Izhar-e-Muhabat by Anooshe NovelR50417 Izhar-e-Muhabat Episode 26
Rate this Novel
Izhar-e-Muhabat Episode 26
Izhar-e-Muhabat by Anooshe
صدیقی صاحب کمرے میں لیٹے تھے طبیعت کچھ ناساز بھی تھی کچھ دیر آرام کرنے کے بعد وہ کمرے میں آگئے، دل بہلانے کے لئے ٹی وی کھول لیا، چینل گھماتے ہوئے انکی نظر بھی تاشفہ کی پریس کانفرنس پر پڑ ہی گئی، اور ایک ایک الفاظ کے ساتھ انکے تاثرات بھی بدلنے لگے انھوں نے ٹی وی بند کیا، اور آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر صوفے کی پشت سے سر ٹکا لیا،،، تم مجھے بہت مشکل وقت میں اکیلا چھوڑ کے گئی ہو ارمینہ….. انھوں نے خود سے سرگوشی کی تم ہوتیں تو نور سے میری سفارش ہی کر لیتیں مجھ میں تو اتنی بھی ہمت نہیں ہے کہ اس سے اب معافی ہی مانگ سکوں،،، وہ کچھ دیر اسی طرح سر پر ہاتھ رکھے بیٹھے رہے، پھر کچھ دیر بعد اٹھے اور کچن میں گئے اور ایک پانی کی بوتل اور گلاس لے کر وآپس لاؤنج میں آگئے،،، تھوڑا سا پانی گلاس میں نکالا اور اور چند گھونٹ لے کر رکھ دیا،،، ٹیبل پر پڑا اپنا موبائل اٹھایا اور نمبر ڈائل کرنے لگے لیکن دوسری طرف سے فون نہیں اٹھایا گیا،،، انھوں نے ایک لمبا سانس کھینچا پھر جیسے کچھ یاد آیا تو اٹھ کر سامنے رکھے کبڈ کی دراز تلاش کرنے لگے مطلوبہ چیز انھے مل گئی تھی وہ ایک پرچی تھی جس پر شافع کا نمبر لکھا ہوا تھا صدیقی صاحب وآپس صوفے پر آکر بیٹھے اور نمبر ملانے لگے، چند بیلوں کے بعد کال اٹھالی گئی دوسری طرف سے شافع کی آواز گونجی ہیلو…..! کون؟ صدیقی صاحب لڑکھڑاتی آواز میں بولے بدنصیب باپ بات کر رہا ہوں جس نے اپنی بیٹی کے یقین کی دھجیاں اڑادیں، جس نے اپنی بیٹی کو ساری زندگی اپنی محبت اور شفقت سے محروم رکھا… شافع انکی آواز پہچان گیا تھا انکل آپ….. کیسے ہیں آپ؟ صدیقی صاحب نے اپنی بھیگی ہوئی آنکھیں صاف کیں،،، زندہ ہوں، کیونکہ انسان کو اپنا کیا دھرا دنیا میں ہی بھگتنا پڑتا ہے،،، شافع سانس کھینچتے ہوئے بولا انکل آپ ایسی باتیں کیوں کر رہے ہیں… صدیقی صاحب نے پوچھا،،،، آئےنور کیسی ہے بیٹا خوش تو ہے نہ وہ؟؟؟ شافع اثبات میں سر ہلاتے ہوئے بولا جی وہ ٹھیک ہے میں کچھ دن پہلے آپکے گھر آیا تھا لیکن آپ گھر پر نہیں تھے… صدیقی صاحب سانس کھینچ کر بولے گھر پر اب میں کس کے لئے آیا کروں میری بیٹی جو میرے گھر کی رونق تھی، میرے گھر کی روشنی تھی میں نے خود اس گھر کی رونق کو اس گھر سے نکال دیا اب اس گھر کے درو دیوار مجھے کاٹنے کو دوڑتے ہیں ایک وحشت سی ہوتی ہے مجھے اس گھر میں ہر طرف مجھے روتی بلکتی ہوئی نور اور اسکی ماں دکھائی دیتی ہیں جنکو خوشیوں کا ایک پل میں نے نصیب نہیں ہونے دیا، نہ میں اچھا شوہر تھا نہ اچھا باپ بن سکا بیٹے کی خواہش میں اتنا اندھا ہوگیا تھا کہ اللہ کی دی ہوئی نعمت کو دیکھ ہی نہیں سکا نفرت کی پٹی میں نے اسطرح آنکھوں پر باندھ لی تھی کہ اپنی بیٹی کی روتی ہوئی آنکھیں اسکا لرزتا ہوا وجود مجھے نظر ہی نہیں آیا، میں نے تو جیتے جی اسکے لئے کچھ نہیں کیا لیکن اسکی ماں مرتے مرتے بھی اسکے لئے ایک بہترین فیصلہ کر گئی، تمھاری نور سے شادی کا فیصلہ…. شافع نے گردن جھکائی صدیقی صاحب روہانسی آواز میں بولے میں نے تو نور کو آج تک کوئی خوشی نہیں دی لیکن میں تم سے التجا کرتا ہوں نور کی زندگی خوشیوں سے بھر دو اس بچی نے کبھی مکمل خوشیاں نہیں دیکھیں اسے ہمیشہ ادھورا پیار ملا ہے اسنے میری وجہ سے اپنے بہت سے خواب توڑے ہیں، تم سے میں التجا کرتا ہوں میری بیٹی کو ہمیشہ خوش رکھنا، اسکو اکیلا کبھی مت چھوڑنا اور سب سے بڑھ کر زندگی میں چاہے کتنے بھی برے حالات کیوں نہ ہو جائیں اس پر سے اپنا یقین کبھی مت اٹھنے دینا، جس طرح تم نے انجان ہوتے ہوئے بھی نور پر یقین رکھا تھا اسی طرح اب اسکے ساتھ ہوتے ہوئے بھی اس پر یقین رکھنا کیونکہ بعض دفعہ انسان غلط نہیں ہوتا حالات غلط ہوتے ہیں لیکن غلط کو بھی صرف وہی دیکھ سکتا ہے جو خود ٹھیک ہو ، شافع نے اثبات میں گردن ہلائی انکل آپ بھروسہ رکھیں میں نور کو ہمیشہ خوش رکھوں گا میں اس پر خود سے زیادہ بھروسہ کرتا ہوں اور یہ بات میں صرف کہنے کے لئے نہیں کہہ رہا اس بات کا ثبوت میں زندگی کے ہر قدم پر اسکا ساتھ نبھا کر دوں گا…
صدیقی صاحب نے اپنی آنکھیں رگڑیں میں جانتا ہوں، تم ایک اچھے انسان ہو اللہ نے نور کو تمھارے لئے ہی بنایا ہے جو اسکی قدر کر سکے جو اس سے محبت کر سکے جو اسے محفوظ رکھ سکے،،، شافع ہلکا سا مسکرایا وہ خاموشی سے صدیقی صاحب کی باتیں سن رہا تھا وہ خاموش ہوئے تو شافع بولا،،، آپ رکیں میں نور سے بات کرواتا ہوں…. صدیقی صاحب اچانک بولے نہیں ابھی رہنے دو وہ ابھی بھی خفا ہے مجھ سے اور ہونا بھی چاہیے میں نے جو اسکے ساتھ کیا اسکے لئے وہ مجھے زندگی بھر بھی سزا دے تو کم ہے،،، شافع نفی میں گردن ہلاتے ہوئے بولا ایسی بات نہیں ہے انکل نور آپ سے بہت محبت کرتی ہے لیکن تھوڑی حسّاس بھی ہے اور پھر روح کے زخموں کو بھرنے میں وقت بھی تو لگتا ہے نہ… صدیقی صاحب گردن ہلاتے ہوئے بولے تبھی تو بول رہا ہوں ابھی رہنے دو اسکے زخم کچے ہونگیں کہیں ایسا نہ ہو میری آواز سن کر رسنا شروع ہو جائیں میں اسے اب اور تکلیف نہیں پہنچانا چاہتا،،، شافع سانس کھینچتا ہوا بولا، وہ آپ سے بہت محبت کرتی ہے میں ابھی اسے بولوں گا نہ کہ آپ نے فون کیا ہے تو وہ دوڑی چلی آئے گی، صدیقی صاحب زخمی سا مسکرا کر بولے وہ مجھ سے ابھی بات نہیں کرنا چاہتی میں نے کیا تھا فون اسنے نہیں اٹھایا،،، شافع خاموش ہوگیا صدیقی صاحب بولے لیکن کوئی بات نہیں حق بنتا ہے اسکا لیکن میں بھی اس سے معافی لئے بغیر نہیں مروں گا,,, صدیقی صاحب کچھ دیر ٹھہر کر بولے تم نور کو لے کر آنا گھر…., شافع نے مسکراتے ہوئے گردن ہلائی بہت جلد لے کر آؤں گا آپ فکر نہ کریں اب سب ٹھیک ہو جائے گا، آپ دیکھئے گا آپکو دیکھ کر وہ آپ سے ناراض نہیں رہ پائے گی،،، صدیقی صاحب نے مسکراتے ہوئے اثبات میں گردن ہلائی اور فون کاٹ دیا…شافع بالکنی میں بیٹھا تھا کال کاٹ کر اسنے موبائل ٹیبل پر رکھا اور آسمان کو دیکھنے لگا،،،،
نور کمرے میں بیٹھی موبائل ہاتھ میں لئے آنسوں بھا رہی تھی صدیقی صاحب کی کال جب اسکے موبائل پر آئی تو موبائل اسکے ہاتھ میں ہی تھا وہ والہانہ خوشی سے کال اٹھانے ہی والی تھی لیکن ماضی میں کہے ہوئے صدیقی صاحب کے کچھ کڑوے الفاظ اسکے کانوں میں گونج گئے،،، اور اسکے ہاتھوں نے کال اٹھانے سے انکار کر دیا اسنے موبائل وہیں رکھ دیا ماضی کی کچھ تلخ یادوں نے پھر سے کڑوٹ لی تھی،،،
وہ اسی طرح بیڈ پر بیٹھی تھی جب شافع کمرے میں داخل ہوا اسنے فوراً اپنی آنکھیں صاف کیں شافع نے اسے دیکھ لیا تھا لیکن کہا کچھ نہیں،،، وہ خاموشی سے آکر اسٹڈی ٹیبل پر بیٹھ گیا اور اپنی کچھ فائلیں الٹ پلٹ کرنے لگا،،، شافع اسی مصروف سے انداز میں بولا نور میں سوچ رہا ہوں حویلی کے لئے ہم صبح پانچ بجے نکلیں…. نور حیرت سے بولی لیکن اتنی صبح کیوں ویسی ہی سردیوں کا موسم ہے کافی اندھیرا ہوگا…. شافع اسکی طرف گھوم کر بولا تبھی تو بول رہا ہوں تمھے نہیں پتا راستہ کتنا خوبصورت لگے گا… نور کندھے اچکا کر بولی دیکھ لو جیسا تمھے ٹھیک لگے…. شافع مسکرایا،،، نور نے اس سے پوچھا تم تو جاتے رہتے ہونگے وہاں…. اچانک شافع کا چہرہ سپاٹ ہوا پھر سانس کھینچتے ہوئے بولا نہیں جب دس سال کا تھا تب تک جاتا تھا اسکے بعد سے اب تک صرف دو دفعہ گیا ہوں نور کو حیرت ہوئی لیکن کیوں؟ شافع نے اسکا سوال نظر انداز کیا تم نے اپنا بیگ پیک کر لیا؟ نور نے آہستہ سے اثبات میں سر ہلایا،،، وہاں پر کون کون رہتا ہے شافع؟ شافع اپنی فائل کھولتا ہوا بولا دادو چاچو، چچی ہیں میرے چاچو کے دو بیٹے ہیں بڑے بیٹے کی شادی ہوئی وی ہے اسکی فیملی بھی وہیں ہوتی ہے چھوٹا بیٹا گوہر پڑھائی کے سلسلے میں باہر ہوتا ہے بس ختم ہونے والی ہے اسکی بھی پڑھائی اور چاچو کی بیٹی ارحام،،،
نور دلچسپی لیتے ہوئے بولی اور ارحام کیا کرتی ہے؟ شافع مصروف سے انداز میں بولا اسنے بی،ایس،سی کیا ہے گھر پر ہی ہوتی ہے اب…..! نور نے گردن ہلائی ہممم اچھا…. پھر شافع کی طرف دیکھ کر بولی شافع…….! شافع فائل پر نظر دوڑاتا ہوا بولا ہمممم؟؟؟ نور اپنی انگلیاں ایک دوسرے سے الجھاتے ہوئے بولی میرے وہاں جانے سے کسی کو کوئی اعتراض تو نہیں ہوگا؟ میرا مطلب ہے ہماری شادی اسطرح ہوئی پھر تمھاری دادو تمھاری شادی ارحام سے کروانا چاہتی تھی تو…. شافع نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا نور خاموش ہوگئ،،،
