Izhar-e-Muhabat by Anooshe NovelR50417

Izhar-e-Muhabat by Anooshe NovelR50417 Izhar-e-Muhabat Episode 3

219.9K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Izhar-e-Muhabat Episode 3

Izhar-e-Muhabat by Anooshe

باہر تیمور وارثی ویلا کے کشادہ لان میں خوبصورت سے فوارے کے ایک طرف ہی کچھ کرسیاں لگی ہوئی تھیں،،،،،

فوارے میں لگی ہوئی لائٹ لان کو اور خوبصورت بنا رہی تھیں۔

شافع وہیں فوارے سے گرتے ہوئے پانی پر نظریںِ جمائے کرسی پر بیٹھا سگریٹ کے کش لے رہا تھا،،،،

زایان کو آتے دیکھا تو سگریٹ کو پیروں تلے مسل دیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

پیلو پیلو……..!

ماما کو نہیں بتاؤں گا

زایان نے سامنے کرسی پر بیٹھتے ہوئے کہا،،،،

شافع نے مسکراتے ہوئے پوچھا کس کی ماما کو اپنی یا میری؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

دونوں کو نہیں بتاؤں گا کیونکہ کان تو دونوں نے ہی کھینچنے ہیں ، اگر بتا دیا تو؟ لیکن شرط یہ ہے کہ تمھے ایک فیور دینا پڑے گا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ہاں میں تو بھول ہی گیا زایان حیدر بنا مطلب کے کوئی کام نہیں کرتا

لیکن …….! میں تمھے ابھی کہیں کچھ کھلانے نہیں لے کے جاؤں گا میں تھکا ہوا ہوں شافع نے کرسی سے ٹیک لگاتے ہوئے کہا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

زایان محفوظ ہوتے ہوئے بولا عزت فزائی کا بہت شکریہ اور یار میں اتنا بھی نہیں کھاتا جتنا تم لوگ بولتے ہو فالتو میں مجھ معصوم کو اپنی گندی نظر لگاتے ہو،،،،،،

اوہو ہو …….! زایان

“The greatest innocent

زایان نے دانت نکالے ۔ ۔ ۔

اب کام کی بات کر لیں ؟؟؟

اچھا چلو بتاؤ کیا فیور چاہیے؟ ایسا کونسا کام آگیا جو میرے بھائی سے نہیں ہورہا شافع نے مسنوعی حیرت ظاہر کی ۔ ۔ ۔ ۔

زایان نے شافع کے قریب آکر سرگوشی میں کہا یہ کام صرف تم کر سکتے ہو میرے بھائی ۔ ۔ ۔ ۔

شافع پیچھے کو ہوا توبہ توبہ زایان تم کن چکروں میں پڑ گئے ہو میں ایسے ویسے کوئی کام نہیں کروں گا۔ ۔ ۔ ۔

زایان نے شافع کی گردن دبوچی تم میری بات سنجیدگی سے نہیں سنو گے شافع کا ہلکا سا قہقہ بلند ہوا

اچھا اچھا سن رہا ہوں بتاؤ یار۔ ۔ ۔ ۔

زایان نے شافع کی گردن چھوڑی پھر سرگوشی میں بولا ایک لڑکی ہے ۔ ۔ ۔ ۔

تو تمھے محبت ہو گئی ہے کیا؟؟؟؟؟ شافع نے بے ساختہ کہا

اس بار زایان نے شافع کے منہ پر گھونسا مارا تھا ،،،،،

تم اپنے سَستے جوکس سنادو پہلے شافع کا ہنس ہنس کر برا حال تھا،،،،،،،

یار تم بار بار اتنے سنجیدہ ہورہے ہو اور مجھ سے تمھاری یہ شکل برداشت نہیں ہورہی شافع پھر ہنسا تھا ……..

زایان کھا جانے والی نظروں سے اسے گھور رہا تھا

شافع نے اپنی ہنسی پر قابو پاتے ہوئے ہاتھ اوپر کرتے ہوئے کہا…..!

اوکے اوکے۔ ۔ ۔ اب ہم سیریس ہوکر بات کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

لیکن جیسے ہی زایان نے سنجیدگی سے بات شروع کی زایان کی شکل دیکھ کر شافع کی پھر ہنسی چھوٹ گئی……….

یار میرے برگر اور فرائس داؤ پر لگے ہوئے ہیں اور تمھے مزاق سوجھ رہا رہے،،،،،

اچھا بھئی بتاؤ مجھے کس نے تمھارے برگر اور فرائس داؤ پر لگا دیے شافع نے زایان کے گلے میں ہاتھ ڈالتے ہوئے کہا تھا

خبردار جو تمنے اب دانت نکالے ورنہ یہ دانت پھر کبھی منہ میں نہیں دکھیں گے

اچھا اچھا ٹھیک ہے اب بتاؤ بھی…….

