Izhar-e-Muhabat by Anooshe NovelR50417 Izhar-e-Muhabat Episode 16
Rate this Novel
Izhar-e-Muhabat Episode 16
Izhar-e-Muhabat by Anooshe
نور گھر پر پہنچی تو ارمینہ بیگم نے حیرت سے پوچھا تم اتنی جلدی آگئیں کنسرٹ ختم ہوگیا تھا کیا؟؟؟
نور نے پھیکی سی مسکراہٹ سے کہا نہیں کنسرٹ تو چل رہا تھا بس میرا دل نہیں لگا تو میں آگئی…..
ارمینہ بیگم فریج کھولتے ہوئے بولیں اچھا تم نے کچھ کھایا یا کھانا گرم کروں..؟
نور کمرے کے طرف جاتے ہوئے بولی نہیں ماما رہنے دیں مجھے بھوک نہیں ہے….
نور کپڑے چینج کرکے آئی بیڈ پر بیٹھ کر اپنی دونوں کلایوں کو دیکھا جو ابھی بھی ہلکی ہلکی سرخ ہورہی تھیں اور درد کر رہی تھیں…..
نور نے آہستہ آہستہ اپنی کلایوں کو سہلایا اسکے دل میں شافع کے لئے غصہ اور بھی بڑھ گیا تھا لیکن اسکا غصہ دیکھنے کے بعد یہ بات تو طے تھی کہ اب وہ اس سے چھوٹی چھوٹی باتوں پر بیڑھے گی نہیں….
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کنسرٹ کیونکہ یونی میں تھا تو بارہ بجتے ہی ختم ہوگیا زایان اور انکی کلاس کے لڑکوں کا گھومنے جانے کا پروگرام تھا لیکن کنسرٹ ختم ہوتے ہی شافع نے وہاں سے نکلنے کی کی تھی….
زایان نے اسے بہت روکا لیکن اسنے کہہ دیا کہ اسے طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی اسلئے زایان نے اسے جانے دیا…..
یونیورسٹی سے نکل کر اسنے گاڑی گھر کی طرف موڑنے کے بجے سمندر کی طرف موڑ لی…..
اسنے گاڑی سمندر کے قریب والی سڑک پر ہی روک لی آگے نہیں گیا گاڑی کے دروازے سے ٹیک لگا کر سمندر کو دیکھنے لگا…..
اسے اپنے اوپر غصہ تھا اسے نور کو ہرٹ نہیں کرنا چاہیے تھا، اسے غصے میں اسطرح اسکا ہاتھ نہیں پکڑنا چاہیے تھا۔ ۔ ۔ اگر انھے کوئی دیکھ لیتا تو بہت بڑا اشو بن سکتا تھا کیونکہ شافع سب کی نظروں میں رہنے والا انسان تھا اسکی یہ چھوٹی سی غلطی نور کے لئے بہت پریشانیاں کھڑی کر سکتی تھی ….
یہ سوچتے سوچتے اسے اچانک اس بات پر غصہ آنے لگا کہ وہ نور کو سوچ ہی کیوں رہا ہے آخر وہ لڑکی اسکے حواسوں پر اتنا کیوں ہو رہی ہے….
اسنے غصے سے کراہتے ہوئے گاڑی کے ٹائر پر لات ماری بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے گُدی پر ہاتھ ٹکا کر گردن جھکا لی…..
کچھ دیر یوں ہی کھڑے رہنے کے بعد اسنے گاڑی کھولی اور بیٹھ گیا اسٹیئرنگ ویل پر ہاتھ رکھ کر سامنے دیکھتے ہوئے اسنے دل میں ارادہ کر لیا تھا
اب کچھ بھی ہو جائے وہ نور سے فاصلہ رکھے گا اسنے خود سے یہ سوچ لیا تھا کہ وہ اب اس سے کوئی فالتو بحث نہیں کرنا چاہتا
لیکن اسے خود نہیں پتا تھا کہ وہ اپنی وجہ سے نور کے لئے مشکلات نہیں کھڑی کرنا چاہتا….
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زایان دوستوں کے ساتھ گھوم کر دو بجے چوروں کی طرح گھر میں گھوسہ اور دبے پاؤں سیڑھیاں چڑنے لگا
اچانک حیدر صاحب نے اسے آواز لگائی یہ کونسا وقت ہے گھر آنے کا….
زایان نے زبان دانتوں تلے دبائی ایک آنکھ بند کر کے مڑا بابا وہ یونیورسٹی میں کنسرٹ تھا نہ اسلئے دیر ہوگئی….
جھوٹ بولنے کی ضرورت نہیں ہے کنسرٹ بارہ بجے ہی ختم ہوگیا تھا کہاں آوارہ گردیاں کرتے پھر رہے تھے؟؟؟
ارے بابا دوستوں کے ساتھ تھا…..
زایان انھے ٹھنڈا کرنا چاہتا تھا لیکن وہ بھڑک پڑے…..
امتحانوں کی کچھ فکر ہے تمھے؟
گھوم تو تم ایسے رہے ہو جیسے ساری کتابیں رٹی ہوئی ہوں….
زایان دانت نکالتے ہوئے بولا جی جی بابا سب رٹی ہوئی ہیں آپ فکر ہی نہ کریں….
پتا ہے مجھے کے کتنی تیاری ہے تمھاری حیدر صاحب آگے آتے ہوئے بولے دیکھو زایان اگر تمھارا رزلٹ خراب آیا نہ تو اپنا ٹھکانہ کہیں اور دیکھ لینا میں گھر میں نہیں گھسنے دوں گا تمھے….
زایان ہنسی دباتے ہوئے بولا تو ریزلٹ دیکھنے کیا باہر گیٹ پر آئیں گیں…؟
حیدر صاحب نے اسکا کان مروڑا…..
زایان چینخھا ماما……..
ماما اپنے شوہر کو دیکھیں مجھ پر تشدد کر رہے ہیں حیدر صاحب نے اسکا کان چھوڑ کر اسے گھورا…..
زایان میں تمھے بتا رہا ہوں تم سیریس ہو جاؤ،،، اور تم آفس گئے تھے؟؟؟
زایان نے سر کھجایا پیچھے ہوتے ہوئے بولا نہیں وہ یونیورسٹی میں تھا نہ تو کیسے جاتا؟؟؟
حیدر صاحب نے ضبط سے سانس کھینچ کر چہرے پر ہاتھ پھیرا…..
پھر دھمکی دینے والے انداز میں بولے میں تمھے صرف امتحانوں تک کے لئے رعایت دے رہا ہوں امتحان ختم ہوتے ہی تم صبح نو سے شام چھ بجے تک کے درمیان مجھے گھر پر نظر نہ آؤ…..