شافع نے فائل ٹیبل پر رکھی اور اسکے پاس آکر بیٹھا اور اسکے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے بولا تم وہاں میری بیوی کی حیثیت سے جارہی ہو اور کسی میں اتنی ہمت نہیں کہ شافع وارثی کی بیوی کو کچھ کہے ہاں دادو کچھ نہ کچھ ضرور کہیں گی لیکن میں سب سنبھال لوں گا اور تم انکی کوئی بات دل پر لے کر مت بیٹھ جانا،،،
نور اسکی طرف دیکھ کر بولی اور تمھارے چاچو چاچی انھے میرا وہاں آنا برا نہیں لگے گا؟ شافع اسکے ہاتھوں پر گرفت مضبوط کرتے ہوئے بولا تم اس سب کی فکر مت کرو میں ہوں نہ سب کو جواب دے میں ہوں گا تم پر انگلی اٹھانے کا موقع میں کسی کو نہیں دوں گا میں نے چاچو کو بتا دیا ہے کہ ہم کل آرہے ہیں وہ تو بہت خوش ہیں، نور مسکرائی شافع گردن جھکاتا ہوا بولا نور میں وہاں اب بھی نہیں جاتا لیکن مجھے زایان کی وجہ سے جانا پڑھ رہا ہے میں کیا کروں اس سے محبت ہی ایسی ہے کہ ہر کام کروا لیتا ہے اسلئے وہاں پر کون کیا کہتا ہے کون کیا چاہتا ہے تمھے ان سب باتوں کو اپنے ذہن پر سوار نہیں کرنا سمجھیں؟ نور نے مسکراتے ہوئے اثبات میں گردن ہلائی شافع نے پیار سے اسکے گال پر ہاتھ رکھا، اتنے میں ڈور بیل بجی، شافع نے آنکھیں گھمائیں اس وقت کون آسکتا ہے؟ میں دیکھتا ہوں یہ بولتا ہوا شافع باہر آگیا،،،،
شافع نے دروازہ کھولا تو سامنے
“The greatest innocent Zayan Haider”
کھڑے تھے شافع نے جیسے ہی دروازہ کھولا زایان اسکے گلے لگا اور بڈی… وہ الگ ہوا تو شافع حیرت سے بولا تم اس وقت زایان؟ شافع دروازے پر ہی کھڑا تھا زایان اندر آتے ہوئے بولا ہاں تو کیا ہوا یار اپنے گھر میں آتے ہوئے بھی کوئی وقت دیکھتا ہے؟ شافع دروازہ بند کر کے اسکے پیچھے آیا ہاں وہ تو ٹھیک ہے لیکن یوں اچانک آنے کا پروگرام کیسے بن گیا؟ زایان آنکھیں اوپر نیچے کرتے ہوئے بولا کیوں تمھارے رومینس میں خلل پیدا کر دیا کیا؟ میں نے شافع نے ایک مکا گھما کر اسکے منہ پر مارا، زایان اپنا منہ پکڑتے ہوئے بولا سالے اتنی زور سے مارا ہے اسنے بھی پلٹ کر اتنی ہی زور سے شافع کے پیٹ میں گھونسا مارا زایان نے جیسے ہی شافع کو مارا نور اسی وقت کمرے سے باہر نکلی اسنے زایان کو مارتے ہوئے دیکھ لیا تھا،،،،
اسکی آنکھیں پھٹیں وہ زایان کو دیکھ کر چینختے ہوئے بولی یہ کیا کر رہے ہو زایان تم؟ اور تیزی سے شافع کی طرف بڑھی زایان کی تو ہوائیاں ہی اڑ گیئں وہ بوکھلاتے ہوئے بولا میں وہ ….. میں تو بس….. زایان فوراً شافع کی طرف دیکھ کر بولا سالے بتانا ہمارا یہ چلتا رہتا ہے… شافع ہنستہ ہوا بولا نور ڈونٹ وری ہمارا یہ چلتا رہتا ہے شافع نے یہ لفظ کہے تو اسکی جان میں جان آئی لیکن شافع کے اگلے لفظوں نے اسکی جان وآپس کھینچ لی جب شافع نور سے بولا
لیکن اسنے مجھے ابھی فضول میں مارا ہے اور کافی زور سے مارا ہے،،، زایان نے شافع کو کھا جانے والی نظروں سے گھورا،،، نور زایان کو دیکھتے ہوئے بولی تم کیا مار پیٹ کرنے آئے ہو زایان؟ شافع نور کے پیچھا کھڑا زایان کو منہ چڑھا رہا تھا زایان کسی بچے کی طرح لڑتے ہوئے بولا اسنے پہلے مجھے مارا تھا اور اتنی زور سے مارا تھا وہ بھی منہ پر اگر میرے دانت ٹوٹ جاتے تو میں کھانا کیسے کھاتا؟ شافع ہنستا ہوا بولا فکر کیوں کر رہے ہو ارحام آجاتی نہ پھر وہ تمھے کھانا پیس پیس کر کھلاتی تاکہ چبانے کی ضرورت ہی نہ پڑھے،،، زایان نے شافع کو گھورا،،، شافع اسکے گلے میں ہاتھ ڈال کر صوفے کی طرف بڑھا اب یہ پکوڑے جیسا منہ مت بناؤ….
زایان سیدھا ہوتے ہوئے بولا پکوڑوں سے یاد آیا یار تمھے وہ پارک کے قریب چائے کا ٹھیلا یاد ہے وہ اب پکوڑے اور سموسے بھی بیچتا ہے کھانے چلیں کیا؟ نور انکے سامنے ہی بیٹھ گئی،،، شافع نے زایان کے سر پر مارا اتنی سردی میں ہم پاگلوں کی طرح ڈنر کے وقت پکوڑے کھانے جائیں،،،، زایان نے آنکھیں گھمائیں…. پھر صوفے پر ٹانگیں پھیلاتے ہوئے بولا اچھا تم لوگوں نے ڈنر کر لیا کیا؟ شافع نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولا نہیں ابھی تو نہیں کیا…. زایان ہاتھ ملتے ہوئے بولا تو کب کرو گے؟ شافع بولا نور ابھی بس پاستہ بنانے ہی جارہی تھی،،، زایان کے منہ میں پانی آیا وہ نور کی طرف دیکھ کر بولا تو جاؤ نور گھر پر مہمان آئے ہیں مہمانوں کو کھانے کے لئے انتظار نہیں کرواتے شافع ہنسہ،،، آئےنور ادھر ادھر گردن گھماتے ہوئے بولی کہاں ہیں مہمان؟ زایان کا چہرہ سپاٹ ہوا وہ اپنی طرف اشارہ کر کے بولا یہ اتنا بڑا ہینڈسم سا مہمان لڑکا تمھے نظر نہیں آرہا…. نور نے آنکھیں گھما کر کہا اوہ تو تم،، زایان گردن ہلا کر بولا ہاں ہاں میں اب جاؤ بھی بنانے،،، نور بھنویں اٹھا کر بولی زایان ہم انسانوں کے جتنا نارمل کھانا کھاتے ہیں تمھاری خوراک کے جتنا کھانا ہمارے یہاں نہیں ہوگا،،،، زایان شافع کی طرف دیکھ کر بولا “یار تمھاری بیوی مجھے سیدھا سیدھا بےعزت کر کے بغیر کھائے جانے بول رہی ہے” شافع کندھے اچکا کر بولا تو تمھے کونسا بے عزتی محسوس ہوئی ہوگی،،، زایان بالوں میں ہاتھ پھیر کر بولا ہاں یہ بھی صحیح بات ہے چلو نور پھر اسی بات پر اٹھو اور جاکر اچھا سا پاستہ بناؤ میں صرف چار پلیٹ کھاؤں گا باقی تم اپنا اپنا دیکھ لینا…. نور نے پہلے زایان کو گھورا اور پھر شافع کو پھر اٹھ کر کچن کی طرف چلی گئی،،،،،
زایان شافع کے قریب آکر بولا یہ ایناکونڈا کھانے میں زہر تو ملا کر نہیں دیتی؟ نور نے سن لیا تھا اسنے مڑ کر خونخوار نظروں سے زایان کو دیکھا زایان فوراً ٹی وی آن کرتے ہوئے بولا یار شافع میں یہ بول رہا تھا باہر ملکوں میں لوگ سانپ بچھو بھی کھاتے ہیں یار مطلب اتنا بھی کیا کھانے کے پیچھے مرنا نور نے دانت پیس کر اسے دیکھا اور کچن میں چلی گئی شافع نے اپنی ہنسی ضبط کی وہ چلی گئی تو زایان نے سکھ کا سانس لیا،،، اور شافع کی طرف دیکھ کر بولا بہت خطرناک ہے بھائی یہ اپنے پرانے روپ میں وآپس آرہی ہے بچ کے رہنا کہیں رات میں تمھارا گلا نہ دبا دے،،،، شافع نے قہقہہ لگایا،،، اور اسکی ٹانگ پر ہاتھ مارتا ہوا بولا تم یہ سب چھوڑو یہ بتاؤ اس وقت کیسے آئے،،، زایان منہ بناتے ہوئے بولا یار پہلے تو میں آدھی رات کو بھی آجاتاہے تھا تب تو تم ایسے نہیں پوچھتے تھے اور ابھی صرف نو ہی بجے ہیں اور تم بار بار ایسے پوچھ رہے ہو،،، شافع ہنستہ ہوا بولا ارے میں تو ایسی پوچھ رہا تھا یار منہ کیوں بنا رہے ہو؟ زایان نے ہنہہ کیا،،،
زایان ٹی وی چینل گھماتے ہوئے بولا ویسے یار تمھاری بیوی میں بالکل سلیقہ نہیں ہے مجھے آئے ہوئے پورے پندرہ منٹ ہوگئے ہوں گے لیکن تمھاری بیوی نے نہ پانی کا پوچھا نہ جوس کا،،، شافع گردن ہلاتے ہوئے بولا میں ابھی تمھارے لئے پانی لاتا ہوں زایان نے اسکے سر پر مارا پانی بولا تھا وہ سن لیا جوس جو بولا تھا وہ نہیں سنا؟ شافع ہنسا اچھا بھائی جوس بھی لے آتا ہوں،،، شافع کھڑا ہونے لگا تو زایان نے اسکا ہاتھ کھینچ کر وآپس بٹھایا،،،
تم کیوں جاؤ گے نور سے منگواؤ نہ مطلب یار روب بھی کوئی چیز ہوتی ہے تم تو پورے ہی پگھل رہے ہو…. شافع نے بھنویں میچیں اور اٹھتا ہوا بولا یہ روب تم ارحام پر چلا لینا میں تو زن مرید ہی ٹھیک ہوں،،،، زایان کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے بولا شافع تم سے تو مجھے یہ بالکل امید نہیں تھی مطلب شادی کو دن ہی کتنے ہوئے ہیں جو تم سالار سکندر بننے کی کوشش کر رہے ہو،،، شافع نے ہنستے ہوئے تعجب سے پوچھا کون سالار سکندر؟ زایان بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا ارے ہے ایک لڑکیاں پاگل ہیں اسکے پیچھے…. شافع نے رک کر دلچسپی سے پوچھا کونسی فلم کا ہیرو ہے؟ زایان ہنسہ فلم کا ہیرو نہیں ناول کا ہیرو ہے ہماری کلاس کی ایک لڑکی بڑا رو رہی تھی اسکے لئے تب مجھے پتا چلا اس سالار سکندر کے بارے میں شافع نے کوفت سے منہ پر ہاتھ رکھا اور اووففف کرتے ہوئے سر پیچھے کیا…. پھر نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولا کوئی ہل نہیں ہے بھائی،،،، یہ بولتے ہوئے وہ کچن کی طرف گیا….
آئےنور پاستہ بنانے میں مصروف تھی شافع نے فریج کھولتے ہوئے پوچھا میں کوئی ہیلپ کر واؤں؟ نور نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولی نہیں بس ایک کام یہ کر دینا کہ زایان کو کہنا انسانوں جتنا کھائے کیونکہ میں نے انسانوں کے حساب سے ہی پکایا ہے…. شافع ہنسہ زایان نے شافع کو آواز لگائی یار شافع جلدی آجاؤ بعد میں باتیں کر لینا،،، نور نے اسے دور سے لاؤنج میں بیٹھا دیکھ کر گھورا شافع لاؤنج کی طرف بڑھا اور دور سے ہی جوس کا کین اسکی طرف پھینکا،،، زایان نے کیچ کرتے ہوئے حیرت سے کہا صرف ایک اور کہاں ہیں؟ شافع نے اسکے سر پر مارتے ہوئے کہا چپ کر کے پیو..
