Izhar-e-Muhabat by Anooshe NovelR50417 Izhar-e-Muhabat Episode 12
Rate this Novel
Izhar-e-Muhabat Episode 12
Izhar-e-Muhabat by Anooshe
شافع اور زایان پارکنگ کی طرف جارہے تھے
پورا دن شافع کی ناک پر غصہ سوار رہا تھا،،،،،،
اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ آئےنور کا کیا کرے،،،،
اب بس بھی کرو شافع پورا دن گزر گیا لیکن تمھاری اس شکل کا وہی حال ہے، مجھے تو اتنی بوریت ہوئی پورا دن تمھاری یہ شکل دیکھ کر…..
شافع نے زایان کو گھورا…
اچھا یار گھورو نہیں مجھے بتاؤ میں ایسا کیا کروں کے تمھارے دل کو ٹھنڈ پہنچے…….
یہ تو تمھارے شیطانی دماغ کو پتا ہونا چاہیئے نا کہ کیا کرنا ہے،،،،،
زایان پر سوچ انداز میں بولا,,,,
ہممممم مجھے کچھ سوچنے دو
کچھ دیر بعد زایان کی آنکھوں میں چمک آئی اور چٹکی بجاتے ہوئے بولا سوچ لیا میں نے کہ کیا کرنا ہے….
سوچ لیا ہے تو مجھے آج بتاؤ گے یا دو دن بعد شافع نے دانت پیستے ہوئے کہا،،،،
دیکھو یار لیکن اس کام میں گڑبڑ بھی ہو سکتی ہے
ہو سکتا ہے کہ وہ کوئی ردعمل ظاہر ہی نہ کرے اور پوری یونیورسٹی کے سامنے ہماری عزت کا فالودہ نکل جائے
اور ہوسکتا ہے کہ اسکا اتنا شدید ردعمل ہو کہ آدھی یونیورسٹی تباہ ہو جائے……
شافع نے زایان کے گلے میں ہاتھ ڈالتے ہوئے کہا تم یہ سب چھوڑو اور سوچا کیا ہے یہ بتاؤ پھر جو ہوگا دیکھا جائے گا……
زایان نے سارا منصوبہ شافع کو سنایا تو شافع نے اسکے ہاتھ پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا
کہاں سے لاتے ہو اتنے خرافاتی طریقے کارل کے شاگرد ہو کیا؟؟؟؟؟
زایان بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا ارے کہاں یار کارل بھائی کی تو بات ہی الگ ہے ہم انکے جیسے کہاں ہو سکتے ہیں
ویسے تم نے یہ میری تعریف کی تھی یا برائی…..
شافع ہنستا ہوا بولا جو تم سمجھو….
Carl the great
کے بارے میں انھوں نے اپنی کلاس کی لڑکیوں سے سن رکھا تھا
کلاس کی لڑکیاں پاگل تھیں کارل کے پیچھے،،،،،
اور کچھ لڑکیاں زایان کو جب کارل کا شاگرد کہہ کر پکارتی تھیں تو وہ بہت فخر محسوس کرتا تھا،،،،
شافع اور زایان مین گیٹ سے پہلے والے گراؤنڈ میں چکر لگا رہے تھے……
زایان کہیں چلی تو نہیں گئی وہ؟
ارے نہیں یار آخری کلاس ختم ہونے میں ابھی پانچ منٹ ہیں وہ تو ہم ہی پہلے نکل گئے تھے آتی ہی ہو گی وہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ویسے شافع تمھے پتا ہے وہ شادی شدہ ہے…
شافع کو حیرت کا جھٹکا لگا…..
اسے لگا اسنے کچھ غلط سنا ہے کیا کہا تم نے ؟؟؟
یہی کہ وہ شادی شدہ ہے اور صرف شادی شدہ نہیں دو سال کا ایک بیٹا بھی ہے اسکا،،،،،
پہلے شافع نے حیرت سے آنکھیں پھاڑیں اور پھر قہقہ لگاتا چلا گیا…..
زایان منہ بناتے ہوئے بولا کیا ہوا اتنا ہنس کیوں رہے ہو؟؟
شافع زایان کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا زایان میری جان وہ لڑکی تمھے ماموں بنا بنی گئی ہے،،،،
زایان نے اچنبھے سے پوچھا ماموں مجھے آخر وہ کیسے؟
میں اس لڑکی سے تین چار بار غلطی سے ٹکرا چکا ہوں اور ایک بھی بار میں نے اس کے ساتھ کوئی لڑکا یا کوئی بچہ نہیں دیکھا،،،،
ہاں تو ہو سکتا ہے کہ اتفاقن وہ ہر دفعہ اکیلی ہوتی ہو،،،،
ہاں بلکل ہو سکتا ہے لیکن کم سے کم ڈاکومنٹس میں تو غلط نہیں لکھا جاسکتا نا انکل نے اسکا فارم میرے سامنے جمع کیا تھا…..
زایان دانت پیستے ہوئے بولا مطلب وہ مجھے پاگل بنا رہی تھی اب تو ڈبل بدلا لوں گا……
شافع اسکی شکل دیکھ کر ہنسا…..
کلاس کا وقت ختم ہو گیا تھا اسٹوڈنٹس کا ریلہ مین گیٹ کی طرف بڑھ رہا تھا …..
اسٹوڈنٹس کے چلنے کے لئے ایک طرف جگہ بنائی گئی تھی دونوں طرف پھولوں کی کیاریاں تھیں جن کے آگے لوہے کی نوکیلی جالیاں لگی تھیں اور بیچ میں سے اسٹوڈنٹس کے گزرنے کا راستہ تھا
اور دوسری طرف گاڑیوں کے لئے سڑک بنائی گئی تھی……
دور اسٹوڈنٹس کے بیچ میں شافع کی نظر نور پر پڑی…..
شافع نے زایان کو کونی مار کے اس کی طرف متوجہ کیا…..
زایان نور کو دیکھ کر بولا ہتھیار نکالے جائیں شکار آگیا ہے
شافع نے زایان کے بیگ سے کالے اور نارنجی رنگ کا ایک نکلی سانپ نکالا جو دکھنے میں بلکل اصلی لگ رہا تھا
وہ بنا بھی نرم ربڑ سے تھا جس کی وجہ سے اسے ایک طرف سے ہلایا جائے تو وہ دوسری طرف سے خود ہی ہلنے لگتا….
شافع نے وہ سانپ زایان کو دیا زایان آگے بڑھنے لگا لیکن پھر مڑ کر شافع سے بولا…..