زایان خوش ہوتے ہوئے بولا اچھا پکّی بات ہے؟؟؟
حیدر صاحب نے دانت پیستے ہوئے کہا گھر پر نظر نہیں آؤ مطلب اس وقت تم آفس میں ہو….
زایان آنکھیں پٹپٹاتے ہوئے اوہ تو یہ مطلب تھا آپکا میں سمجھا آپ بول رہے ہیں کہ پورا دن باہر گھومو حیدر صاحب دانت پیستے ہوئے آگے بڑھے تھے وہ سیڑھیوں کی طرف بھاگا
سب سے اوپر والی سیڑھی پر پہنچ کر بولا بابا میرے آفس کے سامنے بہت سارے ریسٹورنٹ ہیں وہ بند کر وادیئے گا ورنہ ہو سکتا ہے میں اپنے دن رات ان ریسٹورنٹ کے نام کر دوں……
زایان میں تمھے،،، حیدر صاحب اسے مارنے کے لئے تیز تیز سیڑھیاں چڑھنے لگے….
زایان تیزی سے کمرے میں بھاگا اور دروازہ لوک کر دیا وہ کمرے میں چلا گیا تو حیدر صاحب اسکی باتوں کو سوچ کر ہنسے “میرا بیٹا نہ جانے کس جن پر چلا گیا ہے”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شافع سو رہا تھا جب نیند میں اسے کسی کے تیز تیز بولنے کی آواز آئی….
آنکھیں کھول کر گھڑی کی طرف دیکھا تو صبح کے آٹھ بج رہے تھے
اسنے آنکھیں مسلتے ہوئے سوچا یہ کون اتنی زور زور سے بول رہا ہے ہمارے گھر میں تو کوئی تیز آواز میں باتیں نہیں کرتا…..
اسنے شرٹ کے آدھے کھلے بٹن لگائے بالوں میں ہاتھ پھیرا اور کمرے سے باہر نکل گیا……
سیڑھیوں سے اترتے ہوئے اسکی نظر لاؤنج پر پڑی جہاں بی اماں کھڑی زور زور سے ملازموں کو گاڑی میں سے سامان لاکر رکھنے کا کہہ رہی تھیں انکے ساتھ ایک ملازمہ بھی تھی وہ کوئی دس بارہ ٹوکرے اپنے ساتھ لائی تھیں جس میں ناجانے کیا کیا بھرا ہوا تھا…….
تہمینہ بیگم انکے پاس ہی کھڑی پریشانی سے یہ سارا منظر دیکھ رہی تھیں اور تیمور صاحب بی اماں کا ہاتھ تھامے کھڑے تھے…..
شافع جلدی جلدی سیڑھیاں اترتا ہوا نیچے آیا بی اماں کی نظر اس پر پڑی تو باہیں پھیلا کر بولی شافع میرا بچہ آجا دادو کے گلے لگ جا……
شافع ان سے جاکر ملا دادو آپ اتنی صبح صبح اور یہ اتنا سامان کیا ہے یہ۔ ۔ ۔ ۔
بی اماں اسکا ماتھا چومتے ہوئے بولیں کیا میں صبح صبح اپنے پوتے سے ملنے نہیں آسکتی؟؟؟؟
شافع انھے اندر لاتے ہوئے بولا جی بلکل آسکتی ہیں آپ آئی کس کے ساتھ ہیں؟؟؟
بی اماں صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولیں لو بھلا مجھے بھی کسی کو ساتھ لانے کی ضرورت ہے دو ملازموں کو پکڑا سامان گاڑی میں بھرا اور آگئی…..
تہمینہ بیگم بولیں اماں میں آپ کے لئے ناشتہ لگواتی ہوں…..
بی اماں منا کرتے ہوئے بولیں نہ نہ میں سب کھا پی کر آئی ہوں ہاں بس شافع کے ساتھ چائے پیوں گی جلدی بنوا لاؤ…
تیمور صاحب بولے اماں آپ اکیلے کیوں آئیں کسی کو ساتھ لے آتیں…..
بی اماں منہ بناتے ہوئے بولیں ابراہیم تو آنے کے لئے راضی نہیں تھا اور عائشہ یا کسی اور کو میں خود نہیں لائی…..
شافع نے حیرت سے پوچھا چاچو آنے کے لئے راضی نہیں تھے لیکن کیوں؟؟؟
بی اماں بولیں تو اسے چھوڑ تو یہ بتا میری یاد نہیں آتی تجھے اور کتنا دبلا ہوگیا ہے کچھ کھاتا پیتا نہیں ہے؟؟؟؟
شافع نے اپنے اوپر نظر دوڑائی میں دبلا ہوگیا ہوں؟؟؟
ہاں نہ رنگ بھی دیکھ کیسے پھیکا پڑ رہا ہے…. شافع نے اپنی ہنسی دبائی تھی…..
بی اماں آواز لگاتے ہوئے بولیں ارے تہمینہ چائے لا بھی چکو کیا پائے بنا رہی ہو؟؟؟؟
بھئ تیمور نہایت ہی سست ہے تمھاری بیوی…..
شافع کو ٹوکرے یاد آئے تو پھر پوچھ بیٹھا دادو آپ یہ اتنا سارا سامان کیا لائی ہیں…..
ارے بتا دوں گی بتا دوں گی بھاگی تھوڑی جارہی ہوں پہلے چائے تو پیلے
شافع اٹھتے ہوئے بولا میں فریش ہوکر آجاؤں ابھی سو کر اٹھا ہوں…..
بی اماں نے حیرت سے آنکھیں پھاڑیں تو ابھی اٹھا ہے شافع صبح فجر میں اٹھ کر نماز نہیں پڑتا؟؟؟
شافع زمین کی طرف دیکھتے ہوئے بولا پڑھتا ہوں دادو کبھی کبھی……
بی اماں کڑے تیور سے بولیں کھانا بھی کیا کبھی کبھی کھاتا ہے…..
شافع شرمندہ ہوا پڑھوں گا دادو اب سے….
بولتے ہی شافع کمرے کی طرف گیا کیونکہ وہ اپنی اور کھچائی کروانا نہیں چاہتا تھا……
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آئےنور آرٹس لوبی میں بیٹھی فیس بک چلا رہی تھی جب اسے اپنی یونیورسٹی کے فیس بک پیج پر کل رات کے کنسرٹ کی ویڈیو دیکھی وہ ویڈیو شافع کی تھی
نور ویڈیو آن کرنے کے لئے کلک کرنے ہی لگی تھی لیکن اچانک اسے شافع کا کل کا رویہ یاد آیا اور بھنویں تن گئیں
اسنے ہنہہ کر کے ویڈیو سامنے سے ہٹا دی….
نور اکیلی ہی بیٹھی تھی کیونکہ آجکل منہا اپنے موبائل میں زیادہ بزی رہنے لگی تھی…..
