Izhar-e-Muhabat by Anooshe NovelR50417 Izhar-e-Muhabat Episode 18
Rate this Novel
Izhar-e-Muhabat Episode 18
Izhar-e-Muhabat by Anooshe
شافع آفس میں بیٹھا کوئی ای میل پڑھ رہا تھا جب گارڈ دروازہ کھٹکھٹا کر اندر داخل ہوا اسکے ہاتھ میں ایک بڑا سا فریم تھا جا کے اوپر کقر چڑھا ہوا تھا،،،،
سر آپکے لئے پارسل آیا ہے… شافع نے حیرت سے کھڑے ہوتے ہوئے سوچا،،،، پارسل میرے لئے وہ بھی اتنا بڑا….
ٹھیک ہے آپ ایسے یہاں صوفے پر رکھ دیں….
پارسل رکھ کے گارڈ چلا گیا تو شافع نے فریم کے اوپر سے کور ہٹایا اور کور ہٹانے کے بعد اسکی آنکھیں حیرت سے پھاٹیں اسکے منہ سے بے اختیار نکلا واؤ،،،،،،
وہ ایک پینٹنگ تھی جس میں شافع اور زایان دونوں ایک دوسرے کے گلے میں ہاتھ ڈالے کھڑے تھے شافع کے چہرے پر مسکراہٹ پھیلی…..
پینٹنگ کے ساتھ کوئی نوٹ نہیں تھا اسلئے شافع کور چیک کرنے لگا کے کوئی نوٹ ہو….
لیکن کوئی نوٹ نہیں تھا شافع نے پھر پینٹنگ کو دیکھا پینٹنگ کے نیچے کونے پر کسی کے سائن ہوئے وے تھے…
شافع نے نام پڑھا “میراب حیدر”،،،،
شافع مسکراتے ہوئے بولا اووووہ تو میراب نے بنائی ہے یہ پینٹنگ امیزنگ…..
شافع ٹیلی فون کی طرف گیا اور زایان کو فون کیا…
زایان کا کمرہ اوپر کی منزل پر تھا جبکہ شافع کا نیچے…..
زایان نے فون اٹھا کر بڑے مصروف سے انداز میں کہا Yes….
شافع مسکراتے ہوئے بولا نیچے آؤ….
زایان کرسی پر گھومتے ہوئے بولا کیوں کچھ کھانے کے لئے منگوایا ہے؟؟؟
شافع نے آنکھیں گھماتے ہوئے کہا….,,,,
ہاں زہر……! زایان نے شرارت سے کہا اوہ اچھا نور آئی ہے کیا….؟
شافع نے سر پر ہاتھ رکھا زایان یہ آئےنور کچھ زیادہ تمھارے سر پر سوار نہیں ہورہی….
زایان شرارت سے کرسی گھماتے ہوئے بولا ہاں ہاں میں اس بات سے بالکل انکار نہیں کر رہا….
شافع نے کوفت سے آنکھیں گھمائیں تمھارا ہوگیا ہو تو نیچے آجاؤ کچھ دکھانا ہے….
زایان مسلسل شرارت کے موڈ میں تھا….
نہیں یار رہنے دو میں ابھی کوئی فلم دیکھنے کے موڈ میں نہیں ہوں…
شافع کو غصہ آگیا تھا اسنے بغیر کچھ کہے کھٹ کر کے فون رکھ دیا…
شافع نے غصے میں فون رکھ دیا تو زایان نے فون کو دیکھ کر قہقہہ لگایا…..
بڑی جلدی غصہ آجاتا ہے اس ہٹلر کو….
پینٹنگ صوفے پر ہی رکھی تھی شافع کرسی پر بیٹھ کے پینٹنگ پر غور کرنے لگا….
پینٹنگ بہت مہارت سے بنائی گئی تھی ایک ایک باریکی کو نوٹ کیا گیا تھا،۔،۔،۔،
شافع کرسی پر بیٹھا پینٹنگ دیکھ رہا جب زایان دانت نکالتا ہوا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا….
اور بھائی کیوں مجھے اتنی بیتابی سے یاد کیا جارہا ہے مجال ہے جو تم ایک منٹ میرے بغیر رہ سکو ایسی ہی تھوڑی نہ لوگ شک کرتے ہیں….
شافع نے سپاٹ چہرے سے زایان کو دیکھا ،،،، ہوگیا؟؟؟
زایان ہنستے ہوئے کندھے اچکا کر بولا ہاں..
شافع نے ہاتھ کے اشارے سے زایان کی توجہ پینٹنگ کی طرف مبذول کرائی….
زایان نے مڑ کر پینٹنگ کی طرف دیکھا اور حیرت سے اسکا منہ کھل گیا حیرت کے ہی عالم میں وہ پینٹنگ کی طرف بڑھا woww it’s just amazing
پھر وآپس آکر شافع کے گلے لگ کر بولا ارے یار ابھی تو میری برتھ ڈے بہت دور ہے کیا ضرورت تھی اس گفٹ کی..
شافع نے اسے خود سے الگ کرتے ہوئے کہا کس نے کہا کہ یہ میں نے تمھارے لئے بنوائی ہے یہ پینٹنگ میرے لئے گفٹ آئی ہے….
زایان کا منہ اتر گیا پھر بولا اچھا تو کیا ہوا ہمارے بیچ کونسا میرا تیرا ہوتا ہے تمھارا گفٹ مطلب میرا گفٹ…
پھر پینٹنگ کو دیکھتے ہوئے آگے بڑھا ذرا دیکھوں تو کس پینٹر نے بنائی ہے…..
زایان نام پڑھنے لگا میراب حیدر زایان کی آنکھیں حیرت سے پھٹ گئیں یہ میراب نے بنائی ہے؟؟؟؟ شافع نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا نام اسکا ہے تو ظاہر سی بات ہے اسی نے بنائی ہے….
وہ دنوں بات ہی کر رہے تھے کہ شافع کا موبائل بجنے لگا اسنے موبائل دیکھا تو زایان کے گھر سے کال تھی مطلب میراب نے کال کی ہے….
شافع نے کال ریسیو کر کے اسپیکر پر کر دی….
ہیلو……. ہیلو شافع بھائی کیسے ہیں آپ؟؟
شافع نے مسکرا کر کہا میں ٹھیک ہوں تم کیسی ہو؟؟؟ زایان خاموش کھڑا باتیں سن رہا تھا…..
میراب چہنکتے ہوئے بولی میں بھی ٹھیک ہوں آپ کو پینٹنگ مل گئی کیسی لگی آپکو؟؟؟
شافع نے پینٹنگ دیکھتے ہوئے اسے تنگ کرنے کے لئے کہا ہاں مل گئی میراب سچ بتاؤ یہ تم نے بنائی ہے یہ کسی سے بنوائی ہے….
میراب خفا ہوتے ہوئے بولی اب آپ بھی ایسی باتیں کریں گیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
شافع ہنسا اچھا یہ گفٹ کسی خاص وجہ سے؟؟؟
جی جی خاص وجہ ہے نہ آپکا بزنس اسٹارٹ ہوا ہے تو میری طرف سے آپکے لئے گفٹ…..
آپ اسے اپنے آفس میں لگائے گا…..
زایان فوراً بھڑکتا ہوا بولا موٹی، چھپکلی آفس تو میں بھی آرہا ہوں بزنس تو میں نے بھی شروع کیا ہے مجھے تو تم نے کوئی گفٹ نہیں دیا….
میراب دانتوں تلے زبان دبا کر بولی اوہ تو بھکڑ لوگ بھی چپ رہ کر ساری باتیں سن رہیں ہیں…..
زایان خفا ہوتا ہوا بولا فون میں گھس کر تمھاری بتیسی نکال دوں گا میں یہ بتاؤ میرا گفٹ کہاں ہے؟؟؟
میراب انجان بنتے ہوئے بولی کونسا گفٹ کیسا گفٹ آپ کو بھی گفٹ کی ضرورت ہے کیا؟؟؟
میں نے پینٹنگ صرف شافع بھائی کے لئے بنائی ہے آپکے لئے کچھ نہیں ہے…
شافع ہنستا ہوا ان دونوں کی لڑائی سن رہا تھا …..
زایان دانت پیستا ہوا بولا موٹی تم سے تو میں گھر آکر حساب لیتا ہوں…..
وہ دونوں لڑے جارہے تھے شافع نے انھے چپ کر وایا
تم دونوں گھر جا کر لڑ لینا ابھی کام بھی کرنا ہے……
اور میراب it’s too beautiful thank you so much for this surprised
میراب مسکراتے ہوئے بولی آپکو پسند آیا نہ؟؟؟
زایان منہ بنائے کھڑا تھا،،،، شافع مسکرا کر بولا صرف پسند نہیں بلکہ بہت پسند آیا یہ سچ میں تعریف کے قابل ہے….
میراب نے خوشی سے چہنکتے ہوئے شکریہ ادا کیا چلیں اب میں فون رکھتی ہوں اللہ حافظ…..
شافع نے فون رکھ کر زایان کے گلے میں ہاتھ ڈالا جو منہ لٹکائے کھڑا تھا…..
ارے تم کیوں منہ لٹکائے کھڑے ہو اس نے پینٹنگ تو تمھاری بھی بنائی ہے نہ….
زایان خفا ہوتے ہوئے بولا بنائی ہے لیکن مجھے دی تو نہیں……
شافع اسے کسی بچے کی طرح مناتے ہوئے بولا تمھے لگتا ہے کہ میراب نے تمھارے لئے کوئی گفٹ نہیں رکھا ہو گا اسنے ضرور اس پینٹنگ کی دو کاپی بنوا لی ہونگی….
زایان کا موڈ پھر بھی ٹھیک نہیں ہوا تو شافع پینٹنگ دیوار پر لگاتے ہوئے بولا اپنا موڈ تو ٹھیک کر لو….
زایان کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولا میرا موڈ اب صرف آئسکریم سے ٹھیک ہوگا جو تم منگواؤ گے
شافع کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولا زایان کبھی اپنے پیسوں کا بھی کچھ کھلا دیتے ہیں…..