یار کوئی گڑبڑ تو نہیں ہو جائے گی؟
شافع آنکھیں بڑی کرتے ہوئے بولا زایان حیدر ڈر رہا ہے؟
زایان فوراً آگے بڑھتے ہوئے بولا زایان حیدر ڈرتا نہیں لوگوں کو ڈراتا ہے……
زایان دبے قدموں نور کے پیچھے گیا آئےنور منہا سے باتوں میں مصروف تھی…..
نور کے پیچھے ایک دو اسٹوڈنٹس تھے زایان نے انھے انگلی سے چپ رہنے کا اشارہ کیا اور بہت آہستہ سے سانپ نور کے کندھے پر لٹکا کر تیزی سے پیچھے بھاگا…..
آئےنور کو کندھے پر کچھ محسوس ہوا تو اسنے مصروف سے انداز میں کندھے پر سے سانپ کھینچ لیا….
نور نے جب اپنے ہاتھ میں سانپ دیکھا تو کپکپتے ہاتھوں سے سانپ پھینکا اور اتنی زور سے چینخھی کے دور کے اسٹوڈنٹس نے بھی مڑ کر اسے دیکھا تو
زایان اور شافع نے ایک آنکھ بند کرکے کانوں پر ہاتھ رکھا تھا…..
نور سانپ پھینک کر اندھا دھن بھاگی اسے محسوس ہی نہیں ہوا تھا کہ سانپ نکلی ہے وہ بس اندھا دھن بھاگی…..
زایان کا قہقہہ چھوٹا تھا زایان شافع کو تالی مارتے ہوئے بولا…..
ایکشن کا ڈبل ری ایکشن…..
آئےنور کا بھاگتے ہوئے پیر پھسلا تو اسنے سنبھلنے کے لئے لوہے کی جالی کو تھاما اسکے پیر چرچرائے تھا وہ گرنے سے تو بچ گئی تھی لیکن نوکیلے لوہے نے اسکے ہاتھ میں ایک زخم کھینچ دیا تھا…..
آئےنور نے جب اپنا ہاتھ دیکھا جس میں سے تیزی سے خون نکل رہا تھا زخم گہرا تھا…..
خون دیکھتے ہی نور کی آنکھوں سے موٹے موٹے آنسوں نکلنا شروع ہوگئے تھے اسنے اپنی آواز روکنے کے لئے منہ پر ہاتھ رکھا……
زایان ہنسنے میں مصروف تھا لیکن شافع کی نظر نور پر ہی تھی اسکی نظر نور کے ہاتھ پر پڑی تھی……
زایان کی نظر بھی نور پر پڑی تو اسکی ہنسی ایک جھٹکے سے اڑی تھی…..
Ohhhhh shit
زایان نے پریشانی سے سر پر ہاتھ پھیرا تھا شافع بغیر کچھ کہے اندھا دھن نور کی طرف بھاگا…..
آئےنور کی آنکھیں بند ہو رہی تھیں وہ پیچھے گرنے والی تھی شافع نے اسکا ہاتھ پکڑ کر کھینچا…..
آئےنور ہوش میں آئی …..
شافع نے اسکا ہاتھ دیکھا زخم گہرا تھا اور خون تیزی سے نکل رہا تھا……
منہا اور زایان بھی ایک ساتھ وہاں پہنچے…..
نور نے روتے ہوئے ہی شافع کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ کھینچا….
لیکن وہ سیدھی نہیں کھڑی ہو پارہی تھی اسے شاید چکر آرہے تھے شافع نے وآپس اسکا ہاتھ پکڑ لیا اسکا دوسرا ہاتھ منہا نے پکڑ لیا تھا……
زایان پریشانی سے چینخھتے ہوئے منہا سے بولا
یہ بار بار گر کیوں رہی ہے……؟
اسے خون دیکھ کر چکر آتے ہیں اسے sick room لیکر چلو ورنہ یہ یہیں گر جائے گی……
شافع نے خون روکنے کے لئے زخم پر ہاتھ رکھا تو آئےنور کی چینخ نکلی تھی……
شافع نے زایان کی طرف دیکھا ان دونوں کی ہی ہوائیاں اڑی ہوئی تھی…..
آس پاس اسٹوڈنٹس کا رش بڑھ رہا تھا انھے یہ بھی ڈر تھا کہ کوئی اسٹوڈنٹس یہ نا بول دے کہ یہ انکی کارستانی ہے……
شافع نے جیب سے گاڑی کی چابیاں نکال کر زایان کی طرف اچھالیں
میری گاڑی سے ٹشو بکس اور پانی کی بوتل لے آؤ…..
اس پورے مرحلے میں شافع پہلی بار کچھ بولا تھا…. اسے کچھ سمجھ ہی نہیں آرہا تھا….
زایان گاڑی کی طرف بھاگا……
آئےنور پھر اپنا ہاتھ شافع کے ہاتھ میں سے نکالنے کی کوشش کر رہی تھی شافع نے اسے سختی سے کہا بار بار ہاتھ مت ہلاؤ….
آئےنور روتے ہوئے بولی میرا ہاتھ چھوڑو…….
ٹشو لانے دو چھوڑ دونگا……
پھر منہا سے بولا تم اسے میرے ساتھ لے کر چلو زایان آجائے گا……
اور صحیح سے پکڑو اسے گر رہی ہے یہ،،،،،
وہ لوگ تھوڑا سا آگے ہی گئے تھے زایان پانی کی بوتل اور ٹشو لے کر انکے پاس آگیا…
شافع نے نور کا ہاتھ آگے کیا……
نور چینخی تم کچھ مت کرو ہم sick room جا رہے ہیں…..
شافع نے ایک چبھتی ہوئی نگاہ اس پر ڈالی اور ہاتھ کھینچتے ہوئے بولا،،،،
اب اگر آپ نے ایک بھی لفظ کہا نا تو یہ ٹشو آپ کے منہ میں ٹھونس دوں گا…..
نور چپ ہوگئی اسے ویسے ہی تکلیف ہورہی تھی وہ ابھی اس سے بحث کیا کرتی……
شافع نے پانی نور کے زخم پر ڈالا تو نور پھر چینخی شافع غصے سے بولا
زایان انکے منہ پر ٹیپ لگاؤ……
زایان شافع کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر آہستہ سے کان کے پاس آکر بولا ہلکے یار ہلکے اسے چوٹ ہماری وجہ سے ہی لگی ہے….
شافع نے کافی سارے ٹشو نکال کر نور کے زخم پر رکھے….،
اور پھر ہاتھ چھوڑ کر بولا اب خوش؟؟؟
زایان منہا سے بولا اب لے کر چلیں انھے
وہ دونوں آگے آگے چلنے لگیں
شافع اور زایان ان سے کچھ فاصلے پر پیچھے تھے….