موبائل بند کر کے وہ ادھر ادھر دیکھنے لگی جب پیچھے سے زایان اسکے برابر میں آکر بیٹھا….
ہائے….! نور نے اسے دیکھا پھر آنکھیں گھما کر بولی ہائے… زایان نے دانت نکالتے ہوئے پوچھا کیسی ہو؟؟؟؟
نور نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے کہا کیسی لگ رہی ہوں
زایان نے فوراً بولا اچھی….
نور نے اسے گھورتے ہوئے پوچھا کیا کہا تم نے؟؟؟
زایان اپنے ہاتھ سے سانپ کا پھن بناتے ہوئے بولا ناگن…..
نور نے غصے سے کہا یہ تم ہر وقت مجھے ناگن کیوں کہتے ہو زایان دانت نکالتے ہوئے بولا کیونکہ تم ہر وقت زہر اگلتی ہو….
نور نے بھنویں اٹھاتے ہوئے کہا پھر تو تم دور رہا کرو کہیں ایسا نہ ہو سارا زہر تم پر اگل دوں…..
زایان قہقہہ لگاتے ہوئے بولا
ہاہاہاہاہاہاہا یہ زایان حیدر ہے مس آئےنور صدیقی اس پر یہ چھوٹی موٹی ناگنوں کے زہر کام نہیں کرتے…..
سامنے سے انگلش ڈپارٹمنٹ کی ایشمل آرہی تھی زایان اسے دیکھتے ہوئے بولا ہاں پر یہاں میں بغیر زہر کے ہی مر جاتا ہوں….
نور نے اسکی آنکھوں کے تعاقب میں ایشمل کو دیکھا جو اسے مسکرا کر دیکھتی ہوئی ہاتھ کے اشارے سے ہائے کہہ کر گئی تھی……
زایان نے بھی اسے مسکراتے ہوئے دیکھ کر ہائے کیا تھا……
آئےنور نے ان دونوں کو دیکھا پھر زایان سے بولی تمھاری دوست ہے کیا…
زایان مسکرا کر کھوئے ہوئے انداز میں بولا نہیں تو….
آئےنور نے جھجھکتے ہوئے پوچھا تو پھر تمھاری گرل فرینڈ ہے؟؟؟
زایان فوراً ہوش میں آیا توبہ کرو لڑکی میری کوئی گرل فرینڈ نہیں ہے…..
آئےنور اسے چبھتی ہوئی نظروں سے دیکھتے ہوئے بولی یعنی تم فلرٹی ہو…..
زایان نے حیرت سے آنکھیں پھاڑیں تم مجھے ایسا سمجھتی ہو؟؟؟؟
نور کندھے اچکاتے ہوئے بولی اس میں سمجھنا کیا ہے تم ہو…..
زایان نے اسے گھورا تو نور اسکی طرف دیکھ کر بولی ایسے کیا گھور رہے ہو تم فلرٹی ہو تبھی تو آتی جاتی لڑکیوں کو مسکرا مسکرا کر ہائے بولتے ہو…..
زایان بالوں میں ہاتھ پھیرتا ہوا بولا اب لڑکیاں خود ہی لفٹ کرواتی ہیں تو ہم کیا کر سکتے ہیں…..
نور نے اسے دیکھ کر گردن ہلاتے ہوئے چچچچ کیا زایان اتنی سی بھی شرم نہیں آتی نہ تمھے؟؟؟؟
زایان نے اسے دیکھ کر پوچھا کیوں میں ایسا کونسا کام کر رہا ہوں جس میں شرم آئے؟؟؟؟
تم لڑکیوں کو پاگل بنا رہے ہو…..
زایان نے قہقہہ لگایا اور لوٹ پوٹ ہونے لگا نور کی طرف دیکھا اور پھر سے قہقہہ لگایا…..
نور نے چڑتے ہوئے کہا میں نے ایسا کونسا جوک سنایا ہے جو تمھے اتنی ہنسی آرہی ہے…..
زایان ہنسی قابو میں کرتے ہوئے بولا تم نے جوک ہی تو مارا ہے…..
مطلب تمھے سچ میں لگتا ہے کہ میں ان لڑکیوں کو پاگل بنا رہا ہوں…؟
تم نے شاید اب تک یہاں کی کچھ لڑکیوں کو جانا نہیں ہے یہ لڑکیاں دن میں دس بارہ لڑکوں کو پاگل بناتی ہیں اور تم کہہ رہی ہو کہ میں انھے پاگل بنا رہا ہوں….
نور کنفیوز ہوئی کیا مطلب…..؟
زایان اسے سمجھاتے ہوئے بولا مطلب یہ کہ تالی دو ہاتھوں سے بجتی ہے جب تک آپ کسی کو اپنے پیچھے نہیں لگاؤ گے کوئی آپکے پیچھے نہیں لگے گا…..
ان لڑکیوں نے مجھے جانے بغیر میرے ہائے کا مسکرا کر جواب دیا تبھی تو دوسری بار میری ہمت بڑھی اگر وہ مجھے نظر انداز کر دیتیں تو کیا میں دوسری بار ان سے بات کرتا…..؟
میں سب کی بات نہیں کر رہا اب تمھاری ہی بات لے لو کیا تم کسی انجان سے بات کرتی ہو یا انھے دیکھ کر مسکراتی ہوں ؟
زایان نے نور کی آنکھوں میں دیکھا……
آئےنور نے اسکی بات کا جواب دینے کے بجائے کہا….. مطلب تم یہ کہنا چاہ رہے ہو کہ فلرٹ تم نہیں وہ لڑکیاں کر رہی ہیں….
زایان شرارت سے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا نہیں کر تو میں بھی رہا ہوں….
وہ نور کو باتوں میں الجھا رہا تھا اور نور اسکی باتوں سے تنگ بھی آگئی تھی….
نور نے ماتھے پر انگلیاں پھیرتے ہوئے سوچا یا اللہ کہاں پھنس گئی میں؟؟؟
نور مسنوعی مسکراہٹ کے ساتھ دانت پیس کر بولی زایان تمھاری کلاس نہیں ہے….
زایان ببل منہ میں ڈالتے ہوئے بولا ہاں ہے نا….
تو جا کیوں نہیں رہے؟؟؟
میرا بھائی شافع نہیں آیا آج تو میرا دل نہیں لگ رہا کلاس میں اسنے مجھے بتایا ہی نہیں کے وہ آج نہیں آئے گا ورنہ میں بھی نہیں آتا ویسے بھی ہم اب پیپر والے دن آئے گیں،،،
نور نے خوشی سے کہا سچ مطلب ہماری ڈیل کی مدت پوری ہوئی….؟
زایان اسکی خوشی دیکھ کر بولا ہلکے میڈم ہلکے…..
