گے شادی کر تو رہی ہو تم اور اگر خوش نہیں بھی ہیں تو کیا اب انکے لئے جان دو گی تم؟ ارمینہ بیگم کے لہجے میں ناگواری واضح تھی،،،،نور ہنسی ” اب اگر انھے خوش کرنے کے لئے جان بھی دینی پڑی نا تو دے دوں گی”
ارمینہ بیگم کو نور کی حالت پر رونا آیا تھا اپنے آنسوں چھپاتے ہوئے وہ کمرے سے چلی گئیں…
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شافع کافی کا کپ لئے بالکنی میں آکر بیٹھا تھا اب وہ پہلے سے کچھ بہتر محسوس کر رہا تھا،اسنے بالکنی میں ایک ٹیبل اور کرسی بھی لگا لی تھی….
چائے کا کپ اور لیپ ٹاپ لے کر وہ وہیں بیٹھ گیا وہ کام کرنے کے ارادے سے بیٹھا تھا لیکن سورج ڈوبنے کے بعد دور موجود سمندر کا حسین منظر اور دل نشین لگ رہا تھا…..اسنے کافی کا آخری گھونٹ لیا جب ڈور بیل بجی..…..
وہ دروازے کی طرف بڑھا دروازہ کھولا تو زایان کے پیچھے ایک کے بعد ایک اسکے آفس کے کولیگ شور مچاتے ہوئے اندر داخل ہوتے رہے….شافع کا حیرت سے منہ کھل گیا…. وہ سب مسکرا مسکرا کے شافع سے ہاتھ ملا کر اندر داخل ہوتے رہے وہ سب زایان کے سیکھائے ہوئے تھے….. جب وہ سب اندر آ چکے تو شافع دروازہ بند کر کے اندر آیا…..سب صوفہ گھیرے بیٹھے تھے زایان سنگل صوفہ پر دانت نکالے بیٹھا تھا کیسا لگا سرپرائز؟
شافع زبردستی مسکرایا آپ سب اچانک یہاں؟ ان میں سے ایک کولیگ بولا ہم سب کو زایان سر نے انوائیٹ کیا ہے آپ کے گھر ڈنر پر…. شافع نے حیرت سے آنکھیں پھاڑیں ڈنر؟؟ پھر دانت پیستے ہوئے زایان کی طرف دیکھا تو زایان دانت نکالتے ہوئے کھڑا ہوا اور شافع کے گلے میں ہاتھ ڈال کر بولا،،، ہاں ہاں تم نے ہی تو کہا تھا کہ شام میں سب کو گھر لے آنا سب ساتھ میں ڈنر کریں گے،،
پھر شافع کے کان کے قریب آکر آہستہ سے بولا مجھے پتا تھا تمھارا پارٹی کرنے کا کوئی پلین نہیں ہے اسلئے میں سب کو خود ہی لے آیا شافع نے خونخوار نظروں سے اسے گھورا
انھے لے تو آئے ہو کھلاؤ گے کیا اپنا سر؟ میرے گھر میں اس وقت کافی کے سامان کے علاوہ کچھ نہیں ہے….زایان خفا ہوا یہ تو ٹھیک بات نہیں ہے اب کچھ انتظام کرو…. زایان چٹکی بجاتے ہوئے بولا آرڈر کر لیتے ہیں….شافع نے آنکھیں گھمائیں اور دانت پیس کر بولا کر لو اس کے علاوہ اور کیا کر سکتے ہیں….
زایان سب سے پوچھنے لگا کے کون کیا کھائے گا جب سب نے بتا دیا تو اسنے کال کر کے آرڈر کر دیا….سب بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف تھے جب شافع نے زایان سے پوچھا….تمھاری فلائیٹ کب کی ہے؟ زایان بالوں پر ہاتھ پھیرتا ہوا بولا کل رات کی….
کل رات کی دن کی فلائیٹ کیوں نہیں بک کروائی…. زایان کندھے اچکا کر بولا جہاز میرے بابا کا تھوڑی ہے دن کی ملی ہی نہیں تو رات کی لینی پڑی…..شافع گردن ہلا کر بولا اچھا چلو ٹھیک ہے….
