Izhar-e-Muhabat by Anooshe NovelR50417

Izhar-e-Muhabat by Anooshe NovelR50417 Izhar-e-Muhabat Episode 9

219.9K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Izhar-e-Muhabat Episode 9

Izhar-e-Muhabat by Anooshe

آئےنور اور منہا آرٹس لوبی میں سے

نکلتے ہوئے لائبریری کی طرف بڑھ رہی تھیں،،،،،

نور وہ بھوکا نظر نہیں آیا اسنے اپنی ڈیل رد کردی ہے کیا……؟

کون بھوکا ؟؟ آئےنور ٹھٹھکی اوووہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ہاں,,,,, مجھے تو وہ یاد ہی نہیں تھا…..

تمھے کچھ یاد ہی کب رہتا ہے جب کہ وہ کوئی بھولنے والی چیز بھی نہیں تھا منہا نے شرارت سے مسکراتے ہوئے کہا……..

آئےنور نے اسے گھورا …..

میں کسی کا احسان لے کر بھولتی نہیں ہوں ملے گا تو کھلا دوں گی اسے برگر، فرائس بھاگی نہیں جارہی میں….

اور تمھے لگتا ہے کہ وہ ندیدہ بغیر کچھ کھائے میرا پیچھا چھوڑ دے گا….

وہ کھانے پینے کا کتنا ندیدہ ہے یہ اسکی آنکھوں سے جھلکتا ہے…..

منہا شرارت سے بولی تم نے اسکی آنکھیں کب پڑھ لیں؟

آئےنور کڑے تیور سے بولی منہا تم پہلے بھی اتنی ہی چھچھوری تھی یا نیا نیا کورس کیا ہے؟

منہا کچھ بولنے ہی والی تھی کہ

زایان اُچھلتا کودتا ہوا ان دونوں کے سامنے آدھمکا…..

اسّلام وعلیکم گرلز……

آئےنور اچک کر دو قدم پیچھے ہوئی

منہا نے بڑی شوخ مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا وعلیکم اسّلام….

آئےنور نے دل میں سوچا شیطان کا نام لیا شیطان حاضر،،،،،،

آپ نے کچھ کہا آئےنور؟

آئےنور بوکھلائی میں نے ؟ نہیں تو۔۔۔۔

وہ میں کہہ رہی تھی وعلیکم اسّلام،

اچھا مجھے لگا آپ نے میری تعریف کری ہے…..

آئےنور سپاٹ چہرے سے بولی ایکسکیوزمی…..؟

زایان نے فوراً بات بدل دی آپ لوگوں کا فرسٹ دے کیسا رہا یونی دیکھ لی اپنے ؟

منہا بولی آپ کو لگتا ہے کہ ایک دن میں یہ یونی دیکھی جا سکتی ہے، مجھے تو لگتا ہے ہم دو ہفتے تک بھی گھومیں گے نا تب بھی پوری یونی نہیں گھوم پائیں گے…

جی یہ تو آپ نے صحیح کہا یونی ایک دن میں تو نہیں دیکھی جاسکتی آپ لوگوں کو میری کسی مدد کی ضرورت ہو تو بتائے گا…..

منہا مسکرا مسکرا کر زایان سے باتیں کر رہی تھی آئےنور نے زور سے منہا کے کونی ماری…..

نہیں ہمیں کسی مدد کی ضرورت نہیں ہے شکریہ……

زایان آنکھیں گھماتے ہوئے بولا اوکے اب کام کی طرف آجائیں …….

آئےنور اپنے پرس میں سے پیسے نکالنے لگی

زایان اسے حیرت سے دیکھنے لگا…..

آئےنور نے کچھ پیسے نکال کر زایان کی طرف بڑھائے یہ ڈیل کے مطابق آپ کے برگر فرائس اور کین کے پیسے،،،،،،

زایان پیچھے ہوتے ہوئے بولا اپنے مجھے بھکاری سمجھا ہوا ہے؟

ہماری ڈیل پیسوں کی نہیں ہوئی تھی برگر اور فرائس کی ہوئی تھی……

آئےنور تحمل سے بولی جی تو آپکو برگر اور فرائس کے ہی پیسے دے رہی ہوں آپ جاکر لے لیں……

زایان ہنستے ہوئے بولا آپ کو لگتا ہے کہ میں کینٹین میں جاکر اتنے رش میں برگر اور فرائس لوں گا میرا دماغ خراب ہے کیا…….؟

تو آپکو کیا لگتا ہے میں لوں گی؟

زایان ہاتھ بانتے ہوئے بولا جی بلکل ایسا ہی ہے،،،،،

اُس طرف کینٹین ہے چلیں۔ ۔ ۔ ۔

کچھ سنے بغیر زایان کینٹین کی طرف بڑھ گیا اور نور کو اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا…..

آئےنور نے غصے سے منہا کی طرف دیکھا……

منہا کندھے اچکاتے ہوئے بولی مجھے کیوں ایسے دیکھ رہی ہو ڈیل تم نے کری تھی اب چلو…..

آئےنور غصے میں تیز تیز قدم بڑھاتی ہوئی زایان کے پیچھے چل دی.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*

شافع آس پاس نظریں گھماتا ہوا زایان کو ڈھونڈ رہا تھا لیکن زایان اسے کہیں نظر نہیں آیا تو وہ اسپورٹس روم کی طرف چل دیا…….

وہ کچھ ہی قدم چلا تھا جب اسے اپنے پیچھے کسی کی آہٹ محسوس ہوئی شافع ایک جھٹکے سے پیچھے مڑا….

پیچھے تاشفہ کھڑی تھی…

تم …… یہ چوروں کی طرح میرے پیچھے کیوں آرہی ہوں…..؟

چوروں کی طرح تو نہیں آرہی،،،

میں تم سے بات کرنا چاہتی ہوں….

شافع سپاٹ چہرے سے بولا کس بارے میں؟؟

تاشفہ ڈھٹائی سے بولی ہمارے بارے میں۔ ۔ ۔ ۔

شافع نے حیرت سے بھویں اچکائیں ہمارے بارے؟؟؟

ہاں ہمارے بارے میں میرے ڈیڈ تم سے ملنا چاہتے ہیں.

