Izhar-e-Muhabat by Anooshe NovelR50417 Izhar-e-Muhabat Last Episode
Rate this Novel
Izhar-e-Muhabat Last Episode
Izhar-e-Muhabat by Anooshe
ہر طرف جیسے سناٹا سا چھا گیا تھا، وقت تھا جیسے رک سا گیا ہو ہر شئے جیسے سلوموشن میں چلی گئی ہو، اور اچانک شافع زمین پر گرا، نور کی ہارٹ بیٹ مس ہوئی تھی،،، شافع سپاٹ چہرے سے اسکی طرف دیکھ رہا تھا زمین پر آہستہ آہستہ خون پھیلنے لگا،،،، اور اس لمحے نور کی چینخ بلند ہوئی تھی، اسنے چینختے ہوئے شافع کو پکارہ اور دوڑتے ہوئے اسکے قریب آئی تھی،،، زایان جیسے سکتے کے عالم میں شافع سے کچھ فاصلے پر کھڑا تھا اچانک وہ چینختا ہوا شافع کے قریب آیا،،،
زایان نے جب اپنے پیچھے والے لڑکے کا سر بائیک کے اسٹینڈ پر مارا تو شافع دوسرے لڑکے کو مارنے کے لئے مڑا تھا لیکن اچانک اسنے گولی چلا دی،،، گولی چلنے پر بائیک والا لڑکا برق رفتاری سے اٹھا اور چینختے ہوئے بولا یہ کیا کردیا تو نے گولی نہیں مارنی تھی، گولی چلانے والے لڑکے نے پریشانی سے سر پر ہاتھ پھیرا گن اسکے ہاتھ سے نیچے گر گئی تھی اسنے چینختے ہوئے بائیک اسٹارٹ کرنے کو کہا، وہ لوگ کوئی سیریل کلر نہیں تھے چھوٹے موٹے چور تھے گولی چلانے کا بھی انکا کوئی ارادہ نہیں تھا لیکن اس لڑکے کو غصہ آیا ہوا تھا اور غصے میں ہی اچانک اسنے دو فائر کر دیئے…. بائیک والے لڑکے نے فوراً بائیک اسٹارٹ کی وہ دونوں لڑکے تیزی سے بائیک کے پیچھے بیٹھے ان تینوں کے ہواس باختہ ہورہے تھے…..
وہ تینوں جیسے ہی بائیک پر بیٹھے اور بائیک اسٹارٹ کر کے آگے بڑھائی زایان نے انکی ہی زمین پر پڑی ہوئی گن اٹھائی اور فائر کر دیا ان میں سے پیچھے والے لڑکے کی ٹانگ پر گولی لگی تھی لیکن انھوں نے بائیک نہیں روکی زایان جنونی انداز میں فائرنگ کرنے والا تھا، نور چینختے ہوئے بولی زایان شافع….
زایان شافع کی طرف مڑا شافع زمین پر گرا پڑا تھا اسکے پیٹ میں دو گولی لگی تھیں، وہ ہوش میں تھا لیکن آہستہ آہستہ اسکی آنکھیں بند ہورہی تھیں….. زایان نے بغیر دیر کئے اسے اٹھا کر پیچھے گاڑی میں ڈالا،،، ڈاکوؤں کی گن بھی اسنے گاڑی میں نیچے پھینک دی تھی زایان کا پورا جسم بری طرح کانپ رہا تھا اسنے فوراً گاڑی اسٹارٹ کی اور نور سے بولا اسکا چہرہ تھپتپاتی رہو اسے بے ہوش مت ہونے دینا….. شافع کا سر نور کی گود میں تھا اور نور کا ہاتھ اسکی گولی لگنے کی جگہ پر خون بہت تیز رفتاری سے بہہ رہا تھا، نور روتے ہوئے شافع کا چہرہ تھپتھپا رہی تھی کیونکہ اسکی آنکھیں بار بار بند ہورہیں تھیں، وہ اسکو ہوش میں رہنا کا کہہ رہی تھی،،، شافع کی کراہ نکلی، نور چینختے ہوئے بولی زایان گاڑی تیز چلاؤ….. زایان گاڑی فل اسپیڈ سے چلا رہا تھا وہ بار بار پیچھے مڑ کر شافع کو آوازیں بھی لگا رہا تھا، اسنے راستے میں نا جانے کتنی بائیکس گرائیں تھیں کیونکہ اسکے ہاتھ بری طرح کپ کپا رہے تھے اس سے گاڑی نہیں چلائی جارہی تھی، آنکھوں میں بار بار دھندلاہٹ آرہی تھی لیکن وہ اپنے ہواس نہیں کھو سکتا تھا اسے ہمت کرنی تھی، شافع کے لئے، اپنے بھائی کے لئے، نور کے لئے….
شافع نے کراہتے ہوئے اپنے چہرے پر موجود نور کا ہاتھ پکڑا….. نور روتے ہوئے بولی شافع آنکھیں مت بند کرنا ہم ابھی پہنچ جائیں گے٬ تمھے کچھ نہیں ہوگا
ایک بار پھر شافع کی کراہ نکلی اسکے جسم میں درد کی شدید لہر اٹھ رہی تھی جو دماغ کو ماؤف کر رہی تھی اچانک اسکا سانس اٹکنے لگا اسنے نور کے ہاتھ پر گرفت مضبوط کرنی چاہی تھی لیکن گرفت ڈھیلی پڑ رہی تھی، نور کو جب اپنے ہاتھ میں سے شافع کا ہاتھ نکلتا ہوا محسوس ہوا تو اسنے مضبوطی سے اسکا ہاتھ پکڑ لیا اور چینختے ہوئے بولی، زایان گاڑی تیز چلاؤ…. سامنے بائیں جانب سے ایک پانی کا ٹینکر تیز رفتاری سے آرہا تھا…. زایان نے نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ، اور گاڑی کی اسپیڈ برقرار رکھی،،،، اسنے اتنی تیز اسپیڈ میں ٹینکر کے سامنے سے گاڑی نکالی کے اس ٹینکر اور کار میں صرف دو انچ کا فاصلہ رہ گیا تھا، لیکن پھر بھی گاڑی پیچھے سے اسکریچ ہوتی ہوئی گئی تھی…..
شافع نے نور کا ہاتھ اپنے سینے پر رکھا اسکے ہونٹ ہل رہے تھے وہ نور کو پکار رہا تھا لیکن آواز نہیں تھی، نور اسکا گال تھپتھپا کر بولی شافع میری طرف دیکھو شافع…..
شافع نے ایک لمبا سانس کھینچنا چاہا لیکن نہیں لے سکا، اسے اپنا جسم بے جان محسوس ہونے لگا درد کی ایک لہر اسکے سینے تک پہنچی درد کی شدت سے اسکی آنکھوں سے پانی بہنے لگا،،،، آنکھیں کھلے رکھنے کی ہمت اس میں ختم ہوگئی تھی سانس گلے میں اٹک رہا تھا، جسم ساتھ نہیں دے رہا تھا…. شافع نے بے حسوں حرکت آنکھیں بند کیں،،،، “
اکیلے پن کا فائدہ اٹھا کر رونے مت بیٹھ جانا، نور نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا،،، اور غصے سے بولی رؤں گی نہیں تو اور کیا کرو گی….؟ شافع نے اپنے ہاتھ سے اسکا گال سہلاتے ہوئے کہا ” تم مجھے سوچنا”
شافع نے ایک سانس کھینچتے ہوئے آنکھیں کھولیں اور نور کی طرف دیکھا،،،، ماضی کے کچھ حسین منظر اسکی آنکھوں کے سامنے گھومنے لگے “اسکا سر نور کے کندھے پر تھا ایسے مت کیا کرو یار ورنہ مجھے تم سے عشق ہو جائے گا”
شافع کی کراہتی ہوئی آواز نکلی “ماما” نور روتے ہوئے بولی شافع…… شافع ماما بھی آجائیں گیں تم ہمت کرو ہم بس پہنچنے والے ہیں شافع کہ آنکھ کے کنارے سے آنسوں نکل کر کنپٹی سے بہتے ہوئے بالوں میں جذب ہوگیا اسکی تکلیف اسکے چہرے سے بیاں ہورہی تھی اسنے ایک ہچکی کے ساتھ نور کا نام پکارہ اور آہستہ سے اسکی آنکھیں بند ہوگئیں….. نور کے ہاتھ پر اسکی گرفت ڈھیلی ہوئی نور نے اپنا ہاتھ کھولا شافع کا ہاتھ اسکے ہاتھ میں سے نکل گیا،،، نور نے بے یقینی سے اسکے چہرے کی طرف دیکھا اسکی آنکھیں بند تھیں اور ہونٹ خاموش….
“تمھے میرا ذرا خیال نہیں ہے، تم سب کے سامنے مجھے نظر انداز کرتی ہو…
ایسی تو کوئی بات نہیں ہے میں تمھے نظر انداز کیوں کروں گی”
نور نے آہستہ سے شافع کو پکارہ… “شافع”
“ایسے مت کیا کرو یار ورنہ مجھے تم سے عشق ہو جائے گا”….
نور کو اپنے آگے پیچھے سناٹا محسوس ہوا ہر چیز بے معنی، ہر چیز بے کار، زندگی میں ایک بار پھر اسے اپنے پیروں تلے زمین اور سر سے آسمان کھنچتا ہوا محسوس ہوا…… اسنے دائیں بائیں گردن گھمائی اور شافع کا ہاتھ جھنجھوڑتے ہوئے بولی تم ایساکچھ نہیں کر سکتے میرے ساتھ ایسا کچھ نہیں کرسکتے تم مجھے یوں حسین خواب دکھا کر اکیلا نہیں چھوڑ سکتے…. زایان نے پیچھے مڑ کر دیکھا، شافع کی آنکھیں بند تھیں، وہ ہاسپٹل پہنچنے ہی والے تھے زایان اسکو تسلی دیتے ہوئے بولا نور اسے کچھ نہیں ہوا ہے ہم بس پہنچنے والے ہیں لیکن زایان کو لگا وہ نور کو نہیں خود کو تسلی دے رہا ہے….
نور شافع کو جھنجھوڑتے ہوئے بولی تم میری زندگی میں آئے تھے تو میں نے تم سے ایک سوال نہیں کیا تھا لیکن تم میری زندگی سے یوں نہیں جا سکتے،،،، تمھے میرے لئے زندہ رہنا ہوگا، تم مجھے اپنا عادی بنا کر ایسے کیسے چھوڑ سکتے ہو شافع وارثی میں تمھاری زندگی میں نہیں آئی تھی تم میری زندگی میں آئے تھے، تم نے میرا ہاتھ تھاما تھا، تم نے مجھے سہارا دیا تھا تم مجھے یوں بے سہارا نہیں چھوڑ سکتے…. نور چینخ رہی تھی چلا رہی تھی لیکن شافع نہیں اٹھا وہ جو اسکی ایک پکار پر اسکا ہاتھ تھام لیتا تھا، آج اسنے اپنا ہاتھ اسکے ہاتھوں میں سے نکال لیا تھا، نور کو لگ رہا تھا کہ وہ آج ایک بار پھر بے سہارا ہونے والی ہے…..
_______________________________________
حیدر صاحب اور ارفہ بیگم سو رہے تھے جب کمرے کے دروازے پر دستک ہوئی،،،، حیدر صاحب کی آنکھ کھولی تو وہ پریشانی سے دروازے کی طرف گئے ارفہ بیگم بھی اٹھ کر بیٹھ گئیں، حیدر صاحب نے دروازہ کھولا سامنے ارحام کھڑی تھی حیدر صاحب پریشانی سے بولے ارے ارحام بیٹا تم اس وقت خیریت تو ہے نہ؟ ارفہ بیگم بھی اٹھ کر پریشانی سے دروازے پر آئیں،،، ارحام کے چہرے پر پریشانی تھی اور ہاتھ میں موبائل… بابا اتنی دیر ہوگئی ہے زایان ابھی تک گھر نہیں آئے ہیں…. حیدر صاحب نے پریشانی سے گھڑی کی طرف دیکھا ڈھائی بجنے والے تھے، ارحام روہانسی ہو رہی تھی ارفہ بیگم نے اسے صوفے پر لا کر بٹھایا،،، حیدر صاحب موبائل کی طرف بڑھتے ہوئے بولے بیٹا تم نے فون کیا ہے اسے؟ ارحام اثبات میں گردن ہلاتے ہوئے بولی میں نے کیا تھا لیکن انکا فون بند جا رہا ہے… حیدر صاحب نے زایان کا نمبر ڈائل کیا موبائل بند تھا، ارفہ بیگم پریشانی سے بولیں حیدر صاحب اتنی دیر ہوگئی ہے اب تک تو زایان کو آجانا چاہیے تھا آپ فون کریں اسے،،، حیدر صاحب دوبارہ زایان کا نمبر ملاتے ہوئے بولے اسکا نمبر مستقل بند جارہا ہے…. ارحام کھڑے ہوتے ہوئے بولی بابا آپ شافع کو فون کر کے دیکھیں… حیدر صاحب نے اثبات میں سر ہلایا اور شافع کی نمبر ملانے لگے شافع کے نمبر پر کال جا رہی تھی لیکن کوئی اٹھا نہیں رہا تھا… حیدر صاحب نے دو، تین بار کال ملائی لیکن کوئی فون نہیں اٹھا رہا تھا حیدر صاحب کے چہرے پر بھی پریشانی پھیلی…. شافع فون نہیں اٹھا رہا، ارحام کا ایک رنگ آیا اور ایک رنگ گیا…. ارفہ بیگم پریشانی سے بولیں ارحام بیٹا تم نور کو فون کر کے دیکھو ارحام نے بغیر وقت ضائع کئے نور کا نمبر ملایا لیکن اسکے فون پر بھی بیل جا رہی تھی لیکن کوئی نہیں اٹھا رہا…..