کچھ دیر بعد کھانا بھی آگیا سب کھانے میں مصروف تھے جب شافع کا موبائل بجا شافع نے موبائل کی طرف دیکھا ابراہیم صاحب کا فون تھا….
شافع سب سے ایکسکیوز کر کے باہر آگیا،،،، اور کال ریسیو کر کے موبائل کان سے لگا لیا…. دوسری طرف سے عائشہ بیگم کی روتی ہوئی آواز آئی شافع بیٹا بی اماں کی طبیعت بہت خراب ہو گئی ہے….
شافع نے پریشانی سے پوچھا کیا ہوا ہے دادو کو وہ ٹھیک تو ہیں؟ عائشہ بیگم روتے ہوئے بولیں بیٹا جب سے سنا ہے تم گھر چھوڑ کر چلے گئے ہو تب سے انکی طبیعت بہت خراب ہے بس تمھے پکاری جا رہی ہیں…شافع انھے تسلی دیتا ہوا بولا آپ فکر مت کریں دادو ٹھیک ہو جائیں گی آپ لوگوں نے ڈاکٹر کو دیکھایا؟
عائشہ بیگم اسکی بات کو نظر انداز کر کے بولیں بیٹا تم حویلی آجاؤ بی اماں کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے وہ صرف تمھے پکاری جارہی ہیں ہو سکتا ہے تمھے دیکھ کر انھے کچھ ٹھیس پہنچے……شافع سوچ میں پڑ گیا اسے حویلی گئے بہت سال گزر گئے تھے اسکی خاموشی پا کر عائشہ بیگم پھر سے بولیں کہو بیٹا آرہے ہو نہ پھر تم؟
شافع ٹھہر کر بولا چچی میرا آنا مشکل ہے… عائشہ بیگم خفا ہوتے ہوئے بولیں تم نے کیا حویلی میں قدم نہ رکھنے کی قسم کھا رکھی ہے کیا کسی کے مرنے پر ہی آؤ گے…
شافع نے انھے خفا دیکھا تو کچھ دیر سوچنے کے بعد بولا اچھا میں کل تو نہیں آسکتا لیکن ایک دو دن بعد آجاؤں گا….
اچھا چلو ٹھیک ہے لیکن جلدی آنے کی کوشش کرنا بیٹا وقت کا کچھ پتا نہیں ہوتا…. شافع نے کال کاٹ دی… کال کاٹ کر عائشہ بیگم بی اماں کے پاس آکر بیٹھیں جو بیڈ پر بچھے دوپٹے پر گوٹے ٹانکنے میں مصروف تھیں…..
اماں جیسا اپنے کہا تھا میں نے ویسا ہی شافع کو کہہ دیا… بی اماں سیدھی ہوتے ہوئے بولیں بس اب تم دیکھو شافع ایک بار یہاں آجائے پھر وہ نکاح کئے بغیر نہیں جا سکے گا…. عائشہ بیگم مسکرائیں بس اب جلدی سے ارحام اور شافع کی شادی ہو تاکہ یہ شافع کے روز روز کے ڈراموں سے جان چھوٹے……
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگلا دن شافع اور زایان نے آفس میں مصروف گزار تھا…..