یار کچھ دن پہلے یونیورسٹی میں ایک لڑکی ملی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

زایان نے اپنی اور آئےنور کی ملاقات کا قصہ الف سے ے تک سنا دیا………

ساری کہانی سنانے کے بعد زایان شافع کے کیسی ردّے عمل کا منتظر تھا،،،،

تو تم یہ چاہتے ہو کے میں اس انجان لڑکی کو اسکالرشپ دلواؤں؟

ہاں بلکل ایسا ہی ہے۔ ۔ ۔ ۔

کس خوشی میں بھائی میری کیا خالہ کی بیٹی لگتی ہے؟ شافع کے انداز سے ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ ایسا کچھ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا،،،،،،،

یار شافع پلیز …….!

میں نے اس سے ڈیل کی ہے. تم انکل سے بات کرو گے تو وہ کچھ پوچھے بغیر یہ کام کر دیں گے …. میری تو شکل دیکھ کر ہی انھوں نے منا کر دینا ہے .

اپنے بھائی کے لئے اتنا نہیں کر سکتے زایان نے معصوم شکل بناتے ہوئے کہا،،،،

شافع نے پہلے کچھ سوچا پھر کہا اچھا ٹھیک ہے میں بات کروں گا لیکن اگر انھوں نے منا کر دیا تو میں انھے اصرار نہیں کروں گا……

ارے ٹھیک ہے میرے بھائی تم بات تو کرو زایان نے فوراً شافع کو گلے لگا کر اسکے گال پر پیار کرا تھا۔ ۔۔ ۔

شافع نے ایک دم زور سے زایان کو پیچھے دھکا دیا ،،،،،،

یہ گلے لگانے تک تو ٹھیک ہے لیکن یہ سب میرے ساتھ نہیں چلے گا شافع نے گال صاف کرتے ہوئے مسنوعی غصے میں کہا ۔ ۔ ۔ ۔

اور اگلے لمحے زایان نے پھر شافع کے گال پر پیار کرتے ہوئے کہا تھا۔ ۔ ۔

بھائی ہو میرے میں تو کروں گا روک سکو تو روک لو یہ بول کر اسنے دوڑ لگا دی تھی اور شافع اسکے پیچھے اسے مارنے بھاگا تھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*

ماما …….!

ہاں ماما کی گڑیا۔

کتنا ٹائم ہوگیا ہم لوگ کہیں باہر نہیں گئے کہیں چلیں ؟؟؟؟

آئےنور اپنی ماما کی گود میں سر رکھ کر لیٹی ہوئی تھی۔ ۔ ۔ ۔

ارمینہ بیگم نے اسکے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا کہاں جائیں گے………

تمھے پتا تو ہے تمھارے بابا نے خود کو کاموں میں کتنا الجھایا ہوا ہے ٹائم کہاں ہوگا انکے پاس ۔ ۔ ۔ ۔

میں منہا سے پوچھتی ہوں میں کہوں گی تو وہ منا نہیں کرے گی ،،،،،

لیکن آپ پہلے بابا سے اجازت لے لیں کہیں غصہ نہ ہو جائیں۔

ارمینہ بیگم سوچتے ہوئے بولیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔

اچھا پہلے میں تمھارے بابا سے فون کر کے پوچھ لوں پھر تم منہا کو فون کرنا۔ ۔

آئےنور نے چینخھتے ہوئے کہا اوکے تو کریں جلدی سے فون نور نے فوراً اپنا موبائل انھے تھما دیا تھا۔ ۔ ۔

جب وہ بات کر کے فارغ ہوئیں تو نور انکے جواب کی منتظر تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔

کیا کہا بابا نے ؟

اسے ڈر تھا کے کہیں منا نہ کر دیا ہو۔

اجازت دے دی ہے انھوں نے لیکن کہا ہے کہ جلدی آجانا…….

نور خوشی سے چیخھی تھی اور پھر ارمینہ بیگم کو زور سے گلے لگا کر انھے پیار کیا تھا

“love you mama

love you too Mama ki jan”

میں منہا کو فون کرتی ہوں جب تک آپ تیار ہو جائیں…

آئےنور فون لے کر کمرے میں چلی گئی تھی……

کچھ دیر بعد وہ کپڑے چینج کر کے باہر نکلی

“اسنے پنک کلر کی قمیز پر بلیک کلر کا دوپٹہ اور پجاما پھنا ہوا تھا”

دوپٹے کو اسکارف کی طرح چہرے کے گرد لپیٹا ہوا تھا….

ماما میں نے منہا کو فون کر لیا ہے اسکی ماما بھی چل رہی ہیں، اور جاتے ہوئے اشعر بھائی چھوڑ دیں گے اسنے ہاتھ میں گھڑی بانتے ہوئے کہا…….