ارحام پریشانی سے بولی نور بھی فون نہیں اٹھا رہیں ماما کہیں کچھ ہو تو نہیں گیا میرا دل بہت گھبرا رہا ہے…. حیدر صاحب اسے تسلی دیتے ہوئے اسکے سر پر ہاتھ رکھ کے بولے نہیں بیٹا حوصلہ رکھو کچھ نہیں ہوگا ہوسکتا ہے موبائل کہیں دور رکھا ہو انکا اور زایان ابھی آتا ہی ہوگا تم فکر مت کرو…. ارحام نے پریشانی سے منہ پر ہاتھ پھیرا…. وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسکی گھبراہٹ بڑھی جا رہی تھی….
_______________________________________
ہاسپٹل کے سامنے پہنچ کر زایان نے گاڑی کو بریک لگائے گاڑی کی رفتار اتنی تیز تھی کہ بریک لگانے پر اسکا سر اسٹیرنگ ویل پر لگتے لگتے بچا تھا اسکے ہونٹ میں سے خون بھی رس رہا تھا لیکن اسے پرواہ کہاں تھی، وہ تیزی سے گاڑی میں سے اترا اور گاڑی کا پیچھا کا دروازہ کھول کر شافع کو باہر نکالا،،، زایان شافع کو اٹھائے اندر لے کر جارہا تھا نور اس سے پہلے بھاگتی ہوئی اندر گئی اور وارڈ بوائے سے چینختے ہوئے بولی اسٹریچر لاؤ ایمرجنسی ہے وارڈ بوائے بھاگتے ہوئے اسٹریچر زایان کی طرف لے کر گیا زایان شافع کو اسٹیچر پر لٹاتے ہوئے چینخ کر بولا ڈاکٹر کو بلاؤ، زایان اتنی زور سے چینخھا تھا کہ ہاسپٹل کا سارا اسٹاف باہر آگیا تھا ایک ڈاکٹر بھاگتا ہوا شافع کے پاس آیا اور اسے چیک کرتے ہوئے زایان سے پوچھا کیا ہوا ہے انھے زایان ہانپتا ہوا بولا گولی لگی ہے…. نور روتے ہوئے شافع کا ہاتھ پکڑ کر بولی آپ جلدی ٹریٹمنٹ شروع کریں نہ دیکھیں کتنا خون بہہ رہا ہے نور کا ہاتھ ابھی بھی شافع کے زخم پر تھا اسکے دونوں ہاتھ خون میں تھے کپڑوں پر بھی جگہ جگہ خون لگا ہوا تھا….
ڈاکٹر وارڈ بوائے سے بولا آپریشن تھیٹر میں لے کر چلو اور ڈاکٹر شہریار کو فون کرو ان سے کہو ایمرجنسی ہے…. پھر زایان سے بولا یہ پولیس کیس ہے آپ پولیس کو اطلاع کردیں ہم انھے آپریشن تھیٹر میں لے کر جا رہے ہیں جب تک بڑے ڈاکٹر بھی آجائیں گے اور آپ جلد سے جلد بلڈ کا انتظام کر لیں…. زایان اپنا سر دونوں ہاتھوں سے تھامتے ہوئے بولا میں سب کچھ کر لوں گا آپ بس ٹریٹمنٹ شروع کریں جلدی…. ڈاکٹر نے اثبات میں سر ہلایا اور آپریشن تھیٹر کی طرف چلا گیا……
زایان نے اپنا سر دونوں ہاتھوں میں تھاما ہوا تھا اچانک اسے نور کا خیال آیا اسنے آگے پیچھے نظریں دوڑائیں نور آپریشن تھیٹر کے باہر بے سدھ سی کھڑی تھی، ایک نرس زایان کے پاس آئی اور کچھ پیپرز اسکے آگے کئے آپ ان پر سائن کر دیں…. زایان نے نور کی طرف دیکھا پھر سانس کھینچتے ہوئے پیپرز پر سائن کر دیئے…. وہ کمزور پڑ رہا تھا لیکن اسے سب کچھ سنبھالنا تھا،،، اسنے اپنی جیب ٹٹول کر فون تلاش کیا لیکن فون نہیں ملا تو وہ تیزی سے ریسیپشن کی طرف دوڑا اور حیدر صاحب کو فون کرنے لگا…..
_______________________________________
حیدر صاحب بے چینی سے کمرے میں ادھر سے ادھر چکر لگا رہے تھے ارحام اور ارفہ بیگم صوفے پر بیٹھی تھیں حیدر صاحب تھوڑی تھوڑی دیر بعد، زایان، شافع ، نور تینوں کے نمبر ڈائل کر رہے تھے لیکن کسی سے بھی جواب موصول نہیں ہورہا تھا وہ اسی پریشانی میں کھڑے تھے جب انکا فون بجا…..
حیدر صاحب نے ایک لمحہ ضائع کئے بغیر فوراً کال ریسیو کر کے موبائل کان سے لگایا ہیلو…. دوسری طرف سے زایان کی کانپتی ہوئی آواز آئی با……بابا حیدر صاحب کے چہرے پر اطمینان پھیلا وہ اسے ڈانتے ہوئے بولے کہاں ہو تم کتنی دیر ہوگئی ہے اب تک نہیں آئے، اور تمھارا فون بھی بند جارہا ہے کہاں ہو تم؟ دوسری طرف سے زایان کچھ نہیں بولا تو حیدر صاحب پریشانی سے بولے کچھ بولو بھی چپ کیوں ہوگئے…. بابا…… بابا شافع کو گولی لگ گئی ہے،،، زایان کے لئے لفظ ادا کرنا مشکل ہوا تھا….
حیدر صاحب کو جیسے حیرت کا جھٹکا لگا گولی لگی ہے؟؟؟؟ انھے اپنی آواز کھائی میں سے آتی ہوئی محسوس ہوئی،،، ارفہ بیگم منہ پر ہاتھ رکھ کے کھڑی ہوئیں لیکن ارحام نہیں کھڑی ہو سکی،،،، ارفہ بیگم پریشانی سے حیدر صاحب کا بازو پکڑ کر بولیں کیا ہوا ہے کس کو گولی لگی ہے؟؟؟
حیدر صاحب کے ہواس باختہ ہو رہے تھے وہ اجلت میں بولے کیسے لگی ہے گولی؟ زایان روہانسی آواز میں اپنی آنکھیں رگڑتا ہوا بولا آپ یہ سب چھوڑیں آپ بس ہاسپٹل آجائیں مجھ سے یہ سب ہینڈل نہیں ہورہا، اسکی حالت ٹھیک نہیں ہی مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے بابا….. اگر……. اگر اسے کچھ ہوگیا تو؟؟؟؟
حیدر صاحب فوراً دراز کھول کر اپنی گاڑی کی چابی نکالتے ہوئے بولے تم ہمت مت ہارو حوصلہ رکھو کچھ نہیں ہوگا اسے مجھے ہاسپٹل کا نام بتاؤ میں ابھی آرہا ہوں زایان نے انھے ہاسپٹل کا نام بتایا حیدر صاحب کال کاٹتے ہوئے بولے ٹھیک ہے میں آرہا ہوں… انھوں نے جیسے ہی کال کاٹی ارفہ بیگم نے بیتابی سے پوچھا کسے گولی ہے؟ میرا زایان ٹھیک تو ہے نہ؟ حیدر صاحب نے پہلے ارفہ بیگم کی طرف دیکھا اور پھر ارحام کی طرف…. “شافع کو گولی لگی ہے” ارفہ بیگم نے پیچھے ہوتے ہوئے صوفہ تھاما…. ارحام ایک جھٹکے سے کھڑی ہوئی اور بے یقینی سے بولی شافع کو گولی لگی ہے لیکن کیسے؟ حیدر صاحب باہر جاتے ہوئے بولے یہ سب مجھے نہیں پتا میں ابھی ہاسپٹل جارہا ہوں زایان اکیلا گھبرا رہا ہے نور بھی پتا نہیں کیسی ہوگی…. ارفہ بیگم انکے پیچھے آتے ہوئے بولیں میں بھی آپکے ساتھ چلتی ہوں…. حیدر صاحب انھے منا کرتے ہوئے بولے نہیں رات بہت ہو رہی ہے آپ بچوں کے پاس رہیں میں پہنچ کر فون کروں گا……
حیدر صاحب تیزی سے باہر چلے گئے،،، ارفہ بیگم صوفے پر بیٹھیں ارحام بھی انکے ساتھ ہی بیٹھ گئ ان دونوں کے چہرے کا رنگ اڑا ہوا تھا ارفہ بیگم اٹھتے ہوئے بولیں ارحام میں نماز پڑھنے جارہی ہوں بیٹا تم بھی شافع کے لئے دعا کرو،،، وہ کمرے میں جاتے ہوئے بولیں یا اللہ میرے بچے پر اپنا کرم رکھنا ساتھ ساتھ انکے آنسوں بھی جاری ہوگئے تھے شافع انھے زایان کی طرح ہی پیارا تھا….
ارحام صوفے پر بیٹھی تھی، اسے نور کا خیال آیا ناجانے نور کیسی ہوگی….. ارحام اٹھ کر میراب کے کمرے میں گئی. اسنے میراب کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا تین چار دستک کے بعد میراب نے آنکھیں مسلتے ہوئے دروازہ کھولا اور اسے وہاں دیکھ کر حیرانی سے بولی بھابھی آپ یہاں؟ اس وقت ارحام پریشانی سے اسکا ہاتھ پکڑ کر اندر آئی میراب ابھی بھی نیند میں ہی تھی وہ میراب کو لے کر صوفے پر بیٹھی میراب پریشانی سے بولی بھابھی کیا ہوا ہے سب ٹھیک تو ہے نہ؟ ارحام ٹوٹے لفظوں سے بولی “ش..…شافع….. کو گولی لگ گئی ہے” میراب ایک جھٹکے سے منہ پر ہاتھ رکھ کے کھڑی ہوئی شافع بھائی کو؟ لیکن کیسے؟ میراب کے فوراً آنسوں جاری ہوگئے تھے، ارحام اٹھتے ہوئے بولی پتا نہیں ہے ابھی بابا گئے ہیں….. میراب روتے ہوئے بولی زایان بھائی کہاں ہیں؟ ارحام اسے خود سے لگا کر بولی وہ انھی کے پاس ہیں تم اسطرح رو مت انکے لئے دعا کرو انھے ہماری دعاؤں کی ضرورت ہے…. میراب روتے ہوئے بولی وہ ٹھیک تو ہو جائیں گے نا؟ ارحام اسے تسلی دیتے ہوئے بولی ہاں وہ ٹھیک ہو جائیں گے ہم دعا کریں گے تو وہ ٹھیک ہو جائیں گے., میراب نے اثبات میں گردن ہلائی، اور اپنے آنسوں صاف کرتے ہوئے باتھ روم کی طرف چلی گئی ارحام نے اسے تسلی دے دی تھی لیکن ناجانے کیوں اسکے خود کے دل کو تسلی نہیں تھی، ایک دھچکا سا تھا جیسے ابھی کچھ غلط ہو جائے گا…
__________________________________
نور آپریشن تھیٹر کے باہر والی بینچ پر دونوں ہاتھ باندھے بیٹھی خلا میں دیکھ رہی تھی، اسکے ہاتھوں پر ابھی بھی خون لگا ہوا تھا وہ جیسے کسی سحر میں گم تھی جیسے کسی کا انتظار کر رہی تھی….آدھا گھنٹا ہونے کو آیا تھا لیکن اندر سے کوئی خبر نہیں آئی تھی زایان حیدر صاحب کو فون کر کے آپریشن تھیٹر کے باہر آیا نور کو دیکھ کر وہ کچھ فاصلے پر رک گیا وہ خود کو بہت مشکل سے سنبھال رہا تھا وہ نور کو نہیں سنبھال سکتا تھا، لیکن وہ نور کو یوں اکیلا بھی نہیں چھوڑ سکتا تھا ہمت اسے ہی کرنی تھی…. اسنے اپنی آستین سے آنکھیں رگڑیں اور چہرہ صاف کرتے ہوئے آہستہ آہستہ آگے آیا اور نور کے سامنے آکر کھڑا ہوا…. نور دوسری طرف دیکھ رہی تھی، اسکے آنسوں لگاتار بہہ رہے تھے لیکن چہرہ سپاٹ تھا….
زایان نے اپنے ہونٹ بھینچے آہستہ سے بولا “وہ ٹھیک ہو جائے گا” .….. زایان کو اپنے لفظ کھوکھلے لگے…. زایان نے اپنی مٹھیاں بھینچیں اور نور کے سامنے والی دیوار سے ٹیک لگا کر کھڑا ہوگیا….. کچھ دیر بعد نور نے آہستہ سے کہا “وہ ٹھیک ہو جائے گا” زایان کو سمجھ نہیں آیا وہ خود کو تسلی دے رہی ہے یا اس سے پوچھ رہی ہے…. زایان اسکے قریب آتے ہوئے بولا ہاں وہ ٹھیک ہو جائے گا اسے ہم سب کے لئے ٹھیک ہونا پڑے گا، اسے تمھارے لئے ٹھیک ہونا پڑے گا….
نور نے اسکے چہرے کی طرف دیکھا زایان نے نظریں چرا لیں نور کو اسکے لفظوں سے تسلی نہیں ہوئی تھی…..