زایان نے ڈرامہ کرتے ہوئے گردن اوپر نیچے کی…… شافع نے انٹر کام پر دو آئسکریم لانے کا کہہ دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آئےنور ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھی سلاد بنا رہی تھی صدیقی صاحب آفس سے آئے اور لاؤنج میں بیٹھ گئے….
نور نے کچن سے پانی لے جاکر انھے تھمایا صدیقی صاحب نے پانی پینے کے بعد پوچھا تمھاری ماں کہاں ہے؟؟؟
نور ان سے گلاس لیتے ہوئے بولی کچن میں ہیں….
بلاؤ اسے،،،، جی اچھا بابا بلاتی ہوں یہ کہہ کر نور ارمینہ بیگم کو بلانے چلی گئی…
ارمینہ بیگم کچن سے باہر آئیں جی کہیں….
صدیقی صاحب ٹانگیں پھیلاتے ہوئے بولے میرے ایک دو سوٹ پیک کردو….
نور نے انکے پاس بیٹھتے ہوئے پوچھا بابا آپ کہیں جا رہے ہیں؟؟؟
صدیقی صاحب گردن ہلاتے ہوئے بولے ہاں آفس کے کچھ کام سے تین دن کے لئے شہر سے باہر جا رہا ہوں
وہ اکثر اوقات آفس کے کام کی وجہ سے شہر سے باہر جایا کرتے تھے…..
آٹھ بجے مجھے آفس کی گاڑی لینے آئے گی ارمینہ تم میرا بیگ پیک کر دو….
ارمینہ بیگم انکا سامان تیار کرنے کمرے میں چلی گئی….
آئےنور نے سلاد تیار کر کے کھانا لگانا شروع کیا صدیقی صاحب فریش ہو کر کھانا کھانے بیٹھے کھانا کھاتے ہوئے وہ ادھر ادھر کہ تھوڑی بہت باتیں کرتے رہے….
کھانا کھانے کے بعد صدیقی صاحب کپڑے بدلنے چلے گئے کیونکہ انھے اب نکلنا تھا….
کچھ دیر بعد وہ لاؤنج میں آئے تو انکا بیگ تیار رکھا تھا…..
نور ان سے پوچھنے لگی بابا آپ کب تک وآپس آئیں گے….
صدیقی صاحب کالر ٹھیک کرتے ہوئے بولے آجاؤں گا دو تین دن میں تم لوگ اپنا خیال رکھنا…
نور انکے قریب آتے ہوئے بولی آپ بھی اپنا خیال رکھئے گا بابا اور جلدی آجائیے گا…
صدیقی صاحب نے اسکا سر تھتھپاتے ہوئے کہا ہمم کوئی بھی مسئلہ ہو مجھے فون کر دینا اور اپنی ماں کا اور اپنا خیال رکھنا….
صدیقی صاحب کا فون بجا گاڑی انھے لینے کے لئے آگئی تھی….
انھوں نے اپنا بیگ اٹھایا،،،، اللہ حافظ بابا پہنچ کر فون کر دئیے گا….
صدیقی صاحب نے اثبات میں گردن ہلائی اور باہر نکل گئے….
نور بے سدھ سی آکر صوفے پر لیٹ گئی….
ارمینہ بیگم بھی اسکے پاس ہی بیٹھی تھیں…. آئےنور چھت کو گھورتے ہوئے بولی ماما بابا چلے جاتے ہیں گھر کتنا خالی خالی لگتا ہے نہ۔۔
ارمینہ بیگم ہنستے ہوئے بولیں تم تو ایسے بول رہی ہو جیسے وہ جب گھر میں ہوتے ہیں تو ہر وقت تمھارے ساتھ لگے رہتے ہیں….
آئےنور کندھے اچکا کر بولی جو بھی ہے لیکن جب بابا نہیں ہوتے تو گھر خالی ہی لگتا ہے… ارمینہ بیگم کچھ نہیں بولیں….
آئےنور کے موبائل پر میسج آیا اسنے چیک کیا تو منہا کا میسج تھا وہ اس سے کل کے ڈنر کے بارے میں پوچھ رہی تھی
آئےنور نے جواب دیئے بغیر موبائل رکھ دیا ارمینہ بیگم کوئی کتاب پڑھ رہیں تھیں نور اٹھ کر بیٹھی پھر گلا کھنکار کر بولی……
ماما وہ کل یونیورسٹی میں بزنس ڈپارٹمنٹ والوں نے ڈنر رکھا ہے…
ارمینہ بیگم نے مصروف سے انداز میں کہا….. اچھا،،،،
نور نے ہونٹوں پر زبان پھیری انھوں نے ہمیں بھی انوائیٹ کیا ہے…
ارمینہ بیگم نے کتاب نیچی کر کے اسے دیکھا ڈنر انکے ڈپارٹمنٹ کا ہے تم لوگوں کو کیوں انوائیٹ کیا ہے؟؟؟
جی ماما ڈنر تو انکا ہے لیکن انھوں نے دوسرے ڈپارٹمنٹ والوں کو بھی انوائیٹ کیا ہے اسلئے زایان نے مجھے اور منہا کو بھی انوائیٹ کیا ہے….
ارمینہ بیگم سوچتے ہوئے بولیں تو تم جانا چاہتی ہو؟؟؟
آئےنور نے ہونٹ دانتوں تلے دبا کر گردن اثبات میں ہلا دی…
لیکن تمھارے بابا تو ہے نہیں جاؤ گی کس کے ساتھ؟؟؟
آئےنور سوچ میں پڑ گئی وہ منہا کے ساتھ جانا نہیں چاہتی تھی لیکن مجبوری تھی تو اسنے منہا کہ ساتھ جانے کا فیصلہ کیا….
منہا بھی جارہی ہے ماما منہا کے ساتھ چلی جاؤں گی….
آئےنور ارمینہ بیگم کے تاثرات دیکھنے لگی….
ارمینہ بیگم کتاب اٹھاتے ہوئے بولیں ٹھیک ہے اگر وہ تمھے گھر سے پک کر لیتی ہے تو چلی جانا….
آئےنور خوشی سے چینخھی…ohhh thank you mama
اور جا کر انکے گلے سے لپٹ گئی….
ارمینہ بیگم اسکے بال سہلاتے ہوئے بولیں اوہو ایک تو تم چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی ایسے خوش ہو کر لپٹتی ہو جیسے پتا نہیں کیا ہو گیا….
آئےنور ان سے الگ ہو کر ہنستے ہوئے بولی اور پھر چھوٹی چھوٹی باتوں پر دھاڑیں بھی تو ایسی مارتی ہوں۔۔۔۔
دونوں ہنس دیئے…
“لڑکیاں ایسی ہی تو ہوتی ہیں چھوٹی چھوٹی باتوں پر خوش ہوجانا اور بڑے بڑے غم چپ کر کے سہہ جانا”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زایان دوپہر سے ہی یونیورسٹی میں اپنی کلاس کے لڑکوں کے ساتھ ڈنر کی تیاری کر رہا تھا….
سب کام انہوں نے آپس میں بانٹ لئے تھے زایان نے سجاوٹ کا کام اپنے ذمے لے لیا تھا….
اور ڈیکوریشن کرنے کے لئے آئے لڑکے اسکے سامنے بیٹھے اسے تک رہے تھے….
زایان بھائی ہمیں یہاں بیٹھے دو گھنٹے ہونے والے ہیں آپ کب بتائیں گے کہ کس طرح سجاوٹ کرنی ہے…؟
زایان پر سوچ انداز میں گال پر انگلیاں چلاتے ہوئے بولا یار ذرا خاموشی رکھو مجھے سوچنے تو دو کے کس طرح کی سجاوٹ ہونی چاہیے…..
سامنے بیٹھے لڑکوں میں سے ایک لڑکا بولا پھر آپ دو گھنٹے سے کر کیا رہے ہیں اگر اب تک نہیں سوچا تو آپ ایسا کریں ہمیں ہمارے حساب سے سجاوٹ کرنے دیں….
زایان نے ایک بھنویں اٹھا کر اس لڑکے کو گھورا ڈنر ہم نے رکھا ہے تو ہمارے حساب سے سجاوٹ ہوگی نہ تم کس خوشی میں اپنی مرضی سے کرو گے؟؟
پھر زایان سوچتے ہوئے بولا ایسا کرتے ہیں ریڈ کلر کا ڈیکوریشن کرتے ہیں….
پھر خود ہی بولا نہیں نہیں ایسا لگے گا ڈنر پر نہیں کسی کی بارات میں آئے ہیں….
پھر اچانک چٹکی بجاتے ہوئے بولا چلو اٹھو سوچ لیا میں نے ہم وائٹ اور سکائے بلو کلر کا ڈیکوریشن کریں گیں….
اور باقی کیا کرنا ہے وہ میں بتاتا ہوں چلو…..
دو گھنٹے تک اسنے سب کی خواری کر وائی تھی اور اب وہ سب سے گھوڑے کی رفتار سے کام کروا رہا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شافع حسب معمول آفس میں بیٹھا فائلوں سے سر کھپا رہا تھا
زایان نے کہا تھا کہ وہ آفس کا کام سنبھال لے گا لیکن وہ ہمیشہ کی طرح غائب تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
شافع ایک فائل دیکھ کر لیپ ٹاپ پر کچھ ٹائپ کرنے لگا اچانک اسکا فون بجا وہ کام میں اتنا مصروف تھا کہ دیکھے بغیر ہی کال ریسیو کر کے کان سے لگا لی….
ہیلو…. دوسری طرف سے لڑکی کی آواز آئی شافع میں ارحام بات کر رہی ہوں،،،
شافع کا تیزی سے ٹائپنگ کرتا ہوا ہاتھ رک گیا،،،،،
شافع نے موبائل ٹھیک سے پکڑا پھر گلا کھنکار کر بولا…..
ارحام،،،،، پھر ٹھہر کر بولا بولو کیوں فون کیا ہے کوئی کام تھا؟؟
ارحام کچھ دیر خاموش رہی آپ یہ منگنی توڑ دیں پلیز اسطرح رشتے زبردستی نہیں جوڑے جاتے…..