چلو یہ تو اچھا ہو گیا ورنہ میں تم دونوں کے بیچ میں بور ہوجاتی_

کچھ دیر بعد منہا اپنے بھائی اور امّی کے ساتھ انکے گھر کے باہر موجود تھی،،،،

اشعر نے گاڑی کا ہارن دیا تو نور بالکونی کی طرف بھاگی بالکنی سے جھانک کر دیکھا تو منہا گاڑی کے دروازے میں سے سر نکال کے اسے آنے کا اشارہ کر رہی تھی ،،،،،،،

آئےنور نے بھی اشارے سے کہا آرہی ہوں۔ ۔ ۔ ۔

اندر آکر اسنے سوفے پر سے اپنی چادر اٹھا کر شانوں پر پھیلائی،،،

ماما۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں نیچے جارہی ہوں جلدی آجائیں اپنا پرس اٹھا کر نیچے چل دی

ارمینہ بیگم بھی اسکے پیچھے ہی آگئیں تھیں۔ ۔ ۔

اسّلام وعلیکم……..!

اسنے گاڑی میں بیٹھتے ہوئے کہا،،،

ارمینہ بیگم منہا کی امی سے مل رہی تھیں

سو لیڈیز آپ لوگوں کا میل ملاپ ہوگیا ہو تو بتا دیں آپ لوگوں کا کہاں جانے کا پروگرام ہے اشعر نے کہا تھا

سی سائڈ چلتے ہیں، ابھی وہاں قریب ہی ایک نیا ریسٹورنٹ بھی کھلا ہے منہا نے کہا،،،،

چلو ٹھیک ہے وہیں چلتے ہیں سب نے ہامی بھرلی تھی.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*

ہواؤں اور لہروں کو شور کے بیچ وہ ساحل پر ہاتھ باندھے سیدھی کھڑی بہت غور سے سمندر کو دیکھ رہی تھی

جیسے اسکی گہرائیوں کو ناپنا چاہ رہی ہو ……

سمندر کی لہریں تھوڑی تھوڑی دیر بعد اسکے پیروں کو بھگو رہی تھی اتنے میں پیچھے سے منہا آگئی کیا دیکھ رہی ہو اتنی غور سے؟؟؟

نور نے نظریں جھکا کر کہا کچھ نہیں

ٹھیک ہے نہیں بتانا تو نہ بتاؤ ۔ ۔ ۔ ۔

اچھا تم اسکالرشپ کے لئے گئی تھی کیا ہوا؟؟؟

کچھ نہیں بس ایک بیوقوف مل گیا تھا

کون بیوقوف؟ منہا نے تجسّس سے پوچھا

آئےنور نے اسے زایان کے بارے میں بتایا اور اسکی ڈیل کے بارے میں بھی نور کی بات سن کر منہا کا ہنس ہنس کر برا حال تھا

ہاہاہاہاہاہاہا

کون تھا یہ بھوکا بندر ؟؟؟

پتا نہیں کون تھا ۔ ۔ ۔ ۔ وہیں یونیورسٹی کا تھا شاید،،،،،

اچھا یہ تو بتاؤ دکھنے میں کیسا تھا؟ منہا نے آنکھوں کو اچکاتے ہوئے پوچھا۔

دکھنے میں تو ٹھیک تھا ، کسی اچھے گھرانے کا لگ رہا تھا لیکن پھر بھی وہ کھانے کا کتنا بھوکا ہے اس کا اندازہ مجھے اسکی باتوں سے ہوگیا….

پھر تمھے کیا لگتا ہے وہ تمھے اسکالرشپ دلوائے گا؟؟؟

سچ بتاؤں تو مجھے پتا ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہونے والا کوئی صرف برگر اور فرائس کے لئے کیوں اسکالرشپ دلوائے گا…..

بس دل کی تسلّی کے لئے فورم بھرا ہے نور نے افسردہ لہجے میں کہا۔ ۔ ۔

تو پھر تم نے کیا سوچا ہے اگر اسکالرشپ نہیں ملی تو

میں کچھ سوچ ہی نہیں پارہی ۔ ۔ ۔ ۔

نور نے بے بسی سے کہا

منہا نے ہمدردی سے آئےنور کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا میں جانتی ہوں تمھاری کتنی خواہش ہے لیکن،،، پھر بھی کچھ تو سوچنا پڑے گا نا کسی اور یونیورسٹی کا پھر میں بھی وہیں اپلائے کر دوں گی اگر تمھارا یہاں ایڈمیشن نہ ہوا تو……

