Izhar-e-Muhabat by Anooshe NovelR50417

Izhar-e-Muhabat by Anooshe NovelR50417 Izhar-e-Muhabat Episode 27

219.9K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Izhar-e-Muhabat Episode 27

Izhar-e-Muhabat by Anooshe

نور اسے آنکھیں دکھاتے ہوئے بولی میں بہانے بنا رہی ہوں ؟ تو ٹھیک ہے کھڑے رہو یہیں جب کوئی آئے گا اور گن پوائنٹ پر تمھاری یہ عالیشان سی گاڑی، گھڑی، موبائل، والٹ اور باقی سب لے جائے گا تو پھر مزے سے اس روڈ پر ٹینٹ لگا کے بیٹھے رہنے…. شافع ہنسا تم مجھے ہلکا لے رہی ہو نور تمھے لگتا ہے شافع وارثی کی گاڑی کوئی اتنی آسانی سے چوری کر سکتا ہے؟ شافع نے گاڑی اسٹارٹ کی نور آنکھیں گھما کر بولی تم اوور کونفیڈنس ہورہے ہو… اور یہ تمھاری پرانی عادت ہے…

شافع نے اسے گھورا میں اوور کونفیڈنس نہیں ہورہا میری گاڑی میں ٹریکر لگا ہوا ہے یہ جہاں جہاں جائے گی مجھے پتا چل جائے گا، اور میرے پاس……. شافع اچانک روکا اور اسکی طرف گھومتا ہوا بولا،،،، ایک منٹ ایک منٹ تم نے کیا کہا میری پرانی عادت ہے اوور کونفیڈنس ہونے کی آپ ذرا بتانا پسند کریں گی کہ میں کب اوور کونفیڈنس ہوا ہوں…. نور نے دانتوں تلے زبان دبائی اسنے غلط وقت پر غلط بات کہہ دی تھی…

وہ فوراً کندھے اچکا کر بولی میں نے بس ایسی کہہ دیا شافع نے اسے گھورا تو نور فوراً نظریں چرا کر باہر دیکھنے لگی شافع اسے دیکھ کر مسکرایا….

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دس بجے کے قریب وہ لوگ گاؤں میں داخل ہوئے اور حویلی گاؤں کے شروع میں ہی تھی نور ہر چیز کو بڑی دلچسپی سے دیکھ رہی تھی وہ آج سے پہلے کبھی گاؤں تو کیا ایک شہر سے دوسرے شہر بھی نہیں گئی تھی… شافع نے صحیح کہا تھا نور نے جو سب سوچا ہوا تھا وہاں ویسا نہیں تھا سڑکیں بنی ہوئی تھیں گھر کچھ کچے تھے تو کچھ پلے آس پاس سے گاڑیاں بھی گزر رہی تھیں اور تانگے بھی، اور ہر طرف ہریالی ہی ہریالی تھی جیسے دیکھ کر تازگی کا احساس ہوتا تھا…. شافع نے گاڑی حویلی کی طرف موڑی تو نور نے بیتابی سے پوچھا کیا ہم پہنچ گئے؟ شافع نے سپاٹ چہرے سے اثبات میں گردن ہلا کر ہاتھ سے اشارہ کیا نور نے اسکے ہاتھ کی سمت میں دیکھا اسے دور سے ہی حویلی نظر آگئی تھی…. نور کے منہ سے پہلا لفظ جو نکلا وہ تھا “واؤ” شافع ہلکا سا مسکرایا،،، گاڑی حویلی کے قریب آئی تو دروازہ کھول دیا گیا،،، شافع نے گاڑی اندر لے لی نور کا حیرت کے مارے منہ کھل گیا ڈھائی سو تین سو گز کا تو صرف لان تھا جس کے بیچ میں سے گاڑی کے گزرنے کا راستہ بنایا گیا تھا، نور نے آگے ہو کر سر اٹھایا اور حویلی کو دیکھنے لگی…. حویلی باہر سے صرف وائٹ اور براؤن رنگ کی تھی حویلی کے بائیں جانب سے الگ سے بڑی سی ترچھی اشکال میں سیڑھیاں بنی ہوئیں تھی تو شاید چھت کی طرف جاتی تھیں،،، نور کو لگا تھا کہ وہ کوئی خستہ حال پرانی سی حویلی ہوگی لیکن حویلی کو دیکھ کر پتا چل رہا تھا کہ یہ پرانی تو ہے لیکن خستہ حال نہیں یہاں وقتاً فوقتاً مرمت کروائی جاتی رہی ہے شافع نے گاڑی روکی لیکن نور حویلی دیکھنے میں اتنی مصروف تھی کہ گاڑی رکنے کا اسے پتا ہی نہیں چلا…. شافع نے اسکے آگے چٹکی بجائی تو وہ چونکی شافع اسکی طرف دیکھ کر بولا اس حویلی کی خوبصورتی میں مت کھونا نور گھر جتنے بڑے ہوں اسکے پیچھے اتنے ہی بڑے راز ہوتے ہیں…. نور نے مسکراتے ہوئے نفی میں گردن ہلائی میں ایسی کسی چیز میں نہیں کھو سکتی شافع جو تمھے دکھ پہنچانے کا باعث بنی ہو…. شافع مسکرایا وہ کچھ کہنا چاہتا تھا لیکن اندر سے اسے ابراہیم صاحب آتے ہوئے دکھے….

شافع انکی طرف اشارہ کر کے بولا چاچو آرہے ہیں،،، شافع نے اترنے کے لئے گاڑی کا دروازہ کھولا نور کا دوپٹہ تقریباً کھل چکا تھا اسنے اپنا دوپٹہ ٹھیک سے سر پر ٹکایا اور چادر سنبھالتے ہوئے گاڑی سے اتری،،، شافع ابراہیم صاحب کے گلے لگا ہوا تھا،،،، ابراہیم صاحب اسکی پیٹھ تھپ تھپا کر اسے کچھ بول رہے تھے شافع مسکراتے ہوئے ان سے الگ ہوا ان سے الگ ہوکر شافع نے ابراہیم صاحب کی توجہ نور کی طرف کروائی… شافع نور کے پاس آیا اور ابراہیم صاحب سے بولا یہ آئےنور ہے میری بیوی…. نور نے مسکراتے ہوئے انھے سلام کیا… ابراہیم صاحب نے بھی مسکراتے ہوئے اسکے سلام کا جواب دیا اور اسکے سر پر ہاتھ رکھ کر اسکا حال احوال پوچھنے لگے، ایک ملازم آکر گاڑی سے انکے بیگ نکال کر اندر لے گیا،،،

ابراہیم صاحب انھے اندر لے جانے لگے ابراہیم صاحب آگے تھے اور وہ دونوں پیچھے نور نے شافع کا ہاتھ تھام لیا….. شافع نے سوالیہ نظروں سے اسکی طرف دیکھا نور سہمے ہوئے لہجے میں نفی میں گردن ہلا کر بولی مجھے ڈر لگ رہا ہے… شافع نے اسکے ہاتھ پر گرفت مضبوط کی “میں ہوں نہ” شافع اسکا ہاتھ پکڑ کر آگے بڑھا… ابراہیم صاحب لاؤنج کے دروازے سے اندر داخل ہوئے، شافع بھی انکے پیچھے ہی اندر آیا بی اماں اپنے کمرے سے نکلتے ہوئے آئیں اور شافع کو دیکھ کر والہانہ انداز میں اسکی طرف بڑھنے لگیں…. ارے میرا شافع آگیا… وہ بڑھ ہی رہی تھیں جب نور شافع کے پیچھے سے آگے آئی بی اماں کے قدم وہیں رک گئے انکے پیچھے جو عائشہ بیگم آرہی تھیں وہ بھی بی اماں کے پاس ہی رک گئیں…

بی اماں کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں تھیں… ابراہیم صاحب انکو لے آکر آگے آئے شافع نے ابھی بھی نور کا ہاتھ تھاما ہوا تھا، شافع کو اپنے قدموں میں لڑکھڑاہٹ محسوس ہوئی لیکن اسکے چہرے پر ایک شکن نہیں تھی، نور کو لے کر وہ بی اماں کے سامنے آیا اور بی اماں کو سلام کر کے انکے آگے سر جھکایا،،، بی اماں نے چبھتے ہوئے انداز میں اسکے سلام کا جواب دیا لیکن سر پر ہاتھ نہیں رکھا،،، نور شافع کی آڑ میں کھڑی تھی اسنے آہستہ سے بی اماں کو سلام کیا لیکن انھوں نے سلام کا جواب نہیں دیا،،، تو شافع انھے دیکھتے ہوئے بھنویں اچکا کر بولا دادو سلام کا جواب دینا فرض ہے آپکو نہیں پتا؟ بی اماں نے دوسری طرف منہ کر کے زبردستی نور کے سلام کا جواب دیا… شافع نے عائشہ بیگم کو سلام کیا انھوں نے بھی بھنویں چڑھا کر سلام کا جواب دیا اور نور کا سلام سنے بغیر ہی کمرے کی طرف مڑ گئیں….

ابراہیم صاحب کو شرمندگی محسوس ہوئی،،، ماحول کا تناؤ کم کرنے کے لئے وہ فوراً بولے تم لوگ کھڑے کیوں ہو آؤ…. ابراہیم صاحب انھے لاؤنج میں بیٹھانے کے بجائے بائیں جانب بنی بیٹھک میں لے آئے جہاں سے باہر کا لان صاف نظر آتا تھا…. وہاں پر ایک سائڈ پر چٹائی سے بنے ہوئے صوفے رکھے تھے…. ابراہیم صاحب نے ان دونوں کو وہاں بیٹھایا تم لوگ بیٹھو میں باقی سب کو بلا کر لاتا ہوں ابراہیم صاحب جانے ہی لگے تھے اتنے میں ارحام وہاں آگئی…. اسنے گلابی رنگ کا سوٹ پہن رکھا تھا اور سر پر سلیقے سے دوپٹہ لیا ہوا تھا… اسے دیکھ کر ابراہیم صاحب ہلکا سا مسکرائے ….

ارحام نے آگے آتے ہوئے شافع کو سلام کیا پھر نور کی طرف بڑھی نور کو اسکے انداز سے لگا تھا کہ وہ اس سے گلے ملنے کے لئے آگے آرہی ہے اسلئے وہ کھڑی ہوگئی… ارحام آکر مسکراتے ہوئے نور کے گلے لگی،،، اور اس سے الگ ہوتے ہوئے شافع کی طرف دیکھ کر بولی آپکی بیوی ہے نہ؟ شافع نے اثبات میں گردن ہلائی…. ارحام نور کو دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولی بہت پیاری ہیں ماشاءاللہ… نور کو کسی نے بتایا نہیں تھا پھر بھی اسے اندازہ ہوگیا تھا کہ یہی ارحام ہے… تم ارحام ہونا؟ ارحام نے مسکراتے ہوئے حیرت سے پوچھا آپ نے کیسے پہچانا؟ نور مسکراتے ہوئے بولی بس پہچان لیا ارحام مسکرا دی، ارحام کو اسطرح دیکھ کر ابراہیم صاحب کو حیرت ہوئی تھی کیونکہ وہ سب تو یہی سمجھتے تھے کہ ارحام شافع سے محبت کرتی ہے اور شافع کے اسطرح اچانک شادی کرلینے سے سب سے زیادہ غم ارحام کو ہی ہوگی….

ابراہیم صاحب نے ان سب باتوں کو دماغ سے جھٹکا اور ارحام سے بولے ارے ارحام شہزاد اور اسکی بیوی وغیرہ کہاں ہیں؟ ارحام انکے پاس آتے ہوئے بولی بھائی کسی کام سے گئے ہیں، ابھی آجائیں گے، اور بھابھی حارث کو سلا کر ناشتہ لگانے گئی تھیں ابھی آتی ہی ہونگیں…..

