Izhar-e-Muhabat by Anooshe NovelR50417

Izhar-e-Muhabat by Anooshe NovelR50417 Izhar-e-Muhabat Episode 25

219.9K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Izhar-e-Muhabat Episode 25

Izhar-e-Muhabat by Anooshe

زایان آفس میں ٹانگیں پھیلائے بیٹھا تھا ایک گھنٹے بعد اسکی میٹنگ تھی، اور کسی میٹنگ سے پہلے حلق تک بھر کے کھانا تو جیسے ایک رسم بن گئی تھی،،،، اسکا ماننا تھا کہ اگر پیٹ بھرا ہوا ہو تو دماغ زیادہ کام کرتا ہے اور کونفیڈنس بھی برقرار رہتا ہے،،،، اپنے سامنے رکھی فروٹ ٹرائفل کی پلیٹ وہ چٹ کر چکا تھا اور اب بسکٹ کے پیکٹ کی باری تھی جس کے ساتھ ساتھ وہ جوس کے گھونٹ بھی لے رہا تھا،،، وہ اپنے انھی پسندیدہ کاموں میں مشغول تھا جب اسکا موبائل بجا، کوئی انجان نمبر تھا اسنے کال کاٹ دی کھانے کے بیچ میں رکاوٹ اسے ویسی پسند نہیں تھی،،، لیکن کچھ دیر بعد موبائل دوبارہ بجنے لگا، اسنے کوفت سے آنکھیں گھمائیں اور کال ریسیو کر کے موبائل کان سے لگا لیا اس سے پہلے کے وہ کال کرنے والے کو جلی کٹی سناتا دوسری طرف سے آواز آئی تاشفہ بات کر رہی ہوں،،، زایان کو جھٹکا لگا ایک منٹ کے لئے اسکے آگے پیچھے گھنٹیاں بجنے لگیں اسے لگا کہ شاید تاشفہ کو اسکی گاڑی کا لاک کھول کر ساری انفارمیشن چوری کرنے کے بارے میں پتا چل گیا کہ یہ کام زایان نے سر انجام دیا ہے،،،، زایان نے بڑی مشکل سے منہ کا بسکٹ نگلا، تاشفہ تم نے مجھے…. مجھے فون کیا خیریت؟؟؟ تاشفہ التجائیہ لہجے میں بولی، زایان پلیز تم شافع کو سمجھاؤ وہ میرا کریر برباد کرنے پر طلہ ہوا ہے،،،

زایان نے سکھ کا سانس لیا اور دل میں سوچا “شکر ہے اس چوڑیل کو کچھ نہیں پتا” پھر انجان بنتے ہوئے بولا کیوں کیا ہوا ہے شافع ایسا کیوں چاہے گا،،،، تاشفہ چینختے ہوئے بولی انجان مت بنو زایان ایسی بات تو نہیں ہے کہ شافع نے تمھے کچھ نہیں بتایا ہوگا،،، شافع نے میری بنائی ہوئی رپورٹ چوری کروائی ہے اب اسکے بدلے میں وہ چاہتا ہے کہ میں پریس کانفرنس بلاؤں اور یہ کہوں کے اسکی جو تصویریں نیوز چینل پر چلی ہیں وہ جھوٹی ہیں، زایان دانت پیس کر بولا صرف کہنا نہیں ہے تسلیم بھی کرنا ہے کہ وہ تصویریں تم نے سوشل میڈیا پر ڈالی تھیں، اپنے مفاد کے لئے،،، تاشفہ اپنے تیور بدلتے ہوئے بولی میں پولیس میں رپورٹ کر سکتی ہوں شافع نے میرے پرسنل ڈاکومنٹس میں سے رپورٹ چوری کروائی ہے، زایان مسکراتے ہوئے بولا، تو انتظار کس کا کر رہی ہو کرو نہ جاکے ڈی ایس پی سراج عالم کا نمبر سینڈ کروں؟ تاشفہ نے ضبط سے مٹھیاں بھینچیں لیکن وہ گرم نہیں ہوسکتی تھی کیونکہ ساری بازیاں اسکے ہاتھ سے نکل چکی تھیں،،، وہ تحمل سے سانس کھینچ کر بولی دیکھو زایان شافع میرا فون نہیں اٹھا رہا تم پلیز اسے سمجھاؤ کے یہ میں نہیں کرسکتی میرا مستقبل برباد ہو جائے گا اسکے علاوہ وہ جو کہے گا وہ میں کر لوں گی، تم کہو گے تو وہ مان جائے گا آخر وہ تمھارا دوست ہے…. زایان نے قہقہہ لگایا اور لگاتا ہی رہا کرسی کے پیچھے سر ٹکا کر بولا تاشفہ ایک تو بات بتاؤ،،،، کیا یونیورسٹی میں ہم لوگ بہت….. اچھے دوست تھے؟ زایان نے بہت پر زور دے کر کہا…. یا تم میری ہھوپھی یا خالہ زاد ہو؟ یہ میں نے تم سے کچھ ادھار لیا ہوا ہے کہ تمھے لگتا ہے کہ میں تمھاری سفارش شافع سے کروں گا….

تاشفہ نے ضبط سے مٹھیاں بھینچ کر ٹیبل پر ہاتھ مارا، آخر کس منحوس نے میری فائل کی کاپی شافع تک پہنچائی ہے ایک بار میرے سامنے آجائے میں اسکا قتل کروادوں گی،،، زایان بھی چینختے ہوئے بولا، وقت گزر رہا ہے تمھارا اسلئے اپنی یہ سستی دھمکیاں دینے کے بجائے جو کہا ہے وہ کرو، کیونکہ اس معاملے میں تمھارا باپ بھی تمھے نہیں بچا سکے گا کیونکہ ایک طاقتور سے بھی زیادہ کوئی دوسرا طاقتور ہوتا ہے،،، جو کہا ہے وہ کرو، کیونکہ مستقبل تو تمھارا ہر طرف سے ڈوبے گا جان پیاری ہے تو وہ بچاؤ،،، زایان نے کال کاٹ کر موبائل ٹیبل پر پھینکا،،،، اور غصے سے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا عجیب عورت ہے سارا موڈ خراب کر دیا…. بسکٹ کا پیکٹ اٹھایا وہ بھی خالی ہو چکا تھا منہ بنا کر اسے ڈسبن میں پھینکا،،، آج کا دن ہی خراب لگ رہا ہے…..

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نور کچن میں کھڑی اپنے لئے فریج سے جوس نکال رہی تھی ڈور بیل بجی،،،، نور نے جاکر دروازہ کھولا ایک لڑکا لال پھولوں کا بڑا سا گلدستہ لئے کھڑا تھا،، آئے نور نے اس سے پوچھا جی کہیئے؟ وہ لڑکا پھول آگے کرتے ہوئے بولا یہ پھول مسٹر شافع نے بھجوائیں ہیں، نور نے اسکے ہاتھ سے گلدستہ لے لیا اور پھولوں کو دیکھتے ہوئے آہستہ سے بولی شافع نے…؟ سامنے کھڑے لڑکے نے ایک پیپر اسکے آگے کیا اور سائن کرنے کو کہا نور نے اس پیپر پر سائن کیا اور دروازہ بند کر کے اندر آ گئی،،،،، لاؤنج میں آکر اسنے پھول ٹیبل پر رکھے اور خود ادھر ہی نیچے بیٹھ کر ان پھولوں کو دیکھنے لگی، پھول تو اسے شروع سے ہی پسند تھے، اسنے پھولوں پر ہاتھ پھیرا پھولوں کی نرمی سے ایک مسکراہٹ اسکے چہرے پر پھیل گئی،،،، اسنے پھول آگے کر کے سونگھے،،،، اور مسکرادی، وہ اسی طرح بیٹھی ان پھولوں کی خوبصورتی کو دیکھ رہی تھی موبائل بجا، اسنے کال ریسیو کر کے موبائل کان سے لگا لیا…. دوسری طرف سے پیار بھری آواز آئی… کیسی ہو؟ نور مسکراتے ہوئے بولی بالکل ٹھیک، اسکی آواز سن کے شافع بھی مسکرایا کچھ بھیجا تھا مل گیا… نور پھولوں کو دیکھتے ہوئے بولی ہاں مل گیا… پھر کیسے لگے تمھے پھول؟ نور پھولوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے چہک کر بولی بہت خوبصورت، شافع بے ساختہ بولا بالکل تمھاری طرح،،، نور نے گردن جھکائی شافع تمھے نہیں لگتا ہمیں ایک دوسرے سے جھوٹ نہیں بولنا چاہیے،، شافع کندھے اچکا کر حیرت سے بولا میں نے کونسا جھوٹ بولا؟ نور آنکھیں بڑی کرتے ہوئے بولی یہی جھوٹی تعریفیں وغیرہ…

