Izhar-e-Muhabat by Anooshe NovelR50417 Izhar-e-Muhabat Episode 29
Rate this Novel
Izhar-e-Muhabat Episode 29
Izhar-e-Muhabat by Anooshe
شافع اور نور بی اماں کے کمرے میں موجود تھے…. شافع انکے پاس صوفے پر بیٹھا ہوا تھا، وہ بی اماں کا ہاتھ تھام کر بولا جا رہا ہوں میں… بی اماں نے ایک لمبا سانس کھینچتے ہوئے گردن ہلا کر کہا… ٹھیک ہے ساتھ خیریت کے ساتھ جاؤ، شافع نے اثبات میں گردن ہلائی اور انھے پیار کرتے ہوئے بولا اپنا خیال رکھئے گے… بی اماں نے اسکے سر پر ہاتھ پھیرا، شافع سیدھا ہوا تو نور ڈرتے ہوئے آگے آئی اور بی اماں کا ہاتھ تھامتے ہوئے بولی اگر ہماری وجہ سے آپکے دل کو کوئی ٹھیس پہنچی ہو تو معاف کر دیئے گا، بی اماں نور کی طرف نہیں دیکھ رہی تھیں، انکا منہ دوسری طرف تھا انھوں نے بس آہستہ سے گردن ہلائی اور نور کے سر پر ہاتھ رکھا نور کے چہرے پر مسکراہٹ پھیلی ٹھیک سے ساتھ خیریت کے ساتھ جاؤ. بی اماں نے نور کی طرف دیکھا اور بولیں میرے پوتے کو خوش رکھنا سمجھیں؟ نور نے مسکراتے ہوئے اثبات میں گردن ہلائی اور انکا ہاتھ چومتے ہوئے اٹھ گئی…..
وہ دونوں سب سے مل کر گاڑی کے پاس پہنچے گوہر اور ابراہیم صاحب باہر تک انکے ساتھ آئے تھے… ابراہیم صاحب شافع سے بولے تین دن بعد نکاح ہے مجھے تو سمجھ نہیں آرہا تم جا کیوں رہے ہو نکاح تک رک جاتے… شافع مسکراتے ہوئے بولا نہیں چاچو میری بہت سی میٹنگ پوسٹ پون ہوئی وی ہیں،،، میں نکاح میں زایان کے ساتھ آؤں گا…. ابراہیم صاحب اسکی پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے بولے تو تم لڑکے والوں کی طرف سے شامل ہو گے؟ شافع مسکرایا نہیں میں دونوں طرف سے شامل ہونگا ابراہیم صاحب مسکرائے،،،،
شافع گوہر کی طرف بڑھا، اور اسکے گلے لگا گوہر کے چہرے پر ابھی بھی شرمندگی صاف واضح تھی…. گوہر اس سے گلے ملتے ہوئے بولا ایک بار پھر بولتا ہوں پلیز مجھے معاف کر دینا، شافع اسکے بال بکھیرتے ہوئے بولا ماضی میں جو ہوا اسے برا خواب سمجھ کے بھول جاؤ، شافع اس سے الگ ہوا اور اسکے چہرے پر موجود زخموں کو دیکھتے ہوئے بولا مجھے بھی اس سب کے لئے معاف کر دینا میں نے بنا کچھ سوچے سمجھے، گوہر نے مسکراتے ہوئے اسکا ہاتھ پکڑا “نہیں مجھے اسکی ضرورت تھی” شافع ہنستے ہوئے اسکے سینے پر مارتے ہوئے بولا تو پھر اور ماروں؟ گوہر کراہتے ہوئے بولا نہیں یار اتنی مار کافی ہے ویسے بھی تم نے ضرورت سے زیادہ مار دیا…. شافع نے قہقہہ لگایا….
گوہر نور کی طرف بڑھا اسکے کچھ کہنے سے پہلے ہی نور بولی تمھے اب معافی مانگنے کی ضرورت نہیں ہے، مجھے کسی سے کوئی شکوہ شکایت نہیں ہے… بس ایک مشورہ دینا چاہوں گی، اپنی محبت کسی بھی ایسے انسان پر سرو مت کرنا جسے تمھاری محبت کی قدر نہ ہو اور ویسے بھی منہا تمھاری محبت کے قابل نہیں تھی. گوہر نے گردن جھکائی نور مسکراتے ہوئے بولی اب سب کچھ بھول کر زندگی میں آگے بڑھو اور صحیح کا انتخاب کرو…. گوہر نے اثبات میں گردن ہلائی….
شافع گوہر کی پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے بولا پھر تم کب تک ہو یہاں؟ گوہر بولا ارحام کی شادی تک ہوں اسکے بعد آخری سمسٹر کے امتحان شروع ہیں تو امتحان کے بعد وآپس چلا جاؤں گا… شافع نے اثبات میں گردن ہلائی اور خدا حافظ بولتا ہوا گاڑی میں بیٹھ گیا…. نور بھی گاڑی میں بیٹھی تو شافع نے حویلی پر ایک نظر ڈالتے ہوئے گاڑی باہر کی طرف لے لی…..
_______________________________________
زایان ارفہ بیگم اور ارحام کے ساتھ مال میں تھا…. وہ ارحام کی ہر چیز اپنی پسند سے لے رہا تھا ارفہ بیگم نے اس سے کہا تھا کہ وہ ارحام سے فون کر کے اسکی پسند نہ پسند پوچھ لے لیکن اسنے ارحام سے کچھ پوچھنے کے بجائے خود ہی سب کچھ اپنی پسند سے لیا….
کچھ شاپنگ کے بعد وہ لوگ فوڈ کارٹ میں بیٹھے تھے، ارفہ بیگم نے نور کے لئے بھی شاپنگ کی تھی، ارفہ بیگم زایان سے بولیں زایان ارحام کو یہ سب پسند تو آجائے گا نہ؟ زایان فخریہ انداز میں کالر کھڑے کرتا ہوا بولا کیسے نہیں پسند آئے گا آخر میری پسند ہے، ارفہ بیگم مسکرائیں،،، یہ شافع اور نور کب تک وآپس آئیں گے؟ زایان فرائس منہ میں ڈالتے ہوئے بولا آج آجائیں گے وہ لوگ، شاید اب تک تو پہنچ بھی گئے ہوں گے،،، ارفہ بیگم نے اثبات میں گردن ہلائی…. زایان اپنا برگر ختم کر چکا تھا میراب آرام آرام سے کھا رہی تھی، تو زایان اسکا برگر اٹھاتے ہوئے بولا تم تو کھانے میں اتنی دیر لگا رہی ہو ہمیں ابھی اور بھی شاپنگ کرنی ہے یہ برگر میں ہی کھا لیتا ہوں جلدی سے….