شافع کچھ دیر خاموش رہا ہماری منگنی ہوئی ہی کب ہے؟ اسطرح زبردستی انگھوٹی پہنا دینے کو تم منگنی کہتی ہو….
آپ نہیں مانتے لیکن بی اماں تو مانتی ہیں نہ….
شافع کرسی پر سے گھومتا ہوا بولا تم خود جاکر بی اماں کو منا کیوں نہیں کر دیتیں؟؟
ارحام نے ضبط سے سانس کھینچا آپ کو لگتا ہے کہ جہاں آپ کی نہیں سنی گئی وہاں میری سنی جائے گی…
شافع کچھ نہیں بولا….
بی اماں کو میں نے بہت مشکل سے آپکو چھے مہینے کے وقت دینے کے لئے راضی کیا تھا…..
وہ مان تو گئی ہیں لیکن چین سے نہیں بیٹھی ہیں انھوں نے تو شادی کی تیاریاں ابھی سے شروع کر دی ہیں…..
شافع نے منہ پر ہاتھ پھیرا وہ جو کرنا چاہتی ہیں انھے کرنے دو…..
ارحام نے فوراً پوچھا کیا مطلب؟؟؟
شافع نے گردن نفی میں ہلاتے ہوئے کہا مطلب کچھ نہیں جو جیسا چل رہا ہے فلحال ویسا چلنے دو آگے جو ہو گا وہ میں سنبھال لوں گا…..
ارحام خاموش رہی شافع نے فون کاٹ دیا…..
ٹیبل پر دونوں کہنیاں ٹکا کر اسنے ہاتھوں میں سر دے دیا……
پھر اٹھ کر اسنے اپنے مینیجر کو فون کیا….
دوسرا طرف سے فون اٹھا لیا گیا تو شافع بولا شمس گروپ آف انڈسٹری سے میری کل کی میٹنگ ارینج کر وائیے، دوسری طرف سے مینیجر بولا لیکن سر ان سے آپکی میٹنگ تو ایک ہفتے بعد کی تھی، شافع گردن ہلاتے ہوئے بولا جی لیکن آپ ان سے کہیں کے میں کل میٹنگ کرنا چاہتا ہوں پھر انکا جو جواب ہو مجھے بتا دیئے گا،،،
اور دوسرے انویسٹرز کی کمپنی کی ساری ڈیٹیل مجھے میل کر دیں جتنی بھی میٹنگ پینڈنگ پر ہیں سب کل پرسوں کے ٹائم ٹیبل میں ارینج کریں…..
مینیجر ہڑبڑا گیا تھا سر ساری میٹنگ کل پرسوں کے لئے ارینج کر دوں لیکن سر سارے پروجیکٹ الگ الگ ہیں تو ایک ساتھ اتنے….۔
شافع نے مینیجر کی بات کاٹ دی آپ وہ سب چھوڑ دیں میں دیکھ لوں گا آپ بس میٹنگ ارینج کر وادیں…..
بات ختم کر کے شافع نے فون رکھ دیا اور پیچھے کرسی سے سر ٹکا لیا…..
وہ ٹینشن میں آکر خود پر کچھ زیادہ ہی کام کا لوڈ ڈال رہا تھا وہ بس اب جلد سے جلد اپنے نئے پروجیکٹس کے پروفیٹ سے الگ گھر لینا چاہتا تھا
کیونکہ فلحال اسے ہر چیز سے نجات کا یہی راستہ نظر آرہا تھا
لیکن اسے یہ نہیں پتا تھا کہ کچھ وقت کے بعد زندگی اسکے لئے ایسا نیا موڑ لانے والی ہے جس کا اسنے تصور بھی نہیں کیا ہوگا…..
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آئےنور شیشے کے سامنے کھڑی اپنا جائزہ لینے لگی….
اسنے سادھے سفید سوٹ پر بڑا سا ملٹی رنگ کا دوپٹہ لیا ہوا تھا دوپٹے کے چاروں کونوں پر نگ کی موٹی سی لڑی لگی ہوئی تھی
اور ایسی ہی باریک سی نگوں کی لڑی قمیض کے دامن پر بھی تھی اور باقی قمیض سادھی تھی….
ملٹی رنگ کے دوپٹے نے اس سادھے سوٹ میں چار چاند لگا دیئے تھے….
نور نے ہونٹوں پر ہلکی سی پنک کلر کی لپسٹک پھیری پلکھوں پر مسکارا لگایا، اور گالوں پر بلشن جس کی وجہ سے اسکے گال اور بھی گلابی لگ رہے تھے…..
آئےنور نے اپنی کمر پر پھیلے سیاہ بالوں کو اٹھا کر جوڑے کی شکل دے دی….
اتنے میں منہا آگئی منہا سیدھی اسکے کمرے میں آئی اور اسے دیکھ کر حیرت سے بولی نور تم اب تک تیار نہیں ہوئیں؟؟؟
آئےنور نے پھر سے شیشے میں خود کو دیکھا پھر منہا کی طرف دیکھ کر اداسی سے بولی کیا یہ کپڑے صحیح نہیں لگ رہے…
منہا اسکے پاس آکر بولی میں کپڑوں کی بات نہیں کر رہی تم نے نہ اب تک بال بنائے ہیں نہ میک اپ کیا ہے….
آئےنور اپنا اسکارف اٹھاتے ہوئے بولی نہیں بال بنانے کی ضرورت نہیں اسکارف لوں گی اور میک اپ میں نے کر لیا ہے….
منہا نے اسکے ہاتھ سے اسکارف کھینچا پھر نور کا چہرہ تھوڑی سے پکڑ کر جائزہ لیتے ہوئے بولی میک اپ کیا ہے….. کہاں کیا ہے؟؟؟
آئےنور اسکے ہاتھ سے اسکارف وآپس لے کر بولی بس جتنا بھی کیا ہے کافی ہے ڈنر پر جانا ہے نکاح پر نہیں….
منہا نے اسے کھینچ کر بیڈ پر بٹھایا اور ڈریسنگ پر رکھا میک اپ چھاننے لگی….
لائنر کہاں رکھا ہے تمھارا؟؟؟
نور اٹھتے ہوئے بولی نہیں میں لائنر نہیں لگاؤں گی میرے بہت آنسوں نکلتے ہیں۔۔۔۔۔۔
منہا کو لائنر مل گیا تھا وہ وآپس پلٹی اور آئےنور کا ہاتھ پکڑ کر بیڈ پر بیٹھایا….
آئےنور اسے منا کرتی رہی منہا مجھے نہیں لگانا خراب ہو جائے گا…..
منہا نے اسکی ایک نا سنی اور لائنر لگانے کھڑی ہو گئی اب اپنا منہ اور آنکھ دونوں بند رکھنا خبر دار جو ہلیں….
منہا لائنر لگا کر سیدھی ہوئی آئےنور نے آنکھیں کھولیں اسکی آنکھوں کا ہیزل رنگ کچھ زیادہ ہی واضح ہونے لگا…..
نور کی آنکھ سے ایک آنسوں نکل کر گال پر بہا….
آئےنور خفا ہوتے ہوئے بولی دیکھا میں اسی لئے منا کر رہی تھی اب تھوڑی تھوڑی دیر بعد یہی ہوگا نور نےٹشو نکال کر آہستہ سے تھپتھپا کر آنسو صاف کیا….
اوہ ہو کچھ نہیں ہوتا ٹھیک ہو جائے گا ابھی آنکھیں دیکھو اب کتنی پیاری لگ رہی ہیں ایک نہ ایک تو آج مر ہی جائے گا….
آئےنور نے اسے گھورا… پھر غصے سے بولی زیادہ فالتو کی باتیں مت کیا کرو میرے ساتھ منہا اپنے شوق اپنی حد تک ہی رکھو…..
اسنے سیدھا سیدھا منہا کو ذلیل کیا تھا منہا اچانک سیریس ہو گئی اچھا ٹھیک ہے تمھارا لیکچر ختم ہو گیا ہو تو چلیں؟؟؟
آئےنور نے اپنے اسکارف اٹھا کر لپیٹا….
دوپٹہ اسکا اتنا بڑا تھا کہ اسنے دوپٹے کو ہی چادر کی طرح لپیٹ لیا…..
بیڈ پر رکھا اپنا چھوٹا سا پرس اٹھایا اور منہا کو لے کر کمرے سے باہر نکل گئی…..
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زایان ساری سجاوٹ کروا کر گھر چلا گیا تھا اسنے تقریباً ساری سجاوٹ وائٹ اور سکائے بلو کلر سے کر وائی تھی ہر ٹیبل اور کرسی کا کلر وائٹ تھا اور لائٹنگ اسنے بلو رنگ کی لگوائی تھیں،،،
ہر ٹیبل پر ایک واس رکھا تھا جس میں رنگ برنگی پھول تھے….
سائڈ پر چھوٹا سا اسٹیج بھی بنایا گیا تھا اسنے پتا نہیں کہاں کہاں سے تصویروں کا ایک ڈھیر جما کر کے اسٹیج کے دائیں اور بائیں طرف کی دیوار بھری تھی….
زایان تیار ہو کر وآپس یونی آگیا تھا، اسنے ڈارک بلو جینز پر وائٹ شرٹ پہن رکھی تھی جس کے اوپر اسنے مہرون واسکٹ پہنی ہوئی تھا جس کے بٹن آگے سے کھلے تھے….
ایک ہی ہاتھ میں دو تین بینڈ اور گھڑی وہ ایک ہی ہاتھ میں سب کچھ پہنتا تھا اور دوسرا ہاتھ خالی رکھتا تھا…..
بالوں کو جیل لگا کر کھڑا کیا ہوا تھا جنہے وہ وقتاً فوقتاً ہاتھ پھیر پھیر کر سیٹ کرتا رہتا…..
اسکا قد ویسے ہی پانچ فٹ دس انچ تھا لیکن اسنے شوز اتنے موٹے پہنے ہوئے تھے کہ اب وہ اور لمبا لگ رہا تھا….