شافع مسکراتے ہوئے بولا میں نے تو کچھ جھوٹ نہیں بولا سب سچ کہا ہے کیوں تم خوبصورت نہیں ہو کیا؟ نور نے منہ پر آئے بال کانوں کے پیچھے کئے اور اسکی بات کا جواب دینے کے بجائے بولی فون کیوں کیا ہے؟ شافع خفا ہونے والے انداز میں بولا، ظاہر سی بات ہے تم سے بات کرنے کے لئے، تمھے تو توفیق ہوتی نہیں ہے کہ فون کر کے اپنے ایک عدد شوہر کا حال احوال ہی پوچھ لوں… نور گردن جھکاتے ہوئے بولی کوئی بات ہی نہیں ہوتی کیا بات کرنے کے لئے فون کیا کروں،،، شافع نے اپنا سر تھاما دنیا میں پہلی لڑکی ہوگی جس کے پاس اپنے شوہر سے بات کرنے کے لئے کوئی بات نہیں ہوتی…. نور ہنستے ہوئے بولی تم کرتو لیتے ہو کال مجھے کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی،،، شافع نے گردن ہلاتے ہوئے کہا ہاں تو ایسا کہو نہ،،، اور کیا کر رہی تھیں؟ کچھ نہیں بیٹھی ہوئی تھی… شافع شوخ انداز میں بولا،،، مجھے یاد نہیں کر رہی تھیں؟ نور نفی میں گردن ہلا کر بولی نہیں بالکل بھی نہیں، شافع اسے تنگ کرنے کے لئے بولا مطلب اگر میں گھر لیٹ آؤں تو کوئی مسئلہ تو نہیں ہے نہ؟ نور فوراً بولی “اب میں نے ایسا بھی نہیں کہا…. اسکے انداز پر شافع ہنسا… مجھے یاد بھی نہیں کر رہی ہو اور میرے دیر سے آنے میں بھی مسئلہ ہے… ہاں تو میں بور ہوجاتی ہوں نہ اسلئے… شافع بھنویں اٹھاتے ہوئے بولا تو کیا تم نے مجھے اپنے انٹرٹینمنٹ کا سامان سمجھا ہوا ہے….؟ نور الجھی ایسا تو کچھ نہیں ہے بس تم دیر سے آؤ گے تو مجھے تمھاری فکر ہوگی،،،، شافع شرارت سے بولا سچ میں؟ نور فوراً بولی میرا وہ مطلب نہیں تھا مطلب پھر بھی فکر ہوتی ہے نہ،،، شافع محفوظ ہوا،،،، تو سمجھاؤ نہ کے تمھارا کیا مطلب ہے؟ نور ذچ ہورہی تھی میں فون رکھ رہی ہوں شافع فوراً بولا نہیں بالکل بھی نہیں ابھی تو بات شروع ہوئی ہے…., نور فون رکھتے ہوئے بولی باقی باتیں گھر آکر کر لینا شافع بولا اچھا ایک منٹ رکو،،، نور نے پوچھا کیا؟ شافع اسے تنگ کرنے کے لئے بولا میرے ذہن میں کب سے ایک مشکل سا سوال گھوم رہا ہے شاید اسکا جواب تمھارے پاس ہو،،، نور نے دلچسپی سے پوچھا کونسے سوال کا جواب؟ شافع نے اپنی ہنسی قابو کی I love you کا جواب؟ بتاؤ بتاؤ اسکا کیا جواب ہوتا ہے؟ نور نے بھنویں اچکاتے ہوئے کہا مجھے اسکا جواب فلحال نہیں پتا شافع شرارت سے بولا یعنی کچھ دنوں بعد پتا چل جائے گا؟ نور نے آنکھیں گھمائیں مجھے نہیں پتا اور یہ کہہ کر نور نے فون رکھ دیا شافع فون کو دیکھ کر مسکرایا اور کرسی سے سر ٹکا دیا،،، دوسری طرف نور نے چین کا سانس لیا اور خود سے سرگوشی کرتے ہوئے بولی “یہ لڑکا کتنا اپنی باتوں میں الجھاتا ہے اووفف”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شام میں شافع آفس سے وآپس آیا تو صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولا نور شاپنگ پر چلیں؟ نور اسکے سامنے بیٹھتے ہوئے کندھے اچکا کر بولی کس خوشی میں تمھے کچھ لینا ہے کیا؟ شافع اپنی گھڑی اتار کر بولا ہاں میں بھی کر لوں گا شاپنگ اور تم بھی کر لینا ویسے بھی تم کہہ رہی تھیں نہ کہ تمھے گروسری کرنی ہے تو وآپسی میں ہم گروسری اسٹور بھی چلیں جائیں گے،،، لیکن مجھے صرف گروسری کرنی تھی شاپنگ نہیں، شافع اٹھتا ہوا بولا تو کوئی بات نہیں میں لے کر جا رہا ہوں تو کوئی مسلئہ ہے کیا؟ نور کچن کی طرف جاتے ہوئے بولی اچھا پھر چائے پی کر چلتے ہیں، شافع نے اثبات میں سر ہلایا میں کپڑے چینج کر لوں، شافع اسے دیکھتا ہوا بولا نہیں چینج کرنے کی ضرورت نہیں ہے بس اسکارف باندھ کر چادر لے لینا ایسی ٹھیک ہے، نور نے کندھے اچکا دیئے ٹھیک ہے تم فریش ہو جاؤ میں چائے بنا لیتی ہوں، شافع مسکرا کر کمرے میں چلا گیا،،، کچھ دیر بعد جب وہ وآپس آیا تو اسکا چہرہ اور بال ہلکے ہلکے پانی سے گیلے تھے، اسنے کپڑے تبدیل نہیں کئے تھے بس کوٹ اور ٹائی اتار کر شرٹ کی آستینیں موڑ لی تھیں،،، وہ موبائل چیک کرتا ہوا صوفے پر بیٹھ گیا نور نے چائے کا کپ لا کر اسے تھمایا اسنے مسکراتے ہوئے کپ تھام لیا نور اسکے برابر میں ہی کچھ فاصلے پر بیٹھ گئی،،، شافع نے چائے کا ایک سپ لیا اور بھنویں سکیڑتے ہوئے نور کی طرف دیکھ کر بولا تم نے چینی ڈال دی،،، نور اثبات میں سر ہلاتے ہوئے بولی ہاں تمھے اچھی نہیں لگی کیا؟ شافع دوسرا سپ لیتے ہوئے بولا نہیں دراصل میں چائے کافی میں چینی نہیں لیتا… نور بھنویں اچکاتے ہوئے بولی تو کیوں نہیں لیتے بھلا چائے بھی بغیر چینی کے پی جاتی ہے، شافع ہنستا ہوا بولا میں شروع سے نہیں لیتا مجھے اچھی نہیں لگتی بس… نور کچھ نہیں بولی اسے خاموش دیکھ کر شافع بولا لیکن اگر تم چینی ڈال کر چائے پلاؤ گی تو پی لوں گا،،، نور کھل کر مسکرائی،،، پھر اسے دیکھتے ہوئے بولی تم پہلے تو ایسے نہیں لگتے تھے،،، شافع اسکے قریب ہوتے ہوئے بولا کیسے؟ نور بوکھلاتے ہوئے بولی مطلب اسطرح کی باتیں وغیرہ،،، شافع چائے کا سپ لیتے ہوئے بولا پہلے تم میری بیوی بھی تو نہیں تھیں،،، نور نے گردن جھکا دی اتنے میں ڈور بیل بجی،،، شافع اٹھتے ہوئے بولا میں دیکھتا ہوں, شافع نے جاکر دروازہ کھولا سامنے تہمینہ بیگم کھڑی تھیں،،، شافع حیرت اور خوشی کی ملی جلی کیفیت میں ان سے گلے ملا تہمینہ بیگم اسے پیار کرتے ہوئے ڈھیروں دعائیں دینے لگیں،،، شافع انھے خود سے لگائے اندر لے آیا انھے دیکھ کر نور بھی کھڑی ہوئی تہمینہ بیگم بھی آگے بڑھ کر اسے خوشی سے گلے ملیں،،، شافع انھے بٹھاتے ہوئے بولا ماما آپ یوں اچانک؟ تہمینہ بیگم اسے دیکھتے ہوئے بولیں کیوں میں اپنے بیٹے کے گھر نہیں آسکتی کیا؟ شافع فوراً بولا میرا وہ مطلب نہیں تھا میری دوپہر میں آپ سے بات ہوئی تھی تب آپ نے آنے کا نہیں بتایا تھا اسلئے،،، تہمینہ بیگم مسکراتے ہوئے بولیں میں نے سوچا کیوں نہ تمھے سرپرائز دوں،،، تہمینہ بیگم نور کی طرف دیکھتے ہوئے بولیں تم کیسی ہو بیٹا؟ نور نے بھی مسکرا کر جواب دیا میں بالکل ٹھیک ہوں آنٹی،،،، تہمینہ بیگم شافع سے بولیں شافع کیا تم بہو کو لے کر گھر نہیں آؤ گے؟ شافع نے گردن جھکا لی اور ہلکی سی مسنوعی مسکراہٹ کے ساتھ بولا جی آؤں گا ماما،،،، شافع نے تیمور صاحب کے بارے میں نہیں پوچھا تھا تہمینہ بیگم خود ہی کہنے لگیں تمھارے بابا بزنس ٹوئر پر گئے ہوئے ہیں ہو سکتا ہے انھے آنے میں ایک ہفتہ لگ جائے، شافع کچھ نہیں بولا تہمینہ بیگم محتاط انداز میں بولیں تم آئےنور کو لے کر گھر آجاؤ نہ بیٹا،،، شافع نے سانس کھینچ کر نور کی طرف دیکھا، نور کو اپنا وہاں بیٹھنا نامناسب لگا اسنے محسوس کیا تھا شافع اسکے سامنے بات کرنے سے کترا رہا تھا،،، نور فوراً اٹھتے ہوئے بولی آپ لوگ باتیں کریں میں چائے لے کر آتی ہوں،،، تہمینہ بیگم نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلایا،،، نور چلی گئی تو تہمینہ بیگم شافع کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولیں تم گھر کب آؤ گے بیٹا؟ شافع نے گردن جھکائی ہوئی تھی آپ آگئیں نہ ماما کافی ہے…. بیٹا تم اپنے بابا سے ایک بار بات تو کر کے دیکھو وہ تمھاری بات سمجھیں گے، شافع طنزیہ ہنسی سے بولا وہ پہلے کچھ سمجھیں ہیں ماما جو اب سمجھیں گے،،، تہمینہ بیگم اسکا ہاتھ تھپتھپاتے ہوئے بولیں مسئلے بات کرنے سے حل ہوتے ہیں چپ رہنے سے نہیں،،، شافع سانس کھینچ کر بولا ماما بات ان سے کی جاتی ہے جو آپ کی بات سنیں بھی اور سمجھیں بھی اور بابا میرے بارے میں کیا سوچتے ہیں کیا محسوس کرتے ہیں مجھے اب ان سب سے کچھ فرق نہیں پڑتا،،، تہمینہ بیگم نے بےبسی سے ہونٹ بھینچے، شافع انھے افسردہ دیکھ کر فوراً مسکراتے ہوئے بولا آپ یہ سب چھوڑیں ماما آپ یہ بتائیں آپ کو نور کیسی لگی،،، تہمینہ بیگم اسکا چہرہ تھامتے ہوئے بولیں ماشاءاللہ بہت پیاری ہے، تم اسے لے کر گھر آؤ نہ،،،، شافع سر پر ہاتھ رکھ کر بولا آپ پھر وہی بات کر رہی ہیں ماما،،، تہمینہ بیگم اسکا ہاتھ تھامتے ہوئے بولیں ابھی تمھارے بابا نہیں ہیں گھر پر،،، شافع نے سانس کھینچا وہ جانتا تھا وہ کتنا بھی منا کرے تہمینہ بیگم اصرار کرتی رہیں گی اسلئے انکا مان رکھنے کے لئے شافع بولا اچھا ٹھیک ہے میں آجاؤں گا،،، تہمینہ بیگم مسکرا دیں اتنے میں آئے نور چائے کی ٹرے اور ناشتہ وہاں لے کر آئی،،، تہمینہ بیگم نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے برابر میں بٹھا لیا،،، انھوں نے اپنے پرس سے ایک ڈبہ نکالا اور اس میں سے دو سونے کے کڑے نکالے،،،نور کا ہاتھ آگے کر کے اسکے ہاتھوں میں ڈالنے لگی،،، نور نے انھے منا کیا شافع بھی بولا نہیں ماما اسکی ضرورت نہیں ہے وہ جانتی تھیں کہ شافع کس وجہ سے منا کر رہا ہے اسلئے وہ شافع کی طرف دیکھ کر بولیں شافع یہ میرے اپنے ذاتی کڑے ہیں،، شافع خاموش ہوگیا لیکن نور انھے لگاتار منا کر رہی تھی، تہمینہ بیگم نے دونوں کڑے اسکے ہاتھ میں ڈال کر اسکے ہاتھ تھامے اور اسے دیکھتے ہوئے بولیں،،، شافع کی شادی کا بہت ارمان تھا مجھے لیکن جو ہم سوچتے ہیں ضروری نہیں سب کچھ ویسا ہی ہو،،، ان کڑوں کو تم میری طرف سے شادی کا تحفہ سمجھ لو،،، نور نے شافع کی طرف دیکھا اسنے مسکراتے ہوئے پلکھیں جھپکائیں، نور ہلکا سا مسکرا دی تہمینہ بیگم اسکے گال تھپتھپاتے ہوئے بولیں خوش رہو، اور میرے شافع کو بھی اسی طرح خوش رکھو… شافع ہنسا تہمینہ بیگم نے اسکی طرف دیکھ کر پوچھا تمھے کیا ہوا؟ شافع فوراً ہنسی سمیٹتے ہوئے بولا نہیں کچھ نہیں نور نے اسے کن آکھائیوں سے گھورا تھا،،، تہمینہ بیگم چائے پیتے ہوئے نور سے بولیں یہ شافع تمھے تنگ تو نہیں کرتا؟ نور کے جواب دینے سے پہلی ہی شافع بولا میں کیا تنگ کروں گا ماما یہ مجھے تنگ کرتی،،، نور نے شافع کو کھا جانے والی نظروں سے گھورا،،، تہمینہ بیگم نے مسکراتے ہوئے دلچسپی سے پوچھا یہ کیوں تنگ کرتی ہے؟ شافع آنکھیں بڑی کر کے بولا جب دیکھو روتی صورت بنا کے بیٹھی رہتی ہے، نور اسے گھورتے ہوئے بولی شافع…. شافع آنکھیں بڑی کر کے بولا کیا شافع میں جھوٹ بول رہا ہوں کیا؟ تہمینہ بیگم ہنستے ہوئے بولیں شافع اگر یہ روتی صورت بنائے بیٹھی رہتی ہے تو تمھارا فرض ہے کہ اپنی بیوی کو خوش رکھو، شافع آنکھیں بڑی کرتے ہوئے بولا تو کیا میں اسے خوش نہیں رکھتا پوچھیں اس سے،،، تہمینہ بیگم نے ہنستے ہوئے شافع کے گال تھپتھپائے میں دیکھ رہی ہوں میرا شافع بدل گیا ہے…. شافع ہنستہ ہوا بولا کیوں ماما میرے سر پر سنگ نکل آئے ہیں کیا؟ نور بھی ہنسی تہمینہ بیگم اسکا چہرہ بغور دیکھتے ہوئے بولیں نہیں میرا شافع اب بے وجہ بھی مسکرانے لگا ہے، خوش رہنے لگا ہے،، شافع نور کی طرف دیکھتے ہوئے بولا “خوش رہنے کی وجہ جو مل گئی ہے” تہمینہ بیگم اسے پیار کرتے ہوئے بولیں اسی طرح خوش رہو بس…کچھ دیر بعد تہمینہ بیگم اپنا پرس سنبھال کے کھڑی ہوگئیں اچھا بھئی اب میں چلتی ہوں شافع کھڑے ہوتے ہوئے بولا ابھی بیٹھیں نہ ماما،،، تہمینہ بیگم اسکے سر پر پیار کرتے ہوئے بولیں نہیں بیٹا میں پھر آؤں گی،،، تہمینہ بیگم آئےنور سے ملیں، اور ان دونوں کو ڈھیروں دعائیں دینے لگیں، نور کا چہرہ تھام کر بولیں شافع کو بولنا کے تمھے تمھارے سسرال لے کر آئے، نور نے مسکرا کر اثبات میں گردن ہلائی وہ دونوں تہمینہ بیگم کو دروازے تک چھوڑنے آئے وہ چلی گئیں تو نور اندر آتے ہوئے شافع سے بولی تمھاری ماما بہت اچھی ہیں شافع… شافع اسے تنگ کرنے کے لئے بولا انھوں نے تمھے یہ کڑے دیئے اس لئے اچھی لگیں کیا؟ نور خفا ہوتے ہوئے بولی میں تمھے ایسی لگتی ہوں؟ وہ غصے میں کڑے اتارنے لگی تو شافع فوراً اسکے ہاتھ پکڑتے ہوئے بولا ارے ارے مزاق کر رہا ہوں یار ناراض کیوں ہو رہی ہو نور منہ لٹکائے کھڑی رہی تو شافع کان پکڑتے ہوئے بولا،،، اچھا سوری سچ میں مزاق کررہا تھا، نور فوراً اسکے ہاتھ نیچے کرتے ہوئے بولی اب یہ کیا کر رہے ہو میں نے کان پکڑنے تھوڑی کہاں ہے آئےنور نے شافع کے ہاتھ پکڑے ہوئے تھے،شافع اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا اگر اسطرح میرے ہاتھ پکڑ لو گی تو میں بار بار کان پکڑنے کے لئے تیار ہوں….