اور آئے نور کے لئے جیسے ایک ایک لمحہ عزیت کی طرح گزر رہا تھا جیسے جیسے وقت گزرتا جا رہا تھا آئے نور کی دھڑکن بھی بڑھتی جارہی تھی…
کچھ ایسا ہی حال موسم کا بھی تھا آسمان پر کالے بادلوں کا راج تھا جو کسی بھی وقت برسنے کو تیار تھے اسطرح کا موسم دیکھ کر نور کو اور گھبراہٹ ہوئی…..آئےنور صوفے پر بیٹھی تھی جب منہا اسکے سر پر آکر بولی چلو….. نور نے سوالیہ نظروں سے اسکی طرف دیکھ کر پوچھا کہاں؟؟ منہا نے سر پر ہاتھ مارا جہنم میں ارے بھئی شادی ہے تمھاری پارلر نہیں جانا کیا؟
آئےنور ارمینہ بیگم کی طرف دیکھ کر بولی اب اسکی کیا ضرورت تھی ماما میں گھر میں ہی تیار ہو جاتی ویسے بھی عجیب سا موسم ہو رہا ہے کہیں بارش نہ ہو جائے مجھے ویسے ہی الجھن ہوتی ہے بارش سے….منہا نور کو چھیڑتے ہوئے بولی تو تمھے کس نے کہا تھا اتنے پتیلے توڑنے اور اب چاہے بارش ہو یا طوفان آئے دل والے دلہنیا لے جائیں گے، تم دیکھ لینا….منہا خود ہی اپنی بات پر ہنس دی اور ارمینہ بیگم صرف مسکرا دیں ارمینہ بیگم نور کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے بولیں دنیا داری بھی نبھانی پڑتی ہے بیٹا جاؤ تم منہا کے ساتھ دیر ہو رہی ہے…..اچانک صدیقی صاحب وہاں آگئے نور نے نظریں اٹھا کر انھے دیکھا…. وہ بہت تھکے ہوئے لگ رہے تھے….وہ اپنے کمرے میں چلے گئے تو نور بھی انکے پیچھے گئی۔۔۔۔۔ بابا،،،، صدیقی صاحب نے مڑ کر اسکی طرف دیکھا آپ تھکے ہوئے لگ رہے ہیں چائے بنا دوں؟ ناجانے کیوں لیکن اس وقت اسکو صدیقی صاحب کی آنکھیں بھیگی ہوئی لگی تھی لیکن انھوں نے ظاہر نہیں کیا تھا،،،،، انھوں نے نفی میں گردن ہلاتے ہوئے اسکے سر پر ہاتھ رکھا….
انکا کا ہاتھ سر پر رکھتے ہی ضبط کے بندھن ٹوٹنے لگے نور نے اپنی اٹکی ہوئی آواز سے پوچھا بابا اب آپ خوش تو ہیں نہ آپکی بیٹی نے آپکا مان رکھ لیا….. بولتے ہی اسے ضبط کرنا ناممکن لگا اور وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی…..صدیقی صاحب نے اسکا سر اپنے سینے پر رکھ کر تھپتھپایا
ہاں میں بہت خوش ہوں تم نے میرا مان رکھ لیا اب آگے اپنے سسرال میں بھی ایسا کچھ مت کرنا جس سے کوئی تم پر انگلی اٹھائے….نور ہچکیوں سے روتے ہوئے بولی میں ہمیشہ آپکا مان رکھوں گی بابا آپ کو کبھی کوئی شکایت کا موقعہ نہیں ملے گا بس آپ مجھ سے خفا مت ہوئے گا….
صدیقی صاحب اسکے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولے نہیں میں تم سے بالکل خفا نہیں ہوں…..
نور اور مزید رونے لگی ناجانے یہ آنسوں انکے گلے لگانے پر تھے، یا اپنے ارمان ٹوٹنے پر صدیقی صاحب نے اسکا سر اپنے سینے سے ہٹایا بس اب رونا نہیں جاؤ تمھاری دوست تمھارا انتظار کر رہی ہو گی وہ تمھے پارلر لے جائے گی پھر وآپسی میں آجاؤں گا لینے اور اگر بارش ہو تو بالکل مت نکلنا….
نور نے صرف اثبات میں سر ہلایا… اور باہر آگئی،،، منہا باہر تیار کھڑی تھی اسنے نور کی چادر اوڑھ رکھی تھی اور ہاتھ میں سامان اور چھتری تھی جو اسنے احتیاط کے طور پر رکھ لی تھی نور کمرے میں گئی اور اپنی دوسری چادر اوڑھ کر باہر آگئی….
منہا نیچے گاڑی نکالنے جانے لگی نور ارمینہ بیگم سے مل کر اسکے پیچھے ہو لی…..