زایان نے آگے پیچھے نظریں دوڑائیں تو کچھ لڑکیاں اسے دیکھ کر مسکرا کر ایک دوسرے سے کچھ کہہ رہیں تھیں،،،،
زایان نے بالوں میں ہاتھ پھیر کر شرارت سے خود سے ہی کہا “آج تو لگ رہا ہے نظر لگا کر ہی چھوڑیں گیں”
وہ چلتا ہوا اپنی کلاس کے لڑکوں کے پاس آگیا اور شافع کا پوچھنے لگا جب سب نے اسے بتایا کہ شافع ابھی تک نہیں آیا تو اسے حیرانی ہوئی اسنے فون نکال کر شافع کو فون کیا…..لیکن شافع نے فون نہیں اٹھایا پھر اسنے آفس کے نمبر پر فون کیا شافع نے تب بھی فون نہیں اٹھایا تو اسے فکر ہونے لگی….
اسنے مینیجر کے نمبر پر کال کی….
کال ریسیو کر لی گئی…. شافع آفس میں ہے؟؟؟ مینیجر بولا سر مجھے تو نہیں پتا آفس ٹائمنگ تو ختم ہوگئی ہیں اور میں تو گھر پر ہوں لیکن جب آفس ٹائمنگ ختم ہوئے اور سب جانے لگے تب شافع سر آفس میں ہی تھے….
اچھا ٹھیک ہے کہہ کر اسنے کال کاٹ دی پھر آفس کے سیکیورٹی گارٹ کے انٹرکام پر فون لگایا….
دو بیل کے بعد فون اٹھالیا گیا…
شافع صاحب آفس میں ہیں؟؟؟
گارڈ نے اسے بتایا جی سب تو چلے گئے ہیں لیکن وہ آفس میں ہی ہیں….
ٹھیک ہے تم انکو جا کر بولو زایان کی کال اٹھائیں ضروری کام ہے…..
زایان نے کال کاٹ دی….
اور پھر تھوڑی دیر بعد شافع کے نمبر پر کال لگائی…
اس بار شافع نے کال اٹھا لی تھی…..
زایان جب میں کال نہیں اٹھا رہا تو اسکا مطلب یہی ہے نہ کہ میں بزی ہوں پھر کیوں بار بار کال کر کے پریشان کر رہے ہو.؟؟؟
شافع شاید کچھ زیادہ ہی مصروف تھا اسلئے غصہ کر رہا تھا….
زایان اسکے غصے کا اثر لئے بغیر بولا کیا مطلب بزی ہو تم شاید بھول گئے ہو تمھے ڈنر پر آنا ہے میں کب سے تمھارا انتظار کر رہا ہوں….
شافع نے سپاٹ لہجے میں کہا میں نہیں آرہا میرا انتظار مت کرنا…..
زایان کا جواب سنے بغیر ہی اسنے کال کاٹ دی زایان دوبارہ فون کرتا رہا لیکن اسنے موبائل سائلنٹ پر لگا دیا پھر کرسی سے سر ٹکا کر بیٹھ گیا،،،،
کچھ دیر وہ آنکھیں بند کر کے ان پر انگلی پھیرتا رہا پھر اٹھ کر واش روم چل گیا…..
باہر نکلا تو اسکا چہرا پانی سے گیلا تھا تین چار ٹشو نکال کر اسنے چہرہ تھپتھپایا،، پھر لیپ ٹاپ بند کر کے کرسی پر سے کوٹ اٹھایا گاڑی کی چابیاں موبائل گلاسیز اور موبائل ٹیبل پر سے اٹھایا اور باہر نکل گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آئےنور ارمینہ بیگم کو خدا حافظ کہہ کر باہر جانے لگی تو ارمینہ بیگم نے پیچھے سے نصیحتوں کا پہاڑ سنا دیا…..
جلدی آجانا، کسی سے فالتو بات مت کرنا، اور خدا کے واسطے دھیان سے سامنے دیکھ کر چلنا کہیں وآپس گرتی پڑتی آؤ…..
آئےنور انکی باتوں پر منہ بنا کر باہر نکل گئی منہا اپنی گاڑی لے کر آئی تھی ورنہ انھے وآپسی کی فکر لگی رہتی…..۔
منہا ڈرائیو کر رہی تھی جب آئےنور کو اچانک یاد آیا تو منہا سے پوچھا…
تم نے کوئی گفٹ لیا ہے کیا؟؟؟ اس بھکڑ نے گفٹ کا بولا تھا،،، منہا نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولی نہیں مجھے تو یاد ہی نہیں تھا تم نے لیا ہے کیا…؟؟؟
منہا نے بھی نفی میں گردن ہلائی نہیں مجھے تو سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ لڑکوں کے لئے کیا گفٹ ہوتا ہے اور اگر لڑکا زایان جیسا ہو تو کھانے کے علاوہ کوئی گفٹ سوجتا ہی نہیں ہے…..
منہا کندھے اچکا کر بولی پھر کیا کریں رہنے دیں….؟
آئےنور سوچتے ہوئے بولی ایسے جائیں گے تو اچھا لگے گا کیا؟؟؟
منہا آنکھیں گھماتے ہوئے بولی اوہو نور وہاں کوئی کسی کے لئے گفٹ نہیں لائے گا وہ تو زایان ہے ہی ندیدہ اسلئے اسنے ہم سے گفٹ کا کہا……
آئےنور سوچتے ہوئے بولی تم ایسا کرو راستے میں کوئی گفٹ شاپ آئے تو گاڑی روک لینا ایسا کرتی ہوں چاکلیٹ لے لیتی ہوں کیونکہ کہیں ایسا نہ ہو گفٹ نہ لیجانے پر وہ بھکڑ سب کے سامنے میرا تماشہ بنا دے ویسے بھی ایسے موقعے وہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتا….
منہا نے کندھے اچکا دیئے کچھ آگے جاکر منہا نے ایک شاپ کے آگے گاڑی روک دی….
آئےنور گاڑی سے اتری منہا گاڑی میں ہی موبائل نکال کر بیٹھ گئی آئےنور نے اس سے پوچھا تم میرے ساتھ اندر نہیں چل رہیں…؟؟؟
منہا نے منا کر دیا نہیں میں نہیں آرہی تم جلدی سے آجاؤ…….
آئےنور اندر چلی گئی، آئےنور چاکلیٹس دیکھنے لگی اسنے ایک چاکلیٹ کا ڈبہ نکلوایا….
پیمنٹ کرنے کا کاؤنٹر آگے تھا آئے نور پرس کھول کر پیسے نکالتے ہوئے چلنے لگی اچانک اسکا سر کسی کے سینے سے ٹکرایا تھا آئےنور گھبرا کر جلدی سے پیچھے ہوئی….
شافع نے فوراً اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے پیچھے ہونے سے روکا ورنہ وہ پیچھے سے آتے ہوئے لڑکے سے ٹکرا جاتی…..
شافع اسکا ہاتھ پکڑ کر چھوڑنا بھول گیا تھا….
وہ سیدھا اسکی آنکھوں میں ڈوب رہا تھا….
نور نے اچانک اسکے ہاتھ میں سے اپنا ہاتھ کھینچا شافع اچانک جیسے ہوش میں آیا تھا،،،
اس سے پہلے کے نور بھڑکتی وہ پیچھے ہوتے ہوئے فر فر بولا میں نے جان پوچھ کر آپکا ہاتھ نہیں پکڑا اگر آپ پیچھے ہوتیں تو پیچھے سے آتے ہوئے لڑکے سے ٹکرا جاتیں تو اسلئے میں نے آپکا ہاتھ پکڑ کر آپ کو روک دیا……
آئےنور نے پیچھے مڑ کر دیکھا ایک لڑکا اسکے بالکل برابر میں سے گزرا شافع سچ کہہ رہا تھا اگر وہ اسے نہ روکتا تو وہ اس لڑکے سے ٹکرا جاتی…..
آئےنور ٹھہر کر بولی ٹھیک ہے کوئی بات نہیں….
شافع اسے بغور دیکھ رہا تھا آئےنور نیچے دیکھتے ہوئے شافع کے برابر میں سے جانے لگی
اسے دیکھ کر شافع کو اتنا تو اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ ڈنر کے لئے ہی جا رہی ہے شافع نے اسے روک کر پوچھا آپ اکیلی آئی ہیں؟؟؟؟
آئےنور نے رک کر سپاٹ چہرے سے جواب دیا نہیں منہا کہ ساتھ شافع بھنویں اٹھاتا ہوا بولا مطلب آپ اور منہا اکیلی؟؟؟؟
آئےنور نے کوفت سے آنکھیں گھمائیں نہیں دو گارڈ بھی آئے ہیں…..
ملنا ہے آپ نے؟؟؟
شافع نے بھی سپاٹ انداز میں کہا آپ کبھی سیدھی طرح جواب نہیں دے سکتیں؟؟
آئےنور ایک ہاتھ کمر پر رکھ کر بولی اپنے سوال ہی تیڑھا کیا ہے دو بندے کبھی اکیلے ہوتے ہیں؟
شافع نے ضبط سے سانس کھینچا اب وہ شافع کو غصہ دلا رہی تھی شافع انگلی اٹھاتے ہوئے بولا دیکھیں میں صرف اسلئے پوچھ رہا تھا کیونکہ شہر کے حالات ایسے نہیں ہیں کہ لڑکیاں رات میں اکیلی گھومیں پھر چاہے وہ اکیلی لڑکی ہو یہ پھر دس….
شافع نے اپنی غصے سے بھری آنکھیں آئےنور کی آنکھوں میں گڑاتے ہوئے کہا تھا…..
آئےنور اسکے غصے کو نظر انداز کرتے ہوئے بولی آپ ہماری فکر نہ کریں پھر اسکی انگلی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی اور یہ انگلی نیچے رکھ کر بات کیا کریں ….
آئےنور پیمنٹ کرنے کے لئے آگے بڑھ گئی…..
شافع وہیں کھڑا رہا نور پیمنٹ کر کے وآپس مڑی تو اسے نظر انداز کر کے باہر چلی گئی…..