شافع اپنا ہاتھ ٹشو سے صاف کر رہا تھا…..
زایان سرگوشی میں بولا شافع اب کیا ہو گا اگر کسی نے میرا نام لے لیا تو ؟
پھنسوں گا تو صرف میں کیونکہ سانپ تو میں نے ڈالا تھا……
شافع اسکی طرف دیکھ کر بولا تمھے کیا لگتا ہے اگر تم پھنسے تو میں تمھے اکیلا چھوڑ دوں گا……
زایان شافع کے گلے میں ہاتھ ڈال کر بولا ارے نہیں مجھے پتا ہے میرا جگر مجھے مشکل میں اکیلا نہیں چھوڑے گا…..
پھر اچانک رک کر پریشانی سے بولا
یار شافع وہ سانپ کہاں گیا،،،،،
وہ میرا نہیں تھا لیا تھا میں نے کسی سے….
شافع اسے کھینچتا ہوا بول اتنا وبال ہوگیا اس سانپ کی وجہ سے تمھے ابھی بھی سانپ کی پڑی ہے نہیں یار میں تو اسی پوچھ رہا تھا کسی اور کا تھا نا….
خیر چھوڑو …..
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*
آئےنور اور منہا sick room سے نکلے تو سامنے شافع اور زایان کھڑے تھے….
زایان کے ہاتھ میں تین جوس کے ڈبّے تھے جو اسنے شافع کے پیسوں سے خریدے تھے……
نام نور کا تھا کام اسنے اپنا نکالا تھا…..
زایان نے ایک جوس کا ڈبّہ نور کی طرف بڑھایا
نور نے نفی میں سر ہلا کر منا کر دیا زایان جوس واپس اپنے پاس رکھنے والا تھا
جب شافع نور سے بولا پی لیں اس میں زہر نہیں ہے، ویسی آپ کو دیکھ کر لگ رہا ہے کہ جیسے تین، چار لیٹر خون بہہ گیا ہو،،،،،
آئےنور بحث کرنا چاہتی تھی لیکن اس سے پہلے زایان نے جوس آئےنور کے ہاتھ میں تھما دیا
پی لیں نور اچھا محسوس کریں گی……
آئےنور نے اس سے کچھ نہیں کہا
منہا چلو دیر ہو رہی ہے…
وہ لوگ نکلنے ہی لگے تھے جب پیچھے سے
انکے ایک پروفیسر آئے اور نور سے بولے آپ کو یہ چوٹ کیسے لگی؟
سر وہ بس بھاگتے ہوئے لوہے کی جالی سے لگ گئی….
اور آپ بھاگ کیوں رہی تھیں
زایان نے تھوک نگلا اور شافع کی طرف پریشانی سے دیکھنے لگا
اور بے دھڑک بولنا شروع ہوگیا
سر دراصل رش بہت تھا آئے نور کو جلدی تھی اور۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
پروفیسر صاحب نے اسے ٹوکا زایان میں نے آپ سے نہیں پوچھا تو آپ چپ رہیں…..
زایان شرمندہ ہوا….
جی آئےنور بتائیں آپ کو کیسے لگی؟
آئےنور نے سانپ والا سارا واقع سنا دیا
پروفیسر صاحب تیش میں آگئے اور چینخھتے ہوئے بولے
ریگنگ کرنا منا تھی تو پھر کس کی ہے یہ بیہودہ حرکت؟
زایان اور شافع کی ہوائیاں اڑنے لگیں…..
آپ لوگ آفس چلیں میں سی سی ٹی وی فوٹیج نکلواتا ہوں
زایان نے شافع کا ہاتھ پکڑ کر روتی شکل بنائی شافع نے دانت پیستے ہوئے اسکا ہاتھ جھٹکا……
آئےنور پروفیسر صاحب سے معذرت کرتے ہوئے بولی سر کافی دیر ہوگئی ہے ہمارے گھر والے پریشان ہورہے ہونگے ہمیں جانا ہوگا…….
اور ویسے بھی یہ اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہیں آپ جانے دیں…..
بات آپ کے مسئلے کی نہیں ہے ہماری یونیورسٹی کی بھی ہے
اسطرح کے مزاق سے آج آپ کو چوٹ لگی ہے کل کسی اور کو بھی لگ سکتی ہے
اور ویسے بھی رولز توڑے گئے ہیں ریگنگ کرنا سختی سے منا تھا تو پھر کس نے کی ہے یہ حرکت؟
وہ چاروں خاموشی سے کھڑے رہے
آپ جائیں آئےنور ،،،،
شافع تم لوگوں کو پتا ہے نا یہ سب کس جگہ ہوا ہے میرے ساتھ چلو فوٹیج نکالنے میں مدد کرنا…..
آئےنور اور منہا جانے لگیں تو زایان ان سے بولا دیر ہوگئی ہے آپ لوگ کیسے جائیں گی میں چھوڑ دیتا ہوں
زایان جلد سے جلد وہاں سے بھاگنا چاہتا تھا
شافع نے کھا جانے والی نظروں سے اسے گھورا……
آئےنور بولی نہیں ہم خود چلے جائیں گے…..
وہ لوگ چلی گئیں تو پروفیسر صاحب آفس کی طرف جاتے ہوئے بولے تم دونوں آجاؤ……
وہ تھوڑا آگے گئے تو زایان شافع کے گلے پڑ گیا
شافع پھنس گئے یار پلیز بچالے میرے بھائی
فوٹیج میں سب آجائے گا تم نے کہا تھا تم بچا لو گے،،،،
اب تو اس یونیورسٹی سے میرا جنازہ نکلے گا،،،
جاتے جاتے کتنا ذلیل ہونگا،،،
تجھے تو سر مصعود کا پتا ہے انھے پتا چل گیا تو میری کلاس لینے کے لئے پوری یونیورسٹی کو جمع کریں گے،،،،
جو لڑکیاں مجھے سویٹ اور کیوٹ بولتی ہیں وہ مجھے کیا بولیں گی بے غیرت، بد تمیز اور پتا نہیں کیا کیا,,,,
اور وہ انگلش ڈپارٹمنٹ کی ایشمل وہ کتنے دنوں سے مجھے دیکھ دیکھ کر مسکرا رہی ہے شاید مجھ سے پیار ہونے لگا ہے اسے وہ کیا سوچے گی،،،،،
اور اگر وہ لڑکے بھی نکل نکل کر سامنے آگئے جن کے ساتھ میں نے ریگنگ کی تھی میرا تو مستقبل برباد ہو جائے گا یار
وہ ناخن منہ میں دیئے شافع کے سر پر ناچ ناچ کر بول رہا تھا
شافع نے زایان کے بال پکڑ کر نوچے
اور کوئی ہمنا، نائلہ، ہفصہ یاد آرہی ہیں تو انھے بھی یاد کر لو کے وہ کیا سوچیں گی…..