وہ زایان کی طرف دیکھ کر بولی وہ کچھ دنوں سے مرنے کی باتیں کر رہا تھا، اسنے اپنا گھر بھی میرے نام کر دیا ہے کیا وہ مجھے اکیلا چھوڑنے کی تیاری کر رہا ہے؟ زایان نے مزید اپنی گردن جھکائی اور ہونٹ بھینچے،
نور نفی میں سر ہلا کر بولی نہیں وہ مجھے یوں نہیں چھوڑ سکتا، میں اسے خود کو یوں بے بس اور بے سہارا نہیں چھوڑنے دوں گی ہاں میں خود گرز ہورہی ہوں لیکن وہ مجھے اپنا عادی بنا کے یوں کیسے چھوڑ سکتا ہے…؟ نور چینخی تھی….
زایان اسکے پاس آتا ہوا بولا وہ تمھے اکیلا نہیں چھوڑے گا نہیں چھوڑ سکتا وہ تمھے اکیلا تم دیکھنا وہ ٹھیک ہو جائے گا….. اسنے تمھارے اور اپنے بارے میں بہت کچھ سوچ رکھا ہے اسنے بہت خواب دیکھے ہیں تمھارے حوالے سے وہ تمھے ہم سب کو یوں نہیں چھوڑ سکتا شافع وارثی یوں بے حس نہیں ہو سکتا…. تم دعا کرو نور دعاؤں سے تو تقدیریں بدل جاتی ہیں کیا پتا وہ اس وقت ہماری دعاؤں کا منتظر ہو….. ہم دونوں اسکی زندگی کا اہم جز ہیں وہ ہماری بات نہ مانیں ایسا تو ہو ہی نہیں سکتا، زایان مسکراتے ہوئے بولا اسنے بچپن میں مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ ہم ساتھ مریں گے تو جب میں زندہ ہوں تو اسے کچھ کیسے ہو سکتا ہے، وہ ہمیں بس تنگ کر رہا ہے ویسے بھی اسے لوگوں کی نظروں میں رہنے کا بہت شوق ہے تبھی تو اسنے خود کو نظر لگا لی، ساری غلطی تمھاری ہے نور جب تمھے پتا ہے میرا بھائی اتنا پیارا ہے تو تمھے اسے کالا ٹیکا لگائے بغیر باہر نہیں بھیجنا چاہئے تھا اب نا جانے کس کی کالی نظر لگی ہوگی اسے زایان اسکے چہرے پر مسکراہٹ لانا چاہتا تھا لیکن اسکے خود کی آنکھ سے بار بار پانی نکل رہا تھا ،،،،زایان حیدر ہار رہا تھا وہ ٹوٹ رہا تھا شافع وارثی کی ایک لمبی غنودی نے زایان حیدر کے ضبط کو مات دے دی تھی اسنے…… اسنے زایان حیدر کو رلا دیا تھا…..
زایان نے ایک لمبا سانس کھینچا اور نور سے بولا تم اٹھو جا کے اسکے لئے دعا کرو، نور آپریشن تھیٹر کی طرف دیکھ کر بولی میں میں یہاں سے گئی اور اگر وہ…….. وہ آگے کچھ نہیں بول سکی زایان اسے اٹھاتے ہوئے بولا میں ہوں یہاں اسے کچھ نہیں ہوگا تم اللہ پر بھروسہ رکھو اور اسکے لئے دعا کرو نور نے ہلکا سا اثبات میں سر ہلایا اور کچھ فاصلے پر بنے prayer room کی طرف چلی گئی…..
______________________________________
زایان آپریشن تھیٹر کے باہر چکر لگارہا تھا ایک نرس باہر آئی زایان کو اپنے ہاتھ پاؤں جمتے ہوئے محسوس ہوئے، وہ نرس زایان سے بولی اپنے خون کا انتظام کر لیا؟ زایان نے اثبات میں سر ہلایا جی ارینج کر لیا ہے بس ایکس چینج کرنا ہے…. نرس بولی ٹھیک ہے پھر جس نے ایکس چینج میں خون دینا ہے وہ جا کے دے دے ہم منگوا لیتے ہیں،،، نرس اندر جانے لگی تو زایان نے پوچھا وہ،،،، میرا بھائی کیسا ہے؟ نرس بغیر کسی تاثر کے بولی انکا بلڈ کافی بہہ گیا ہے ڈاکٹر کوشش کر رہے ہیں آپ بس دعا کریں…. زایان کو لگا تھا کہ وہ شاید کوئی تسلی والے الفاظ کہہ جائے گی لیکن نرس کی باتیں سن کر زایان کو اپنا جسم بے جان ہوتا ہوا محسوس ہوا…..
نرس اندر جاتے ہوئے بولی آپ جلدی جا کر خون دے دیں…. زایان نے اثبات میں سر ہلایا…. بلڈ بینک کیونکہ ہاسپٹل کے نیچے ہی بنا ہوا تھا اور زایان نے خون ارینج بھی کر لیا تھا صرف اب خون کے بدلے میں دوسرا خون دینا تھا زایان نیچے جانے لگا جب اسے سامنے سے حیدر صاحب آتے ہوئے نظر آئے زایان کو انھوں نے دور سے ہی دیکھ لیا تھا… وہ تیزی سے بھاگتے ہوئے زایان کی طرف آئے انھے دیکھ کر زایان کا ضبط جواب دے گیا تھا اس میں اور ہمت نہیں تھی اپنے جذبات قابو کرنے کی حیدر صاحب نے اسکا ہاتھ پکڑ کر پوچھا کیسا ہے شافع؟ زایان انکی بات کا جواب دینے کے بجائے انکے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کے بچوں کی طرح رونے لگا بابا وہ ٹھیک نہیں ہے، میرا دل بہت گھبرا رہا ہے بابا اگر اسے کچھ ہوگیا تو….. اسکا جملہ ختم ہونے سے پہلے ہی حیدر صاحب اسے ہلکا سا جھنجھوڑتے ہوئے بولے کچھ نہیں ہوگا اسے کچھ نہیں ہوگا ہمت مت ہارو تم ہمت ہار گئے تو باقی سب کیا کریں گے سب کو تم نے ہی سنبھالنا ہے زایان نفی میں گردن ہلاتے ہوئے بولا مجھ میں ہمت نہیں ہے بابا اسے اسطرح دیکھنے کی آپکو نہیں پتا میں اسے کس حالت میں ہاسپٹل لے کر آیا ہوں وہ میرا بھائی ہے اسکا خون بہا ہے…..
حیدر صاحب نے اپنی آنکھ کے کنارے صاف کرتے ہوئے زایان کے کپڑوں پر لگے خون کو دیکھا جسے دیکھ کر انھے شافع کی حالت کا اندازہ ہورہا تھا….. ابھی شافع کہاں ہے؟ زایان آنکھیں رگڑتے ہوئے بولا آپریشن تھیٹر میں ہے….. خون کی ضرورت ہے وہی لینے جارہا ہوں٬ حیدر صاحب نے اثبات میں سر ہلا کر پوچھا یہ سب ہوا کیسے؟ زایان انھے ساری کہانی سنانے لگا سب کچھ سننے کے بعد حیدر صاحب نے سختی سے مٹھیاں بھینچیں، اگر زایان کی حالت روہانسی نہ ہوتی تو وہ ایک زناٹے دار تھپڑ اسکے منہ پر رسید کرتے…. آخر تمھے ضرورت کیا تھی اتنی رات کو سنسان سڑک پر گاڑی روکنے کی؟ اگر ایک دن تم کپ کیک نہیں کھاتے تو مر نہیں جاتے…. زایان خاموش رہا وہ جانتا تھا اسکی غلطی ہے…. تم نے پولیس کو فون کیا؟ زایان نے اثبات میں سر ہلایا…..
اتنے میں انھے ہاسپٹل کے ریسیپشن پر پولیس آتی ہوئی نظر آئی حیدر صاحب نے انھے ہاتھ سے اشارہ کر دیا…. وہ لوگ حیدر صاحب کے پاس آگئے اور ان سے ہاتھ ملانے لگے، پولیس والے بیان لینا چاہتے تھے لیکن نور تو بالکل بھی بیان دینے کی حالت میں نہیں تھی اور حیدر صاحب کو زایان کی حالت بھی ٹھیک نہیں لگی تھی وہ پولیس والوں سے بولے آپ لوگ کل بیان لے لئے گا…. لیکن زایان بولا نہیں بیان میں آج ہی دوں گا لیکن پہلے میں خون دے کر آجاؤں…. پولیس والے کیونکہ زایان اور حیدر صاحب دونوں کو ہی جانتے تھے اسلئے وہ انتظار کرنے پر راضی ہوگئے….
_______________________________________
حیدر صاحب نے گھر سے نکلتے ہوئے تیمور صاحب کو اطلاع دے دی تھی، انھے ہاسپٹل پہنچے کچھ دیر ہی ہوئی تھی، تیمور صاحب بھی بھاگے دوڑے تہمینہ بیگم کو لے کر ہاسپٹل پہنچے، تیمور صاحب ریسیپشن سے پتا کر کے اوپر آگئے انھے دور سے ہی حیدر صاحب نظر آگئے تھے، وہ دوڑتے ہوئے حیدر صاحب کے پاس پہنچے… کیا ہوا ہے شافع کو کیسے ہوا یہ سب؟ حیدر صاحب نے تیمور صاحب کے کندھے پر ہاتھ رکھا انکے چہرے کے تاثرات سے انکی پریشانی واضح ہورہی تھی، تہمینہ بیگم بھی روتے ہوئے بولیں کہا ہے شافع کس حال میں وہ؟ حیدر صاحب سانس کھینچتے ہوئے بولے زایان نور اور شافع کو گھر چھوڑنے جارہا تھا راستے میں ڈاکوؤں نے انھے روک لیا ان لوگوں کی شاید ہاتھا پائی ہوئی تھی اور انھوں نے گولی چلا دی شافع اس وقت آپریشن تھیٹر میں ہے آپ لوگ دعا کریں…. تیمور صاحب نے پریشانی سے سر پر ہاتھ پھیرا،،، تہمینہ بیگم روتے ہوئے بولیں نور اور زایان کہاں ہیں بھائی صاحب؟ نور prayer room میں ہے اور زایان پولیس کو بیان دینے گیا ہے….
تیمور صاحب سر تھام کر کرسی پر بیٹھ گئے، ڈاکٹر نے کچھ بتایا؟ حیدر صاحب انکا کندھا تھپتھپاتے ہوئے بولے ابھی آپریشن چل رہا ہے، آپ دعا کریں….
_______________________________________
زایان نے پولیس کو بیان دے دیا تھا پولیس والے نور کا بیان بھی لینا چاہتے تھے لیکن زایان نے منا کر دیا….. زایان وآپس اوپر آیا آپریشن شروع ہوئے ڈیڑھ گھنٹا ہونے والا تھا، اور انکے لئے یہ ایک ایک منٹ سو سال کے جتنا بھاری گزرا تھا…..
آپریشن تھیٹر سے ایک ڈاکٹر باہر نکلا نور وہاں موجود نہیں تھی زایان فوراً انکے قریب آتے ہوئے بولا شافع کیسا ہے؟ ڈاکٹر سانس کھینچتے ہوئے بولا انھے دو گولیاں لگی ہیں، ایک گولی تو چھو کر نکل گئی لیکن ایک گولی انھے گردے کے بہت قریب لگی ہے، اور بہت قریب سے گولی لگنے کی وجہ سے خون بھی کافی بہہ گیا ہے٬ زایان کا کلیجہ منہ کو آیا…. اسکا دل کیا تھا کہ کچھ غلط سننے سے پہلے زمین پھٹے اور وہ اس میں دفن ہو جائے…. زایان نے کپکپاتے لفظوں سے پوچھا شافع…. شافع کیسا ہے؟ ڈاکٹر نے زایان کے کندھے پر ہاتھ رکھا گولی ہم نے نکال دی ہے لیکن خون بہت بہہ گیا ہے پیشنٹ بہت ہمت والے ہیں انھوں نے سروائو کرنے کی بہت کوشش کی ہے ورنہ انکا جتنا خون بہا ہے ہمیں بالکل امید نہیں تھی انکے بچنے کی….. زایان کا جیسے کسی نے اٹکا ہوا سانس چھوڑا تھا….. مطلب وہ ٹھیک ہے؟
ڈاکٹر سانس کھینچتے ہوئے بولا ہم نے گولی نکال دی ہے ابھی ڈریسنگ ہو رہی ہے پھر ہم انھے آئی سی یو میں شفٹ کر دیں گے خون کی ضرورت ہے آپ خون ارینج کروالیں بس انھے چوبیس گھنٹے میں ہوش آجائے تب کوئی خطرے کی بات نہیں ہے لیکن اگر انھے ہوش نہیں آیا تو ہم کچھ کہہ نہیں سکتے…. زایان کا پھر کسی نے دل مٹھی میں دبوچا تھا…. تہمینہ بیگم کرسی پر ڈھے گئیں،،،، زایان نے ڈاکٹر کے دونوں کندھوں پر ہاتھ رکھا اور گردن جھکاتے ہوئے بولا خون کا انتظام ہو جائے گا میں سب کر لوں گا بس آپ اسے ٹھیک کر دیں پلیز……
ڈاکٹر زایان کا کندھا تھپتھپاتے ہوئے بولا زندگی موت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے آپ لوگ دعا کریں اللہ بہتر کرے گا، ڈاکٹر وہاں سے چلا گیا زایان نے حیدر صاحب اور تیمور صاحب کی طرف دیکھا زایان گٹھنے کے بل زمین پر بیٹھ گیا دونوں ہاتھوں سے اپنا سر دبوچتے ہوئے بولا….