شافع بھی اسکے پیچھے ہی اپنی گاڑی میں آکر بیٹھا…..
منہا نے گاڑی آگے بڑھائی تو شافع نے بھی گاڑی انکے پیچھے پیچھے ہی لے لی…..
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زایان فاحد کے ساتھ کھڑا باتیں کر رہا تھا….
جب اسے تاشفہ آتی ہوئی نظر آئی زایان نے اسے کوفت سے دیکھتے ہوئے فاحد سے پوچھا اس چوڑیل کو کس نے انوائیٹ کیا ہے؟؟؟
فاحد کندھے اچکا کر بولا مجھے نہیں پتا کیا ہوگا کسی نہ کسی نے….
تاشفہ زایان کے پاس ہی آگئی زایان نے بھنویں اٹھا کر دل میں سوچا اوففف یہ یہاں کیوں آگئی ہے….
تاشفہ نے بلیک کلر کے ڈریس پر گہرے لال رنگ کی لپسٹک لگائی ہوئی تھی، بال لیئرس میں کٹے کندھے پر پھیلے ہوئے تھے اور چہرے پر وہی شوخ اور مغرورانہ مسکراہٹ سجائی ہوئی تھی…..
تاشفہ نے زایان کے قریب آکر پوچھا کیسے ہو زایان…..؟
زایان نے مسنوعی مسکراہٹ کے ساتھ مختصر سا جواب دیا ہاں ٹھیک…..،
پھر تاشفہ نے ادھر ادھر دیکھ کر پوچھا شافع نہیں آیا؟؟؟
زایان نے گردن نفی میں ہلا کر کہا وہ نہیں آئے گا اسے آفس میں کام ہے….
تاشفہ طنز سے مسکرا کر بولی میں نے تو اسے بہت اچھی آفر بھی دی تھی اگر وہ مان جاتا تو ورکر دن رات اسکے آگے پیچھے پھرتے نہ کہ اسے کام کرنا پڑتا…..
زایان نے بھنویں اٹھاتے ہوئے فخر سے کہا وہ شافع وارثی ہے بکنے والوں میں سے نہیں ہے وہ محنت کر کے ہر شے کو پا لینے کا ہنر رکھتا ہے نہ کہ سو کالڈ شارٹ کٹ طریقے اپنا کر……
زایان نے آگے کچھ نہیں کہا خاموش ہو گیا تاشفہ نے مسکرا کر بھنویں اٹھاتے ہوئے پوچھا Really لیکن یاد رکھنا میں بھی تاشفہ ہوں جب کسی کو نظروں میں لے لوں تو اتنی آسانی سے پیچھا نہیں چھوڑتی…..
زایان دانت پیستے ہوئے بولا جب وہ تم میں انٹرسٹڈ نہیں ہے تو تم اسکا پیچھا کیوں نہیں چھوڑ دیتیں؟؟؟؟
تاشفہ قہقہہ لگا کر بولی بہت کوشش کی لیکن یہ کمبخت دل اسکا پیچھا چھوڑتا ہی نہیں لیکن اب تو دل کے ساتھ ساتھ دماغ بھی اسکے پیچھے پڑ گیا ہے….
تاشفہ زایان کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بولی اور پتا ہے مجھے لگتا ہے کہ دل سے پہلے میرا دماغ بازی لے جائے گا اور پھر تمھارا دوست…..
زایان نے دانت پیستے ہوئے انگلی اٹھا کر اسے دھمکی دی اپنی گندی نگاہیں میرے دوست پر ڈالنے کی کوشش بھی مت کر نہ….
فاحد نے زایان کو فوراً پیچھے کیا تھا ورنہ اچھا خاصہ ہنگامہ ہو جاتا
اسکے غصے کا تاشفہ پر کوئی اثر نہیں ہوا تھا وہ مسکراتے ہوئے زایان کے گال تھپتھپا کر بولی تم بہت سویٹ ہو تم پر غصہ سوٹ نہیں کرتا زایان نے ایک جھٹکے سے اسکا ہاتھ ہٹایا تھا
تاشفہ اسکے رویے کا کوئی اثر لئے بغیر مسکراتے ہوئے وہاں سے چلی گئی…..
فاحد زایان کا کندھا ٹھپتھاتے ہوئے بولا اس کو چھوڑو یار یہ تو بس ایسی ہی ہر کسی کے پیچھے پڑ جاتی ہے…..
زایان نے بالوں پر ہاتھ پھیر کر ایک لمبا سانس لیا ہاں چھوڑو ایسے فالتو میں میرا موڈ خراب کر دیا….
پھر موبائل نکالتے ہوئے بولا ایک تو یہ شافع بھی فون نہیں اٹھا رہا پتا نہیں آئے گا بھی یا نہیں….
تم ٹینشن نہ لو آجائے گا…
زایان موبائل جیب میں رکھتے ہوئے ہاں یار میں نے فالتو میں اپنا بلڈ پریشر ہائی کر لیا اب تم ایک کام کرو مجھے جوس لاکر دو تاکہ میرا بلڈ پریشر نارمل ہو…..
فاحد اسے دیکھتے ہوئے دانت پیس کر بولا ساتھ میں فرائس بھی نہ لادوں بلڈ پریشر ، کولیسٹرول، شوگر سب سیٹ ہو جائے گا….
زایان دانت نکال کر بولا نیکی اور پوچھ پوچھ…؟
فاحد کو آرڈر دے کر اسنے ایک لڑکے کو آواز لگائی جس کے ہاتھ میں کیمرہ تھا….
وہ لڑکا زایان کے قریب آیا تو زایان اسکی گردن پکڑ کر بولا ساری تصویریں کیا اپنے رشتے داروں کی کھینچ لو گے یہاں میں کھڑا تمھے نظر نہیں آرہا…..
چلو جلدی سے میری اچھی اچھی تصویریں لو اور اگر ایک بھی تصویر خراب آئی نہ تو اس کیمرے میں تمھے ڈال کر تمھارا ایکسرا نکالوں گا…..
وہ لڑکا بڑی مشکل سے زایان کے ہاتھوں سے اپنی گردن نکال کر بولا آپ کی بھی تصویر کھینچ دیتا ہوں اس میں اتنا غصہ کرنے والی کیا بات ہے…..
زایان مسکراتے ہوئے بولا شاباش،،،، پھر زایان پوز دیتے ہوئے بولا چلو جلدی سے بہت ساری اور اچھی تصویریں کھینچو…..
وہ لڑکا کیمرہ نیچے کر کے بولا جلدی سے بھی، بہت ساری بھی اور اچھی بھی میں انسان ہوں اور یہ کیمرہ ہے بھائی۔۔
زایان مکا بنا کر اسے مارنے کے لئے آگے بڑھا تو وہ لڑکا فوراً بولا اچھا اچھا جلدی سے بہت ساری اچھی تصویریں کھینچ دیتا ہوں…..
زایان مسکراتے ہوئے ایک ہاتھ جیب میں ڈال کر کھڑا ہوگیا….
اور اسکی مسکراہٹ کو کیمرے کی آنکھ نے محفوظ کر لیا….
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منہا نے گاڑی یونیورسٹی کے پارکنگ ایریا میں لاکر روکی شافع کی گاڑی بھی انکے پیچھے ہی تھی انکی گاڑی سے کچھ فاصلے پر شافع نے اپنی گاڑی پارک کی…..
منہا اور آئےنور نکل کر اندر چلے گئے شافع گاڑی میں ہی بیٹھا رہا….
وہ آفس سے گھر نہیں گیا تھا اسلئے اسنے آفس کے ہی کپڑے پہنے ہوئے تھے….
ڈارک بلو جینز پر لائٹ بلو شرٹ…..
آستینوں کو کونی سے تھوڑا نیچے تک فولڈ کیا ہوا تھا بائیں ہاتھ میں گھڑی وہ آج بھی اپنے مخصوص انداز میں تھا،،،،
شافع نے تھکن سے گدی پر ہاتھ پھیرا پھر گاڑی کے شیشے میں چہرہ دیکھا….
چہرے پر تھکن واضح تھی…..
اسنے اپنے داڑھی پر ہاتھ پھیرا جو عام دونوں سے تھوڑی زیادہ بڑی ہوئی تھی……
پھر ایک لمبا سانس کھینچ کر گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر نکل گیا…..
کوٹ اسنے گاڑی میں ہی چھوڑ دیا تھا صرف گاڑی کی چابیاں اور موبائل لے کر نکل گیا……
زایان اپنی کلاس کے اسٹوڈنٹس کے ساتھ تصویریں بنوا رہا تھا جب نور اور منہا وہاں پہنچیں…..
نور اور منہا ارینجمینٹ دیکھ کر کافی متاثر ہوئیں….
منہا آئے نور سے بولی سجاوٹ تو اچھی کروائی ہے ویسے نور آگے پیچھے کا جائزہ لیتے ہوئے بولی ہاں اچھی ہے…..
زایان نے دور سے ان لوگوں کو دیکھ لیا تھا کیونکہ شافع کے انتظار میں وہ بار بار انٹرس کی طرف دیکھ رہا
جب اسکی نظر نور پد پڑی تو زایان آنکھیں جھپکانا بھول گیا….
پھر فاحد کے اوپر گرتے ہوئے بولا فاحد مجھے سنبھال لے بھائی ورنہ میں گر جاؤں گا…..
فاحد نے اسے سیدھا کرتے ہوئے کہا سیدھا کھڑا ہوجا بھائی میں اپنا وزن سنبھال لیتا ہوں کافی ہے دوسروں کا نہیں سنبھال سکتا…..
زایان اسے دیکھ کر تیکھے انداز میں بولا جب بھی منہ کھول نہ کچھ فضول بول نہ….
زایان ان سب کو وہاں چھوڑ کر نور اور منہا کے پاس آیا…..
اور مسکراتے ہوئے بولا خوش آمدید خوش آمدید…….
Welcome to business department….!
آئےنور زایان کو دیکھ کر بولی اچھا بس ٹھیک ہے اب اتنا خوش آمدید کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے….