ابراہیم صاحب اثبات میں سر ہلاتے ہوئے بولے اچھا چلو پھر دیکھو ناشتہ لگا یا نہیں پانی وانی لے کر آؤ… ارحام اثبات میں سر ہلا کر وہاں سے چلی گئی…. ابراہیم صاحب شافع کے سامنے بیٹھتے ہوئے بولے کوئی مسئلہ تو نہیں ہوا راستے میں کب نکلے تھے تم لوگ؟ شافع نفی میں گردن ہلاتے ہوئے بولا نہیں کوئی مسئلہ نہیں ہوا تھا چاچو، ہم لوگ پانچ بجے سے پہلے نکلے تھے…. ابراہیم صاحب اٹھتے ہوئے بولے اوہو پھر تو تم لوگ بہت تھک گئے ہونگے ناشتہ کرو پھر آرام کر لو جاکے سامان میں نے تمھارے کمرے میں رکھوا دیا ہے…. ابراہیم صاحب اٹھے تو وہ دونوں بھی کھڑے ہوگئے…. ابراہیم صاحب انھے ناشتے کی ٹیبل کی طرف لے آئے جہاں ارحام اور ابراہیم صاحب کے بڑے بیٹے کی بیوی نازیہ ناشتہ لگا رہی تھیں….

وہ لوگ وہاں پہنچے تو ابراہیم صاحب کی بہو آگے آکر خوش اسلوبی سے ان دونوں سے ملیں، وہ لوگ ناشتے کے لئے بیٹھے ہی تھے جب ابراہیم صاحب کا بڑا بیٹا شہزاد وہاں آیا…. اسے دیکھ کر شافع مسکراتا ہوا کھڑا ہوا… شہزاد بھی تیزی سے شافع کی طرف بڑھا اور اسکے گلے لگ لگایا اسکی پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے بولا اور کیسے ہو تم؟ تمھے ہماری یاد نہیں آتی….؟ شافع مسکراتے ہوئے الگ ہوکر بولا میں ٹھیک ہوں آپ کیسے ہیں؟ شہزاد نے مسکراتے ہوئے گردن ہلائی میں بھی بالکل ٹھیک ہوں اتنے ٹائم بات یوں تمھے سب کے ساتھ دیکھ کر بہت اچھا لگ رہا ہے…. شافع ہلکا سا مسکرایا….

شہزاد کی نظر نور پر پڑی تو اسکا بھی حال احوال پوچھتے ہوئے وہ سامنے جاکر بیٹھ گیا…. ناشتے پر سب موجود تھے سوائے بی اماں اور عائشہ بیگم کے….. شافع نے تکلف کے طور پر ابراہیم صاحب سے پوچھ لیا دادو اور چچی ناشتہ نہیں کریں گی جب کہ اسے پتا تھا وہ یہاں نہیں آئیں گی…. ابراہیم صاحب نور کے سامنے مسکراتے ہوئے بولے انھوں نے ناشتہ کر لیا ہے بیٹا تم لوگ ناشتہ شروع کرو…. شافع نے اثبات میں گردن ہلائی نور خاموش ہی تھی کوئی مخاطب کر لیتا تو وہ ایک دو بات کر لیتی شافع ابراہیم صاحب اور شہزاد سے کوئی نہ کوئی بات کر رہا تھا…..

ناشتہ کرنے کے بعد سب لاؤنج میں آ گئے ابراہیم صاحب شافع اور نور سے بولے بیٹا تم لوگ اب آرام کرو سفر سے تھکن ہوگئی ہو شافع نے اثبات میں سر ہلایا پھر ارحام سے بولا ارحام تم پلیز نور کو روم دیکھا دو گی میں دادو سے مل کر آتا ہوں…. ارحام نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا، آئےنور شافع سے سرگوشی میں بولی میں بھی چلوں؟ شافع نے نفی میں سر ہلایا اور مسکراتے ہوئے بولا تم ابھی جا کر ریسٹ کرو بعد میں مل لینا نور نے اثبات میں سر ہلایا اور ارحام کے ہمراہ چلی گئی….

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بی اماں کا کمرہ نیچے ہی تھا شافع انکے کمرے کی طرف بڑھا بی اماں کڑے تیور لئے چھڑی تھامے کھڑکی کے پاس بیٹھی تھیں شافع نے دروازے پر دستک دی تو انھوں نے مڑ کر دیکھا، شافع کو دیکھ کر انکے تیور چڑھ گئے وہ وآپس کھڑکی کا رخ کر کے بولیں شافع تمھارے پاس ایک گھنٹا ہے جس لڑکی کو لے کر آئے اسے لے کر وآپس چلے جاؤ…. شافع آگے آکر صوفے پر بیٹھا وہ تو میری بیوی ہے دادو،،، اور میں تو دو یا تین دن کے لئے آیا ہوں تو پھر ایک گھنٹے میں وآپس کیوں چلا جاؤں….؟

بی اماں غصے سے مڑیں اور چیختے ہوئے بولیں ارے ایسے ہی کسی بھی لڑکی کو اٹھا کر بیوی نہیں بنا لیا جاتا آخر ہے کون وہ خاندان کیا ہے اسکا ناجانے کہاں سے تمھارے پلے پڑ گئی نہ آتا نہ پتا…. خاندانی بھی ہے یہ ایسے ہی امیر لڑکوں کو پھانسنے میں ماہر ہے… شافع نے ضبط سے مٹھیاں بھینچیں….. پھر بیٹھے ہوئے ہی نظریں اٹھا کر بولا اسکے تعارف کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ میری بیوی ہے…. اور میری بیوی ہونے کے بعد اسے کسی کو کوئی صفائیاں پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے…. شافع اٹھ کر جانے لگا تو بی اماں بولیں ارے مجھے تو لگتا ہے اسے جادو کرنا بھی آتا ہے کچھ گھول کر پلا دیا ہے تجھے تبھی تو تو مجھ سے اسطرح بات کر رہا ہے…. شافع مڑ کر انکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا اسے صرف جادو نہیں کالا جادو بھی آتا ہے جس سے محبوب قدموں میں آجاتا ہے…. بی اماں اسے گھورتے ہوئے بولیں وہ تو مجھے دکھ ہی رہا ہے لیکن میں اس لڑکی کو اس حویلی میں ایک منٹ برداشت نہیں کروں گی اس لئے بہتر ہے بغیر کسی ہنگامے کے اسے لے کر چلے جاؤ…. شافع نے طنزیہ ہنسی سے نفی میں گردن ہلائی دیکھیں دادو نہ تو میں تیمور علی وارثی ہوں اور نہ ہی وہ گلنار کہ آپ اسے ذلیل کرتی رہیں اور میں کھڑے ہوکر تماشہ دیکھوں،،،، میں خوشی سے آیا ہوں مجھے خوشی سے رہنے دیں…. کیونکہ اگر کسی نے ہنگامہ کیا تو اس حویلی کی اینٹ سے اینٹ بجا کر جاؤں گا میں….

بی اماں آنکھیں پھاڑ کر اسے دیکھ رہی تھیں،،،، شافع انکا ہاتھ چوم کر بولا، آپکا پوتا اور نئ بہو آئے ہیں،، کچھ خاطر مدارت کریں اور ہاں خیال رکھیں اپنا اتنا غصہ کرنا آپ کی صحت کے لئے اچھا نہیں ہے…. شافع مسکراتا ہوا وہاں سے چلا گیا بی اماں سر تھام کر صوفے پر بیٹھ گئیں آخر یہ لڑکا کیا کیا بول گیا ہے…. بی اماں کے اٹھتے شعلوں کو شافع بھڑکنے سے پہلے ہی بجھا گیا تھا….

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ارحام نور کو کمرے تک لے آکر آئی…. نور نے کمرے کا جائزہ لیا کمرے کے دونوں طرف بڑی بڑی کھڑکیاں تھیں صبح کے برعکس اس وقت سردی تھوڑی کم تھی… ارحام نے نور سے پوچھا آپ کو کچھ چاہیئے؟ نور نے مسکراتے ہوئے نفی میں گردن ہلایا… تو پھر میں جاؤں؟ نور ارحام کا ہاتھ پکڑ کر بولی تھوڑی دیر بیٹھ جاؤں…. ارحام مسکرائی اور وہ دونوں بیڈ پر آمنے سامنے بیٹھ گئیں…. ارحام نور کو بغور دیکھتے ہوئے بولی آپ بہت پیاری ہیں… نور مسکرائی لیکن تم سے کم…. ارحام ہنس دی آپ کو دیکھ کر ہی پتا چلتا ہے کہ آپ شافع کے لئے ہی بنی ہیں…. نور ارحام کا ہاتھ تھامتے ہوئے بولی اور تم زایان کے لئے…. زایان کا نام سنتے ہی ارحام کی آنکھوں میں چمک آئی…. نور نے ارحام کو بغور دیکھتے ہوئے پوچھا تمھے پتا ہے ہم کیوں آئے ہیں؟ ارحام نے اثبات میں گردن ہلائی، لیکن مجھے نہیں لگتا کہ میری زندگی میں زایان کا ساتھ لکھا ہے مجھے تو یہ سب بھی ایک خواب سا لگتا ہے… نور نے حیرت سے پوچھا تمھے کیوں لگتا ہے ایسا… ارحام نے ایک زخمی مسکراہٹ کے ساتھ گردن جھکائی لیکن کچھ کہا نہیں….. نور اسے دیکھتے ہوئے بولی ارحام مجھے تمھاری فکر ہورہی ہے… ارحام نے نظریں اٹھا کر حیرت سے پوچھا کیوں؟ آئےنور مسکراتے ہوئے بولی، تم اتنی پیاری اور معصوم سی ہو اور وہ زایان اس سے شیطان بھی دور بھاگتے ہیں، ارحام ہنسی نور بولی تم جتنی دبلی پتلی ہونا مجھے تو سوچ سوچ کر ٹینشن ہو رہی ہے کہ زایان کی خوراک کے جتنا کھانا کیسے بناؤ گی….. ارحام دوبارہ ہنسی ایک بات کی تو گارنٹی ہے کہ زایان خود تو موٹا ہوا نہیں لیکن تمھے اپنی طرح کھلا کھلا کے ضرور موٹا کر دے گا….

ارحام مسکراتے ہوئے بولی مجھے سب قبول ہے بس میرے دل کے سمندر میں بہتی کشتی کو کنارے کی تلاش ہے… نور مسکراتے ہوئے کندھے اچکا کر بولی وہ تو بہت جلد ملنے والا ہے… ارحام خلا میں دیکھتے ہوئے بولی اکثر کشتیاں کنارے پر آکر ڈوب جاتی ہیں… نور بھنویں اٹھاتے ہوئے بولی تم اسطرح مایوسی کی باتیں کیوں کر رہی ہو سب ٹھیک ہوگا..….. ارحام نور کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھ کر بولی سچ میں سب کچھ ٹھیک ہوگا نہ؟ نور نے مسکراتے ہوئے اسکا ہاتھ دبایا…

اتنے میں شافع گلہ کھنکار کر کمرے میں داخل ہوا… ارحام بیڈ پر سے اٹھی اچھا آپ لوگ آرام کریں اگر کچھ چاہیئے ہو تو آواز دے دیئے گا….. شافع کا چہرہ سپاٹ تھا اور آنکھیں ہلکی سرخ تھی ارحام جانے لگی تو شافع اس سے بولا تم چاہو تو بیٹھ جاؤ…. ارحام ہلکا سا مسکراتے ہوئے بولی نہیں مجھے کچھ کام ہے آپ لوگ آرام کریں ارحام دروازہ بند کر کے کمرے سے چلی گئی…. شافع نے ایک لمبا سانس کھینچا اور بیڈ پر آکر بیٹھ گیا…. نور نے ٹھہر کر پوچھا، دادو غصہ کر رہی تھیں کیا؟ شافع خاموش رہا…. نور نے سامنے دیوار کی طرف دیکھا، ناراض ہونگی؟ شافع نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولا اگر ناراض ہوتیں تو میں منا لیتا لیکن وہ اپنی انا کے سحر میں ہیں…..

