Izhar-e-Muhabat by Anooshe NovelR50417 Izhar-e-Muhabat Episode 2
Rate this Novel
Izhar-e-Muhabat Episode 2
Izhar-e-Muhabat by Anooshe
کمرے میں چارو طرف اندھیرا تھا۔ ۔ ۔ وہ بیڈ پر چت لیٹا سورہا تھا نیند میں تھوڑی تھوڑی دیر بعد وہ بے چینی سے بیڈ پر ہاتھ مار رہا تھا۔ ۔ ۔
اور کچھ بڑبڑا بھی رہا تھا الفاظ واضح نہ تھے،،،،،،،
یکدم وہ کسی کا نام لے کر اٹھ بیٹھا
سانسیں بے ترتیب ہورہی تھیں دل اتنی زور سے دھڑک رہا تھا کہ کمرے کی خاموشی میں دھڑکنوں کی آواز وہ واضح سن سکتا تھا۔۔۔
اسنے ہاتھ بڑا کر لیمپ آن کیا،
ہاتھ سے ماتھے پر آئے ہوئے پسینے کو صاف کیا ایک لمبی سانس لے کر خود کو نارمل کرنا چاہا۔ ۔ ۔
لیکن اسکا کمرے میں دم گھٹ رہا تھا
وہ خود کو نارمل نہیں کر پارہا تھا وہ بیڈ پر سے اٹھ کر کمرے کے ساتھ بنی چھوٹی سی بالکونی میں آگیا تازہ ہوا نے جب چہرے کو چھوا تو جیسے ایک سکون کا احساس ہوا ۔ ۔ ۔ ۔
قریب ہی نہر کے پانی کا ہلکا سا شور جیسے اسے سکون پہنچا رہا تھا وہ یہاں آکر ان ہی کیفیات کا شکار ہوا کرتا تھا
اسنے بالکونی کے لکڑی کے تختے پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ کر گردن جھکالی اسکی آنکھ سے آنسوں کا ایک قطرا نکل کر اسکے ہاتھ کی پشت پر گرا تھا
کافی دیر تک وہ چپ رہا کچھ دیر بعد صرف ایک جملہ کہا تھا۔ ۔ ۔ !
“میرا درد کم نہیں ہوتا “
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*
ارمینہ بیگم کچن میں مصروف تھیں آئےنور گھر پہنچی تو سیدھا انکے پاس کچن میں آگئ
اسّلامُ و علیکم ۔ ۔ ۔!
وعلیکم اسّلام.
یہ چہرا کیوں بجھا ہوا ہے کام نہیں ہوا کیا؟ انھوں نے آئےنور کو بغور دیکھتے ہوئے کہا . ۔ ۔
آئےنور نے پاس رکھی کرسی پر بیٹھ کر چھت کو گھورتے ہوئے کہا۔ ۔ ۔ ۔
میرے کام کبھی وقت پر ہوئے ہیں جو آج ہوجاتا؟
کیا ہوا ہے کیوں ایسی باتیں کر رہی ہو . ۔ ۔ ۔ ؟
ارمینہ بیگم پریشان ہو کر اسکے پاس آکر بیٹھ گئیں تھی۔ ۔ ۔ ۔
کچھ نہیں بس آپ تو جانتی ہے نہ ہر جگہ سفارش اور پیسہ چلتا ہے،،،،،مجھے وہاں اسکالرشپ پر ایڈمیشن کبھی نہی ملے گا ماما اور بابا میرٹ پر ایڈمیشن کروائیں گے نہیں،
ارمینہ بیگم نے اسکے ہاتھوں پر ہاتھ رکھ کر مایوسی سے کہا،،،،،،
تم تو جانتی ہونا اپنے بابا کو کتنی مشکلوں سے تو تمھے انھوں نے یونیورسٹی میں پڑھنے کی اجازت دی ہے۔
جی ماما میں بابا کے مزاج کو بہت اچھے سے جانتی ہوں۔ آپ یہ سب چھوڑیں کھانا لگائیں، پھر ساتھ میں کھاتے ہیں وہ اسکارف کھولتے ہوئے اٹھ گئی.