یہ سب میری وجہ سے ہوا…. حیدر صاحب نے نیچے بیٹھ کر اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا زایان ہمت کرو اسے ہوش آجائے گا،،، زایان دونوں ہاتھ سر پر رکھ کے گردن مزید جھکاتے ہوئے بولا اگر اسے کچھ ہوگیا تو میں خود سے کبھی نظریں نہیں ملا پاؤں گا بابا….. میں نور کو کیا جواب دوں گا، میں زندگی بھر اسکی آنکھوں میں خود کو مجرم کیسے دیکھوں گا،،،، حیدر صاحب نے اسکا سر دونوں ہاتھوں سے پکڑا اور اسے جھنجھوڑتے ہوئے بولے کچھ نہیں ہوگا اسے اللہ پر یقین رکھو وہ ٹھیک ہو جائے گا….
زایان کراہتے ہوئے بولا اسے ٹھیک ہونا پڑے گا،،، وہ مجھے یوں مشکل میں اکیلا نہیں چھوڑ سکتا وہ جانتا ہے میں اسکے بغیر کچھ نہیں ہوں…… حیدر صاحب نے مزید اس سے کچھ نہیں کہا وہ جانتے تھے وہ اپنے حواسوں میں نہیں ہے، زایان نے اپنا چہرہ صاف کیا اور دیوار کا سہارہ لے کر اٹھتے ہوئے بولا میں خون ارینج کر کے آتا ہوں، حیدر صاحب اٹھتے ہوئے بولے تم تو خون دے چکے ہو،،، زایان گردن ہلاتے ہوئے بولا میں گوہر کو فون کرتا ہوں، تیمور صاحب نے اسے روکا….. روکو زایان، زایان نے سوالیہ نظروں سے انکی طرف دیکھا، تیمور صاحب آگے آتے ہوئے بولے میرا اور شافع کا خون میچ کرتا ہے خون میں دے دوں گا وہ مزید اور کچھ کہے خون دینے چلے گئے،،، زایان نے حیدر صاحب کی طرف دیکھا….
تہمینہ بیگم زایان سے بولیں بیٹا نور کو تو دیکھ لو ذرا پتا نہیں وہ بچی کس حال میں ہوگی، زایان نے اثبات میں گردن ہلائی اور نور کے پاس چلا گیا….
_______________________________________
نور اپنے دونوں ہاتھ گٹھنوں کے گرد پھیلائے ہوئے اور سر گٹھنوں میں دیئے بیٹھی تھی…. زایان اسکے سامنے آکر کھڑا ہوا اور اسے آواز دی نور نے سر اٹھا کر اسکی طرف دیکھا، نور کی آنکھیں سرخ اور چہرہ بھیگا ہوا تھا…. زایان اسکے چہرے سے نظریں ہٹاتے ہوئے بولا آپریشن ہوگیا ہے….. نور ایک جھٹکے سے کھڑی ہوئی شافع کیسا ہے؟, زایان اسکی طرف دیکھے بغیر بولا ٹھیک ہے…. سچ کہہ رہے ہو تم؟ زایان نے گردن جھکاتے ہوئے اثبات میں گردن ہلائی نور وہاں سے جانے لگی میں اس سے جاکر ملتی ہوں پھر…. زایان نے اسے روکا، ابھی اسے آئی سی یو میں شفٹ کیا ہے ابھی ملنے نہیں دینگے…. نور نے اچھنبے سے زایان کو دیکھا ہاں ٹھیک ہے ہوش آنے میں تھوڑا وقت لگے گا اسے لیکن ہم مل تو سکتے ہیں…. زایان اسکی طرف دیکھتے ہوئے بولا ڈاکٹر نے منا کیا ہے، تم دعا کرو اسے جلدی ہوش آجائے…. نور باہر آتے ہوئے بولی آجائیے گا اسے ہوش…..
نور تیزی سے باہر آگئ، شافع کو آئی سی یو میں شفٹ کر دیا گیا تھا،،،، حیدر صاحب اور تہمینہ بیگم آئی سی یو کے باہر ہی تھے اور تیمور صاحب خون دینے گئے تھے،،، نور دوڑتی ہوئی وہاں آئی تہمینہ بیگم نے اسے دیکھا تو روتے ہوئے اسکی طرف بڑھیں…. نور ان سے گلے لگی ہوئی بولی آپ پریشان مت ہوں ماما آپریشن تو ہو گیا ہے وہ ٹھیک ہو جائے گا…. تہمینہ بیگم اسکا سر سہلاتے ہوئے بولیں، آپریشن تو ہوگیا ہے لیکن اسکا ہوش میں آنا بہت ضروری ہے ڈاکٹر نے کہا ہے جب تک اسے ہوش نہیں آتا وہ کچھ کہہ نہیں سکتے….
ایک بار پھر نور کے کانوں میں سیسہ پگھلا تھا، نور ان سے الگ ہوئی اور آئی سی یو کے دروازے کی طرف بڑھی اسنے شیشے سے اندر دیکھا اور دیکھتے ہی اسنے سختی سے منہ پر ہاتھ رکھا….
شافع کو مسنوعی سانس دی جارہی تھی…. ناجانے کتنی مشینوں کے پائپ اسکے جسم سے جڑے ہوئے تھے…. نور نے سختی سے منہ پر ہاتھ رکھا تھا… آنکھوں سے لگاتار آنسوں بہنے لگے…. وہ شافع کو اسطرح نہیں دیکھ سکتی تھی، اسے اسطرح مشینوں سے جکڑا دیکھ کر اسے اپنے جسم کا ایک ایک حصہ عزیت میں لگ رہا تھا….
اسنے روتے ہوئے شیشے پر ہاتھ رکھا وہ کچھ دیر کھڑی روتے ہوئے اسے اسی طرح دیکھتی رہی پھر اچانک مڑی اور حیدر صاحب سے بولی مجھے شافع سے ملنا…. حیدر صاحب اسے بچوں کی طرح سمجھاتے ہوئے بولے بیٹا ابھی ڈاکٹر نہیں ملنے دیں گے، نور چینختی ہوئی بولی کیوں نہیں ملنے دیں گے بیوی ہوں میں اسکی حق ہے میرا آپ ان سے کہیں کہ بس ایک بار مجھے اندر جانے دیں پلیز…..
تہمینہ بیگم اسے خود سے لگائے بولیں چپ ہو جاؤ بیٹا ابھی کچھ دیر بعد مل لینا،،، تہمینہ بیگم نے اسے کرسی پر بٹھایا…. زایان دور کھڑا یہ منظر دیکھ رہا تھا قریب آنے کی اس میں ہمت نہیں تھی…. اتنے میں تیمور صاحب وہاں پہنچے انھوں نے نور کو روتا بلکتا ہوا دیکھا تو اسکے سامنے آکر کھڑے ہوئے اور اسکے سر پر ہاتھ رکھا، انکی آنکھوں میں نمی اور ہاتھوں میں کپکپاہٹ تھی، شافع ٹھیک ہو جائے گا تم دعا کرو اسے جلد سے جلد ہوش آجائے…..
_______________________________________
صبح کے دس بج رہے تھے ابراہیم صاحب، گوہر اور شہزاد کو حیدر صاحب نے فون کر کے رات میں ہی خبر دے دی تھی اور وہ لوگ آدھی رات کو ہی ہاسپٹل پہنچ گئے تھے….. آپریشن ہوئے پانچ، چھ گھنٹے گزر گئے تھے لیکن شافع کو ابھی تک ہوش نہیں آیا تھا اور آئ سی یو کے باہر سے ان لوگوں میں سے ایک بھی شخص نہیں ہلا تھا…. نور رات سے ہاتھ جوڑے کرسی پر بیٹھی تھی، اور تہمینہ بیگم کے ورد ایک منٹ کے لئے نہیں رکے تھا…… زایان آئی سی یو سے کچھ فاصلے پر رات سے ایک ہی پوزیشن پر کھڑا تھا اسے سب نے بیٹھنے کا کہا لیکن اسنے تو جیسے نہ بیٹھنے کی قسم کھا رکھی تھی…
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سب کی دھڑکن بھی بڑھتی جارہی تھی…. ساڑھے دس بجے کے قریب نور کا ضبط جواب دے گیا٬ شافع کے روم سے ایک ڈاکٹر نکلنے لگا تو نور اٹھ کر انکے پاس آئی اور بولی آپریشن ہوئے اتنے گھنٹے ہو گئے اسے ہوش کیوں نہیں آرہا..؟ ڈاکٹر اسے حوصلہ دیتے ہوئے بولے ہم اپنی طرف سے پوری کوشش کر رہے ہیں آپ حوصلہ کریں… نور اپنے آنسوں پوچھتے ہوئے بولی آپ مجھے اس سے ملنے دیں….. ڈاکٹر منا کرتے ہوئے بولا دیکھیں ابھی ہم آپ کو نہیں ملنے دے سکتے…. نور چینختے ہوئے بولی آخر کیوں نہیں ملنے دے سکتے…. آپریشن ہوئے اتنے گھنٹے ہوگئے تو پھر اسے ہوش کیوں نہیں آرہا….؟ آپ کچھ کرتے کیوں نہیں ہیں…
دیکھیں گولی بہت قریب سے لگی تھی انکا بہت خون بہا ہے ہم نے پہلے ہی کہا تھا کہ آپریشن کے بعد بھی جب تک ہوش نہیں آتا ہم کچھ نہیں کہہ سکتے… نور نے اپنے دونوں ہاتھ ڈاکٹر کے آگے جوڑ دیئے… آپ پلیز کچھ بھی کریں، جو چاہئے لے لیں لیکن پلیز اسے ٹھیک کردیں… زایان فوراً نور نے پاس آیا ڈاکٹر سانس کھیچتے ہوئے بولا ہم صرف کوشش کر سکتے ہیں زندگی دینے والا تو اوپر والا ہے آپ دعا کریں بس….
ڈاکٹر جانے لگا تو زایان نے انھے روکا….. آپ پلیز کچھ دیر کے لئے انھے ملنے دیں ڈاکٹر پھر منا کرنے والا تھا زایان بولا میں آپ سے ریکویسٹ کرتا ہوں پلیز تھوڑی دیر کے لئے انھے ملنے دیں….. ڈاکٹر تھوڑی دیر تک سوچتا رہا پھر گردن ہلاتے ہوئے بولا ٹھیک ہے مل لیں لیکن تھوڑی دیر زایان نے اثبات میں گردن اور نور کو آئی سی یو میں شافع کے پاس بھیج دیا…
نور آئی سی یو کا دروازہ کھول کر اندر آئی…. اسکے ہاتھوں میں لرزش تھی، وہ سامنے تھا مگر خاموش تھا…. نور آہستہ سے چل کے اسکے پاس رکھی کرسی پر آکے بیٹھی…. نور بہتی آنکھوں سے ایک ٹک باندھے اسے دیکھتی رہی…. پھر آہستہ سے اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھا اسے ابھی بھی خون چڑھ رہا تھا…. نور اٹھ کر اسٹریچر پر اسکے پاس بیٹھ گئی….
نور نے اسکا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں لے لیا… اسنے ہولے سے پکارہ شافع……! لیکن شافع نے کوئی جواب نہیں دیا… نور نے اسکے ہاتھ پر اپنا سر ٹکا دیا اور پھوٹ پھوٹ کے رو دی… میں تمھے اسطرح نہیں دیکھ سکتی شافع٬ میں……. میں تم سے بہت محبت کرتی ہوں میں تمھارے بغیر کیسے رہوں گی…. اسے لگا تھا وہ ابھی اٹھ جائے گا اور اسے خود سے لگائے اسکے کندھے پر سر رکھ کر بولے گا “ایسے مت کیا کرو یار ورنہ مجھے تم سے عشق ہو جائے گا” لیکن وہ نہیں اٹھا وہ اسی طرح خاموش تھا، اسکی خاموشی مزید گہری ہوگئی تھی….
نور نے اسکے ہاتھ پر سے اپنا سر ہٹایا اور اسکی طرف دیکھ کر بولی تم چاہتے تھے میں اظہارِ محبت کردوں تو لو میں اظہار کرتی ہوں کہ میں مجھے تم سے شدید محبت ہے اتنی محبت جتنی تم سے کوئی اور نہیں کر سکتا…. میں عادی ہوگئی ہوں تمھاری،،،، تمھارے بغیر جینا کا تصور بھی مجھے عزیت پہنچاتا ہے، میں نہیں رہ سکتی تمھارے بغیر…..
نور کچھ دیر کے لئے خاموش ہوئی…. تم اب خاموش کیوں ہو… کچھ کہو گے نہیں؟ مجھ سے لڑو گے بھی نہیں کہ میں نے اظہار کرنے میں اتنی دیر لگا دی تم اتنے ظالم کب سے ہوگئے شافع کہ میں تمھارے سامنے اتنا روؤں اور تم میرے آنسوں تک نہ پہنچو…. نور نے اپنی آنکھیں رگڑیں…. نور نے شافع کے بازو پر سر رکھا ایسے مت کرو شافع میں سچ میں مر جاؤں گی پلیز اٹھ جاؤ بہت تنگ کرلیا تم نے مجھے….
نور کافی دیر تک اسکے بازو پر اپنا سر رکھے بیٹھی رہی لیکن شافع نہیں اٹھا اور یہ پہلی بار ہوا تھا کہ نور شافع کے اتنے قریب تھی اور شافع بے سدھ خاموش لیٹا تھا آج اسنے نور کے آنسوں نہیں پہنچے تھے، اسنے نور کو خود سے نہیں لگایا تھا، اسکے اظہار پر وہ خوشی سے چلایا نہیں تھا، اسکے بار بار پکارنے سے بھی وہ نہیں اٹھا تھا اور نور کو اسکی کچھ دیر کی ہی لاتعلقی مار دینے کے لئے کافی تھی….
زایان نے دروازہ کھٹکھٹایا اور اندر آیا نور شافع کے پاس بیٹھی تھی زایان آگے آیا وہ شافع کی طرف دیکھنے سے گریز کر رہا تھا وہ زمین کی طرف دیکھ رہا تھا….