شافع کو ایک اور حیرت کا جھٹکا لگا۔ ۔ ۔ ۔

تمھارے ڈیڈ مجھ سے ملنا چاہتے ہیں کیوں؟؟؟

میں پسند کرتی ہوں تمھے شادی کرنا چاہتی ہوں…..

شافع کو اسکی ہمت اور ڈھٹائی پر حیرت ہوئی……

شافع طنزیہ ہنستے ہوئے بولا ہوش میں ہو تاشفہ؟

تاشفہ کندھے اچکاتے ہوئے بولی ہاں ہوش میں ہوں،،،،،،

میں نے اپنے ڈیڈ سے بات کر لی ہے وہ تم سے ملنا چاہتے ہیں……

شافع کو حیرت پر حیرت ہورہی تھی اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یہ اچانک ہو کیا رہا ہے…

تاشفہ تمھارا دماغ ٹھیک ہے تم سے کس نے کہا کہ میں تم سے شادی کروں گا…..

تاشفہ ڈھٹائی سے بولی مجھ سے کسی نے نہیں کہا میں تم سے شادی کرنا چاہتی ہوں اور میں جانتی ہوں تم میرا پرپوزل ریجیکٹ نہیں کرو گے…..

شافع کا پارہ چڑھنے لگا تھا شافع بالوں میں ہاتھ پھیرتا ہوا سیدھا ہوا……

تم اس خوش فہمی میں کیوں مبتلا ہو کہ میں تمھارا پرپوزل ریجیکٹ نہیں کروں گا…..

کیونکہ یونی کا ہر لڑکا مجھ سے بات کرنے کےلئے ترستہ ہے اور میں صرف تم پر مرتی ہوں یہاں تک کے پرپوز بھی تمھے میں نے کیا،،،،،

میرے ڈیڈ کو بھی تم جانتے ہو کہ وہ کتنے بڑے آدمی ہیں تمھارا بزنس دو دن میں کہا پہنچا سکتے ہیں

تمھارے بابا سے زیادہ پہنچ ہے میرے ڈیڈ کی اب تم اتنے بےوقوف تو نہیں ہو کے مجھے ریجیکٹ کرو گے…..

شافع نے ضبط سے مٹھیاں بھینچیں مجھے لگتا ہے تمھے علاج کی ضرورت ہے کہہ کر شافع جانے کے لئے مڑا تاشفہ نے شافع کا ہاتھ پکڑ لیا۔ ۔ ۔ ۔

شافع نے مڑتے ہی اسکا ہاتھ اتنی زور سے جھٹکا کہ تاشفہ کو دو قدم دور ہونا پڑا……

شافع انگلی اٹھاتے ہوئے سختی سے بولا میں نے تمھے اس دن بھی بولا تھا اپنی حدیں مت پار کرنا۔ ۔ ۔ ۔ ۔

اسکے رویہ سے تاشفہ کو ردّی برابر بھی فرق نہیں پڑا،،،،،

تم شادی کر لو مجھ سے حدیں پار کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی……

تمھارا دماغ خراب ہے کیا میں تم سے شادی کیوں کروں گا دور رہو مجھ سے شافع چینختے ہوئے بولا تھا….

میں محبت کرتی ہو شافع تم سے تاشفہ نے پھر سے شافع کا ہاتھ پکڑ لیا تھا…….

لیکن میں تم سے محبت نہیں کرتا اور تمھے بھی مجھ سے کوئی محبت نہیں ہے سمجھیں…..

شافع نے تاشفہ کا ہاتھ جھٹک کر اسے پیچھے کیا تھا…..

تم مجھے صرف اپنی ضد بنا رہی ہو میں کوئی چیز نہیں ہوں جیسے تمھارا امیر باپ تمھارے آگے پیش کردے،،،

شافع وارثی بکنے والوں میں سے نہیں ہے نہ ہی شافع وارثی کو کوئی خرید سکتا ہے شافع غصے سے بولتا ہوا جانے کے لئے مڑا تھا…..

تاشفہ کی آنکھوں میں غصے سے خون اتر آیا تھا اسنے شافع کو جاتا دیکھا تو چیختے ہوئے بولی…..

تم مجھے جانتے نہیں ہو شافع تیمور وارثی تم مجھے ریجیکٹ کر رہے ہو میں تمھے چھوڑوں گی نہیں…….

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*

آئےنور برگر لینے کے لئے کینٹین میں کھڑی تھی

زایان اور منہا ٹیبل پر بیٹھے تھے منہا تھوڑی تھوڑی دیر بعد زایان سے کوئی نہ کوئی بات کر رہی تھی لیکن زایان کے تاثرات سے لگ رہا تھا کہ ابھی اس کا بات کرنے کا بلکل موڈ نہیں ہے ….

وہ بس پاس سے گزرتے ہوئے اسٹوڈنٹ کے ہاتھ میں کھانے پینے کی چیزوں کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھ رہا تھا……

اسنے آئےنور کی طرف اشارہ کر کے پوچھا اور کتنی دیر لگے گی؟

آئےنور نے جواب میں صرف غصے سے اسے گھورا تھا….

زایان ہم کب سے باتیں کر رہے ہیں لیکن آپ نے ابھی تک بتایا ہی نہیں کہ آپ کس ڈپارٹمنٹ سے ہیں….

زایان نے مینیو کارڈ دیکھتے ہوئے کہا “بزنس”

منہا متاثر ہوتے ہوئے بولی واؤ

کونسے ائیر میں…..

اب تو لاسٹ سمسٹر ہے بس پیپر ہونے والے ہیں….

منہا کا چہرہ اتر گیا

مطلب آپ کا اور ہمارا ساتھ بس کچھ دنوں کا ہے…..

زایان حیرت سے بولا جی؟؟؟؟

منہا فوراً سنبھلتے ہوئے بولی میرا مطلب ہے کہ بس کچھ دن ہی ہیں آپ کے اب یونی میں……

نہیں ایسا تو کچھ نہیں ہے یہ یونیورسٹی میرا دوسرا گھر ہے میں جب چاہے آجاتا ہوں پیپر یا ویکیشن کا اس سے کوئی تعلق نہیں…..

منہا ہنستے ہوئے بولی کیوں یونی آپ کے ماموں کی ہے کیا؟؟؟؟

زایان بھی ہنسا جی ایسا ہی سمجھ لیں،،،،

اچھا آئےنور کا ایڈمیشن کیسے کروایا آپ نے کافی مشکل ہوئی ہوگی….