چھوڑو ان ٹینشن والی باتوں کو منظر کا لطف لو اسنے سورج کو دیکھتے ہوئے کہا تھا جس کے ڈوبنے میں ابھی وقت تھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*

زایان کہاں ہو یار تم تمھے پتا ہے میں کب سے پہنچا ہوا ہوں,,,,,,

شافع زایان سے فون پر بات کرنے میں مصروف تھا

شافع قریب ہی ایک ریسٹورنٹ میں کسی سے ملنے آیا تھا اور اب وہ ساحل سمندر پر موجود زایان کا انتظار کر رہا تھا……

شافع یار میں آنے میں لیٹ ہو جاؤں گا،،،،،

تم ایک کام کرو تم ریسٹورنٹ چلے جاؤ کچھ دیر میں سب ریسٹورنٹ پہنچ ہی جائیں گے،،،، میں بھی سیدھا وہیں آجاؤں گا.

آج ان کے یونی کے ایک دوست کی برتھ ڈے تھی جو کے قریب ہی ریسٹورنٹ میں رکھی گئی تھی….

اچھا جلدی آجانا زیادہ انتظار نہ کروانا….

اگر انتظار کر بھی لوگے تو کونسا کچھ فرق پڑے گا میں کونسا تمھاری گرل فرینڈ ہوں….

زایان نے شرارت سے بھر پور لہجے میں بولا تھا……

اگر تمھارا فضول مزاق ہوگیا ہو تو میں فون رکھوں؟؟؟؟

جی جی بلکل اب اتنی چھوٹی چھوٹی باتوں کی بھی اجازت مجھ سے لوگے کیا؟؟…. زایان نے قہقہہ لگاتے ہوئے بولا۔ ۔ ۔

شافع نے مسکراتے ہوئے فون بند کر کے جیب میں ڈال لیا….

سورج غروب ہونے کو تھا اسنے آس پاس نظریں دوڑائی تو کچھ لوگ سیلفیاں لینے میں مصروف تھے تو کچھ بچوں میں سب کی اپنی سرگرمیاں تھیں….

شافع کی نظر ایک لمحے کے لیے ایک جگہ رک گئی….

اس سے آگے کچھ فاصلے پر ایک لڑکی کھڑی بہت مصروف سے انداز میں سورج کو غروب ہوتے ہوئے دیکھ رہی تھی جیسے اس وقت اس سے اہم کام کوئی اور نہ ہو ,,,,,,

اسنے کالے رنگ کی چادر کو اپنے شانوں پر پھیلایا ہوا تھا چہرے پر عجیب سی اداسی تھی.

“نہ جانے کیوں یہ اداس منظر طبیعت کو بھی اداس کر دیتے ہیں”

شافع نے آئےنور پر سے نظریں ہٹا کر ایک لمبی سانس لیتے ہوئے گاڑی سے ٹیک لگالی

اب وہ خود بھی سورج کو دیکھنے میں مصروف تھا سورج کے ساتھ ساتھ اسے اپنا دل بھی ڈوبتا ہوا محسوس ہوا لیکن وہ اس منظر کو پھر بھی دیکھنا چاہتا تھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*

آئےنور ریسٹورنٹ سے باہر نکل رہی تھی

جب اسکا فون بجا

ماما ………! بابا کا فون ہے آپ لوگ چلیں میں بات کر کے آتی ہوں،،،

ارمینہ بیگم اور باقی سب باہر کی طرف چل دیئے تھے آئےنور فون کان سے لگائے وہیں کھڑی ہوگئی…..

جی بابا ہم بس آرہے ہیں آپ فکر نہ کریں اشعر بھائی لینے آئے ہیں بس تھوڑی دیر میں پہنچ جائیں گے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نور نے اُجلت میں فون بند کرا اور سامنے دیکھے بغیر چلتے ہوئے بیگ میں فون رکھنے لگی……

اچانک وہ کسی سے ٹکرائی اسکا فون اور پرس دونوں زمین پر گر گیا

سامنے والا اسے سوری بولنے ہی والا تھا،

کہ نور نے لفظوں کی بوچھاڑ کر دی اندھے ہیں کیا نظر نہیں آتا آپ کو ؟

شافع نے بوکھلاتے ہوئے کہا

آئم سوری شافع اسکا بیگ اٹھانے کے لئے جھکا لیکن اس سے پہلے ہی آئےنور سب اٹھا چکی تھی۔ ۔ ۔۔

کیا سوری ؟ ہاں؟ نور نے اٹھتے ہوئے کہا

اللہ تعالیٰ نے یہ دو بڑی بڑی آنکھیں دی ہیں نہ دیکھنے کے لئے ہی دی ہیں تو انھیں استعمال کیوں نہیں کرتے نور نے اسکی آنکھوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ ۔ ۔ ۔

آئم سوری شافع نے سپاٹ چہرے سے کہا…….