زایان منہ بناتے ہوئے بولا تم بدل گئے ہو یار،،،، شافع اسکی باتوں کا اثر لئے بغیر بولا فکر مت کرو تم بھی بدل جاؤ گے شادی کے بعد، زایان آنکھیں بڑی کرتے ہوئے بولا سوچ ہے تمھاری کے زایان حیدر کبھی بدلے گا،،، شافع اسکے گلے میں ہاتھ ڈالتے ہوئے بولا یہ تو وقت بتائے گا میری جان.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ دیر بعد نور ٹیبل لگا کر لاؤنج میں آئی کھانا لگا دیا ہے میں نے تم لوگ آجاؤ،،، زایان پہلی فرصت میں اٹھا اور سیدھا ڈائننگ ٹیبل کی طرف جانے لگا،،، شافع اور نور بھی اسکے پیچھے پیچھے ٹیبل تک پہنچے،،، وہ تینوں بیٹھ گئے تو زایان نے خود ہی ڈش کا ڈھکن کھول لیا، اور پاستے کی شکل دیکھتے ہوئے بولا،،،، ارے نور تم نے اسکے اوپر چیز نہیں ڈالی؟
نور نے پہلے اسے گھورا پھر بولی میں نے ساس میں چیز ڈالی ہے مجھے زیادہ چیز نہیں پسند، زایان اپنی پلیٹ میں نکالتے ہوئے بولا تو تمھے نہیں پسند نہ مجھ سے پوچھنا تھا مجھے پسند ہے، نور نے اسے گھورا شافع نے اپنی ہنسی ضبط کی وہ جانتا تھا نور دل پر پتھر رکھ کر زایان کو برداشت کر رہی ہے زایان اپنی پلیٹ بھرنے کے بعد بولا ارے تم لوگ ایسے کیوں بیٹھو ہو کھاؤ نہ یار تمھارا اپنا گھر ہے شافع نے ہنستے ہوئے اثبات میں گردن ہلائی اور نور کی پلیٹ میں سرو کیا پھر اپنی پلیٹ میں، زایان پاستہ کا دوسرا نوالہ لیتے ہوئے بولا ویسے نور پاستہ بنا اچھا ہے لیکن تم نے چکن ،اور چیز تھوڑی کم ڈالی ہے… نور اسے گھورتے ہوئے بولی ہاں میں نے ہمارے حساب سے ڈالی تھی ہمیں نہیں پتا تھا نہ کہ تم آجاؤ گے،،، زایان نے بھنویں میچ کر اسے گھورا، دیکھو تم چاہے مجھے جتنی بھی جلی کٹی سنا لو لیکن کھانا چھوڑ کے تو میں پھر بھی نہیں اٹھوں گا کیونکہ میں رزق کی بےعزتی نہیں کرتا،،، نور دانت پیس کر مسنوعی مسکرا کر بولی کس نے کہا کہ میں تمھے اٹھانا چاہتی ہوں یہ سب تمھارے لئے تو بنایا ہے تم نہیں کھاؤ گے تو کون کھائے گا….؟
زایان نے دانت نکالے شکریہ،،، اور وآپس کھانے میں مصروف ہوگیا، شافع نے ہنستے ہوئے نور کو کھانا شروع کرنے کا اشارہ کیا اور خود بھی کھانے لگا، زایان کھانا کھاتے ہوئے ہی شافع سے بولا، یار پھر تم کل جارہے ہونا کہیں ارادہ بدل لیا ہو… شافع اثبات میں سر ہلاتے ہوئے بولا ہاں بھائی جارہا ہوں صبح پانچ بجے ہی نکل جاؤں گا اب خوش،،، زایان مسکرایا یہ ہوئی نہ بات….
زایان اپنی پلیٹ خالی کر کے دوسری بار لینے کی تیاری کر رہا تھا جب نور نے اس سے پوچھا زایان تم گھر سے آئے ہو یا کہیں گئے تھے،، زایان کھاتے ہوئے مصروف سے انداز میں بولا نہیں گھر سے ہی آیا ہوں ڈنر کرنے کے بعد میں کیفے کے لئے نکلا تھا پھر سوچا اس طرف آجاؤں تو یہاں آگیا،،، نور کا کھاتے ہوئے ہاتھ روک گیا اور اسکی پلیٹ کی طرف دیکھتے ہوئے بولی تم ڈنر گھر سے کر کے آئے تھے؟ زایان گردن اثبات میں ہلاتے ہوئے بولا ہاں نور نے دانت پیس کر شافع کی طرف دیکھا،،، شافع نے ہنستے ہوئے اسے چپ رہنے کا اشارہ کیا نور خاموش ہوگئی،،، کھانے سے فارغ ہو کر شافع کی فرمائش پر نور نے کافی بنائی،،، شافع اور زایان بالکنی میں بیٹھے تھے، سردیوں کا موسم اپنے ابتدائی مرحلوں پر تھا لیکن موسم کی شروعات بتا رہی تھی کہ اس دفعہ سردی زیادہ پڑنے والی ہے، نور کافی کی ٹرے لے کر بالکنی میں آئی ٹھنڈ کی کھنک نے اسکے چہرے کو چھوا، نور ٹرے ٹیبل پر رکھتے ہوئے بولی سردی ہورہی ہے تم لوگ یہاں کیوں بیٹھے ہو؟ زایان کافی کا کپ اٹھاتے ہوئے بولا ابھی تو سردی ٹھیک سے شروع بھی نہیں ہوئی اور تمھے سردی لگ رہی ہے؟ نور چائے کے کپ کو دونوں ہاتھوں میں لے کر گرمائی لینے لگی، نور دور موجود سمندر کو دیکھتے ہوئے بولی مجھے سردی زیادہ ہی لگتی ہے،،،، شافع نے اپنی کافی کا سپ لیا پھر آنکھیں میچ کر منہ میں موجود کافی کو حلق سے اتارا نور تم نے پھر چینی ڈال دی یار،،،
آئےنور کندھے اچکا کر بولی مجھے یاد ہی نہیں رہا،،، لیکن شافع جانتا تھا کہ اسنے جان پوچھ کے چینی ڈالی ہے
زایان نے قہقہہ گایا، اسے لگا تھا اب شافع یہ کافی کا کپ رکھ دے گا اور نہیں پئے گا لیکن کچھ ہی دیر میں اسنے دوبارہ کافی کا کپ لبوں سے لگالیا،،، زایان آنکھیں پھاڑ کے بولا ارے تم میٹھی کافی پی رہے ہو پہلے تو اگر کبھی کوئی غلطی سے بھی شافع کی کافی میں چینی ڈال دیتا تھا تو پہلے تو وہ کافی بنانے والے کو سناتا تھا پھر وہ کافی پیئے بغیر ہی وآپس بھجوا دیتا تھا…
شافع مسکراتے ہوئے کندھے اچکا کر بولا، اب بیوی نے بنائی ہے تو پینی تو پڑھے گی،، زایان آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے بولا یا میرے مولا مجھے ایسا زن مرید بننے سے بچائیو،،، شافع نور کی طرف دیکھتے ہوئے بولا اسے زن مریدی نہیں محبت کہتے ہیں… زایان کافی ختم کرتے ہوئے بولا تم کچھ بھی بولو میری جان میری نظر میں اسے زن مریدی ہی کہتے ہیں ایک قہقہہ بلند ہوا،،،
زایان اپنے ہاتھ میں موجود گھڑی دیکھتے ہوئے کھڑا ہوا گیارہ بجنے والے تھے، اچھا بھئی اب میں چلتا ہوں پھر نور کی طرف دیکھتے ہوئے بولا نور تم نے مجھے دل میں جتنی بھی گالیاں دیں اسکا بہت شکریہ لیکن مجھے کوئی فرق نہیں پڑھنے والا،،، نور ہنسی شافع نے بھی اپنی کافی ختم کر کے کپ رکھا اور زایان کو چھوڑنے باہر جانے لگا نور کا کپ ابھی بھی آدھا بھرا ہوا تھا وہ وہیں بیٹھ گئی،،،،
شافع زایان کو دروازے تک چھوڑنے آیا زایان شافع سے بولا اچھا یار پھر تم مجھ سے رابطے میں رہنا اور پلیز بھائی سب کو منا کر ہی مجھے فون کرنا… شافع اس سے گلے ملتے ہوئے بولا تم فکر مت کرو تمھاری شادی کروا کر ہی دم لوں گا اب زایان نے الگ ہوتے ہوئے اسکا ہاتھ تھاما اور مسکراتے ہوئے بولا میں جانتا ہوں…. زایان مسکراتے ہوئے دوبارہ اسکے گلے لگا اور چلا گیا،،،
شافع دروازہ بند کر کے وآپس بالکنی میں آیا،،، نور کافی کا کپ ہاتھ میں لئے سوچوں میں گم تھی، شافع نے پیچھے سے آکر اسکے دونوں بازو پر ہاتھ رکھے تو وہ جیسے ہوش میں آئی شافع اسکے کندھے پر پھیلا ہوا دوپٹہ ٹھیک کرتے ہوئے بولا کیا سوچ رہی ہو؟ نور نے مسکراتے ہوئے نفی میں گردن ہلائی کچھ بھی نہیں، شافع نے مسکراتے ہوئے اسکے بازو سہلائے اب سردی نہیں لگ رہی؟ نور بچی ہوئی کافی ختم کرتے ہوئے بولی نہیں اب اچھا لگ رہا ہے… شافع مسکرایا…
ہاں اچھا تو لگ رہا ہے لیکن ساری رات ادھر بیٹھ کر تو نہیں گزار سکتے…. صبح جلدی اٹھنا بھی ہے سو جاؤ اب چل کر نور نے اثبات میں سر ہلایا تم چلو میں آتی ہوں…,
شافع نے پیچھے سے اسکے سر پر پیار کیا، ٹھیک ہے میں سونے جارہا ہوں تم بھی آجاؤ… شافع مسکراتے ہوئے وہاں سے چلا گیا،
نور رات کے اندھیرے میں دور تھاٹے مارتے سمندر کو کچھ دیر یوں ہی دیکھتی رہی اچانک اسے سردی کا احساس ہونے لگا، شاید رات ہونے کے ساتھ ساتھ سردی بھی بڑھ رہی تھی، اسنے کھڑے ہوتے ہوئے کپ اٹھائے اور اندر آگئی کپ اسنے کچن میں آکر دھو کے رکھ دیئے اور کمرے میں سونے چلی گئی،،،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چار بجے کے قریب آلارم بجا، شافع کی آنکھ پہلی ہی آواز پر کھل گئی اسنے موبائل اٹھا کر آلارم بند کیا اور نور کی طرف مڑ کر دیکھا وہ ابھی بھی سو رہی تھی، اسنے نور کا بازو ہلاتے ہوئے کہا نور اٹھ جاؤ، نور تکیہ منہ پر رکھ کر نیند کی ہی کیفیت میں بولی کیوں؟ شافع نے آنکھیں گھمائیں جانا نہیں ہے کیا؟ نور آنکھیں کھولے بغیر بولی مجھے نیند آرہی ہے، شافع بیڈ سے اترتے ہوئے بولا ٹھیک ہے پھر تم سوتی رہو میں اکیلا چلا جاؤں گا نور نے اسکی بات کا کوئی جواب نہیں دیا شافع اٹھ کر ورڈ روب کی طرف گیا، اور اپنی سفید شلوار قمیض نکال کر باتھ روم کی طرف بڑھ گیا جاتے جاتے وہ کمرے کی ساری لائٹیں آن کر گیا تھا تاکہ نور اٹھ جائے لیکن کچھ دیر بعد جب وہ چینج کر کے باہر آیا تب بھی نور سو رہی تھی اٹھی نہیں تھی،، شافع نے سر پر ہاتھ رکھا اور اسے آواز لگائی نور اٹھ جاؤ یار جانا نہیں ہے کیا؟ نور کچھ نہیں بولی سوتی ہی رہی شافع کو پتا تھا اس وقت اسکا اٹھنے کا کوئی موڈ نہیں ہے، شافع نے آگے آکر اسکے منہ پر سے تکیہ ہٹایا اور اپنا سر نیچے کر کے اپنے بالوں پر زور زور سے ہاتھ پھیرا نور کے منہ پر پانی کی چھینٹیں گریں تو وہ چینختی ہوئی اٹھی شافع یہ کیا کر رہے ہیں شافع ہنستے ہوئے بولا تمھے جگانے کی کوشش نور آنکھیں مسلتے ہوئے بولی اسطرح کوئی جگاتا ہے کیا؟ شافع ڈریسنگ کے سامنے جاتے ہوئے بولا دیر ہو رہی ہے اسلئے نور نے گھڑی کی طرف دیکھا چار بج کے پندرہ منٹ ہوئے تھے نور نے شافع کو گھورا شافع تمھارا دماغ خراب ہے ہم اتنی رات میں نکل کے کیا کریں گے؟ شافع اپنا کالر سیٹ کرتا ہوا بولا اسے رات نہیں صبح کہتے ہیں، اور میں نے تمھے کہا تھا کہ سو جاؤ جلدی نکلنا ہے لیکن تمھے تو دیر رات تک موبائل پر ناول پڑھنے سے فرصت نہیں تھی نور منہ بناتے ہوئی بیڈ سے اتری،،، اور ورڈ روب میں سے اپنے کپڑے نکال کر باتھ روم کی طرف چلی گئی،،،،
کچھ دیر بعد جب وہ نکلی تو شافع لیپ ٹاپ نکالے بیٹھا تھا نور نے اسے خفگی سے دیکھا اب یہ کونسا وقت ہے لیپ ٹاپ لے کر بیٹھنے کا اب تمھے دیر نہیں ہو گی؟ شافع کھٹا کھٹ ٹائپنگ کرتا ہوا بولا بس یار ایک ضروری ای میل کرنا تھا،،، تم جب تک تیار ہو، نور نے اسے خفگی سے دیکھا اور پھر ڈریسنگ کے سامنے آکر بالوں پر کنگھا پھیرنے لگی،،، کچھ دیر بعد اسنے شافع کی طرف مڑ کر پوچھا ناشتہ بناؤں؟ شافع کا کام ہوگیا تھا وہ لیپ ٹاپ بند کرتے ہوئے بولا نہیں باہر سے کر لیں گے بس تم تیار ہو جاؤ جلدی سے نور نے اثبات میں سر ہلایا،،،، وہ پہلی بار شافع کے کسی رشتے دار سے ملنے جارہی تھی اسلئے اسنے اپنی طرف سے پوری تیاری کی اسکے ہاتھ میں تہمینہ بیگم کے دیئے ہوئے کڑے تھے اور گلے میں شافع کا دیا ہوا پینڈنٹ، کانوں میں اسنے اپنے ذاتی چھوٹے اور خوبصورت سے جھمکے ڈال لئے تھے اپنے گیلے بالوں کو ہی اسنے ڈھیلے سے جوڑے کی شکل میں لپیٹ لیا اور دوپٹا سر پر لے کر اسکارف کی طرح باندھنے لگی اسنے بلو اور پنک کلر کی خوبصورت سی شلوار قمیض پہنی ہوئی تھی، اسکارف باندھ کر وہ شافع کی طرف مڑی میں تیار ہوں،،، شافع کھڑے ہوتے ہوئے بولا وہاں ہینگر پر میری واسکٹ لٹکی ہوگی لے آؤ ذرا،، نور نے اثبات میں سر ہلایا اور واسکٹ اسکی طرف بڑھائی شافع نے اسکے ہاتھ سے واسکٹ لینے کے بجائے اسے معنی خیز نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا تم پہنا سکتی ہو حق ہے تمھے یہ بولتے ہی وہ گھوم گیا،،، آئے نور نے اسے واسکٹ پہنائی آئے نور اسکی واسکٹ کے بٹن لگا رہی تھی شافع کی نظریں اسکے چہرے پر ٹکی ہوئی تھیں اور آئےنور حسبِ معمول اسکی طرف دیکھنے سے گریز کر رہی تھی، نور واسکٹ کے بٹن لگاتے ہوئے بولی آج تم نے اپنا تھری پیس سوٹ نہیں پہنا، شلوار قمیض پہن لی،،، شافع ہنسا میں آفس یا میٹنگ میں نہیں جارہا میڈم… میں موقع کی مناسبت سے کپڑے پہنتا ہوں لیکن شاید تمھے میں اسطرح اچھا نہیں لگ رہا،،، نور فوراً اسکی طرف دیکھ کر بولی میں نے ایسا تو نہیں کہا،،، شافع بھنویں اٹھاتے ہوئے بولا تو پھر بتاؤ کیسا لگ رہا ہوں؟ نور اسکا کالر ٹھیک کرتے ہوئے بولی بس ٹھیک لگ رہے ہو….