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شافع اور زایان آفس سے نکل رہے تھے جب شافع نے زایان سے کہا میں چلوں تمھے ایئرپورٹ چھوڑنے؟ زایان نفی میں گردن ہلاتے ہوئے بولا نہیں رہنے دو فلائیٹ لیٹ نائٹ ہے میں چلا جاؤں گا…
شافع نے اثبات میں سر ہلایا وہ لوگ گاڑی تک پہنچ گئے تو شافع زایان سے گلے ملا کوئی مسئلہ ہو تو مجھے فون کر دینا…
زایان مسکرایا اور اگر تمھے کوئی مسئلہ ہو تو مجھے بالکل فون مت کرنا خود سنبھال لینا شافع نے زایان کے سینے پر مکا مارا تو دونوں ہنس دیئے….
پھر شافع سنجیدگی سے زایان کو سمجھاتے ہوئے بولا زایان تمھے کام کے لئے بھیج رہا ہوں تو کام ہی کرنا کینیڈا کے ریسٹورنٹ مت خالی کرنا….. زایان نے آنکھیں گھمائیں اوکے باس اور کوئی حکم؟ شافع نے مسکراتے ہوئے زایان کو دوبارہ گلے لگایا اور اپنا خیال رکھنا میرے ٹیڈی بیئر….
زایان ہنسا…. اور اپنی گاڑی میں بیٹھ گیا….
شافع بھی اپنی گاڑی میں گھر کی طرف روانہ ہو گیا بے دھیانی میں اسنے گاڑی تیمور ویلا کی طرف گھمالی تھی آدھے راستے میں پہنچ کر اسے یاد آیا تو اسنے پیچھے سیٹ پر سر ٹکا لیا پھر کچھ دیر بعد گاڑی ریورس لے لی مین روڈ پر آکر وہ کچھ آگے پہنچا تھا اچانک ایک گاڑی اسکے برابر میں سے گزری….
شافع نے اچانک گاڑی کا بریک لگایا…. اسے لگا اس گاڑی میں اسنے نور کو بیٹھے دیکھا ہے شافع نے فوراً سر نکال کر باہر جھانکا گاڑی دور جا چکی تھی…. اسنے گاڑی بیچ سڑک پر روکی ہوئی تھی پیچھے سے گاڑیوں کے ہارن بجنا شروع ہوگئے اسنے اچانک بیچ سڑک پر بریک لگایا تھا کوئی بڑا حادثہ بھی پیش آسکتا تھا….پیچھے سے لگاتار گاڑیوں کے ہارن کی آوازیں آرہی تھیں… اسنے سر جھٹکتے ہوئے سوچا ہو سکتا ہے میری نظر کا دھوکا ہو….
پھر پیچھے کی ہارن بجاتی گاڑیوں کو ہاتھ کا اشارہ کیا اور گاڑی اسٹارٹ کر کے آگے بڑھا لی…..وہ پورے راستے اجلت کا شکار رہا تھا گھر پہنچ کر دروازہ کھولتے ہوئے اسنے سوچا…..
“کیا وہ نور ہی تھی یا مجھے کوئی غلط فہمی ہوئی” پھر صوفے پر بیٹھ کر سر جھٹکتے ہوئے خود سے بولا اگر وہ نور تھی بھی تو مجھے کیا؟ میں فضول میں اسے اپنی سوچ پر سوار کر رہا ہوں…..وہ اٹھ کر فریش ہونے کے لئے کمرے کی طرف چلا گیا….رات کا کھانا کھا کر وہ ٹی وی آن کر کے بیٹھا تھا لیکن اس سے بھی کچھ دیر میں دل اُچاٹ ہو گیا…. جب کچھ سمجھ نہیں آیا تو اسنے کیفے جانے کا رادہ اور گھر سے باہر نکل گیا….
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نور کے سر پر لال دوپٹہ ٹکایا گیا…. ہیزل آنکھیں جنکے ارد گرد باریک سی کاجل کی طے تھی، گلابی روئی نمہ گال جنھے مزید گلابی کر دیا گیا تھا، ہونٹوں پر سرخ رنگ، کانوں میں جھمکے، ہاتھوں میں بھر بھر کے چوڑیاں اور گلاب کے بنے گجرے…. وہ بلا کی حسین لگ رہی تھی….