میراب چینختے ہوئے بولی یہ برگر وآپس رکھ دیں بھائی ورنہ اچھا نہیں ہوگا…. زایان بھنویں اٹھاتا ہوا بولا کیوں کیا کر لو گی تم ہاں؟ میراب چینختے ہوئے بولی ماما انھے دیکھیں، ارفہ بیگم زایان کو ڈانٹتے ہوئے بولیں زایان میراب کو اسکا برگر وآپس کرو… زایان نے ایک بہت بڑا بائٹ لے کر برگر میراب کی پلیٹ میں رکھ دیا…. میراب نے برگر اٹھا کر اسکے آگے پیچھے کا جائزہ لیا زایان نے ایک ہی بائٹ میں آدھا برگر کھایا تھا…. میراب غصے سے کھڑے ہوتے ہوئے بولی خود ہی کھالیں یہ اس میں کھانے کو بچا کیا ہے……
زایان برگر وآپس اٹھاتے ہوئے بولا ٹھیک ہے مرضی ہے تمھاری بھلائی کا تو زمانہ ہی نہیں ہے….
______________________________________
نور نے آدھا راستہ سو کر گزارہ تھا…. شافع نے اسے سونے سے منا بھی نہیں کیا تھا کچھ دیر بعد جب اسکی آنکھ کھولی تو شافع کی طرف دیکھ کر بولی ابھی تک پہنچے نہیں؟ شافع نے مسکراتے ہوئے اسکی طرف دیکھا بس پہنچنے والے ہیں تم اٹھی کیوں سو جاؤ میں ایسا کروں گا گاڑی بیڈ روم تک لے جاؤ گا….. نور ہنسی نہیں اسکی ضرورت نہیں ہے میں خود ہی اٹھ گئی ہوں، شافع نے مسکراتے ہوئے اسکا ہاتھ تھاما نور نے سیٹ سے ٹیک لگا لی، وہ باہر دیکھ رہی تھی کچھ دیر بعد وہ سڑک دیکھتے ہوئے بولی شافع ہم کہاں جارہے ہیں؟ شافع مسکراتا ہوا بولا ایک جگہ… نور نے سپاٹ چہرے سے بھنویں اٹھاتے ہوئے پوچھا کونسی جگہ؟ کیونکہ یہ راستہ تو….. شافع نے گردن ہلائی ہاں تم جو سمجھ رہی ہو ٹھیک سمجھ رہی ہو ہم تمھارے گھر ہی جارہے ہیں…. نور شافع کی طرف مڑی، لیکن شافع میں وہاں نہیں جانا چاہتی… شافع نے نور کا ہاتھ دبایا تمھارے بابا ملنا چاہتے ہیں تم سے… نور گردن جھکاتے ہوئے بولی لیکن میں ان سے ملنا نہیں چاہتی….
شافع اسکا چہرہ اوپر کرتے ہوئے بولا یہی بات گردن اٹھا کر بولو…. نور نے نظریں پھیر لیں اور باہر دیکھنے لگی، شافع نے دوبارہ اس سے کچھ نہیں کہا…. کچھ دیر بعد شافع نے صدیقی صاحب کے گھر کے سامنے گاڑی روک دی…. شافع گاڑی میں سے اترا…. لیکن نور نہیں اتری، شافع نے دوسری طرف سے آکر دروازہ کھولا نور نے نظریں اٹھا کر اسکی طرف دیکھا….. شافع نے اپنا ہاتھ آگے کیا،،، لیکن نور نے اپنا ہاتھ آگے نہیں بڑھایا،،، شافع دھیمے لہجے میں بولا نور وہ تمھے یاد کر رہے تھے، نور نے دوبارہ نظریں اٹھا کر شافع کی طرف دیکھا اور پھر اپنے گھر کی بالکنی کی طرف کچھ سوچتے ہوئے وہ باہر نکل آئی شافع نے مسکراتے ہوئے اسے دیکھا اور گاڑی کا دروازہ بند کر کے اسے لئے آگے بڑھ گیا….
نور کے آپارٹمنٹ کے سامنے پہنچ کر شافع نے ڈور بیل بجائی نور شافع کے بالکل پیچھے کھڑی تھی، صدیقی صاحب نے جیسے ہی دروازہ کھولا تو شافع کو دیکھ کر والہانہ انداز میں مسکرائے ارے شافع…. شافع آہستہ سے سائڈ پر ہوا٬ اسکے پیچھے نور گردن جھکائے کھڑی تھی،،، صدیقی صاحب بے یقینی سے اسے دیکھنے لگے اور کپکپاتے لفظوں سے بولے نور…..
نور نے نظریں اٹھا کر انکی طرف دیکھا نور کو پہلی نظر میں ہی وہ بہت کمزور لگے تھے,,,, صدیقی صاحب کچھ دیر یوں ہی سکتے کے عالم میں کھڑے رہے….. پھر کپکپاتے ہاتھوں سے ہاتھ جوڑ کر نور کے سامنے آئے، نور نے فوراً آگے بڑھ کر انکے ہاتھ تھامے،،،، صدیقی صاحب روتے ہوئے بولے مجھے معاف کر دینا میری بچی میں نے تمھارے ساتھ بہت غلط کیا… نور نے روتے ہوئے نفی میں گردن ہلائی، آپ معافی مت مانگیں بابا، صدیقی صاحب روتے ہوئے بولے میں بہت برا باپ ہوں نہ میں اچھا شوہر بن سکا نہ اچھا باپ میں معافی کے قابل تو نہیں ہوں لیکن پھر بھی اگر ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا،،، نور انکے گلے لگتے ہوئے بولی آپ معافی مت مانگیں بابا اور نہ ہی ایسی باتیں کریں….
شافع ان دونوں کو دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولا انکل کیا دروازے پر ہی کھڑا رکھیں گے اندر نہیں بلائیں گے؟ صدیقی صاحب اپنے آنسوں صاف کرتے ہوئے بولے ہاں ہاں بیٹا آؤ نہ اندر…. صدیقی صاحب نور کو خود سے لگائے اندر لے آئے… نور صدیقی صاحب کے ساتھ بیٹھی تھی شافع انکے سامنے والے صوفے پر آبیٹھا….