نہیں میرے ماموں ایڈمیشن ڈائریکٹر ہیں،،،،

منہا نے حیرت سے آنکھیں پھاڑیں آپ سچ کہہ رہے ہیں مجھے لگا آپ مزاق کر رہے تھے……

منہا کچھ اور بھی بولنے والی تھی جب آئےنور نے زور سے برگر کی پلیٹ پھیکنے کے انداز میں ٹیبل پر رکھی….

زایان ایک دم پیچھے ہوا ورنہ اسکی شرٹ پر کیچپ لگ جاتا…..

نور واپس کینٹین کی طرف مڑی اور تین فرائس کی پلیٹ لے کر آئی پھر واپس گئی تین کین اور ایک اور برگر کی پلیٹ اٹھا کر لائی…..

تینوں کین اور فرائس کی پلیٹ اسنے زایان کے آگے پٹکیں….

پھر ایک برگر منہا کے آگے رکھتے ہوئے دانت پیستے ہوئے بولی یہ تمھارا برگر….

منہا برگر آگے کرتے ہوئے بولی مجھے ایسے کیوں گھور رہی ہو وہ تو تم چیزیں لینے کھڑی ہو ہی رہی تھیں اس لئے میں نے تمھے برگر لینے بولا ورنہ میں خود ہی لے لیتی…….

زایان ان دونوں کی بات پر غور کئے بغیر کھانے میں مصروف ہوگیا تھا اسنے آدھا برگر تو ختم بھی کر لیا تھا…..

منہا آئےنور سے بات کر کےزایان کی طرف مڑی تو اسکا حیرت سے منہ کھل گیا زایان اپنے برگر کا آخری نوالہ لے رہا تھا اور ایک کین خالی کر چکا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

منہا اور آئےنور نے ایک دوسرے کی طرف حیرت سے دیکھا……

آئےنور اب تک کھڑی تھی….

زایان نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا ارے آپ کھڑی کیوں ہیں بیٹھیں نا…….

نہیں ہم بس چلتے ہیں آئےنور نے منہا کو چلنے کا اشارہ کیا…….

نور مجھے کھانے تو دو،،،،،

منہا نے آئےنور کو زبردستی کرسی پر بیٹھاتے ہوئے کہا…..

آئےنور آپ اپنے لئے کچھ نہیں لائیں؟

زایان نے دوسرا برگر کھاتے ہوئے بولا….

نور نے دانت پیستے ہوئے مسکرا کر کہا نہیں آپ کھا رہے ہیں نا کافی ہے…..

زایان نے کندھے اچکائے….

منہا نے برگر نور کی طرف بڑھایا لیکن اسنے منا کردیا منہا نے برگر کا بائٹ لیتے ہوئے زایان سے پوچھا ….

آپ یہ سب اکیلے کھا لیں گے؟؟؟

زایان نے اطمینان سے کہا ہاں تو اس میں کیا ہے ہلکا پھلکا سا ناشتہ تو ہے…..

منہا اور آئےنور دونوں نے ایک ساتھ کہا ناشتہ؟؟؟؟؟

زایان نے کین سے گھونٹ لیتے ہوئے کہا ہاں…. ناشتہ….

اوہ معاف کیجئے گا میں نے آپ لوگوں سے تو پوچھا ہی نہیں آپ لوگ کھائیں گی…..

زایان نے فرائس کی ایک پلیٹ آگے کرتے ہوئے پوچھا جس میں مشکل سے چھ یا سات فرائس تھے منہا اور نور دونوں نے نفی میں گردن ہلائی…….

آئےنور نے دل میں سوچا دو برگر ،دو کین، اور ایک فرائس کی پلیٹ خالی کرنے کے بعد اسے یاد آیا ہے کہ آپ کچھ کھائیں گی وہ بھی نا کھلانے کے ارادے سے بھوکا، ندیدہ……..

زایان اپنا ندیدہ پن قائم رکھتے ہوئے تین تین ، چار چار فرائس منہ میں ڈال رہا تھا،،،،،

اسے دیکھ دیکھ کر آئےنور کو وہاں بیٹھنا مشکل لگ رہا تھا….

آئےنور بیگ اٹھا کر فوراً کھڑی ہوگئی ۔

منہا تم کھا لو تو لائبریری آجانا….

نور روکو تو سہی بس ختم ہونے ہی والا ہے…..

آئےنور نے آنکھیں گھما کر زایان کی طرف اشارہ کیا،،،،

میں جا رہی ہوں تم جلدی سے آجاؤ….

آئےنور جانے لگی جب زایان چپس اٹھاتے ہوئے بولا…..

آئےنور Thanks for this لیکن مجھ سے یہ روز روز برگر نہیں کھایا جائے گا کل میں اور کچھ کھاؤں گا

زایان آرڈر دیتے ہی کھانے میں مصروف ہوگیا تھا…..

آئےنور نے دانت پیسے اور بغیر کچھ کہے فوراً وہاں سے چلی گئی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*

آئےنور لائبریری میں آئی تو خوشی اور حیرت سے اسکا منہ کھل گیا….

چہرے پر خودبخود مسکراہٹ نے ڈیرا ڈال لیا…..

آئےنور نے نظریں اٹھا کر اس بڑی سی لائبریری کو آنکھوں میں سمایا…..

“اللہ اللہ اتنی بڑی لائبریری سمجھ ہی نہیں آرہا کہا سے شروع کروں”….

آئےنور نے خوشی سے مسکراتے ہوئے دل میں سوچا……

اسکے دل نے ایک لمحے میں جواب دے دیا….

“ظاہر سی بات ہے نور ناول کی شیلف سے شروع کرو”

ہر شیلف پر کتابوں کے مطابق اوپر بورڈ لگا تھا نیچے کی لائبریری میں جب اسے ناول کا شیلف نہیں ملا تو آئےنور سیڑھیاں چڑھ کر اوپر جانےلگی، اوپر پہنچ کر دوسرے نمبر پر اسے ناول کا بورڈ نظر آیا

نور نے شیلف پر نظر ڈالی تو حیرت سے اسکی آنکھیں کھول گئیں

وہ ایک بہت بڑی شیلف تھی جس میں کم سے کم ہزار، بارہ سو انگریزی اور اردو ناول تھے….