شافع نے اثبات میں گردن ہلائی اچھا بس ٹھیک لگ رہا ہوں؟ لیکن ایک لڑکی نے مجھے کہا تھا کہ تم شلوار قمیض میں زیادہ ہینڈسم لگتے ہو، نور نے بھنویں اٹھا کر اسے گھورا، کونسی لڑکی؟
شافع ڈریسنگ کی طرف گیا اور خود پر پرفیوم چھڑکتے ہوئے بولا تھی کوئی لیکن تمھے اس سے کیا؟ نور نے اسے دکھانے کے لئے لاپرواہی سے کندھے اچکائے ہاں مجھے کیا، جبکہ اسکے اندر سے دھنویں اٹھ رہے تھے، شافع نے اپنی ہنسی ضبط کی، چلیں اب؟ نور چادر سنبھالتے ہوئے کندھے اچکا کر بولی چلو،،، شافع نے اسکا اور اپنا بیگ اٹھا کر لاؤنج میں رکھا اور سارے کمرے لاک کرنے لگا، نور تجسس سے پوچھنے لگی ہم وہاں کب تک پہنچیں گے شافع؟ شافع ہنستا ہوا بولا ابھی تو نکلیں بھی نہیں ہیں تو پہنچیں گے کیسے؟ نور پرجوش بھی تھی لیکن ڈری ہوئی بھی تھی کہ ناجانے وہاں سب اسکے ساتھ کیسا برتاؤ کریں گے، سارے لاک لگانے کے بعد شافع اسے لے کر باہر آیا،،، اور گاڑی میں پیچھے سامان رکھنے لگا نور آگے پیچھے نظریں گھماتے ہوئے بولی کوئی ہمیں دیکھے تو سوچے گا کہ ہم چوروں کی طرح کہاں جارہے ہیں وہ بھی اس وقت،،، شافع نے نور کی طرف کا دروازہ کھول کر اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا اور دوسری طرف سے خود آکر بیٹھ گیا، تو سوچنے دو جس نے جو سوچنا ہے ہم دوسروں کی فکر کیوں کریں شافع نے گاڑی ریورس لی اور روڈ کی طرف نکال لی مین روڈ پر آتے ہی سردی کا احساس بڑھنے لگا نور نے فوراً گاڑی کا شیشہ اوپر چڑھا کر اپنی چادر کو ٹھیک سے لپیٹا شافع ہنستا ہوا بولا ابھی سے اتنی سردی لگ رہی ہے وہاں گاؤں میں تو زیادہ سردی ہوگی،،، نور باہر دیکھتے ہوئے بولی مجھے کچھ زیادہ ہی سردی لگتی ہے،،،
نور باہر دیکھ رہی تھی ہر طرف سناٹا چھایا ہوا تھا نور نے پھر اس سے پوچھا شافع ہم کب تک پہنچیں گے؟ شافع ہنسا پہنچ جائیں گے یار چار پانچ گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد…. نور اسکی طرف مڑکر آنکھیں پھاڑ کے بولی تو اتنے گھنٹوں تک میں جاگی رہوں؟ اس سے اچھا میں سو نہ جاؤں، نور نے سیدھے ہو کر سیٹ سے ٹیک لگائی اور سونے کی تیاری پکڑی،،، شافع نے اسکا ہاتھ کھینچا اور اسے سیدھا کیا خبردار جو تم سوئیں میں پاگل ہوں ڈرائیو کرتا رہوں اور تم مزے سے سوتی رہو، نور اسے گھور کر بولی تو ڈرائیو تم کر رہے ہو مجھے تو سونے دو،،، شافع نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولا تم سوؤ گی تو مجھے بھی نیند آئے گی اور میں نہیں چاہتا کہ نیند کے جھونکوں کی وجہ سے ہمارا ایکسیڈنٹ ہو جائے،،،،
نور فوراً بولی اللہ نہ کرے سفر کے دوران ایسی فضول باتیں نہیں کرتے… شافع اسکی طرف دیکھ کر شرارت سے بولا تو تم کرو نہ اچھی اچھی باتیں… نور ہلکا سا مسکرائی، پھر ٹھہر کر بولی تم مجھے اپنے بچپن کے بارے میں بتاؤ نہ تم بچپن میں گاؤں میں رہتے تھے؟ شافع کا چہرہ سپاٹ ہوگیا وہ ڈرائیو کرتے ہوئے نفی میں سر ہلا کر بولا نہیں رہتے تو شہر میں ہی تھے لیکن بابا کا حویلی زیادہ آنا جانا تھا کیونکہ اس وقت وہ سیاست میں تھے،،، نور نے اثبات میں سر ہلایا اوہ اچھا،اور خاموش ہوگئی،،، کچھ دیر کی خاموشی کے بعد شافع اسکی طرف دیکھ کر بولا کیا ہوا چپ کیوں ہوگئیں کیا سوچ رہی ہو؟ نور نے فوراً سر جھٹکا اور نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولی نہیں کچھ بھی نہیں،،، لیکن شافع جانتا تھا کہ وہ کیا سوچ رہی ہے، تم میرے اور میرے بابا کے تعلقات کے بارے میں سوچ رہی ہونا کہ آخر کیوں ہم ایک دوسرے سے اتنا دور ہیں،،، نور کچھ نہیں بولی خاموش رہی پھر ٹھہر کر بولی سوال تو بہت ہیں شافع لیکن میں چاہتی ہوں کہ جب تمھے وقت مناسب لگے تب تم سب بتاؤ….
شافع ڈرائیو کرتے ہوئے سامنے دیکھ کر بولا مجھے مناسب وقت کا انتظار نہیں ہے نور بھنویں اٹھا کر بولی تو پھر؟ شافع نے سانس کھینچا٬ مجھے ڈر ہے میں تمھارے سامنے ٹوٹ جاؤں گا، نور نے نرمی سے اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھا شافع نے اپنے ہاتھ پر موجود نور کا ہاتھ دیکھا نور اسکے چہرے کی طرف دیکھ کر بولی تم فکر مت کرو میں ٹوٹ کر بکھرنے سے پہلے ہی تمھے سنبھال لوں گی بھروسہ تو کر کے دیکھو….