نور نے آنکھیں گھماتے ہوئے کہا شافع…..! اور کمرے کی طرف جانے لگی شافع اسکے پیچھے آتے ہوئے بولا دوبارہ بولو نہ… نور نے مڑ کر پوچھا کیا؟ شافع اسکی نکل کرتے ہوئے بولا شافع…. نور آگے بڑھتے ہوئے بولی شافع پاگل ہوگئے ہو تم…. نور ڈریسنگ کے سامنے کھڑی تھی شافع اسکے سامنے آتا ہوا بولا ہاں نہ تمھاری محبت میں نور اسکی باتوں کو نظر انداز کر کے اسکارف باندھتے ہوئے بولی جانا نہیں ہے شاپنگ پر؟ شافع کندھے اچکاتے ہوئے بولا ہاں تو چلو نہ کس نے منا کیا ہے، نور شیشے کے سامنے اسکارف سیٹ کر رہی شافع نے اسکی چادر اٹھا کر اسکے کندھے کے گرد پھیلائی اور اسکے گرد بازو پھیلا کر اسکے کندھے پر اپنا چہرہ ٹکا دیا شیشے میں دیکھتے ہوئے بولا پرفیکٹ….! نور اسکے ہاتھ پکڑتے ہوئے بولی اب کب تک اسطرح کھڑے شیشے میں دیکھتے رہو گے؟ شافع مسکراتے ہوئے بولا جب تک تم چاہو…. نور نے اپنے گرد بندھے اسکے ہاتھ کھولنا چاہے شافع اسے شیشے میں دیکھتے ہوئے بولا، تم میری آنکھوں میں دیکھنے سے کیوں کتراتی ہو نور نے شیشے میں دیکھا اسکی تھوڑی نور کے کندھے پر تھی، شافع نے بھنویں اچکائیں تو نور نظریں ہٹاتے ہوئے بولی مجھے تمھاری وہ غصے والی آنکھیں یاد آتی ہیں شافع ہنسا جھوٹ تم یہ کیوں نہیں کہتیں کہ تمھے میری آنکھوں میں ڈوبنے سے ڈر لگتا ہے،،، نور نے آنکھیں گھمائیں تم بہت بولنے لگ گئے ہو شافع پہلے تو تم کسی سے بات نہیں کرتے تھے، ہر وقت شکل پر بارہ بجے رہتے تھے،،،، شافع ہنستے ہوئے بولا میں ابھی بھی ویسا ہی ہوں تم کیا چاہتی ہو میں تمھارے ساتھ بھی ویسا رہوں غصے والا؟ سوچ لو پھر نقصان تمھارا ہی ہے، یہاں میں ذرا سا چینخ کر بولوں گا وہاں تمھارے آنسوں ٹپ ٹپ بہنا شروع ہو جائیں گے نور ہنس دی اور اسکے ہاتھ کھولتے ہوئے بولی اچھا اب چلو وآپس بھی آنا ہے…. شافع اسکے کندھے پر پیار کرتے ہوئے سیدھا ہوا چلو…. اسنے ہاتھ آگے نہیں بڑھایا بلکہ خود نور کا ہاتھ تھاما اور اسے لے کر آگے بڑھ گیا…..

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زایان لیپ ٹاپ آن کئے کمرے میں لیٹا تھا ارفہ بیگم اسکے کمرے میں سینڈوچ کی پلیٹ لے کر آئیں جو اسنے کچھ دیر پہلے بنانے کا آرڈر دیا تھا،،، ارفہ بیگم پلیٹ اسکے سامنے رکھتے ہوئے بولیں، زایان اب میں تھک گئی ہوں تمھارے لئے کھانا بنا بنا کے تم بہت تنگ کرتے ہو مجھے،،، زایان نے سینڈوچ کا بائٹ لیا اور ناٹک کرتے ہوئے آنکھیں صاف کرتا ہوا بولا “کر دیا نہ پل میں پرایا” ارفہ بیگم نے اسکے سر پر چپت لگائی،،، ڈرامے مت کرو زایان،،، زایان نے دانت نکالے ارفہ بیگم اٹھ کر چلی گئیں،،، زایان نے موبائل اٹھایا اور کسی کا نمبر ڈائل کیا دوسری رینگ پر کال اٹھالی گئی،،،،،، زایان چہکتی ہوئی آواز سے بولا، سینڈوچ کھاؤ گی؟ ارحام نے بھنویں اٹھائیں نہ سلام نہ دعا سیدھا کھانا پینا…. زایان ہنستے ہوئے بولا زایان حیدر بات کر رہا ہوں مجھ سے کیا تم سلام دعا ایکسپیکٹ کر رہی تھیں؟ ارحام اسکی بات کا جواب دینے کے بجائے بولی کیسے ہیں آپ؟ زایان سینڈوچ کا بائٹ لیتے ہوئے بولا ایک دم فٹ… تم کیسی ہو؟ ارحام خلا میں دیکھتے ہوئے بولی سحر سے نکلنے کی کوشش میں ہوں… زایان بھنویں اٹھاتے ہوئے بولا تو اب نکل بھی جاؤ کتنا وقت لگے گا؟ چار سال کا عرصہ بہت لمبا ہوتا ہے زایان کوئی انسان چار سال کسی جان لیوا بیماری میں مبتلا ہو اور اچانک اسے شفاء مل جائے تو کیا آپ اس سے یہ امید کرتے ہیں کہ وہ اپنے عزیت میں گزارے ہوئے وقت کو بھول جائے گا،،، جبکہ مجھے تو ابھی شفاء مکمل طور پر ملی بھی نہیں ہے… زایان نے ہونٹ بھینچے،،، میں جانتا ہوں میری وجہ سے تم نے بہت تکلیف اٹھائی ہے…. ارحام بے ساختہ بولی آپ کو نہیں لگتا میری تکلیف کے لئے ” بہت” کا لفظ بہت چھوٹا ہے… اگر اس تکلیف کے بدلے میں آپ کو سزا دینا چاہوں تو آپ تاب نہیں لا سکیں گے….

زایان نے سانس کھینچتے ہوئے گردن جھکائی تم جو سزا دینا چاہتی ہو دے دو. ارحام ہنسی، میں نے آپ سے اتنی محبت کی ہے زایان کے آپ کو سزا دینے سے تکلیف مجھے ہی ہوگی، میں نے سوچا تھا کہ اب آپ میری محبت کے منتظر ہیں تو کیوں نہ میں اپنی محبت آپکے لئے لاحاصل کردوں اور اپنی محبت اور خود کو آپ سے اتنی دور کر دوں کے آپ کو بھی احساس ہو جب محبت کو دھتکار دیا جاتا ہے دور کر دیا جاتا ہے تو کتنی تکلیف ہوتی ہے، لیکن پھر میں نے سوچا آپکو تو مجھ سے محبت ہے ہی نہیں تو نتیجہ یہ نکلا کہ ایسا کرنے سے بھی تکلیف صرف مجھے ہوگی آپ تو فقط تماشائی ہونگے…

وہ پھر زایان کو لاجواب کر رہی تھی زایان حیدر تو وہ انسان ہے جو گونگے کو بھی بولنا سکھا دے، جو اچھے خاصے انسان کو پاگل کردے جو اتنا بولے کے سامنے والا اپنے کانوں پر ہاتھ رکھنے پر مجبور ہو جائے لیکن وہ زایان حیدر، ارحام ابراہیم کے آگے لفظ کھو رہا تھا… ارحام بولی آپ خاموش ہیں، زایان آنکھیں بند کر کے بولا شرمندہ ہوں… ارحام بے ساختہ بولی میں نے آپکو شرمندہ کرنے کے لئے یہ سب نہیں کہا،،، زایان گردن ہلاتے ہوئے بولا میں جانتا ہوں،،، ارحام دیکھو اُس وقت سب کچھ الگ تھا تم میرے مزاج سے واقف ہو مجھے لگا کہ شاید تمھے محبت نہیں ہے تمھے بس میں اچھا لگا ہوں جسے تم محبت سمجھ رہی ہو… لیکن مجھے نہیں پتا تھا کہ تم مجھ میں اس حد تک انوالو ہو جاؤ گی. ارحام ہنستے ہوئے بولی آپکو ابھی اندازہ ہی نہیں ہے زایان کے میں نے آپ سے کس حد تک محبت کی ہے، زایان مسکراتے ہوئے بولا اندازہ ہو رہا ہے اسلئے تو اب جلد سے جلد تمھے اپنے پاس بلانا چاہتا ہوں، بہت رہ لیں تم میری یادوں کے سہارے،،، ارحام نے نظریں جھکائیں، زایان کھڑکی کے پاس آکر بولا تم نے گھر میں کسی سے بات کی ہے؟ ارحام نفی میں گردن ہلاتے ہوئے بولی میں نے اب تک خود سے بات نہیں کی، مجھے ڈر ہے کے کہیں پھر کچھ غلط نہ ہو جائے اسلئے جب تک آپ نہیں آئیں گے میں کچھ نہیں مانوں گی،،، زایان شرارت سے بولا سیدھا سیدھا بولو نہ تم مجھے دیکھنا چاہتی ہو… ارحام نے گردن جھکائی، زایان پھر بولا….. بتاؤ ایسا ہی ہے نہ؟ ارحام نفی میں گردن ہلاتے ہوئے بولی نہیں جن سے محبت ہوتی ہے انکا چہرہ ہر وقت آنکھوں کے سامنے ہوتا ہے، اسلئے دیکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی… زایان نے مسکراتے ہوئے آنکھیں بند کیں،،، ہاں تم ٹھیک کہہ رہی ہو جن سے محبت ہوتی ہے انکا چہرہ ہمیشہ آنکھوں کے سامنے ہوتا جیسا کہ میری آنکھوں کے سامنے برگر ،پیزا، فرائس کا چہرہ رہتا ہے…. دوسری طرف سے ارحام کے ہنسنے کی آواز آئی، زایان نے آنکھیں کھول دیں، زایان اس سے کچھ بولنا چاہ رہا تھا میراب چینختی ہوئی اسکے کمرے میں آئی بھائی مجھے دوست کے جانا ہے چھوڑ کے آئیں، زایان نے فون پر ہاتھ رکھ کر ارحام سے کہا میں بعد میں بات کروں گا خدا حافظ…

میراب آگے آتے ہوئے کمر پر ہاتھ رکھ کر بولی “اوئے ہوئے ہوئے”…… کس سے باتیں ہو رہی ہیں ایسے چھپ چھپ کے…. زایان اسے غصے سے دیکھتے ہوئے بولا تمھے تمیز نہیں ہے کسی کے کمرے میں نوک کر کے آتے ہیں میراب آنکھیں گھما کے بولی ہاں نہیں ہے مجھے تمیز کوئی مسئلہ ہے کیا….؟ زایان دانت پیستا ہوا آگے بڑھا اور اسکا سر پکڑ کر زور زور سے ہلایا،،، میراب نے چینختے ہوئے ناخن اسکے ہاتھ پر گڑائے چھوڑیں میرا سر زایان نے فوراً اسکا سر چھوڑا، اور ہاتھ دیکھتے ہوئے بولا “جنگلی بلی” میراب بھنویں میچتے ہوئے اپنے بال ٹھیک کرتے ہوئے چینخ کر بولی میرے بال خراب کر دیئے آپ نے…. زایان نے اسے منہ چڑھایا میراب غصے میں بولی مجھے ابھی کے ابھی میری دوست کے گھر چھوڑ کے آئے فوراً زایان اطمینان سے بیڈ پر لیٹتے ہوئے بولا ڈرائیور سمجھا ہوا ہے کیا،،، میراب اسے کھینچتے ہوئے بولی جلدی اٹھیں میری ساری دوستیں آگئی ہوں گی صرف میں دیر سے پہنچوں گی،،، زایان سونے کی ایکٹنگ کرتا ہوا بولا تو یہ تمھارا مسئلہ ہے میرا نہیں جاؤ اور مجھے سونے دو…. میراب بھنویں اٹھاتے ہوئے بولی ٹھیک ہے پھر میں اکیلی چلی جاتی ہوں کھو گئی نہ تو ڈھونڈتے رہیئے گا،،، زایان ہنستے ہوئے بولا خوش فہمی ہے تمھاری کے ہم تمھے ڈھونڈیں گے، ہم تو شکرانے کے نفل ادا کریں گے کہ چلو جان چھوٹی… میراب نے دانت پیسے اور کمرے سے جاتے ہوئے بولی میں ماما کو بولتی ہوں کے انھوں نے جو شام میں کیک بنانے کا ارادہ کیا ہے وہ کینسل کر دیں…. زایان فوراً اٹھتے ہوئے اسکے پیچھے بھاگا ارے میری پیاری بہن بتاؤ تمھے کہاں جانا ہے تمھارا بھائی تمھے صرف چھوڑنے کیا لینے بھی آجائے گا…..

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شافع اور نور مال میں سینڈل کی دوکان میں بیٹھے تھے شافع نے ایک سینڈل کی طرف اشارہ کر کے دوکان دار سے نکالنے کو کہا دوکاندار نے وہ سینڈل نور کے پیر کے آگے رکھی اور پہنانے کے لئے آگے بڑھا نور نے اسے کہا آپ رہنے دیں میں پہن لوں گی،،،، دوکاندار سینڈل اسکے آگے رکھ کے سیدھا کھڑا ہوگا،،، نور نے سینڈل خود ہی پہنی لیکن اسکا لاک اس سے نہیں لگ رہا تھا،،، شافع جھکتے ہوئے بولا May I?