ایک آنسوں نکل کر اسکے گال پر بہہ گیا پارلر والی ٹشو سے اسکا آنسوں صاف کرتے ہوئے بولی،، آو ہو آپ کی آنکھوں سے بہت پانی نکل رہا ہے،،،، نور اپنی چوڑیوں کو دیکھتے ہوئے بولی میں نے پہلی بار اتنا میک اپ کیا ہے…. پارلر والی مسکرائی آپ بہت پیاری ہیں ویسے…. نور صرف مسکرا دی…. منہا پارلر کے دوسرے کمرے میں تیار ہو رہی تھی… نور نے پارلر والی سے کہا آپ پلیز منہا کو بلا دیں….
نور اپنی ماتھا پٹی کو آگے پیچھے کر رہی تھی جب منہا وہاں آئی…منہا نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنی طرف گھمایا اور آنکھیں پھاڑتے ہوئے بولی،،، اوہ مائی گاڈ نور تم بہت پیاری لگ رہی ہو یار مجھے ڈر ہے تمھارے وہ تمھے دیکھ کر مر نہ جائیں….
نور نے منہا کو گھورا تو منہا اسکے ہونٹوں کو سمائل کی شکل دیتے ہوئے بولی تم اور بھی پیاری لگو گی اگر ایک قاتلانہ مسکراہٹ اپنے چہرے پر سجا لو…..
آئےنور مسکرائی بے فکر رہو اب یہ مسکراہٹ نہیں سمٹے گی،،،، منہا ہنستے ہوئے بولی یہ تو بہت اچھی بات ہے پھر منہا نے نور کو چادر اڑھائی اور چادر سے اسکا گھونگھٹ نکال دیا…
نور گھونگھٹ اٹھاتے ہوئے بولی بابا آگئے کیا؟؟؟ منہا اپنا دوپٹہ کندھے پر سیٹ کرتے ہوئے بولی نہیں تو…. تو تم نے مجھے چادر کیوں اڑا دی بابا نے کہا تھا وہ لینے آئیں گے…. منہا سامان سمیٹتے ہوئے بولی نور تمھارا دماغ خراب ہے کیا جو انکل آئیں گے انھے اس وقت کتنے کام ہوں گے ہم دو منٹ میں پہنچ جائیں گے……نور پیچھے ہوتے ہوئے بولی نہیں میں اکیلی نہیں جاؤں گی تم نے آتے ہوئے نہیں دیکھا تھا ایک تو یہ پارلر بنگلوں کے بیچ میں ہے اور آس پاس کتنا سناٹا ہے میں نہیں جاؤں گی….
نور نے آنکھیں گھمائیں اچھا میں انکل سے پوچھتی ہوں ورنہ میں اشعر بھائی کو بلا لوں گی…. نور نے اثبات میں گردن ہلائی منہا صدیقی صاحب کو فون کرنے لگی لیکن انھوں نے فون نہیں اٹھایا…..
منہا نور کی طرف دیکھ کر بولی میں نے کہا تھا نہ انکل کاموں میں بزی ہوں گے میں اشعر بھائی کو بلا لیتی ہوں ابھی ہم انکے ساتھ چلیں گے پھر میں انھے کہہ دوں گی وہ کسی کو بھیج کر میری گاڑی منگوا لیں گے….
نور کا چہرہ اتر گیا تھا منہا نے اشعر کو فون لگایا…. بات کرنے کے بعد کال کاٹ کر وہ آئےنور سے بولی چلو اٹھو انکل نے انھے ہی بھیج دیا ہے وہ ہمیں ہی لینے آرہے ہیں بس پہنچنے والے ہوں گے جب تک ہم گاڑی میں چل کر بیٹھتے ہیں….نور اٹھ کر اپنی چادر چہرے پر گراتے ہوئے بولی منہا مجھے گھبراہٹ ہو رہی ہے اگر بارش ہو گئی تو؟؟؟
منہا نے آنکھیں گھمائیں بارش صبح سے نہیں ہوئی تو اب کیا ہو گی تم چلو اشعر بھائی آنے ہی والے ہوں گے۔