شافع نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلایا، نور خاموش ہوگئی، کچھ لمحے گزر جانے کے بعد شافع نے ڈیش بورڈ سے اپنا موبائل اٹھایا اور کچھ ڈھونڈنے لگا کچھ سیکنڈ بعد اسنے ایک تصویر آن کی، شافع نے فوراً اپنی پلکھیں جھپکائیں، پھر ایک لمبا سانس لے کر موبائل نور کی طرف بڑھا دیا، نور نے حیرانگی کے عالم میں موبائل اسکے ہاتھ سے لیا اور اس تصویر کو دیکھا،،،
“وہ ایک بہت ہی خوبصورت لڑکی کی تصویر تھی، انھوں نے پٹھانی طرح کا لباس اور زیور زیب تن کیا ہوا تھا وہ بلا کی خوبصورت تھیں دودھیا رؤئی نما گال کھڑی ناک اور تیکھے نین نقش ہاں لیکن انکی آنکھیں شافع کے جیسی تھیں یا شاید شافع کی آنکھیں انکے جیسی تھی “ہلکی بھوری کانچ جیسی” انکے چہرے پر ایک زندگی سے بھرپور مسکراہٹ تھی، اور انکے پیچھے قدرت کا حسین منظر اس تصویر میں اس لڑکی کے پیچھے ہرے بھرے پہاڑ تھے اور وہ خود ایک پتھر پر ہاتھوں میں مسکراتا ہوا چہرہ دیئے بیٹھی تھیں،،، اس تصویر کی رنگت دیکھ کر معلوم ہوتا تھا کہ تصویر خاصی پرانی ہے،،،
وہ تصویر دیکھ کر نور چینختے ہوئے بولی میں اسی تصویر کے بارے میں تو تم سے پوچھ رہی تھی، یہ تصویر سائڈ ٹیبل کی دراز میں بھی تھی اور ایک البم میں بھی شافع نے اسی تصویر میں سے یہ تصویر اپنے موبائل میں کھینچ کر رکھی تھی،،، نور اس تصویر کو بغور دیکھتے ہوئے محتاط انداز میں بولی کون ہیں یہ؟ شافع کچھ نہیں بولا خاموش رہا، نور نے اسکی طرف دیکھا اور دوبارہ پوچھا شافع کون ہیں یہ؟ شافع نے ایک سانس کھینچا اور منہ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا “میری ماما ہیں یہ” نور کو جیسے حیرت کا جھٹکا لگا، اسنے اچھنبے سے پوچھا کیا مطلب مجھے سمجھ نہیں آئی کہ تم کیا کہہ رہے ہو؟ شافع نے اسکی طرف دیکھا اور پھر دوبارہ بولا میری ماں ہے یہ میری اصلی ماں…. نور بنا پلکھیں جھپکائیں اسے دیکھتی رہی اور حیرت بھرے لہجے میں بولی تو پھر وہ جو ہمارے گھر آئی تھیں وہ؟؟؟ شافع ڈرائیو کرتے ہوئے سامنے دیکھ کر بولا وہ میری سوتیلی ماں ہیں،،، نور کو اپنا دماغ گھومتا ہوا محسوس ہوا،،، وہ پوری طرح شافع کی طرف گھومی ہوئی تھی اور شافع اسکی طرف دیکھ نہیں رہا تھا،،، نور نے وآپس تصویر کی طرف دیکھا یہ تمھاری ماما ہیں تو پھر کہاں ہیں یہ؟ شافع نے منہ پر ہاتھ پھیرا اور ضبط سے بولا… “یہ اب ہمارے ساتھ نہیں ہیں ڈیتھ ہو چکی ہے انکی”
نور نے سیدھے ہو کر سیٹ سے پیچھے ٹیک لگائی اور سر تھامتے ہوئے افسوس سے بولی اوہ آئم سوری،،، شافع خاموش رہا، نور دوبارہ اسکی طرف گھومی لیکن کب ہوئی انکی ڈیتھ؟ شافع کو اپنے ہاتھوں میں کپ کپاہٹ محسوس ہوئی تو اسنے اسٹیئرنگ ویل پر گرفت مضبوط کردی “جب میں آٹھ سال کا تھا” نور نے منہ پر ہاتھ رکھا، اسے سمجھ نہیں آیا کہ وہ آگے کیا بولے،،، بس اسنے شافع کا ہاتھ تھام لیا،،،
اگر کوئی اور وقت ہوتا تو شافع فوراً اسکی طرف دیکھ کر مسکراتا لیکن شافع ضبط کا دامن تھام کر سامنے دیکھتے ہوئے ڈرائیو کرتا رہا، نور نے آگے کچھ نہیں پوچھا، کچھ دیر بعد ٹھہر کر شافع خود بولا پوچھو گی نہیں کہ یہ سب کیسے ہوا؟ نور نے اسکی طرف دیکھا تم جو خود سے بتاؤ گے میں صرف وہ سنوں گی شافع…شافع نے اثبات میں سر ہلایا، پھر ٹھہر کر بولا میرے نزدیک میری ماں کا قتل ہوا تھا، نور کو جھٹکا لگا وہ دبی آواز میں بولی قتل ہوا تھا ؟ لیکن کیسے؟ کس نے کیا تھا یہ سب؟ شافع نے اسٹیئرنگ ویل کو مضبوطی سے تھاما اسکی آنکھوں میں خون اترنے لگا تھا، دماغ کی رگیں تن گئیں تھیں وہ سختی سے دانت بھینچ کر بولا “میرے باپ نے میرے باپ نے کیا تھا میری ماں کا قتل” نور نے صدمے سے اپنے منہ پر ہاتھ رکھا،،،،
شافع کی رگیں تنی ہوئی تھیں، نور نے اسکے بازو پر ہاتھ رکھا، تو اسنے ایک لمبا سانس کھینچا، شافع نے اسے ماضی کی داستان سنانی شروع کی،،،
میری ماں کا تعلق (وادی جنت) کشمیر سے تھا، میرے نانا زمیندار تھے اور وہ اپنی ہی زمین پر کھیتی باڑی بھی کیا کرتے تھے میری ماما اپنے ماں باپ کی ایکلوتی اولاد تھیں، اس لئے لاڈلی بھی تھیں لیکن یہ وقت نہ لاڈ دیکھتا ہے نہ پیار نہ محبتیں دیکھتا ہے نہ نفرتیں جس کو اجاڑنا ہوتا ہے اجاڑ ہی دیتا ہے،،، میری ماما کیونکہ اپنے والدین کی لاڈلی اور ایکلوتی اولاد تھیں اسلئے نانا نے شروع سے ہی اپنا گھر اور زمینیں ماما کے نام پر کر دی تھیں، ایک دن نانا اور نانی موٹر سے شہر کی طرف جارہے تھے پہاڑی راستے کی طرف جاکر انکی موٹر کے بریک فیل ہوگئے اور انکی گاڑی کھائی سے جا گری نہ نانا بچ سکے نہ نانی،،،، ماما اس وقت صرف سترہ سال کی تھیں، نانا ،نانی کی موت کی خبر سن کر ان پر قیامت ٹوٹ گئی سر پر سے چھت کھینچ جانا کسے کہتے ہیں یہ تو جانتی ہو نہ تم؟
شافع نے نور کی طرف دیکھا، نور کی آنکھیں سرخ تھیں اسنے اثبات میں سر ہلایا،، ، شافع نے پھر سے بولنا شروع کیا، نانا نانی کی موت کے بعد ماما تن تنہا رہ گئی تھیں اور یہ دنیا آج جتنی اکیلی عورت کے لئے غیر محفوظ ہے پہلے بھی اتنی ہی تھی، اسلئے ماما اپنے تایا کہ گھر رہنے لگیں، لیکن کوئی کسی کو بنا مطلب سہارہ کہاں دیتا ہے، انکے تایا کی نظر ماما کی جائیداد پر تھی کہ کسی طرح وہ سب کچھ ہڑپ لیں، لیکن انھے کوئی راستہ نہیں ملا،،،،
کچھ مہینے اسی طرح گزرے پھر اچانک بابا انکی زندگی میں آگئے، شافع کچھ دیر کے لئے رکا،،، نور نے تجسّس سے پوچھا کیسے؟
شافع نے دوبارہ بولنا شروع کیا دادا اور بابا اس وقت سیاست میں ہوا کرتے تھے، اس وقت گاؤں میں میرے دادا کی حکومت تھی یا ایک طرف سے یہ سمجھ لو کہ حکومت نہیں انکا راج تھا،،، بابا کشمیر اپنے دوستوں کے ساتھ گھومنے گئے تھے، اور وہیں انکی نظر اتفاقن ماما پر پڑ گئی، اور ماما کے بارے میں معلومات حاصل کرنا بابا کے لئے مشکل کام نہیں تھا انھوں نے انکے نام سے لے کر انکے گھر تک کی ایک ایک چیز معلوم کر لی تھی،نور نے دھیمے لہجے میں پوچھا تمھاری ماما کا نام کیا تھا؟ شافع سامنے دیکھتے ہوئے آہستہ سے بولا ” گلنار”،، ،، نور نے اثبات میں سر ہلایا اور شافع کی طرف دیکھ کر پوچھا پھر کیا ہو؟ شافع نے سانس کھینچا بابا کو جو چیز پسند آجائے وہ اسے اپنا بنا کر ہی رہتے تھے بابا کو پتا تھا کہ دادا اور دادو اس شادی کے لئے نہیں مانیں گے اسلئے کچھ وقت بعد وہ خود ہی بنا بتائے ماما کے تایا کے گھر انکا رشتہ لے کر چلے گئے نانا نانی کے انتقال کے شروع میں ماما کے تایا نے جائے داد ہڑپنے کے لئے بہت ہاتھ پیر مارے لیکن جب انکے کچھ ہاتھ نہیں لگا تو ان لوگوں کو ماما کا وجود ناقابل برداشت لگنے لگے کچھ عرصے بعد جب اچانک بابا یوں ماما کے لئے رشتہ لےکر گئے تو انکے تایا نے نہ کچھ سوچا نہ پرکھا بس ماما کی شادی بابا سے کروانے کا فیصلہ کر لیا ماما نے اپنے بڑوں کے فیصلے کے آگے کوئی سوال نہیں کیا، اور چپ چاپ بابا سے شادی کے لئے راضی ہوگئیں…
بابا ماما کو نکاح کے بعد حویلی لے آئے اور حویلی میں ایک ہنگامہ برپا ہوگیا،،، دادو نے تو حویلی سر پر اٹھالی تھی کہ اس گھر میں خاندان سے باہر کی لڑکی آئی کیسے… لیکن شعلے بھی ایک حد تک ہی اٹھتے ہیں اسکے بعد تو بجھ کر صرف دھواں ہی رہ جاتے ہیں، کچھ وقت بعد سب کچھ نارمل ضرور ہوگیا لیکن دادو نے ماما کو کبھی ایکسیپٹ نہیں کیا، وہ ہر وقت انھے کچھ نہ کچھ کہتی رہتیں، لیکن ماما چپ کر کے برداشت کر لیتیں ماما بابا کی شادی کے کچھ عرصے بعد دادا کا انتقال ہوگیا اور دادا کی جگہ بابا نے سنبھال لی،،، بابا شروع میں ماما سے محبت تو کرتے تھے لیکن انکی انا انکی محبت کے بھی آڑے آگئی اور کچھ ہی وقت گزرنے کے بعد انکی محبت بھی مانند پڑ گئی بات بات پر شک کرنا، شور شرابہ کرنا ہاتھ اٹھانا انکے مزاج میں شامل ہوگیا تھا…
میری پیدائش کے بعد ماما کو لگا کہ سب ٹھیک ہو جائے گا لیکن کچھ خاص فرق نہ پڑھا دادو مجھے جتنا ماما سے دور رکھنے کی کوشش کرتیں میں اتنا ہی ماما کے بغیر نہیں رہتا تھا کچھ ٹائم بعد بابا مجھے اور ماما کو لے کر شہر شفٹ ہوگئے دادو نے بڑا ہنگامہ مچایا تھا لیکن جب بابا اپنی پر آجائیں تو پھر کہاں کسی کی سنتے ہیں…
شہر آکر ماما کو جیسے زندگی کا نیا رخ ملا لیکن بابا کی طرف سے انھے سکون اور خوشی کبھی نہ ملی ہاتھ اٹھانا بابا کے لئے جیسے انکی مردانگی کا ثبوت بن گیا تھا ہر چھوٹی بات پر غصہ کر جانا ماما کو ذلیل کرنا انکا شوق تھا… لیکن ماما مجھے دیکھ کر ہمیشہ خاموش ہو جاتیں
میں شروع سے ہی ماما سے بہت اٹیچ تھا بابا مجھ سے پیار کرتے تھے لیکن وہ ہمیشہ مجھ سے یہ امید رکھتے تھے کہ میں صرف وہی کام کروں جو وہ چاہتے ہیں اور میں چھوٹا تھا تو انکا کہا مانتا بھی تھا کیونکہ ڈرتا جو تھا ان سے لیکن جب میں پانچ سال کا تھا تب میں نے پہلی بار بابا کو ماما پر ہاتھ اٹھاتے دیکھا تھا میں چھوٹا تھا لیکن پھر بھی بھاگ کر اپنی ماں سے جاکر لپٹ گیا
بابا غصے میں مجھے ماما سے دور کرنے لگے تو میں نے بابا کو پیچھے دھکا دیا بابا کو غصہ آگیا انھوں نے مجھے بھی مارا….
اس مار کا اثر یہ ہوا کہ پھر میں جب کبھی بابا کو ماما پر ہاتھ اٹھاتے دیکھتا تو انھے بچانے کے لئے آگے نہیں جاتا چھوٹا تھا ایک دفعہ کی مار سے ہی ڈر گیا پھر مجھے ماما نے بھی منا کر دیا تھا وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مجھے بابا برے لگنے لگے میں انکے قریب نہیں جاتا تھا ان سے بات کرنے سے ڈرتا تھا.