اسنے ماں کو اداس دیکھ کر بات بدل دی تھی اسے سب برداشت تھا لیکن ماں کی اداسی اور غم نہیں۔ ۔ ۔ ۔
ارمینہ بیگم ایک گورنمنٹ اسکول کی ٹیچر رہ چکی تھیں. اور اب ریٹائرمنٹ کے بعد گھر پر ہی ہوتی تھیں۔ ۔ ۔
صدیقی صاحب ایک فرم میں اچھی پوسٹ پر ملازمت کر رہے تھے. مزاج کے خاصے گرم آدمی تھے۔ ۔ ۔
آئےنور انکی ایکلوتی بیٹی تھی
لیکن انھے بیٹے کی خواہش تھی ۔ ۔ ۔
وہ آئےنور سے پیار تو کرتے تھے لیکن بیٹا نہ ہونے کی وجہ سے ہمیشہ اکھڑے رہتے۔
بات بے بات پر غصہ کر جاتے ۔
وہ آئے نور کے یونیورسٹی میں داخلے کے لئے راضی نہیں تھے۔
اور اس یونیورسٹی کی فیس بھی کچھ زیادہ ہی تھی تو وہ اور نہیں مان رہے تھے
وہ اسکی شادی کرا دینا چاہتے تھے آئےنور نے بہت منت سماجت سے انھے راضی کیا تھا لیکن انھوں نے کچھ شرائط رکھ دی تھیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*
زایان مارکس شیٹ کو ہاتھ میں لئے بیڈ پر لیٹا سوچوں میں گم تھا پھر خود ہی بڑ بڑانے لگا۔ ۔ ۔
زایان بیٹا کھانے کے چکر میں ذمہ داری تو لے لی۔ ۔ ۔
لیکن یہ کام اتنا آسان نہیں ہے کیونکہ، تمھارے کارنامے تو ایسے ہے ہی نہیں کے تم ماموں یا بابا سے بات کرو اور کام ہو جائے۔
ماموں نے تو میری بات سننے سے پہلے ہی انکار کر دینا ہے.
وہ خود سے ہی باتوں میں مصروف تھا
پھر کچھ سوچنے لگا اچانک آنکھوں میں چمک نمودار ہوئی،،،،،
چٹکی بجاتے ہوئے بیڈ سے اٹھا جیسے شیطانی دماغ میں ترکیب آگئی ہو۔ ۔ ۔ ۔
زایان نے موبائل اٹھا کر اون کیا تو اسکرین پر تصویر جگمگا رہی تھی۔ ۔ ۔ ۔
میری جان تم کب اپنے جگر کے کام آؤ گے۔ ۔ ۔
اسنے سکرین پر پیار کرنے کے لئے ہونٹ رکھے اور پھر ایک جھٹکے سے موبائل بیڈ پر پھینک کر ہونٹوں پر ہاتھ رکھا ……
“توبہ ہے موبائل تو ایسے گرم ہورہا ہے جیسے اپنے اوپر روٹیاں سیکھنی ہو”
بتمیز ۔ ۔ ۔ !
اسنے موبائل کو اٹھا کر غصے سے دیکھا تھا اور پھر باہر کی طرف چل دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*
جی ماما میں ائیر پورٹ کےباہر ہوں،،،، جی میٹنگ اچھی رہی، کچھ دیر میں گھر پہنچ جاؤں گا۔ ۔ ۔
اللہ حافظ۔ ۔ ۔ !