نور نے ابھی بھی اپنا سر صدیقی صاحب کے سینے پر رکھا ہوا تھا، اس شفقت کے لئے ہی تو وہ بچپن سے ترسی تھی،،، شافع اسے دیکھ کر مسکرایا… شافع صدیقی صاحب سے بولا آپ کی طبیعت کیسی ہے انکل؟ صدیقی صاحب مسکراتے ہوئے بولے ٹھیک ہے بیٹا، نور انکے سینے سے سر اٹھا کر انکی طرف دیکھ کر بولی آپ مجھے بالکل ٹھیک نہیں لگ رہے بابا اپنے اپنا خیال رکھنا چھوڑ دیا ہے…. صدیقی صاحب نور کو دیکھتے ہوئے بولے پہلے ٹھیک نہیں تھی لیکن اب تمھے دیکھ کر میری ساری بیماری دور بھاگ گئی ہے…
نور مسکرائی، نور ان سے لگی کئیں دیر تک باتیں کرتی رہی پھر کچھ یاد آنے پر انکی طرف دیکھ کر بولی بابا منہا کی کچھ خبر ہے آپکو؟ صدیقی صاحب بولے کیوں بیٹا تمھارا اس سے رابطہ نہیں ہے؟ نور نے نفی میں گردن ہلائی، صدیقی صاحب سانس کھینچ کر بولے بس مت پوچھو بیٹا اسکے ساتھ بھی قسمت نے بہت برا کیا ہے، اسکے والد ملے تھے مجھے،، تمھاری شادی کے کچھ دنوں بعد اسکی بھی شادی ہوگئی تھی لیکن قسمت میں کیا لکھا ہے کون جانتا ہے شادی کے اگلے دن کی صبح ہی لڑکے نے طلاق دے کر گھر بھیج دیا تھا…. نور نے شاکڈ کی کیفیت میں منہ پر ہاتھ رکھا، طلاق؟
صدیقی صاحب نے اثبات میں سر ہلایا، ماں باپ بیٹیوں کے لئے سب کر سکتے ہیں سوائے اسکے نصیب بدلنے کے…. نور نے منہ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے سوچا منہا کہ ساتھ جو ہوا وہ صرف قسمت کا لکھا نہیں تھا شاید مکافات عمل تھا….
شافع نے نور کی طرف دیکھا شاید کچھ ایسا ہی خیال اسکے دل میں بھی آیا تھا نور سر جھٹک کر صدیقی صاحب سے دوسری باتیں کرنے لگی،،، وہ لوگ رات تک وہاں رکے تھے رات کا کھانا بھی انھوں نے صدیقی صاحب کے ساتھ باہر کھایا تھا، وآپسی میں وہ صدیقی صاحب کو ڈراپ کرتے ہوئے گھر آگئے…..
نور کے چہرے پر خوشی کے فوارے پھوٹ رہے تھے اور اسے خوش دیکھ کر شافع کی خوشی کا ٹھکانا نہیں تھا…. شافع نے اپنا اور نور کا بیگ لاؤنج میں رکھا اور صوفے پر بیٹھ گیا
نور مسکراتے ہوئے اپنی چادر طے کرتی ہوئی بولی کوفی پیو گے؟ شافع اسکی طرف دیکھ کر بولا تم تھکی نہیں ہو؟ نور مسکراتے ہوئے بولی کوئی بات نہیں بنا دوں گی،شافع نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے صوفے پر بٹھایا میں بنا لوں گا کوفی تم بس میرے پاس بیٹھو….
نور اسکے برابر میں بیٹھی تھی شافع اسکی طرف گھوما،،، اسکے کان میں موجود ٹاپس کو ہاتھ لگاتے ہوئے بولا تم خوش ہو؟ نور مسکراتے ہوئے بولی میرے چہرے سے لگ نہیں رہا کیا؟ شافع مسکرایا بالکل لگ رہا ہے… نور اسکا چہرہ دیکھتے ہوئے بولی تم خوش ہو؟ شافع اسکے کان کے قریب آیا اور آہستہ سے بولا بہت زیادہ….
نور ذچ ہوئی وہ پیچھے ہونے لگی تو شافع مسکرایا، میں سوچ رہا ہوں کیوں نہ ارحام اور زایان کی شادی کے ساتھ ہم اپنا ولیمہ بھی رکھوا لیں… نور نے بھنویں اٹھائیں اسکی کیا ضرورت ہے، شافع مسکراتا ہوا بولا ضرورت کیوں نہیں ہے…. نور ہنستے ہوئے بولی رہنے دو یہ سب ارحام اور زایان کی شادی ہے بس ابھی وہی انجوائے کرو، نور نے شافع کی ناک پر انگلی ماری،،، شافع نے اپنی ناک رگڑی اور منہ بناتے ہوئے بولا تم مجھے میرا کوئی شوق پورا مت کرنے دینا، نور ہنستے ہوئے بولی میں نے تمھارے کون سے شوق پر پابندی لگا دی شافع وارثی…
شافع ہنہہ کرتے ہوئے بولا بس چھوڑو….
نور ہنسی…. نور اپنی چوڑیاں اتار رہی تھی شافع اسے دیکھ کر شرارت سے بولا تمھارے کہنے پر میں یہ ولیمے والا آئیڈیا تو کینسل کر رہا ہوں لیکن میں اپنے بچوں کی برتھ ڈے بہت دھوم دھام سے کروں گا،،، نور کا ہاتھ رکا اسکے کانوں کی لو سرخ ہوئی تھیں،،، شافع نے اپنی ہنسی ضبط کی،،، نور اپنی چوڑیاں سمیٹتے ہوئے بولی میں چینج کرنے جارہی ہوں… وہ اٹھ کر جانے لگی تو شافع اسے ذچ کرتے ہوئے بولا میری بات تو سن لو… نور اسکی طرف دیکھے بغیر مسکرا کر کمرے میں جاتے ہوئے بولی تم کوفی بنانے کا بول رہے تھے شاید تو پلیز میرے لئے بھی بنانا…
شافع نے بھنویں میچیں اور اسے تنگ کرنے کے لئے بولا کیسی بیوی ہو آخر گاؤں سے وآپسی میں سارے راستے تم سوتی رہیں اور میں ڈرائیو کرتا رہا اور اب اپنے تھکے ہوئے شوہر سے بول رہی ہو کے جا کر کافی بناؤ، تمھے پتا ہے ظالم بیویوں کی فہرست میں سب سے پہلا نام تمھارا ہوگا….. نور نے دروازے پر پہنچ کر مڑ کے دیکھا اور مسکراتے ہوئے بولی “مجھے قبول ہے” شافع اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر صوفے پر ڈھیتے ہوئے بولا “ہائے مجھے بھی قبول ہے”