زایان نے بھنویں اٹھا کر اسے دیکھا مجال ہے جو تم میں اتنی سے بھی تمیز ہو،،،
ایک بندہ ویلکم کرنے آیا ہے اسکو تھینکیو کہنے کے بجائے اپنے تیور دیکھانا شروع کر دیئے….
منہا نے مسکراتے ہوئے زایان کو تھینکیو بولا تو آئےنور آنکھیں پٹپٹاتے ہوئے بولی “زایان صاحب آپ کا بہت بہت شکریہ کے آپ ہمارے استقبال کے لئے یہاں تشریف لائے لیکن ہم نے یہ بالکل نہیں سوچا تھا کہ آپ اسطرح خالی خالی ہمارا استقبال کریں گیں،،،
مجھے تو لگا ہمارے آنے پر زمین پر پھول بچھے ہوں گیں سارے اسٹوڈنٹس ہم پر پھول برسائیں گے”
زایان کانوں کو ہاتھ لگا کر بولا توبہ توبہ تم نے اپنا تصوری خاکہ جس طرح بتایا اس سے تو یہ لگ رہا ہے جیسے تم نے ڈنر پر نہیں اپنی بارات میں آنا تھا…..
اسکی بات سن کر آئےنور کو ہنسی آگئی….
زایان اسے دیکھتے ہوئے شوخ انداز میں بولا،،،، یہ تم شرمائی ہو یا زبردستی کا مسکرائی ہو…..؟
آئےنور فوراً اپنی ہنسی قابو میں کرتی ہوئی سپاٹ چہرے سے بولی زیادہ فری ہونے کی ضرورت نہیں ہے…..
زایان اسکی بات کو نظر انداز کر کے بولا اوہ ہاں میں تو بھول ہی گیا تھا شرمانے والے گن تو تم میں ہے ہی نہیں،،،،بس کس کو کس حد تک کی خونخوار نظروں سے گھورنا ہے تمھے صرف یہ پتا ہے…..
ائےنور اسکی باتوں سے تنگ آکر بولی زایان تم نے ہمیں ڈنر پر بلایا ہے یا اپنی باتیں سنانے کے لئے…..
زایان انھے راستہ دیتے ہوئے بولا ہاں ہاں ڈنر پر ہی بلایا ہے تم لوگ بیٹھو تھوڑی دیر میں سب کی لائن لگوائیں گے پھر سب کو برابر بریانی باٹیں گے…..
آئےنور کی پھر ہنسی چھوٹ گئی…
آئےنور ہنسی دبا کر آگے جاتے ہوئے بولی بس تم بریانی بانٹنے مت بیٹھنا ورنہ باقی سب کو بھوکا جانا پڑے گا….
نور آگے جانے لگی تو زایان اسکے ہاتھ میں شاہد دیکھ کر بولا یہ جس دکان کا شاہد ہے وہاں کا کیک بہت مزے کا ہوتا ہے اس میں کیا کیک ہے؟؟؟
نور نے مڑ کر اسے دیکھا پھر شاپر کو،،،
اوہ ہاں میں تو بھول ہی گئی یہ تمھارے لئے ہی ہے بھکڑ ورنہ تم ہمیں طعنے دے دے کر مار دیتے….
زایان نے فوراً شاپر اسکے ہاتھ سے لے لیا بڑی نوازش آپکی کے آپ ہمارے لئے کچھ کے آئیں،،،
آئے نور جواب دیئے بغیر مسکرا کر آگے بڑھ گئی
آئےنور آگے چلی گئی تو زایان اپنا موبائل نکال کر پھر شافع کو کال کرتے ہوئے مڑنے لگا……
تو کسی نے اسکی شرٹ پکڑ کر پیچھے کی طرف کھینچا،،،،،
زایان لڑکھڑایا لیکن شافع نے اسے سنبھال لیا…..
زایان نے جب شافع کو دیکھا تو اسکے چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ گئی…..
اوہ شکر ہے تم آگئے یار اگر تم نہیں آتے تو ڈنر کے بعد تمھے تمھاری گاڑی صحیح سلامت نہیں ملتی میں اسکے چار حصے کر دیتے…..
شافع ہنستا ہوا زایان کے گلے لگا ہاہاہاہاہاہاہا مجھے پتا تھا اگر میں نہیں آیا تو تم میری کسی نہ کسی چیز کا نقصان کر دو گے اسلئے بہتری اسی میں تھی کہ میں آجاؤں…..
زایان شافع کے گال کھینچتے ہوئے بولا smart boy
اسنے اتنی زور سے گال کھینچے تھے شافع نے فوراً اسکا ہاتھ ہٹایا کیا کر رہے ہو یار۔۔۔
زایان دانت نکالتے ہوئے بولا میرے ہینڈسم دوست کی براؤن کانچ جیسی آنکھیں تو لال ہو رہی ہیں میں نے سوچا گال کھینچ کر اسے لال ٹماٹر بنادوں…..
شافع نے قہقہہ لگاتے ہوئے گردن جھکا لی پھر زایان کا ہاتھ پکڑتے ہوئے بولا سوری یار میں نے فون پر اتنے غصے میں بات کی تم سے…..
زایان اسے کونی مارتے ہوئے بولا ارے سوری کی کوئی ضرورت نہیں ہے بس کچھ کھلا دینا ورنہ میں نے ناراض ہی رہنا ہے…..
دونوں ہنس دیئے شافع بولا لایا ہوں بھائی تمھے منانے کا سامان بھی لیکن شاپر میں گاڑی میں ہی بھول گیا… زایان فوراً بولا اچھا گاڑی کی چابی دو میں جا کر لے آتا ہوں….
شافع اسے روکتے ہوئے بولا رک جاؤ حبشی آدمی بعد میں لے لینا ابھی تو تم نے یہاں بھی اتنا کچھ ٹھوسنا ہے…..
زایان نے اسے گھورا تو شافع نے اسکے گلے میں ہاتھ ڈال کر قہقہہ لگایا….
وہ دونوں آگے جانے لگے تو زایان اسے دیکھ کر بولا یار تم آفس سے سیدھا یہیں آگئے کیا گھر نہیں گئے؟؟؟
شافع ادھر ادھر دیکھتے ہوئے نفی میں سر ہلا کر بولا ہاں گھر نہیں گیا آفس میں ہی تھا وہیں سے آگیا،،،،
ہمممم چلو ٹھیک ہے……
وہ لوگ اپنی کلاس کے گروپ کے پاس آگئے…..
شافع کچھ دیر وہاں کھڑا رہا پھر زایان کو اشارہ کر کے الگ ٹیبل پر جاکر بیٹھ گیا….
اسکے بالکل سامنے والی ٹیبل پر آئےنور بیٹھی تھی،،،،
شافع نے ایک نظر اس پر ڈالی اور ایک لمحے میں ہٹالی پھر موبائل نکال کر بیٹھ گیا نور کونی ٹیبل پر رکھے چہرہ ہاتھوں میں دیئے اکیلی وہاں بیٹھی تھی
کیونکہ منہا تو پتا نہیں کہاں غائب تھی….
آئےنور اکیلی بیٹھی تھی جب ایک لڑکا اسکے سامنے والی کرسی پر آکر بیٹھ گیا….
نور نے اچھنبے سے اسے دیکھا وہاں اور بھی ٹیبلیں خالی تھیں لیکن وہ لڑکا اسکے سامنے ہی آکر بیٹھا،،،،،
وہ بڑی عجیب نظروں سے نور کو دیکھ رہا تھا نور اسکی نظروں سے الجھن کا شکار ہوئی، لیکن پھر بھی نور نے سختی سے کہا اور بھی ٹیبل خالی ہیں آپ وہاں جاکر بیٹھ جائیں….
اس لڑکے نے نور کو بغور دیکھتے ہوئے کہا اگر میں یہاں بیٹھ جاؤں تو آپکو کوئی مسئلہ ہے کیا؟؟؟
شافع نے اچانک موبائل سے نظریں اٹھا کر آئےنور کی طرف دیکھا….
آئےنور کے سامنے ایک لڑکا بیٹھا تھا آئے نور کے چہرے پر اسے گھبراہٹ دکھی تھی…
وہ لڑکا انکے ڈپارٹمنٹ کا نہیں تھا شاید نیو اسٹوڈنٹ تھا….
نور کے سامنے بیٹھا لڑکا آگے ہوتے ہوئے شوخ مسکراہٹ کے ساتھ بولا آپکا نام کیا ہے…..
آئےنور نے غصے سے بھنویں تنی تھیں….
شافع اپنی ٹیبل سے اٹھا اور نور کی ٹیبل کی طرف بڑھا…..
آئےنور اس لڑکے کے سوال کا جواب دیئے بغیر غصے سے وہاں سے اٹھی تھی…..
لیکن اس سے پہلے کے وہ وہاں سے جاتی شافع وہاں پہنچ گیا…..
شافع نے پہلے نور کو دیکھا پھر اس لڑکے کو پھر آئےنور سے پوچھا…..
Any problem?
نور نے کچھ کہنے کے بجائے آنکھوں سے اس لڑکے کی طرف اشارہ کر دیا…..
شافع نے دونوں ہاتھ ٹیبل پر رکھ کر آگے ہوتے ہوئے اس لڑکے کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا
You have any problem?
وہ لڑکا پیچھے ہوتے ہوئے تحمل سے بولا نہیں مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے پھر بات گھمانے کے لئے مسکرا کر بولا میں تو بس ایسی یہاں آکر بیٹھ گیا تھا…..
نیو ہوں نہ تو سوچا سب سے جان پہچان بڑھا لوں….
وہ لڑکا دم دباکر وہاں سے جانے لگا تھا….
شافع نے اسکا کندھا پکڑ کر اسے روکا….
“جب کوئی بات نہیں کر رہا ہو تو زبردستی نہیں کرتے، اور ہر کسی سے جان پہچان بڑھانے کی کوشش بھی نہیں کرتے سمجھے؟؟ لیکن اگر زیادہ جان پہچان بڑھانے کا دل ہے تو روکو…..