زایان نے اپنے بال چھوڑا کر شافع کا کالر پکڑ کر کھینچا
تو موت صرف ایک انچ کے فاصلے پر نظر آرہی ہے ابھی بھی سب کو یاد نا کروں؟؟
تو نے کہا تھا کچھ نہیں ہوگا اب اتنا کچھ ہوگیا ہے کیسے بچائے گا مجھے…..
پروفیسر صاحب ان دونوں کی طرف مڑے تم دونوں ابھی تک وہیں کھڑے ہو اور کیا ہو رہا ہے یہ؟
زایان نے فوراً شافع کا کالر چھوڑا اور اسکے کندھے جھاڑتے ہوئے بولا نہیں سر کچھ نہیں وہ شافع کی شرٹ پر کچھ تھا بس وہی صاف کر رہا تھا،،،،
وہ دونوں آگے بڑھنے لگے تو زایان نے شافع کو گھور کر مکّا دکھایا شافع نے آنکھوں کے اشارے سے کہا
کچھ نہیں ہو گا…….
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*
تیمور شاہ ویلا میں دو بڑی بڑی کالے رنگ کی گاڑیاں داخل ہوئی تھیں
آگے والی گاڑی میں سے ایک آدمی جو تیمور صاحب کی شکل سے کچھ مشابہت رکھتے تھے مسکراتے ہوئے باہر نکلے…..
دوسری طرف سے ایک عورت باہر نکلی تھی جس نے سر پر سلیقے سے دوپٹہ لیا ہوا تھا اور سندھی کرائی والی چادر کندھوں کے گرد پھیلائی ہوئی تھی…….
تہمینہ بیگم انکا استقبال کرنے کے لئے باہر آئیں……
ملازم دوسری گاڑی میں سے پھلوں اور دوسری چیزوں کے ٹوکرے نکال نکال کر اندر لے جانے لگے…….
تہمینہ بیگم بہت جوش و خروش سے ان خاتون سے گلے ملیں…..
کیسی ہیں بھابھی؟؟؟
میں ٹھیک ہوں تم کیسی ہو؟ تہمینہ بیگم ان سے الگ ہوتے ہوئے بولیں……
پھر ابراہیم صاحب کی طرف مڑیں تو ابراہیم صاحب نے ہی سلام میں پہل کی
اسّلام وعلیکم بھابھی کیا حال ہیں….
وہ شکل میں تیمور صاحب سے مشابہت ضرور رکھتے تھے
لیکن انکا مزاج اور لہجہ تیمور صاحب کے بلکل برعکس تھا
انکے لہجے میں مٹھاس اور نرمی تھی جبکہ تیمور صاحب کے لہجے میں سختی اور رعب کے علاوہ کچھ نہ تھا
انکے چہرے پر سے مسکراہٹ جا ہی نہیں رہی تھی
جبکہ تیمور صاحب کے چہرے پر مسکراہٹ ہفتے میں بھی مشکل سے ہی آتی تھی……
تہمینہ بیگم نے بھی مسکراتے ہوئے انکے سلام کا جواب دیا تھا اور حال احوال پوچھنے لگیں……
تہمینہ بیگم انھے لے کر اندر آئیں تو تیمور صاحب سیڑھیاں اترتے ہوئے انکی طرف آئے…..
ابراہیم صاحب جوش و خروش اور بھرپور مسکراہٹ کے ساتھ تیمور صاحب کی طرف بڑھے اور انکے گلے جا لگے….
تیمور صاحب کے چہرے پر برائے نام مسکراہٹ تھی جو چند سیکنڈ سے زیادہ نہ رہ رہی تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
حال احوال کا سلسلہ ختم ہوا تو وہ لوگ لاؤنج میں صوفوں پر آبیٹھے
تہمینہ بیگم بولیں بھائی صاحب آپ لوگوں نے اتنا تکلف کیا اتنا سب لانے کی کیا ضرورت تھی
کوئی غیروں کے گھر تو نہیں آئے تھے،،،،،
ارے بھابھی اس میں تکلف کیسا اور لایا تو اپنوں کے گھر ہی جاتا ہے
غیروں کے گھر تو انسان خالی ہاتھ بھی چلا جاتا ہے……
تیمور صاحب گلہ کھنکار کر بولے…..
تم تو شام میں آرہے تھے پھر جلدی کیسے آگئے…؟
بس بھائی آنا تو شام تک ہی تھا لیکن پھر شہر میں کچھ اور کام بھی نپٹانے تھے تو جلدی ہی آگئے،،،،،
یہ بتائیں شافع کہاں ہے؟ نظر نہیں آرہا….
وہ یونیورسٹی گیا ہے اس وقت تک آجاتا ہے آج دیر ہوگئی اسے کوئی کام پڑگیا ہو گا……
اسے پتا تھا کہ آپ آج شام آنے والے تھے،،،،،
اب آکر آپ کو دیکھے گا تو حیران ہو جائے گا…..
ابراہیم صاحب مسکرا دئیے….
تہمینہ بیگم ابراہیم صاحب کی بیوی سے مخاطب ہوئیں،،،،،
امّاں اور باقی سب کیسے ہیں؟؟؟؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*
شافع اور زایان آفس میں خاموشی سے کھڑے اپنی بےعزتی کا انتظار کر رہے تھے……..
ایک لڑکا کمپیوٹر کے سامنے بیٹھا ساری فوٹیج آگے پیچھے کر رہا تھا،،،،،
پھر شافع اور زایان سے پوچھا،،،،،
کس طرف ہوا تھا یہ سب؟؟؟؟
زایان اور شافع خاموش رہے…..
پروفیسر صاحب اور اس لڑکے نے ان دونوں کی طرف سوالیہ نگاہوں سے دیکھا…….
تو شافع بولا مین گیٹ کے آگے والے گراؤنڈ میں…..
زایان نے انگلیاں منہ میں ڈال لیں اور شافع کو خونخوار نظروں سے گھورا…..
کیمرہ نمبر اکیس وہ لڑکا بولتے ہوئے الگ الگ آپشن کھولنے لگا،،،،،،
شافع نے ایک لمبا سانس لے کر منہ پر ہاتھ پھیرا…….
ٹائم کیا تھا اس وقت؟؟؟
شافع اور زایان دونوں چپ رہے پھر شافع اٹک اٹک کر بولا ایک بج رہا تھا شاید……
وہ لڑکا کچھ اور ڈھونڈنے لگا
شافع کی نظر سوئچ پر پڑی جو اسکے ہاتھ سے کچھ فاصلے پر تھا…..