_____________________________________
اگلے دن ابراہیم صاحب نکاح کی تیاریوں کے سلسلے میں زایان کے گھر آئے تھے، اور یہ دو تین دن نکاح کی تیاریوں میں کس طرح گزرے کسی کو پتا بھی نہیں چلا اور آخر کار نکاح کا دن بھی آہی گیا…. زایان کی خوشی کا تو ٹھکانا ہی نہیں تھا،،،، اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ پیر سر پر رکھ کے ناچے اسنے صبح سے ہی گھر میں شور ہنگامہ مچایا ہوا تھا وہ صبح سے کوئی دس دفعہ ارفہ بیگم سے پوچھ چکا تھا کہ کب جائیں گے ہم؟
وہ ڈریسنگ کے سامنے کھڑا قمیض کے بٹن لگا رہا تھا اسنے سفید شلوار قمیض پہنی ہوئی جس کے ساتھ مہرون رنگ کی واسکٹ تھی جس پر گولڈن رنگ سے بریک سا ڈیزائن بنا ہوا تھا، قمیض کے بٹن لگا کے اسنے برش اٹھایا اور جیل سے بال سیٹ کرنے لگا، بال سیٹ کرنے کے دوران اسنے شافع کو فون لگایا شافع کے کال ریسیو کرنے پر زایان اس پر برس پڑا یار کہاں ہو تم؟ تم تو بالکل مہمانوں کی طرح آؤ گے لگ رہا ہے…. دوسری طرف سے شافع ہنستا ہوا بولا میں تھوڑی دیر میں آرہا ہوں یار ابھی بہت وقت ہے لگتا ہے تمھے بہت جلدی ہے….. زایان فون اسپیکر پر کر کے اپنے بال سیٹ کرتے ہوئے بولا تم زیادہ باتیں مت بناؤ اور فٹا فٹ گھر پہنچو … شافع مسکراتے ہوئے بولا ہاں ہاں پہنچ رہا ہوں تھوڑی دیر میں بے صبرے انسان،،،، شافع نے مسکراتے ہوئے فون کاٹ دیا، اور بالکنی میں سے نکل کر کمرے کی طرف آیا دروازہ پر ہلکی سی دستک دے کر محتاط انداز میں اندر آیا…. نور ڈریسنگ کے سامنے کھڑی اپنا دوپٹہ کندھے پر ٹکا رہی تھی شافع کو اندر آتا دیکھ کر اسنے اپنا رخ شافع کی طرف کیا… نور نے پیچ رنگ کے غرارے کے ساتھ بلیک رنگ کی قمیض پہن رکھی تھی جس میں پیچ رنگ سے ہی ہلکا سا نگوں کا کام ہوا وا تھا دوپٹہ بھی پیچ رنگ کا تھا جس کے بارڈر پر بلیک مخمل کی پٹی لگی ہوئی تھی اور اس پر نگوں کا کام ہوا وا تھا نور کے لئے یہ سوٹ ارفہ بیگم نے ارحام کی شاپنگ کرتے ہوئے لیا تھا اور انھوں نے اصرار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ زایان کے نکاح پر یہی سوٹ پہنے….
شافع بنا پلکھیں جھپکائے اسے دیکھتے ہوئے آگے بڑھا….. شافع نے سفید شلوار قمیض پر بلیک واسکٹ پہنی ہوئی تھی جسکے کالر پر سلور رنگ کی پٹی لگی ہوئی تھی جو نیچے آتے ہوئے بٹنوں کے ساتھ ڈیزائن بنا رہی تھیں،،،، نور نے اسے خود کو اسطرح دیکھتے دیکھا تو اسکے آگے چٹکی بجاتے ہوئے بولی کہاں کھو گئے؟ شافع اسکی کاجل سے بھری ہوئی آنکھیں دیکھتے ہوئے بولا “ان آنکھوں میں” اسکی آنکھوں کے اردگرد کالی لکیریں تھیں جسکی وجہ سے آنکھوں کا رنگ زیادہ واضح ہورہا تھا،،، نور نے نظریں چرائیں…. شافع اسکے چوڑیوں سے بھرے ہاتھ آگے کرتے ہوئے بولا مجھے مارنے کا ارادہ ہے کیا؟ نور اسے گھورتے ہوئے بولی اللہ نہ کرے…. شافع مسکرایا تو نور بھنویں اچکاتے ہوئے مسکرا کر بولی تم نے بتایا نہیں میں کیسی لگ رہی ہوں…..
شافع اسکے کندھے پر گرے بال پیچھے کرتے ہوئے بولا میری آنکھوں سے تمھے پتا نہیں چل رہا کیا ابھی بھی کچھ کہنے کی ضرورت ہے…. نور اسکے ہاتھوں میں موجود اپنے ہاتھ دیکھ کر کھلکھلا کر ہنسی…. اور پھر اسکے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے بولی، آنکھیں تو بتا رہی ہیں لیکن میں زبان سے سننا چاہتی ہوں…. شافع اسکے کان کے پاس آکر آہستہ سے بولا کیا میں وہی کہوں جو اکثر کہتا ہوں؟ نور نے مسکراتے ہوئے نہ سمجھی سے بھنویں اٹھائیں،،، کیا؟
شافع اسکے مزید قریب ہوا اور اسکی کمر کے گرد ہاتھ پھیلا کر اسکے کندھے پر سر رکھ کر بولا “ایسے مت کیا کرو یار ورنہ مجھے تم سے عشق ہو جائے گا” نور اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کے کھلکھلا کر ہنسی،،،، شافع بھی ہنس دیا, پھر اس سے الگ ہوتے ہوئے بولا اب سمجھ گئیں کیسی لگ رہی ہو… نور نے مسکراتے ہوئے گردن ہلائی….. شافع اسکے ہاتھ ہلاتے ہوئے بولا اب تم بتاؤ میں کیسا لگ رہا ہوں….
نور نے اس پر ایک بھرپور نگاہ ڈالی اور پھر اسکا کالر ٹھیک کرتے ہوئے بالوں پر ہاتھ پھیر کر بولی اچھے لگ رہے ہو… اسکے بالوں پر ہاتھ پھیرنے سے شافع بہت لطف اندوز ہوا تھا…. شافع شرارت سے بولا تم یہ کیوں نہیں کہہ رہیں کہ میں نظر لگ جانے کی حد تک اچھا لگ رہا ہوں….. نور نے فوراً اس پر سے نظریں ہٹائیں ایک سیکنڈ کے لئے اسے ڈر لگا تھا کہ کہیں شافع کو اسی کی نظر نہ لگ جائے…. نور اپنا رخ شیشے کی طرف دیکھ کر بولی اب اتنے بھی اچھے نہیں لگ رہے، اپنی تعریفیں خوب جھاڑنی آتی ہیں تمھے….. نور اپنا لائنر ٹھیک کر رہی تھی شافع پرفیوم اٹھا کر خود پر چھڑکتے ہوئے بولا اب جب میری ظالم بیوی ٹھیک طرح میری تعریف نہیں کرے گی تو مجھے خود ہی اپنی تعریف کرنی پڑے گا….