میں آٹھ سال کا تھا جب بابا گاؤں میں الیکشن کے لئے کھڑے ہوئے جس دن الیکشن کا نتیجہ نکلنا تھا اس دن بابا نے حویلی میں دعوت رکھی انھے پورا یقین تھا کہ الیکشن وہی جیتیں گے ماما اور میں بھی حویلی میں ہی تھے، سب کو نتیجے کا بے صبری سے انتظار تھا اور بابا تو یہ سوچ کر اطمینان سے بیٹھے تھے کہ وہ ہی جیتیں گے لیکن وہ الیکشن ہار گئے…. دعوت پر آئے کئی لوگوں نے انکا مزاق اڑایا اور یہ بات ان سے برداشت نہیں ہوئی
سب لوگ حویلی کے لان میں موجود تھے جب میں اندر گیا مجھے سیڑھیوں کے اوپر پہلے والے کمرے میں سے کسی کے چینخنے اور لڑنے کی آواز آئی بابا چینختے ہوئے بول رہے تھے کہ تمھاری وجہ سے میں آج الیکشن ہارا ہوں اگر تم اپنی زمینیں بیچ کر رقم مجھے دے دیتیں تو میں آج الیکشن نہیں ہارتا،،،، الیکشن کے دوران بابا کو بہت بڑی رقم کی ضرورت پڑ گئی تھی انھوں نے ماما سے کہا کہ وہ اپنی زمینیں بیچ دیں لیکن ماما نے کچھ عرصہ پہلے بابا کو بغیر بتائے وہ زمینیں میرے نام پر کر دی تھیں اور جب تک میں اٹھارہ سال کا نہیں ہو جاتا وہ زمینیں کسی اور کہ نام پر نہیں ہو سکتی تھیں،،،
میں سیڑھیوں کے نیچے سہما ہوا کھڑا تھا میری ہمت ہی نہیں ہوئی کہ میں جاکر ماما کو بچا لوں ماما روتے ہوئے بول رہی تھیں کہ میں نے اپنے بیٹے کی بھلائی کے لئے وہ زمینیں اسکے نام کر دیں ان زمینوں پر اسکا ہی حق تھا،،، بابا چینختے ہوئے بولے تم مجھ سے پوچھے بغیر ایسا کیسے کر سکتی تھیں تم نے میری اجازت کے بغیر ایسا کیوں کیا؟ بابا تیش کے عالم میں کمرے سے باہر آئے ماما روتی ہوئی انکے پیچھے آئیں بابا کو دیکھ کر میں صوفے کے پیچھے جاکر چھپ گیا،،،
ماما روتے ہوئے بابا کو منانے انکے پیچھے آئیں آپ میری بات تو سنیں لیکن بابا نے انکی ایک نہیں سنی اور ایک جھٹکے سے انھے دھکا دیا،،، ماما سنبھالنا پائیں اور لڑکتی ہوئی سڑھیوں سے گر گئیں،،، شافع کی آنکھ کے کنارے سے ایک آنسوں نکل کر بہا،،، اسنے دوبارہ بولنا شروع کیا وہ شاید پھر بھی بچ جاتیں لیکن سڑھیوں کے نیچے بالکل ساتھ رکھا ہوا لوہے کا شوپیز اسٹینڈ انکے سر پر لگ گیا،،،
میں چینختا ہوا انکی طرف بھاگا،،، بابا سیڑھیوں کے اوپر ہی کھڑے تھے ماما کے سر سے خون کی دھار بہہ رہی تھی میں انکا سر اپنی گود میں رکھ کر پکارتا رہا لیکن انکی آنکھیں بند ہورہی تھیں میں روتے ہوئے انھے بول رہا تھا ماما آنکھیں کھولیں مجھے دیکھیں ماما لیکن انھوں نے میرا….. میرا ہاتھ تھام کر مجھے ہلکے سے پکارا “شافع” میں نے انھے آواز لگائی ہاں ماما آنکھیں کھولیں لیکن انکا ہاتھ میرے ہاتھوں میں سے پھسل گیا،،، میں روتا رہا بلکتا رہا انھے پکارتا رہا لیکن…. لیکن وہ نہیں اٹھیں،،،
نور بے سدھ سی بیٹھی شافع کی طرف دیکھ رہی تھی شافع کو پتا بھی نہیں تھا اسکا چہرہ سرخ تھا بھیگا ہوا تھا،،،
اس نے اپنی آنکھیں رگڑیں… اور پھر سانس کھینچ کر بولا،،، میری آواز سن کر باہر موجود لوگ بھی اندر آگئے،،، سب پوچھنے لگے کے یہ کیسے ہوا؟ بابا تیزی سے نیچے آئے اور بولے کے یہ سیڑھیوں سے گر گئی ہے میں اسے ہاسپٹل لے کر جارہا ہوں میں تو اس وقت ماں کو دیکھ کر ہی ہلکان ہو رہا تھا ان کے لفظوں پر کیا غورکرتا، ماما کا سر خون نم خون تھا اور میرے کپڑے بھی بابا ماما کو لے کر ہاسپٹل چلے گئے سب کو لگا کے وہ سر پر چوٹ کی وجہ سے بے ہوش ہوگئی ہونگی لیکن جب کچھ دیر بعد بابا ماما کو لے کر آئے تو ایمبولینس میں انکا چہرہ سفید چادر سے ڈھکا ہوا تھا،لوہے کے اسٹینڈ کی نوک انکے سر میں گھس گئی تھی،،
ماما کو جیسے ہی ایمبولینس سے نکالا میں تیزی سے انکی طرف دوڑا اور انکے چہرے سے چادر ہٹا دی،،، وہ خاموش تھیں اور بے جان بھی،،، میں رونے لگا چینخنے لگا انھے پکارہ بھی بہت لیکن وہ اٹھی ہی نہیں وہ تو میرے ایک آنسوں پر کپکپا جاتی تھیں وہ تو میری ایک آواز پر دوڑی چلی آتی تھیں لیکن وہ اب میرے چینخنے پر بھی نہیں اٹھ رہی تھیں،،،بابا نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے پیچھے کیا میں نے ان سے اپنا ہاتھ چھڑاتے ہوئے کہا چھوڑیں مجھے مجھے میری ماما کے پاس جانا ہے،،،، میں ماما سے لپٹا ہوا رو رہا تھا بابا غصے سے بولے اگر اسطرح رونا ہے تو اندر ذنانے میں جاکر رو لو،،،
شافع نے اپنی سرخ آنکھوں سے آئےنور کی طرف دیکھا، تم بتاؤ کیا ایک آٹھ سال کے بچے کو اپنی ماں کی موت پر رونے کا بھی حق نہیں تھا؟ نور نے اسکے بازو پر ہاتھ رکھا شافع نے سامنے نظریں کر لیں پھر ایک لمبا سانس کھینچا، ماما چلیں گئیں تو میں اکیلا ہو گیا، مجھے کسی کی عادت ہی نہیں تھی، ماما کے انتقال کے اگلے دن سب لوگ حویلی کے حال میں بیٹھے تھے سب بابا سے پوچھ رہے تھے کہ وہ گری کیسے؟
بابا برے اطمینان سے صفائیاں پیش کر رہے تھے، گلنار سیڑھیوں سے تیزی سے اتر رہی تھی اچانک اسکا پیر مڑا وہ سنبھل نہیں پائی اور گر گئی،،، میں بھی وہیں موجود تھا بابا کی بات سن کر میری رگیں تن گئیں وہ کتنے اطمینان سے سب سے جھوٹ بول رہے تھے، مجھ سے یہ برداشت نہیں ہوا،،، اور میں چینختے ہوئے اٹھا جھوٹ بول رہے ہیں آپ سب نے میری طرف دیکھا، بابا کی بھنویں تن گئیں، وہ مجھے گھورنے لگے میں چینختے ہوئے انکی طرف اشارہ کر کے بولا جھوٹ بول رہے ہیں یہ انھوں نے ماما کو دھکا دیا تھا،،، بابا کھڑے ہو کر میرے قریب آئے اور غصے سے مجھے گھورتے ہوئے بولے یہ کیا کہہ رہے ہو تم شافع؟
میں بھی چینختا ہوا بولا صحیح بول رہا ہوں میں اپنے میری ماما کو مارا تھا اور پھر انھے سیڑھیوں سے دھکا دے دیا آپ قاتل ہیں میری ماں کے….
بابا نے ایک تھپڑ میرے گال پر مارا، اور چینختے ہوئے بولے کیا بکواس کر رہے ہو تم دماغ خراب ہوگیا ہے تمھارا؟ میں چینختا رہا کہ آپ نے میری ماما کو مارا ہے لیکن وہاں پر میری بات کا یقین کرنے والا کوئی نہیں تھا سب کو لگا کے میں ماں کے غم میں یہ سب بول رہا ہوں… لیکن مجھے بابا سے نفرت ہوگئی میرے نزدیک وہی میری ماما کے قاتل ہیں اور یہ نفرت تب اور بڑھ گئی جب ماما کے انتقال کے صرف دس دن بعد انھوں نے دادو کے کہنے پر تہمینہ ماما سے نکاح کر لیا, تہمینہ ماما بابا کی کزن ہیں.. میں اس رات بہت رویا تھا مجھے لگا جیسے میری ماما کی جگہ کسی نے لے لی ہو،،،، اور اسی رات میں نے خواب میں ماما کی موت والا منظر پہلی بار دیکھا اور پھر یہ معمول کی بات بن گئی،،،
مجھے ہر تھوڑے دن بعد ماما خواب میں نظر آتیں میں نیند میں چیختے ہوئے انھے پکارتا لیکن وہ آتی ہی نہیں میں انھے چھونے کی کوشش کرتا لیکن چھو نہیں پاتا، شروع میں میں تہمینہ ماما سے بھی نفرت کرتا تھا، لیکن وہ مجھ سے بہت پیار کرتی تھیں میری ہر چیز کا خیال رکھنا مجھ سے پیار کرنا جیسے انکی زندگی کا مقصد تھا،،، اور انکی مجھ سے محبت اور بڑھ گئی جب کافی سال بعد بھی انکی کوئی اولاد نہیں ہوئی، وہ مجھ سے اپنے سگے بچوں کی طرح محبت کرتی تھیں، اور محبت سے دور کون رہ سکتا ہے انکی محبت کے آگے میری نفرت کب ختم ہوگئی مجھے پتا ہی نہیں چلا، لیکن میں اپنی ماما کی تکلیف کو کبھی نہیں بھلا پایا، انکے ہاتھوں کے لمس کو، انکی آواز کو کبھی نہیں بھلا پایا…. مجھے خود سے بھی اس بات کا شکوہ تھا کہ کاش میں جاکر انھے بابا کی مار سے بچا لیتا تو وہ بابا کے پیچھے نہ بھاگتیں…
لیکن کاش تو پھرکاش ہی رہ جاتا ہے نہ لیکن میں نے تہمینہ ماما پر بابا کو کبھی ہاتھ نہیں اٹھانے دیا،،، میں ہمیشہ انکی ڈھال بن کر انکے آگے کھڑا ہو جاتا اور یہی بات بابا کو چبھتی تھی ماما سے دور کرنے کے لئے بابا مجھے باہر سیٹیل کرنا چاہتے تھے لیکن میں نے انکی ایک نہیں سنی، وہ جو چاہتے تھے میں نے ان میں سے کچھ نہیں کیا،
بابا اکیلے میں ہمیشہ مجھ سے کہتے کہ تم مجھے اپنی ماں کا قتل سمجھتے ہو لیکن وہ صرف ایک حادثہ تھا، میں کیسے مان لوں کے وہ صرف ایک حادثہ تھا چلو اگر ایک منٹ کے لئے مان لیتے ہیں کہ حادثہ ہی تھا لیکن انسان تھوڑی تو مروت دیکھاتا ہی ہے، وہ اپنے بیٹے کو اسکی ماں کی موت پر رونے سے منا کر رہے تھے، اپنی بیوی کی موت پر ایک آنسوں تو دور انکے چہرے پر اداسی بھی نہیں تھی، انکی بیوی کو مرے ہوئے صرف دس دن ہوئے تھے اور انھوں نے دوسری شادی کر لی،،،
بیشک وہ انکی بیوی تھیں لیکن میری تو ماں تھیں نہ میں کیسے بھول جاؤں انکی موت تم بتاؤ ماں کو کوئی بھول سکتا ہے کیا؟ شافع نے سوالیہ نظروں سے نور کی طرف دیکھا، نور نے آہستہ سے نفی میں سر ہلایا…..
وہ چاہتے تھے کہ میں اپنی ماں کو بھول جاؤں جو وہ کہیں جو وہ چاہیں وہ کروں، اگر وہ اپنی انا کہ پکے ہیں تو میں بھی ضد کا پکا ہوں،،، میں نے بھی اپنی زندگی میں صرف وہی کرنے کا فیصلہ کیا جو مجھے ٹھیک لگا،،، بابا اور دادو نے جب میرے اور ارحام کے رشتے کی بات کی میں نے تبھی فیصلہ کر لیا تھا کہ میں خاندان میں شادی نہیں کروں گا، کیونکہ جو بابا چاہیں گے وہ تو میں مر کے بھی کبھی نہیں کروں گا،،، شافع خاموش ہوگیا،،،
راستے میں ایک ڈھابہ پڑا شافع نے گاڑی کو بریک لگائے،،، نور کا ہاتھ اسکے بازو پر تھا. شافع نے گردن موڑ کر اسکی طرف دیکھا، نور نے نظریں جھکائیں پھر دوبارہ اسکی طرف دیکھ کر بولی شافع تمھے یاد ہے جب میری ماما چلی گئی تھیں تب تم نے مجھ سے کیا کہا تھا کہ “اللّٰہ اگر ایک سہارہ چھینتا ہے تو دوسرا دے بھی دے دیتا ہے، تمھاری ماما کے بعد تمھارا دوسرا سہارہ تمھاری تہمینہ ماما بنیں” اور جہاں تک تمھاری تمھارے بابا سے نفرت کا سوال ہے تو تم خود اس بات کو مانتے ہو کہ تمھارے بابا نے ماما کو جان پوچھ کر دھکا نہیں دیا تھا ہاں لیکن انکی ڈیتھ کے بعد انھوں نے جس طرح برتاؤ کیا وہ واقعی افسوس ناک ہے…!
لیکن ان سے نفرت کر کے تمھے کچھ حاصل نہیں ہوگا تکلیف تمھے ہی ہوگی، شافع نے نور کی طرف دیکھا،
مجھے ان سے اتنی نفرت ہے کہ اب نفرت کا لفظ بھی کم پڑنے لگا… نور نے اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھا، میں سمجھ سکتی ہوں… شافع نے اثبات میں گردن ہلائی…. ڈھابے میں سے ایک لڑکا نکل کر انکی گاڑی کی طرف آیا اور شافع سے بولا جی صاحب آپ کو کچھ چاہیے؟ شافع نے اثبات میں سر ہلایا دو چائے اور پراٹھے…. اسنے لڑکے نے شافع سے پوچھا صاحب آپ اندر آئیں گے یا یہیں لادوں؟ شافع نے کہا آپ یہیں لادیں،،، وہ لڑکا اثبات میں سر ہلا کر وآپس چلا گیا…
صبح کے چھ بج رہے تھے لیکن موسم کی وجہ سے ابھی بھی اندھیرا تھا دور کا راستہ دھند کی وجہ سے دھندلا نظر آرہا تھا ،،،شافع نے آنکھیں بند کر کے سیٹ سے ٹیک لگا لی نور کو وہ بہت تکلیف میں لگا تھا، نور نے اسے پکارہ شافع….. شافع نے آنکھیں بند کئے ہوئے ہی کہا ہممم؟ نور نے اسکے بازو پر ہاتھ رکھا تم ٹھیک ہو؟ شافع نے آنکھیں کھولیں اور گردن موڑ کر اسکی طرف دیکھا اپنے بازو پر رکھے اسکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر بولا جب تک تم میرے ساتھ ہو میں ٹھیک ہوں, نور ہلکا سا مسکرا دی شافع اسے بغور دیکھ رہا تھا،،،، نور اسکی طرف دیکھ کر بولی،،، شافع اگر تمھارے لئے حویلی جانا اتنا ہی مشکل تھا تو تمھے نہیں جانا چاہیے کیونکہ جو چیزیں دل کو تکلیف دیں ان سے دور رہنا بہتر ہے…..