شافع نے زایان کو آواز دی….
وہ لڑکا بوکھلاہتے ہوئے بولا نہیں رہنے دیں مجھے جس سے بات کرنی ہوگی میں کر لوں گا….
زایان بھاگتا ہوا شافع کی طرف آیا تھا….
نور بت بنی سب دیکھ رہی تھی….
زایان آیا تو شافع اس لڑکے کی طرف اشارہ کر کے بولا یہ نیو اسٹوڈنٹ ہیں انھے سب کو جاننا پہچاننا ہے تو ہم سینئر ہیں ہمارا فرض ہے کہ ہم انکی مدد کریں انکی ذرا سب سے جان پہچان کرواؤ،،،،،،
زایان شافع کی آنکھوں کے اشارے خوب سمجھتا تھا زایان نے قہقہ لگاتے ہوئے اس لڑکے کے گلے میں ہاتھ ڈالا اس لڑکے کو اپنا گلا دبتا ہوا محسوس ہوا تو مسکرا کر بولا بھائی آرام سے ذرا…..
زایان مسکرا کر بولا ہاں ہاں بھائی آرام سے ہی ہاتھ رکھا ہے بس ہاتھ ہی اتنا بھاری ہے کہ زور سے لگتا ہے….
شافع نے زایان کو اشارہ کیا تو زایان اس لڑکے کو وہاں سے لے گیا….
آئےنور کرسی کو پکڑے کھڑی تھی وہ لڑکا چلا گیا تو نور اطمینان سے وآپس کرسی پر بیٹھ گئی…..
شافع نے غصے سے اسکی طرف مڑ کر دیکھا نور اسکی طرف نہیں دیکھ رہی تھی…..
شافع زور سے ٹیبل پر ہاتھ مار کر تھوڑا سا آگے جھکا…..
ساری زبان کیا میرے سامنے ہی چلتی ہے دوسروں کے سامنے کیوں سانپ سونگھ جاتا ہے….؟
آئےنور نے پیچھے ہوتے ہوئے اسے حیرت سے دیکھا کیا مطلب ہے تمھارا،؟؟؟
شافع سیدھا ہوتے ہوئے بولا مطلب یہ کے مجھے تو آپ بغیر بات کے اتنا سنا دیتی ہیں اور اس لڑکے کو ایک جھاڑ نہیں لگا پائیں….
نور نے ہونٹ بھینچیں پھر سنبھلتے ہوئے بولی میں،،،، میں تو یہاں سے جانے والی تھی وہ تو تم اچانک آگئے…..
شافع اسکی آنکھوں میں دیکھ کر بولا جانا نہیں تھا پہلے اسے سنانا تھا تاکہ وہ آئندہ تنگ کرنے کی ہمت نہیں کرتا…..
آئےنور کچھ نہیں بولی،،،،
شافع ایک چبتی ہوئی نظر اسکے اوپر ڈال کر وہاں سے جانے کے لئے مڑا….
تو زایان آگیا زایان اس سے پوچھنے لگا کہ ہوا کیا تھا….
تو شافع زایان کو دیکھتے ہوئے بولا مہمان بلائے ہیں تو انکا خیال بھی رکھو کیونکہ انکی زبان صرف کچھ لوگوں کے سامنے چلتی ہے…..
شافع وہاں سے چلا گیا….
تو زایان نے نور کے سامنے بیٹھتے ہوئے پوچھا ہوا کیا تھا….
آئےنور شافع کی پشت کو دیکھ کر منہ بنا کر بولی کچھ نہیں تمھارے دوست کو بس فالتو میں ہیرو بننے کا شوق ہے….
زایان نے جوس پیتے ہوئے کندھے اچکا دیئے…..
کچھ دیر بعد کھانا بھی لگ گیا اور زایان نے بیٹھ کر کم گھومتے ہوئے زیادہ کھایا تھا….
کھانا کھانے کے بعد زایان نور اور منہا کی ٹیبل پر آکر بیٹھ گیا نور نے زایان کو مخاطب کیا
اب بتاؤ تمھے کیا بتانا تھا؟؟؟
زایان گردن نفی میں ہلاتا ہوا بولا آہاں،،،، ابھی نہیں کچھ دیر بعد….
سب لوگ اب شافع کے گانے کا انتظار کر رہے تھے شافع کونے کی ایک ٹیبل پر بیٹھا گٹار سیٹ کر رہا تھا کیونکہ وہ اپنا گٹار نہیں لایا تھا،،،،
شرٹ کی آستینیں اب اسنے کونی سے اوپر کر لی تھیں جب اسکا گٹار سیٹ ہوگیا تو وہ اٹھ کر اسٹیج پر رکھی کرسی پر آکر بیٹھ گیا….
کرسی پر بیٹھ کر پہلے اسنے سامنے بیٹھے لوگوں پر ایک نظر ڈالی،،،،،
اور پھر نظر ایک جگہ ٹک گئی لیکن اسنے فوراً نظریں نیچے کر لیں پھر مسکراتے ہوئے گردن اٹھائی اور زایان کو آواز لگا کر بلایا،،،،،
زایان اٹھ کر جانے لگا تو اسنے نور کو آگے آکر بیٹھنے کا کہا لیکن نور نے منا کر دیا….
نور ٹیبل پر رکھے پھولوں پر ہاتھ پھیر رہی تھی اور تھوڑی تھوڑی دیر بعد نظریں اٹھا کر شافع کو بھی دیکھ لیتی…..
شافع نے سب سے گانے کا پوچھا تو سب نے ایک ہی گانے کی فرمائش کی جو موقعے کی مناسبت سے بھی تھا،،،،،
زایان شافع کے کندھے پر ہاتھ رکھے کھڑا تھا،،،،
شافع نے گٹار بجانا شروع کیا اور پھر سب دم سادھے بیٹھے اسے دیکھ رہے تھے پورے ہال میں خاموشی تھی صرف آواز تھی تو شافع وارثی کی…..
یہ لمحہ جتنا خوبصورت تھا اتنا ہی اداس بھی وہ لوگ آخری بار اسطرح ایک ساتھ تھے اسکے بعد کس نے کہاں جانا تھا کچھ پتا نہیں تھا…..
گانا گاتے ہوئے شافع کی آنکھیں مسلسل بند تھیں اور سب کی آنکھیں اس پر جن میں آئےنور بھی شامل تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اسکا گانا سننے کے بعد وہ اس بات سے ہر گز انکار نہیں کر سکتی تھی کہ اسکی آواز واقعی بہت اچھی ہے…..
شافع نے گانا ختم کر کے آنکھیں کھولیں اور آنکھیں کھولتے ہی اسنے سب سے پہلے آئےنور کو دیکھا تھا…..
پورا ہال تالیوں سے گونج رہا تھا….
آئےنور نے بھی گردن جھکا کر آہستہ سے اسکے لئے تالی بجائی تھی اسے کنسرٹ والا دن یاد آیا تھا اور یقیناً شافع کو بھی یاد آیا ہوگا….
شافع نے گٹار ایک لڑکے کو پکڑا دیا اور اپنی ٹیبل پر جاکر بیٹھ گیا…..
اب اسٹیج پر زایان تھا….
جو سب سے بات کرنے کے لئے بے چین ہورہا تھا جیسے ہی مائک اسکے ہاتھ میں آیا….
تو سلام کرنے کے بعد اسنے سب سے پہلے یہ پوچھا تھا ارینجمینٹ کیسا لگا…..
اور سب نے اپنی تالیوں سے اسے جواب دیا….
زایان کالر کھڑے کرتا ہوا بولا تعریف کے لئے بہت بہت شکریہ….
سب کا قہقہہ بلند ہوا….
اب سب مجھے یہ بتائیں کے مجھے کون کون یاد کرے گا؟؟؟
پورے ہال میں ایک شور بلند ہوا تھا….
زایان نے مسکراتے ہوئے سینے پر ہاتھ رکھ کر کہا….
ٹھیک ہے پھر جب بھی یاد آئے مجھے کھانے پر بلا لئے گا میں پہنچ جاؤں گا….
پھر سب کا قہقہہ بلند ہوا تھا زایان پھر ہنستا ہوا بولا
چلیں اب ایک گیم کھیلتے ہیں جسے کہتے ہیں “rapid fire” نام تو سب نے سنا ہی ہوگا….
تو اسٹارٹ کرتے ہیں سر فرقان سے،،،،
زایان مائک لے کر انکے سامنے آکر کھڑا ہوگیا اور انھے سمجھاتے ہوئے بولا سر دیکھیں میں آپکو دو الفاظ کہوں گا آپ کو بغیر وقت لگائے ان میں سے ایک لفظ چننا ہے ٹھیک ہے….
سر فرقان نے تھمس اپ کا اشارہ کر کے ٹھیک ہے کہا
زایان سیدھا ہوتے ہوئے بولا ok let’s start
بیوی یا بچے؟ سب کا قہقہہ بلند ہوا تھا…
سر فرقان نے کہا “بچے”
زایان نے شرارت سے پوچھا گھر کے بچے یا یونیورسٹی کے بچے؟ فرقان نے ہنستے ہوئے کہا دونوں بچے
میتھس یا بائیلوجی؟
سر فرقان نے کہا میتھس کیونکہ وہ خود میتھس کے ٹیچر تھے….
زایان نے ان سے دو تین اور سوال پوچھے پھر دوسرے اسٹوڈنٹس کی طرف کچھ اسٹوڈنٹس کے ساتھ گیم کھیلنے کے بعد اسنے سب سے پوچھا تھا کہ اب کس سے پوچھنا چاہیے؟؟
سب نے شافع شافع کہا تھا،،،،
شافع فوراً نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولا نہیں مجھے نہیں کھیلنا کوئی گیم،،،
زایان نے مائک ہٹا کر کہا کچھ تو شرم کرو پوری یونیورسٹی تمھارا نام لے رہی ہے اور تم نخرے دکھا رہے ہو….