شافع نے خود پر اسپرے کرنے کے بعد نور پر اسپرے کیا تو نور پیچھے ہوتے ہوئے بولی شافع مجھے مت لگاؤ یہ بہت زیادہ ہارڈ ہے….. شافع بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے مسکرا کر اسکے قریب ہوتے ہوئے بولا لیکن مجھے پسند ہے…. نور ہنستے ہوئے بولی چڑیلیں چپک جائیں گی٬ شافع شرارت سے اسے تنگ کرنے کے لئے بولا تم ساتھ ہو گی تو کوئی چڑیل میرے قریب کیوں آئے گی…. نور نے آنکھیں بڑی کیں اور اسے گھورتے ہوئے بولی تم مجھے چوڑیل بول رہے ہو…. شافع فوراً نفی میں سر ہلا کر اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کے بولا نہیں میں تمھے ایسا بول سکتا ہوں کیا؟ نور نظریں جھکا کر مسکرائی، شافع سیدھا ہوتے ہوئے بولا اب چلیں؟ ورنہ زایان دوبارہ فون گھما دے گا… نور اپنی چادر اٹھاتے ہوئے بولی ہاں ہاں چلو میں تیار ہوں….
نور نے چادر اپنے گرد ڈال کر دونوں ہاتھوں سے اپنا غرارہ اوپر کیا تو وہ شافع کی طرف دیکھ کر بولی شافع میرا پرس بس نیچے گاڑی تک کے لئے اٹھا لو گے پلیز؟ شافع نے آنکھیں بڑی کیں، تو کیا اب مجھے یہ کام بھی کرنے پڑیں گے؟ نور آنکھیں پٹپٹاتے ہوئے بولی اچھے شوہر اپنی بیوی کے سب کام کرتے ہیں، شافع اپنی گاڑی کی چابیاں اور نور کا پرس اٹھاتے ہوئے بولا زایان ٹھیک کہتا ہے تم مجھے زن مرید بنا کر چھوڑو گی، نور اسکی طرف دیکھ کر بولی بننے میں ویسے کوئی ہرج بھی نہیں ہے… شافع نے لاک لگاتے ہوئے گردن ہلائی جی جی بالکل کیوں نہیں…..
نور نے اپنا غرارہ دونوں ہاتھوں سے تھوڑا اٹھایا ہوا تھا شافع اسے دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولا کہوں تو گاڑی تک تمھے اٹھا کر لے جاؤں؟ نور آنکھیں گھما کر بولی شافع……. شافع ہنستے ہوئے بولا دوبارہ بولو… نور نے بھنویں اچکا کر پوچھا کیا؟ شافع مسکراتے ہوئے بولا یہی شافع……….
نور نے ہنستے ہوئے اسکا ہاتھ پکڑا اور اسے لے جانے کے لئے ہاتھ کھینچنے لگی، شافع ہنستے ہوئے اسکے ساتھ چل دیا
_______________________________________
زایان نے اپنی مہرون رنگ کی واسکٹ پہنی، اور خود پر ایک بھرپور نظر ڈالنے لگا،،، وہ پوری طرح تیار تھا لیکن اپنے بالوں سے وہ ابھی تک مطمئن نہیں ہورہا تھا،،، وہ بار بار بالوں پر ہاتھ پھیر کر ناجانے کس طرح بٹھانا چاہ رہا تھا،،،،
اتنے میں میراب چینختی ہوئی دروازہ کھول کر کمرے میں داخل ہوئی،،، بھائی ماما پوچھ رہی ہیں کب تک تیار ہوں گے….؟ لیکن جیسے ہی اسکی نظر زایان پر پڑی اسکے لفظوں کو بریک لگا… اور اس پر اوپر سے نیچے تک نظر ڈالتے ہوئے آگے آئی…. زایان بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا کیا میں اتنا ہینڈسم لگ رہا ہوں کہ مجھے دیکھ کر تمھاری بولتی بند ہوگئی… میراب نے فوراً پلکھیں جھپکائیں اور منہ بناتے ہوئے بولی ناجانے کیوں لوگوں نے خود کو خوش فہمیوں میں مبتلا کر رکھا ہے،،، یقین مانیں بھائی دولہے کم ڈھول بجانے والے زیادہ لگ رہے ہیں،،، زایان نے دانت پیسے اور اسے دیکھتے ہوئے بولا اور اپنے بارے میں تمھارا کیا خیال ہے یہ جو ٹینٹ کے جتنا تم نے غرارہ پہن رکھا ہے اسی میں اٹک کے گر مت جانا اور یقین مانوں میراب میری ہنسی ایک منٹ کے لئے نہیں رکے گی اگر تم سب کے سامنے گر گئیں تو…. میراب آنکھیں گھماتے ہوئے بولی جی تو آپ سے مجھے کوئی اچھی امید ہے بھی نہیں… زایان اسے منہ چڑا کر وآپس بال ٹھیک کرنے لگا میراب کمر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی اگر آپکا یہ سولہ سنگھار ہوگیا ہو تو نیچے چلیں؟ زایان تنگ آتے ہوئے بولا یار یہ بال سیٹ ہو ہی نہیں رہے آج… میراب آنکھیں پٹپٹاتے ہوئے بولی ایک کام کریں پراندہ دیتی ہوں وہ لگا لیں یقین مانیں ارحام بھابھی دیکھتی کی دیکھتی رہ جائیں گی…. بولتے ہی میراب باہر بھاگی تھی، اور زایان نے ڈریسنگ پر پڑا موبائل کور اٹھا کر اسے مارنے کے لئے پھینکا تھا جو اسے لگنے کے بجائے دروازے پر لگ گیا تھا نشانہ چک جانے پر زایان مٹھیاں بھینچ کر بولا…. “موٹی چھپکلی”
_______________________________________
آئےنور اور شافع زایان کے گھر پہنچے،،، انھے دیکھ کر ارفہ بیگم مسکراتے ہوئے آئےنور کی طرف بڑھیں اور اس سے گلے ملتے ہوئے بولیں ماشاءاللہ بہت پیاری لگ رہی ہو اللہ نظریں بد سے بچائے،،، شافع حیدر صاحب سے مل رہا تھا…. حیدر صاحب اس سے بولے بھئی شافع تم تو مہمانوں کی طرح آرہے ہو اتنی دیر لگا دی تم نے…. شافع نور کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا انکل میں نے نہیں انھوں نے دیر لگائی ہے میں تو کب سے تیار تھا، آپ یہ بتائیں کوئی کام رہ گیا تھا کیا؟ حیدر صاحب مسکراتے ہوئے اسے لے کر صوفے کی طرف بڑھے ارے نہیں نہیں سب کام تو تم کل نپٹا گئے تھے لیکن تمھے تو پتا ہے یہ عورتیں کوئی نہ کوئی کام نکالتی رہتی ہیں تھوڑی تھوڑی دیر بعد بولتیں ہیں حیدر صاحب یہ رہ گیا حیدر صاحب آپ نے وہ نہیں منگوایا…. شافع ہنسا…
ارفہ بیگم منہ بناتے ہوئے بولیں آخر میرے بیٹے کی شادی ہے میں تو چاہوں گی نہ کہ سب کچھ پرفیکٹ رہے… میراب سیڑھیوں سے اترتے ہوئے آئی اور وہیں سے چینخ کر بولی ماما میں نہیں جاؤں گی اب بھائی کو بلانے آپ خود دیکھ لیں،،،، شافع اٹھتا ہوا بولا میں دیکھتا ہوں…. میراب سیڑھیوں سے اترتے ہوئے غرارے میں اٹک کر دو دفعہ گرتے گرتے بچی تھی….