یہ جو پیپر سے پہلے کے کچھ دن میں نہیں آؤں گا ان دنوں کا سارا حساب میں پیپرز میں تم سے پورا کر لوں گا…..
نور کی خوشی اڑ گئی اور جانے کے لئے فوراً کھڑی ہوگئی….
زایان بھی کھڑے ہوتے ہوئے بولا کہاں جارہی ہو؟؟
لائبریری…. زایان اسکے پیچھے آتے ہوئے بولا یار میں بھی چلوں میرا دوست نہیں آیا میں بور ہو رہا ہوں……
نور نے اسے حیرت سے دیکھا زایان حیدر بار ہو رہا ہے بات کچھ ہضم نہیں ہوئی….
زایان بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا نہیں بات بور ہونے کی نہیں ہے بات دل کی ہے….
نور نے اسکی طرف دیکھ کر حیرت سے پوچھا مطلب؟؟؟؟
مطلب کے شافع نہیں آیا نہ تو دل نہیں لگ رہا ورنہ بور تو میں صحرا میں بھی نہ ہوں…..
نور چلتے ہوئے ہی بولی…..
تمھارا دوست جہنم میں گیا ہوگا تم بھی وہیں چلے جاؤ،،،،
زایان اسکے پیچھے آتا ہوا بولا چلو ٹھیک ہے پھر تم بھی چلو میں تمھے جہنم میں چھوڑ کر جنت کی طرف چلا جاؤں گا
پھر تم اور شافع ٹام اینڈ جیری بنے لڑتے رہنا….
نور نے رک کر اسے گھورا زایان اب میرے پیچھے مت آنا تمھے نہیں پتا میرے بیگ میں لال مرچی کا پاؤڈر ہے اور ایک چٹکی ہی تمھاری آنکھ کے لئے کافی ہوگی…..
بولتے ہی نور لائبریری کی طرف بڑھ گئی زایان اسکے پیچھے نہیں گیا پھر سوچتے ہوئے بڑ بڑایا لال مرچی کا ذائقہ بھی اچھا ہی ہوتا ہوگا ویسے کھانوں میں تو اچھا ہی لگتا ہے کسی دن صرف لال مرچیں چکھ کر دیکھوں گا…..
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شافع فریش ہوکر نیچے آیا ناشتہ وغیرہ کر کے وہ بی اماں اور باقی سب کے ساتھ لاؤنج میں بیٹھا تھا……
تہمینہ بیگم بولیں اماں ان ٹوکروں میں کیا ہے اب تو بتا دیں….
بی اماں ایک ٹوکری آگے کرتے ہوئے بولیں ارے ارے بتاتی ہوں…..
پہلے شافع تو اس ٹوکری کو چھو….
شافع نے حیرت سے پوچھا میں اس ٹوکری کو چھوؤں لیکن دادو کیوں اس ٹوکری میں ہے کیا اور یہ اتنی پیک کیوں ہوئی ہے
ارے سوال جواب بعد میں کرنا پہلے جو بولا ہے وہ کر پہلے تو شافع سوچتا رہا جب اسنے دیر لگائی تو بی اماں نے اسکا ہاتھ پکڑ کر ٹوکری پر خود ہی رکھ دیا …..
جو ملازمہ انکے ساتھ آئی تھی اس سے بولیں یاسمین یہ ٹوکری اٹھا کر گاڑی میں رکھ اور ڈرائیور کے ساتھ چلی جا اور جو بولا ہے وہ کر دے نہ…..
ملازمہ انکے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ٹوکری اٹھا کر لے گئی……
تہمینہ بیگم اور شافع حیرت سے دیکھنے لگے ہاں انکے برعکس تیمور صاحب اطمینان سے بیٹھے ہوئے تھے…..
دادو اپنے یہ ٹوکری کیوں بھجاوادی کیا تھا اس میں؟؟؟؟
بی اماں اسکی بات کو ان سنی کر کے دوسرا ٹوکرا کھولنے لگیں…..
ٹوکرے کا آدھا کور کھول کر اس میں سے انھوں سے ایک مخمل کی ڈبیہ نکالی….
تہمینہ بیگم کو شاید خطرے کی گھنٹیاں لگی تھی اسلئے فوراً بولیں اماں……
بی اماں نے نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ مخمل کی ڈبیہ میں سے انگھوٹی نکال کر ایک سیکنڈ میں شافع کی انگلی میں ڈال دی…..
شافع نے حیرت سے آنکھیں پھاڑ کر انھے دیکھا ایک جھٹکے سے کھڑے ہوتے ہوئے بولا یہ انگھوٹی مجھے کیوں پھنائی ہے دادو؟؟؟
تہمینہ بیگم بےبسی سے انھے دیکھ رہی تھیں….
بی اماں مسکرا کر بولیں ارے بھئی تہمینہ مٹھائیوں کے ٹوکرے کھلوا کر سب کا منہ میٹھا کرواؤ میں نے شافع اور ارحام کی منگنی کر دی ہے اور شادی کی تاریخ بھی میں طے کر کے جاؤں گی…..
شافع چینختے ہوئے بولا کیا بکواس ہے یہ سب؟؟؟؟؟
ارے میاں یہ کوئی بکواس نہیں ہے تمھارے نام کی انگھوٹی میں ارحام کو پنھا کر آئی ہوں اور اسکے نام کی انگھوٹی میں نے تمھے پنھا دی…..
تمھارے ہاتھ کا دوپٹہ بھی کچھ دیر میں ارحام کے سر پر ہوگا…..
شافع اپنا حواس کھونے لگا کیا کہہ رہی ہیں آپ کونسا دوپٹہ کونسی منگنی….
بی اماں اطمینان سے بولیں وہی دوپٹہ جس پر کچھ دیر پہلے تم نے ہاتھ رکھ تھا اور وہی منگنی جس کی انگھوٹی تمھارے ہاتھ میں ہے…..
شافع نے اپنے ہاتھ کی طرف دیکھا…..
اور ایک جھٹکے سے وہ انگھوٹی اتار کر زمین پر پھیکی یہ سب بکواس ہے اسطرح کوئی منگنی نہیں ہوتی، میں نہیں مانتا ایسی کسی منگنی یا رشتے کو…..
تیمور صاحب غرائے شافع اماں سے تمیز سے بات کرو…..
بی اماں انگھوٹی اٹھاتے ہوئے بولیں رشتے بڑے ہی طے کرتے ہیں اور اسی میں بہتری ہوتی ہے اب چاہے تم مانو یا نہ مانو منگنی تو ہوگئی ہے اور تمھارے پاس چھ مہینے کا وقت ہے جتنا کاروبار جمانا ہے جما لو
یہ چھ مہینے کا وقت بھی میں نے ارحام کے کہنے پر دیا ہے تا کہ تمھارا یہ غلہ نہ ہو کے مجھے ابھی کاروبار سیٹ کرنا ہے چھ مہینے کا وقت ہے جو کرنا ہے کر لو…..