نور کافی دیر ہوگئی ہے باہر چلو، نور اٹھتے ہوئے بولی زایان تم ہی اسکو بولو نہ کہ اب اٹھ جائے میری نہیں سن رہا شاید تمھاری سن لے تمھے تو یہ اپنا بھائی کہتا ہے نہ تم ہی اس سے بولو نہ….. زایان نے نظریں اٹھا کر شافع کی طرف دیکھا….
پھر نور سے بولا باہر چلو… نور نے نفی میں گردن ہلائی زایان کو پتا تھا وہ نہیں اٹھے گی زایان نے آہستہ سے اسکا بازو پکڑا اور اسے لے کر باہر آگیا…. نور نے ایک جھٹکے سے اسکے ہاتھ سے اپنا بازو نکالا….
اور چینختے ہوئے بولی تم سمجھ کیوں نہیں رہے وہ آج میری کچھ سن ہی نہیں رہا…..
وہ مجھ سے محبت کے دعوے کرتا ہے، مجھ پر اپنی جان نچھاور کرتا ہے، میرے آنسوں اسے تکلیف پہنچاتے ہیں، وہ میری ایک آواز پر میرے سامنے آجاتا ہے وہ مجھے پریشان نہیں دیکھ سکتا لیکن آج وہ مجھے پریشان دیکھ کر کس طرح خاموش ہے کیا وہ مجھے محسوس بھی نہیں کر پارہا…..
نور نے اپنے ہاتھوں کی طرف دیکھا، تیمور صاحب، ابراہیم صاحب، اور باقی سب بھی وہیں موجود تھے….. تیمور صاحب اسکے سامنے آئے تم پریشان مت ہو بیٹا اسے ہوش آجائےگا…. نور بے بسی سے انکی طرف دیکھ کر بولی لیکن کب؟ مجھے لگ رہا ہے سب کچھ میری مٹھی میں سے ریت کی طرح پھسل رہا ہے اور میں کچھ کر بھی نہیں پارہی میں سب کچھ کھو رہی ہوں… تیمور صاحب اسکے سر پر ہاتھ رکھ کے بولے تم کچھ نہیں کھو رہیں جو تمھارا ہے وہ تمھارا ہی رہے گا کوئی تمھے اس سے دور نہیں کر سکتا…..
نور نے بے بسی سے دیوار سے سر ٹکا دیا….. زایان نے ایک نظر نور کو دیکھا اور آئی سی یو کے اندر چلا گیا….. وہ شافع کے سامنے آکر کھڑا ہوا اور زور سے بولا کیسے آدمی ہو تم؟ تم اس لڑکی سے محبت کے دعوے کرتے ہو کیا اسکے آنسوں تمھارے دل پر نہیں گر رہے کیوں تنگ کر رہے ہو تم سب کو مانا کے تمھے نظروں میں رہنا کا شوق ہے لیکن یہ کیا طریقہ ہے تنگ کرنے کا….
زایان نے آنکھیں رگڑیں مانا کے غلطی کی ہے گاڑی نہیں رکوانی چاہیے تھی تو ٹھیک ہے یار نہیں کھاؤں گا کپ کیک اب کبھی لیکن پلیز اٹھ جا یار….. زایان نے آگے آکر شافع کے سینے پر ہاتھ رکھا اور جھکتے ہوئے بولا پلیز اٹھ جا یار میں تیرے بغیر کچھ بھی نہیں ہوں شافع کے بغیر زایان کچھ نہیں ہے….. زایان کا آنسوں شافع کے ماتھے پر گرا تھا….. زایان کتنی ہی دیر یوں کھڑا رہا پھر سیدھا ہوتے ہوئے بولا اگر دو گھنٹے میں تجھے ہوش نہیں آیا نہ تو بس تو دیکھ یو میں نور کو گھر بھیج دوں گا تو یہ سب اسی لئے کر رہا ہے نہ کے نور تیرے ساتھ رہے لیکن اب اگر تو نہیں اٹھا نہ تو میں نور کو زبردستی گھر بھیج دوں گا اور جب تک نہیں آنے دوں گا جب تک تو آنکھیں نہیں کھول لیتا…..
زایان تیزی سے باہر نکل گیا,,,,
______________________________________
شام ہونے کو تھی زایان نے زبردستی حیدر صاحب، ابراہیم صاحب اور تہمینہ بیگم کو گھر بھیج دیا تھا….. کیونکہ گھر پر ارحام اور باقی سب بھی پریشان ہو رہے تھے….
نور اور زایان نے رات سے کچھ نہیں کھایا تھا اور نور کی حالت ایسی تھی کہ اگر وہ کچھ دیر اور یہاں رکتی تو گر جاتی…. زایان پانی کی بوتل اسکے پاس لے کر آیا اور کھول کر اسکے آگے کی پانی پی لو… نور نے نفی میں گردن ہلائی زایان اصرار کرتے ہوئے بولا بھوکے پیاسے رہنے سے تو کچھ نہیں ہوگا پانی پی لو….. نور اسکی طرف دیکھتے ہوئے بولی شافع کو کب ہوش آئے گا؟ لہجے میں التجا اور بے بسی تھی٬ زایان نے نظریں چرائیں آجائیے گا اسے ہوش تمھاری دعائیں رائگاں تو نہیں جاسکتیں…. نور نے گردن جھکا دی….
شام چھ بجے کے قریب نرس ڈرپ چیک کرنے آئی سی یو میں آئی تھی….. جب شافع نے آہستہ سے انگلیاں ہلائیں اور آہستہ سے آنکھیں کھولنے کی کوشش کی لیکن روشنی کی وجہ سے اسکی آنکھیں چندھیا گئیں…. اسنے دوبارہ آنکھیں کھولنے کی کوشش کی لیکن وہ ناکام رہا درد کی ایک شدید لہر اسکے جسم میں دوڑی تھی اور اسکے منہ سے بے ساختہ نکلا تھا ماں…..
نرس نے گردن موڑ کر شافع کی طرف دیکھا وہ آہستہ آہستہ گردن ہلا رہا تھا لیکن وہ آنکھیں کھولنے میں ناکام تھا نرس تیزی سے باہر آئی…. زایان فوراً کھڑا ہوا تھا نرس ڈاکٹر کو بلانے جارہی تھی زایان نے پریشانی سے پوچھا کیا ہوا؟ نرس ڈاکٹر کو بلاتے ہوئے بولی پیشنٹ کو ہوش آرہا ہے….
نور اور تیمور صاحب تیزی سے آگے آئے اس سے پہلے کے وہ اور کچھ پوچھتے نرس ڈاکٹر کو لے کر اندر چلی گئی…. وہ تینوں شیشے کے پاس کھڑے ہوگئے….. شافع درد کی وجہ سے گردن دائیں سے بائیں ہلا رہا تھا وہ آہستہ آہستہ کسی کو پکار بھی رہا تھا اسکے منہ پر آکسیجن لگا تھا ڈاکٹر نے اسکی ہارٹ بیٹ چیک کرتے ہوئے نرس کو ایک انجیکشن تیار کرنے کو کہا….
کچھ دیر بعد ڈاکٹر باہر آیا تو تیمور صاحب نے بے چینی سے پوچھا کیسا ہے میرا بیٹا اب؟ ڈاکٹر نے ایک ہلکی سے مسکراہٹ کے ساتھ تیمور صاحب کے کندھے پر ہاتھ رکھا اب پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے…. انھے آہستہ آہستہ ہوش آرہا ہے بس درد کی وجہ سے انھے آنکھیں کھولنے میں مشکل ہو رہی ہے میں نے پین کلر کا انجیکشن دے دیا ہے کچھ دیر میں آپ لوگ مل لئے گئے….
زایان اسی وقت قبلہ رو ہو کے سجدے میں گیا تھا وہ رو رہا تھا بے تحاشہ رو رہا….. تیمور صاحب نے اسکی کمر تھپتھپائی٬ ڈاکٹر مسکراتے ہوئے زایان کو دیکھ کر بولے آپکا بھائی بہت ہمت والا ہے انھوں نے سمجھیں موت سے جنگ لڑی ہے ورنہ ہمیں کوئی امید نہیں تھی…. زایان کھڑا ہوا ہم کب مل سکتے ہیں اس سے؟
بس کچھ دیر انتظار کر لیں پھر آپ مل سکتے ہیں…. زایان نے اثبات میں سر ہلایا…. تیمور صاحب نے نور کا سر تھپتھپایا تھا٬ زایان اسے دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولا میں نے کہا تھا نہ وہ ہمیں ایسی نہیں چھوڑ سکتا نور مسکرا دی….
_______________________________________
تیمور صاحب شافع کے سامنے کھڑے تھے انھوں نے آہستہ سے اسے آواز لگائی شافع….. شافع نے آہستہ سے آنکھیں کھولیں… تیمور صاحب اسکے قریب آئے اور اسکے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھا کیسا محسوس کر رہے ہو؟ شافع کچھ دیر انھے دیکھتا رہا پھر اٹک اٹک کر بولا “نور کہاں ہے”؟ تیمور صاحب باہر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولے وہ باہر ہے بیٹا….. شافع نے اپنا ہاتھ اٹھانا چاہا لیکن تیمور صاحب نے آگے بڑھ کر اسکا ہاتھ تھام لیا شافع انکی طرف دیکھ کر بولا اسے بلا دیں پلیز…..
تیمور صاحب نے مسکراتے ہوئے اثبات میں گردن ہلائی، اور اسکے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولے ٹھیک ہے بھیجتا ہوں…..
تیمور صاحب باہر آگئے شافع نے دوبارہ آنکھیں بند کر لیں…. کچھ دیر بعد اسے اپنے قریب کسی کی موجودگی کا احساس ہوا تو اسنے آنکھیں کھولیں….. سامنے زایان چہرے پر غصہ لئے کھڑا تھا شافع نے اسے دیکھ کر کچھ لمحے کے لئے آنکھیں بند کیں پھر دوبارہ کھولیں….. شافع نے ہاتھ اوپر کر کے منہ پر سے آکسیجن ماکس ہٹانا چاہا زایان نے فوراً غصے سے اسکا ہاتھ نیچے کیا ابھی تمھے اسکی ضرورت ہے اسی لئے لگایا ہوا ہے ورنہ کسی کو شوق تو نہیں ہے تمھارے منہ پر یہ فٹ کرنے کا….
شافع ہلکا سا مسکرایا، اسے بولنے میں تکلیف ہورہی تھی زایان اسے غصے سے دیکھتے ہوئے بولا یار مانا کے تمھے پروٹوکول کی عادت ہے لیکن یہ کونسا طریقہ ہے پروٹوکول حاصل کرنے کا؟ شافع نے اسے اشارے سے قریب ہونے کو کہا زایان نے اپنا کان اسکے قریب کیا…. شافع آہستہ آہستہ بولا تم ہر وقت کچھ نہ کچھ کرتے رہتے ہو میں نے سوچا میں بھی کچھ نیا کر کے دیکھوں…. زایان ہاتھ جوڑتے ہوئے بولا تم کچھ نیا کرنے کا مت سوچا کرو بھائی یہ سب کام میرے ہیں مجھے ہی کرنے دیا کرو… شافع اسکا چہرہ بغور دیکھتے ہوئے بولا تم روئے تھے کیا؟ زایان نے فوراً ہنستے ہوئے نظریں چرائیں میں روؤں گا وہ بھی تمھارے لئے دماغ خراب ہے کیا تمھارا…؟ شافع اسے دیکھتا رہا…. اتنے میں نرس آئی اور اس نے ڈرپ میں کوئی انجیکشن ڈالا…..
زایان آگے آیا اور شافع کا چہرہ تھامتے ہوئے بولا تم نے ہماری جان نکال دی تھی یار… شافع نے زایان کا ہاتھ پکڑا میں سچ بتاؤں؟ زایان نے اثبات میں سر ہلایا…. “مجھے لگا تھا میں نہیں بچوں گا” زایان کا چہرہ سپاٹ ہوا٬ ایسے کیسے نہیں بچتے تم، تمھے ایسے ہی تھوڑی نہ آزاد کر دیتے…. شافع کی آنکھیں بند ہونے لگی شاید نیند کا انجیکشن ڈالا گیا تھا….
شافع آنکھیں کھل بند کرتے ہوئے بولا نور کہاں ہے؟ زایان ہاتھ اٹھاتے ہوئے بولا وہ تم سے نہیں ملے گی بھائی آئی تھی وہ تم سے ملنے کتنی دیر تک تمھے اسنے جگانے کی کوشش کی لیکن تمھاری تو نیند ہی پوری ہو کے نہیں دے رہی تھی…. شافع غنودی کی طرف جارہا تھا وہ آنکھیں بند کرتے ہوئے بولا نور کو بلا دو پلیز….