شافع نے موبائل کان سے ہٹا کر کیب کا دروازا کھولا ہی تھا کہ، کوئی بہت زور سے اسکی پیٹھ پر جھپٹا تھا ۔ ۔ ۔
شافع نے فوراً اس کی گردن کو بازو میں زور سے دبوچا۔ ۔ ۔
ارے شافع میں ہوں چھوڑ یار مارے گا کیا؟؟؟؟
شافع نے گرفت ڈھیلی کری تھی وہ فوراً اسکے بازو میں سے نکل کر سامنے آیا تھا،،،،،
جان سے مارو گے کیا سارا ہئیر سٹائل خراب کردیا اتنی محنت سے بنایا تھا۔
زایان اپنے بالوں پر ہاتھ پھیر کر منہ بناتے ہوئے بولا۔ ۔ ۔
شافع نے پہلے حیرت سے آنکھیں پھاڑی پھر زایان کے پیٹ میں ہلکا سا گھونسا مار کر کہا
تم یہاں کیا کر رہے ہو؟
اور زایان جواب میں اتنی زور سے چیخھا تھا کے آس پاس سے گزرتے ہوئے کچھ لوگ انکی طرف متوجہ ہوگئے،،،،
شافع نے سب کو نظر انداز کر کے زایان کو کھینچ کر زور سے گلے لگا لیا تھا زایان نے بھی مضبوطی سے شافع کے گرد بازو پھیلا دیئے تھے،،،،،، صحیح ہے بھائی
” پہلے گردن توڑو، پھر مکّا مارو اور پھر اسطرح گلے لگا کر پسلیاں توڑ دو”،،،
شافع نے الگ ہوتے ہوئے کہا زیادہ ڈرامے نہ کرو۔ ۔ ۔ ۔ ۔
“ہاں تم پیار پیار میں ہمیں توڑ پھوڑ دو اور ہم ڈرامے بھی نہ کریں”
،،،،، زایان نے آنکھیں گھماتے ہوئے کہا
دونوں نے ایک زور دار قہقہہ لگایا تھا ۔ ۔
تم یہ بتاو تم یہاں کیسے ؟ شافع نے زایان کے بازو پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا تھا
وہ دراصل ایک لڑکی ہے اسے لینے آیا تھا لیکن اب وہ مل نہیں رہی۔ ۔ ۔
ظاہر سی بات ہے تمھے لینے آیا تھا زایان نے جتاتے ہوئے کہا.
میرا مطلب ہے تمھے تو میں نے بتایا نہیں تھا کہ میں آج آرہا ہوں پھر تمھیں کیسے پتا چلا ؟
بس دیکھ لو “دل کو دل سے راہ ہوتی ہے” زایان نے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔ ۔ ۔
مجھے پتا ہے ماما نے بتایا ہوگا
اچھا سنو زایان نے سنجیدگی سے کہا تھا
نہیں میں کچھ نہیں سن رہا میں تمھے کچھ کھلانے کے موڈ میں نہیں ہوں جو کھانا ہے گھر جاکے کھانا چلو شاباش شافع نے زایان کی گاڑی کے طرف جاتے ہوئے کہا تھا۔ ۔ ۔
بہت برے ہو یار تم تو
بندہ بغیر بولائے ایئرپورٹ لینے آیا ہے یہ نہیں کہ کم سے کم جوس ہی پلا دے۔ ۔ ۔
سب گھر جاکر پینا ماما انتظار کر رہی ہوں گی شافع نے مڑے بغیر کہا تھا،،،،،،،،
اچھا تم چلو میں چپس اور جوس لے کر آتا ہوں،،،
شافع گاڑی میں بیٹھ گیا تو کچھ دیر بعد زایان گاڑی میں آکر بیٹھا تو ہاتھ میں تین چپس کے پیکٹ اور دو کین لئے ہوئے تھا،،،
دو پیکٹ ڈیش بورڈ پر رکھے گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے ایک پیکٹ کھول لیا …..
شافع نے کین لینے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو زایان نے حیرت بھری نظروں سے شافع کی طرف دیکھا
کیا ؟؟؟؟؟؟؟؟؟
تم تو گھر جاکر کھاؤ گے پیو گے نا
اچھا تو تمھے ابھی اور پٹنا ہے شافع نے مکّا بناتے ہوئے زایان کی طرف دیکھا تھا
اچھا اچھا دیتا ہوں بھائی تم تو خون خرابا کرنے پر تلے ہوئے ہو زایان نے ایک کین شافع کی طرف بڑھا دیا تھا۔ ۔ ۔
زایان نے گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے جیب میں سے والٹ نکال کر شافع کی طرف بڑھایا شافع نے سوالیہ نظروں سے زایان کی طرف دیکھا
زایان نے دانت نکالتے ہوئے کہا رکھ لو تمھارا ہی ہے
اور اگلے لمحے زایان شافع کے موکّے کا حقدار بنا تھا. ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*
آئےنور نے اون لائن فورم بھر کرکے جما کر دیا تھا.