شافع سیدھا ہو کر لیٹ گیا، اور آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیا، نور نے اسکے بازو پر ہاتھ رکھ کر پوچھا تم ٹھیک ہو؟ شافع نے آنکھوں پر سے ہاتھ ہٹائے بغیر اثبات میں سر ہلایا مجھے نیند آرہی ہے تم بھی سو جاؤ… نور اسے دیکھتی ہوئی سیدھی ہو گئی،،، اور پھر دوسری طرف منہ کر کے لیٹ گئی….

ابراہیم صاحب بی اماں کی عدالت میں کھڑے تھے، ابراہیم تمھے پتا تھا کہ شافع اس لڑکی کو بھی اپنے ساتھ لے کر آرہا ہے؟ ابراہیم صاحب نے اطمینان سے کہا وہ لڑکی اس گھر کی بہو اور شافع کی بیوی ہے اماں… بی اماں بھنویں اچکاتے ہوئے بولیں، ان انجانے زبردستی کے رشتوں کو میں نہیں مانتی،،،، ابراہیم صاحب نے منہ پر ہاتھ پھیرا یہ زبردستی کا رشتہ نہیں ہے اماں وہ دونوں خوش ہیں ساتھ زبردستی کا رشتہ تو وہ تھاجو آپ جوڑنا چاہ رہی تھیں اُس رشتے کو پھر آپ کیسے مان لیتیں….

بی اماں کو چپکی لگی، پھر دانت پیستے ہوئے بولیں تمھے اپنی بیٹی کی خوشیوں کا ذرا خیال نہیں ہے ابراہیم…..؟

ابراہیم صاحب مسکراتے ہوئے بولے اماں میری بیٹی کے نصیب میں جو ہوگا اسے کوئی نہیں بدل سکتا اور جب ارحام ہی مطمئن ہے توآپ کیوں پریشان ہیں، میری بیٹی کے لئے اللہ نے کچھ اچھا ہی سوچ رکھا ہوگا،،، اگر کچھ بہتر نہیں ہوا تو بہترین ہو جائے گا مجھے اپنی بیٹی کے لئے کوئی پریشانی لاحق نہیں ہے….

بی اماں کڑے تیور سے انھے گھورتے ہوئے بولیں آخر میری اولادوں کو ہو کیا گیا ہے ہر کوئی نافرمانی پر اترا ہوا ہے، ابراہیم صاحب نے آگے بڑھ کے بی اماں کے کندھوں پر ہاتھ رکھا اماں کوئی نافرمانی پر نہیں اترا بس آپ ضد پر اڑی ہوئی ہیں وقت کے ساتھ ہر انسان کا مزاج بدلتا ہے آپ بھی اپنے مزاج میں نرمی لائیں بچوں کے لئے تو سب برداشت کرنا پڑتا ہے،،، آپکا پوتا اتنے سال بعد آیا ہے کیا اسکے آنے کی آپکو بالکل بھی خوشی نہیں ہے؟

بی اماں نے بھنویں سکیڑیں تو کیا اب تم مجھے بتاؤ گے کہ مجھے اپنا مزاج کیسا رکھنا چاہیے؟ ابراہیم صاحب نے ضبط سے سانس کھینچ کر منہ پر ہاتھ پھیرا، اماں آپ کیا چاہتی ہیں؟ بی اماں بھنویں اٹھاتے ہوئی بولیں اس لڑکی کو شافع کی زندگی سے نکالنا چاہتی ہوں… ابراہیم صاحب نے افسوس سے نفی میں گردن ہلائی…. اماں وہ تیمور بھائی صاحب نہیں ہے کہ آپ اسکی بیوی کو کچھ بھی کہیں اور وہ چپ رہے، اور میں آپکے آگے ہاتھ جوڑتا ہوں وہ ایک دو دن کے لئے آیا ہے اسے سکون سے رہ لینے دیں اگر اسکی زندگی میں کچھ خوشیاں آگئی ہیں تو مہربانی کر کے انھے قائم رہنے دیں،،،

بی اماں چڑ کر بولیں تو میں کیا اسکی خوشیوں سے جلتی ہوں بھلا…

تو پھر آپ اسے جیسے وہ چاہتا ہے ویسے زندگی گزارنے دیں اور ارحام کی فکر چھوڑ دیں اسکے نصیب میں جو ہوگا دیکھا جائے گا ویسے بھی نصیب بدلتے ہوئے وقت نہیں لگتا… ابراہیم صاحب کمرے سے باہر جانے کے لئے مڑ گئے،،، بی اماں پیچھے سے چینختی ہوئی بولیں ٹھیک ہے بھئی نہیں بول رہی میں کسی کے معاملے میں اب یہ دن آگئے ہیں کہ ہمارے بچے ہمیں ہی آنکھیں دکھانے لگے ہیں تمھارے ابا زندہ ہوتے تو پھر دیکھتی کون مجھ سے اونچی آواز میں بات کرتا ہے لیکن اب تو میں اکیلی ہوں کر لو جتنی نافرمانی کرنی ہے، انکے بچوں کے بارے میں سوچو اور یہی ہمیں آنکھیں دکھا رہے ہیں، ابراہیم صاحب نے ضبط سے آنکھیں بند کر کے ایک آہ بھری اور بغیر کچھ کہے سیدھا چلے گئے،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نور کو سوئے کچھ گھنٹے گزرے تھے اسکی آنکھ کھولی اسنے گردن موڑ کر بیڈ کی دوسری طرف دیکھا، شافع وہاں نہیں تھا وہ سیدھی ہوکر لیٹ گئی، سامنے لگی گھڑی کی طرف دیکھا دو بجنے والے تھے، اچانک اسے گولی چلنے کی آواز آئی،،، وہ ڈر کے دل تھام کر سیدھی ہوکے بیٹھ گئی،،، نور نے اٹھ کر کھڑکی کی طرف جانا چاہا لیکن پھر سے گولی چلنے کی آواز آئی وہ سہم کر وآپس بیڈ پر بیٹھ گئی، گولی کہیں قریب سے ہی چلی تھی آواز بہت واضح تھی،،، گولی چلنے کی آواز دوبارہ آئی تو وہ شافع کا نام لیتی ہوئی تیزی سے دروازے کی طرف بھاگی،،، اسنے دروازہ کھولا ہی تھا کے سامنے سے ارحام کمرے کی طرف آتے ہوئے دکھی وہ شاید اسے کے کمرے میں آرہی تھی، نور کا اڑا ہوا رنگ دیکھ کر ارحام نے پریشانی سے پوچھا کیا ہوا آپکو آپ ٹھیک ہیں؟ نور نے کپکپاتے لفظوں سے کہا وہ… وہ گولی چلنے کی آواز، شافع کہاں ہے؟

ارحام نے سر پر ہاتھ رکھا اوہ اچھا وہ آواز، دراصل بابا، شہزاد بھائی اور شافع پیچھے کے لان میں نشانہ بازی کر رہے ہیں اسکی گولی کی آواز تھی،،، نور کی سانس میں سانس آئی اس نے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا، ارحام اسے دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولی لگتا ہے آپ ڈر گئیں تھی… نور مسکرانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے بولی وہ اچانک آواز آئی تو بس…. گولی کی آواز دوبارہ آئی تو نور نے چونک کر ارحام کا ہاتھ پکڑا ارحام ہنسی، اور اسے اپنے ساتھ آگے لے جاتے ہوئے بولی چلیں میں آپ کو دکھاتی ہوں یہ لوگ کہاں نشانہ بازی کر رہے ہیں….

نور ارحام کے ساتھ چل دی،،، کچھ آگے جاکر ارحام نور کو ایک حال نما خالی کمرے کی طرف لے آئی اور ایک بڑی سی کھڑکی کی طرف لے گئی،،، نور بھی اسکے ساتھ ہی کھڑکی کی طرف آکر کھڑی ہوئی کھڑکی کے نیچے ایک بہت بڑی صحن نما کھلی جگہ تھا جس میں ٹائلیں لگی ہوئی تھی اور اسکے آگے ہی چھوٹی سی دیورا کے بعد کچی زمین تھی جہاں شافع، ابراہیم صاحب اور شہزاد اپنی اپنی پوزیشن سنبھالے نشانہ لگانے کے لئے کھڑے تھے…. ان تینوں کے سامنے الگ الگ بورڈ لگا ہوا تھا ان تینوں نے ہی ساتھ فائر کئے، ابراہیم صاحب اور شافع کا نشانہ ٹھیک لگ گیا تھا جبکہ شہزاد کی بندوق کی گولی دیوار پر لگ گئی تھی اس دیوار پر اور بھی کیئں گولیاں دھسی ہوئی تھیں،،، شہزاد نے غصے سے گن پھیکی یار میں نہیں لگا رہا نشانہ مجھ سے ٹھیک طرح لگتا ہی نہیں ہے…. شافع ہنستا ہوا بولا کیونکہ آپ اپنے ٹارگیٹ پر دھیان ہی نہیں دیتے… ارحام اور آئےنور آڑ میں کھڑے ہوکر باہر دیکھ رہے تھے کیونکہ لڑکیوں کا اسطرح باہر جھانکا منا تھا،،، نور کی نظریں شافع پر تھیں اسنے کپڑے تبدیل کر لئے تھے لیکن اسنے ٹی شرٹ وغیرہ نہیں بلکہ نیلی رنگ کی شلوار قمیض پہن رکھی تھی کیونکہ وہ موقع کی مناسبت سے لباس پہنا کرتا تھا،،،

اسے دیکھ کر نور نے اپنے دل میں انکشاف کیا تھا وہ واقعی شلوار قمیض میں بہت پیارا لگتا ہے دل چرا لینے کی حد تک…..