زایان نفی میں گردن ہلاتے ہوئے بولا نہیں بھئی وہ نہیں ملے گی تم سے تم جانتے ہو اسنے رو رو کے سمندر بنایا ہوا تھا اور تم تو جانتے ہو تمھاری بیوی کس حد تک ڈھیٹ ہے ایک نہیں سن رہی تھی…. زایان ناجانے اور بھی کیا کیا کہہ رہا تھا لیکن شافع غنودی کی طرف چلا گیا
_______________________________________
زایان نے گھر میں شافع کے ہوش میں آنے کی اطلاع دے دی تھی اور یہ خبر سن کر سب کا ہی سانس بھال ہوا تھا…. ارحام کسی کو بغیر بتائے ڈرائیور کے ساتھ ہاسپٹل آگئی تھی کیونکہ اسے زایان اور شافع دونوں کی فکر ہو رہی تھی…. وہ اوپر آئی زایان کرسی پر بیٹھا ہوا تھا وہ تیزی سے زایان کی طرف بڑھی اسے دیکھ کر زایان کھڑا ہوا اور حیرت سے بولا تم کس کے ساتھ آئی ہو؟ اسکے سوال کا جواب دینے کے بجائے ارحام نے اسکے ہونٹ پر لگے زخم پر ہاتھ رکھا زایان ہلکا سا کراہتے ہوئے پیچھے ہوا….. ارحام پریشانی سے بولی آپ نے اس پر کچھ پر لگایا ہے؟،،، زایان نے اثبات میں سر ہلایا….. شافع کیسے ہیں؟ زایان نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا اب ٹھیک ہے ارحام نے اسے بغور دیکھتے ہوئے پوچھا اور آپ؟ زایان نے مسکراتے ہوئے اسکے گال پر ہاتھ رکھا میں بھی بالکل ٹھیک ہوں…. ارحام فکر مندی سے بولی آپ نے کچھ کھایا ہے؟ زایان نے نفی میں گردن ہلائی کپڑے چینج کرنے گھر جاؤں گا تب کھا لوں گا… ارحام نے اثبات میں گردن ہلائی نور کہاں ہے؟ وہ نماز پڑھنے گئی ہے….
ارحام فکر مندی سے اسے بغور دیکھتے ہوئے بولی آپ کو اور چوٹ تو نہیں آئی؟ زایان نے مسکراتے ہوئے نفی میں گردن ہلائی، ارحام خفا ہوتے ہوئے بولی آپ کو اتنی رات میں سنسان سڑک پر گاڑی نہیں روکنی چاہیے تھی…. زایان بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا میں آدھی راتوں کو بھی اکیلا گھوما ہوں لیکن اس رات بس یہ سب ہونا تھا تو ہو گیا…. ارحام اسکی طرف دیکھ کر بولی لیکن میں اب کبھی آپکو اسطرح آدھی رات میں کہیں نہیں جانے دوں گی٬ زایان ہنستے ہوئے بولا یار تمھارے کزن کو گولی لگی ہے اسکی پرواہ کرو تم مجھے نصیحتیں کر رہی ہو….
مجھے انکی بھی فکر ہے لیکن آپ تو میرے شوہر ہیں آپکی فکر مجھے زیادہ ہوگی…. آپ کو پتا ہے جب اتنی دیر تک آپکا فون نہیں لگا تو میں کتنی پریشان ہوگئی تھی…. زایان اسے دیکھتے ہوئے بولا میں جانتا ہوں…. کیا آپکا موبائل لے گئے وہ لوگ؟ زایان کندھے اچکاتے ہوئے بولا پتا نہیں سب کچھ اسطرح ہوا کے مجھے ہوش ہی نہیں رہا…. ارحام نے اثبات میں گردن ہلائی آپ بہت تھکے ہوئے لگ رہے ہیں٬ زایان نے مسکراتے ہوئے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا تھکا ہوا تھا تمھے دیکھ کر اب ساری تھکن اتر گئی ارحام نے مسکراتے ہوئے گردن جھکائی،،، تایا ابو تو یہیں رکے تھے وہ کہاں گئے؟
پولیس والے آئے تھے دوبارہ وہ ان سے بات کرنے گئے تھے آتے ہی ہونگے ابھی….. اتنے میں تیمور صاحب وہاں آگئے ارحام کو دیکھ کر پوچھا تم کب آئیں بیٹا؟ میں بس تھوڑی دیر پہلے آئی ہوں….
زایان نے تیمور صاحب سے پوچھا انکل پولیس نے کیا کہا کچھ پتا چلا؟ تیمور صاحب نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا اور موبائل نکالتے ہوئے زایان کے آگے کیا….. جو جگہ تم نے بتائی تھی وہاں سے انھے تمھارا یہ موبائل ملا ہے وہاں آس پاس لگے سی سی ٹی وی کیمرے کی فوٹیج بھی انھوں نے نکلوائی ہے لیکن وہ کسی کام کی نہیں ہیں اندھیرے کی وجہ سے کچھ صاف نظر نہیں آرہا…. اور جو گن تم نے انھے دی تھی اسکا بھی کوئی لائسنس وغیرہ نہیں ہے….. زایان نے بھنویں اٹھاتے ہوئے پوچھا تو پھر؟ تیمور صاحب اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولے پولیس کوشش کر رہی ہے لیکن ایسا کوئی بھی سوراخ نہیں ملا جس سے وہ لوگ پکڑے جائیں، اس لئے کوئی فائدہ نہیں ہے زایان بھنویں میچتے ہوئے بولا پولیس ٹھیک طرح تحقیقات کرے نہ ایسے کیسے کوئی سوراخ نہیں ملا، میں نے پولیس کو انوالو کر کے غلطی کر لی میں خود ہی یہ معاملہ اپنے طریقے سے سنبھال لیتا پولیس سے کچھ نہیں ہو پائے گا….
تیمور صاحب نے زایان کو غصے میں دیکھا تو اسکا کندھا تھپتھپاتے ہوئے بولے شافع ٹھیک ہے اس سے زیادہ ہمیں کیا چاہیے تم چھوڑو اس معاملے کو اب پولیس خود یہ سب سنبھال لے گی….. لیکن انکل، ارحام بولی زایان تایا جی ٹھیک کہہ رہے ہیں، شافع ٹھیک ہیں یہی کافی ہے اس معاملے کو اور مت بڑھائیں پلیز۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ لوگ تو اب تک ناجانے کہاں سے کہاں پہنچ گئے ہونگے….
لیکن میں انھے اسطرح تو نہیں چھوڑ سکتا انکی وجہ سے شافع کی کیا حالت ہوئی تھی….. ارحام اسکا ہاتھ پکڑتے ہوئے بولی لیکن شافع اب ٹھیک ہے پلیز اب آپ کوئی خطرہ مول نہیں لیں… زایان نے ارحام کو دیکھ اور پھر گردن جھکا دی…..
_______________________________________
زایان فریش ہو کر باتھ روم سے نکلا ہاسپٹل میں تیمور صاحب اور نور تھے وہ کپڑے چینج کرنے کے لئے گھر آیا تھا…. ارحام کھانا کمرے میں ہی لے آئی، زایان صوفے پر بیٹھا تھا ارحام زمین پر گٹھنوں کے بل بیٹھی ٹیبل پر کھانا رکھ رہی تھی،،،، زایان اسے بغور دیکھ رہا تھا….. ارحام نے اسکی پلیٹ میں کھانا ڈالا اور اسکے آگے کرتے ہوئے بولی شروع کریں….. زایان نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے برابر میں بٹھایا تم نے کھایا؟ ارحام نے مسکراتے ہوئے کندھے اچکا کر نفی میں گردن ہلائی، زایان پلیٹ اسکے آگے کرتے ہوئے بولا تو شروع کرو پھر کھانے کو زیادہ دیر انتظار نہیں کرواتے، ارحام مسکرا دی…..
_______________________________________
شافع کو کچھ گھنٹے Under observation میں رکھنے کے بعد اسے روم میں شفٹ کر دیا گیا تھا لیکن درد کی وجہ سے اسے پین کلر انجیکشن دیئے گئے تھے جس کی وجہ سے اس پر مسلسل غنودی طاری تھی…. نور صوفے پر بیٹھی اسے دیکھ رہی تھی نرس اسکی ڈرپ چیک کر کے گئی تو نور اسکے پاس آکر بیٹھ گئی… اسنے آہستہ سے شافع کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا، وہ اسی طرح بیٹھی تھی کچھ دیر بعد شافع نے آنکھیں کھولیں، شافع اسے دیکھ کر آہستہ سے مسکرایا….
نور کو لگا تھا جیسے زندگی وآپس آئی ہو…. شافع نے اسکا ہاتھ پکڑ کے اپنے سینے پر رکھا عین دل کے اوپر نور نے آنکھیں بند کر کے اسکی دھڑکن محسوس کرنا چاہی…. شافع ٹھہر ٹھہر بولا کہاں تھی تم؟ نور اسے دیکھتے ہوئے بولی میں تو یہیں تھی لیکن تم آنکھیں ہی نہیں کھول رہے تھے…. شافع ہلکا سا مسکراتا ہوا بولا اب تو کھول لی ہیں نہ…. نور نے نظریں جھکائیں،،، شافع نے اسکے ہاتھ پر گرفت مضبوط کی میں ٹھیک ہوں اب…. نور نے نظریں اٹھا کر اسکی طرف دیکھا اسکی آنکھوں میں آنسوں تھے، میں بہت ڈر گئی تھی مجھے لگا کہ میں تمھے کھو دوں گی، شافع نے اسکے چہرے پر ہاتھ رکھا اور انگھوٹے سے سہلاتے ہوئے بولا مجھے بھی لگا تھا کہ میں تمھے آخری بار دیکھ رہا ہوں….. نور نے روتے ہوئے احتیاط سے شافع کے سینے پر سر رکھ لیا…. شافع مسکراتے ہوئے اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا میں بیمار ہوں کچھ تو رحم کرو…. تم مجھے خود سے الگ ہونے کا کہہ رہی ہو؟ شافع مسکراتے ہوئے بولا نہیں میں یہ کہہ رہا ہوں جو کہنا چاہتی ہو وہ کہہ دو،،،،
میں اظہار کرنا چاہتی ہوں،،،، شافع آنکھیں بند کرتے ہوئے بولا تو کرو نہ….نور اسکے سینے پر انگلی پھیرتے ہوئے بولی الفاظ نہیں ہیں…. شافع شرارت سے بولا یعنی مجھے پھر سے بے ہوش ہونا پڑے گا…. نور نے فوراً اسکے سینے پر سے سر اٹھایا، اور اسے گھورنے لگی، شافع مسکراتے ہوئے بولا مزاق کر رہا ہوں….. نور خاموش رہی تو شافع بولا کیا تم یہ چاہتی ہو کہ میں پہل کروں؟
نور نے مسکراتے ہوئے گردن جھکائی شافع مسکراتے ہوئے آنکھیں بند کر کے بولا “ایسے مت کیا کرو مجھے ویسے بھی تم سے عشق ہوگیا ہے” نور نے قہقہہ لگاتے ہوئے اسکے ہاتھ پر سر رکھا…. اور “مجھے تم سے محبت ہوگئی ہے” شافع اسے بغور دیکھتے ہوئے بولا تم کیا انتظار کر رہی تھیں کہ مجھے کچھ ہو اور تم اظہار کرو…. نور اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے بولی ایسا تو کچھ نہیں ہے… شافع بھنویں اٹھاتے ہوئے بولا اچھا تو پھر پہلے اظہار کیوں نہیں کیا؟ نور کندھے اچکا کر بولی بس میری مرضی….. شافع ہنسا٬ اچھا ایک بار پھر کہو نہ… نور نے بھنویں اچکائیں کیا؟ یہی کے تم مجھ سے محبت کرتی ہو؟ نور شرارت سے آنکھیں چڑھا کر بولی میں نے اظہار پہلی اور آخری مرتبہ کیا اب تمھے الفاظ نہیں آنکھیں پڑھنی پڑیں گی….. شافع دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا آخر تم اتنی ظالم کیسے ہو سکتی ہو؟ نور منہ بناتے ہوئے بولی تم نے مجھے بہت رلایا ہے یہ اس بات کی سزا ہے….
شافع نے اسکا ہاتھ چوما یہ تو میرے اختیار میں نہیں تھا نہ نور اسکا ہاتھ دونوں ہاتھوں میں لیتے ہوئے بولی تم وعدہ کرو کے مجھے کبھی نہیں چھوڑو گے؟ شافع اسے بغور دیکھتے ہوئے بولا میں تم سے کیوں دور جاؤں گا لیکن موت اور زندگی پر تو کسی کا اختیار نہیں یہ تو حقیقت ہے…. نور اسکے بازو پر سر رکھ کر بولی میں ایسے کسی حقیقت پر یقین نہیں کرنی چاہتی….. یعنی تم دھوکے میں جینا چاہتی ہو….؟
نہیں میں بس تمھارے ساتھ جینا چاہتی ہوں…. شافع مسکراتے ہوئے بولا میری ظالم بیوی کو مجھ سے اتنی محبت کب ہوئی؟ نور پلکھیں جھپکاتے ہوئے بولی تم محبت کے قابل ہو تم سے کسی کو بھی محبت ہو سکتی ہے…. لیکن میں صرف تمھاری محبت کا طلبگار ہوں، شافع اچانک کراہیا نور نے سر اٹھایا اور پریشانی سے پوچھا درد ہو رہے ہے کیا؟ شافع نے آنکھیں بند کر کے آہستہ سے اثبات میں سر ہلایا نور فوراً اٹھتے ہوئے بولی…. میں ڈاکٹر کو بلا کر لاتی ہوں…. شافع نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا نہیں رہنے دو بس تم یہیں رہو نور وآپس بیٹھ گئی اور اسکے چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولی ہاں لیکن ڈاکٹر کو بلا دیتی ہوں نہ….
شافع نے نفی میں گردن ہلائی بس تم مجھے پانی پلا دو٬٬٬ نور نفی میں گردن ہلاتے ہوئے بولی ڈاکٹر نے منا کیا ہے ابھی شافع بھنویں میچتے ہوئے بولا اب کیا مجھے پیاسہ مارنے کا ارادہ ہے کیا….. نور کچھ کہنے والی تھی اتنے میں زایان اور ارحام اندر آئے نور فوراً شافع کے پاس سے اٹھی زایان نے ان دونوں کو دیکھ کر معنی خیز انداز میں گلہ کھنکارہ، زایان شافع کے پاس آتا ہوا بولا یار انسان بیمار ہو تب تو بیوی کا پیچھا چھوڑ دے…. شافع مسکرایا،،، ارحام آگے آتے ہوئے بولی اب کیسی طبیعیت ہے آپکی؟ شافع نے گردن ہلاتے ہوئے کہا اب ٹھیک ہوں لیکن جیسے جیسے انجیکشن کا اثر ختم ہو رہا تھا درد کا احساس بڑھتا جا رہا تھا….