نور نے پلکھیں جھپکا دیں شافع گٹھنے کے بل نیچے بیٹھا اور اسکا پیر آگے کیا،،، نور نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا،،، شافع سینڈل کا لاک لگا کر سیدھا ہوا اور اسکی طرف دیکھ کر مسکرایا، نور بھی ہلکا سا مسکرا دی نور نے پیر آگے کر کے شافع کی طرف دیکھا کیسی ہے؟ شافع مسکراتے ہوئے بولا پرفیکٹ…..! شافع نے وہ سینڈل پیک کرنے کو کہہ دی، نور اٹھتے ہوئے بولی اب چلیں؟ شافع بھنویں اٹھاتے ہوئے بولا اتنی جلدی کیا ہے ابھی اور شاپنگ کریں گے. نور اسکے ہاتھ میں موجود شاپر کا ڈھیر دیکھتے ہوئے بولا شافع ہم نے کتنی شاپنگ کر لی ہے اور تم نے اپنے لئے تو کچھ نہیں لیا لیکن میرے لئے اتنا کچھ لے لیا مجھے ان سب کی ضرورت بھی نہیں تھی…. شافع شاپ میں سے نکلتے ہوئے بولا یہ تو کچھ بھی نہیں ہے میرا بس چلے تو میں یہ پورا مال تمھارے لئے خرید لوں،،،، شافع نے مستقل آئےنور کا ہاتھ تھاما ہوا تھا شافع سامنے کی ایک جیولری شاپ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا چلو وہاں چلتے ہیں… نور نے اسکا بازو مضبوطی سے تھاما نہیں مجھے اور کچھ نہیں لینا ہم پہلے ہی بہت کچھ لے چکے ہیں، نور اسے دوسری طرف لے جاتے ہوئے بولی اب ہم تمھاری شاپنگ کریں گے،،، شافع اسے روکتے ہوئے بولا نہیں نور مجھے کچھ نہیں لینا لیکن نور نے اسکی ایک نہیں سنی اور اسے ٹی شرٹ کی شاپ میں لے گئی،،،

نور ادھر ادھر نظریں گھماتے ہوئے بولی تمھے کونسا کلر پسند ہے شافع؟ شافع اسکی طرف دیکھتے ہوئے بولا سارے ہی پسند ہیں، اچھا پھر بتاؤ تمھے کونسی شرٹ اچھی لگ رہی ہے؟ شافع کندھے اچکا کر سائڈ پر ہوتے ہوئے بولا تمھے جو پسند آئے دیکھ لو تمھاری شاپنگ میں نے اپنی پسند سے کی اب میری شاپنگ تم اپنی پسند سے کرو. شافع کاؤنٹر کے ایک طرف ہو کر کھڑا ہوگیا اور نور پر نظریں جما دیں نور اس سے کچھ فاصلے پر اسکے لئے شرٹ دیکھ رہی تھی،،، شافع کے پیچھے سے ایک لڑکی بولی جی سر آپ کو کونسی شرٹ پسند آرہی ہے؟ وہ لڑکی شاپ کیپر تھی، شافع نے نفی میں گردن ہلائی وہ لڑکی ایک شرٹ کی طرف اشارہ کر کے بولی سر آپ یہ والی دیکھیں آپ پر سوٹ کرے گی،،، شافع نے سپاٹ چہرے سے بھنویں اٹھائیں,,,, اتنے میں نور دو تین شرٹ لے کر شافع کی طرف آئی لیکن اسکی نظر سب سے پہلے اس شاپ کیپر لڑکی پر پڑی تھی جو مسکرا مسکرا کر شافع کو دیکھ رہی تھی، نور نے شافع کے پاس آکر اسکا بازو تھاما اور اس لڑکی کو گھورنے لگی، اس لڑکی نے فوراً دوسری طرف منہ کر لیا،،، شافع نے نور کا ری ایکشن بہت انجوائے کیا تھا،،، نور نے اپنے ہاتھ کی ٹی شرٹ شافع کے آگے کیں مجھے یہ پسند ہیں تمھے کیسی لگیں؟ شافع کندھے اچکا کر بولا تم نے پسند کی ہیں تو اچھی ہی ہوں گی،،، نور نے مسکرا کر شافع کی طرف دیکھا اور پھر شاپ کیپر لڑکی سے بولی یہ پیک کر وادیں پلیز وہ لڑکی نور کے ہاتھ سے ٹی شرٹ لیتے ہوئے ایک شرٹ آگے کر کے بولی میم یہ والی ٹی شرٹس پر ہم ڈسکاؤنٹ دے رہے ہیں پھر شافع کی طرف دیکھ کر بولی آپ ٹرائے کر کے دیکھیں آپ پر سوٹ کرے گی،،، نور مسنوعی مسکرا کر شافع کا بازو پکڑتے ہوئے بولا نہیں میرے ہسبینڈ ہیں مجھے زیادہ اچھے سے پتا ہے کہ ان پر کیا سوٹ کرے گا آپ بس یہ پیک کروا دیں،،، شافع نے ہونٹ بھینچ کر اپنی ہنسی قابو کی،،، اس لڑکی نے نور کی دی ہوئی ٹی شرٹ پیک کروا کر اسکے آگے کر دیں شافع نے کاؤنٹر پر پیمنٹ کی اور باہر آگئے، باہر آتے ہی نور نے شافع کا ہاتھ چھوڑ دیا شافع کو اسکے تیور خراب لگے اور اسکے ایک ایک تاثرات سے شافع لطف اندوز ہو رہا تھا،، نور نے اسکا ہاتھ چھوڑ دیا تو شافع نے تھام لیا، اور نور کی طرف دیکھ کر شرارت سے بولا نور

are you feeling joules?

نور نے حیرت سے اسکی طرف دیکھا میں کیوں جیلس ہونگی؟ شافع نے مسکراہٹ ضبط کی اور اسکے چہرے کی طرف اشارہ کر کے بولا پھر تمھارا چہرہ کیوں اتنا سرخ ہو رہا ہے؟ نور نے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا چہرہ سرخ ہو رہا ہے؟ نہیں تو شافع مسکرایا…. اس سے پہلے کے شافع اسے اور چھیڑتا نور بولی وہ لڑکی تمھے کس طرح دیکھ کر مسکرا رہی تھی….. شافع آگے ہوتے ہوئے بولا کس طرح؟ نور نے بوکھلاتے ہوئے کندھے اچکائے عجیب طریقے سے دیکھ رہی تھی…. شافع ہنسا وہ اسی طرح دیکھ رہی تھی جس طرح تم مجھے نہیں دیکھتیں… نور الجھی کیا مطلب؟ شافع اسے چھیڑنے کے لئے اسکے کان کے قریب آکر بولا پیار بھری نظروں سے…. نور نے آنکھیں بڑی کیں اور دانت پیستے ہوئے بولی مطلب وہ لڑکی تمھے پیار بھری نظروں سے دیکھ رہی تھی؟ شافع کندھے اچکا کر بولا اب تم نہیں دیکھتیں تو کوئی تو دیکھے گا نہ آخر اتنا ہینڈسم ہوں…. نور نے ضبط سے مٹھیاں بھینچیں اور غصے سے آگے جاتے ہوئے بولی میں جا رہی ہوں… شافع فوراً اسکے پیچھے جاتا ہوا بولا ارے جاؤ گی کیسی چابی تو میرے پاس ہے… نور غصے سے بولی رکشے میں چلی جاؤں گی تم اس لڑکی کی پیار بھری نظریں دیکھ لو جب تک…

شافع جلدی سے اسکے پیچھے بھاگا اور اسکے آگے آکر اسے روکا ہنستے ہوئے بولا ارے غصہ کیوں ہو رہی ہو یار وہ مجھے دیکھ رہی تھی میں تو نہیں… اس میں میرا کیا قصور ہے؟ نور کچھ نہیں بولی شافع ہنستہ ہوا بولا، محبت نہیں تب اتنا دوسری لڑکیوں سے جل رہی ہو، محبت ہوگئی پھر تم تو آئے دن کسی نہ کسی سے لڑ کر آؤ گی… نور بھنویں اٹھاتے ہوئے بولی میں تو نہیں جل رہی میں کیوں جلوں گی کسی سے؟؟؟ شافع اسکا چہرہ اوپر کرتے ہوئے بولا تم ہے اسکی ضرورت بھی نہیں ہے کیونکہ میں تو صرف تمھے دیکھتا ہوں نہ… نور نے نظریں جھکا لیں، شافع شرارت سے اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بولا “ہائے غصے میں بھی پیاری لگ رہی ہو” نور مسکرائی اور اسکا ہاتھ کھینچتے ہوئے بولی شافع…. شافع نے اسکی نکل اتاری شافع……! نور نے اسے گھورا اور اسے لیتے ہوئے مال سے باہر آگئی،،، شافع نے سارے بیگ گاڑی میں ڈالے اور آگے آکر بیٹھ گیا، نور سیٹ سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی، شافع گاڑی میں بیٹھا تو نور گردن اسکی طرف گھما کر بولی اب گھر چلیں؟ شافع سیٹ بیلٹ باندھتے ہوئے بولا گروسری نہیں کرنی کیا؟ نور نے آنکھیں گھمائیں، اچھا چلو شافع نے گاڑی اسٹارٹ کر دی،،، اور گروسری اسٹور کی طرف چل دیا… گروسری اسٹور سے تقریباً ایک گھنٹے بعد وہ لوگ گاڑی میں وآپس آکر بیٹھے، نور نے تھک کر سیٹ پر سر ٹکایا اور شافع کی طرف دیکھ کر بولی شافع تم شروع سے اتنی زیادہ شاپنگ کرتے ہو؟ شافع ہنستہ ہوا بولا سچ بتاؤں زندگی میں پہلی بار میں نے اتنی شاپنگ کی ہے وہ بھی کسی لڑکی کے لئے اپنی شاپنگ کرنے میں زایان کے ساتھ جاتا تھا اور آدھے ایک گھنٹے میں وآپس…. نور مسکرائی اور باہر دیکھتے ہوئے بولی تم نے فضول میں میرے لئے اتنا کچھ لے لیا… شافع اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا فضول میں کیوں اپنی بیوی کے لئے لیا ہے ” وہ دن کوئی پچاس بار اسکے لئے بیوی کا لفظ استعمال کرتا تھا” نور سانس کھینچتے ہوئے بولی اب گھر چلیں شافع نے ہنستے ہوئے نفی میں سر ہلایا،،، اب ہم ڈنر پر جائیں گے…. نور نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولی نہیں شافع پلیز اب ہم گھر جائیں گے میں بہت تھک گئی ہوں، شافع گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے بولا تو ہم ہوٹل جارہے ہیں شاپنگ پر نہیں…. نور کو پتا تھا وہ نہیں سنے گا اسلئے اسنے سانس کھینچ کر سیٹ پر سر ٹکا لیا…..

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تاشفہ ریلنگ چیئر پر ٹیک لگائے بیٹھی تھی،،،، ایک ہاتھ سر پر اور آنکھیں لال انگارا، کچھ دیر اسی کیفیت میں بیٹھے رہنے کے بعد اس نے ٹیبل پر رکھا اپنا موبائل اٹھایا اور ایک نمبر ڈائل کر کے موبائل کان سے لگا لیا کچھ دیر تک رنگ جاتی رہی پھر کال اٹھا کی گئی،،، تاشفہ بجھی ہوئی آواز سے بولی رحمان کل ایک پریس کانفرنس بٹھانی ہے اس نے اپنے کسی ساتھی کالیگ کو فون کیا تھا… پریس کانفرنس لیکن کیوں تاشفہ؟ تاشفہ ریلنگ چیئر پر جھولتے ہوئے بولی میں کچھ کنفیش کرنا چاہتی ہوں تم پلیز کل پریس کانفرنس ارینج کر وادو،،، دوسری طرف سے آواز آئی ٹھیک ہے جیسا تم چاہو،،، تاشفہ نے کال کاٹ کر موبائل ٹیبل پر رکھا، اور آنکھیں بند کرتے ہوئے بولی تم ایک دو کوڑی کی لڑکی کے لئے میرے ساتھ بہت غلط کر رہے ہو شافع وارثی…..

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شافع اور نور ریسٹورنٹ میں آمنے سامنے بیٹھے تھے وہاں پہنچ کر نور بہت سرپرائز ہوئی تھی کیونکہ شافع نے پہلے سے ہی ایک ٹیبل بک کر وا رکھی تھی،،، نور شافع کو دیکھتے ہوئے بولی یعنی تمھارا پہلے سے ارادہ تھا یہاں آنے کا؟ شافع مسکراتا ہوا بولا ہاں بالکل،،، نور مسکرائی آرڈر وہ لوگ کر چکے تھے نور آس پاس نظریں دوڑانے لگی شافع اسے دیکھتے ہوئے بولا کیسی لگی یہ جگہ تمھے؟ نور مسکراتے ہوئے بولی ہاں اچھی ہے… شافع ہنستہ ہوا بولا میں اور زایان یہاں پر آتے رہتے ہیں، نور نے اثبات میں گردن ہلائی اچھا… نور اپنے ہاتھ میں موجود تہمینہ بیگم کے دیئے ہوئے کڑوں کو آگے پیچھے کرتے ہوئے بولی شافع تمھارے، تمھارے بابا کے ساتھ تعلقات ٹھیک کیوں نہیں ہیں؟ میرا مطلب ہے تم ان سے الگ رہتے ہو بات نہیں کرتے… شافع خاموش ہو گیا…پھر ٹھہر کر بولا نور میں ابھی اس بارے میں بات نہیں کرنا چاہتا… نور گردن ہلاتے ہوئے بولی “سوری مجھے شاید نہیں پوچھنا چاہیے تھا تمھارا پرسنل میٹر ہے” شافع نے فوراً اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نفی میں گردن ہلائی،،، ایسا کچھ نہیں ہے میں بس ابھی یہ سب بات نہیں کرنا چاہتا،،، بس تم یہ سمجھ لو کہ میرے بابا کو اپنی انا اپنے بیٹے سے زیادہ عزیز ہے…. نور نے ہونٹ بھینچے اسے اپنے بابا یاد آئے تھے… اتنے میں ویٹر نے کھانا سرو کر دیا…

شافع کھانا اسکے آگے کرتے ہوئے بولا شروع کرو… نور نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کھانا شروع کیا… کھانا کھاتے ہوئے کچھ دیر بعد نور نے مصروف سے انداز میں پوچھا شافع اس دن سائڈ ٹیبل کی دراز میں ایک تصویر پڑی ہوئی تھی میں نے دوبارہ ڈھونڈی لیکن ملی ہی نہیں وہ کس کی تصویر ہے تمھاری ماما کی تو نہیں تھی ان سے تو میں مل چکی ہوں پھر وہ تصویر کس کی تھی…؟