شافع الٹے قدموں پیچھے جاتے ہوئے بولا آپ لوگ میرے ساتھ زبردستی نہیں کر سکتے یہ سب جو اپنے کیا ہے یہ دھوکا ہے اس طرح رشتے نہیں جڑتے اور شادی تو میں آپ لوگوں کی مرضی سے کبھی نہیں کروں گا یہ بات لکھ لیں آپ…..
بولتے ہی شافع باہر جانے لئے مڑا تھا
بی اماں پیچھے سے بولیں یہ تم بھول جاؤ کے شادی تم اپنی مرضی سے کرو گے تیمور صاحب کی طرف دیکھ کر بولیں خاندان سے باہر ایک کی شادی کر کے دیکھ چکے ہیں
اب ہر دفعہ دھوکا نہیں کھائیں گے…..
شافع لاؤنج کے دروازے سے کچھ فاصلے پر تھا…..
پاس ہی ٹیبل پر ایک کانچ کا گلدان پڑا تھا شافع کی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا گلدان اٹھا کر وہ مڑا اور کھینچ کر لاؤنج میں لگی ایل سی ڈی پر مارا……
گلدان چکنا چور ہوکر زمین پر جگہ جگہ بکھر گیا ایل سی ڈی کی سکرین بھی چکنا چور ہوگئی تھی…..
بی اماں کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں تھیں دل تھام کر وہ وہیں صوفے پر بیٹھ گئیں…..
تہمینہ بیگم دکھ سے شافع کو دیکھ رہی تھیں….
تیمور صاحب غصے میں چینختے ہوئے شافع کی طرف بڑھے….
شافع انگلی اٹھا کر تنبیہہ کرنے والے انداز میں دھاڑا اگر کسی نے میرے ساتھ زبردستی کی یا میری ماں کے بارے میں فالتو بات کی تو میں اس گھر کا بھی یہی حال کروں گا جو اس گلدان اور ایل سی ڈی کا کیا ہے…..
پھر بی اماں کی طرف دیکھ کر بولا آپ اسے ٹریلر ہی سمجھیں…
بی اماں کی آنکھیں پھٹی رہ گئیں تھیں اور تیمور صاحب کے پیر جم گئے تھے….
شافع نے ایک چبھتی ہوئی نگاہ باری باری دونوں پر ڈالی اور باہر چلا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘’
شام ہونے کو آئی تھی موسم میں عجیب سی ویرانی تھی ارحام چائے کے کپ کے ارد گرد انگلی پھیر رہی تھی اور نظر انگلی میں موجود انگھوٹی پر تھی……
اسنے ہاتھ اٹھا کر چہرے کے آگے کیا انگوٹھی کو انگلی سے گھمایا اور آہستہ آہستہ انگلی میں سے انگھوٹی اتاری اور دراز کھول کر اس میں رکھ دی…..
آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے اسنے دل میں کہا تھا رشتے زبردستی نہیں جوڑے جاتے اگر جوڑے جا سکتے تو میں شاید میں بہت پہلے ہی رشتہ جوڑ چکی ہوتی…
وہ آسمان کی طرف ہی دیکھ رہی تھی عائشہ بیگم پیچھے سے آئیں اور ایک دوپٹہ اسکے سر پر ڈال دیا
ارحام نے اس دوپٹے کو حیرت سے دیکھتے ہوئے پوچھا یہ کیا ہے ماما…؟؟؟
عائشہ بیگم خوشی سے چہکتے ہوئے بولیں بی اماں نے شافع کو انگھوٹی پنھا دی ہے اب تو وہ شادی کی تاریخ پکی کر کے ہی آئیں گی…..
ارحام نے دوپٹہ اتار کر گود میں رکھا…..
آپ لوگ زبردستی یہ رشتہ کر رہے ہیں اس میں کوئی خوش نہیں رہ پائے گا…..
عائشہ بیگم چڑ کر بولیں کیوں نہیں خوش رہ پائے گا ارے بڑوں کے فیصلے ہمیشہ صحیح ہوتے ہیں….
ارحام نے انکی طرف دیکھا زبردستی کے فیصلے کبھی صحیح نہیں ہوتے امی…
عائشہ بیگم اسے کچھ بولنے ہی والی تھیں کہ انکی نظر اسکے ہاتھ پر پڑی انگھوٹی کہاں ہے تمھاری؟
ارحام گردن جھکائے ہوئے بولی اتار دی میں نے….
ارے لڑکی منگنی کی انگوٹھی نہیں اتارتے کہاں رکھی ہے؟؟؟
عائشہ بیگم دراز چھاننے لگیں اور ایک دراز میں انھے انگھوٹی مل بھی گئی….
انگھوٹی انھوں نے زبردستی ارحام کی انگلی میں ڈالی اور اسے غصے سے دیکھتے ہوئے بولیں….
جس کو پسند کیا تھا اس سے شادی طے ہو گئی ہے اب کس غم میں یہ سوگ پالا ہوا ہے تم نے؟؟؟؟
ارحام خاموش رہی تو وہ تنگ آکر چلیں گئیں…..
انکے جانے کے کچھ دیر بعد ملازمہ کمرے میں داخل ہوئی تھی…..
بی بی جی چائےٹھنڈی ہوگئی ہے دوسری بنا کر لا دوں؟؟؟
ارحام نے کھڑکی سے باہر لون میں دیکھتے ہوئے کہا چائے تو روز ٹھنڈی ہوتی ہے کب تک چائے بنا بنا کر لاتی رہو گی؟؟؟؟
بی بی جی ایک بات کہوں؟؟؟
ہممم کہو……
بی بی جی مان گئی آپ کی محبت کو اپنے جس سے محبت کی ہے اسے دیکھ کر لگتا ہے وہ بنا ہی محبت کے لئے ہے….
ارحام نے اچانک پلٹ کر اسکی طرف دیکھا کون؟؟؟ کس کی بات کر رہی ہو تم؟
شافع صاحب کی…..
ارحام وآپس پلٹ گئی
ہممم اور جو محبت کے لئے بناہے اسے وہی ملنا چاہیے جو اس سے محبت کرے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شافع رات میں گھر کافی دیر سے آیا جب تک سب سو چکے تھے…..
کمرے میں آکر اسنے دروازہ بند کیا اور کپڑے بدلے بغیر ہی بیڈ پر آکر لیٹ گیا….
اچانک سائڈ ٹیبل پر نظر پڑی تو انگھوٹی رکھی ہوئی نظر آئی….