شافع نے سانس کھینچ کر سامنے نظریں کیں، ماما کی ڈیتھ کے دو سال بعد میں نے حویلی جانا چھوڑ دیا تھا نور، ان دو سالوں میں بھی بابا مجھے زبردستی لے کر آتے تھے لیکن پھر میں نے بھی ضد کر کے آنا چھوڑ دیا میں جب بھی وہاں جاتا تھا مجھے اپنے ارد گرد ماما کی آواز آتی تھی، انکے سر سے بہتا ہوا خون، میری گود میں انکا رکھا ہوا سر، اور انکا مجھے آخری بار پکارنا جیسے سب کچھ پھر سے یاد آنے لگتا تھا….. ماما کے انتقال کے کئی سال بعد بھی میں خون دیکھ کر ڈر جاتا تھا مجھے خوف آنے لگتا تھا، تمھے یاد ہے نور یونیورسٹی میں جب تمھارا ہاتھ کٹ گیا تھا٬ شافع نے نور کی طرف دیکھا،،، تمھارے ہاتھ سے بہتا خون دیکھ کر مجھے بہت تکلیف ہوئی تھی، مجھ سے وہ دیکھا نہیں جارہا تھا میں وہاں سے جانا چاہتا تھا لیکن میں جا نہیں سکا مجھے لگا اگر آج میں چلا گیا تو زندگی بھر خود سے بھی ڈر کر بھاگتا رہوں گا…. نور بنا پلکھیں جھپکائیں اسکی طرف دیکھ رہی تھی،
وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ ہر کسی سے سختی سے پیش آنے والے کسی سے زیادہ نہ گھلنے ملنے والا اور اس پر اپنی اتنی محبت نچھاور کر نے والا شافع کتنے برسوں سے اپنے دل میں درد چھپائے بیٹھا ہے… نور جو سمجھ رہی تھی کہ وہ حویلی جانے کے لئے بے چین ہے شافع کی حالت دیکھ کر اسے اندازہ ہورہا تھا کہ وہ غلط تھی شافع کا درد اسے اسکی آنکھوں میں نظر آرہا تھا، اسے اندازہ ہورہا تھا کہ اسکے لئے وہاں جانا کتنا مشکل ہے…
ہوٹل والا لڑکا ایک ٹرے میں چائے اور پراٹھے لے کر آیا شافع نے اسکے ہاتھ سے ٹرے لے کر نور کو تھمائی وہ لڑکا چلا گیا شافع نے ٹرے میں سے چائے کا کپ اٹھایا نور اسے ہی دیکھ رہی تھی،،، شافع ہم گھر وآپس چلتے ہیں… شافع نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا کیوں؟ نور اسکی طرف دیکھ کر فکر مندی سے بولی مجھے تم ٹھیک نہیں لگ رہے… شافع نے سامنے دیکھ کر مسکراتے ہوئے نفی میں گردن ہلائی، مجھے زایان سے بہت محبت ہے نور…… بچپن سے ہم بھائیوں کی طرح رہے ہیں میں جب جب ٹوٹا ہوں اسنے مجھے سنبھالا ہے میں جب جب گرا ہوں اسنے ہاتھ تھام کر مجھے اٹھایا شافع کی آنکھ کے کنارے سے ایک آنسوں بہا جیسے اسنے فوراً صاف کر لیا، پھر نور کی طرف دیکھ کر بولا میں اسکے لئے کچھ بھی کر سکتا ہوں, کچھ بھی… نور نے نظریں جھکا لیں اسے شافع اور زایان کے پیار کا اندازہ تھا وہ جانتی تھی شافع اسکے لئے سچ میں کچھ بھی کر سکتا ہے،،، شافع نے چائے کا سپ لیا اور مسکراتے ہوئے اسکا ہاتھ پکڑا “میں ٹھیک ہوں” لیکن نور آج اسکے الفاظ نہیں اسکی آنکھیں پڑھ رہی تھی اور نور کو اس بات کا بہت اچھے سے اندازہ تھا کہ اندر سے کرچی کرچی ہونے کے باوجود بھی یہ کہنا کہ “میں ٹھیک ہوں” کتنا مشکل ہوتا ہے… شافع نے چائے ڈیش بورڈ پر رکھی اور پراٹھے کا رول بنا کر نور کی طرف بڑھایا نور نے اسکے ہاتھ سے ہی پراٹھے کا ایک کٹ لے لیا،، شافع نے بھی اسی پراٹھے میں سے ایک نوالہ لے لیا… نور نے شافع کی طرف دیکھ کر پوچھا زایان کو تمھاری ماما کے بارے میں پتا ہے؟
شافع نے چائے پیتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا وہ میری زندگی کے ایک ایک صفحے سے واقف ہے اس سے کچھ چھپا نہیں ہے… نور کو حیرت ہوئی شافع تو شافع لیکن اسے زایان کے رویے سے بھی کبھی ایسا کچھ نہیں لگا کہ تہمینہ بیگم شافع کی سوتیلی ماں ہیں اسے زایان سے راز رکھنے کی امید بالکل نہیں تھی… نور خاموشی سے بیٹھی تھی تو شافع اپنی چائے کا خالی کپ ٹرے میں رکھ کر بولا جلدی کھاؤ میڈم جانا بھی ہے یہیں بیٹھے نہیں رہنا ابھی بہت راستہ باقی ہے،،، نور چائے کا کپ اٹھاتے ہوئے بولی میرا کھانے کا دل نہیں ہے میں بس چائے پی لوں گی،،، شافع نے اسے آنکھیں دکھائیں اور پراٹھا اسکے ہاتھ میں دیتے ہوئے بولا فٹافٹ یہ کھاؤ ورنہ راستے میں بھوک لگے گی،،،
نور اسے ہنسانے کے لئے بولی تو کوئی بات نہیں تمھارا دماغ کھا لوں گی،،، شافع ہنسا نور نے چائے ختم کر کے کپ ٹرے میں رکھا،،، شافع نے ہوٹل والے لڑکے کو اشارے سے بلا کر ٹرے دی اور بچے ہوئے پراٹھے پیک کرنے کو کہہ دیا، وہ لڑکا پراٹھے ایک کاغذ میں لپیٹ کے لے آیا شافع نے اسے پیسے دیئے اور شکریہ ادا کر کے گاڑی آگے بڑھا لی…
ہلکی ہلکی روشنی ہونا شروع ہوگئی تھی لیکن ہر جگہ دھند ہی دھند تھی جس کی وجہ سے آگے کی سڑک نظر بھی نہیں آرہی تھی یہ منظر دیکھنے میں جتنا خوبصورت تھا اتنا ہی خطرناک بھی کیونکہ روڈ ون وے تھا اور دھند کی وجہ سے سامنے سے آتی ہوئی گاڑیاں ٹھیک سے نظر بھی نہیں آرہی تھیں،،، شافع باہر کی طرف دیکھ کر بولا یہ دھند دیکھ رہی ہو کتنی خوبصورت لگ رہی ہے،،،، نور اسکی توجہ سامنے کی طرف کرواتے ہوئے بولی، تم سامنے دیکھ کر گاڑی چلاؤ پلیز… شافع مسکرایا اوکے میں سامنے ہی دیکھ رہا ہوں…..
نور اس سے پوچھنے لگی حویلی میں بجلی گیس ہے یا مٹی کا چولہا وغیرہ ہے شافع ہنسا تم کوئی دیسی گاؤں تصور مت کرنا کیونکہ وہاں اب ایسا کچھ نہیں ہے ہاں پہلے تھا لیکن اب وقت کے ساتھ ساتھ ترقی ہوگئی ہے سڑکیں بن گئی ہیں گیس اور بجلی بھی آگئی ہے لیکن مٹی کا چولہا ہے ابھی بھی،،،، نور نے اثبات میں سر ہلایا… کچھ دیر بعد نور بولی جیسا کہ تم نے بتایا تمھارے یہاں خاندان سے باہر شادی نہیں ہوتی تو کیا تمھاری دادو اور چاچو وغیرہ ارحام اور زایان کے رشتے کے لئے مان جائیں گے؟ شافع نے سانس کھینچا کام مشکل ہے لیکن ناممکن نہیں، میرے چاچو بہت اچھے ہیں ہر بات کو سمجھنے والے، دوسری کی خوشیوں کا خیال رکھنے والے وہ زایان سے ملے ہوئے بھی ہیں اور اگر انھے لگا کہ انکی بیٹی خوش رہ سکتی ہے تو وہ کبھی منا نہیں کریں گے ہاں دادو کسی صورت نہیں مانیں گی لیکن مجھے انکی پرواہ بھی نہیں ہے…. مجھے صرف چاچو کا فیصلہ سننا ہے٬ نور نے اسکی طرف دیکھ کر سوالیہ نظروں سے پوچھا تمھارے چاچو تمھاری دادی کے خلاف جائیں گے؟ شافع بھنویں اٹھا کر بولا انھے اپنی بیٹی کی خوشیوں کے لئے جانا پڑے گا. نور نے بھی بھنویں اچکا کر کہا اور اگر انھوں نے ایسا کچھ نہیں کیا تو؟ شافع اپنی ہلکی داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا تو میں زایان کو بولوں گا کہ ارحام کو حویلی سے اٹھا کر لیجائے، وہ ویسے بھی اسطرح کے کاموں میں بہت ماہر ہے،،، نور ہنسی وہ صرف اسطرح کے نہیں ہر الٹے کاموں میں ماہر ہے…
شافع مسکرایا، نور سامنے دیکھتے ہوئے بولی کبھی کبھی مجھے سمجھ نہیں آتا کہ تم دونوں دوست کیسے ہو، شافع نے قہقہہ لگاتے ہوئے پوچھا کیوں؟ تم دونوں کا مزاج ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہے… شافع مسکراتے ہوئے بولا دوستی مزاج سے تھوڑی دل سے کی جاتی ہے، نور نے ایک زخمی مسکراہٹ کے ساتھ گردن جھکائی پھر شاید میرے دل میں ہی کھوٹ ہوگا تبھی تو نہ مجھے دل سے سچے رشتے ملے اور نہ ہی دوستی نور کو منہا یاد آئی تھی. ,,,,,,,شافع نے اسکا ہاتھ لے کر اپنے ہونٹوں کے قریب کیا تمھے سچی محبت جو ملنی تھی، ایسی محبت جو ہر رشتے کی کمی پوری کر دے، نور نے نفی سر ہلایا، ہر رشتے کا ایک الگ مقام ہوتا ہے شافع…. شافع نے اثبات میں گردن ہلائی میں سمجھ سکتا ہوں لیکن میں تمھے اتنی محبت دونگا کہ تم ہر رشتے کی کڑواہٹ بھول جاؤ گی… نور ہلکا سا مسکرائی، شافع سامنے دیکھتے ہوئے ہلکی سی مسکراہٹ سے بولا یقین کرتی ہو مجھ پر؟ نور نے اسے تنگ کرنے کے لئے نفی میں گردن ہلائی… شافع نے اسے ڈرانے کے لئے گاڑی کی اسپیڈ بڑائی اور اسٹیرنگ ویل تیزی سے گھمانے لگا….
نور نے سختی سے اسکا ہاتھ پکڑا اور چینختے ہوئے بولی شافع یہ کیا کر رہے ہو آہستہ چلاؤ گاڑی… شافع بھنویں اچکا کر بولا تم تو مجھ پر یقین ہی نہیں کرتی ہو؟ نور اسے آنکھیں دکھاتے ہوئے بولی گاڑی کی سپیڈ ہلکی کرو… شافع اسکی طرف دیکھے بغیر بولا جب تمھے مجھ پر یقین ہی نہیں ہے تو پھر میں کیوں تمھارا یقین قائم رکھنے کی کوشش کرو کہ ہم صحیح سلامت اپنی منزل تک پہنچ جائیں گے…. نور زور سے بولی اچھا ٹھیک ہے سیدھی طرح گاڑی چلاؤ… شافع نے پھر اس سے پوچھا یقین کرتی ہو؟ نور سیدھی بیٹھتی ہوئی بولی تھوڑا تھوڑا…. شافع نے مسکراتے ہوئے گردن جھکائی اور گاڑی کی اسپیڈ ہلکی کردی….