ارحام پیچھے ہو کر کھڑی تھی جب کہ نور تھوڑا آگے تھی، شافع شہزاد سے کچھ کہہ رہا تھا ایک ملازم انھے بلانے آگیا تھا، ابراہیم صاحب نے تینوں بندوقیں بھی اس ملازم کو اندر لے جانے کے لئے دے دی تھی، انکا نشانہ بازی کا مقابلہ شاید ختم ہوگیا تھا،،،

اچانک شافع نے اوپر کھڑکی کی طرف دیکھا… ارحام پیچھے ہو کر کھڑی ہوگئی تھی اسے ڈر تھا کہ کہیں ابراہیم صاحب یہ شہزاد اسے نہ دیکھ لیں، ابراہیم صاحب اور شہزاد کی نظر شافع پر نہیں تھیں، شافع نے نور کو دیکھ کر آنکھ ماری، نور نے آپنی آنکھیں بڑی کیں اور فوراً پیچھے ہوگئی،،، شافع ہلکا سا مسکرایا، ابراہیم صاحب اور شہزاد کے ہمراہ وہاں سے جانے لگا،،،

ارحام پیچھے کھڑی تھی اسلئے اس نے شافع کی اس حرکت پر غور نہیں کیا تھا وہ نور سے بولی چلیں کھانا لگ گیا ہوگا میں آپ کو کھانے کے لئے ہی بلانے آئی تھی،،، نور نے اثبات میں سر ہلایا اور اسکے ساتھ چل دی،،،،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شام کا وقت تھا اور سردی ابھی سے ہی کچھ زیادہ لگ رہی تھی نور ارحام اور اسکی بھابھی کے ہمراہ کمرے میں بیٹھی تھی جبکہ عائشہ بیگم نے ابراہیم صاحب کے کہنے پر کھانے کے وقت آنے کی ذہمت کر لی تھی اسکے بعد سے اپنے کمرے میں ہی تھیں، اور بی اماں تو کمرے سے ہی نہیں نکلی تھیں،،،

شافع ابراہیم صاحب اور شہزاد کے ساتھ حویلی کے پچھلی سائڈ بنے صحن میں بیٹھا تھا، قہوے کا سلسلہ چل رہا تھا،،، شافع زیادہ تر کوفی ہی پیتا تھا لیکن اس وقت وہ بھی قہوہ پی رہا تھا، شہزاد کے موبائل پر ایک ضروری کال آگئی تو وہ اٹھ کے چلا گیا،،، شافع نے قہوے کا ایک گھونٹ لے کر کپ نیچے رکھا دونوں ہاتھوں کو ملاتے ہوئے بولا چاچو مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے… ابراہیم صاحب قہوہ پیتے ہوئے عام سے انداز میں بولے ہاں ہاں بیٹا کہو…. شافع نے گلہ کھنکار کر بات شروع کی چاچو آپ زایان کو تو جانتے ہیں نہ؟ ابراہیم صاحب نے بھنویں اٹھائیں کون زایان؟ تمھارا دوست؟ شافع نے مسکراتے ہوئے اثبات میں گردن ہلائی،،،، ابراہیم صاحب نے قہوے کا گھونٹ لیا پھر ہنستے ہوئے بولے ہاں جانتا ہوں اسے بڑا ہنسانے والا بچہ ہے تمھارا پارٹنر بھی ہے نہ بزنس میں؟ شافع نے اثبات میں گردن ہلائی، شافع کا انداز دیکھ کر ابراہیم صاحب کو سنجیدگی کا احساس ہوا وہ سیدھے ہوتے ہوئے بولے بولو بیٹا کوئی پریشانی کی بات ہے کیا؟

شافع نے فوراً نفی میں گردن ہلائی نہیں نہیں چاچو سب ٹھیک ہے… تو پھر بولو بیٹا کیا بات کرنی تھی؟ شافع نے اپنے ہونٹ کانٹے پھر ایک سانس کھینچ کر بولا چاچو زایان اپنے پیرنٹس کو بھیجنا چاہتا ہے….. ابراہیم صاحب نے ناسمجھی سے بھنویں اٹھائیں لیکن کیوں؟ شافع نے اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ملائیں ارحام کا رشتہ لینے کے لئے….. وہ ارحام سے شادی کرنا چاہتا ہے…. ابراہیم صاحب کا ماتھا تنا… اور حیرانی سے بولے ارحام کا رشتہ؟ شافع نے اثبات میں گردن ہلائی، آپ کو کوئی اعتراض ہے کیا چاچو زایان کو آپ جانتے ہیں میرے بچپن کا دوست ہے… ابراہیم صاحب نفی میں گردن ہلا کر بولے نہیں میرا مطلب وہ نہیں ہے میں جانتا ہوں وہ اچھا لڑکا ہے لیکن بیٹا تم جانتے ہو خاندان سے باہر شادی کیسے کر سکتے ہیں ہم… شافع سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا اوہ چاچو پلیز میں آپ سے ان باتوں کی امید نہیں رکھتا، اس لئے پلیز خاندان، ذات برادری وغیرہ کی باتیں مت کئے گا،،، ابراہیم صاحب سوچتے ہوئے بولے لیکن بیٹا وہ اسطرح اچانک ارحام کے لئے رشتہ کیوں بھیجنا چاہ رہا ہے؟ شافع نے اپنی داڑھی پر ہاتھ پھیرا، اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ ابراہیم صاحب سے کیسے کہے….. چاچو ارحام پسند کرتی ہے زایان کو….

ابراہیم صاحب کو حیرت کا ایک اور جھٹکا لگا وہ بے یقینی سے بولے ارحام پسند کرتی ہے؟ شافع نے اثبات میں سر ہلایا آپ کچھ غلط مت سوچئے گا ارحام یا زایان کے بارے میں انکا کوئی افیئر نہیں چل رہا تھا بس ایک، دو بار ارحام ہمارے ہی گھر پر اس سے ملی تھی، ابراہیم صاحب غائب دماغی سے بولے لیکن ارحام تو تم سے محبت؟؟؟؟ شافع نے انکا جملہ مکمل ہونے سے پہلے ہی انکا ہاتھ تھام لیا ایسا کچھ نہیں تھا چاچو ایسا آپ لوگوں کو لگتا تھا کہ وہ مجھ سے محبت کرتی ہے لیکن وہ شروع سے ہی زایان سے محبت کرتی ہے اپنے کبھی اسکے منہ سے سنا کہ اسنے میرے لئے اپنی پسندیدگی ظاہر کیا ہو؟ ابراہیم صاحب نے نفی میں سر ہلایا،،،،

پھر ٹھہر کر بولے لیکن جب میں تمھارے گھر رشتے کی بات کرنے آیا تھا تب تو میں نے تم سے کہا تھا کہ وہ تم سے محبت کرتی ہے اور تم نے کہا تھا کہ وہ جانتی ہے کہ تم اس سے محبت نہیں کرتے تب تم نے یہ سب کچھ مجھے کیوں نہیں بتایا…. شافع نے سانس کھینچا، آپکے آنے سے ایک دن پہلے رات کے وقت ارحام نے مجھ سے فون کر کے پوچھا تھا کہ کیا میں اس سے شادی کرنا چاہتا ہوں یا نہیں اور تب مجھے بھی ارحام اور زایان والے معاملے کی کوئی خبر نہیں تھی….

ابراہیم صاحب سوچ میں پڑ گئے…. شافع انکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتا ہوا بولا کیا سوچ رہے ہیں چاچو میں زایان کو بچپن سے جانتا ہوں ارحام کے لئے میں کسی غلط لڑکے کا انتخاب کرنے کو تو نہیں کہوں گا نہ،،، وہ زایان کے ساتھ خوش رہے گی،،، ابراہیم صاحب اثبات میں گردن ہلاتے ہوئے بولے میں جانتا ہوں تم اسکے لئے کچھ غلط نہیں سوچو گے اور زایان کو میں خود جانتا ہوں وہ ہر لحاظ سے اچھا لڑکا ہے لیکن بی اماں کبھی نہیں مانیں گیں۔

شافع کا چہرہ سپاٹ ہوا، وہ سیدھے ہوتے ہوئے بولا چاچو آخر کب تک ان خاندان اور ذات برادری کے چکر میں زندگیاں برباد کریں گے زندگی ارحام نے گزارنی ہے تو پسند بھی تو اسی کی ہونی چاہیے نہ، آپ خود بولتے تھے کہ وہ ٹھیک نہیں رہتی وہ ویسی زایان کی وجہ سے رہتی تھی، وہ زایان کو بہت پسند کرتی ہے چاچو،،، آپ اپنی بیٹی کی خوشیوں کے لئے ایک فیصلہ اپنے دل سے کر لیں، آپکی بیٹی نے آپکے مان کے خاطر کبھی آپکے سامنے اپنی محبت کا نام نہیں لیا، آپ جہاں چاہتے وہ چپ چاپ شادی کر لیتی تو کیا اسکا اتنا بھی حق نہیں بنتا کہ آپ اسکی زندگی کا ایک فیصلہ ایسا کردیں جس سے اسکی خوشی جوڑی ہو…..

ابراہیم صاحب خاموش تھے، اور چہرہ سپاٹ تھا، شافع کا موبائل بجا… اسنے موبائل کی سکرین کی طرف دیکھا، اور ابراہیم صاحب کی طرف دیکھ کر بولا زایان کا فون ہے…. ابراہیم صاحب کے چہرے پر کسی طرح کا تاثر نہیں تھا،،، ابراہیم صاحب نے شافع کے فون کی طرف ہاتھ بڑھایا مجھے دو فون…. شافع نے بھنویں میچیں اور امید نا امیدی کے بیچ لٹکتی ہوئی سانس کے ساتھ فون انھے تھما دیا،،، ابراہیم صاحب نے کال ریسیو کر کے موبائل کان سے لگایا دوسری طرف سے زایان کی چہکتی ہوئی آواز گونجی اور جگر پہنچ گئے تم؟

ابراہیم صاحب نے ایک نظر شافع کو دیکھا اور بولے ابراہیم وارثی شافع کا چاچو بات کر رہا ہوں… زایان کی آنکھیں باہر آئی اور ہکلاتے ہوئے بولا، ان….. انکل آپ….ہائے,,, پھر سر پر ہاتھ مار کے بولا سوری میرا مطلب ہے،، اسلام وعلیکم…..! ابراہیم صاحب نے گردن ہلاتے ہوئے کہا وعلیکم اسلام… زایان نے گھبراتے ہوئے پوچھا کیسے ہیں آپ؟ ابراہیم صاحب اثبات میں گردن ہلا کر بولے ٹھیک ہوں میں…. زایان کو سمجھ نہیں آیا آگے کیا بولے اسلئے خاموش ہو گیا شافع بھی ابراہیم صاحب کے سامنے خاموشی سے کھڑا انھے دیکھ رہا تھا…

ابراہیم صاحب ٹھہر ٹھہر کر بولے جتنی جلدی ہو سکے اپنے والدین کے ساتھ رشتہ لے کر آجاؤ ہم شادی جلدی کریں گے…. شافع اور زایان دونوں کے چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ آئی ابراہیم صاحب بھی ہلکا سا مسکرائے،،، زایان خوشی سے چینختے ہوئے بولا انکل سچ بول رہے ہیں آپ؟ ابراہیم صاحب ہنستے ہوئے شرارت سے بولے تو بھئی تمھارا اور میرا کوئی مزاق ہے کیا جو میں تم سے مزاق کروں گا؟ زایان ہنستے ہوئے بولا پھر کل آجاؤں؟ ابراہیم صاحب کو اسکے انداز پر ہنسی آئی،،، ٹھیک ہے کل آجاؤ…. زایان خوشی سے چینخھا…. ابراہیم صاحب نے ہنستے ہوئے کال کاٹ دی،،، شافع والہانہ خوشی سے انکے گلے لگا۔ ۔ ۔ ۔

تھینکیو سو مچ چاچو آپ سوچ نہیں سکتے میں کتنا خوش ہوں آپکے فیصلے سے ابراہیم صاحب اسکی پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے بولے میرے بچے خوش رہیں میں بس یہی چاہتا ہوں….

شہزاد اپنا فون دیکھتے ہوئے وہاں آیا معاف کیجئے گا کال ذرا لمبی ہوگئ،،، پھر شافع اور ابراہیم صاحب کے چہرے پر خوشی دیکھ کر بولا ایسا کیا ہوگیا جو آپ دونوں اتنا مسکرا رہے ہیں؟ ابراہیم صاحب اسکا کندھے تھپتھپاتے ہوئے بولے رات کے کھانے پر سب کو ساتھ بتاؤں گا… شہزاد نے کندھے اچکا دیئے ٹھیک ہے جیسی آپکی مرضی….