شافع نفی میں گردن ہلا کر مسکرایا…
زایان مائک میں زور سے بولا چلیں تو پھر شروع کرتے ہیں……
پیار یا دوستی؟
شافع نے زایان کے بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا دوستی، زایان نے شرارت سے کہا سوچ لو
پھر پوچھا زندگی یا موت؟
شافع نے آنکھیں بند کرتے ہوئے کہا زندگی…
زایان نے پھر شرارت سے کہا دنیا یا زایان حیدر؟؟
شافع نے ایک لمحہ لگائے بغیر کہا “زایان میری دنیا”
زایان نے قہقہہ لگایا اسے پتا تھا شافع یہی کہے گا….
آئےنور ان دونوں کو دیکھ کر مسکرا رہی تھی شافع سے اسکی لڑائی اپنی جگہ لیکن انکی دوستی دیکھ کر اسے خوشی ہورہی تھی،،،،،
زایان نے پھر شافع سے پوچھا برگر یا پیزا؟
شافع نے اسکے اوپشن سے ہٹ کر کہا “بریانی”
سنگر یا بزنس مین؟ شافع نے فٹ سے کہا بزنس مین….
زایان سب کی طرف دیکھ کر بولا ویسے آپ لوگوں کو نہیں لگتا کہ یہ شافع کی گانے سے زیادتی ہے….
شافع مسکراتے ہوئے بولا گانا میرا شوق ہے اور بزنس میرا پیشہ نہ میں نے اپنے شوق کو کبھی پیشہ بنانے کا سوچا اور نہ کبھی اپنے پیشے سے ہٹنے کا،،،،
اسکے دوستوں نے شافع کے لئے تالی بجائی تھی زایان شافع کو آنکھ مارتے ہوئے بولا ٹھیک کیا بڈی…
زایان نے مائک دوسرے لڑکے کو دے دیا وہ سوال پوچھ پوچھ کر تھک گیا تھا…..
———————–
پھر شافع کے پاس آکر بولا اب میرے ساتھ چلو بہت ضروری کام ہے….
شافع نے حیرت سے پوچھا اب کونسا ضروری کام یاد آگیا تمھے؟؟؟
زایان اسکا ہاتھ پکڑ کر لیجاتے ہوئے بولا تم چلو تو صحیح آئےنور اپنی ٹیبل سے کھڑی ہو گئی تھی اور ادھر ادھر نظریں دوڑا کر وہ شاید منہا کو ڈھونڈ رہی تھی….
زایان نے شافع کا بازو پکڑا ہوا تھا،،،،
آئےنور نے زایان اور شافع کو دیکھا تو ایک نظر شافع پر ڈالی پھر زایان سے بولی….
زایان تمھے جو بتانا تھا بتاؤ مجھے دیر ہو رہی ہے میں جارہی ہوں زایان نے بولنے کے لئے منہ کھولا تو نور بولی پہلے یہ بتاؤ تم نے منہا کو دیکھا ہے؟؟؟
زایان نے کوفت سے منہ پر ہاتھ رکھا نہیں میں نے نہیں دیکھا،،،،،
ہال میں شور بھی بہت ہورہا تھا اسلئے زایان نور سے بولا ایسا کرتے ہیں باہر چلتے ہیں یہاں شور بہت ہورہا ہے…..
نور جھنجھلاہٹ سے بولی تمھے کچھ بتانا بھی ہے یا نہیں کب سے پاگل بنائے جارہے ہو…
زایان اسکی بات کا جواب دیئے بغیر باہر جانے لگا تو آئےنور کو بھی اسکے پیچھے جانا پڑا…..
شافع مسلسل اس سے بول رہا تھا کہ تم مجھے کیوں لے کر جارہے ہو؟؟؟
زایان اسے دپٹتے ہوئے بولا تم چپ تو رہو یار بتا دوں گا نہ ابھی….
وہ لوگ ہال سے باہر آئے تو شور کچھ کم لگا…..
نور کا دوپٹہ کندھے پر تھا وہ اپنا دوپٹہ اوپر کرکے گھڑی کی طرف دیکھ کر بولی دیکھو زایان جو بتانا ہے جلدی بتاؤ مجھے گھر جانا ہے دیر ہو رہی ہے…..
زایان دانت نکال کر بولا بتاتا ہوں لیکن پہلے یہ بتاؤ تمھارے ہاتھ میں کوئی نوکیلی یا تیز دھار والی چیز تو نہیں ہے..؟
آئےنور اور شافع دونوں نے اسے حیرت سے دیکھا نور نے تعجب سے پوچھا کیا کہنا چاہ رہے ہو تم؟
زایان تھوڑا سا پیچھے ہوتے ہوئے ٹھہر ٹھہر کر بولا مجھے تمھے یہ بتانا تھا کہ تمھارا ایڈمیشن میں نے نہیں شافع نے کروایا تھا…..
آئےنور کو لگا اسنے کچھ غلط سنا ہے…
شافع نے زایان کو روکنا چاہا تھا زایان یہ کیا کہہ رہے ہو تم چپ رہو….
زایان شافع کو دیکھتے ہوئے بولا اب تو یونی ختم ہوگئی ہے اب تو بتا دینا چاہیے..
نور حیرت کے ہی عالم میں تھی کیا مطلب ہے تمھارا؟؟؟
زایان دانت نکال کر بولا مطلب شافع ہی وہ گدھا ہے جس نے تمھارا ایڈمیشن کروایا تھا اور شافع جانے انجانے میں خود کو ہی گدھا کہہ گیا تھا….
پھر زایان دونوں ہاتھ آگے کرتے ہوئے بول دیکھو بھئی ایڈمیشن کروانا میرے بس میں تو بالکل نہیں تھا ایڈمیشن شافع نے کروایا تھا….
نور سکتے کے عالم میں ہی بولی اور جو روز تم مجھ سے پانچ سو ہزارا کا کھانا لوٹتے تھے وہ؟؟؟
زایان دانتوں تلے زبان دبا کر بولا وہ تو میں تمھے پاگل بنا رہا تھا…..
آئےنور کا پارہ چڑھ گیا اسنے اپنے ہاتھ کا کلچ کھینچ کر زایان کے بازو پر مارا…
پھر اپنا کلچ کھول کر کچھ ڈھونڈنے لگی…
زایان دانت نکالتے ہوئے بولا کیا ڈھونڈ رہی ہو؟؟؟
چلی پیپر اسپرے آئےنور نے ایک چھوٹا سا اسپرے نکالا تھا اس سے پہلے کے نور وہ اسپرے زایان پر چھڑکتی زایان دم دبا کر وہاں سے بھاگا
نور چینختے ہوئے بولی میں تمھے چھوڑوں گی نہیں بھکڑ….۔
ایک ایک پیسے کا حساب لوں گی….
زایان دور جاکر اسے منہ چڑھاتے ہوئے بولا مس اینا کونڈا تم بھول رہی ہو میری یونیورسٹی ختم ہو چکی ہے……
آئےنور نے غصے سے مٹھیاں بھینچ کر ہاتھ جھٹکے،،،،،
شافع خاموشی سے کھڑا اسکا ایک ایک تاثر دیکھ رہا تھا…..
اچانک نور کی نظر شافع پر پڑی وہ اسکے چہرے کو بہت غور سے دیکھ رہا تھا،،،،،
نور بوکھلا گئی اسے کچھ سمجھ میں ہی نہیں آیا کہ کیا کہے…..
نور بوکھلاہٹ سے بولی تھینکیو،،، نہیں میرا مطلب ہے سوری نہیں مطلب….
شافع نے اسے ششش کہہ کر چپ رہنے کا اشارہ کیا….
نور نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا آپ کو کچھ بولنے کی ضرورت نہیں ہے ایڈمیشن میں کرواؤں یا زایان کروائے ایک ہی بات ہے…..
شافع اندر جانے کے لئے مڑا تو نور نے اسے پیچھے سے آواز لگا کر روکا……
سنو….! شافع نے مڑکر اسے دیکھا تم نے میرا ایڈمیشن کروایا اور میں نے تم سے ہر دفعہ اتنی بد تمیزی کی….
تم نے دو تین دفعہ میری مدد کی لیکن میں نے الٹا تمھے ہی سنا دیا مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا…..
شافع وہیں سے کھڑا بولا آپکو پتا ہے لڑکیوں کو ایسا ہی ہونا چاہیے روڈ لیکن آپ روڈ ہونے ساتھ ساتھ بدلحاظ بھی ہیں….
نور نے شرمندگی سے نظریں جھکا لیں….
شافع پھر سے جانے کے لئے مڑا تو نور بولی مجھے افسوس ہے کہ میں نے آپ سے بد تمیزی کی آپ کو ، چھچھوندر، لنگور ،وڈیرہ اور پتا نہیں کیا کیا نہیں کہا….
شافع نے بھنویں اٹھاتے ہوئے کہا مطلب آپ کو افسوس ہے لیکن معافی مانگنے کی ضرورت آپکو بالکل محسوس نہیں ہوتی…
نور فوراً بولی میں معافی مانگنے کے لئے تیار ہوں
شافع فوراً اسے روکتا ہوا بولا مجھے آپکی معافی کی ضرورت نہیں ہے….
اور نہ ہی آپکی باتوں سے مجھے کبھی فرق پڑا ہے بس آپ نے کنسرٹ والے دن اچھا نہیں کیا تھا…
نور نے پھر شرمندگی سے نظریں جھکا لیں شافع محفوظ ہوا۔۔۔۔۔
پھر نور اچانک بولی میں کیا کروں مجھے تمھاری شکل دیکھ کر غصہ آجاتا ہے۔ ۔ ۔ ۔
شافع کچھ دیر اسے خاموشی سے دیکھتا رہا پھر بولا،،،،،
“اب آپ بے فکر ہو جائیں اب آپکو میری شکل نہیں دیکھنی پڑے گی آج آخری بار دیکھ رہی ہیں آپ میری شکل”
شافع نے نرم لہجے میں کہا تھا لیکن پھر بھی الفاظ آئےنور کو چبھتے ہوئے محسوس ہوئے…..
شافع اندر جانے کے لئے مڑا آئےنور اسے جاتے ہوئے بے سدھ کھڑی دیکھتی رہی،،،،