نور نے کھانا کھاتے ہوئے مصروف سے انداز میں پوچھا تھا لیکن شافع کا ہاتھ رک گیا تھا،،، نور نے اسکے تاثرات پر غور نہیں کیا شافع نے پانی کا گلاس اٹھا کر لبوں سے لگا لیا… پھر سانس کھینچ کر بولا تم نے وہ تصویر کب دیکھی؟ نور کھانا کھاتے ہوئے بولی، کچھ دنوں پہلے، میں نے ایک اور البم میں بھی ان کی تصویر دیکھی تھی،،، شافع نے منہ پر ہاتھ رکھا،،، نور نے اچانک نظر اٹھا کر اسکے چہرے کی طرف دیکھا… شافع کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا نور فوراً کھانا چھوڑ کر سیدھی ہوتے ہوئے بولی کیا ہوا تمھے تم ٹھیک ہو شافع نے پانی پیا اور اثبات میں سر ہلا کر بولا شاید مرچیں تیز ہیں… نور نے بھنویں اچکائیں،،، نہیں مرچیں تو ٹھیک ہیں…

نور پریشان ہو رہی تھی، شافع پلیٹ کی طرف اشارہ کر کے بولا کھانا کھاؤ تم،،، اسکے تاثرات دیکھ کر نور بولی مجھے شاید ان چیزوں میں نہیں گھسنا چاہیے تھا آئم سو سوری میں بور ہو رہی تھی تو… شافع نے اسکی بات کاٹ کر اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھا،،، ایسا کچھ نہیں ہے تمھارے اور میرے بیچ کچھ چھپا نہیں ہونا چاہیے،،، لیکن میں ابھی تمھے اس سب کے بارے میں نہیں بتا سکتا میرا مائنڈ ڈسٹرب ہو جائے گا… نور اسکا چہرہ دیکھتے ہوئے بولی اٹس اوکے مجھے کچھ نہیں جاننا،،، شافع نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولا تم میری بیوی ہو میری زندگی سے جڑے ہر شخص کے بارے میں جاننا تمھارا حق ہے، نور کچھ نہیں بولی،،، میں تمھے سب خود بتاؤں گا لیکن ابھی نہیں فرست سے کیونکہ کہانی لمبی ہے اور وقت کم…

نور اسکی باتوں میں الجھ گئی میں سمجھ نہیں پارہی شافع،،، شافع اسکا ہاتھ تھپتھپاتے ہوئے بولا سمجھادوں گا ابھی کھانا کھاؤ،،، شافع نے چمچہ اٹھا لیا تھا لیکن نور کی تو بھوک ہی مر گئی تھی، اس نے زبردستی کھانا شروع کیا،،، کھانا ختم ہونے کے بعد وہ لوگ کچھ دیر وہاں بیٹھے اور گھر آگئے،،،

گھر آکر شافع نے کمرے میں سارا سامان صوفے پر رکھا اور بیڈ پر ڈھے گیا رات کے کوئی ایک ڈیڑھ بج رہے تھے،،، نور اسکارف کھولتے ہوئے اسے دیکھتے ہوئے بولی کیا ہوا شافع وارثی اب تھکن ہو رہی ہے گھومتے ہوئے نہیں ہو رہی تھی،،، شافع سر کے نیچے ہاتھ رکھتے ہوئے ہنسا… اور اسکی طرف دیکھتے ہوئے بولا ہاں بس اب ایک عدد کافی کے کپ کی ضرورت ہے کیونکہ مجھے ابھی بہت سارا کام ہے… نور آنکھیں چڑھاتے ہوئے بولی جب کام کرنا تھا تو اتنا گھومے کیوں اور ٹائم دیکھا ہے؟ شافع چھت کی طرف دیکھتے ہوئے بولا مجھے عادت ہے جاگنے کی ویسے بھی کل سنڈے ہے…. تم پلیز کافی بنا دو گی… نور شاپنگ بیگ سمیٹتے ہوئے بولی ابھی بنا دیتی ہوں… شافع اسکی طرف دیکھ کر بولا اپنے لئے بھی بنا کر لانا،،، نور نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولی نہیں مجھے نہیں پینی مجھے اب سونا ہے… شافع منہ بناتے ہوئے بولا تو میں یہاں جاگ کر کام کروں گا اور تم سوتی رہو گی؟ نور اسکی طرف دیکھ کر بولی تو کام تمھے کرنا ہے مجھے نہیں شافع منہ بناتے ہوئے بولا تو کیا ہوا تم مجھ سے باتیں کرتی رہنا،،، نور آنکھیں گھما کر بولی نہیں مجھے کوئی باتیں نہیں کرنی سونا ہے…. شافع منہ پر ہاتھ رکھ کر بولا “اللہ اتنی ظالم بیوی بھی کسی کو نہ دے” نور نے اسکی باتوں کا کوئی اثر نہیں لیا تو وہ اسے سناتے ہوئے بولا لگتا ہے اس شاپ کیپر والی لڑکی سے جاکر ملنا ہی پڑے گا کیونکہ میری بیوی کو تو کچھ احساس ہی نہیں ہے… نور نے کھا جانے والی نظروں سے اسے گھورا اور دروازے کی طرف جاتے ہوئے دانت پیس کر بولی تو لے آؤ نہ،،،

وہ جانے لگی تو شافع ہنستا ہوا بولا کہاں جا رہی ہو کافی بنانے؟ نور مڑے بغیر غصے سے بولی نہیں زہر بنانے،،، شافع اسے چڑانے کے لئے بولا نہیں ابھی تو تمھے مجھ سے محبت بھی نہیں ہوئی ابھی تو زہر نہ کھلاؤ نور نے ڈھڑ کر کے دروازہ بند کیا،،، شافع اسکے غصے پر ہنسا اور اٹھ کر فریش ہونے چلا گیا….

کچھ دیر بعد وہ کپڑے چینج کر کے باتھ روم سے نکلا اور اپنا لیپ ٹاپ نکال کر بیڈ پر آکر بیٹھ گیا… کچھ دیر بعد نور بھی کافی لے کر آگئی،،، شافع نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا نور نے اسکی طرف نہیں دیکھا تھا کافی کا کپ لے جاکر سائڈ ٹیبل پر رکھا اور اسکی طرف دیکھے بغیر بیڈ کی دوسری سائڈ پر آکر دوسری طرف منہ کر کے لیٹ گئی،،، شافع اسے دیکھ کر مسکرایا، اور کام کرتے ہوئے بولا ناراض ہوگئیں کیا؟ نور نے اسکی بات کا جواب دینے کے بجائے آنکھیں بند کر لیں،،، شافع مسکرایا،،، اچھا ایک بات بتاؤں؟ کسی سے ناراض ہو کر نہیں سوتے، اپنے شوہر سے تو بالکل بھی نہیں اور اگر شوہر شافع وارثی جیسا ہو تب تو بالکل بھی نہیں نور نے کوئی جواب نہیں دیا آنکھیں بند کر کے لیٹی ہی رہی…. شافع خاموش ہوگیا پھر کچھ دیر بعد کافی کا سپ لیتے ہوئے بولا نور کافی میں چینی ملا کے لادو گی؟ نور نے کوئی جواب نہیں دیا….

شافع نے اسکے بازو پر ہاتھ رکھ کر آواز دی لیکن وہ سچ میں سو چکی تھی، شافع نے مسکرا کر گردن نفی میں ہلائی اور اسکی طرف کا لیمپ بند کر دیا،،،، آدھی رات کے قریب لیپ ٹاپ کی روشنی سے نور کی آنکھ کھلی اس نے آنکھ کھول کر دیکھا شافع ابھی بھی لیپ ٹاپ پر کام کر رہا تھا…. نور اٹھتے بولی تم ابھی تک سوئے نہیں شافع؟ شافع نے اچانک اسکی طرف دیکھا… اوہ سوری شاید لیپ ٹاپ کی روشنی سے تمھاری آنکھ کھل گئی میں باہر جاکے کام کر لیتا ہوں،،،، نور اسے روکتے ہوئے بولی اب رکھ دو یہ کل کر لینا باقی کام شافع مسکراتے ہوئے بولا، نہیں بس تھوڑا سا ہی ہے تم سوجاؤ میں باہر کام کر لوں گا… نور اسکی طرف دیکھ کر بولی کل کر لینا تھکن سے تمھاری آنکھیں سرخ ہورہی ہیں،،، شافع مسکرایا لیپ ٹاپ بند کرتے ہوئے بولا اچھا ٹھیک ہے لیپ ٹاپ کا چارجر نکال کر اسنے لیپ ٹاپ ٹیبل پر رکھا اور سونے کے لئے لیٹ گیا،،،،،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صبح کے گیارہ بج رہے تھے شافع اب تک سو رہا تھا نور کافی دیر سے اٹھی ہوئی تھی، وہ آکر لاؤنج میں بیٹھ گئی اور ٹی وی آن کر لیا،، کچھ دیر وہ ایسی چینل گھماتی رہی ٹی وی وہ ویسی زیادہ نہیں دیکھتی تھی،،، اچانک چینل گھماتے ہوئے اسے ایک شناسہ چہرہ دکھا،،،، اسنے اس چینل پر روک دیا،،، وہ چہرے کو ٹھیک سے پہچان نہیں پائی تھی لیکن اسے اتنا پتا تھا کہ اسنے اس لڑکی کو کہیں دیکھا ہے اس سے پہلے کے وہ اپنے ذہن پر زور ڈال کر یہ سوچتی کے اسنے اس لڑکی کو کہاں دیکھا ہے اس سے پہلے اس لڑکی کے الفاظ سن کر اسے جھٹکا لگا وہ لڑکی پریس کانفرنس میں جو کہہ رہی تھی نور کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا، کہ وہ کیسے ری ایکٹ کرے نور بھاگتے ہوئے کمرے میں گئی،،، اور شافع کو اٹھانے لگی، شافع گھبراتے ہوئے اٹھا اس کا بھیگا ہوا چہرہ دیکھ کر گھبرا گیا، وہ فوراً بیڈ سے اٹھا اور نور کا چہرہ تھامتے ہوئے بولا کیا ہوا تمھے تم ٹھیک ہو؟ نور روتے ہوئے بولی شافع وہ ٹی وی پر لڑکی، پریس کانفرنس لفظ ٹوٹ رہے تھے،،، شافع اسکا ہاتھ پکڑ کر لاؤنج میں آگیا،،، شافع نے ٹی وی کی طرف دیکھا،،،

تاشفہ شاہزیب سر پر دوپٹہ لئے اور بڑے بڑے گلاسیز لگائے بیٹھی تھی اسکے آگے الگ الگ چینل کے مائکوں کا ڈھیر تھا،،، تاشفہ بول رہی تھی،،، “میں نے یہ پریس کانفرنس ایک سچ بتانے کے لئے بلوائی ہے کیونکہ مجھے اپنی غلطی کا احساس ہے، کچھ دنوں پہلے بزنس مین شافع وارثی کی کچھ تصویریں سوشل میڈیا پر پھیلیں تھیں جو انکی بیوی کے ساتھ تھیں وہ تصویریں میں نے سوشل میڈیا پر ڈالی تھیں کچھ ذاتی اختلافات کی وجہ سے میں نے غصے میں وہ تصویریں سوشل میڈیا پر ڈال دیں، جس کی وجہ سے انھے بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، میں شافع وارثی اور انکی بیوی سے بھی سب کے سامنے معافی مانگنا چاہتی ہوں… ایک رپورٹر بولا مس تاشفہ آپنے کہا کہ ذاتی اختلافات کی وجہ سے اپنے یہ تصویریں سوشل میڈیا پر ڈالیں تو کیا آپ بتانا پسند کریں گی کہ یہ ذاتی اختلافات کیا تھے؟ تاشفہ نے ضبط سے مٹھیاں بھینچیں… میں نے شافع وارثی کو آفر کی تھی کہ اگر وہ میرے چینل کے لئے ایک پروگرام میں اپنا انٹرویو ریکارڈ کروائیں گے تو انھے کافی فائدہ ہو سکتا ہے لیکن انھوں نے میری آفر کو ٹھکرا دیا تو بس ہماری چھوٹی سی بحث ہوگئی،مجھے غصہ آگیا، تو میں نے بس غصے میں یہ سب کر دیا… ایک رپورٹر طنزیہ ہنستے ہوئے بولی تاشفہ جی آپ یہ سب غلطی کے احساس ہونے پر بول رہی ہیں یا آپ سے یہ سب بلوایا جا رہا ہے؟ تاشفہ سانس کھینچتے ہوئے بولی نہیں یہ سب میں خود اپنے ضمیر کے ملامت کرنے پر بول رہی ہوں کیونکہ مجھے احساس ہے کہ میں نے غلط کیا…… ایک اور رپورٹر بولی تاشفہ شاہزیب آپکی وجہ سے شافع وارثی اور انکی بیوی کو جس بدنامی کا سامنا کرنا پڑا اسکے بارے میں آپ کیا کہنا چاہیں گی؟ تاشفہ نے ضبط سے دانت بھینچے،،، اور دل پر پتھر رکھ کر بولی میں بہت شرمندہ ہوں اس سب پر میں شافع وارثی اور انکی بیوی سے بھی معافی چاہتی ہوں پریس کانفرنس بلانے کا مقصد صرف اتنا تھا کہ جو لوگ انکے بارے میں غلط رائے رکھتے ہیں انھے پتا چل جائے کہ ایسا کچھ نہیں ہے وہ سب بس میری غلطی کی وجہ سے ہوا اور میں اس سب کے لئے معافی چاہتی ہوں،،،