نور ارحام اور شہزاد کی بیوی نازیہ کے ساتھ کمرے میں بیٹھی تھی…. شہزاد کا ڈیڑھ سال کا بیٹا تھوڑی تھوڑی دیر بعد نور کی طرف دیکھتا اور اسکے گالوں پر ہاتھ لگا کر منہ چھپا لیتا،،، نور اسکی اس شرارت سے بہت لطف اندوز ہورہی تھی نازیہ ہنستے ہوئے بولی نور لگتا ہے تمھارے گال اسے بہت پسند آرہے ہیں…. نور ہنستے ہوئے بولی ہاں شاید نور نے اسے گود میں اٹھا کر اپنے سامنے کیا تو اسنے پھر دونوں ہاتھوں سے اسکے گال چھوئے اور منہ چھپا لیا…. ارحام ہنستے ہوئے حارث کے ہاتھ پکڑتے ہوئے بولی کیا ہوا ؟ گڈے چاچی اچھی لگ رہی ہیں کیا؟ چاچی کا لفظ سن کر نور کو ہنسی آئی جیسے اسنے اندر ہی اندر گھونٹ دیا،،، ارحام منہ بناتے ہوئے بولی میرے تو تم بال نوچتے ہو اور انکے گال پکڑ رہے ہو…. کمرے میں قہقہہ بلند ہوا… شافع دروازہ کھٹکھٹا کر کمرے میں داخل ہوا ارحام اور نازیہ دونوں کھڑی ہوگئی شافع انھے وآپس بیٹھنا کا اشارہ کرتے ہوئے بولا بیٹھ جائیں میں نے آپ لوگوں کو ڈسٹرب تو نہیں کیا؟ نازیہ نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولی نہیں ہم تو بس ایسی باتیں کر رہے تھے….

نور کی گود میں حارث کو دیکھ کر شافع اسکی طرف بڑھتا ہوا بولا ارے جونیئر آپ سے تو اب تک ہمارا تعارف ہی نہیں ہوا….. شافع نے اسے لینے کے لئے ہاتھ آگے بڑھایا لیکن اس نے شافع کی طرف سے منہ پھیر کر نور کی طرف منہ کر لیا…. شافع نے حیرت سے منہ کھولا ارے یہ کیا ہورہا ہے یہ نور کو کیسے پہچان رہا ہے؟ نازیہ ہنستے ہوئے بولی شافع بھائی حارث کو آپکی بیوی پسند آگئی ہے. اب آپ اپنی بیوی کو بھول جائیں، شافع نور کے برابر میں بیٹھتے ہوئے ہنسا اور حارث کا ہاتھ پکڑ کر شرارت سے بولا نہیں بیٹا دوسروں کی بیویوں پر نظر نہیں رکھتے ویسے بھی تمھاری چاچی ہیں یہ……

شافع کی بات سن کر حارث کو ناجانے کیا سمجھ آیا تھا لیکن وہ رونا شروع ہوگیا…. شافع ڈر کر پیچھے ہوتے ہوئے بولا ارے یہ تو سب سمجھتا ہے لگتا ہے میری بات کا برا مان گیا، نور اسے خود سے لگائے چپ کروانے لگی اور نور کے تھپتھپانے پر وہ چپ بھی ہو گیا تھا… ارحام ہنستے ہوئے بولی نور آپ سچ میں حارث کو پسند آگئی ہیں ورنہ یہ اتنی آسانی سے کسی کے پاس جاتا نہیں ہے، نور ہلکا سا مسکرائی شافع خود کو دوھائی دیتا ہوا بولا یہ بچے بھی عجیب ہوتے ہیں جس کو دل چاہا پسند کر لیا اور جس کو دل چاہا نا پسند کر دیا عجیب منطق ہے انکی بھی۔ ۔ ۔ ۔۔

نازیہ ہنستے ہوئے بولی آپ فکر مت کریں جب آپکے بچے ہو جائیں گے تب آپ کو انکی منطق سمجھ آجائے گی، شافع نے معنی خیز نظروں سے نور کی طرف دیکھا آئے نور نے اسکی نظروں سے بچنے کے لئے دوسری طرف رخ کر لیا…. نازیہ شافع سے بولی شافع بھائی آپ پہلے کبھی حویلی کیوں نہیں آئے ہماری شادی پر بھی نہیں آئے تھے میں نے تو اب تک صرف آپکا ذکر ہی سنا تھا… شافع مسکراتے ہوئے گردن جھکا کر بولا بس ویسے ہی کام میں بزی ہوتا ہوں کہیں جانا نہیں ہوتا…. نازیہ آئے نور سے بولی نور پھر تو یہ تمھے اب تک کہیں گھمانے بھی نہیں لے کر گئے ہونگے؟؟؟ نور نے شافع کی طرف دیکھا پھر بولی نہیں ابھی تو نہیں، بزی ہوتے ہیں یہ، شافع بولا کچھ ضروری کام ہیں پہلے وہ ہو جائیں پھر لے جاؤں گا نور مسکرائی…

ارحام اٹھتے ہوئے بولی بھابھی میں کھانا لگوا دوں؟ نازیہ بھی اٹھی ہاں چلو میں دیکھ لیتی ہوں، نازیہ نے حارث کو لینے کے لئے ہاتھ بڑھایا اسنے نور کی طرف منہ کر کے اسکا دوپٹہ سختی سے پکڑ لیا…. اسکی اس حرکت پر سب ہی مسکرائے، نازیہ نے اسے اٹھانا چاہا لیکن اس نے نور کا دوپٹہ مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا… نور اسکا سر پیار سے سہلاتے ہوئے بولی رہنے دیں اسے کچھ دیر پھر آجائے گا، نازیہ منا کرتے ہوئے بولی نہیں یہ تنگ کرے گا تمھے….

شافع بولا رہنے دیں اسے کچھ دیر روئے گا تو میں چھوڑنے آجاؤں گا… نازیہ نے اثبات میں سر ہلایا اور ارحام کو لے کر باہر چلی گئی….

حارث اب نور کے دوپٹے سے کھیل رہا تھا،،، شافع نور کے بالکل سامنے آکر لیٹا اور حارث کا ہاتھ ہلاتے ہوئے بولا Heyy چھچھورے لڑکے چھوڑو میری بیوی کا دوپٹہ… حارث بھنویں میچ کر اسے دیکھنے لگا، شافع بچوں کی طرح اس سے لڑتے ہوئے بولا یہ میری بیوی ہے…. نور ہنستے ہوئے بولی شافع کیا ہوگیا تمھے بچہ ہے وہ….. حارث نور کی طرف دیکھنے لگا تو شافع نے حارث کا چہرہ اپنی طرف گھمایا اور اسے تنگ کرتا ہوا بولا میری بیوی کو کیوں دیکھ رہے ہو…. حارث نے پہلے اسے سپاٹ چہرے سے گھورا پھر ایک دھاڑ کے ساتھ رونا شروع کردیا…. شافع فوراً اٹھ کر بیٹھا اور اسے گود میں لیتے ہوئے بولا اچھا اچھا میں تو مزاق کر رہا تھا یار تم تو برا مان گئے…. لیکن وہ روئے جارہا تھا،،، نور شافع کو گھورتے ہوئے بولی رلا دیا نہ تم اسے اچھا خاصا کھیل رہا تھا…. شافع اسے بہلاتا رہا لیکن وہ اس سے چپ ہی نہیں ہوا تو نور نے اسے اپنی گود میں لے لیا…. اور اسے بہلانے لگی،،، نور کی گود میں آکر کچھ دیر رونے کے بعد وہ چپ ہوگیا… شافع اسے گھورتا ہوا بولا میری گود میں کیا کانٹے لگے ہوئے تھے….

نور حارث کو اپنے سینے سے لگا کر تھپتھپاتے ہوئے بولی تمھاری شکل اسے پسند نہیں آرہی تھی…. شافع نے منہ بناکر بھنویں اٹھائیں پھر وآپس بیڈ پر لیٹتے ہوئے حارث کی طرف دیکھتے ہوئے بولا اترو اسکی گود میں سے…. نور شافع کو دپٹتے ہوئے بولی نہیں کرو شافع اسے تنگ یہ پھر رونا شروع ہو جائے گا…. شافع نے ہنستے ہوئے سر کے نیچے ہاتھ رکھے…. اور نور کو دیکھنے لگے، نور اسکی نظروں سے الجھی، کچھ دیر بعد تنگ آکر بولی ایسے کیوں دیکھ رہے ہو؟ شافع بھنویں اٹھا کر بولا کیسے؟ نور نے آنکھیں گھمائیں مطلب گھور گھور کے… شافع بھنویں اٹھاتے ہوئے بولا میں گھور گھور کے تو نہیں دیکھ رہا میں تو پیار سے دیکھ رہا ہوں….. نور نے نظریں دوسری طرف کر لیں،،،،

نور نے اس سے پوچھا تم نے چاچو سے بات کر لی؟ شافع پلکھیں جھپکاتے ہوئے بولا ہاں….! نور نے سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا پھر انھوں نے کیا کہا؟ شافع مسکراتے ہوئے بولا کیوں بتاؤں چاچو ڈنر پر سب کو بتائیں گے تب سن لینا… نور نے دانت پیسے ٹھیک ہے مت بتاؤ…. شافع مسکراتا ہوا سیدھا ہوکر لیٹ گیا…. پھر کچھ دیر ٹھہر کر بولا بچپن میں یہ کمرہ میرا اور گوہر کا تھا…. ہم دونوں اس کمرے میں ساتھ رہتے تھے، نور نے بھنویں اٹھاتے ہوئے پوچھا گوہر کون تمھارے چاچو کا چھوٹا بیٹا؟ شافع نے اثبات میں گردن ہلائی وہ مجھ سے دو سال چھوٹا ہے… نور نے محتاط انداز میں پوچھا تمھاری ماما کا کمرہ کونسا تھا شافع؟ شافع کچھ دیر خاموش رہا پھر بولا سیڑھیوں کے اوپر پہلا والا کمرہ…. نور نے ہونٹ بھینچے اب کون رہتا ہے اس کمرے میں؟ شافع چھت کی طرف دیکھاتا ہوا بولا پتا نہیں شاید چاچو رہ رہے ہیں اب ادھر…. نور گردن ہلاتے ہوئے بولی ہممم اچھا،،، شافع نے نور کی طرف دیکھ کر پوچھا تم سے کسی نے کچھ کہا یا پوچھا تو نہیں ہماری شادی کے سلسلے میں؟ نور نے نفی میں سر ہلایا نہیں کسی نے کچھ نہیں کہا سب بہت اچھے ہیں، اور ارحام بھی… شافع شرارت سے بولا تمھے تو مجھے چھوڑ کر سب ہی اچھے لگتے ہیں…. نور نے اسے گھورا،،، شافع ہنستا ہوا حارث کی طرف دیکھتا ہوا بولا یہ سوگیا ہے، لیٹا دو اسے، نور نے آہستہ سے حارث کو نیچے کیا اور بیڈ پر لیٹا نے لگی،،، شافع اسے بغور دیکھتا ہوا بولا…. اچھی لگ رہی ہو، نور نے بھنویں سکیڑیں شافع حارث کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا مطلب اسے گود میں لی ہوئی اچھی لگ رہی تھیں…. نور کے گال سرخ ہوئے، وہ سیدھی ہوکر بیٹھی شافع آگے ہوتے ہوئے کچھ کہنا چاہ رہا تھا اتنے میں کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا شافع فوراً سیدھا ہو کر بیٹھا، نازیہ مسکراتی ہوئی اندر داخل ہوئی شافع نے دانت پیستے ہوئے دل میں سوچا غلط وقت پر انٹری مار دی اور انکا آنا نور نے غنیمت جانی،،، نازیہ اندر آتے ہوئے حارث کی طرف دیکھ کر بولی ارے یہ سوگیا چلو یہ تو اچھا ہو گیا میں یہ کہنے آئی تھی کھانا لگ گیا ہے تم دونوں آجاؤ….