شیلف کو دیکھ کر نور کے منہ سے صرف ایک لفظ نکلا

“Heaven”

آئےنور آگے بڑھ کر کتابوں پر ہاتھ پھیرنے لگی……

اور ایک ناول نکال کر آخری ٹیبل پر جاکر بیٹھ گئی…….

وہاں لائن سے پانچ چھ ٹیبل لگی ہوئی تھی……

نیچے کی نسبت اوپر اسٹوڈنٹ کم تھے،،،،

شافع غصے میں بڑے بڑے ڈک بھرتے ہوئے چل رہا تھا……

غصے سے اسکا چہرہ سرخ ہوگیا تھا، اسے جانا اسپورٹس روم تھا لیکن وہ لائبریری کی طرف مڑگیا…..

اسے خاموشی چاہئیے تھی جو پوری یونیورسٹی میں صرف یونی میں ہی مل سکتی تھی…….

شافع اس وقت کسی سے بات نہیں کرنا چاہتا تھا اور یہ ممکن تھا کہ لائبریری میں کوئی نہ کوئی اس سے بات کرنے آجائے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

شافع نے اپنی ہوڈی سر پر ڈالی اور تیز تیز چلتا ہوا اندر آگیا

کیوں کے آج فریشرز کا پہلا دن تھا اسلئے نیچے لائبریری میں اسٹوڈنٹس بھی کچھ زیادہ ہی تھے،،،،،،

شافع بنا رکے اوپر آگیا وہاں وہ بغیر کتاب لئے نہیں بیٹھ سکتا تھا اس لئے اسنے شیلف سے بغیر دیکھے ایک کتاب اٹھائی اور آخری ٹیبل پر آکر بیٹھ گیا……..

ٹیبل پر اسنے کتاب کھول کر رکھی اور ہاتھوں میں سر دیکر بیٹھ گیا۔ ۔ ۔

ہوڈی اسنے کافی آگے کری ہوئی تھی اور ہاتھ چہرے پر ہونے کی وجہ سے چہرہ نظر نہیں آرہا تھا……

آئےنور آس پاس کے منظر سے بے خبر ناول پڑھنے میں مگن تھی۔ ۔ ۔

ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ، تھوڑی کو ہاتھ پر گرائے ہوئے بیٹھی تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔

“اسکی ہیزل رنگ کی آنکھوں میں ایک چمک تھی جیسے وہ کتاب کی کہانی کو اپنے تصور میں فلم بنارہی ہو”

“جو کہ ہر ریڈر کا ٹیلنٹ ہوتا ہے”

تھوڑے تھوڑے وقفے سے اسکے تاثرات بدل رہے تھے

کبھی اسکے ماتھے پر شکنیں آجاتیں ، تو کبھی وہ اپنے ہونٹوں کو دانتوں سے کاٹنے لگتی…..

اور پھر اگلے ہی لمحے ایک لکیر سی مسکراہٹ اسکے چہرے پر پھیل جاتی،

مسکراتے وقت اسکے گالوں پر گہرے گڈّے نہیں پڑتے تھے بس دائیں گال پر ہونٹ کے بلکل ساتھ ایک معمولی سا گڈّا پڑتا تھا…..

شافع اسی کی ٹیبل پر آکر بیٹھا تھا اور آئےنور نے ایک بھی بار بیٹھنے والے شخص کی طرف نہیں دیکھا تھا…..

شافع سر ہاتھوں میں دیا بیٹھا تھا……

سکون میسر ہوا تو غصہ بھی ٹھنڈا ہوگیا…..

شافع نے کتاب پر نظر ڈالی “ناول” تھا شافع نے اوففف کرتے ہوئے نظریں گھمائیں۔ ۔

کیونکہ شافع ناول پڑھے سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہاں اگر کوئی ہسٹری یا آرٹ کی کتاب ہوتی تو وہ ضرور پڑھ لیتا……

کتاب کھول کر اسنے ٹیبل پر رکھی، اس پر ہاتھ پھیلائے اور سر رکھ لیا ایک دو منٹ وہ اسی طرح سر رکھے بیٹھا رہا تو اسے نیند آنے لگی ، اس سے پہلے کے وہ نیند میں کھوتا لائبریرین نے دو دفعہ سکیل اپنی ڈیکس پر ٹھک ٹھک کیا تو شافع نے گردن اٹھا کر انکی طرف دیکھا…..

یہ ٹھک ٹھک شافع کے لئے ہی کی گئی تھی انھوں نے ہاتھ کہ اشارے سے شافع کو سونے سے منا کیا…….

شافع نے آنکھیں مسل کر چہرے پر ہاتھ پھیرا اور ہوڈی سر سے پیچھے گرا دی اسے سچ میں بہت نیند آرہی تھی ، اسنے اپنے ہاتھ پر پہنی گھڑی میں ٹائم دیکھا بارہ بجنے میں بیس منٹ تھے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

کلاس لینے کا اسکا کوئی ارادہ نہیں تھا وہ لے بھی لیتا تو اس وقت اسے کچھ سمجھ نہیں آنا تھا اسلئے اسنے گراؤنڈ میں جانے کا سوچا…..

اور کھڑا ہوگیا…….

شافع اپنی کرسی سے اٹھا اسنے ایک کرسی پار کی تھی جب اس کی نظر سامنے بیٹھی آئےنور پر پڑی…..

اسے اس بار شاید پہچاننے میں دیر لگی تھی ،،،،

کیونکہ نور نے اسکارف کافی آگے کر کے باندھا ہوا تھا اور گردن بھی جھکی ہوئی تھی شافع نے اسکا پورا چہرہ نہیں دیکھا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

آئےنور نے شاید اسکی نظریں خود پر محسوس کی تھیں اس لئے گردن اٹھا کر اسکی طرف دیکھا……

دونوں چینختے ہوئے بولے آپ…….

دونوں کے زور سے بولنے کی وجہ سے لائبریرین نے دونوں کو اشارے سے چپ رہنے کا کہا تھا اور شافع کو بیٹھنے کا……..