اب وہ بیڈ پر لیٹی سوچوں میں گم تھی امید اسے ذرّہ بھر بھی نہیں تھی بس ایک خواہش تھی اور بہت ساری دعائیں تھی کہ کاش معجزہ ہوجائے
لیٹے لیٹے اسے اپنی ایک کلاس فیلو یاد آگئی،،،،،
وہ لوگ کینٹین میں بیٹھےبات کر رہے تھے
جب اسکی دوست نے آئےنور سے پوچھا؟
نور تم کس یونی میں ایڈمیشن لو گی
نور نے یونیورسٹی کا نام بتایا تو اسکی دوست نے کہا…..
اس یونیورسٹی میں تو میرے بابا آسانی سے ایڈمیشن کروا دیں گے میرا لیکن مجھے یہ یونیورسٹی پسند نہیں ہے ۔ ۔ ۔
میں ماسٹرز باہر جاکر کروں گی…..
آئےنور کو پتا تھا وہ کہیں بھی ایڈمیشن لے سکتی ہے اسکے بابا بہت بڑے آدمی تھے
پھر اسے اپنے گھر کام کرنے والی بوا یاد آئی ایک دن وہ اپنے نئے شوز اور کپڑے نکال کر انھے دے رہی تھی تب انکے چہرے پر کتنی والہانہ خوشی تھی جب کے نور کو وہ کپڑے اور شوز ایک آنکھ نہ بھائے تھے
پتاہے………… …………………….!
” انسان کو پتا بھی نہیں ہوتا کہ جو چیز ہمارے لئے اہم ہے وہ دوسروں کے لئے کتنی معمولی ہے
اور ہمیں بھی یہ نہیں پتا ہوتا جو چیز ہمارے لئے معمولی ہے وہ کسی اور کے لئے کتنی اہم ہے”
نور نے خود سے سرگوشی کی۔ ۔ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*
وہ لوگ کھانے کی میز پر بیٹھے کھانا کھا رہے تھے ماحول کھاسا گرم محسوس ہورہا تھا۔
تہمینہ بیگم کچھ نہ کچھ اٹھا کر شافع اور زایان کی پلیٹ میں ڈال رہیں تھیں،،،،،،
کھانا خاموشی سے کھایا جارہا تھا کوئی کسی کی طرف متوجہ نہیں تھی
اور زایان تو ایسے معصوم بن کر کھانا کھا رہا تھا جیسے اسنے اپنے اندر کے ندیدے شیطان کو نیند کی گولیاں کھلا کر سولایا ہو.
خاموشی کے طویل وقفے کے بعد یہ خاموشی تہمینہ بیگم نے ہی توڑی زایان بیٹا اب تو لاسٹ سمسٹر چل رہا ہے تم لوگوں کا تو پڑھائی مکمل کرنے کے بعد کیا اردہ ہے؟
اگر سامنے تیمور علی وارثی نہ بیٹھے ہوتے تو وہ کہتا ارادہ کیا کرنا ہے آنٹی
پڑھائی ختم ہو جائے بس پھر
“گھومیں گے ، پھریں گے ، ناچیں گے ، گائیں گے ، عیش کریں گے اور کیا”
لیکن اسنے نہایت ہی مہذب لہجے میں جواب دیا
آنٹی بس پڑھائی ختم ہو جائے تو انشاء اللہ بزنس سیٹ کرنے کی سوچوں گا انکل کی طرح بڑا بزنس مین جو بن نہ ہے اسنے مسکراتے ہوئے تیمور صاحب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا
انھوں نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا تھا وہ خاموشی سے کھانے میں مصروف تھے
یہ ہو سکتا ہے “پی ایچ ڈی” کے لئے باہر چلا جاؤں۔ ۔ ۔
شافع نے نظریں گھما کر زایان کو دیکھا جیسے بول رہا ہو اوہو ہو “پی ایچ ڈی” واہ ہ ہ ہ
زایان کی مسکراہٹ گہری ہو گئی