وہ آکر نور سے ملی اور اسے پیار کرتے ہوئے بولی اللہ آپ اتنی پیاری کیوں لگ رہی ہیں. نور مسکراتے ہوئے بولی کیونکہ تم بہت پیاری لگ رہی ہو. میراب کھلکھلا کر مسکرا دی…. شافع زایان کے کمرے کی طرف جارہا تھا ارفہ بیگم اسے آواز لگا کر بولیں شافع بیٹا اس نالائق کو جلدی سے بلا لاؤ صبح سے خود ہی بار بار پوچھ رہا تھا اور اب جب جانے کا ٹائم ہے تو خود دیر لگا رہا ہے……
شافع مسکراتے ہوئے بولا میں اسے لے کر آتا ہوں آنٹی….
شافع بغیر دستک دیئے کمرے میں داخل ہوا،،، شیشے میں اپنے عقب میں شافع کو دیکھ کر زایان فوراً مڑا اور اسکی طرف بڑھتے ہوئے بولا کہاں مر گئے تھے بھائی تم؟ شافع ہنستے ہوئے اسکے گلے لگا،،، اور اس پر نظر ڈالتے ہوئے بولا کیا بات ہے تم تو فل تیار ہو…. زایان نے اسے آنکھ مارتے ہوئے اسکے سینے پر ہاتھ مارا تیاری تو تمھاری بھی پوری ہے کہیں پھر سے شادی کا ارادہ تو نہیں ہے؟ میں تو کہتا ہوں میرے ولیمے والے دن اپنا ولیمہ بھی رکھ لو قسم سے بہت مزہ آئے گا…. شافع ہنسا اور زایان کی واسکٹ کے بٹن ٹھیک کرتے ہوئے بولا میں بھی یہی سوچ رہا تھا لیکن آئےنور منا کر رہی ہے… زایان بھنویں اچکا کر بولا اسے کیا مسئلہ ہے؟ شافع اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا بس وہ نہیں چاہتی تم یہ سب چھوڑو اور نیچے چلو سب انتظار کر رہے ہیں…. زایان کو وآپس اپنے بال یاد آئے تو شیشے کی طرف جاتے ہوئے بولا یار یہ بال آج صحیح طرح سیٹ ہی نہیں ہورہے…. شافع آگے آتے ہوئے بولا کیوں کیا ہوگیا٬ زایان کندھے اچکا کر بولا ہوا تو کچھ نہیں ہے بس مجھے اچھے نہیں لگ رہے… شافع نے زایان کی پیٹھ پر ہاتھ مارا بالکل ٹھیک لگ رہے ہو تم کچھ زیادہ ہی اوور ایکسائٹڈ ہورہے ہو اسلئے تمھے کچھ سمجھ نہیں آرہا…..
زایان دانت نکالتے ہوئے بولا کیا کروں یار پہلی پہلی شادی ہے اکسائیٹڈ تو ہونگا نہ…. شافع ہنسا اچھا ٹھیک ہے لیکن اب نیچے چلو٬ زایان اپنی گھڑی پہنتے ہوئے بولا ہاں ہاں بس چلو……..
وہ دونوں نیچے آرہے تھے انھے سیڑھیوں سے اترتا دیکھ کر میراب ارفہ بیگم سے بولی لیں آگئے آپکے لاڈلے صاحب زادے… ارفہ بیگم نے گردن موڑ کر سیڑھیوں کی طرف دیکھا اور مسکراتے ہوئے سیڑھیوں کی طرف بڑھیں ،،، زایان مسکراتے ہوئے انکے سامنے آکر کھڑا ہوا ارفہ بیگم اسکا ماتھا چومتے ہوئے بولیں ماشاءاللہ بلکل شہزادہ لگ رہا ہے میرا بیٹا…. پیچھے سے میراب زایان کو منہ چڑھاتے ہوئے بولی ناجانے کیوں ہر ماں کو اپنا بیٹا شہزادہ لگتا ہے ارے کوئی کوئی تو موچی، چپڑاسی ،ڈھول بجانے والا بھی لگتا ہے… زایان اسے گھورتے ہوئے بولا میراب اگر تم چاہتی ہو کہ میں جانے کے ٹائم تمھارا میک اپ اور کپڑے خراب نہ کروں تو بہتر ہے کہ تم چپ رہو… میراب فوراً ڈرتے ہوئے حیدر صاحب کے پیچھے چھپی وہ نہیں چاہتی تھی اسکا اتنا مہنگا سوٹ زایان ایک منٹ میں خراب کر دے… ارفہ بیگم نے میراب کو گھورا اور پھر زایان کی بلائیں لیتے ہوئے بولیں میرے بیٹے کو کسی کی نظر نہ لگے…. پیچھے سے حیدر صاحب بولے ارے ارفہ بیگم دوسرے بیٹے کی بھی بلائیں لے لیں اسے نظر لگنے کا زیادہ خطرہ ہے…. ارفہ بیگم مسکراتے ہوئے شافع کی طرف بڑھیں اور اسکی بلائیں لیتے ہوئے بولیں کیوں نہیں لوں گی میں اپنے اس بیٹے کی بلائیں،، اللہ تم دونوں کو بہت خوش رکھے…. شافع مسکرایا,,,, زایان ہڑبڑی مچاتے ہوئے بولا،،، سب کچھ ہوگیا ہو تو اب چلیں؟ ارفہ بیگم فوراً بولیں ہاں ہاں سب ہو گیا ہے حیدر صاحب اپنے سارا سامان گاڑی میں رکھوا دیا تھا نہ؟ حیدر صاحب باہر جاتے ہوئے بولا ہاں بھئی سب رکھوا دیا آپ بس چلیں…. سب لوگ باہر آگئے….. حیدر صاحب ارفہ بیگم اور میراب ایک گاڑی میں بیٹھے تھے گاڑی کی پیچھے والی سیٹ پر بھی سامان رکھا ہوا تھا شافع اپنی گاڑی میں آکر بیٹھا نور نے جیسے ہی اپنی طرف کی سیٹ کا دروازہ کھولا، زایان اسے پیچھے کرتے ہوئے بولا ایکسکیوزمی یہاں میں بیٹھوں گا…. اور وہ نور کا کوئی تاثر دیکھے بغیر شافع کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھ گیا….. نور نے آنکھیں پھاڑ کر اسے گھورا تم ہمارے ساتھ جاؤ گے؟ زایان دانت نکالتے ہوئے گردن اوپر نیچے کر کے بولا جی ہاں کیونکہ ہماری گاڑی میں سامان بھرا ہوا ہے…. نور شافع کی طرف آئی اور آہستہ سے بولی شافع میں اسے پورے راستے برداشت نہیں کر سکتی…. شافع ہنسا زایان جھانکتے ہوئے بولا برداشت تو تمھے کرنا پڑے گا کیونکہ اسکے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے تمھارے پاس…. نور نے دانت پیستے ہوئے اسے دیکھا اور غصے سے پیچھے کا دروازہ کھول کر بیٹھ گئی اور ایک دھاڑ کے ساتھ دروازہ بند کیا شافع نے گاڑی اسٹارٹ کردی زایان نور کی طرف مڑ کر بولا دروازہ تو آرام سے بند کرو میرے دوست کے خون پسینے کی کمائی کی گاڑی ہے یہ….