شافع بولنے والا تھا کہ تھوڑی دیر میں آرہے ہیں لیکن نور فوراً کھڑی ہوتے ہوئے بولی ٹھیک ہے بھابھی میں آپکے ساتھ ہی چلتی ہوں… شافع نور کو گھورتا ہوا بولا نور باہر سردی ہے میری جیکٹ یہ شال بیگ میں سے نکال دینا… نور محفوظ ہوتے ہوئے شرارت سے مسکرا کر بولی کھانا باہر نہیں کھا رہے شافع لاؤنج میں کھائیں گے اور وہاں اتنی سردی نہیں ہے… اسلئے ایسے ہی آجاؤ… شافع نے اسے گھورا نور نازیہ کے ساتھ جانے لگی تو وہ دانت پیستے ہوئے آنکھیں گھما کر بولا میں بھی چلتا ہوں نور نے اپنی ہنسی دبائی…..

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کھانے کی ٹیبل پر سب موجود تھے سوائے بی اماں کے ابراہیم صاحب ارحام سے بولے اماں نہیں آ رہیں؟ ارحام نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولی انھوں نے آنے سے منا کر دیا ہے. ابراہیم صاحب نے منہ پر ہاتھ پھیرا،،، اور پھر ارحام سے بولے انھے دوبارہ بلانے جاؤ، یا پوچھ لو اگر کھانا کمرے میں بھجوانا ہے تو..۔ ارحام اثبات میں سر ہلا کر جانے لگی تو نور بولی میں بلا لاؤں؟ ابراہیم صاحب کے منا کرنے سے پہلے ہی شافع بولا نہیں…. نور اصرار کرتی ہوئی بولی شافع میں بس انھے بلانے… شافع سختی سے بولا میں نے کہا نہ نور کے تم نہیں جاؤ گی… نور خاموش ہوگئی،،، شافع جانتا تھا نور سب کے دل میں جگا بنانے کی کوشش کر رہی ہے اور وہ نہیں چاہتی تھی کہ اسکی وجہ سے بی اماں شافع سے خفا رہیں لیکن شافع نہیں چاہتا تھا کہ نور بی اماں کے کمرے میں جائے اور وہ اسے کڑوی کسیلی باتیں سنائیں وہ جانتا تھا نور کتنی حسّاس ہے بہت مشکل سے تو وہ نارمل ہونے لگی تھی وہ نہیں چاہتا تھا کہ کسی کی بھی نامناسب بات سے وہ ہرٹ ہو….

ارحام کچھ دیر بعد بی اماں کے کمرے سے وآپس آئی انھوں نے کھانا کمرے میں منگوا لیا ہے بابا… ابراہیم صاحب نے گردن ہلائی ٹھیک ہے پھر آپ لوگ شروع کریں… ابراہیم صاحب نے ڈنر میں کافی ساری چیزوں کا انتظام کروالیا تھا شافع نے حسب معمول سب سے پہلے نور کی پلیٹ میں سرو کیا…. عائشہ بیگم نے ناپسندیدگی کی نظروں سے انھے دیکھا تھا،،،، کھانا خاموشی سے کھایا گیا ابراہیم صاحب نے کھانے کے دوران ارحام اور زایان کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی وہ نہیں چاہتے تھے کہ کھانے کے دوران ماحول خراب ہو……

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بی اماں اپنے کمرے میں فون کان سے لگائے بیٹھی تھیں….

تیمور صاحب نے حیرت سے پوچھا شافع حویلی آیا ہوا ہے،لیکن یوں اچانک؟ بی اماں اپنا دکھڑا روتے ہوئے بولیں ہاں آیا ہوا ہے اور اکیلا نہیں آیا اس لڑکی کو بھی ساتھ لے کر آیا ہے جیسے وہ اپنی بیوی کہہ رہا ہے، تیمور صاحب نے ضبط سے سانس کھینچا، بی اماں انھے طعنے دیتے ہوئے بولیں آئے تیمور مجھے تو یقین ہی نہیں آتا شافع تمھارا بیٹا ہے کہاں تم اتنے کڑے تیور والے تم سے ایک بیٹا نہیں سنبھالا گیا… کس طرح اسنے کسی کو بغیر بتائے ایک انجان لڑکی سے شادی کر لی اور جو تصویریں اسکی ٹی وی پر چلی تھیں…. تیمور صاحب سر جھٹکتے ہوئے بولے اماں وہ اتنا بڑا معاملہ نہیں تھا بزنس میں یہ سب چلتا رہتا ہے وہ معاملہ ختم ہوگیا ہے، آپ چھوڑیں اس بات کو… بی اماں تنک کر بولیں وہ معاملہ تو ختم ہوگیا لیکن تمھارے بیٹے نے جو اس لڑکی سے شادی کر لی ہے اسکا کیا؟

تیمور صاحب سانس کھینچتے ہوئے بولے اماں اب اسنے شادی کر لی ہے تو ہم کیا کرسکتے ہیں کونسا وہ ہم سے رابطہ رکھتا ہے جب سے گھر چھوڑ کر گیا ہے ایک بار بھی اسنے مجھے شکل دکھانا تو دور ایک فون تک نہیں کیا ہے جب وہ ہم سے اتنی لاتعلقی برت رہا ہے تو پھر ہم کیوں اسکے پیچھے بھاگتے رہیں کرنے دیں اسے جو وہ کر رہا میں نے اب اسے اسکے حال پر چھوڑ دیا ہے…. بی اماں خفا ہوتے ہوئے بولیں یہ سب تہمینہ کا کیا دھرا ہے اسکی اپنی تو کوئی اولاد تھی نہیں اسلئے اسنے شافع کے دماغ میں یہ سب خرافات بھر دیئے… تیمور صاحب انکی باتوں سے تنگ آکر بولے اماں اب ان سب باتوں میں تہمینہ کہاں سے بیچ میں آگئی آپ سب نے مل کر مجھے پاگل کر دیا، آئے دن شافع کوئی نہ کوئی کارنامہ کرتا رہتا ہے دوسری طرف آپ باتیں سناتی رہتی ہیں…. تیمور صاحب نے غصے میں فون کاٹ دیا… بی اماں غصے میں فون دیکھتے ہوئے بولیں ہاں بس تمھاری ہی تو کمی تھی تم نے بھی اپنے تیور دکھانا شروع کر دیئے… بی اماں سر تھامے بیٹھی تھیں جب ابراہیم صاحب، عائشہ بیگم اور شہزاد کو لے کر انکے کمرے میں داخل ہوئے… ان تینوں کو ساتھ دیکھ کر بی اماں بولیں اب تم لوگ کون سا نیا بم میرے سر پر پھوڑنے آگئے ہو؟ شہزاد انکے پاس آکر بیٹھتا ہوا بولا پتا نہیں بی اماں بابا نے ہم سب کو کچھ بتانا ہے،،، عائشہ بیگم اور ابراہیم صاحب انکے سامنے بیٹھے،،، کچھ دیر کی خاموشی کے بعد ابراہیم صاحب بنا کوئی تہمید باندھے صاف صاف بولے….

کل کچھ لوگ ارحام کا رشتہ لے کر آرہے ہیں سب نے حیرت سے بھنویں سکیڑیں، عائشہ بیگم نے سوال کیا کون لوگ؟ ابراہیم صاحب اپنے دونوں ہاتھوں کو ملاتے ہوئے بولے شافع کا دوست ہے زایان شافع کے بزنس میں پارٹنر بھی ہے میں ملا ہوا ہوں اچھا لڑکا ہے…. بی اماں کی بھنویں تن گئیں، وہ چینختے ہوئے بولیں ہمارے گھر کی لڑکی کی خاندان سے باہر شادی کا تم نے سوچ بھی کیسے لیا ابراہیم، شافع اور اسکے باپ نے تو اپنی مرضی سے خاندان سے باہر شادی کی تھی لیکن تمھاری عقل کیا گھاس چرنے گئی ہے جو تم بیٹی کا رشتہ خاندان سے باہر کرنے چلے ہو…. ابراہیم صاحب سپاٹ چہرے سے دھیمے لہجے میں بولے میں کسی کی اجازت لینے نہیں آیا ہوں اماں،،، صرف بتانے آیا ہوں کہ کل کچھ لوگ آرہے ہیں اور میں نہیں چاہتا کہ انکے سامنے کوئی ہنگامہ ہو اسلئے جس کا دل چاہے وہ خوشی سے شامل ہوکر میری بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھ دے….

بی اماں بے یقینی سے انھے دیکھتی رہیں، اماں ساری زندگی آپنے اور بھائی صاحب نے انا میں آکر فیصلے لئے لیکن میں کسی کی انا کہ سامنے اپنی بیٹی کی زندگی برباد نہیں کروں گا اور نہ ہی خاندان اور روایت کے نام پر اسے گھر بٹھا کر کسی رشتے کا انتظار کروں گا،

میں آپ سے گزارش کرتا ہوں اماں اپنی انا اب چھوڑ دیں اور بچوں کی خوشی میں خوش ہوکر شامل ہوں ورنہ سارے رشتے آپ سے آہستہ آہستہ دور ہو جائیں گے…. اور آپ اکیلی رہ جائیں گی،،، بی اماں صدمے کے عالم میں بیٹھی انکی باتیں سن رہی تھیں،،، ابراہیم صاحب اپنی بات ختم کر کے کھڑے ہوئے اور شہزاد کو ساتھ لے کر باہر چلے گئے…

باہر آتے ہوئے شہزاد نے تیمور صاحب سے پوچھا بابا آپ نے یوں اچانک ارحام کی شادی کا فیصلہ کیوں کر لیا اور آخر کون ہے یہ لڑکا؟ ابراہیم صاحب بولے اچانک تو نہیں بس جو کام وقت پر ہو جائیں وہی بہتر یے، اور لڑکے کو میں جانتا ہوں تبھی تو سوچ سمجھ کر اتنا بڑا فیصلہ کیا ہے کل آئے گا تو تم مل لینا… شہزاد نے اثبات میں سر ہلایا….