نور نے اپنے موبائل کو دیکھتے ہوئے کہا

آپ کے سوری بولنے سے یہ ٹھیک ہو جائے گا کیا آئےنور نے موبائل شافع کے آگے لہرایا جس کی اسکرین پر انگنت دراڑیں پڑ گئی تھیں.

دیکھیں…………!

کیا دیکھوں؟ دیکھنا تو پہلے تھا نا آپ نے نور اپنی دُھن میں کہی جارہی تھی اور شافع کا پارہ چڑھ رہا تھا،،،،،

ایک تو دیکھ کے چلتے نہیں ہیں دوسروں کا نقصان کرواتے ہیں پھر ایک لفظ بول دیتے ہیں “سوری” نور نے، اپنے دونوں ہاتھوں کی دو انگلیوں کو اوپر نیچے کرتے ہوئے بولا۔

شٹ اپ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔،،،

آئےنور کے لفظوں کو بریک لگا تھا……

کب سے چپڑ چپڑ بولی جارہی ہیں آپ،،، میں آپ کو کچھ بول نہیں رہا اسکا مطلب یہ نہیں کہ غلطی میری ہے۔ آپ خود اپنا سر اپنے بیگ میں گھسائے ہوئے چل رہی تھیں میں سائڈ پر ہونے ہی لگا تھا کہ آپ ٹکرا گئیں اس میں میری کیا غلطی ہے؟؟؟؟

نور کی بولتی بند ہوگئی تھی.

شافع غصے میں بول کر کچھ سیکنڈ کھڑا رہا پھر آگے ریسیپشن کی طرف بڑھ گیا…….

آس پاس دو تین لوگ تماشائی بنے کھڑے تھے وہ بھی جانے کے لئے مڑ گئے تھے۔ ۔ ۔ ۔

شافع کائونٹر پر کھڑا تھا۔ ۔ ۔

نور پیر پٹک کر آگے بڑھی، پھر گردن موڑ کر غصے سے شافع کو دیکھتے ہوئے چلنے لگی۔ ۔ ۔ ۔

شافع نے اسکی طرف دیکھے بغیر بلند آواز میں کہا آگے دیکھ کے،،،،،

اور آئےنور کا سر آگے شیشے کے دروازے سے ٹکرایا تھا.

شافع نے ایک طنزانیہ مسکراہٹ اسکی طرف اچھالی تھی۔ ۔ ۔

آئےنور نے غصے سے آگے دیکھ کر زور سے دروازا کھولا اور بڑے بڑے ڈک بھرتے ہوئے باہر چلی گئی

شافع نے اس پر سے نظریں ہٹاتے ہوئے زیر لب کہا احمق کہیں کی………!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*

منہا نے آئےنور کو غصے میں آتا دیکھا تو پوچھے بغیر نہ رہ سکی

کیا ہوا ؟ اتنے غصے میں کیوں لگ رہی ہو کس نے کیا بول دیا؟

احمق……..!

آئےنور نے غصے میں منہا کی طرف دیکھے بغیر کہا،،،،،

کیا ہوگیا یار میں نے ایسا کیا کر دیا جو تم مجھے احمق کہہ رہی ہو منہا نے خفا ہونے والے انداز میں کہا

ارے تم تو چپ رہو یار تمھے نہیں بول رہی نور نے جھنجھلاہٹ سے کہا،،،،

تو پھر کسے بول رہی ہو؟

ابھی ملا تھا ایک احمق اندر جب میں فون سننے کے لئے رکی تھی دیکھو میرے فون کا کیا حشر کردیا آئےنور نے اپنا موبائل منہا کو دیکھاتے ہوئے کہا،،،،

اوہ یہ کیسے ہوا؟؟

اندھا تھا ٹکرا گیا مجھ سے اور فون کی یہ حالت ہو گئی میں نے بھی چھوڑا نہیں خوب لعنت ملامت کر کے آئی ہوں،،،،

آئےنور نے بھنوں کو فخریہ انداز میں اٹھاتے ہوئے کہا۔ ۔ ۔

ویسے نور موبائل کو تو کچھ نہیں ہوا پروٹیکٹر ہی ٹوٹا ہے تم ایسی میں اتنی باتیں سنا کر آگئیں….