رپورٹرز تاشفہ سے اور بھی ناجانے کیا کیا سوال پوچھ رہے تھے، نور منہ پر ہاتھ رکھ کے روتے ہوئے صوفے پر بیٹھ گئی،،، شافع نے ٹی وی بند کیا اور اسکے برابر میں بیٹھتے ہوئے اسکا سر اپنے سینے پر رکھ کر سہلانے لگا،،، نور روتے ہوئے بولی شافع اس لڑکی نے ایسا کیوں کیا اسکا جو اشو تھا تمھارے ساتھ تھا لیکن اس نے مجھے اس سب میں کس بات کی سزا دی؟ شافع نے اسکا سر اپنے سینے سے اٹھایا اسکے آنسوں صاف کئے،،، اور پانی کا گلاس اسے تھمایا نور نے تھوڑا سا پانی پیا،،، شافع اسے دیکھ کر سانس کھینچتے ہوئے بولا وہ سمجھتی تھی کہ میں تم سے محبت کرتا ہوں… نور نے حیرت سے اسے دیکھا، ڈنر والی رات جب میں تمھے تمھارے گھر چھوڑنے جارہا تھا تو تاشفہ نے ہمیں ساتھ دیکھ لیا تھا اور اسے لگا کہ ہم دونوں کے بیچ ایسا کچھ چل رہا ہے… نور حیرت سے بولی لیکن اسے ایسا کیوں لگا..؟؟؟

اس دن پہلی بار تو ہم نے ایک دوسرے سے ڈھنگ سے بات کی تھی،،، اور اگر اسے ایسا کچھ لگا بھی تو اس سے اسے کیوں فرق پڑھا…. شافع نے منہ پر ہاتھ پھیرا اور ٹھہر کر بولا،،، تاشفہ مجھ سے شادی کرنا چاہتی تھی، میں نے اسکا پرپوزل ریجیکٹ کر دیا تھا،،، پھر کچھ ٹائم بعد تمھے میرے ساتھ دیکھ کر اسنے خود سے ہی یہ سمجھ لیا کے میں تم سے محبت کرتا ہوں اور اگر تمھارے ساتھ کچھ ہوگا تو مجھے تکلیف ہوگی وہ ایک جرنلسٹ بھی ہے اسے انٹرویو کے لئے منا کرنے کے بعد اسکے اختلافات مجھ سے اور بڑھ گئے اسنے مجھ پر نظر رکھوائی ہوئی تھی وہ کسی موقعے کی تلاش میں تھی اور اسے وہ موقعہ تمھاری کڈنیپنگ والی رات مل گیا اسنے سوچا ایک تیر سے دو شکار کئے جائیں تمھارے ذریعے وہ مجھے ذہنی اور ایموشنلی طریقے سے ٹورچر کرنا چاہتی تھی لیکن اسے اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ اگر صرف میرے ساتھ کچھ ہوگا تو میں ایک دفعہ کو نظر انداز کر دوں گا لیکن اگر تمھارے ساتھ کسی نے کچھ غلط کیا تو میں قبر تک اسکا پیچھا نہیں چھوڑوں گا،،، نور شافع کے تاثرات دیکھتے ہوئے ہوئے بولی کیا کیا ہے تم نے اسکے ساتھ جو اسنے میڈیا پر آکر یہ سب کہا،،، شافع ہنستے ہوئے بولا زیادہ کچھ نہیں وہ جرنلسٹ ہے تو اسنے ایک ڈی ایس پی اور جج کے خلاف ایک خوفیہ رپورٹ تیار کی تھی اسکا چینل اچھے خاصے پیسے دیتا اسے اور اسکی پوزیشن بھی اچھی ہوجاتی وہ رپورٹ میں نے چوری کروا لی اب اسے ڈر ہے کہ کہیں میں وہ رپورٹ کسی چینل کو نہ بیچ دوں یا ڈی ایس پی یا جج کو اسکا نام نہ دے دوں،،، اسلئے اسنے یہ پریس کانفرنس بلا کر یہ سب کہا،،، نور نے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور تم نے یہ سب کروایا کس سے؟ شافع سیدھا ہو کر بیٹھا اور گلہ کنکھار کر بولا ایسے کام اور کون کر سکتا ہے زایان نے کیا ہے….

نور نے سر تھاما،،، پھر شافع کی طرف دیکھ کر بولی پریس کانفرنس تو بلا لی اس نے اب تم کیا کرنے والے ہو؟ شافع بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا میں اسکی بنائی ہوئی رپورٹ ایک چینل کو بیچ دوں گا… نور بھنویں میچتے ہوئے بولی، لیکن اس نے تو پریس کانفرنس بلا لی اب تم ایسا کیوں کرو گے؟ شافع اسکی طرف دیکھ کر سمجھانے والے انداز میں بولا، دیکھو نور اس پریس کانفرنس کے بعد تاشفہ کی نوکری تو سمجھو چلی ہی گئی اور کافی ٹائم تک اسے کہیں نوکری ملے گی بھی نہیں، اور اسکی بنائی ہوئی رپورٹ صحیح ہے، اس ڈی ایس پی اور جج نے سچ میں وہ سب کیا ہے جو اسکی رپورٹ میں ہے، میں یہ رپورٹ دوسرے چینل پر چلواؤں گا تو ان دونوں کو بھی سبق مل جائے گا ان کرپٹ لوگوں کو ایسے ہی تو نہیں چھوڑ سکتے نہ،،،

نور نے سر پر ہاتھ رکھ کر گردن جھکا لی شافع اسکے بال سہلاتے ہوئے بولا اب سب ٹھیک ہو جائے گا نور…. نور نے چہرہ اٹھایا اسکا چہرہ بھیگا ہوا تھا چاہے سب کچھ جتنا بھی ٹھیک ہو جائے شافع لیکن میری ماما وآپس نہیں آئیں گیں،،، شافع کے لفظوں کو چپکی لگ گئی،،، نور کا سر اسنے اپنے سینے پر رکھا اور اسکے بال سہلاتے ہوئے بولا نور انسان چلے جاتے ہیں یادیں رہ جاتی ہیں لیکن ماں وہ واحد ہستی ہے جو مرنے کے بعد بھی ہمارے ساتھ ہوتی ہے ہمارے پاس ہوتی ہے، جانے والے کو ہم روک تو نہیں سکتے لیکن انکے لئے دعا تو کر سکتے ہیں… تم اسطرح روؤں گی تو انھے تکلیف ہوگی تم چاہتی ہو کے انھے تکلیف ہو؟ نور نے نفی میں سر ہلایا،،، شافع اسکے بال سہلاتا رہا نور ہمیں نہیں پتا ہوتا لیکن ہر چیز کے پیچھے اللہ تعالیٰ کی کوئی نہ کوئی مسلحت ہوتی ہے اگر یہ تصویروں والا معاملہ نہ ہوتا تو ہم ملتے کیسے؟ نور آنسوں صاف کرتے ہوئے بولی جنہیں ملنا ہوتا ہے وہ مل ہی جاتے ہیں، شافع اسکا ہاتھ تھامتے ہوئے بولا وہی تو جنہیں ملنا ہوتا ہے مل ہی جاتے ہیں لیکن زندگی میں سب کچھ ساتھ بھی تو نہیں ملتا نا کچھ پانے کے لئے کچھ کھونا بھی پڑتا ہے،،، نور خاموشی سے گردن جھکائے اسکی باتیں سنتی رہی شافع اسکی طرف دیکھ کر بولا اب مجھے ناشتہ بنا دو گی مجھے کام سے جانا ہے،،،، نور نے اسکی طرف دیکھ کر پوچھا کہاں جاؤ گے؟ شافع اٹھتا ہوا بولا ہے ایک چھوٹا سا کام ایک دو گھنٹے میں آجاؤں گا نور گردن ہلاتے ہوئے اٹھی،،، اب تم جلدی سے ناشتہ بنا دو میں فریش ہو کر آتا ہوں،،، نور اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کچن کی طرف بڑھ گئی،،،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شافع زایان کے گھر کے باہر گاڑی میں بیٹھا زایان کا انتظار کر رہا تھے زایان بھاگتا ہوا آیا اور اسکی گاڑی میں بیٹھ کر فوراً بولا سوری یار لیٹ ہوگیا،،، شافع بھنویں اٹھاتے ہوئے بولا یہ تو تمھارا ہر دفعہ کا کام ہے،،، اسکی بات کو نظر انداز کر کے زایان نے سیٹ کے اوپر گٹھنا رکھا اور شافع سے گلے ملا بہت مبارک ہو بھائی تاشفہ بیگم نے پریس کانفرنس بلا لی،،، شافع نے اسکے بال بکھیرے یہ سب تمھاری وجہ سے پوسیبل ہوا ہے اگر تم وہ سب نہ لاتے تو،،،، زایان اسکی بات کاٹ کر بولا اچھا اب یہ شکریہ کلمات دھرانے کے بجائے تم مجھے کچھ کھلا دو تو یہ زیادہ بہتر نہیں ہوگا؟ شافع ہنستا ہوا بولا کھلا دوں گا یار ابھی جس کام کے لئے جانا ہے وہاں چلیں،،، زایان نے شافع کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا تو بتاؤ کہاں چلنا ہے؟ شافع ایک کارڈ اسکے آگے کرتا ہوا بولا اس پروڈیوسر کے آفس… زایان خوشی کی کیفیت میں چلایا Don’t Tell me کہ تم تاشفہ کی بنائی ہوئی رپورٹ بیچ رہے ہو، ورنہ میں خوشی سے پاگل ہو جاؤں گا،، شافع گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے بولا تو پھر تم پاگل ہو جاؤ کیونکہ میں ایسا ہی کرنے والا ہوں زایان دونوں ہاتھ ہوا میں بلند کرتے ہوئے بولا یس….! یہ ہوئی نہ شافع وارثی والی بات،،، شافع مسکرایا،،،

کچھ دیر بعد وہ لوگ ایک نیوز چینل کے پروڈیوسر کے آفس میں موجود تھے شافع نے تصویروں کے پرنٹ نکلوا لئے تھے،،، پروڈیوسر نے فائل دیکھ کر مسکراتے ہوئے شافع کی طرف دیکھا شافع صاحب خبر تو بہت بڑی ہے کہاں سے اٹھا لائے ہیں آپ یہ؟ شافع ہنستے ہوئے بولا آپ آم کھائیں نہ گٹھلیاں کیوں گن رہے ہیں؟ آپ بتائیں آپ یہ نیوز اپنے چینل پر چلانے کے لئے تیار ہیں یا میں کسی اور سے بات کر لوں؟ وہ پروڈیوسر فوراً بولا ارے نہیں نہیں شافع صاحب آپ بس اس نیوز کے پیسے بتائیں… شافع کندھے اچکا کر بولا جو آپ کو مناسب لگے… اس پروڈیوسر نے اسی وقت ایک اچھی خاصی بڑی رقم کا چیک کاٹ کر شافع کے آگے کیا…. کچھ دیر مزید بات چیت کرنے کے بعد شافع اور زایان باہر آگئے،،،

زایان خوشی سے چینختے ہوئے بولا واہ یار اچھے خاصے پیسے مل گئے اس رپورٹ کے اب تم یہ سارے پیسے میری شادی پر لٹانا… شافع نے زایان کے سر پر چپت لگائی یہ پیسے تاشفہ کے ہیں اسی کے پاس جائیں گے میں اسکی طرح گرا ہوا نہیں ہوں زایان کچھ بولنے ہی والا تھا اتنا میں شافع کا فون بجا،، شافع نے فون دیکھ کر زایان سے کہا تاشفہ ہے اور کال ریسیو کر لی….

دوسری طرف سے تاشفہ کی آواز آئی تم نے جو کہا تھا شافع وہ میں نے کر لیا اب تم میری بنائی ہوئی نیوز رپورٹ وآپس کرو… شافع مسکراتے ہوئے بولا کونسی رپورٹ؟ تاشفہ دانت پیستے ہوئے بولی شافع مجھے مزاق پسند نہیں ہے وہی رپورٹ جو تم نے چوری کر وائی تھی،،، شافع آنکھیں بڑی کر کے بولا اوووہ اچھا وہ رپورٹ وہ رپورٹ تو میں نے ابھی ابھی ایک پروڈیوسر کو بیچ دی ویسے ماننا پڑے گا تاشفہ بہت محنت کی تھی تم نے اس پر دوسری طرف سے تاشفہ کے چینخنے کی آواز آئی بکواس مت کرو شافع،،،، شافع بھی سختی سے بولا میں کوئی بکواس نہیں کر رہا تم نے جو کیا ہے اسکے آگے یہ کچھ بھی نہیں تاشفہ،،، شکر کرو میں نے تمھارا نام ڈی ایس پی کو نہیں دیا ورنہ دنیا صرف یاد ہی کرتی رہ جاتی کہ تاشفہ نام کی بھی کوئی لڑکی تھی،،، تاشفہ چینختی ہوئی بولی تم وہ رپورٹ ایسے کیسے بیچ سکتے ہو شافع تم نے کیا کہا تھا کہ اگر میں نیوز کانفرنس بلا کر یہ سب کہوں گی تو تم مجھے رپورٹ وآپس کر دو گے،،، شافع بغیر کسی تاثر کے بولا ہاں تو میرا ارادہ بدل گیا،،، تاشفہ ضبط سے بولی مجھے چینل نے نکال دیا ہے وہ رپورٹ میرے پاس جاب حاصل کرنے کا آخری ذریعہ تھی،،، شافع بھنویں اٹھاتے ہوئے بولا ہاں تو اب تم دیکھو نہ تاشفہ ابھی تو تمھے صرف جاب سے نکالا ہے اب یہ نیوز جب دوسرے چینل پر چلے گی تو تمھے بین بھی کیا جائے گا کہ تم نے ایک چینل کا پروجیکٹ بے ایمانی کر کے دوسرے چینل کو بیچ دیا،،،، تاشفہ کو سکتا تاری ہوا،،، اب جب بھی کبھی میرے یہ مجھ سے جڑے رشتوں کے ساتھ کچھ غلط کرنے کا سوچو نہ تو اس سبق کو یاد رکھنا کیوں کہ تم نے ابھی شافع وارثی کو ٹھیک سے دیکھا ہی نہیں ہے اگر جان بخش سکتا ہوں تو جان لے بھی سکتا ہوں اسلئے مجھ سے جڑے لوگوں کے ساتھ تم کچھ غلط کرنے کی اب سوچنا بھی مت، شافع فون رکھنے لگا تھا لیکن پھر رک کر بولو اور ہاں تمھاری بنائی ہوئی رپورٹ کی قیمت بھجوا رہا ہوں کیونکہ اب اسکی بہت ضرورت پڑھنے والی ہے تمھے،،،، شافع نے فون کاٹ دیا زایان نے آنکھ مار کر اسکا کندھا تھپ تھپایا شافع نے غصہ ضبط کرنے کے لئے ایک لمبا سانس کھینچا،،، چلو یار اب تمھارے مسئلے تو سلجھ گئے اب اپنے بھائی کا بھی کچھ سوچو….