شافع نے زایان کو قریب آنے کا اشارہ کیا زایان اسکے قریب ہوا تو شافع بولا مجھے پانی چاہیے…. زایان سیدھا ہوتے ہوئے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا پانی کیا، جوس، چائے، کوفی، سیگریٹ سب تمھے دیں گے لیکن کچھ دیر میں ابھی ڈاکٹر نے منا کیا ہے…. شافع نے بے بسی سے آنکھیں موند لیں. زایان اسکے بال بکھیرتے ہوئے بولا تم نے ہمیں ڈرا دیا تھا یار٬ شافع نے آنکھیں کھولیں میں موت کو بہت قریب سے دیکھ کر آیا ہوں زایان پتا نہیں کونسی چیز میرے اور موت کے درمیان آگئی…. زایان نور کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا اپنی بیوی کی طرف دیکھو جواب مل جائے گا شافع نے مسکراتے ہوئے نور کی طرف دیکھا اور ہاتھ بڑھایا نور نے اپنا ہاتھ اسکے ہاتھوں میں دے دیا….
زایان پھر شرارت سے بولا ویسے یار اگر کپ کیک نہیں کھلانے تھے تو مت کھلاتے خود گولی کھانے کی کیا ضرورت تھی، فضول میں ہاسپٹل کا اتنا خرچا کروادیا…. نور منہ بنا کر بولی تم تو ایسے بول رہے ہو جیسے اسنے خود بولا تھا کہ آؤ مجھے گولی مارو…. کمرے میں قہقہہ بلند ہوا….
زایان شافع کے پاس اسٹریچر پر بیٹھا اور اسکے گلے لگ کر اسے دبوچتے ہوئے بولا خبردار آئندہ اگر تم نے ہمیں چھوڑ کے جانا کا سوچا بھی تو تم چلے گئے تو میرے کھانے پینے کا خرچہ کون اٹھائے گا…. شافع نے مسکراتے ہوئے اسکے بال بکھیرے…. تمھے چھوڑ کر میں کہاں جاؤں گا ہر جگہ تمھے ساتھ لے کر جاؤں گا بے فکر رہو…. زایان اس سے الگ نہیں ہوا تو ،شافع اسکے بال کھینچتے ہوئے بولا اب اٹھ بھی جاؤ یار مجھے درد ہو رہا ہے….
زایان ہسنتے ہوئے اس سے الگ ہوا اوہ میں تو بھول ہی گیا تھا تمھارا آپریشن ہوا ہے…. شافع نے باہر دروازے کی طرف دیکھ کر پوچھا بابا آئے تھے کہاں ہیں؟ زایان اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا وہ رات سے یہاں تھے میں نے انھے ابھی زبردستی گھر بھیجا ہے…. شافع چھت کی طرف دیکھنے لگا تو زایان بولا انھوں نے تمھے خون دیا ہے شافع….شافع نے حیرت سے زایان کی طرف دیکھا، زایان نے اثبات میں سر ہلایا شافع نے ایک زخمی مسکراہٹ کے ساتھ چھت کی طرف دیکھا نور اسکا کندھا سہلاتے ہوئے بولی وہ بابا ہیں تمھارے بہت محبت کرتے ہیں تم سے بہت پریشان تھے وہ تمھارے لئے…. شافع نے نور کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہوئے اثبات میں گردن ہلائی….
زایان بولا اچھا بھئی یہ سب باتیں چھوڑو اور شافع یار جلدی ٹھیک ہو ہمارا ولیمہ پوسٹ پون ہوگیا ہے صرف تمھاری وجہ سے…. شافع اسکی طرف دیکھ کر بولا تو کس نے کہا تھا ولیمہ پوسٹ پون کرنے مجھے اسی طرح اسٹریچر پر لے جاتے….
زایان ارحام اور نور کی طرف دیکھ کر بولا ویسے آئیڈیا برا نہیں ہے سب کا قہقہہ بلند ہوا…
_____________________________________
اگلے دن شافع ہاسپٹل کے بیڈ پر لیٹا سو رہا تھا، ساری رات اسے درد کی وجہ سے نیند نہیں آئی تھی….. نور بھی صوفے پر بیٹھی تھی، اتنے میں دروازہ کھول کر تیمور صاحب اور تہمینہ بیگم اندر آئے…. نور انھے دیکھ کر کھڑی ہوئی… تیمور صاحب نے نور سے پوچھا اب کیسی طبعیت ہے شافع کی؟ نور اثبات میں سر ہلا کے بولی ابھی سویا ہے ڈاکٹر نے پین کلر کا انجیکشن بھی دیا تھا لیکن پھر بھی درد کم نہیں ہو رہا تھے…. تہمینہ بیگم روتے ہوئے شافع کے قریب آئیں، چہرہ کیسے اتر گیا ہے میرے بچے کا… تہمینہ بیگم نے شافع کے سر پر ہاتھ پھیرا… شافع کو آہٹ محسوس ہوئی تو اسکی آنکھ کھول گئی تہمینہ بیگم کو اپنے سامنے دیکھ کر اسکے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی… تہمینہ بیگم نے اسکا ماتھا چوما،،، وہ رو رہیں تھی شافع انکا ہاتھ پکڑ کر بولا روئیں تو مت میں زندہ ہوں ابھی….
تہمینہ بیگم اسے دپٹتے ہوئے بولیں فالتو باتیں مت کرو… شافع ہلکا سا مسکرایا شافع ان سے کچھ کہنے والا تھا تیمور صاحب پیچھے سے آگے آئے….
شافع نے خالی خالی نظروں سے انکی طرف دیکھا، تیمور صاحب نے اسکے قریب آکر پوچھا کیسی طبعیت ہے اب تمھاری؟ شافع انکی طرف دیکھے بغیر بولا ٹھیک ہوں….
تیمور صاحب نے اپنی آنکھیں صاف کیں اور اسکے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولے کیا تم اپنے باپ کو معاف نہیں کر سکتے؟ تم تو میرے جیسے نہیں ہو تم انا سے نہیں دل سے فیصلے لیتے ہو تو کیا تمھارے دل میں میرے لئے تھوڑی سی بھی جگہ نہیں ہے؟ شافع کچھ نہیں بولا….. مجھے معاف کر دو شافع میری ساری زندگی دولت اور شہرت کے پیچھے بھاگتا رہا لیکن تمھے اسطرح دیکھ کر مجھے احساس ہوا کہ میں جن چیزوں کے پیچھے بھاگ رہا ہوں یہ سب تو وقتی ہے میرا اصل آثاثہ تو تم ہو…. مجھے پتا ہے تم میرا یقین نہیں کرو گے لیکن میں نے تمھارے لئے کبھی کچھ برا نہیں چاہا ہاں بس یہ ہے کہ میں نے تمھارے لئے وہ کرنا چاہا جو میں چاہتا تھا یہ کبھی نہیں سوچا کہ تم کیا چاہتے ہو….
شافع انکی طرف دیکھ کر بولا مجھے اپنے لئے آپ سے کوئی شکوہ نہیں ہے لیکن میں اپنی ماں کو نہیں بھول سکتا آپکی دی ہوئی عزیت نہیں بھول سکتا آپکا ایک ایک لفظ مجھے آج بھی یاد ہے، میں اپنی ماں کی چینخوں کو اسکے بہتے خون کو کیسے نظر انداز کر دوں…. کیا آپ میری ماں وآپس لا سکتے ہیں؟ تیمور صاحب نے گردن جھکائی…. تہمینہ بیگم اسکا ہاتھ دباتے ہوئے بولیں لیکن میں تو تمھارے پاس ہوں نہ بیٹا؟ شافع انھے دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولا آپکا مقام تو بالکل الگ ہے ماما مجھ میں ایک بہت بری یا پتا نہیں اچھی عادت ہے میرے دل میں سب کا الگ الگ مقام ہے میں کسی کسی کو کسی پر ترجیح نہیں دے سکتا جس طرح میں آپکو اپنی ماما پر ترجیح نہیں دے سکتا اسی طرح میں آپ پر کسی اور کو ترجیح نہیں دے سکتا آپکا بہت خاص مقام ہے میرے دل میں میں بہت محبت کرتا ہوں آپ سے لیکن میں اپنی ماما کو بھی نہیں بھول سکتا نہ…. تہمینہ بیگم نے اسکا ہاتھ تھپتھپایا….
تیمور صاحب اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولے میں نے تمھاری ماں کو جان پوچھ کر دھکا نہیں دیا تھا وہ صرف ایک حادثہ تھا بیٹا…. شافع انکی طرف دیکھ کر بولا میں جانتا ہوں وہ ایک حادثہ تھا لیکن اسکے بعد جو آپ نے کیا وہ تو حقیقت تھی نہ؟ تیمور صاحب نے ہونٹ بھینچے… میں جانتا ہوں میں نے بہت غلط کیا تمھاری ماں کے ساتھ اور تمھارے ساتھ بھی لیکن کیا تم مجھے ایک اور موقع نہیں دے سکتا کیا تم مجھے معاف نہیں کر سکتے؟ میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں بیٹا تم میری اولاد ہو میں تمھے تکلیف میں کیسے دیکھ سکتا ہوں؟ نور نے شافع کے کندھے پر ہاتھ رکھا، شافع کی آنکھ کے کنارے سے آیک آنسوں بہا شافع خاموش تھا… نور اسکا کندھا سہلاتے ہوئے بولی….
انسان چلے جاتے ہیں یادیں رہ جاتی ہیں،،، غلطیاں ہو جاتی ہیں معافی دے دی جاتی ہے…. تم بھی دل بڑا کرو شافع،،،، خوشیاں تمھاری منتظر ہیں بس تمھے اپنا ہاتھ بڑھانا ہے….. شافع نے ایک نظر نور کو دیکھا اور پھر تہمینہ بیگم کو تہمینہ بیگم نے مسکراتے ہوئے اسکا ہاتھ سہلایا، شافع تیمور صاحب کی طرف دیکھ کر بولا میں وعدہ نہیں کرتا لیکن کوشش کر سکتا ہوں آپ محبت دیں گے تو میں پیچھے نہیں ہٹوں گا…. سب کے چہرے پر والہانہ مسکراہٹ پھیلی تھی…. تیمور صاحب نے مسکراتے ہوئے اسکے سر پر پیار کیا شافع نے بھی مسکراتے ہوئے انکا ہاتھ پکڑا تھا تہمینہ بیگم اور نور مسکراتے ہوئے ایک دوسرے کے گلے لگیں
______________________________________
شافع ایک ہفتہ ہاسپٹل میں رہنے کے بعد گھر آگیا تھا اور جلد ہی اسنے ریکور بھی کر لیا تھا ایک مہینے بعد زایان اور ارحام کا ولیمہ بھی ہوگیا تھا…..
زایان اور ارحام ٹیرس پر بیٹھے باتیں کر رہے تھے، زایان ارحام سے بولا یار تمھے نہیں لگتا کہ اب ہمیں ہنی مون پر کہیں چلنا چاہیے؟ ارحام بھنویں اٹھاتے ہوئے بولی کہاں چلنا چاہیے؟ زایان مسکراتے ہوئے بولا جہاں تم کہو… ارحام اسی کے انداز میں مسکراتے ہوئے بولی جہاں آپ کہیں، زایان ہنستے ہوئے بولا یار تم اتنی اچھی کیوں ہو؟ ارحام مسکراتے ہوئے بولی کتنی؟ زایان دل پر ہاتھ رکھ کر بولا بہت….
دل کو موم کرنا تمھے خوب آتا ہے…. ارحام مسکرائی آپ پر ایسی باتیں سوٹ نہیں کرتیں…. زایان آگے ہوتے ہوئے بولا کیسی باتیں؟؟؟ ارحام کندھے اچکاتے ہوئے بولی یہی پیار محبت والی باتیں،،،، زایان نے قہقہہ لگایا اور پھر اسکے قریب ہوتے ہوئے بولا تو پھر کیسی باتیں سوٹ کرتیں ہیں؟
ارحام مسکراتے ہوئے بولی چاکلیٹس، فروٹس، فرائس والی باتیں اچھی لگتی ہیں…. زایان مسکراتے ہوئے بولا ہائے سچ کہہ رہی ہو؟ ارحام نے ہنسی دباتے ہوئے اثبات میں گردن ہلائی… زایان اسکا ہاتھ پکڑ کر بولا تو پھر اگر تمھارے ہاتھ کی چائے کے ساتھ فرائس مل جائیں تو کیا ہی بات ہے؟ ارحام منہ لٹکاتے ہوئے بولی زایان کبھی تو کھانے کے بغیر باتیں کر لیا کریں….
زایان بھنویں اٹھاتے ہوئے بولا بھئی تم نے ہی تو کہا کہ میں فرائس وغیرہ کی باتیں کرتا ہوا اچھا لگتا ہوں…. ہاں تو میں نے یہ تو نہیں کہا تھا کہ آپ ابھی منگوا لیں…. زایان نے ہنستے ہوئے اسکے ہاتھ پر پیار کیا ٹھیک ہے مت بناؤ…. ارحام اٹھتے ہوئے بولی اب ایسا تو ہونے سے رہا کہ آپ کچھ کہیں اور میں نہ کروں…. زایان نے اپنے سر پر ہاتھ مارا ٹھیک ہے میری فرمابردار بیوی جیسا آپ کو ٹھیک لگے… ارحام نے ہنستے ہوئے اسکے بال بکھیرے اور وہاں سے جانے لگی زایان فوراً اپنے بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا میرے بال مت خراب کیا کرو یار سخت چڑ ہے مجھے، ارحام فوراً وآپس آئی اور پھر سے اسکے بال بکھیر کر نیچے دوڑ لگا دی پیچھے سے زایان نے چینختے ہوئے اسے آواز لگائی ارحام……..