ہممم اچھی بات ہے تیمور صاحب مخاطب ہوئے تھے انسان کو زندگی میں کچھ بننا ہوتا ہے تو محنت کرنی پڑتی ہے
اعلیٰ تعلیم حاصل کرنی پڑتی ہے
“اپنے بڑوں کی سننی ہوتی ہے”
انھوں نے لفظوں پر زور دیتے ہوئے شافع کی طرف دیکھا
شافع نے چمچہ منہ کی طرف بڑھایا تھا پھر وآپس پلیٹ میں رکھ دیا تھا
ایک چبھتی ہوئی نظر تیمور صاحب پر ڈال کر وہ ٹیبل سے اٹھ کر وہاں سے چل دیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*
یہ سب پہلی بار تو نہ ہوا تھا۔
تیمور علی وارثی اور شافع دونوں باپ بیٹے کے آپس میں تعلقات کچھ خاص نا تھے ،،،،، اور کیونکہ زایان ، شافع کے بچپن کا دوست تھا تو یہ بات اس سے ڈھکی چھپی ہوئی بھی نہیں تھی ۔
“تیمور علی وارثی کاروباری دنیا کا جانا مانا نام “
تیمور صاحب کا نام شہر کے چند بڑے اور کامیاب بزنس مین میں شمار کیا جاتا تھا .
ماضی میں وہ سیاست سے بھی منسلک رہ چکے تھے
لیکن اب سیاست چھوڑ کر وہ صرف کاروباری دنیا سے منسلک تھے لیکن پھر بھی سیاسی سرگرمیوں میں پیش پیش نظر آتے تھے۔ ۔ ۔ ۔
تیمور وارثی دو بھائی ہیں انکا بھائی انکی ماں کے ساتھ گاؤں میں رہتا ہے،،،،،
گاؤں میں انکی اپنی حویلی ہے کئی ایکڑ زمینیں آباد ہیں کچھ پھل اور میوں کے باغ ہیں جہاں سے پھل اور میوے شہر میں لاکر فروخت کئے جاتے ہیں یہ سارے معاملات انکے بھائی کے ذمے ہیں۔ ۔ ۔
تیمور علی وارثی “ایک اور ایک دو نہیں ایک اور ایک گیارہ” بنانے کے فارمولے پر یقین رکھتے ہیں
کب ،کہاں ،کون ،انھے کتنا فائدہ اور نقصان پہنچا سکتا ہے وہ بہت اچھے سے جانتے ہیں٬٬٬٬٬٬
پیسے کمانا انکا شوق نہیں انکا جنون ہے اور وہ شافع سے بھی یہی امید رکھتے ہیں.
لیکن شافع بڑے مزے سے انکی امیدوں پر پانی پھیر دیتا ہے.
دونوں باپ بیٹے میں جیسے شروع سے چھتیس کا آکڑا ہے۔ ۔ ۔ ۔
تیمور صاحب شافع کو اپنے حساب سے چلانا چاہتے ہیں وہ اسے بھی پیسا بنانے کے کھیل میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔
لیکن شافع انکے کسی بھی حکم کی پیروی کرنے کے بجائے اسکا الٹ ہی کرتا ہے۔ ۔ ۔
انھوں نے کبھی شافع کی خواہشوں کا مان نہیں رکھا۔ ۔ ۔
شافع نے گانے کو ہمیشہ شوق تک ہی محدود رکھا کبھی اسے پیشہ بنانے کا نہیں سوچا لیکن کبھی وہ کالج یہ یونیورسٹی وغیرہ کے کنسرٹ میں گا لیتا تو وہ دن شافع کے ذلیل ہونے کا دن ہوتا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
شافع نے فوج میں جانے کی خواہش ظاہر کی تو انھوں نے اسے ایک طویل لیکچر سے نواز دیا ۔ ۔ ۔ ۔
تمھے کیا لگتا کے میں تمھے اسلئے اتنا پڑھا لکھا رہا ہوں،، اسلئے تم پر اتنا پیسہ لگا رہا ہوں،،،کہ تم حب الوطنی دیکھاؤ