وہ دونوں گاڑی میں بیٹھے شافع انجان بنتا ہوا بولا کیا سوچوں میں تمھارے بارے میں؟ زایان نے اسے گھورا واہ بھائی واہ بیوی کیا آئی بھائی کی کوئی فکر ہی نہیں ہے اب،،، شافع نے قہقہہ لگایا،،، زایان اسکا کندھا ہلاتا ہوا بولا کب جاؤ گے تم حویلی؟ شافع کی ہنسی سمٹی، زایان بھی سنجیدہ ہوا یار میں جانتا ہوں کہ تم وہاں نہیں جانا چاہتے ماضی کی کچھ بری یادیں ہیں تمھاری وہاں پر لیکن تم میرے لئے سب کرتے ہونا تو اتنا اور کر دو اپنے بھائی کے لئے پلیز،،، شافع نے ضبط سے سانس کھینچا اور مشکل سے مسکراتے ہوئے زایان کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا میں جاؤں گا حویلی،،، زایان فوراً خوش ہوتا ہوا بولا کب؟ شافع گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے بولا ابھی چلا جاؤں؟ زایان تالی مارتے ہوئے بولا ہاں ہاں چلو… شافع نے اسے کونی ماری تو وہ ہنسا،،، کل جاؤں گا زایان اسکے گال کھینچتا ہوا بولا یہ ہوئی نہ بات،،، شافع اسکے ہاتھ سے اپنے گال چھڑاتا ہوا بولا پھر تم میرے پیچھے آفس میں سب کے ساتھ مل کے پارٹیاں مت کرتے پھرنا،، زایان مسکراتے ہوئے سیدھا ہوا ہاں ہاں ایسا کچھ نہیں ہوگا بس تم نے رشتہ پکا کر کے آنا ہے،،، شافع زایان کو بغور دیکھتے ہوئے بولا تمھے بڑی جلدی نہیں ہے؟ زایان مسکراتے ہوئے بولا ہاں میں اس بات سے انکار بالکل نہیں کروں گا؟ شافع مسکراتے ہوئے بولا ارحام سے محبت تو نہیں ہوگئی ہے؟ زایان ہنسا دیکھو یار میری پہلی محبت کھانا، اور دوسری تم اب یہ اسکے اوپر ہے کہ وہ تیسرے نمبر پر کس طرح گنجائش بناتی ہے،،، اور یہ محبت وحبت کچھ نہیں ہوئی ہے مجھے کیونکہ یہ جو میری پہلی محبت ہے نہ “کھانا” اسنے اپنی محبت کی ایک موٹی سی شیٹ میرے دل پر چڑھا رکھی ہے تو ارحام کو بڑی محنت کرنی پڑھے گی، میرے دل تک پہنچنے کے لئے،، شافع ہنستا ہوا بولا میں تو جا کے ارحام کو وارن کرنے والا ہوں کہ ابھی بھی وقت ہے سوچ لے کیونکہ تم سے شادی اسے بہت مہنگی پڑنے والی ہے،،،، زایان منہ بناتے ہوئے بولا رشتہ جوڑنے بھیج رہا ہوں تو کچھ الٹا مت کر کے آنا اور اپنے چاچو سے بات کرنے کے بعد تم وآپس نہیں آؤ گے بات بن گئی تو مجھے فون کر دے نہ میں ماما بابا کو لے کر آجاؤں گا،،، شافع ڈرائیو کرتے ہوئے بولا صرف ماما بابا کو کیوں مولوی کو بھی ساتھ لے آنا نہ ساتھ ہی نکاح پڑھ واکر رخصتی کر دیں گے،،،

زایان ہاتھ لہراتے ہوئے بولا ویسے آئیڈیا بالکل برا نہیں ہے… دونوں کا قہقہہ بلند ہوا….

شافع نے زایان کو اسکے گھر پر ڈراپ کیا اور گاڑی اپنے گھر کی طرف موڑ لی،،، سگنل پر ٹریفک جام ہونے کی وجہ سے اسنے گاڑی روکی ایک کم عمر کا لڑکا اسکی گاڑی کے پاس آکر گاڑی کا شیشہ بجانے لگا،،، شافع نے گاڑی کا شیشہ نیچے کیا تو وہ لڑکا پھول آگے کرتے ہوئے بولا صاحب یہ پھول لے لیں تازے پھول ہیں، جس کو بھی دیں گے وہ خوش ہو جائیں گی، شافع مسکرایا،،، کیا گارنٹی ہے کہ وہ خوش ہو جائے گی، وہ لڑکا ہنستے ہوئے بولا صاحب یہ پھول ہیں اس سے تو سب ہی خوش ہو جاتے ہیں جو زبان نہیں بول پاتی وہ یہ پھول بول دیتے ہیں،،، آپ دیکھئے گا جنھے بھی یہ پھول دیں گے وہ بھی خوش ہو جائیں گی شافع ہنستا ہوا بولا اتنے چھوٹے ہو اتنی باتیں کہاں سے سیکھیں ہیں؟ وہ لڑکا ایک زخمی مسکراہٹ کے ساتھ بولا غریب ہوں نہ صاحب باتیں اپنے آپ ہی بنانی آجاتی ہیں، اور مجھے بولنے کا بھی کچھ زیادہ ہی شوق ہے لیکن دنیا میں سننے والے کم ہیں اور سنانے والے زیادہ یہ تو آپ کا اخلاق ہے کہ آپ نے اتنا بھی سن لیا ورنہ کچھ لوگ تو گاڑی بھی نہیں روکتے،،، شافع مسکرایا، اسکول جاتے ہو؟ وہ لڑکا اثبات میں سر ہلاتے ہوئے بولا جاتا ہوں نہ صاحب بستی کے پاس ہی ایک چھوٹا سا اسکول ہے وہاں جاتا ہوں پھر شام میں پھول بیچتا ہوں،،، آج چھوٹی ہے تو اسلئے صبح میں بھی پھول بیچ رہا ہوں…. اتنے میں سگنل کھول گیا گاڑی آگے بڑھنے لگیں تو وہ لڑکا ہڑبڑی میں بولا صاحب باتیں سن لی ہیں اب پھول بھی خرید لیں… شافع اپنا والٹ کھولتا ہوا بولا ٹھیک ہے دے دو…. کتنے دوں صاحب؟ شافع مسکراتا ہوا بولا سارے دے دو وہ لڑکا خوشی سے چلایا سارے دے دوں صاحب؟ شافع گردن ہلا کر بولا ہاں سارے دے دو شافع نے اسکے ہاتھ سے سارے پھول لئے، اور ہزار کا نوٹ اسکی طرف بڑھایا،،، وہ لڑکا پریشانی کے عالم میں بولا میرا پاس خلّہ نہیں ہے صاحب شافع نے وہ پیسے اسکی شرٹ کی جیب میں ڈالے یہ سب رکھ لو… وہ لڑکا پیسے وآپس نکالتے ہوئے بولا لیکن یہ پھول صرف تین سو کے ہیں صاحب… شافع اسکے ہاتھ کی چوٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا باقی پیسوں سے تم اپنے ہاتھ پر پٹی کروا لینا اور اگر بچ جائے تو اپنی ماں کو جاکر دے دینا،،، وہ لڑکا خوشی سے مسکرایا شکریہ صاحب بہت شکریہ،،، شافع اسے آنکھ مارتا ہوا بولا بس اب یہ پھول اسے بھی خوش کر دیں،،،، وہ لڑکا ہنستے ہوئے بولا آپ فکر ہی نہ کریں صاحب وہ بھی خوش ہو جائیں گی اللہ آپ کو بھی خوش رکھے،،، شافع نے مسکراتے ہوئے گاڑی آگے بڑھا دی.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شافع گھر پہنچا نور نے دروازہ کھولا شافع نے پھول اپنے چہرے کے آگے کئے ہوئے تھے جیسے ہی نور نے دروازہ کھولا شافع نے مسکراتے ہوئے پھول اسکے آگے کئے،،، نور نے والہانہ خوشی سے پھول تھامے اور شافع کی طرف دیکھ کر بولی واؤ میرے لئے لائے ہو؟ شافع نفی میں گردن ہلاتے ہوئے بولا نہیں تو کسی اور کے لئے،،، نور ہنسی اندر آتے ہوئے وہ پھولوں کو سونگھنے لگی پھولوں کو دیکھ کر مسکراہٹ اسکے چہرے پر سے جا ہی نہیں رہی تھی اندر آکر وہ پھولوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولی تھینکیو شافع بہت خوبصورت ہیں یہ،،،شافع مسکراتے ہوئے بولا یور ویلکم…. شافع صوفے پر آکر بیٹھا نور نے پھول ٹیبل پر رکھے پھر واس میں سے آرٹیفیشل پھول نکال کر ان میں شافع کے لائے ہوئے پھول ڈالنے لگی،،، اسکی مسکراہٹ دیکھتے ہوئے شافع بولا لگتا ہے تمھے پھول کچھ زیادہ ہی پسند ہیں ،،، نور مسکراتے ہوئے پھول گلدان میں ڈالتے ہوئے بولی پھول کس کو نہیں پسند ہوتے؟ تمھے پتا ہے میں نے اپنے گھر کی بالکنی میں بہت سارے پھولوں کے گملے لگائے ہوئے تھے،،، پھولوں کو دیکھ کر جیسے سکون ملتا ہے مجھے… شافع اسے دیکھتے ہوئے بولا تو اپنے اس گھر کی بالکنی میں بھی پھول لگاؤ نہ نور سیدھے ہوتے ہوئے بولی ارے ہاں مجھے تو دھیان ہی نہیں رہا اور یہ والی بالکنی تو ہے بھی بہت بڑی،،، اب اسکی پوری توجہ بالکنی کی طرف تھی ہم ایسا کریں گے ٹیبل بیچ میں کر دیں گے اور چاروں طرف پھولوں کے گملے رکھیں گیں،،، شافع مسکرایا،،، بس اب تمھے یہ پھولوں کا ٹاپک مل گیا تو تم مجھے بھی بھول گئیں کہ شوہر باہر سے آیا ہے کوئی چائے پانی کا پوچھوں،،،، نور سر پر ہاتھ رکھ کر بولی اوہ سوری میں تو بھول ہی گئی میں ابھی پانی لاتی ہوں… وہ جانے لگی شافع نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا نہیں میں مزاق کر رہا ہوں مجھے کچھ نہیں چاہیے تم میرے پاس بیٹھو میں کچھ اور بھی تمھارے لئے لایا ہوں نور اسکے سامنے بیٹھی،،، اور سوالیہ نظروں سے پوچھا اور کیا؟ شافع شرارت سے بولا پہلے آنکھیں بند کرو…. نور نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولی نہیں میں ایسا کچھ نہیں کروں گی… شافع ضد کرتے ہوئے بولا پلیز نور… نور نے ڈرتے ہوئے آنکھیں بند کیں دیکھو شافع کچھ ایسا ویسا نہیں ہونا چاہیے،،،

شافع اپنے کوٹ میں سے ایک ڈبہ نکالتے ہوئے بولا ہاں ہاں ڈرو مت چھپکلی یا کاکروچ نہیں لایا ہوں شافع نے وہ لمبا سا ڈبہ کھول کر نور کے آگے کیا آنکھیں کھولو اب…. نور نے آہستہ سے آنکھیں کھولیں،،، شافع نے مسکراتے ہوئے ایک ڈبہ اسکے آگے کیا ہوا تھا، اس میں ایک ہارٹ شیپ کا ڈائمنڈ پینڈنٹ تھا نور نے منہ پر ہاتھ رکھا،،، شافع نے بھنویں اچکائیں کیسا لگا، نور نے سکتے کے عالم میں دونوں ہاتھ منہ پر رکھے ہوئے تھے Shafay it’s too beautiful

شافع مسکرایا I know اب اپنے ہاتھ میں بھی لے لو میں کب تک تمھارے آگے کئے بیٹھا رہوں گا،،، نور نے مسکراتے ہوئے وہ ڈبہ اسکے ہاتھ سے لیا،،، نور اس پینڈنٹ کو بغور دیکھتے ہوئے بولی شافع یہ ڈائمنڈ ہے؟ شافع نے اثبات میں سر ہلایا،،، نور نے ایک جھٹکے سے وہ ڈبہ اسکے ہاتھ پر وآپس رکھ دیا شافع یہ بہت مہنگا لگ رہا ہے… شافع بھنویں میچتے ہوئے بولا تو کیا ہوا؟؟؟ نور سانس کھینچتے ہوئے بولی کتنے کا لیا ہے تم نے یہ؟ شافع نے گلہ کھنکارا گفٹ کی قیمت نہیں بتائی جاتی،،،

اور ویسے بھی میں نے شادی کے بعد تمھے گفٹ میں کچھ دیا ہی نہیں، نور گردن جھکاتے ہوئے بولی تم نے مجھے اپنی زندگی میں جگہ دے دی یہ کم ہے کیا؟ شافع نے اسکا چہرہ دونوں ہاتھوں میں لیا نور تم سے زیادہ بڑھ کر میرے لئے کچھ نہیں ہے،،، اور تم ایسی باتیں مت کیا کرو ہم دونوں کا ملنا قسمت میں لکھا تھا اب چاہیں اسطرح ملتے یا کسی اور طرح ملنا تو ہمیں تھا،،،

نور ہلکا سا مسکرائی، شافع نے وہ پینڈنٹ وآپس اسکے ہاتھ میں دیا،،، نور نے اسکی طرف دیکھ کر پوچھا یہ ضروری کام کرنے گئے تھے ویسے تم؟ شافع ہنسا اس دن جب ہم مال گئے تھے تب میں نے تمھاری نظروں سے بچ کے یہ آرڈر کیا تھا، اس جویلر نے مجھے فون کیا تو میں آتے ہوئے لے آیا….