منہا نے موبائل کا پروٹیکٹر نکال کر آئےنور کے آگے لہرایا،،،،

نور نے نظریں چراتے ہوئے کہا جو بھی ہے ٹوٹا تو ہے نا۔

ویسے ایک بات تو بتاؤ؟

منہا نے ہونٹ کاٹتے ہوئے ہنسی روکنے کی کوشش کری تم سامنے دیکھ کر تو چل رہی تھیں نا؟

آئےنور نے منہا کو گھورا

ٹھیک ہے ٹھیک ہے وہ دیکھ کر نہیں چل رہا تھا تم تو صحیح چل رہی تھیں منہا نے ہنسی کو روکتے ہوئے کہا……

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*

شافعے اپنے یونی کے اسٹوڈنٹس کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا…

زایان کے علاوہ اس کی کسی کے ساتھ خاص دوستی نہ تھی

ہاں البتہ بات چیت سب سے اچھی تھی پوری یونیورسٹی میں کوئی ایسا نہ تھا جو شافع سے دوستی نہ کرنا چاہتا ہو ،،،،

لیکن جس طرح وہ کُھل کر ہنستا اور بات کرتا تھا وہ سب صرف زایان کے ساتھ تھا باقی لوگوں سے وہ خود ہی فاصلہ بنائے رکھتا تھا……..

ریسٹورنٹ کی سب سے اوپر والی منزل برتھ ڈے اور پارٹی وغیرہ کے لئے بنائی گئی تھی وہ ایک بڑا سا ہال تھا. جو چاروں طرف سے خلا ہوا تھا وہاں سے قدرے فاصلے پر موجود سمندر کا دلکش منظر تقریب میں چار چاند لگادیتا تھا…….

چاروں طرف سفید اور گلابی پھولوں کا ڈیکوریشن کیا گیا تھا ایک طرف میوزک سسٹم کا انتظام تھا…….

اور ایک طرف ٹیبل پر ہر طرح کی ڈرنک موجود تھی،،،

وہاں موجود سب لوگوں نے سفید یہ گلابی رنگ پہنا ہوا تھا شاید برتھ ڈے تھیم سفید اور گلابی رکھی گئی تھی،،،

لیکن وہ سوفے پر بیٹھا ان لوگوں میں سب سے الگ لگ رہا تھا اسنے بلیک جینز پر بلیک ہی شرٹ پہن رکھی تھی…..

بس کالر پر ایک سفید لکیر بنی تھی آستینوں کو کہنیوں ںسے تھوڑا نیچے تک موڑا ہوا تھا بائیں ہاتھ میں وہی قیمتی گھڑی…

زایان ابھی تک پہنچا نہیں تھا وہ ان لوگوں کی باتوں سے بور ہو کر وہاں سے اٹھ گیا،،،،

ڈرنک کی ٹیبل کی طرف آکر ایک سوفٹ ڈرنک کا کین اٹھا کر وہیں پھولوں سے سجی دیوار سے ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا

ٹھنڈی ہوا چہرے کو چھو رہی تھی وہ سمندر کے دلکش نظارے کو دیکھنے میں مصروف تھا جب اسے اپنے کندھے پر کسی کے ہاتھ کی نرمی کا احساس ہوا……

اسنے چونک کر پیچھے مڑ کر دیکھا

وہ تاشفہ تھی…..

تاشفہ اسی کی یونی میں پڑھتی تھی لیکن وہ جرنلزم ڈپارٹمنٹ کی تھی….

شافع نے جھجھکتے ہوئے اپنے کندھے پر سے اسکا ہاتھ ہٹایا

وہ اسکے سامنے آکر کھڑی ہوگئی.

ہیلو کیسے ہو شافع؟

ٹھیک ہوں شافع نے مسنوعی مسکراہٹ کے ساتھ بولا۔ ۔ ۔ ۔

جب کوئی آپ کی خیریت دریافت کرتا ہے تو ہمیں بھی سامنے والے کی خیریت پوچھ لینی چاہیے،،،،

تاشفہ نے عجیب سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا تھا…..

مجھے دکھ رہا ہے تم ٹھیک ہو اور کیا پوچھوں؟ شافع نے سپاٹ چہرے کے ساتھ جواب دیا ایک لمحے کے لیے تاشفہ کی مسکراہٹ غائب ہوئی تھی

لیکن پھر وآپس آگئ تھی تمھارا حاضر جواب ہونا ہی تمھاری شخصیت کو نکھارتا ہے…..

شافع نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا وہ سمندر کو دیکھتا رہا……

وہ جانتا تھا تاشفہ اس سے بے تکلف ہونے کی کوشش کر رہی ہے، صرف وہی نہیں وہاں موجود اور کتنی لڑکیوں نے اُسے اپنی نظروں کے حسار میں لیا ہوا ہے وہ یہ بھی جانتا تھا،،،،

وہ ہر کسی سے خود ہی فاصلہ بنائے رکھتا تھا اسلئے کسی کی ہمت نہ ہوتی تھی اس سے بے تکلفی سے پیش آنے کی

تاشفہ کو بھی وہ کتنی بار نظر انداز کر چکا تھا لیکن وہ اس سے بات کرنے کا کوئی موقع جانے نہ دیتی تھی

چاہے وہ کتنے ہی روکھے انداز میں پیش آجائے…..