نور نے آنکھیں بڑی کر کے اسے دیکھا تم بھول رہے ہو تمھارا دوست میرا شوہر ہے…. زایان اداکاری کرتے ہوئے بولا اوہ سچ میں؟ اچھا ہوا تم نے بتا دیا ورنہ مجھے تو پتا ہی نہیں چلتا….. نور نے دانت پیسے اور ضبط سے مٹھیاں بھینچیں وہ جانتی تھی زایان حیدر سے لڑنا مطلب دیواروں سے سر مارنا… اسلئے وہ خود ہی چپ ہوگئی….. زایان نے بھی آنکھیں گھمائیں اور آگے منہ کر لیا کچھ دیر بعد اسنے اپنی جیب میں سے ڈرائی فروٹ کا پیکٹ نکالا اور کھول کر کھانے لگا اس میں سے اسنے دو کاجو نکال کر شافع کے منہ میں ڈال دیئے کیونکہ اس سے زیادہ وہ نہیں دے سکتا تھا٬ نور نے اسے گھورا اور دل میں سوچنے لگی مطلب اس میں اتنی بھی مروت نہیں ہے کہ مجھ سے پوچھ ہی لے میں کونسا اسکی طرح بھوکی ہوں جو یہ پوچھے گا اور میں کھالوں گی….
شافع نے ڈارئی فروٹ کے پیکٹ میں ہاتھ ڈالا تو زایان نے اسے کھا جانے والی نظروں سے گھور کر پیکٹ پیچھے کیا…. کیا ہوگیا تمھے دو کاجو کھلا تو دیئے اور کھاؤ گے کیا اب؟ شافع نے آنکھیں بڑی کیں دو ہی کھلائیں ہیں کوئی دو لاکھ تو نہیں کھلا دیئے٬ اور نور سے تو تم نے پوچھا ہی نہیں…. زایان نے پیچھے دیکھا اور سر پر ہاتھ مار کے بھرپور اداکاری کرتے ہوئے بولا اوہ میں تو بھول ہی گیا تھا کہ یہ بھی اس گاڑی میں موجود ہے….. شافع نے ہنستے ہوئے اسکے سر پر چپت لگائی…. زایان اسکی طرف پیکٹ بڑھائے بغیر بولا تم کھاؤ گی نور؟ نور نے نفی میں سر ہلایا نہیں تم اپنا تندور بھرو… زایان شافع کی طرف دیکھ کر بولا دیکھ لیا میں اسی لئے نہیں پوچھ رہا تھا تھوڑی تمیز سکھاؤ یار اپنی بیوی کو نور کو غصہ آگیا وہ شافع سے بولی شافع تم گاڑی روکو میں انکل آنٹی کے ساتھ دوسری گاڑی میں آجاؤں گی میراب کو میں یہاں بھیج رہی ہوں…. شافع فوراً زایان کو گھورتا ہوا بولا زایان چپ کر جاؤ یار پلیز….
زایان نے منہ پر انگلی رکھ لی… شافع بیک ویو مرر ٹھیک کرتے ہوئے بولا نور تمھے آگے آنا ہے؟ زایان نے شافع کو گھورا، نور نفی میں سر ہلا کر بولی نہیں میں ٹھیک ہوں…., زایان شافع سے سرگوشی میں بولا تم اتنے بے وفا ہو جاؤ گے ہم نے سوچا نہ تھا، شافع ہنستے ہوئے بولا میں نے کونسی بے وفائی دکھادی بھائی؟ زایان سرگوشی میں بولا تم اپنے بھائی، اپنے دوست، اپنے جگر کو پیچھے بٹھادو گے، اپنی بیوی کو آگے بٹھانے کے لئے…. شافع ہنستے ہوئے بولا تم تو ایسے بول رہے ہو جیسے میں تمھے پیچھے نہیں گاڑی کہ چھت پر بٹھا رہا تھا… زایان بادام منہ میں ڈالتے ہوئے بولا جو بھی تھا…. شافع اسکا ہاتھ پکڑتے ہوئے بولا اچھا بھائی بھیجا تو نہیں نہ….
کچھ دیر بعد زایان نے گانے لگا دیئے٬ نور نے کوفت سے آنکھیں گھمائیں اسنے اتنے شور شرابے والے گانے لگائے ہوئے تھے کہ اسکے سر میں درد ہونے لگا،،، اور اس لمحے اسے شدت سے ارحام کی فکر ہوئی تھی کہ وہ اس لڑکے کے ساتھ کیسے زندگی گزارے گی…. زایان نے گانے کی آواز کم کی اور مڑ کر بولا نور تم بور تو نہیں ہورہیں نہ؟ نور دانت پیستے ہوئے مسکرائی نہیں بالکل بھی نہیں،،، زایان ہنستا ہوا بولا پھر تم ضرور دل میں مجھے گالیوں سے نواز رہی ہوں گی شافع ہنسا،،،،
نور نفی میں سر ہلا کر بولی نہیں میں ایسا بھی کچھ نہیں کر رہی میں بس یہ سوچ رہی ہوں کہ ارحام بیچاری کا کیا ہوگا…. زایان نے بھنویں اٹھائیں مطلب؟ نور آنکھیں پٹپٹا کر بولی مطلب ایک ابنارمل انسان کے ساتھ ساری زندگی گزارنا آسان بات تو نہیں ہے…. زایان اسکی بات کا اثر لئے بغیر بولا اب کیا کر سکتے ہیں میرا دوست بھی تو آخر تمھارے ساتھ زندگی گزار ہی رہا ہے نہ اسی طرح ارحام بھی میرے ساتھ گزار لے گی اور بہت اچھی گزارے گی میرے دوست کا تو تم نے دیکھو کیا حشر کر دیا ہے…..