شافع نے آہستہ سے زایان سے کہا اس لڑکے کو باتوں میں لگاؤ……
زایان اس لڑکے کی کرسی پکڑتے ہوئے بولا
یہ تم کونسے کیمرے کی فوٹیج کھول رہے ہو اس میں تو نہیں ہوگا مجھے لگ رہا ہے…..
وہ لڑکا اسکرین پر نظریں جمائے ہوئے بولا مجھے آج کی فوٹیج مل نہیں رہی…..
شافع آہستہ آہستہ بورڈ کی طرف بڑھا
پروفیسر صاحب کمپیوٹر کی طرف متوجہ تھے……
وہ لڑکا کوئی فوٹیج کھولنے لگا تھا شافع نے ایک جھٹکے سے تار کھینچا اور کمپیوٹر بند…..
زایان کی اٹکی ہوئی سانس بھال ہوئی
شافع سیدھا ہو کر کھڑا ہوگیا تھا…..
پروفیسر صاحب بولے یہ کیا ہوا،،،،،
وہ لڑکا پیچھے ہو کر سوئچ کی طرف دیکھنے لگا سر شاید پلک ہل گیا اسکا تار ذرا ہل جاتا ہے،،،،،،
وہ لڑکا اٹھ کر تار صحیح کرنے آیا تو پروفیسر صاحب سے بولا
سر یہاں اس کیمرے کی کوئی فوٹیج نہیں ہے مجھے لگ رہا ہے اسکا کنیکشن دوسرے کمرے میں ہے
میں اس سے پوچھ لیتا ہوں……
شافع اور زایان نے پھر پریشانی سے ایک دوسرے کو دیکھا…..
وہ لڑکا ٹیلی فون کی طرف آیا اور نمبر ڈائیل کرنے لگا….
دوسری طرف سے فوراً ہی کال اٹھا لی گئی تھی
وہ لڑکا کیمرہ نمبر اکیس کے بارے میں پوچھنے لگا
کچھ دیر بعد فون رکھ کر پروفیسر صاحب سے بولا،،،،،،
سر وہ کیمرہ کل سے خراب ہے اور اب تک صحیح نہیں ہوا……
پروفیسر صاحب نے غصے سے ٹیبل پر ہاتھ مارا
زایان نے سکون کا سانس چھوڑا تو پروفیسر صاحب نے اسے دیکھا
تمھے کیا ہوا تمھارے پسینے کیوں چھوٹ رہے ہیں؟؟؟ زایان
زایان بوکھلاتے ہوئے بولا
کس کے سر میرے وہ دراصل گرمی بہت ہے نا؟؟؟؟
زایان یہاں اے سی چل رہا ہے تمھے زیادہ گرمی نہیں لگ رہی؟
شافع فوراً پیچھے سے بولا سر اب ہم جائیں ؟ ہمیں ضروری کام ہے…..
پروفیسر صاحب نے تفتیشی نظروں سے ان دونوں کو گھورا پھر بولے جاؤ،،،،،
زایان اور شافع اتنی تیزی سے وہاں سے نکلے کہ گاڑی کے پاس آکر رکے…..
زایان پسینے صاف کرتے ہوئے بولا
بچ گئے یار ورنہ آج تو بہت برا پھنستے میں تو شکرانے کے نفل پڑوں گا۔ .
شافع خاموش رہا تو زایان بولا اب تمھے کیا ہوگیا؟؟؟۔
زایان ہمارے مزاق کی وجہ سے اسکا ہاتھ کٹ گیا اور کافی زیادہ ہی کٹ گیا…..
زایان گردن ہلاتے ہوئے بولا ہاں چوٹ تو زیادہ لگی ہے اسے،،،،
بعد میں کسی نہ کسی بہانے سوری بول دئیں گے…..
شافع نے صرف گردن ہلائی
اب چلو بھی گھر نہیں جانا کیا؟؟؟؟
زایان اپنی گاڑی کی طرف جاتے ہوئے بولا میں تو جارہا ہوں
اس ٹینشن کے چکر میں میں نے کچھ نہیں کھایا اب مجھے زوروں کی بھوک لگ رہی ہے……
شافع اپنی گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے بولا میں بھی جا رہا ہوں مجھے یہاں کیا کرنا ہے….
زایان نے اپنی گاڑی باہر نکالی ،،،،
شافع نے بھی اسی کے پیچھے ہی گاڑی نکالی اور دونوں اپنی اپنی منزلوں کی طرف روانہ ہوگئے……
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔**
شافع اپنی گاڑی گیٹ سے اندر لانے لگا تو اسے پہلے سے وہاں دو بڑی بڑی گاڑیاں نظر آئیں،،،،
شافع نے ان گاڑیوں کی نمبر پلیٹ دیکھی تو مسکراتے ہوئے بولا چاچو اتنی جلدی آگئے…..
شافع اپنی گاڑی پارک کر کے لاؤنج کی طرف بڑھا,,,,
ابراہیم صاحب اور باقی سب لاؤنج میں ہی بیٹھے تھے،،،،،
شافع لاؤنج کے دروازے پر پہنچا تھا جب ابراہیم صاحب کی نظر اس پر پڑی،،،،،
اور وہ ہاتھ پھیلاتے ہوئے اٹھے،،،،
آگیا میرا بیٹا،،،
چاچو……!
شافع بھی مسکراتے ہوئے بہت جوش و خروش سے ان سے آکر لپٹ گیا…..
ابراہیم صاحب نے اسکی پیٹھ تھپھپائی پھر خود سے الگ کرتے ہوئے اس پر بھرپور نگاہ ڈالی…..
بڑے ہوگئے ہو اور بہت ہینڈسم بھی،،،،
شافع ہنستا ہوا بولا ہاں لیکن آپ سے کم……
یہ بات تو تم نے بلکل صحیح کی..
لاؤنج میں قہقہ بلند ہوا تھا،،،
تیمور صاحب عام سے تاثرات لئے ہی بیٹھے تھے،،،،
ابراہیم صاحب کی بیگم بولیں شافع کیا اپنے چاچو سے ہی ملتے رہو گے یا ہمارا بھی حال احوال پوچھو گے….
شافع مسکراتا ہوا انکی طرف بڑھا اور سلام کرتے ہوئے سر جھکا لیا،،،،
عائشہ بیگم اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اسے ڈھیروں دعائیں دینے لگیں،،،،،
چلیں بھابھی اب کھانا لگوائیں اب تو زوروں کی بھوک لگ رہی ہے…..