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شافع کھڑکی کے پاس کھڑا سگریٹ کے کش لیتے ہوئے زایان سے فون پر بات کر رہا تھا،،، اسنے نیلی شلوار قمیض پر گرے رنگ کی مردانہ شال گلے میں ڈالی ہوئی تھی اس وقت وہ سچ میں وڈیرہ لگ رہا تھا ہاتھ میں سگریٹ اور سردی سے سرخ ہوتی آنکھیں…. زایان اپنی چہکتی ہوئی آواز میں بولا تو آخر میرے بھائی نے کام کر ہی دکھایا… شافع مسکراتے ہوئے بولا اب ٹریٹ تمھاری طرف سے بنتی ہے… زایان دانت نکالتے ہوئے بولا ارے اب تم یہ ٹریٹ وریٹ چھوڑو اب تمھے سیدھا نکاح کے چھووارے اور شادی کا کھانا کھلاؤں گا، شافع ہنسہ پھر کل آرہے ہو؟ زایان بیڈ پر ہاتھ پھیلاتے ہوئے لیٹ کر بولا ہاں ہاں بالکل آرہا ہوں ماما بابا سے بھی بات کر لی ہے میں نے انھے کوئی اعتراض نہیں ہے کل جانے میں…

شافع اثبات میں گردن ہلاتے ہوئے بولا تم پہنچ جاؤ گے نہ راستے میں کوئی مسئلہ تو نہیں ہوگا،،، زایان فخریہ انداز میں بولا ارے تم فکر ہی مت کرو راستہ نہیں بھی ملا تو میں اپنے راستہ بنا کر کسی نہ کسی طرح پہنچ ہی جاؤں گا…. شافع ہنسا زایان بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا یار شافع ایک چیز کی بہت کنفیوژن ہو رہی ہے… شافع نے پوچھا کس چیز کی؟ زایان کروٹ لیتے ہوئے بولا کپڑوں کی یار مجھے سمجھ ہی نہیں آرہا کہ میں کیا پہن کر آؤں… شافع حیرت سے ہنستے ہوئے بولا زایان حیدر کنفیوز ہورہا ہے بات کچھ عجیب سی نہیں ہے…

زایان نے آنکھیں گھمائیں میں بھی انسان ہوں یار میں کنفیوز نہیں ہو سکتا کیا….؟

شافع ہنسا ہاں ہاں بالکل ہو سکتے ہو،،، زایان بولا تھری پیس سوٹ پہن کر آجاؤں؟ شافع سگریٹ کا کش لیتے ہوئے بولا نہ ہی کل تمھارا ولیمہ ہے اور نہ تم کسی بزنس میٹنگ کے لئے آرہے ہو… زایان نے آنکھیں گھمائیں، شافع ہنستا ہوا بولا تم شلوار قمیض پہن کر آنا،،، زایان آنکھیں بڑی کرتے ہوئے بولا وہ تو میں صرف جمعے کے دن پہنتا ہوں…

تو اگر کل تم پہن لو گے تو کوئی قیامت نہیں آجائے گی،،، زایان نے اثبات میں گردن ہلائی اچھا چلو ٹھیک ہے،،، تم کہتے ہو تو پہن لوں گا

اچانک زایان کو یاد آیا تو تیزی سے اٹھتے ہوئے بولا ایک بات بتانا تو میں تمھے بھول ہی گیا. شافع نے پوچھا کونسی بات؟ زایان خوشی سے بولا تاشفہ امریکہ چلی گئی ہے، شافع نے نارمل سے انداز میں کہا اچھا… زایان منہ بناتے ہوئے بولا تمھے خوشی نہیں ہوئی؟ شافع اثبات میں گردن ہلا کر بولا بالکل ہوئی ہے لیکن ابھی میرے پاس اس سے زیادہ بڑی خوش ہونے کی وجہ ہے کہ میرے بھائی کی شادی ہونے والی ہے اسلئے یہ چھوٹی موٹی خوشیاں مجھے نظر ہی نہیں آرہی…

زایان ہنسہ اچھا چلو ٹھیک ہے یار پھر کل ملتے ہیں مجھے نیند آرہی ہے… شافع نے گردن ہلائی اور خدا حافظ کہہ کر فون بند کر دیا،،، شافع سگریٹ کا آخری کش لے رہا تھا، جب نور دروازہ کھول کر کمرے میں آئی وہ دروازہ بند کر رہی تھی شافع نے فوراً سگریٹ کھڑکی کے کنارے پر رگڑ کے بجھا دی اور وہیں رکھ دی، نور نے اسے یہ کرتے نہیں دیکھا تھا، نور دروازہ بند کر کے پلٹی تو شافع اسکی طرف آتے ہوئے بولا تم تو مجھے بھول ہی گئی ہو یار…. نور مسکراتے ہوئے بولی ایسا تو کچھ نہیں ہے، میں ارحام کے پاس تھی،،، شافع نے آگے آکر اسکے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لئے اچھا ارحام کے پاس کیا کر رہی تھیں؟ نور مسکراتے ہوئے بولی باتیں،،، شافع اسکے ہاتھ اپنے انگھوٹے سے سہلاتے ہوئے بولا تم نے اسے بتا دیا کہ کل زایان آرہا ہے.. نور نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولی یہ سگریٹ جیسی بدبو کہاں سے آرہی ہے؟ شافع فوراً پیچھے ہوا اور منہ پر ہاتھ رکھا اسنے اب تک نور کے سامنے کبھی سگریٹ نہیں پی تھی وہ سگریٹ کم ہی پیتا تھا اور جب کوئی نہیں ہوتا تب پیتا تھا شافع بیڈ کی طرف جاتے ہوئے نور سے نظریں بچا کر بولا کہاں مجھے تو نہیں آرہی… نور ادھر ادھر دیکھتے ہوئے بولی شاید مجھے لگا ہوگا،،، نور ڈریسنگ کے سامنے جاکر اپنے کانوں میں موجود جھمکے اور ہاتھوں کی چوڑیاں اتارنے لگی، شافع بیڈ پر بیٹھا اسے دیکھ رہا تھا، جویلری اتار کر نور بیگ کی طرف بڑھی اور اس میں سے اپنے کپڑے نکال کر باتھ روم کی طرف چلی گئی،،،، کچھ دیر بعد وہ آئی تو شافع ٹیک لگائے آنکھیں بند کئے بیٹھا تھا، وہ آئی تو شافع اسے دیکھ کر بولا آج میں نے تمھارے ہاتھ کی کوفی بھی نہیں پی نور… نور بیڈ کی طرف آتے ہوئے بولی دیکھ لو تم کوفی کے بغیر بھی زندہ رہ سکتے ہو شافع وارثی۔ ۔

شافع نہیں نفی سر ہلا کر بولا نہیں رہ سکتا اسلئے پلیز بنا دو… اسکی بات کا کوئی اثر لینے کے بجائے نور سیدھی ہوکر لیٹی اور کمبل کو منہ تک اوڑھ لیا،،،

شافع اسے گھورتا ہوا سیدھا ہو کر بیٹھا ارے یہ کیا بد تمیزی ہے؟ نور منہ پر سے کمبل ہٹاتے ہوئے بولی یہ بد تمیزی نہیں ہے مجھے نیند آرہی ہے کوفی کل بنا دوں گی…. شافع اسکے منہ پر سے کمبل ہٹاتے ہوئے بولا کوفی نہ بھی بناؤ لیکن ہم باتیں تو کر سکتے ہیں،،، نور نے اسکے ہاتھ سے کمبل کھینچ کر دوبارہ منہ پر ڈالا،،،

ہم باتیں بھی کل کر لیں گے ابھی مجھے بہت نیند آرہی ہے، تم بھی جاگنے کے بجائے لائٹس آف کر کے سو جاؤ، شافع نے اسے گھورا اور بولا “آخر کوئی اتنا ظالم کیسے ہو سکتا ہے؟” نور کمبل میں سے ہاتھ نکالتے ہوئے بولی شافع خود سے باتیں کرنے کے بجائے لائٹس آف کر کے سو جاؤ،،، شافع نے پہلے اسے گھورا پھر اٹھتے ہوئے بولا”جو حکم آپکا”……. اٹھ کر اسنے لائٹیں بند کیں اور چینج کرنے چلا گیا…

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگلے دن زایان صبح نو بجے کے قریب حویلی کے لئے حیدر صاحب، ارفہ بیگم اور میراب کو لے کر گھر سے نکلا تھا.اسنے کریم کلر کی شلوار قمیض پہن رکھی تھی بالوں کو جیل لگا کر سیٹ کر کے اسٹائلش گلاسیز لگائے ہوئے تھے…. ہائی وے پر پہنچ کر اسنے ناشتہ کرنے کے لئے گاڑی روکی سب نے کہا کہ یہیں ناشتہ منگوا لو لیکن وہ سب کو لے کر اندر چلا گیا،،،ڈٹ کر ناشتہ کرنے کے بعد وہ لوگ وآپس گاڑی میں آئے،،،، اور راستے میں ناجانے اسنے کتنی جگہ گاڑی روک کر اپنی تصویریں کھینچی تھیں، راستے میں کوئی بھی چیز بیچنے والا اسکی گاڑی کے پاس سےخالی ہاتھ نہیں گیا تھا چاہے وہ کچھ بھی کھانے کی چیز بیچ رہا ہو زایان لے ضرور رہا تھا….

گاڑی میں اسنے تیز آواز میں ڈسکو گانے بھی لگا دیئے تھے اور ہر بیٹ پر وہ اور میراب چینختے ہوئے گانا گاتے ارفہ بیگم اسے چینخ چینخ کر گانے بند کرنے کو کہہ رہی تھیں لیکن وہ زایان حیدر ہی کیا جو کسی کی سن لے،،،،،،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نور کھڑکی پر کھڑی باہر جھانک رہی تھی، جب شافع کمرے میں آیا شافع اسکے پیچھے سے آتے ہوئے بولا کھڑکی پر سے ہٹ جاؤ یہاں لڑکیوں کو کھڑکی سے جھانکنے کی اجازت نہیں ہے کسی نے دیکھ لیا تو اچھا نہیں لگے گا، نور نے مڑ کر اپنے ہاتھ میں موجود سگریٹ اسکے آگے کی…. شافع کی آنکھیں پھٹیں یہ کیا ہے؟ نور سپاٹ چہرے سے بولی یہ چاکلیٹ ہے… شافع نے مسکراہٹ دباتے ہوئے گدی پر ہاتھ پھیرا تمھے کہاں سے ملی یہ؟ نور کھڑکی کی طرف اشارہ کر کے بولی کھڑکی کے کونے سے شافع نے زبان دانتوں تلے دبائی…. اور خاموش ہوگیا…. نور غصے سے بولی کل تم نے ہی سگریٹ پی تھی نہ تبھی تو مجھے کمرے میں سگریٹ کی بدبو آرہی تھی، شافع خاموش رہا، نور اسکی طرف دیکھتے ہوئے بولی تم سگریٹ پیتے ہو؟ میں نے کبھی دیکھا تو نہیں ہے تمھے سگریٹ پیتے ہوئے… شافع گدی سہلاتے ہوئے بولا نہیں کبھی کبھی پیتا ہوں بس،،، نور نے آنکھیں گھمائیں اور سگریٹ ڈسٹبن میں پھینک دی…..

نور ڈریسنگ کی دراز میں کچھ ڈھونڈ رہی تھی شافع اسکے پیچھے آکر کھڑا ہوا… کیا ڈھونڈ رہی ہو؟ نور دراز چھانتے ہوئی بولی میں نے ایک رنگ اتار کے رکھی تھی مل نہیں رہی، شافع اسے اپنی طرف گھماتے ہوئے بولا،چھوڑ دو بعد میں ڈھونڈ لینا… نور نے بھنویں اچکاتے ہوئے پوچھا کیوں تمھے کوئی کام ہے کیا؟ شافع اسکے ماتھے پر آئے بال پیچھے کرتے ہوئے بولا نہیں کام تو کوئی نہیں ہے بس ایسی ہی، اچانک دروازے پر دستک ہوئی،،، شافع نے کوفت سے آنکھیں گھمائیں اور پیچھے ہٹتے ہوئے بولا آجائیں…..

ایک ملازمہ دروازہ کھول کر اندر آئی اور نور سے بولی بی بی جی آپ کو نازیہ بی بی بلا رہی ہیں. نور گردن ہلاتے ہوئے بولی میں آتی ہوں. ملازمہ چلائی گئی تو شافع بھنویں چڑھاتے ہوئے بولا یار یہاں کوئی ہمیں سکون سے بات کیوں نہیں کرنے دے رہا ہر کوئی غلط وقت پر آجاتا ہے… نور اسکے انداز پر ہنستے ہوئے جانے لگی تو شافع نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا کہاں جا رہی ہو؟ نور گردن موڑ کر بولی بھابھی کے پاس، شافع آنکھیں دکھاتا ہوا بولا بعد میں چلی جانا ابھی بیٹھ جاؤ…. شافع کیا ہوگیا ہے کیا پتا انھے کوئی ضروری بات کرنی ہو…. شافع اسے منا کر رہا تھا جب اسے کسی گاڑی کے رکنے کی آواز آئی…

وہ کھڑکی کی طرف گیا، نیچے کھڑی گاڑی کو دیکھ کر اسکے چہرے پر مسکراہٹ آئی نور کی طرف دیکھ کر بولا زایان آگیا چلو نیچے، نور نے اسے دیکھ کر دانت پیستے ہوئے دل میں سوچا، ابھی مجھے جانے سے منا کر رہا تھا اور اب زایان کو دیکھ کر جانے کی لگ رہی ہے، شافع نور کا ہاتھ پکڑ کر اسے کمرے سے باہر لے آیا….