لگتا ہے تمھے سمندر کچھ زیادہ ہی پسند ہے ؟ تاشفہ نے اسکے چہرے کی طرف بہت غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔

شاید ……..! شافع نے صرف اتنے کہنے پر ہی اکتفا کیا

اسکو وہاں کھڑے رہنا عذاب لگ رہا تھا وہ وہاں سے جانے کے لئے آگے بڑھا

کہ تاشفہ نے بڑی ہی بے تکلفی سے اسکا ہاتھ پکڑلیا کہاں جا۔ ۔ ۔ ۔تاشفہ نے کچھ بولنا چاہا کہ شافع نے ایک جھٹکے سے اسکا ہاتھ جھٹکا……

تاشفہ نے اسے حیرت سے دیکھا

شافع نے انگلی اٹھا کر کڑے تیور سے کہا

“don’t do this again”

تاشفہ کی آنکھیں حیرت سے پھٹی رہ گئیں تھی شرمندگی سے اسکے چہرے کا رنگ اڑنے لگا تھا

شافع یہ بول کر باہر کی طرف بڑھ گیا……….

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*

نور لیپ ٹاپ اون کئے بیٹھی تھی لیکن اسکا کسی چیز میں دل نہیں لگ رہا تھا

وہ ڈائری اور پین نکال کر بیٹھ گئی اسکی عادت تھی جب کسی چیز میں دل نہیں لگتا تو ڈائری اور پین کا سہارا لیتی……

اسکی ڈائیری میں بہت سے ناول کے اقتباس، اقوال، کسی سے سُنے ہوئے تو کہیں پر پڑھے ہوئے الفاظ ، اسکی خوشی کے اور غم کے لمحے لکھے ہوئے تھے…..

ایک دفعہ اسکی دوست نے اس سے پوچھا تھا تم یہ سب اپنی ڈائری میں کیوں لکھتی ہو؟

اس وقت اسنے کہا تھا مجھے لگتا ہے ان لفظوں کی کبھی نہ کبھی مجھے ضرورت پڑ جائے گی……

“کبھی کبھی آپ پر کسی انسان کی باتیں اتنا اثر نہیں کرتی جتنی کتاب کی باتیں کر دیتی ہیں

کبھی کبھی آپ سننا نہیں صرف پڑھنا چاہتے ہیں سمجھنا چاہتے ہیں”

اسے لگا تھا آج اسے واقعی کسی کتاب کے الفاظوں کی ضرورت ہے دل میں امڈتی بے جا خواہشوں سے لڑنے کے لئے

اُسے پتا تھا اس کی ڈائری میں ایسا کچھ نا کچھ ضرور لکھا ہوگا جو اسکی ہمت بڑھا دے گا…..

“ہوتی ہیں نہ کچھ خواہشیں جو دل کے سمجھانے سے نہیں سمجھتیں انھے فلسفے کی ضرورت ہوتی ہے”

آئےنور نے ڈائری کا پہلا صفحہ کھولا

جس پر لکھا تھا

“اندر لفظوں کا خزانہ ہے ذرا محتاط رہیے گا کہیں کھونا جائیں”

اسکے چہرے پر مسکراہٹ آئی ناجانے کیوں اسنے یہ الفاظ اس ڈائری میں قید کر دیئے تھے،،،،

اسنے اگلہ صفحہ پلٹا کسی ناول کا اقتباس تھا…..

اسنے دو صفحے ایک ساتھ پلٹ دئیے

اگلہ صفحہ پلٹنے لگی کے ہاتھ رک گئے

شاید کچھ لفظوں کی تلاش ختم ہوئی تھی………..

اسنے ہاتھ پھیر کر صفحے کو سیدھا کیا

لفظوں پر نظر جما کر پڑھنا شروع کیا………!

“جب دل درد سے بھر جائے آنکھوں سے آنسوں بہنے کے لئے بیتاب ہوں، جب بے جا خواہشیں منہ کو آنے لگیں، تو اس رب کے سامنے رو لیا کریں ۔ ۔ ۔ ۔اپنے دل کا حال سنا لیا کریں وہ تو سب کی سنتا ہے آپ کے دل کا حال اس سے چھپا تو نہیں ہے…..

کوئی غم ہے تو اسے بتائیں، کوئی پریشانی ہے تو اسے بتائیں، دل کسی ضد پر اڑا ہے تو اس سے کہیں

“وہی تو سننے اور جاننے والا ہے”

وہ انسانوں کی طرح دھتکارتا نہیں ہے وہ تو نیکوں کاروں کی بھی سنتا ہے اور بد کاروں کی بھی،،،، وہ سب جانتا ہے بس آپ سے سننا چاہتا ہے….