آپ لوگوں نے اب تک کھانا نہیں کھایا؟؟؟
ارے نہیں بھئی کیسے کھا لیتے تمھارا انتظار کر رہے تھے،،،،
چلیں پھر آپ لوگ شروع کریں میں فریش ہو کر آتا ہوں،،،،
شافع اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا،،،،،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*
آئےنور گھر پہنچی ارمینہ بیگم نے دروازہ کھولا
جیسے ہی انکی نظر اسکے ہاتھ پر پڑی تو پریشانی سے اسکا ہاتھ پکڑا…..
یہ کیا ہو گیا کیسے لگی یہ؟؟
وہ بہت پریشان ہوگئیں تھی آنسوں تو نکلنے کو تھے،،،،
آئےنور ان کے ساتھ اندر آتے ہوئے انھے اطمینان دلانے لگی…..
ماما کچھ نہیں ہوا ہے تھوڑی سی چوٹ ہے بس……
تمھاری شکل سے پتا چل رہا ہے کہ تمھے کتنی تکلیف ہے…..
نور انھے ٹیبل پر بٹھاتے ہوئے بولی آپ پریشان مت ہوں آپکی طبیعت خراب ہو جائے گی میں بلکل ٹھیک ہوں….
تمھے لگی کیسے؟؟
بس وہ بے دھیانی میں لوہے کی جالی لگ گئی…..
ارمینہ بیگم اٹھتے ہوئے بولیں تم میرے ساتھ ڈاکٹر کے چلو پتا نہیں کتنی لگی ہو گی زخم زیادہ گہرا نہ ہو…..
ماما یونی میں میں نے بینڈج کروالی ہے انھوں نے انجیکشن بھی لگایا ہے میں ٹھیک ہوں…..
تم یہاں بیٹھو میں میں تمھارے لئے ہلدی والا دودھ لاتی ہوں…..
نور منا کرتی رہ گئی لیکن انھوں نے اسکی ایک نہیں سنی اور کچن میں چلی گئیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*
زایان میراب کے کمرے میں بیٹھا میراب کے پیر کے پلاستر پر پینٹنگ کر رہا تھا،،،،،
میراب اسے بار بار ٹوک رہی تھی ایسے نہیں ایسے کریں بھائی….
آپ صحیح نہیں بنا رہے بھائی،،،،،
زایان بار بار اسے بول رہا تھا چپ رہو تم تمھیں نہیں پتا کیسے بناتے ہیں مجھے پتا ہے،،،،،
لیکن آپ یہ کون سے جن کی شکل بنا رہے ہو؟
یہ میراب کی شکل ہے …..
میراب نے زایان کو کشن مارا
زایان چینخھا مت کرو میراب خراب ہو جائے گا،،،،
زایان نے اسکا پلاستر موٹی، چھپکلی، doremon , جلدی ٹھیک ہو جاؤ، ڈرامہ کوئین ، اور پتا نہیں کیا کیا پینٹنگ سے لکھ لکھ کر اور عجیب عجیب شکلیں بنا بنا کر بھر دیا تھا…..
حیدر صاحب کمرے میں داخل ہوئے ارے بھئی کیا ہورا ہے یہ سب؟؟؟
زایان مصروف سے انداز میں بولا
بابا مت پوچھیں بہت اہم پینٹنگ بننے جارہی ہے،،،،
حیدر صاحب اسکے پاس بیٹھتے ہوئے بولے کونسی اہم پینٹنگ ہے ذرا ہمیں بھی تو پتا چلے،،،،
حیدر صاحب پیٹنگ دیکھتے ہوئے بولے
ارے یار تم صحیح نہیں بنا رہے مجھے دو میں بناتا ہوں
حیدر صاحب نے برش زایان کے ہاتھ سے لے لیا اور خود پینٹنگ بنانے لگے
ارفہ بیگم ہاتھ میں ٹرے لئے کمرے میں داخل ہوئیں تو میراب کا پیر دیکھ کر چینخھی،،،،،
یہ کیا کیا ہے اس کے پیر کا آپ لوگوں نے
میراب ہنستے ہوئے بولی بابا پینٹنگ بنا رہے ہیں اور یہ باقی سب بھائی نے بنایا ہے،،،،
کتنا اچھا لگ رہا ہے نا؟؟؟
حیدر صاحب آپ بھی بچوں کے ساتھ ان سب میں لگ گئے
اور میراب اب تمھارے پیر میں درد نہیں ہورہا؟
میراب نے نفی میں سر ہلایا….
ارفہ بیگم کی نظر بیڈ کی چادر پر پڑی جس پر جگہ جگہ پینٹنگ کے نشان تھے
صدمے سے بولیں
ہائے اللہ یہ میری نئی بیڈ شیٹ کا کیا حشر کیا ہے آپ لوگوں نے…….
حیدر صاحب اٹھتے ہوئے بولے آپ کو تو بس اپنی بیڈ شیٹس، پردے ،برتن انھی سب کی پڑی رہتی ہے…..
میراب بیٹا پینٹنگ دیکھو کیسی بنی ہے؟؟؟
میراب اپنا پیر ہلا ہلا کے پینٹنگ دیکھنے لگی
Wwwwoooowww
زایان ارفہ بیگم کے ہاتھ سے ٹرے لیتے ہوئے بولا
کیا لائی ہیں جو دے بھی نہیں رہیں؟؟؟؟
آئسکریم دیکھ کر زایان کی آنکھوں میں چمک آئی
واہ آئسکریم مزا آئے گا…….
حیدر صاحب نے سب سے پہلے پیالا اٹھایا،،،
ارفہ بیگم نے انکے ہاتھ سے پیالا لے کر میراب کو تھما دیا…..
یہ آئسکریم آپکے لئے نہیں ہے بچوں کے لئے ہے
ویسے بھی آپ کی شوگر بڑھی ہوئی ہے…..
زایان نے حیدر صاحب کو چڑھاتے ہوئے آئسکریم منہ میں ڈالی
حیدر صاحب نے اسے گھورا
ارفہ بیگم یہ ناانصافی ہے……
جی تو میں انصاف کرنے آئی بھی نہیں ہوں،،،،،،
حیدر صاحب نے میراب کی طرف دیکھا اسنے مسکراتے ہوئے آئسکریم سے بھرا ہوا چمچہ چپکے سے ان کی طرف بڑھایا….