زایان گاڑی سے اترا اسکے ساتھ ہی حیدر صاحب، ارفہ بیگم اور میراب بھی گاڑی سے اترے، ابراہیم صاحب کو کسی ملازم نے آکر خبر دی تو وہ جلدی سے باہر آئے، انکے پیچھے ہی شافع بھی باہر کی طرف آیا، نور کو اسنے لاؤنج میں رکنے کا کہہ دیا تھا کیونکہ وہ اس حویلی کے اصولوں سے واقف تھا،،، ابراہیم صاحب مسکراہٹ کے ساتھ آگے بڑھے اور حیدر صاحب سے گلے لگ کر حال احوال پوچھنے لگے حیدر صاحب سے مل کر وہ زایان کی طرف بڑھے اور اسکی پیٹھ تھپ تھپاتے ہوئے بولے اور برخوردار کیا حال ہیں؟ زایان معصومیت کی مثال قائم کرتے ہوئے ہلکا سا مسکرا کر بولا میں بالکل ٹھیک ہوں انکل…. شافع بھی حیدر صاحب سے مل کر زایان کی طرف بڑھا زایان شافع سے گلے ملتے ہوئے سرگوشی میں بولا ماحول کیسا ہے یہاں کا بھائی؟ شافع شرارت سے مسکرا کر اسکے کان میں بولا ماحول بہت گرم ہے بھائی یہاں کا،، زایان ہنسہ حیدر صاحب ابراہیم صاحب سے بولے گاڑی میں کچھ سامان رکھا ہے وہ نکلوا لیں ابراہیم صاحب نے مسکرا کر اثبات میں گردن ہلائی،،، اور دو ملازم کو آواز لگا کر بلایا، ملازم گاڑی میں سے مٹھائی کے ڈبے اور فروٹ باسکٹ نکال کر اندر لے جانے لگے،،،

ابراہیم صاحب ملازم سے بولے بیگم صاحبہ اور بٹیا کو اندر زنانے تک چھوڑ دو اور بھائی صاحب آپ ہمارے ساتھ آجائیں… ارفہ بیگم اثبات میں سر ہلا کر میراب کو لے کر ملازم کے پیچھے چل دیں اور ابراہیم صاحب حیدر صاحب، زایان اور شافع کو لے کر بیٹھک کی طرف چل دیئے…

ارفہ بیگم اور میراب لاؤنج تک پہنچے تھے جب انھے نور دکھی نور کو دیکھ کر میراب والہانہ خوشی سے تیزی سے اسکی طرف بڑھی اور جاکر اسکے گلے لگ گئ،،، عائشہ بیگم اور نازیہ بھی وہاں موجود تھیں وہ دونوں ہی خوش اخلاقی سے ان لوگوں سے ملیں عائشہ بیگم نے ابراہیم صاحب کے کہنے پر اپنا موڈ ٹھیک رکھا ہوا تھا انھے ویسے بھی اپنی بیٹی کی خوشیوں سے مطلب تھا،،،

وہ سب لاؤنج میں لگے صوفوں پر آکر بیٹھ گئے،،، ارحام اپنے کمرے میں تھی اسے اس بات کا علم نہیں تھا کہ آج زایان آنے والے ہے،،، عائشہ بیگم نے ملازموں کو کھانا لگانے کا کہا…. اور آپس میں باتیں کرنے لگے،،،،

بیٹھک میں زایان اور شافع ساتھ ساتھ بیٹھے تھے، سامنے حیدر صاحب، اور ابراہیم صاحب بیٹھے تھے کچھ دیر پہلے شہزاد بھی آگیا تھا اور ان لوگوں کے پاس بات کرنے کے لئے ایک ہی ٹاپک تھا “کاروبار” تو وہ لوگ اسی پر تسلی سے بات کر رہے تھے…. وہاں پر بھی ملازم کھانا لگانے لگے،،، زایان شافع کے کان کے پاس آکر بولا ‘”یار کھانا تسلی سے کھانا ہے یا پھر ہاتھ روک کے” شافع مسکراتے ہوئے بولا مرضی ہے رشتہ تمھارا پکا ہونا ہے اب کھانا دیکھ لو یا لڑکی،،، زایان ہنسہ،،، پھر دوبارہ سرگوشی میں بولا یار تم لوگوں نے تو الگ الگ بیٹھا دیا ہے تمھارے چاچو ارحام کو دیکھنے بھی دیں گے یا نہیں؟ میں نے تو اسے ویسے ہی بہت ٹائم پہلے دیکھے تھا،،، شافع ہنستا ہوا بولا وہ بچاری چار سال تک تمھاری محبت کا روگ لے کر بیٹھ سکتی ہے تو کیا تم شکل دیکھے بغیر اس سے شادی نہیں کر سکتے؟ زایان شرارت سے بولا شادی تو میں کر لوں گا لیکن اگر بعد میں وہ مجھے پسند نہیں آئی تو میں تو پھر جاؤں گا کہ بھئی میں نے تو دیکھا ہی نہیں تھا،،،،

شافع نے ہنستے ہوئے اسکی کمر پر گھونسا مارا،،، زایان دانت پیس کر بولا ویسے مارنے والی تو کوئی بات نہیں تو جو تم نے میری کمر پر اپنا ہاتھ ٹھوکا ہے…. شافع ہنسا کھانا لگ چکا تھا ابراہیم صاحب حیدر صاحب سے بولے حیدر صاحب کھانا شروع کریں،،،، حیدر صاحب بولے کھانے وغیرہ کی ضرورت نہیں تھی بھایی صاحب ویسے بھی کھانے کا وقت نکل چکا ہے… ابراہیم صاحب مسکراتے ہوئے بولے کھانا وقت دیکھ کر نہیں بھوک دیکھ کر کھایا جاتا ہے ویسے بھی آپ لوگ کافی لمبا سفر کر کے آئے ہیں،،،

زایان ہنستے ہوئے بولا بالکل صحیح کہا آپ نے انکل کھانا وقت دیکھ کر نہیں بھوک دیکھ کے کھایا جاتا ہے سب کا قہقہہ بلند ہوا،،، ابراہیم صاحب بولے چلو پھر اسی بھوک کو بجھانے کے لئے شروع ہوجاؤ….

زایان نے کندھے اچکائے اور اپنی پلیٹ میں نارمل انسان کی خوراک کے جتنا کھانا نکالا اور تہذیب و تمدن کے سارے دامن ہاتھ میں تھام کر کھانا کھانے لگے اسے اس طرح کھاتا دیکھ کر شافع نے اپنی ہنسی بہت مشکل سے روکی تھی،،،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کھانے وغیرہ کے سلسلے سے فارغ ہو کر وہ سب وآپس لاؤنج میں آکر بیٹھے تھے،،،، میراب بھنویں اچکاتے ہوئے نور سے سرگوشی میں بولی کہاں ہیں ہماری ہونے والی بھابھی، نور مسکرا کر بولی کمرے میں ہے وہ اپنے،،، میراب پرجوش انداز میں بولی تو بلائیے نہ انھے نور ہنستے ہوئے بولی ذرا تحمل رکھو لڑکی،، میراب ہنس دی…. تھوڑی بہت بات چیت کے بعد ارفہ بیگم عائشہ بیگم سے بولیں آپ ارحام کو بلوا دیں گی پلیز؟ عائشہ بیگم فوراً اٹھتے ہوئے بولی ہاں ہاں ضرور میں ابھی بلاتی ہوں، عائشہ بیگم نے نازیہ سے ارحام کو لے کر آنے کہا،،، تو نور ان سے بولی چاچی میں ارحام کو لے آؤں؟ عائشہ بیگم مسنوعی مسکراہٹ سے بولیں ٹھیک ہے لے آؤ… نور مسکراتے ہوئے اٹھ کر ارحام کو بلانے چلی گئی،،،

نور ارحام کے کمرے میں آئی وہ بیڈ پر بیٹھی تھی وہ شاید سو کر اٹھی تھی،،، نور اسکے پاس آتے ہوئے بولی تم سو رہی تھیں؟ ارحام گردن ہلاتے ہوئے بولی جی سر میں تھوڑا درد تھا تو میں سوگئی تھی…! لیکن کوئی آیا ہے کیا باہر گاڑی کس کی کھڑی ہے؟ نور اثبات میں سر ہلاتے ہوئے مسکرا کر بولی ہاں آیا ہے نہ… ارحام نے سوالیہ نظروں سے پوچھا کون؟ نور شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ اسکے کان کے پاس آکر بولی “زایان حیدر” اسکا نام سن کر ارحام کا دل زوروں سے دھڑکا اسنے زیر لب اسکا نام دھرایا “زایان” ارحام نے بے یقینی سے نور کے ہاتھ پکڑے آپ سچ کہہ رہی ہیں؟ نور نے اثبات میں سر ہلایا… ارحام کو تب بھی یقین نہیں آیا،،، کیا بابا اور بی اماں مان گئے؟ نور اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے بولی وہ تمھارے بابا کی ہی اجازت سے اپنے ماما بابا کو لے کر آیا ہے اور اب تمھے وہ لوگ نیچے بلا رہے ہیں….

ارحام نے مسکراتے ہوئے منہ پر ہاتھ رکھا اور بے ساختہ اسکے آنسوں نکلنے لگے…. نور اسے گلے لگاتے ہوئے بولی ارے ارے رو کیوں رہی ہو؟ ارحام نے کوئی جواب نہیں دیا بس روتی ہی رہی نور نے اسے خود سے الگ کر کے اسکے آنسوں صاف کئے اور مسکراتے ہوئے بولی میں سمجھ سکتی ہوں،،، لیکن اب رونے کے بجائے جلدی سے تیار ہو وہ لوگ تمھارا نیچے انتظار کر رہے ہیں،،،، راحام نے اثبات میں سر ہلا کر اپنے آنسوں صاف کئے اور الماری میں سے اپنے کپڑے نکال کر باتھ روم کی طرف چلی گئی،،،، کچھ دیر بعد وہ کپڑے چینج کر کے باہر آئی نور بیڈ پر ہی بیٹھی تھی،،، ارحام نے جلدی سے اپنے بال بنائے اور ہونٹوں پر ہلکی سی لپ اسٹک لگا کر سر پر دوپٹہ لے کر نور کی طرف پلٹی میں ٹھیک لگ رہی ہوں….؟

نور مسکراتے ہوئے اسکے پاس آئی اور اسکے ہاتھ تھام کر بولی بہت پیاری لگ رہی ہو اب چلیں… نور اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے لے جانے لگی تو ارحام رک گئی، نور نے مڑ کر سوالیہ نظروں سے اسکی طرف دیکھا تو ارحام بولی زایان تو وہاں نہیں ہے نہ؟ نور ہنستے ہوئے بولی وہ وہاں نہیں ہے، اور اب تم چلو ورنہ کہیں وہ کھانا کھانا کرتے ہوئے یہاں نہ آجائے،،، ارحام ہنس دی اور اسکے ساتھ باہر کی طرف چل دی….