اسنے ناگواری سے نظریں پھیریں اور آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیا
دماغ میں گڈ مڈ چل رہی تھی کہ یہ اسکے ساتھ ہو کیا رہا ہے؟؟؟
اسے سمجھ نہیں آرہا تھا یہ زندگی اسکی ہے یہ لوگوں کی جو آرہا ہے نیا داؤ کھیل کر جارہا ہے……
اسے کچھ سمجھ نہیں آیا تو زایان کو فون گھما دیا اسنے پورا دن موبائل بند رکھا تھا کسی سے بات نہیں کی تھی یہاں تک کے زایان سے بھی موبائل آن کرنے پر اسے زایان کے کافی میسج ملے تھے لیکن اس وقت اسنے جواب نہیں دیا…..
کافی دیر تک بیل بجنے کے بعد کال اٹھا لی گئی تھی اور کال اٹھاتے ہی نیند میں ہی زایان اس پر برسنا شروع ہوگیا تھا….
تم زندہ ہو یا قبر سے کال کر رہے ہو؟ انسان ایک میسج کا جواب ہی دے دیتا ہے ,,,, زندہ ہے یا مر گیا اتنا ہی بتا دیتا ہے،،،، لیکن تمھے کیا فکر تم تو ہیرو ہو جب دل چاہا فون اٹھایا جب دل نہ چاہا تب نہیں اٹھایا وہ لگاتار بولے جارہا تھا لیکن جب شافع نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا تو وہ چپ ہوگیا
شافع تم سن رہے ہو؟ دوسری طرف سے کوئی آواز نہیں آئی….
شافع……? Are you there
بہت دیر بعد شافع بولا ابھی آسکتے ہو؟ زایان جو لیٹا ہوا تھا اسکی آواز سن کر اٹھ کر بیٹھ گیا شافع تم ٹھیک ہو؟ تمھاری آواز کو کیا ہوا ہے؟؟؟
شافع نے اسکی بات کا جواب دینے کے بجائے کہا تم ابھی آسکتے ہو؟؟؟
زایان بیڈ پر سے اٹھتے ہوئے بولا ہاں بتاؤ تم کہاں ہو میں آرہا ہوں…..
میرے گھر کے سامنے والے روڈ پر……
شافع نے فون رکھ دیا تھا وہ اسی طرح لیٹا ہوا کچھ دیر چھت کو گھورتا رہا پھر اٹھ کر دوبارہ گھر کے باہر آگیا…..
وہ باہر جانے لگا تو چوکیدار نے اس سے پوچھا صاحب آپ اتنی رات میں کہاں جا رہے ہیں وہ بھی پیدل.
تم گیٹ بند کر لو میں تھوڑی دیر میں آرہا ہوں…..
سنسان سڑک پر چلتے ہوئے وہ اپنے گھر کی سامنے والی سڑک پر آگیا تھا رات کے تین بج رہے تھے دور سے کہیں کتوں کے بھونکنے کی آوازیں آرہی تھیں ٹھیک دس منٹ بعد زایان وہاں ہربڑی کے عالم میں پہنچ گیا تھا…..
گاڑی سے اترتے ہی وہ شافع کی طرف لپکا اسے دیکھتے ہوئے بولا تم ٹھیک ہو؟؟؟
شافع نے نفی میں گردن ہلائی…..
زایان اسکا بازو پکڑتے ہوئے بولا کیوں کیا ہوا ہے تمھے؟؟؟
شافع بے بسی سے بولا شاید تھک گیا ہوں…
اسے اسطرح دیکھ کر زایان کو پریشانی ہو رہی تھی یار کیا ہوا ہے تمھے کیوں اسطرح کی باتیں کر رہے ہو انکل کے ساتھ کوئی جھگڑا ہوا ہے؟؟؟
شافع طنزیہ ہنسہ جھگڑا ؟؟؟ انکے اور میرے بیچ جھگڑا توکب کا ختم ہو گیا اب ہمارے بیچ جنگ ہوتی ہے…..
زایان پریشان ہورہا تھا یار کیا ہوا ہے مجھے کچھ بتاؤ گے؟؟؟؟
شافع ڈھینے والے انداز میں زایان کے گلے لگا کچھ دیر اسطرح کھڑے رہنے کے بعد وہ آنکھیں بند کرتے ہوئے بولا دادو نے میری شادی طے کردی ہے ارحام سے…..
زایان کو اپنے آگے پیچھے دھماکے ہوتے ہوئے محسوس ہوئے تھے….
کچھ دیر وہ سن رہا پھر شافع کو خود سے الگ کرتے ہوئے بولا
کیا لیکن یوں اچانک شادی اور ارحام مان گئی؟؟؟؟
شافع آسمان کی طرف دیکھ کر بولا ابھی انھوں نے ارحام کو میرے نام کی انگھوٹی پھنائی ہے چھ مہینے بعد کی شادی رکھی ہے انھوں نے،،،
زایان بھنویں اٹھاتے ہوئے بولا اور تم خاموشی سے شادی کر لو گے؟
نہیں شادی تو میں نہیں کروں گا۔ ۔ ۔
تو پھر ٹینشن کیوں لے رہے ہو؟؟؟
شافع زایان کی گاڑی کے بونٹ سے ٹیک لگا کر بولا ٹینشن نہیں لے رہا
بس ناجانے کیوں خود کو بہت بےبس محسوس کر رہا ہوں ایسا لگ رہا ہے یہ زندگی ہے تو میری لیکن پھر بھی اختیار اور لوگوں کا ہے…..
زایان کی طرف منہ کرکے بولا سب سے زیادہ ہرٹ کرنے والی بات پتا ہے کیا ہے…. میری ہر بات کو وہ لوگ میری ماں سے جوڑ دیتے ہیں، میں کچھ بھی کروں وہ لوگ میری ماں کو برا بھلا کہتے ہیں اور یہ میں ہر گز برداشت نہیں کرسکتا….
زایان نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا…..
شافع زمین کو دیکھتے ہوئے بولا زایان آج مجھے تم سے ایک فیور چاہیے…
زایان فوراً آگے بڑھتے ہوئے بولا ہاں ہاں تم حکم کرو یار
میں تیمور وارثی کا گھر چھوڑنا چاہتا ہوں…..
زایان نے حیرت سے اسے دیکھا کیا مطلب؟؟؟
مطلب میں انکے گھر میں نہیں رہنا چاہتا اب…..
زایان فوراً بولا ٹھیک تم میرے گھر چلو پھر…..
شافع نفی میں گردن ہلاتے ہوئے بولا نہیں میں تمھارے گھر نہیں جاسکتا…..
تم ایسا کیوں بول رہے ہو یار وہ تمھارا بھی گھر ہے تم جانتے ہو ماما بابا تم سے کتنا پیار کرتے ہیں انھے کوئی اعتراض نہیں ہوگا….