_______________________________________
زایسن کے ولیمے کے اگلے دن شافع نور کو لے کر کشمیر کے لئے نکل گیا تھا وہ اسے اپنی ماما کا گھر دیکھانا چاہتا تھا….. وادیِ کشمیر جسے جنت بھی کہا جاتا ہے ان دنوں میں وہ واقعی جنت کا منظر پیش کر رہی تھی زمین اور گھر ہلکی سفید روئی نما برف سے ڈھکے ہوئے تھے….. شافع نے اس گھر کی دیکھ بھال کے لئے ایک بابا کو رکھا ہوا تھا، شافع وہاں ہر دو تین مہینے بعد چکر لگا لیتا تھا اور باقی دنوں میں وہ بابا ہی وہاں کی دیکھ بھال کرتے تھے….
شافع نور کو ساتھ لئے اس گھر میں داخل ہوا وہ پورا گھر لکڑی کا بنا تھا وہ گھر چھوٹا تھا لیکن نہایت ہی خوبصورت…. نور لگا تار اپنے ہاتھ رگڑ رہی تھی اسنے موٹی سی جیکٹ بھی پہن رکھی تھی لیکن پھر بھی سردی سے اسکا برا حال تھا راستے میں ہی اسے نزلہ زکام بھی ہو گیا تھا…..اسکی ناک سرخ ہو رہی تھی جسے وہ بار بار رگڑ رہی تھی شافع اسے دیکھ کر ہنسا اور اسکے کندھے کے گرد بازو پھیلاتے ہوئے بولا یار اتنی بھی سردی نہیں ہے جتنی تمھے لگ رہی ہے…. نور ہاتھ رگڑتے ہوئے بولی تمھے پتا تو ہے مجھے کتنی سردی لگتی ہے…. شافع نے ہنستے ہوئے اسکا بازو سہلایا کوفی پیو گی؟ نور فوراً گردن اثبات میں ہلاتے ہوئے بولی اشد ضرورت ہے….. شافع آنکھ مارتے ہوئے بولا تو پھر بناؤ نہ….. نور چڑتے ہوئے بولی شافع………!
شافع اسکی تھوڑی پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا ہاں بولو نہ شافع کی جان……… نور نے ہنستے ہوئے اسکے سینے پر سر رکھا اور بولی تم بنادو نہ ویسے بھی تم زیادہ اچھی بناتے ہو، شافع شرارت سے بولا سچ میں؟ نور نے فوراً آنکھیں پٹپٹاتے ہوئے بولا ہاں نہ سچ میں…. زایان اسکے ماتھے پر آئے ہوئے بال کان کے پیچھے کرتے ہوئے بولا پہلے بولو….شافع وارثی میں تم سے بہت محبت کرتی ہوں…. نور فوراً اثبات میں سر ہلاتے ہوئے بولی شافع وارثی میں تم سے بہت محبت کرتی ہوں….
شافع نے ہنستے ہوئے اسکے سر پر پیار کیا آئےنور شافع میں بھی تم سے بہت محبت کرتا ہوں اور اب اسی بات پر آپ جاکے اپنے شوہر کے لئے کوفی بنائیں…. نور اسے گھورتے ہوئے بولی شافع یہ غلط بات ہے…. شافع ہنستا ہوا بولا کیا کروں یار تم خود تو کبھی بولتی نہیں ہو اسلئے مجھے ہی کچھ نہ کچھ کر کے بلوانا پڑتا ہے….
نور نے اسے خونخوار نظروں سے گھورا اور کچن کی طرف چلی گئی…. کچھ دیر بعد جب وہ کوفی کے کپ اٹھائے کمرے میں آئی تو شافع کمرے میں بیٹھنے کے بجائے بالکنی میں بیٹھا ہوا تھا اسکے ہاتھ میں “رباب” تھا جس کے ساتھ وہ چھیڑ چھاڑ کر رہا تھا…. نور اسکے سامنے کپ رکھتے ہوئے بولی تم یہاں کیوں بیٹھے ہو کلفی بننا ہے کیا؟ شافع ہنستا ہوا بولا مجھے یہاں اچھا لگ رہا ہے…. نور اپنا کپ اٹھاتے ہوئے بولی لیکن مجھے بالکل بھی نہیں وہ اندر جانے لگی شافع نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا پلیز بیٹھو نا ابھی….
نور اسکے سامنے بیٹھ گئی اسنے گرماہٹ کے لئے کپ کو دونوں ہاتھوں سے پکڑا ہوا تھا شافع کے ہاتھ میں موجود رباب کو دیکھ کر بولی تمھے بجانا آتا ہے یہ؟ شافع ہنسا اور شرارت سے بولا نہیں مجھے تو بجانا نہیں آتا تمھے آتا ہے؟ نور کندھے اچکا کر بولی مجھے کیسے آئے گا لیکن مجھے یہ سننا بہت پسند ہے….
شافع مسکراتے ہوئے بولا تو پھر میں بجاؤں؟ نور مسکراتے ہوئے بولی ہاں نہ پلیز…. شافع مسکرایا چلو ٹھیک ہے…. شافع نے رباب کو اپنے دونوں ہاتھوں میں لیا اور نور کی طرف مسکرا کر دیکھا اور پھر آہستہ سے بجانا شروع کیا…. نور دونوں ہاتھوں میں کوفی کا کپ لئے مسکراتے ہوئے اسے دیکھ رہی تھی….. شافع تھوڑی تھوڑی دیر بعد اس پر نظر ڈال رہا تھا…. شافع کسی پشتو گانے کی دھن اس پر بجا رہا تھا جو اس سناٹے میں بہت ہی پیاری لگ رہی تھی…. گھر کے پیچھے ہی کچھ فاصلے پر ندی موجود تھی جس کا ہلکا سا شور جیسے کانوں کو سکون پہنچا رہا تھا…..
شافع نے ہاتھ روک کر نور کی طرف دیکھا تو نور نے کپ رکھ کر اسکے لئے تالی بجائی، شافع نے مسکراتے ہوئے سینے پر ہاتھ رکھ کے داد وصول کی…. اتنا اچھا تو بجاتے ہو اور تم کہہ رہے تھے بجانا نہیں آتا شافع نے ہنستے ہوئے کوفی کا کپ اٹھا لیا….
نور باہر کی طرف دیکھتے ہوئے بولی کتنی حسیں رات ہے نہ وادیِ جنت، تم، میں، بھاپ اڑتی کافی کے دو کپ، یہ خوبصورت دھن اور زندگی مکمل ہو جیسے…..
شافع کافی کا گھونٹ لیتے ہوئے بولا ہاں سب کچھ بہت خوبصورت ہے لیکن تم سے زیادہ نہیں…. نور اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی سب کچھ قاتلانہ ہے لیکن تمھاری آنکھوں سے زیادہ نہیں….
شافع دل پر ہاتھ رکھ کے بولے… ہائے یہ حسین رات اور آپکا ہم سے اظہارِ محبت واللہ فنا ہو جائیں گے ہم آپکو دیکھتے دیکھتے…. نور نے اسکی بات پر قہقہہ لگایا… اسکے ساتھ ہی شافع کی ہنسی بھی گونجی تھی…
_______________________________________
(تین سال بعد)
زایان آپ کیا کر رہی ہیں اسے نیچے اتاریں گر جائے گا….. زایان اسے ہیلی کاپٹر بنائے سارے گھر میں اڑا رہا تھا اور اسکی کھلکھلاہٹ پورے گھر میں گونج رہی تھی…. زایان اسے ڈائننگ ٹیبل کی طرف لے کر گیا اور فروٹ باسکٹ کے اوپر الٹا لٹکا دیا…. وہ جیسے ہی فروٹ اٹھانے کی کوشش کرتا زایان اسے اوپر کر دیتا جب زایان نے دو سے تین دفعہ اسکے ساتھ ایسا کیا تو وہ غصے سے دھاڑے مارنے لگا….. زایان نے ہنستے ہوئے اسے سیدھا کر کے فوراً اپنے گلے سے لگا لیا…. اور اسکے ہاتھ میں ایک سیب پکڑا دیا جسے وہ بہت غور غور سے دیکھتا پھر منہ سے لگا لیتا…. وہ ابھی کھانے کے کابل نہیں ہوا تھا لیکن کوئی بھی کھانے کی چیز دیکھ کر وہ ایسے لپکتا تھا جیسے سب کھا جائے گا…. وہ زایان کی کاپی تھا… ارحام اسکے سامنے آکر کھڑی ہوئی اور ہاتھ پھیلاتے ہوئے بولی حائم ماما کے پاس آؤ…. وہ فوراً ارحام کی گود میں چلا گیا زایان اسے منہ بنا کر دیکھنے لگا اور پھر جیب سے چاکلیٹ نکال کر اسکے آگے لہراتا ہوا بولا حائم بابا کے پاس آؤ…. حائم نے فوراً زایان کے پاس جانے کے لئے ہاتھ پھیلا دیئے…. زایان نے ایک قہقہہ لگاتے ہوئے اسے اپنی گود میں لے لیا…. میراب سیڑھیوں سے اترتے ہوئے اسکے پاس آکر بولی بھائی آپ خود تو بھکڑ تھے اپنے بیٹے کو بھی بنا رہے ہیں….
زایان اسے آنکھیں دکھاتے ہوئے بولا،،،، خبر دار جو میرے بیٹے کو تم نے بھکڑ کہا…. میراب حائم کے گال کھینچتے ہوئے بولی، میں اپنے گولو کو کیوں بھکڑ کہوں گی میں تو آپکی بات کر رہی ہوں…. ارحام ان دونوں کو دیکھ کر بولی آپ دونوں اب لڑنا مت شروع کر دیئے گا ابھی ڈنر کے لئے دیر ہو رہی ہے…. زایان حائم کی طرف دیکھ کر بولا میرا بیٹا ڈنر پر کیا کھائے گا….؟ حائم کو ناجانے اسکی کیا بات سمجھ آئی تھی اسنے کھلکھلاتے ہوئے زایان کے سینے میں منہ چھپالیا….. اسکی اس حرکت پر سب ہی ہنسے تھے…
______________________________________
شافع بار بار اسکی آنکھوں پر ہاتھ رکھتا اور وہ بار بار ہنستے ہوئے اپنی آنکھوں پر سے شافع کا ہاتھ ہٹاتی تو شافع فوراً اسکے سر پر پیار کرتا…. اسنے اپنے دونوں چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے شافع کا چہرہ تھاما ہوا تھا…. شافع بار بار اسے بولتا ایشو بولو بابا آئی لو یو…. اور وہ شافع کی بات کے جواب میں پاپاپاپاپا ناجانے کیا بولتی اور شافع ہنستے ہوئے بولتا آئی لو یو ٹو بابا کی جان….. وہ باکل نور کی طرح تھی لیکن اسکی آنکھیں شافع کے جیسی تھیں ہلکی براؤن کانچ جیسی…
نور کمرے میں آئی شافع میں کب سے بلا رہی ہوں کھانا کھالو…. شافع ایشل کو گود میں اٹھاتے ہوئے بولا نور اب مجھے تمھارے اظہارِ محبت کی ضرورت نہیں ہے، مجھ سے محبت کرنے کے لئے اب میری بیٹی کافی ہے….. شافع نور کے سامنے آکر کھڑا ہوا تو نور منہ بناتے ہوئے بولی ایشل کو دیکھ کر بولی آپ بابا کو ماما سے دور کر رہی ہو؟؟؟ ایشل نے اس سے منہ پھیر کر اپنے دونوں ہاتھ شافع کے گلے میں ڈال دیئے…. شافع نے اپنا دوسرا بازو نور کے گرد پھیلایا اور ایشل کو آواز دی ایشو….
ایشل نے پہلے نور کو دیکھا، جس کے گرد شافع نے بازو پھیلایا ہوا تھا پھر اسنے شافع کی طرف دیکھا اور منہ بنانا شروع کیا چند سیکنڈ کے بعد اسکے رونے کی آواز گونجی تھی…. شافع ہنستے ہوئے اسے بہلانے لگا اور نور سے بولا Noor she is jealous to you نور ہنستے ہوئے بولی یہ تمھارے معاملے میں ابھی سے بہت possessive ہے کسی کو بھی تمھارے قریب برداشت نہیں کر سکتی یہاں تک کے مجھے بھی نہیں….. شافع ہنسا، اور ایشل کو پیار کرتے ہوئے بولا میری بیٹی بہت محبت کرتی ہے مجھ سے، اور میری تو جان بستی ہے اس میں …. نور اسے دیکھتے ہوئے بولی تمھاری بیٹی کی ماں بھی تم سے محبت کرتی ہے اسکے لئے بھی تھوڑی سی محبت بچا لو…. شافع نے نور کو قریب کرتے ہوئے اسکے سر پر پیار کیا تمھارا الگ مقام ہے نور تمھاری جگہ تو کوئی نہیں لے سکتا….نور نے مسکراتے ہوئے اسے دیکھا اچھا اب چلو کھانا ٹھنڈا ہو رہا ہے…. شافع مسکراتے ہوئے بولا ہاں ہاں بالکل چلو…. وہ دونوں مسکراتے ہوئے کمرے سے باہر چل دیئے…..