شافع نور کی سامنے والی کرسی پر بیٹھ گیا……

آئےنور شافع کو گھورتے ہوئے آہستہ آواز میں بولی آپ یہاں کیا کر رہے ہیں میرا پیچھا کر رہے ہیں کیا آپ؟؟؟

شافع آگے ہوتے ہوئے کڑے تیور سے بولا میڈم یہ یونیورسٹی ہے میں یہاں بہت ٹائم سے ہوں ہاں البتہ آپ کو یہاں پہلی بار دیکھا ہے کہیں آپ تو میرا پیچھا نہیں کر رہیں……؟

آئےنور ایک بھنویں اٹھاتے ہوئے بولی شکل دیکھی ہے اپنی……!

شافع طنز سے بولا جی بلکل دیکھی ہے تبھی تو پوچھ رہا ہوں…….

آئےنور ناک چڑھاتے ہوئے بولی اتنی اچھی نہیں ہے جتنی تم سمجھ رہے ہو،،،،،

نور فوراً آپ سے تم پر آگئی تھی……

شافع کھڑا ہوتے ہوئے بولا ایکسکیوزمی یہ تم کس خوشی میں بول رہی ہیں آپ…..

لائبریرین نے پھر انھے چبتی ہوئی نظروں سے دیکھتے ہوئے

شِششششش

کہا تھا…..

شافع کرسی پر وآپس بیٹھتا ہوا کڑے تیور سے دھیمے لہجے میں بولا میں آپ کے بچپن کی سہیلی نہیں ہوں جو آپ مجھے تم سے مخاطب کر رہی ہیں ……

آئےنور بھی آگے ہوتے ہوئے اسی کے انداز میں بولی

تو تم کوئی میرے تایا کے بڑے بیٹے نہیں لگتے کہ میں تم سے تمیز سے پیش آؤں……

شافع دانت پیس کر ٹیبل پر ہاتھ مارتے ہوئے بولا آپ بدتمیزی کر رہی ہیں……

آئےنور زور سے بولی تو تم سے تمیز سے پیش آنے کی کوئی خاص وجہ……

لائبریرین نے ٹیبل پر زور سے اسکیل مارا…….

شافع اور آئےنور دونوں نے مڑ کر انکی طرف دیکھا انھوں نے ہاتھ کے اشارے سے ان دونوں کو کھڑے ہونے کا کہا……

اور پھر دانت پیستے ہوئے سختی سے باہر کی طرف اشارہ کرتی ہوئی بولیں

“Get lost”

آئےنور نے کھا جانے والی نظروں سے شافع کی طرف دیکھا شافع کے تاثر بھی کچھ اچھے نہیں تھے…….

دونوں اپنی اپنی کتابیں اٹھا کر شیلف کی طرف بڑھے

اور کتاب رکھ کر سیڑھیوں سے آگے پیچھے اترنے لگے آئےنور آگے اور شافع پیچھے تھا……

شافع جلدی جلدی اترنے لگا جب نور کی چادر اسکے پیر میں اٹکی نور اس سے دو سیڑھی نیچے تھی لیکن چادر بڑی ہونے کی وجہ سے اترتے ہوئے سیڑھی پر پھیل گئی تھی …….

آئےنور کو چادر کھینچتی ہوئی محسوس ہوئی تو فوراً رکی…..

شافع پلر پکڑ کے فوراً سنبھلا تھا ورنہ اگر وہ پھسل جاتا تو اس کا اچھا خاصہ مزاق بن جاتا……

آئےنور کو جب اپنی چادر کے کونے پر شافع کے شوز کے نشان دکھے تو چینختے ہوئے بولی اندھے ہو کیا نظر نہیں آتا تمھے؟؟؟

نیچے والی لائبریرین نے انھے گھورا کچھ اسٹوڈنٹس نے بھی ان کی طرف مڑ کر دیکھا تھا……

شافع نے ضبط سے سانس کھینچا……

انسان جتنا سنبھال سکے نا اتنی ہی چیزیں استعمال کرنی چاہیے……

خود تم چھ فٹ کی نہیں ہو چادر تم نے دس گز کی لے رکھی ہے اور جب لی ہے تو اسے سنبھالنا بھی سیکھو……

دوسروں کو زخمی کرنے کے لئے اس کا غلط استعمال کر رہی ہو…..

شافع بولتے ہی اسکے برابر میں سے نکل کے سیڑھیوں پر سے اترنے لگا آئےنور بھی تیز تیز اسی کی پیچھے اتری…..

جیسے ہی لائبریری سے باہر نکلے آئےنور اس پر برستے ہوئے بولی،،،،

مجھے بہت اچھے سے اپنی چیزیں سنبھالنی آتی ہیں

لیکن شاید تمھے اپنے لاؤڈ اسپیکر کو سنبھالنا نہیں آتا جس کی وجہ سے تم نے فرسٹ ڈے ہی لائبریری میں میری انسلٹ کرا دی……

شافع ہاتھ باندھتا ہوا بولا اچھا تو آج فرسٹ ڈے ہے آپ کا……

پوچھ سکتا ہوں کس گدھے نے آپ کا ایڈمیشن کروایا ہے……

آپکو مجھ سے کچھ پوچھنے کا حق کس نے دیا…..؟

شافع آگے آتے ہوئے بولا

“حق کی بات تو آپ اسطرح کر رہی ہیں جیسے میں نے آپ سے حق مہر کے بارے میں پوچھ لیا ہو”

آئےنور پیچھے ہوتے ہوئے بولی اتنا آگے آکر بات کرنے کی کیا ضرورت ہے مجھ سے فاصلے پر رہ کر بات کریں کم سے کم چار فٹ کا فاصلہ…….

شافع ایک ،دو ،تین کرتے ہوئے پانچ قدم پیچھے ہوا…..

میں چار فٹ تو کیا دس فٹ کا فاصلہ رکھوں گا بس آپ آئندہ میرے سامنے مت آئے گا…….

ہاں جیسے مجھے تو تمھارے سامنے آنے کا شوق ہے نا

چھچھوندر نہیں تو……

آئےنور آخری الفاظ دھیمے سے کہہ کر مڑ گئی تھی لیکن شافع سمجھ گیا تھا کے آخر میں نور نے اسے کچھ بولا ہے…..

آئےنور بڑے بڑے ڈک بھرتے ہوئے جانے لگی تو شافع اسکی طرف آتے ہوئے بولا…….

آپ نے کیا کہا ہے مجھ کو جو بولنا ہے زور سے بولئے……

آئےنور رکے اور مڑے بغیر ہاتھ اوپر کرتے ہوئے بولی “چھچھوندر” بولا ہے چھچھوندر ……….