شافع اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا میں جانتا ہوں انکل آنٹی کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا لیکن میں پھر بھی تمھارے گھر میں نہیں رہ سکتا….
زایان خفا ہوتے ہوئے بولا لیکن کیوں؟؟؟؟
کیونکہ میں اپنا گھر لینا چاہتا ہوں….
زایان کچھ دیر خاموش رہا اپنا گھر مطلب تم اپنا ذاتی گھر لینا چاہتے ہو؟؟؟؟
شافع نے اثبات میں سر ہلایا…..
لیکن یار ابھی تم کیسے لوگے ؟بزنس ہمارا ابھی اسٹارٹ ہے سب کچھ ہم نے ابھی بزنس میں لگایا ہے انکل کا پیسا تم لوگے نہیں پھر کیسے کرو گے یہ سب؟؟؟؟
شافع خاموش رہا زایان کچھ دیر سوچنے کے بعد بولا یہ کام ہوسکتا ہے لیکن تمھے کچھ مہینے انتظار کرنا پڑے گا….
کتنے مہینے؟؟؟؟
کم سے کم چار پانچ مہینے تب تک ہمارے پاس کم از کم اتنا پیسہ ہوگا کہ ایک گھر لیا جا سکے اور اگر اور پیسوں کی ضرورت پڑی تو میرے بابا تو بیٹھے ہیں نہ……
شافع نفی میں گردن ہلاتے ہوئے بولا میرے پاس اتنی جلدی اتنے پیسے نہیں ہو پائیں گے….
زایان شافع کے گلے میں ہاتھ ڈال کر بولا میں صرف تمھارے پیسوں کی نہیں ہم دونوں کے پیسوں کی بات کر رہا ہوں اور شمس گروپ آف کمپنی والا پروجیکٹ کتنا بڑا ہے تمھے پتا ہے اگر یہ پروجیکٹ کامیاب رہا پھر تو ہمارا بزنس انشاء اللہ بلندیوں پر ہوگا اور پھر ہو سکتا ہے تمھے میرے پیسوں کی ضرورت ہی نہ پڑھے……
شافع فوراً اسکے پاس سے ہٹتے ہوئے بولا میں اتنا خودگرز نہیں ہوں کے تمھارے حصے کے پیسے اپنے سکون کے لئے لگا لوں…..
زایان دانت نکالتے ہوئے بولا میں کونسا تمھے مفت میں پیسے دے رہا رہوں تمھے روز ایک عالی شان سے ہوٹل میں مجھے ڈنر کروانا ہوگا تب پیسے ملیں گے ورنہ بھول جاؤ…..
شافع مسلسل انکار کر رہا تھا زایان نے شافع کی گردن دبوچی اب اگر تم نے اور بکواس کی نہ تو یہیں پر تمھاری گردن توڑ دوں گا
زایان نے شافع کی گردن چھوڑی تو شافع نے زور سے زایان کو گلے لگایا …..
زایان فوراً شرارت سے بولا ارے ارے لوگ کیا سوچیں گے کے آدھی رات کو سنسان سڑک پر دو لڑکے گلے مل رہے ہیں
“ہو ہائے” شافع ہنسہ تھا زایان نے بھی شافع پر اپنی گرفت مضبوط کی…..
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلے کچھ دنوں تک بزنس ڈپارٹمنٹ میں امتحان کے بادل چھائے رہے کچھ اسٹوڈنٹس تو تیاریوں میں اتنے مصروف ہو گئے کہ یونیورسٹی میں ہی نہیں بھٹکے اور جو آتے تھے وہ اپنا سارا وقت لائبریری یا کسی پروفیسر کی نگرانی میں گزارتے….
وہ وہ اسٹوڈنٹس بھی لائبریری میں ملنے لگے جو ایک دن میں ایک ہی سبجیکٹ کی کلاس لیتے تھے…..
امتحانوں سے پہلے سب کے اندر جن گھس گیا تھا جو چاہتا تھا کہ پورے سمسٹر کی پڑھائی چند دنوں میں انکے دماغ میں فٹ کر دے….
وہ اسٹوڈنٹس جو ٹیچر کی بات کو ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکالتے وہ اب ٹیچرز کے پیچھے گھومتے ملتے…..
زایان کا بھی کچھ ایسا ہی حال تھا اسنے اپنے کمرے میں کتابوں اور کھانے کا انبار لگا لیا تھا وہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد کلاس کے کسی اسٹوڈنٹ کو فون کرتا اور پوچھتا کیا کیا یاد کیا ؟ کتنا یاد کیا؟ کیا مجھے یہ ٹاپک یاد کرنا چاہیئے؟ مجھے لگتا ہے یہ والا ٹاپک چھوڑ دینا چاہیے
وہ یاد کم کرتا تھا دوسروں کو پریشان زیادہ کرتا تھا امتحانوں کی ٹینشن ہورہی ہے، ٹینشن ہو رہی ہے کر کر کے وہ ایک ایک گھنٹے میں چپس کے دس دس پیکٹ خالی کر دیتا تھا….
کمرے میں ہر طرف کتابیں ہی کتابیں جیسے وہ تو ٹاپ کرتا ہو آفس وہ صرف دو گھنٹے کے لئے جا رہا تھا اور اس دو گھنٹے میں بھی وہ کام کم باتیں زیادہ کرتا تھا……
جبکہ شافع آفس فل ٹائم کے لئے جارہا تھا اور آفس سے آکر وہ کمرے میں بند ہو جاتا اور پھر آدھی رات تک پڑتا…..
وہ گھر میں کسی سے بات نہیں کر رہا تھا اسنے خود کو کمرے سے آفس اور آفس سے کمرے تک محدود کر لیا تھا…..
سب کے برعکس آئےنور نے یہ دن سکون سے گزارے تھے کیونکہ اسے یونیورسٹی میں نہ زایان تنگ کرنے آرہا تھا اور نہ شافع کی شکل دیکھنی پڑ رہی تھی اسنے یہ دن بہت سکون اور اطمینان سے گزارے تھے….
یہ دن بھی گزر گئے اور امتحان کا دن آگیا اور بزنس ڈپارٹمنٹ والوں کے لئے یہ چند دن پر لگا کر گزرے…..
زایان اور شافع اپنے کلاس کے گروپ سے ساتھ کھڑے تھے پیپر شروع ہونے میں کچھ وقت تھا ہر کوئی کتابوں میں منہ ڈالے بیٹھا تھا
لاسٹ سمسٹر تھا اور کوئی فیل نہیں ہونا چاہتا تھا،،،
زایان کی کلاس کے لڑکے نے ان دونوں کو اطمینان سے کھڑے دیکھا تو ان سے پوچھا تم دونوں کو رویجن نہیں کرنا کیا جو اتنے اطمینان سے کھڑے ہو؟؟
زایان بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا نہیں یار اتنا پڑھ لیا ہے کے بس پاس ہو جائیں گے….