چلو ٹھیک ہے میں تمھارے اس تھوڑے سے یقین کو مکمل یقین میں بدل دوں گا….. نور نے چین کا سانس لیا، اور سیٹ سے ٹیک لگا کر باہر دیکھنے لگی، کچھ دیر کی خاموشی کے بعد شافع بولا کوئی بات کرو یار چپ کیوں ہو گئیں؟ نور نے گردن دوسری طرف موڑی ہوئی تھی… نور نے کوئی جواب نہیں دیا… تو شافع خفا ہونے والے انداز میں بولا نور کیوں چپ بیٹھی کو یار کوئی بات کرو ورنہ مجھے نیند آنے لگے گی… نور نے کوئی جواب نہیں دیا تو شافع نے اسکے بازو پر ہاتھ رکھا نور سو چکی تھی، شافع نے پہلے منہ بنایا پھر ہلکا سا مسکرا دیا… اور سامنے دیکھتے ہوئے خود سے ہی بولا واہ سو گئیں میڈم اب میں پورے راستے خود سے باتیں کرتے ہوئے گاڑی چلاؤں…؟
شافع نے نور کا سیٹ بیلٹ چیک کیا… اور اسکے چہرے کی طرف دیکھ کر ہلکا سا مسکرا دیا…
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شافع کئیں سالوں بعد حویلی آرہا تھا اسلئے ابراہیم صاحب نے کافی انتظامات کروائے تھے، شافع کی آنے کی خوشی سب سے زیادہ انھے ہی تھی لیکن ابراہیم صاحب کے علاوہ وہاں کسی کو یہ نہیں پتا تھا کہ شافع آئےنور کو بھی اپنے ساتھ لے کر آرہا ہے…. اور بی اماں تو اس تیاری سے بیٹھی تھیں کہ شافع آئے تو وہ کچھ نہ کچھ کر کے شافع کو ارحام سے شادی کے لئے راضی کرلیں لیکن انھے اس بات کا اندازہ ہی نہیں تھا سب کچھ انکی سوچ کے برعکس ہونے والا ہے، ارحام یہ بات جانتی تھی کہ شافع ابراہیم صاحب سے اسکے اور زایان کے سلسلے میں بات کرنے آرہا ہے اسلئے وہ مطمئن تھی اسے صرف ڈر تھا تو بی اماں کا…. کہ ناجانے وہ کیا ہنگامہ کریں…..
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زایان آفس میں داخل ہوتے ہی سب سے ہنستے مسکراتے ہوئے اپنے انداز میں سلام دعا کر کے شافع کے آفس میں آکر بیٹھ گیا اسکا آفس اوپر اور جبکہ شافع کا آفس نیچے تھا، شافع نہیں تھا تو اسنے شافع کے آفس میں ہی بیٹھنے کا ارادہ کیا… آفس میں آکر بیٹھتے ہی اسنے سب سے پہلے چائے اور سادہ کیک منگوایا اور لیپ ٹاپ آن کیا… وہ کام کر رہا تھا جب کچھ دیر بعد انھی کے آفس کی ایک لڑکی فائل ہاتھ میں لے کر اسکے آفس میں آئی… سر وحید قریشی صاحب کے سیکریٹری کا فون آیا تھا… وہ آج میٹنگ ارینج کروانا چاہ رہے تھے… زایان نے کچھ سوچتے ہوئے اثبات میں گردن ہلائی ٹھیک ہے پھر آپ نے کیا کہا..؟ وہ لڑکی فائل ٹیبل پر رکھتے ہوئے بولی سر میں نے انھے کہہ دیا کہ آپ سے پوچھ کر بتاؤ گی آپ بتا دیں آپ آج میٹنگ کریں گے یا نہیں؟
زایان کچھ دیر سوچتا رہا پھر بولا ٹھیک ہے دو بجے کی میٹنگ رکھوا دیں لیکن انھے کہئے گا کہ وہ میرے آفس آئیں گے میں نہیں…. وہ لڑکی اثبات میں سر ہلاتے ہوئے بولی ٹھیک ہے سر جیسا آپ کہیں…. اسنے فائل زایان کے آگے رکھی سر اس پر سائن کر دیں…. زایان نے پہلے فائل پڑھی پھر سائن کرتے ہوئے بولا تاشفہ شاہزیب کے بارے میں کچھ خبر ہے؟ وہ لڑکی اثبات میں سر ہلا کر بولی جی سر مجھے تاشفہ کے آفس کے ہی ایک ایملوئی سے پتا چلا ہے کہ انھے چینل سے نکال دیا گیا تھا اور ان پر چار سال کا بین کا بھی لگا ہے وہ چار سال تک پاکستان میں ایک جرنلسٹ کے طور پر کہیں کام نہیں کر سکتیں اور اسی لئے وہ امریکہ چلی گئی ہیں… زایان نے نظریں اٹھا کر اس لڑکی کو دیکھا زایان کی آنکھوں میں چمک آئی سچ کہہ رہی ہو؟ وہ لڑکی اثبات میں سر ہلا کر بولی جی سر….
زایان نے مسکراتے ہوئے وہ فائل وآپس اس لڑکی کی طرف بڑھائی اس بات پر تو پارٹی بنتی ہے،،، انکے آفس میں سب ہی زایان کے مزاج سے واقف تھے وہ لڑکی مسکراتے ہوئے بولی تو پھر سر کب دے رہے ہیں آپ پارٹی؟ زایان نے بھنویں اچکائیں، میں اکیلا کیوں دوں پارٹی سب پیسے ملاؤ پھر کریں گے…. وہ لڑکی ہنسی…. زایان بھی ہنستا ہوا بولا آفس کے بعد سوچیں گے کچھ… وہ لڑکی مسکراتے ہوئے گردن ہلا کر باہر چلی گئی….
اتنے میں ایک آدمی چائے اور کیک لے کر آیا اور ٹیبل پر رکھ دیا زایان موبائل اٹھاتے ہوئے بولا یہ بات شافع کو تو بتانی چاہیے صبح صبح خوش ہو جائے گا….زایان نے موبائل اٹھا کر شافع کا نمبر ڈائل کیا لیکن کال نہیں اٹھائی گئی تو اسنے فون رکھ دیا چلو بعد میں کر لوں گا ہو سکتا ہے ڈرائیو کر رہا ہو…. موبائل رکھ کر اسنے چائے کا کپ اٹھا لیا….
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شافع کا موبائل ڈیش بورڈ پر رکھا زوں زوں کر رہا تھا جب نور کی آنکھ کھولی موبائل شاید وائبریشن پر تھا اس لئے ٹیون نہیں بجی تھی جیسے ہی نور کی آنکھ کھولی موبائل بھی وائبریٹ ہونا بند ہو گیا،،، نور آنکھیں کھول کر سیدھی ہوئی ڈرائیونگ سیٹ کی طرف گردن گھمائی اور ایک جھٹکے سے سیدھی ہوئی ڈرائیونگ سیٹ خالی تھی شافع وہاں نہیں تھا نور نے سامنے دیکھا گاڑی روڈ کے کنارے پر تھی لیکن اسے شافع نظر نہیں آرہا تھا نور کا دل زوروں سے دھڑکنے لگا اسنے گاڑی کا دروازہ کھولنا چاہا لیکن گاڑی لاک تھی،،، اسنے زبردستی دروازہ کھینچا اور اتنے میں اسے دوسری طرف آہٹ محسوس ہوئی اسنے مڑ کر دیکھا شافع گاڑی کا دروازہ کھول رہا تھا،،، اسے دیکھ کر نور کی سانس میں سانس آئی شافع نے گاڑی کا دروازہ کھول کر نور کی طرف دیکھا اتنی سردی میں بھی اسکے ماتھے پر پسینہ تھا…. شافع نے اس سے کچھ پوچھنے کے بجائے پہلے چابی کے بٹن سے نور کی طرف کا دروازہ کھولا اور اسکی طرف آکر دروازہ کھولا…. کیا ہوا تمھے اتنی گھبرائی ہوئی کیوں ہو؟ شافع نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے گاڑی سے باہر نکالا…
نور نے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور خود کو نارمل کرتے ہوئے بولی نہیں کچھ نہیں بس تم گاڑی میں نہیں تھے تو٬٬٬٬ اسکا جملہ مکمل ہونے سے پہلے ہی شافع ہنستا ہوا بولا تو تمھے لگا کہ میں بھاگ گیا…. نور نے نفی میں سر ہلایا…. شافع اسکے کندھے کے گرد اپنا بازو پھیلاتے ہوئے بولا گاڑی کے پیچھے ڈیزل رکھا ہوا تھا بس وہی ڈالنے کے لئے گاڑی روکی تھی پھر سوچا پیچھے کے ٹائر بھی چیک کر لوں…. نور نے ہونٹ بھینچتے ہوئے اثبات میں گردن ہلائی…. شافع نے گاڑی میں سے پانی کی بوتل نکال کر اسے تھمائی٬ نور نے آگے آکر گاڑی کے بونٹ سے ٹیک لگائی اور پانی پینے لگی، شافع اسے بغور دیکھ رہا تھا… وہ اچانک بولا نور مجھے لگ رہا ہے تمھے مجھ سے محبت ہوگئی ہے نور کے منہ سے پانی وآپس نکل گیا… شافع نے اسکی پیٹھ تھپتھپائی ارے کیا ہوگیا…؟ نور نے چادر سے منہ صاف کیا کچھ نہیں…. شافع دوسری طرف سے آکے گاڑی کے اوپر چڑھ کر بیٹھ گیا… میں نے ٹھیک کہا نہ نور؟ نور نے مڑ کر اسکی طرف انجان بنتے ہوئے پوچھا کیا؟ شافع کندھے اچکاتے ہوئے بولا یہی کے تمھے مجھ سے محبت ہوگئی ہے…. نور سامنے روڈ کی طرف دیکھ کر بولی ایسا تو کچھ نہیں ہے…. شافع شیشے پر کمر ٹکاتا ہوا نور کی طرف دیکھ کر بولا یعنی تم نے مجھے تڑپا تڑپا کے مارنا ہے… نور نے ناسمجھی سے پوچھا کیا مطلب؟ شافع اسکے قریب ہوتے ہوئے بولا مطلب یہ کے محبت صاف آنکھوں میں نظر آرہی ہے لیکن زباں سے اظہار نہ کرنے کی ضد پال رکھی ہے… نور نے فوراً اس سے آنکھیں چرائی تم پتا نہیں کیا بول رہے ہو تم باتوں میں الجھا دیتے ہو…..
اسکے گال کی سرخی دیکھ کر شافع مسکرایا میں تو سیدھی باتیں ہی کرتا ہوں کوئی الجھ جائے تو اس میں میرا کیا قصور ہے؟؟؟ نور اسکی بات کا جواب دینے کے بجائے اپنی چادر ٹھیک کرنے لگی…. شافع کی نظریں اس پر ہی تھیں تو پھر نہیں ہے محبت؟ نور نے نظریں اٹھا کر اسکی طرف دیکھا “نہیں” شافع اسکے گالوں کو چھوتے ہوئے بولا تو پھر اتنا بلش کیوں کر رہی ہو؟ نور نے پھر نظریں چرائیں میں کہاں بلش کر رہی ہوں شاید سردی کی وجہ سے…. شافع نے قہقہہ لگایا…. پھر سر کے نیچے ہاتھ رکھتے ہوئے بولا “کسی کو اتنا بھی اپنی محبت کے لئے نہیں ترسانا چاہیے کہ جب سامنے والا خاموش ہو جائے تو آپ محبت کے اظہار کے لئے ترس جائیں”
نور اسکے سامنے آتے ہوئے بولی لیکن مجھے پتا ہے تم کبھی خاموش نہیں ہوگے…. شافع اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا اور اگر ہوگیا تو؟؟؟؟ نور بھی اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی محبت کی ہے تم نے مجھ سے اتنی آسانی سے پیچھا نہیں چھڑانے دوں گی…. شافع ہنسا نور نے اسکا ہاتھ کھینچ کر اسے گاڑی سے نیچے اتارا شافع ہنستے ہوئے بولا مطلب محبت ہے مگر اظہار نہیں کرنا صرف اظہار سننا ہے…نور اپنی ہنسی دباتے ہوئے گاڑی کی طرف جاتے ہوئے بولی شافع ہمیں دیر ہورہی ہے چلو…
نور گاڑی میں بیٹھ گئی شافع ڈرائیونگ سیٹ کی طرف جانے کے بجائے نور کی طرف آیا اور ایک ہاتھ گاڑی کے اوپر کی طرف رکھتے ہوئے بولا
I love you Noor
نور نے اسکی طرف دیکھنے کے بجائے سامنے دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہا تھینکیو شافع…. شافع نے ہنستے ہوئے اسکے کندھے پر سر رکھا… ایسے مت کیا کرو یار مجھے تم سے عشق ہو جائے گا،،، نور نے آنکھیں بند کر کے دل میں کہا “شاید میں یہی چاہتی ہوں” شافع اسکے کندھے پر سے سر اٹھائے بغیر بولا “اور میں جانتا ہوں تم یہی چاہتی ہو” نور نے فوراً آنکھیں کھولیں اور اسکا سر اپنے کندھے سے اٹھاتے ہوئے بولی شافع چلو دیر ہورہی ہے…. شافع نے وآپس اسکے کندھے پر سر رکھا میرا دل نہیں چاہ رہا… نور اسے پیچھے کرتے ہوئے بولی شافع کتنی سنسان سڑک ہے یہاں زیادہ دیر رکنا ٹھیک نہیں ہے… شافع مسکراتا ہوا ڈرائیونگ سیٹ کی طرف بڑھا تمھے بہانے بنانا خوب آتے ہیں….