شافع وہیں کھڑا الجھن کا شکار ہوگیا…..

چھچھوندر؟؟؟؟؟

یہ کیا ہوتا ہے……..

..۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*

آئےنور اپنے ڈپارٹمنٹ پہنچی تو اسے منہا مل گئی منہا دوڑ کے اسکے پاس آئی

کہاں تھی تم ؟میں نے تمھے لائبریری میں بھی ڈھونڈا لیکن تم وہاں تھی ہی نہیں…..

آئےنور نے منہا کو چبھتی ہوئی نظر سے دیکھتے ہوئے پوچھا؟؟؟

آگئیں تم، ہوگئی تمھاری دوستیاں ، بھر گیا تمھارا کنواں، اڑا لئے برگر……..؟

منہا حیرت سے بولی ارے ارے تمھے کیا ہوگیا کس بات کا اتنا غصہ ہے……..

آئےنور چینختے ہوئے بولی کچھ نہیں ہوا ہے مجھے چلو کلاس میں……

منہا اسے بازو سے پکڑتے ہوئے بولی تھوڑی دیر میں چلیں گے یار تمھے پتا ہے زایان بتا رہا تھا اسکا ایک دوست بھی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

یار وہ خود اتنا ہینڈسم سے تو اسکا دوست کتنا ہینڈسم ہوگا…..

وہ بول رہا تھا اسکا دوست آنے ہی والا ہے چلو نہ چل کے ملتے ہیں

منہا چہنکتے ہوئے کہہ رہی تھی……

آئےنور نے ایک تھپڑ منہا کے سر پر لگایا ہم یہاں لوگوں سے دوستیاں بڑھانے نہیں آئے ہیں،،،

پڑھنے آئے ہیں تو بہتر ہے ہم اسی پر دھیان دیں سمجھیں

آئےنور منہا کا ہاتھ پکڑ کر کلاس کی طرف لیجانے لگی تھی……

منہا نے پھر نور کا ہاتھ پکڑ کر روک دیا تھا……

ارے میری بات تو سنو زایان بتا رہا تھا اسکا دوست گانے بھی گاتا ہے یونیورسٹی کا “روک سٹار” ہے وہ منہا دونوں ہاتھ تھوڑی کے نیچے رکھتے ہوئے خلا میں دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولی……

ہائے کتنا پیارا ہوگا نا وہ…….

اسکا نام ہی اتنا پیارا ہے “شافع تیمور وارثی”

آئےنور نے منہا کو موڑ کر اسکے دونوں کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے دھکیلا …….

جاؤ تم وآپس جاؤ آرام سے تسلی سے زایان اور اسکے دوست سے مل کر آجاؤ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

آئےنور اسے چھوڑ کر تیز تیز قدم بڑھاتی ہوئی کلاس کی طرف چل دی…..

منہا آواز لگاتے ہوئے اسکے پیچھے بھاگی ارے سنو تو سہی میں جانے کا تھوڑی بول رہی تھی میں تو صرف بتا رہی تھی …..

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*

شافع اسپورٹس روم میں داخل ہوا تو زایان ایک لڑکے کے ساتھ ٹیبل ٹینس کھیل رہا تھا…….

شافع نے زایان کو دیکھتے ہی بیگ کھینچ کر زایان کے منہ پر مارا زایان نے بال اتنی زور سے ہٹ کری کے بال سامنے والے لڑکے کے منہ پر جاکے لگی…….

زایان بیگ اٹھاتے ہوئے شافع کی طرف بڑھا……

خود پاگل ہوگئے ہو یا کسی نے کر دیا ہے…….

شافع دھاڑتے ہوئے بولا کہاں جاکر بیٹھ گئے تھے تم؟؟؟

زایان شرارت سے بولا میری جان میری اتنی فکر مت کیا کرو دوست شک کرتے ہیں،،،،،،

شافع نے زایان کی گردن اپنے بازو میں زور سے دبوچ کر گرفت مضبوط کری……

زایان چیخھا اچھا اچھا مزاق کر رہا تھا یار …..

کینٹین میں تھا میں……

وہ اسکالرشپ والی لڑکی آئی تھی اس سے اپنے برگر اور فرائس کا حساب کر رہا تھا…….

شافع نے گرفت اور مضبوط کری اچھا تو تم نے سب اکیلے کھا لیا

کام میرا نام تمھارا………

زایان پھر چینخا شافع پلیز چھوڑ دے گردن ٹوٹ جائے گی میرے بھائی…..

شافع نے زایان کی گردن چھوڑی تو زایان سیدھا ہو کر گردن کو گھما گھما کر سہی کرنے لگا……

پھر کراہتے ہوئے بولا مجھے تو لگا تھا آج توڑ کر ہی چھوڑو گے…….

شافع نے اسے گھورا تو سیدھا ہو کر کھڑا ہو گیا……

میرے بدلے کا بھی تم سب کچھ کھا کر آئے ہو شافع نے زایان کو گھورتے ہوئے پوچھا…….

ارے تمھے بھی کھلا دیں گے یار تمھے نہیں پتا وہ لڑکی بہت کھڑوس ہے مجھے بھکاریوں کی طرح پیسے دینے لگی

بولی کے یہ پسے لو اور جاکر کھالو….

میں نے بھی کہا کہ کیا میں آپ کو بھکاری لگتا ہوں؟ پھر اسکو آدھے گھنٹے تک کینٹین میں کھڑا رکھا چیزیں لا لا کر ایسے ٹیبل پر پٹکیں کے جیسے منہ پر مارنا چاہ رہی ہو……

لیکن میں بھی اپنی بےغیرتی پر قائم رہا اور اسکے کسی ردعمل پر غور کئے بغیر کھاتا رہا……

زایان ہاتھ ہلا ہلا کر بھرپور ڈرامائی انداز میں بتا رہا تھا…..

اسکی دوست بھی تھی ساتھ اتنا بولتی ہے کہ توبہ توبہ زایان نے کانوں کو ہاتھ لگایا……۔

اسے دیکھ کر مجھے تاشفہ یاد آرہی تھی بلکل تاشفہ والی حرکتیں ہیں…..