حیدر صاحب نے وہ فوراً منہ میں ڈال لیا
ارفہ بیگم نے غصے سے میراب کو گھورا تو وہ ہنسنے لگی،،،،
زایان دو پیالے خالی کرنے کے بعد تیسرا پیالا اٹھانے لگا تھا
میراب اسے دیکھ کر بولی
ماما میرے چاکلیٹ کے ڈبّے میں سے پوری آٹھ چاکلیٹ عائب ہیں آپکو پتا ہے کس نے لی ہیں؟
آئسکریم کا چمچہ زایان کا منہ میں ہی رہ گیا
چمچہ نکال کر بولا
اوہ ماما آپ کے لئے تو آئسکریم بچی ہی نہیں میں آپکے لئے فریج سے نکال کر لاتا ہوں،،،،،
جیسی وہ پیالا لے کر اٹھا
میراب اسکی طرف اشارہ کرتے ہوئے چینخھی بابا انھوں نے ہی لی ہیں میری چاکلیٹ،،،،
زایان انجان بنتا ہوا آنکھیں بڑی کرکے بولا میرأب میں تمھے چور لگتا ہوں کیا؟؟؟؟
آپ لگتے نہیں آپ ہیں مجھے پتا ہے کہ میری چاکلیٹ اپنے ہی لی ہیں…..
زایان ہاتھ باندھنے ہوئے بولا ہاں تو تمھاری کچھ چاکلیٹ لے لیں تو تمھاری صحت پر کچھ اثر پڑھ گیا کیا
ہو تو تم ابھی بھی اتنی ہی موٹی،،،،،
اور تم جو میری اتنی چیزیں چوری کرتی ہو؟؟؟ وہ کچھ نہیں۔ ۔ ۔ ۔
میراب حیدر صاحب سے بولی بابا دیکھیں نہ مجھے موٹی بول رہے ہیں…..
حیدر صاحب بولے ہاں تو صحیح بول رہا ہے….
سب کا قہقہہ بلند ہوا
میراب نے انھے گھورا تو فوراً بولے میرا مطلب ہے
زایان تم میری بیٹی کو ایسے کیوں بول رہے ہو؟ کتنی دبلی پتلی سی تو ہے میری بیٹی؟؟؟؟
میراب خفا ہوتے ہوئے بولی بابا آپ بھی؟؟
حیدر صاحب ہنستے ہوئے اسے خود سے لگا کر بولے
مزاق کر رہے ہیں بیٹا،،،،
میراب مسکرا دی۔۔
پھر زایان کو گھورتے ہوئے بولی
میں ٹھیک ہو جاؤں پھر دیکھ لوں گی آپکو……
زایان اسے منہ چڑاتا ہوا کمرے سے نکل گیا.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*
شافع اور باقی سب لاؤنج میں بیٹھے چائے پی رہے تھے
ابراہیم صاحب شافع سے اسکے بزنس کے بارے میں پوچھنے لگے…..
جی چاچو ابھی زایان کے ساتھ پارٹنرشپ میں کر رہا ہوں پھر بعد میں ہم دونوں الگ کر لیں گے…..
ارے ہاں تمھارے دوست زایان کیسا ہے؟
بلکل ٹھیک ہے چاچو…..
وہ ابھی بھی ویسے ہی کھاتا ہے یا کچھ بدلا ہے؟
شافع ہنستے ہوئے بولا وہ ویسے ہی کھاتا ہے اور ویسے ہی سب کو نچاتا ہے وہ کبھی نہیں بدل سکتا…….
ابراہیم صاحب ہنستے ہوئے بولے
بڑا پیارا بچہ ہے کافی وقت ہوگیا اسے دیکھے ہوئے،،،،،
تیمور صاحب مخاطب ہوئے تم بتاؤ تمھارا کاروبار کیسا چل رہا ہے شہزاد کیا کر رہا ہے اور گوہر کی پڑھائی کب تک ختم ہو گی…….
“ابراہیم صاحب کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے بڑے بیٹے شہزاد کی شادی ہو چکی ہے اور دوسرا بیٹا گوہر پڑھنے کے لئے باہر گیا ہوا ہے”
کاروبار اللہ کے کرم سے اچھا چل رہا ہے شہزاد میرے ساتھ ہی ہوتا ہے،،،،
اور گوہر کا بھی آخری سال ہے وہ جب آتا ہے تو شافع سے ملتا رہتا ہے،،،،
شافع گردن ہلاتے ہوئے بولا جی پچھلے مہینے جب آیا تھا تو ملا تھا مجھے…..
تہمینہ بیگم عائشہ بیگم سے بولیں،،،،
ارحام کیسی ہے؟؟؟
شافع نے نظریں اٹھائی تھیں….
جی بھابھی ٹھیک ہے،،،،
اسکی طبیعت اب ٹھیک ہے…..
عائشہ بیگم فوراً مسکراتی ہوئی بولیں جی جی بھابھی طبیعت تو کب کی ٹھیک ہے اسکی امّا دم کرتی رہتی ہیں اس پر…..
ابراہیم صاحب پریشانی سے بولے تھوڑی ڈر جاتی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
عائشہ بیگم فوراً انکی بات کاٹ کر بولیں ارے ابراہیم صاحب ٹھیک ہے وہ لڑکیاں شادی سے پہلے ایسی ہی ہوتی ہیں…..
شادی کے بعد ٹھیک ہو جائے گی……
شافع نے معذرت کر کے وہاں سے اٹھنا چاہا……
تو تیمور صاحب بولے تم کہاں جا رہے ہو؟؟
مجھے ایک ضروری کال کرنی ہے،،،،
تیمور صاحب سخت تیور سے بولے بعد میں کر لینا اپنی ضروری کال ابھی سب بیٹھے ہیں تم بھی بیٹھ جاؤ….
شافع مشکل سے اپنے چہرے پر مسکراہٹ لاکر واپس بیٹھ گیا……
ارے شافع تمھے کوئی ضروری کام ہے تو چلے جاؤ بیٹا…..
نہیں چاچو کوئی بات نہیں…..
کچھ دیر بعد ابراہیم صاحب گلہ کھنکار کر بولے……
شافع بیٹا پڑھائی تو تمھاری ختم ہو ہی گئی ہے بزنس بھی ماشاءاللہ سے تمھارا سیٹ ہے تو پھر آگے کیا سوچا ہے؟؟؟
شافع جانتا تھا وہ کس بارے میں بات کرنا چاہ رہے ہیں
لیکن پھر بھی اس نے پوچھا کس بارے میں؟؟
شادی کے بارے میں بیٹا ہم تمھاری پڑھائی ختم ہونے کا ہی انتظار کر رہے تھے،،،،
اور تمھاری پڑھائی اب ختم ہی ہے تو پھر دیر کس بات کی؟؟؟
چاچو آپ کیا بول رہے ہیں شادی ؟میری؟ کس سے؟؟؟
شافع نے انجان بنتے ہوئے پوچھا…..