سب کا قہقہہ بلند ہوا تھا پھر ایک لڑکا بولا اچھا زایان کیا کیا پڑھ کر آئے ہو؟؟؟
زایان دانت نکال کر بولا “نماز”
پھر سب کا قہقہہ بلند ہوا تھا…..
زایان شافع سے بولا یار دیکھو کچھ بھی ہو جائے تم نے میری آگے والی سیٹ پر ہی بیٹھنا ہے…..
شافع آنکھیں گھما کر بولا میں تمھارے ساتھ ہی نہ بیٹھ جاؤں
زایان خوش ہوتے ہوئے بولا ہاں یار اس میں برائی تو کوئی نہیں ہے دونوں بھائی مل بانٹ کر پیپر کریں گیں….
شافع اسے کلاس میں لیجاتے ہوئے بولا اگر کھانے سے زیادہ پڑھنے پر دھیان دیا ہوتا تو آج اتنی پلیننگ نہیں کرنی پڑتی تمھے زایان منہ بناتے ہوئے بولا اچھا اب تم بھی ایسی باتیں کرو گے….
شافع نے ہنستے ہوئے اسکے گلے میں ہاتھ ڈالا اچھا اب چلو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زایان نے پیپر کرنے کے دوران شافع ،،،، شافع میری طرف دیکھ بھائی ،کوپی سائڈ پر کر بھائی، نظر نہیں آرہا بھائی، بڑا بڑا لکھ بھائی کر کے گزارا تھا…..
اور جب اس سے کوئی کچھ پوچھتا تو وہ اشارہ سے بولتا “پڑھ کر آنا تھا”
پیپر دے کر باہر نکلے تو زایان لمبی لمبی سانسیں لینے لگا شافع نے حیرت سے پوچھا کیا ہوا ٹھیک تو ہو..
زایان اپنی نبض چیک کرتے ہوئے بولا چیک کر رہا ہوں کہ مجھے سانس آرہی ہے یا نہیں….
شافع پیپر ہماری کتاب میں سے ہی آیا تھا نہ؟ اور اگر آیا تھا تو کونسی کتاب میں سے آیا تھا؟؟؟؟
وہ شافع سے اپنے دکھڑے رو رہا تھا جب انکے گروپ کا لڑکا فاحد انکے پاس آیا
اور بھئ پیپر کیسا آیا تھا…..
زایان ہاتھ کو ناپ کر بولا اتنا لمبا آیا تھا… فاحد نے شرمندگی سے بولا میرا مطلب ہے سوال کیسے تھے؟؟
زایان منہ بناتے ہوئے بولا سوال تو بہت اچھے تھے لیکن انکے جواب کیا تھے وہ سمجھ نہیں آرہے تھے…..
فاحد نے کوفت سے سر پر ہاتھ مارا….
شافع ہنستا ہوا بولا تم اسکو چھوڑو اب اسکا روز کا یہی ڈرامہ ہوگا…
زایان نے اسے گھورا…..
فاحد ان دونوں سے بولا کیفے چل رہے ہو؟؟؟
شافع نے کہا ہاں ہم بھی وہیں جا رہے تھے چلو…
وہ لوگ چلنے لگے تو زایان بولا تم لوگ چلو میں تھوڑی دیر میں آرہا ہوں…
شافع نے بھنویں اٹھاتے ہوئے پوچھا کہاں جا رہے ہو؟؟؟
میں وہیں جا رہا ہوں جہاں تم نہیں جاؤ گے….
شافع نے آنکھیں گھمائیں وہ سمجھ گیا تھا کہ وہ نور کی جیب خالی کرنے جارہا ہے….
شافع اور فاحد کیفے چلے گئے زایان نور کے ڈپارٹمنٹ آگیا…..
لیکن اسے نور نہیں ملی….
نور کی کلاس کی ہی ایک لڑکی سے اسنے نور کا پوچھا تو اسنے بتایا کہ وہ مس فرحانہ کے آفس گئی ہے…..
زایان آفس کی طرف چلا گیا باہر بینچ پر بیٹھی اسے نور نظر آگئی…..
زایان اسکے سامنے آکر کھڑا ہوا
نور نے گردن اٹھا کر اسے دیکھا…..
اسلام وعلیکم زایان نے اسے سلام کیا….
وعلیکم اسلام نور نے اسکے سلام کا جواب دے کر گردن واپس اپنی کھولی ہوئی کتاب ہر جھکا لی….
زایان اسکے برابر میں کچھ فاصلے پر بیٹھ کر بولا یہاں کیوں بیٹھی ہو؟؟؟؟
نور کتاب کے صفحے پلٹتے ہوئے بولی مجھے ایک ٹاپک سمجھ میں نہیں آرہا وہی سمجھنے آئی ہوں لیکن ابھی لنچ چل رہا ہے….
نور نے کوفت سے نظریں گھماتے ہوئے زایان کی طرف دیکھا…..
زایان نے اسکے ہاتھ سے کتاب لیتے ہوئے پوچھا کونسا ٹاپک ہے…..
نور نے پین کے اشارے سے اسے بتایا….
زایان کچھ دیر اس ٹاپک کو گھورتا رہا پھر بولا میں سمجھا دوں گا آتا ہے مجھے….
نور کی ہنسی چھوٹی تم سمجھاؤ گے….
زایان نے اسے گھورا تمھارا سینئر ہوں تم نے کیا مجھے اتنا ڈفر سمجھا ہوا ہے….
نور نے ہنسی دباتے ہوئے منہ ہی منہ میں کہا اس میں سمجھنے والی کیا بات ہے وہ تو تم ہو…..
کچھ کہا تم نے؟؟
نور فوراً سیدھی ہوتے ہوئے بولی نہیں تو….
ہممممم
تم رہنے دو میں ٹیچر سے پوچھ لوں گی….
زایان اٹھتے ہوئے بولا ٹیچرز کا لنچ دو گھنٹے تک چلتا ہے اور میرے پاس اتنا فالتو ٹائم نہیں ہے کہ میں تمھارا انتظار کروں….
نور کھڑے ہوتے ہوئے بولی تو تمھے کس نے کہا ہے میرا انتظار کرو….
مجھے تمھارا انتظار کرنے کا کوئی شوق نہیں ہے لیکن آپ کو بہت دن کی رعایت مل چکی ہے
اب کینٹین چلو اور جو جو میں بولوں گا سب منگوانا پڑے گا وہیں میں تمھے یہ ٹاپک بھی سمجھا دوں گا….
زایان جانے کے لئے پڑا تو نور نے دانت مسمساتے ہوئے زایان کو کھا جانے والی نظروں سے گھورا…..