تاشفہ کا نام سن کر شافع کے ماتھے پر بل پڑے تھے جیسے زایان نے فوراً نوٹ کیا تھا……

کیا بات ہے تاشفہ کا نام سن کر تمھارے تاثرات کیوں بدل گئے؟

اگر میں نے تمھے بتا دیا نا تو تمھارے تاثر بھی کچھ ایسے ہی ہونگے شافع نے مٹھیاں بھینچتے ہوئے کہا…….

زایان فوراً تجسّس سے بولا جلدی بتاؤ کیا ہوا؟؟؟

باہر چلو پھر بتاتا ہوں……

شافع زایان کو لے کر گراؤنڈ میں آگیا زایان بینچ پر بیٹھتے ہوئے تجسّس بھرے لہجے میں بولا جلدی بتاؤ یار کیا ہوا ورنہ مجھے بھوک لگنا شروع ہو جائے گی……

شافع کھڑا ہوا تھا بیٹھا نہیں تھا ۔۔۔۔

تاشفہ مجھ سے شادی کرنا چاہتی ہے…….

زایان جھٹکے سے کھڑا ہوا….

پھر بینچ کے اوپر کھڑے ہوکر چینختے ہوئے بولا ۔۔۔۔

کیا میرے ان گناہ گار کانوں نے ابھی جو سنا وہ سچ ہے….؟

شافع موبائل نکالتے ہوئے بولا ہاں سچ ہے بول رہی تھی کہ میرے ڈیڈ تم سے ملنا چاہتے ہیں…….

زایان حیرت سے آنکھیں پھاڑتے ہوئے بولا. ۔ ۔ ۔

مجھے تو لگا تھا کہ وہ بس ایسی تمھارے پیچھے پڑی ہوئی ہے لیکن یہ تو الگ معاملہ ہوگیا پھر تم نے کیا جواب دیا اسکی بات کا……؟

شافع آنکھیں بڑی کرتے ہوئے بولا ظاہر سی بات ہے میں نے اسے منا ہی کرنا تھا…..

لاسٹ ٹائم کی ملاقات کے بعد مجھے لگا تھا کہ اسنے میرا پیچھا چھوڑ دیا ہے لیکن مجھے کیا پتا تھا اسکے دماغ میں تو کچھ اور ہی چل رہا ہے…..

پھر ان میڈم کے تاثرات کیا تھے تمھارے منا کرنے پر زایان کا تجسّس ختم ہی نہیں ہورہا تھا……

ہونا کیا تھا تیش میں آگئی…..

کہ سارے لڑکے اسکے آگے پیچھے گھومتے ہیں اور میں اسے ریجیکٹ کر رہا ہوں……

بولنے لگی کے میں تم سے محبت کرتی ہوں میرے بابا تمھارا بزنس ایک دن میں سیٹ کر دیں گے……..

تم بتاؤ “کیا محبت کو خریدا جاتا ہے” وہ اپنی ضد کو محبت کا نام دے رہی ہے……

زایان بینچ پر سے اترتے ہوئے بولا دیکھو یار یہ محبت وغیرہ کا تو مجھے نہیں پتا لیکن مجھے نہیں لگتا کہ تاشفہ بیگم اتنی آسانی سے تمھارا پیچھا چھوڑے گی….

اگر اسنے کوئی گڑبڑ کر دی تو ؟؟؟؟

وہ کچھ نہیں کرسکتی تم ٹینشن مت لو…..

زایان کندھے اچکاتے ہوئے بولا میں ٹینشن کیوں لوں گا میں تو صرف ایک بات کہہ رہا تھا……..

شافع جھنجھلاہٹ سے بولا اچھا اب یہ تاشفہ نامہ بند کرو اور مجھے گھر ڈراپ کر دو مجھے نیند آرہی ہے شافع صبح زایان کی گاڑی میں ہی آگیا تھا…..

ارے ارے ایسے کیسے چلیں پہلے تم مجھے یہ بتاؤ تم اتنی دیر کہاں تھے؟؟؟؟

شافع دانت پیستے ہوئے بولا ایک بدلحاظ بد تمیز لڑکی مل گئی تھی لائبریری میں…..

زایان شرارت سے بولا خیریت تو ہے آج کل تمھارے ستارے کے گرد لڑکیاں گھوم رہی ہیں …..

شافع زایان کے سر پر مارتے ہوئے بولا بکواس مت کرو……

وہ لڑکی ایک دو دفعہ پہلے بھی مل چکی ہے،،،، ہر جگہ مل جاتی ہے اور ایسا لگتا ہے مجھ سے لڑنے کے لئے ہی وہ دنیا میں آئی ہے…….

زایان شوخ مسکراہٹ سے بولا اوہو ہو…..

آثار تو کچھ اور ہی لگ رہے ہیں دھیان رکھنا کہیں اس تکرار میں پیار نا ہوجائے….

شافع نے زایان کو کھا جانے والی نظروں سے گھورا……

دماغ خراب ہے تمھارا مجھے پیار اور اس لڑکی سے……

“اسکا بس چلے تو میرے بال پکڑ کر سر دیوار میں دے مارے اور میرا بس چلے تو اسکے منہ پر ٹیپ لگا کر کسی سنسان جنگل میں چھوڑ آؤں”

زایان مسکراتے ہوئے بولا تو اپنا بس چلاؤ نہ کس نے روکا ہے؟

شافع نے پھر زایان کو گھورا،،،،،

زایان ہاتھ اٹھاتے ہوئے بولا اچھا اچھا مزاق….

لیکن یہ بتاؤ وہ ہماری یونیورسٹی میں کیا کر رہی ہے ……

ایڈمیشن ہو گیا ہے اسکا یہاں پتا نہیں کس گدھے نے کر وایا ہے

“شافع کو اندازہ ہی نہیں تھا کہ وہ جانے انجانے میں خود کو ہی دو بار گدھا بول چکا ہے”

زایان شافع کا چہرہ دیکھتے ہوئے بولا اوہو معاملہ خاصہ گرم لگ رہا ہے ملنا پڑے گا اس لڑکی سے….

ملنا پڑے گا میں تو دوبارا اس لڑکی کی شکل دیکھنا نہیں پسند کروں گا تم ملنے کی بات کر رہے ہو……

زایان شافع کے گلے میں ہاتھ ڈالتے ہوئے بولا اچھا چھوڑو یار موڈ خراب مت کرو میں تمھے آئےنور سے ملواؤں گا وہ بھی کم کھڑوس نہیں……

“she is like a Hitler”

مطلب کام ہوگیا تو آپ کون اور ہم کون……

مجھے نہیں لگتا کہ وہ زیادہ دن مجھے کھلا پائے گی….