فوج میں جاؤ اور بھری جوانی میں شہید ہو جاؤ تم میرے ایکلوتے بیٹے ہو اور یاد رکھو جیسا میں چاہوں گا تم ویسا ہی کرو گے۔ ۔ ۔ ۔
حب الوطنی کا اتنا ہی شوق ہے تو سیاست میں آجاؤ
پارٹی جوائن کرو ناکہ سرحدوں پر تپتی دھوپ میں خاک چھانو فوج میں جاکر اس ملک کے لئے جتنا بھی کر لو گے اپنے ہی لوگوں سے گالیاں کھاؤ گے
تیمور وارثی کی باتیں سن کر شافع کو اپنے اندر شعلے اٹھتے محسوس ہوئے تھے ضبط سے اسکی کان کی لویں تک سرخ ہوگئ تھی
شافع نے انکی طرف چبھتی ہوئی نگاہ ڈالی اور انکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا۔ ۔ ۔ ۔
آپ کتنے کم ظرف ہیں یہ تو مجھے پتا ہی تھا لیکن آپ کی سوچ کتنی گھٹیا ہے یہ مجھے آج پتا چلا ہے
اور اگلے لمحے تیمور شاہ نے چیخھتے ہوئے شافع کے منہ پر تھپڑ دے مارا تھا ،،،،،،،،،
اسی دن کے لئے تم پر اتنا پیسا لگایا کہ تم مجھے ہی گھٹیا اور کم ظرف کہو تیمور وارثی دھاڑے تھے
ہو تم اپنی ماں کی طرح نمک حرام ۔ ۔ ۔ ۔
“میری ماں کے بارے میں ایک الفاظ مت کہیے گا تیمور صاحب”
اسنے شہادت کی انگلی کو اٹھاتے ہوئے تنبیہہ کرنے والے انداز میں کہا تھا….
ایک لفظ برداشت نہیں کروں گا میں اپنی ماں کے لئے
یہ بولتے ہی وہ وہاں رکا نہیں تھا باہر نکل گیا تھا
شافع،،، تیمور صاحب سے نفرت بچپن سے ہی کرتا تھا لیکن تلخ کلامی کی شروات آج ہوئی تھی اور اب ساری عمر جاری رہنی تھی
جس طرح تیمور صاحب نے شافع کی خواہشوں کو اپنی انا کے آگے روندا تھا اسی طرح پھر شافع نے بھی انکی ہر بات کا الٹ کرنے کی ٹھان لی تھی۔ ۔ ۔ ۔
وہ چاہتے تھے شافع باہر جاکر پڑھے شافع نے زایان کے ساتھ یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا تھا۔ ۔ ۔،،،،،،
وہ چاہتے تھے شافع سیاست میں دلچسپی لے شافع نے سیاست کے “س” کو سمجھنے سے ہی منا کر دیا،،،،،
وہ چاہتے تھے شافع پڑھائی مکمل ہونے کے بعد انکا بزنس سمبھالے لیکن شافع نے پڑھائی پوری کرنے کے بعد اپنا بزنس جمانے کا سوچ لیا تھا جس کی تیاری وہ ابھی سے کر رہا تھا۔ ۔ ۔ ۔
تیمور صاحب نے کچھ اور بھی سوچ رکھا تھا اور انھے پتا تھا وہ انکی اس بات کا بھی کچھ الٹ ہی کرے گا۔ ۔ ۔ ۔
نفرتوں کا پھاڑ کم ہونے کے بجائے دن با دن بڑھتا ہی گیا تیمور علی وارثی اپنی انا کے پکّے تھے جھکنا انھوں نے سیکھا نہیں تھا ۔ ۔ ۔ ۔ تو پھر شافع بھی انھی کا بیٹا تھا ۔ ۔ ۔ ۔
شافع کی ان سے نفرت کی وجہ کچھ اور بھی تھی خواہشیں تو محض بہانا تھیں اور وہ وجہ کیا تھی وہ صرف شافع اور وہ ہی جانتے تھے،،،،،
شافع کے اٹھکے چلے جانے کے بعد زایان کو اپنا وہاں بیٹھنا معیوب لگا اسلئے وہ بھی معذرت کر کے باہر چلا