تیمور صاحب نے غصے سے دانت پیستے ہوئے کہا تمھاری اور ارحام کی شادی……
شافع چونکتے ہوئے بولا کیا؟؟؟؟
مجھ سے تو کسی نے اس بارے میں کوئی بات نہیں کی،،،
عائشہ بیگم پریشانی سے بولیں
یہ بات تو شروع سے ہی طے تھی بیٹا کہ جب تمھارا بزنس سیٹ ہو جائے گا تو تمھاری اور ارحام کی شادی کر دی جائے گی…..
لیکن چچی مجھ سے کبھی کسی نے یہ بات نہیں پوچھی کہ میری رائے کیا ہے،،،،
تیمور صاحب سختی سے بولے تو کیا تم بڑوں کے فیصلے پر انگلی اٹھاؤں گے…..
شافع میں تم سے اکیلے میں بات کرنا چاہتا ہوں
ابراہیم صاحب اٹھتے ہوئے بولے،،،،
ابراہیم تمھے جو بات کرنی ہے سب کے سامنے کرو…
بھائی صاحب میں پہلے شافع سے اکیلے میں بات کر لوں پھر سب کے سامنے بھی کر لیں گے….
چاچو آپ چلیں میرے ساتھ شافع انھے لے کر اپنے کمرے میں آگیا….
شروع سے ہی سب کے کانوں میں یہ بات ڈال دی گئی تھی کہ جب شافع کہ پڑھائی مکمل ہو جائے گی اور اسکا بزنس شروع ہونے لگے گا تو ارحام اور شافع کی شادی کر دی جائے گی…..
یہ بات اڑتے اڑتے شافع اور ارحام کے کانوں تک بھی پہنچی تھی
“شافع نے نا کبھی اس بات پر خوشی ظاہر کی تھی اور نہ ناراضگی کیونکہ اس سے براہ راست اس بارے میں کوئی بات کی ہی نہ گئی تھی”
اور جہاں تک ارحام کی بات تھی تو لڑکیوں سے پوچھنے کی ذہمت انکے ہاں نہیں کی جاتی ہے….
اور سب کو کسی نہ کسی حد تک یہ لگتا تھا کہ ارحام شافع کو پسند کرتی ہے،،،،
کیونکہ ہمارے معاشرے میں لڑکیوں کی چپ کو “ہاں” کا نام دیا جاتا ہے…….
شافع ابراہیم صاحب کو کمرے میں لے کر آیا تو انھوں نے کمرے کا دروازہ لگا دیا….
اور پھر شافع کی طرف بڑھے اور اسکا ہاتھ پکڑ کے صوفے پر آ بیٹھے،،،،
انکے چہرے پر نا غصہ تھا اور نہ پریشانی….
انھوں نے شافع کے گال تھپتھپاتے ہوئے کہا
بیٹا تم بتاؤ تم کیا چاہتے ہو…..
شافع کچھ دیر خاموشی سے انکا چہرہ دیکھتا رہا….
وہ کچھ شرمندہ بھی تھا اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کہے…
ابراہیم صاحب اس سے پھر مخاطب ہوئے……
دیکھو شافع بیٹا میں تمھارا بابا نہیں ہوں تمھارا چاچو ہوں……
میں اپنی بیٹی کا جواب لے کر ہی یہاں آیا ہوں وہ راضی ہے….
تم جو کہنا چاہتے ہو اطمینان سے کہو میں پہلے تمھاری بات سنوں گا ، سمجھوں گا پھر کچھ کہوں گا…..
شافع نے نظریں اٹھا کر انکی طرف دیکھا پھر انکا ہاتھ پکڑ کر آہستہ آہستہ بولا،،،،
میں……… میں ارحام سے شادی نہیں کرسکتا چاچو….
ابراہیم صاحب نے اطمینان سے اسکا ہاتھ تھپتھپایا ،،،،،
ٹھیک ہے کسی اور کو پسند کرتے ہو؟؟؟
شافع فوراً سر اٹھا کر بولا نہیں چاچو ایسا کچھ نہیں ہے…..
پھر کوئی اور وجہ؟؟؟
چاچو میرا بزنس ابھی شروع ہی ہے اور میں تین، چار سال تک شادی کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا…..
بس یہ وجہ ہے منا کرنے کی یا کچھ اور بھی…..
اگر بس یہی وجہ ہے تو ہم کچھ سال انتظار کر لیں گے
شافع کچھ دیر خاموش رہا پھر گردن اٹھا کر بولا میں خاندان میں شادی نہیں کروں گا……
اسکی آنکھوں میں قرب تھا….
خاندان میں شادی نہیں کرو گے یا وہاں نہیں کرو گے جہاں تمھارے باپ نے طے کی ہو…..
شافع کچھ نہیں بولا……
دیکھو شافع اگر تم شادی نہیں کرنا چاہتے تو میں زبردستی نہیں کروں گا
لیکن اگر تم اس وجہ سے شادی نہیں کرنا چاہتے کے یہ تمھارے بابا کا فیصلہ ہے…..
تو تم ایک احمقانہ حرکت کر رہے ہو رشتے نہ ضد میں توڑے جاتے ہیں نہ جوڑے…….
شافع نے آگے ہوکر انکا ہاتھ مضبوطی سے تھاما دیکھیں چاچو جہاں دل نہ ہو وہاں زبردستی نہیں کیا کرتے….
آپ ارحام کی شادی کہیں اور کردیں جو اس سے محبت کرتا ہو، جس سے وہ محبت کرتی ہو
میں نہیں چاہتا کہ وہ میرے نام پر بیٹھی رہے….
وہ تم سے محبت کرتی ہے شافع،،،،،
وہ جانتی ہے میں اس سے محبت نہیں کرتا….
ابراہیم صاحب کچھ دیر خاموش رہے
پھر اٹھتے ہوئے بولے ٹھیک ہے
میں زبردستی نہیں کروں گا ویسے بھی رشتے زبردستی نہیں جوڑے جاتے….
وہ مسکراتے ہوئے باہر جانے لگے تھا
شافع انھے روک کر ان کے گلے لگ گیا…..
مجھے معاف کر دئیے گا چاچو…..
ابراہیم صاحب نے مسکرا کر اسکی پیٹھ تھپتھپائی…..
نہیں بیٹے مجھے خوشی ہے کہ تم نے شادی سے پہلے ہی سب کچھ صاف صاف بتادیا…..
میں تم سے بلکل ناراض نہیں ہوں…..
شافع ان سے الگ ہوا….
تم بھی اپنے دل میں کوئی بات مت رکھنا میں تم سے بلکل غصہ نہیں ہوں….
شافع نے گردن اثبات میں ہلا دی