مجھے تو وہ کچھ خاص اچھی نہیں لگی تم بتانا تمھے کیسی لگی…..

شافع کندھے اچکاتے ہوئے بولا میں اس سے مل کر کیا کروں گا……

زایان نے کوفت سے آنکھیں گھمائیں……

چلو بھائی تمھے کچھ زیادہ ہی نیند آرہی ہے لگتا ہے…….

شافع چلتے ہوئے کچھ سوچنے لگا…..

زایان یہ چھچھوندر کسے کہتے ہیں؟؟؟؟؟

زایان کا قہقہہ بلند ہوا چھچھوندر کیوں تمھے کیوں یاد آگیا…….

شافع بھنویں اچکاتے ہوئے بولا ایسی پوچھ رہا ہوں……

بڑے والے چوہے کو بولتے ہیں جو بہت ہی موٹا اور گندا سا ہوتا ہے…

شافع نے ضبط سے دانت پیستے ہوئے مٹھیاں بھینچیں…….

ایک لمبا سانس کھینچتے ہوئے بولا زایان کسی کی ریگنگ کروانی ہے….

زایان کی آنکھوں میں چمک آئی چہکتے ہوئے بولا کس کی؟؟؟؟

ایک لڑکی کی بس تم تیار رہنا…….

زایان ہنستے ہوئے بولا ارے میں تو بلکل تیار ہی ہوں………

تھوڑا سا آگے چلے تھے جب زایان کو ایک لڑکی بیٹھی ہوئی نظر آئی…..

اسنے موٹے موٹے چشمے پہنے ہوئے تھے وہ اکیلی کتاب کھولی بیٹھی تھی…….

زایان شافع کے پاس آکر بولا روکو زرا جاتے جاتے آج کی آخری ریگنگ کر لیں….

زایان اس لڑکی کے پاس گیا شافع کچھ فاصلے پر کھڑا تھا……

ایکسکیوزمی……

اس لڑکی نے اپنے چشمے ٹھیک کرتے ہوئے زایان کی طرف دیکھا….

فرسٹ ڈے؟

لڑکی نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے جی…..

وہ شکل سے کوئی سیدھی سادھی لڑکی معلوم ہوتی تھی جو زایان سے بات کرتے ہوئے بھی گھبرا رہی تھی…….

زایان نہایت مہذب لہجے میں بولا نیو اسٹوڈنٹ کو جو فارم ملتا ہے وہ آپ نے لے لیا؟؟؟

نہیں مجھے تو کسی نے کوئی فارم لینے کا نہیں کہا…..

زایان معصوم بنتے ہوئے بولا اووہ آپ نے ابھی تک نہیں لیا

زایان ایک بلڈنگ کی طرف اشارہ کر کے بولا جس کافی دور تھی وہاں فارم مل رہے ہیں لیکن وہاں بہت رش ہے ابھی اسٹوڈنٹ کا……

وہ لڑکی بلڈنگ کی طرف دیکھ کر کچھ سوچتے ہوئے بولی یہ تو کافی دور ہے اور رش بھی ہو رہا ہوگا…..

زایان گردن ہلاتے ہوئے بولا ہاں رش تو بہت ہے میں اپنا فارم لینے جا رہا ہوں آپ کا بھی لادوں؟

وہ لڑکی خوشی سے مسکراتے ہوئے بولی آپ سچ میں میرا بھی فارم لادیں گے……

زایان بھی مسکراتے ہوئے بولا جی جی بلکل لا دوں گا لائیں پیسے زایان ہاتھ آگے کرتے ہوئے بولا ……

لڑکی بیگ کھولتے ہوئے بولی اوہ ہاں کتنے کا ہے فارم؟؟؟

صرف ہزار روپے کا……

وہ لڑکی ٹھٹکی ہزار روپے کا

زایان مسکراتے ہوئے بولا جی…..

اچھا دیتی ہوں ……

اس لڑکی نے ہزار روپے نکال کر زایان کو دے دئیے……

زایان پیسے اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے بولا….

اسّلام وعلیکم

میں ہوں آپ کا سینئر زایان حیدر……

ہم آپ کے ساتھ ریگنگ کر رہے تھے اب آپ بزنس ڈپارٹمنٹ میں جائیں اور ایک ایک اسٹوڈنٹ سے دس دس روپے جما کر کے لائیں اور اپنے ہزار روپے لے جائیں…….

اس لڑکی نے حیرت سے آنکھیں پھاڑیں…..

زایان جیسے ہی جانے کے لئے مڑا اس لڑکی نے اپنی ٹانگ زایان کے آگے اڑا دی….

زایان نے فوراً زمین پر اپنے ہاتھ رکھے ورنہ وہ منہ کے بل گرتا پیسے اسکے ہاتھ میں سے نکل گئے تھے اس لڑکی نے فوراً اپنے پیسے اٹھائے…..

زایان ہاتھ جھاڑتے ہوئے اٹھا…..

وہ لڑکی مسکراتے ہوئے ہاتھ باندھ کر بولی

اسّلام وعلیکم میں ہو آپکی جونیئر شِفا مجھ سے آئیندہ ریگنگ کرنے کی کوشش بھی مت کرئے گا ورنہ ابھی منہ کے بل گرایا ہے کل مکّا مار کے پیٹھ کے بل گراؤں گی…..

زایان کی ہوائیاں اڑ گئیں تھی

شافع قہقہہ لگاتے ہوئے تالی بجاتے ہوئے آگے آیا۔۔

اور اس لڑکی کی طرف دیکھتا ہوا بولا گڈ جوب…

وہ لڑکی شافع کی طرف دیکھ کر مسکرائی اور زایان کی طرف ایک چبھتی ہوئی نگاہ ڈال کر چلی گئی…..

شافع نے زایان کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا ریگنگ کا شوق پورا ہوگیا ہو تو چلیں……

ہاں چلو یار اللہ معاف کرے کتنی خطرناک لڑکیاں آئی ہیں اس دفعہ یونی میں اللہ ہی بچائے……

شافع ہنستے ہوئے بولا اسی لئے کہتے ہیں “کسی کی شکل سے اسکی عقل کا اندازہ نہیں لگانا چاہیے”