نور خاموش بیٹھی تھی شافع اسکا ہاتھ ہلاتے ہوئے بولا چلو اب پہن کے بھی دیکھاؤ یار یوں ہاتھ میں رکھنے کے لئے تھوڑی لایا ہوں،،، نور نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلایا،،، اور پینڈنٹ ڈبے میں سے نکالا “وہ سچ میں بہت خوبصورت تھے ہارٹ شیپ میں جس کے چاروں طرف ڈائمنڈ جڑے تھے” شافع نے نور کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا میں پہنا دوں؟نور نے مسکراتے ہوئے وہ پینڈنٹ شافع کے ہاتھ میں دے دیا،،، شافع صوفے سے کھڑا ہوا، اور ہاتھ آگے بڑھاتے ہوئے بولا چلو شیشے کے سامنے کھڑے ہو کر پہناؤں گا،،، نور نے آنکھیں گھمائیں،، شافع اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے کھینچتے ہوئے بولا چلو بھی نور،،،نور کو لے کر وہ شیشے کے سامنے آکر کھڑا ہوگیا، شافع نے پینڈنٹ اسکے گلے میں ڈالا اور لاک لگانے کے لئے اسکے بال آگے کئے،،، پینڈنٹ گلے میں ڈال کر شافع نے اسکے دونوں کندھوں پر ہاتھ رکھا اور اسے شیشے میں دیکھتے ہوئے بولا “اب یہ زیادہ اچھا لگ رہا ہے” نور مسکرائی،،، شافع نے اس سے پوچھا تمھے اچھا لگانا…؟ نور اسکی طرف مڑتی ہوئی بولی ہاں بہت اچھا لگا لیکن مجھے یہ بھی پتا ہے کہ یہ بہت مہنگا ہے تمھے اتنا مہنگا گفٹ نہیں لینا چاہیے تھا،،، شافع نے کوفت سے آنکھیں گھمائیں، اوہ نور میں یہ مہنگا مہنگا سننے کے بالکل موڈ میں نہیں ہوں، مجھے تمھارے لئے جو پسند آئے گا میں لے لوں گا پھر چاہے اسکے لئے مجھے خود کو ہی کیوں نہ بیچنا پڑ جائے،،، دونوں ہنسے، شافع شیشے میں دیکھ کر اپنے بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا ویسے کھانا کھلانے کا ارادہ ہے یا میں اپنا کام کر لوں…؟

نور باہر جاتے ہوئے بولی تم آجاؤ میں لگاتی ہوں کھانا… شافع سینے پر ہاتھ رکھ کر بولا جو حکم آپ کا…. نور ہنستے ہوئے باہر چلی گئی،،،،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ دونوں کھانا کھا رہے تھے، جب کھانا کھاتے ہوئے شافع مصروف سے انداز میں بولا نور میرے کچھ کپڑے پیک کردو گی؟ نور نے کھانا کھاتے ہوئے پوچھا کیوں؟ شافع بغیر کسی تاثر کے بولا مجھے کچھ دنوں کے لئے حویلی جانا ہے زایان کے سلسلے میں چاچو سے بات کرنے کے لئے…. نور کا ہاتھ رک گیا،،، کچھ دنوں کے لئے مطلب کتنے دن؟ شافع کھانا کھاتے ہوئے ہی اثبات میں سر ہلا کر بولا دو تین دن شاید…. نور کو اپنا سانس رکتا ہوا محسوس ہوا،،، اور میں کہاں رہوں گی،شافع نے نظریں اٹھا کر اسکی طرف دیکھا کیا مطلب تم کہاں رہو گی یہ اتنا بڑا گھر کیوں ہے یہیں رہو گی،،، نور بوکھلاتے ہوئے بولی نہیں میرا مطلب ہے میں اکیلی کیسے رہوں گی؟ اسکی شکل دیکھ کر شافع نے اپنی ہنسی بہت مشکل سے ضبط کی، اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا نور اب تمھے عادت تو ڈالنی پڑے گی نہ میں بزنس ٹوئرز پر بھی جاتا رہتا ہوں جب بھی تو تمھے اکیلے رہنا پڑے گا،،، اور ویسے بھی تم کیا میرے ساتھ جاؤ گی حویلی…؟ نور نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولی نہیں میں کیوں جاؤں گی،، جب شافع نے ہی اسے چلنے کو نہیں بولا تو وہ خود کیسے بول سکتی تھی کہ میں بھی تمھارے ساتھ جاؤں گی،،،

شافع مسکرایا دو تین دن کی تو بات ہے پھر میں نے آہی جانا ہے،،، نور نے ہونٹ بھینچے، اور اثبات میں سر ہلایا،کب جانا ہے تمھے؟ شافع نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھا کل صبح نکلوں گا نور نے اثبات میں سر ہلایا نور اٹھنے لگی تو شافع بولا کھانا تو کھاؤ،،

نور اٹھتے ہوئے بولی نہیں میں نے کھا لیا بس، میں تمھارا بیگ پیک کر دیتی ہوں… شافع نے کندھے اچکائے ٹھیک ہے، نور چلی گئی تو شافع ہنسا،،،

نور نے کمرے میں آکر دروازہ بند کیا اور ایک بیگ نکال کر شافع کے کپڑے غصے سے اس میں ٹھوسے لگی،،، اسکے آنسوں ٹپ ٹپ بہہ رہے تھے اسنے غصے سے اپنے آنسوں صاف کئے اور بیگ میں کپڑے ڈالتے ہوئے خود سے ہی بولی “ویسے تو اتنا پیار جتاتا ہے اور اب مجھے چھوڑ کے جارہا ہے, کیا بول رہا تھا تمھے عادت تو ڈالنی پڑے گی نور صرف تین دن کی تو بات ہے اور اگر ان تین دن میں میرا اس اکیلے گھر میں دم نکل گیا تو؟” اسکے آنسوں ٹپ ٹپ بہنے لگے،،، “سارا پیار جھوٹا ہے میری اتنی ہی فکر ہوتی تو کیا مجھے یوں اکیلا چھوڑ کے جاتا،،،

شافع دروازہ کھول کر اندر آیا نور نے فوراً اپنے آنسوں صاف کئے،،، شافع اپنے لیپ ٹاپ کی طرف بڑھا نور نے اسکی طرف دیکھا اور مسنوعی مسکراہٹ کے ساتھ بولا کردیا تمھارا بیگ پیک شافع نے بھی مسکرا کر جواب دیا تھینکیو… اور اپنا لیپ ٹاپ اٹھا کر کمرے سے باہر آگیا،،،،

نور نے اسے پیچھے سے گھورا،،، اسے سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ شافع اسے اکیلا چھوڑ کر کیسے جا سکتا ہے کیا اسے اسکا ذرا سا بھی خیال نہیں ہے شکوے تھے کے بڑھتے ہی جا رہے تھے،،

نور لاؤنج میں آگئی شافع لیپ ٹاپ کھولے اپنے کام میں مصروف تھا نور اسکے برابر میں آکر خاموشی سے بیٹھ گئی شافع نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا،،، نور کچھ دیر خاموش رہی پھر بولی تم کب تک وآپس آؤ گے؟ شافع کام کرتا ہوا ہی بولا بتایا تو تھا دو تین دن میں…. نور خاموش ہوگئی پھر کچھ دیر بعد بولی اور میں ان دو تین دن تک کیا کروں گی؟ شافع مسکراتا ہوا بولا جو دل چاہے کرنا میں میراب کو بول دوں گا وہ دن میں کچھ دیر کے لئے تمھارے پاس آجائے گی ماما بھی آجائیں گیں تمھارا ٹائم گزر جائے گا،،، نور افسردہ لہجے میں بولی وہ لوگ تو کچھ دیر کے لئے آئیں گے نہ پھر بعد میں کیا کروں گی؟ شافع ہنستے ہوئے بولا اب کیا ٹائم ٹو ٹائم کی روٹین بتاؤں یار جو دل چاہے کرنا،،، وہ لیپ ٹاپ پر کام میں مصروف تھا، نور نے اسکا بازو دونوں ہاتھوں سے پکڑ ا اور سر ٹکا دیا،،، شافع نے مسکراتے ہوئے اسکی طرف دیکھا نور کچھ دیر تک ایسی ہی بیٹھی رہی نور اسکے اتنے قریب ہو اور شافع کا کسی اور چیز میں دل لگ جائے ناممکن سی بات تھی،،، شافع پیچھے سر ٹکاتا ہوا بولا نور تم اسطرح میرے اتنے قریب بیٹھو گی تو میں کام کیسے کروں گا؟ نور روہانسی آواز میں بولی میں تمھارے بغیر کیسے رہوں گی تین دن؟؟؟ شافع نے مسکراہٹ دبائی کیوں نہیں رہ سکو گی تمھے مجھ سے محبت ہوگئی ہے کیا؟ نور روہانسی آواز میں ہی بولی مجھے تمھاری عادت ہوگئی ہے شافع مسکرایا،،، عادت کو محبت میں بدلنے میں دیر نہیں لگتی….

نور نے اسکی بات کے جواب میں کچھ نہیں کہا،،، پھر ٹھہر کر بولی تم نہیں جاؤ… شافع اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بولا میں خود بھی نہیں جانا چاہتا لیکن زایان کی وجہ سے جانا پڑے گا،،، نور نے اسکے بازو پر سے سر اٹھایا، اور اسکی طرف دیکھتے ہوئے بولی تو پھر مجھے بھی اپنے ساتھ لے کر چلو میں اکیلی نہیں رہوں گی،،، اسکا سرخ چہرہ دیکھ کر شافع ہنسا اور پھر ہنستا ہی چلا گیا، نور نے الجھن سے اسے دیکھا، کیا ہوا؟

شافع نے ہنستے ہوئے اسکا چہرہ تھاما تمھے لگتا ہے نور میں تمھے اکیلے چھوڑ کر کہیں جاؤں گا؟ نور نے ناسمجھی سے پوچھا کیا مطلب؟ شافع اسکی آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولا تمھے لئے بغیر میں کہیں نہیں جا سکتا بس میں چاہتا تھا کہ تم خود میرے ساتھ چلنے کا کہو، نور نے اسے خونخوار نظروں سے دیکھ کر پوچھا مطلب اتنی دیر سے تم مجھے تنگ کر رہے تھے؟ شافع نے ہونٹ بھینچ کر ہنسی روکی اور اثبات میں سر ہلایا، نور نے دانت بھینچے اور اپنے پیچھے پڑا کشن شافع کو مارا،،،

شافع نے کشن کیچ کر لیا اور ہنستے ہوئے بولا لڑکی تو تشدد پر اتر آئی ہے لیکن آیک بات بتا دوں ہاتھا پائی والی لڑکیاں مجھے بالکل نہیں پسند،،، نور چینختے ہوئے بولی تم مجھے کتنی دیر سے تنگ کر رہے تھے سوچ سوچ کے میری جان جا رہی تھی کہ اس گھر میں اکیلی تین دن کیسے رہوں گی… شافع شوخ انداز میں بولا اکیلی کیسے رہو گی یا میرے بغیر کیسے رہو گی… نور نے دانت پیسے شافع ہنستے ہوئے بولا ایسے دیکھ رہی ہو کھاؤ گی کیا؟ نور غصے میں وہاں سے اٹھ کر کمرے میں جانے لگی تو شافع اسے آواز لگا کر بولا اچھا سنو کافی تو بنادو، نور مڑ کر سپاٹ چہرے سے بولی خود بنا لو… شافع اسے تنگ کرنے کے لئے بولا ٹھیک ہے پھر میں تمھے چھوڑ کر چلا جاؤں گا پھر رہ لینا اکیلی، نور مڑے بغیر بولی چلے جاؤ میں بہت سکون سے رہوں گی،،، نور نے ایک دھاڑ سے کمرے کا دروازہ بند کر دیا،،، شافع نے صوفے پر سر ٹکا کر قہقہہ لگایا،