دعائیں مانگیں اسکے آگے گڑگڑائیں کیونکہ وہ جب نواز نے پر آتا ہے تو “دعائیں بھی قبول ہوتی ہیں معجزے بھی ہوتے ہیں اور تقدیریں بھی بدلتی ہیں”

آپ مانگنے والے تو بنیں”

آئےنور کی آنکھ سے بے ساختہ ایک آنسوں نکل کر ان الفاظوں پر گرا اس جگہ سے تھوڑی سی سیاہی پھیلنا شروع ہو گئ تھی،،،،،

اسے اپنے اندر سکون اترتا ہوا محسوس ہوا تھا اسے یاد نہیں تھا اسنے کب کہاں سے دیکھ کر یہ الفاظ اتارے تھے

نور نے ڈائری بند کر کے دونوں ہاتھ اس پر رکھے پھر سر ٹکا کر آنکھیں موند لیں

آنکھوں سے پانی نکل کر ڈائری پر گر رہا تھا

“اے میرے اللہ مجھے نہیں پتا میرے لئے کیا بہتر ہے میں تو نادان ہو ہر چیز کی چاہ کر بیٹھتی ہوں تو تو سب جانتا ہے جو میرے حق میں بہتر ہے وہ کر دے”

نور نے خود کو زیر لب کہتے سنا……

____________________________*

شافع باہر کی طرف جارہا تھا زایان کو آتے دیکھا تو رک گیا

زایان کو شافع کے تیور چڑے ہوئے محسوس ہوئے تو محتاط ہو کر پوچھا….

خیریت تو ہے؟ چہرہ اتنا سرخ کیوں کر رکھا ہے بلش اُن لگا کر آئے ہوکیا؟

شافع کے گال پر ہاتھ لگاتے ہوئے پوچھا،،،

شافع نے زایان کے ہاتھ جھٹکتے ہوئے کہا تمھارے کونسے دوست کا نکاح ہورہا تھا جو اتنی دیر سے تشریف لائے ہو ۔ ۔ ۔

دیکھو یار تمھارے علاوہ ابھی تک کوئی دوست اتنا سگا ہوا نہیں ہے جس کے لئے میں مفت کے کھانے کو انتظار کرؤاں…….

تم تو یہاں تھے یعنی تمھارا نکاح تو تھا نہیں زایان نے شرارت بھرے لہجے میں بولا …….

شافع نے سختی سے دانت بھینچے

زایان نے بھرپور ڈرنے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے دو قدم پیچھے ہو کر کہا…….

ایسی شکل نہ بناؤ مجھے ڈر لگ رہا ہے

پھر کالر کو فخر سے کھڑے کرتے ہوئے بولا

وہ تو بابا کا کچھ کام تھا کچھ لیگل ڈاکومنٹس وہ مجھ سے ڈسکس کرنا چاہ رہے تھے تو رکنا پڑھا،،،،،

اوہو ہو تو اب زایان حیدر اتنے قابل ہوگئے ہیں کہ ان سے لیگل ڈاکومنٹس ڈسکس کرے جارہے ہیں…..

شافع نے بھرپور حیرت کا مظاہرہ کیا

ہاہاہاہاہاہاہا

زایان نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا

تم مجھے چھوڑو یہ بتاؤ جس میٹنگ کے لئے آئے تھے وہ کیسی رہی اور تمھے انکی کمپنی کیسی لگی؟؟؟

ہاں میں جب اس کمپنی کا وزٹ کرنے شہر سے باہر گیا تھا تو مجھے انکا کام کافی اچھا لگا.

انھے بھی ہمارے آئیڈیاز پسند آئے ہیں اور وہ ہمارے ساتھ اپنے شئیر لگانے کو بھی تیار ہیں،،،

بس اب تم سیریس ہو جاؤ ورنہ میں تمھارے ساتھ پارٹنرشپ میں بزنس نہیں کروں گا شافع نے مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا۔ ۔ ۔ ۔

تمھارے تو اچھے بھی میرے ساتھ بزنس کریں گے زایان نے شافع کی گردن کو دبوچتے ہوئے کہا تھا…

پھر زایان نے آواز بلند کرتے ہوئے کہا فاحد چلو یار کیک کاٹو میں آگیا ہوں. بولا تو ایسے گیا تھا کہ جیسے وہاں سب اس ہی کی عامد کے منتظر ہوں۔

کھانے کو زیادہ دیر انتظار کرانا اچھی بات نہیں ہے زایان نے شافع کے کان میں سرگوشی کی

تمھارا یہ کنواں اللہ جانے کب بھرے گا

میرے مرنے کے بعد اور دونوں کا ایک زور دار قہقہہ بلند ہوا تھا