نور نے دانت پیسے تم نے مجھے ابنارمل کہا؟ زایان فوراً ہاتھ اٹھاتے ہوئے صاف اپنی بات سے پھر گیا نہیں نہیں میری اتنی مجال میں تمھے ابنارمل بولوں میں تو بس اپنے دوست کو معصوم بول رہا ہوں…
نور اسے گھورتے ہوئے بولی اور کیا حشر کیا ہے میں نے تمھارے دوست کا کیا ہوا ہے انھے؟ زایان شافع کی تھوڑی پکڑتے ہوئے بولا دیکھو نہ داڑھی پہلے سے اسنے بڑھا لی ہے، ہینڈسم یہ پہلے سے زیادہ ہوگیا ہے، مسکراہٹ اسکے چہرے سے نہیں جاتی شافع نے قہقہہ لگایا….. نور نے اپنی ہنسی دبائی….. زایان پھر بولا اگر سیدھی طرح بولوں تو میرے دوست کو زن مرید بنا دیا ہے تم نے…. نور کی دوبارہ بھنویں تنیں٬٬٬٬ تمھاری شادی ہو جانے دو پھر میں دیکھتی ہوں کہ تم کتنے سیدھے رہتے ہو… زایان کاجو ہوا میں اچھال کر منہ میں ڈالتا ہوا بولا تم دیکھ لینا میں صرف کھانے کا غلام رہوں گا بیوی کا نہیں…. نور باہر دیکھتے ہوئے بولی ہاں ہاں یہ تو وقت بتائے گا…. شافع کا قہقہہ بلند ہوا… اور اسنے گاڑی کی اسپیڈ مزید بڑھا دی.
ارحام نازیہ کی طرف گھومتے ہوئے بولی بھابھی میں ٹھیک تو لگ رہی ہوں نہ؟ وہ یہ سوال کوئی دس مرتبہ پوچھ چکی تھی….
اسنے بالکل ہلکے گلابی رنگ کا گھیر دار غرارہ پہنا ہوا تھا جس کا دوپٹہ کائی رنگ کا تھا اور اسکی قمیض پر بھی کائی رنگ کے نگوں کا خوبصورت کام ہوا وا تھا اور غرارے پر بھی باریک سے نگ لگے ہوئے تھے…. ہاتھوں میں چوڑیاں اور سر کے بائیں سائڈ پر جھومر…. جو اسکے چہرے پر چار چاند لگا رہا تھا،،، اسنے اپنی نتھ کو پھر سے ہاتھ لگایا اسے اس سے بہت الجھن ہو رہی تھی وہ اسے اتارنا چاہتی تھی لیکن نازیہ نے اسکا ہاتھ روک دیا مت اتارو ارحام بہت پیاری لگ رہی ہو…. نازیہ نے اپنی آنکھوں کے کاجل پر انگلی پھیر کر ارحام کے کان کے پیچھے لگایا تمھے نظر نہ لگے کسی کی ارحام کھلکھلا کر مسکرا دی،،،،، نازیہ نے اسکے کندھے پر آئے ہوئے بال ٹھیک سے سیٹ کئے…. اتنے میں عائشہ بیگم ہڑبڑاتی ہوئی کمرے میں داخل ہوئیں ارے نازیہ ارحام تیار ہوئی یا نہیں؟ عائشہ بیگم کی نظر جیسے ہی ارحام پر پڑی وہ مسکرائیں اور قریب آکر اسکے سر پر پیار کیا، ماشاءاللہ بہت پیاری لگ رہی ہے میری بیٹی،،، ارحام مسکرادی،،، عائشہ بیگم نازیہ کی طرف مڑ کر بولیں نازیہ تم جا کر ملازموں کو دیکھو وہ لوگ آنے والے ہی ہونگے تم جا کر دیکھا سب تیاریاں ہوئیں یا نہیں…. نازیہ عائشہ بیگم کا ہاتھ پکڑ کر انھے اطمینان دلاتے ہوئے بولی امی میں نے سب دیکھ لیا ہے آپ فکر مت کریں سب انتظامات ٹھیک سے ہوئے ہیں…. عائشہ بیگم پریشانی سے بولیں، یہ ابراہیم صاحب، اور گوہر کہاں ہیں؟ نازیہ بولی گوہر لان میں سارے انتظامات دیکھ رہا ہے بابا بھی وہیں ہوں گے آپ اتنی ٹینشن کیوں لے رہی ہیں….
عائشہ بیگم بولیں بھئی میری بیٹی کی شادی ہے میں نہیں چاہتی کے کسی بھی چیز کی کمی ہو…. ارحام نے انھے کندھے سے پکڑ کر بیڈ پر بٹھایا اور انھے پانی کا گلاس تھماتے ہوئے بولی امی آپ اتنی ٹینشن مت لیں ساری تیاریاں ہو گئی ہیں…. عائشہ بیگم نے ارحام کے ہاتھ چومے… ارحام مسکراتے ہوئے بولی بی اماں کہاں ہیں؟
عائشہ بیگم بولیں بی اماں تیمور بھائی صاحب اور بھابھی کے ساتھ اپنے کمرے میں ہیں، ابھی آتی ہی ہونگی…..
تیمور صاحب اور تہمینہ بیگم صبح سے ہی وہاں موجود تھے…
اتنے میں ایک ملازمہ آئی اور نازیہ سے بولی نازیہ بی بی وہ گجرے وغیرہ آگئے ہیں آپ آکر دیکھ لیں… نازیہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے ہاں ٹھیک ہے میں آتی ہوں حارث اٹھا تو نہیں؟ ملازمہ بولی بی بی جی وہ تو کب کے اٹھ گئے گوہر صاحب کے پاس ہیں… نازیہ بولی اوہو ہو وہ تو گوہر کو تنگ کر رہا ہوگا چلو میں دیکھ لیتی ہوں….. نازیہ ملازمہ کے ساتھ باہر چلی گئی، اسکے پیچھے ہی عائشہ بیگم بھی چل دیں… ارحام نے صوفے پر بیٹھ کر آنکھیں موند لیں اتنے میں اسکے موبائل پر میسج آیا… ارحام نے پاس رکھا موبائل اٹھایا اور میسج آن کیا، زایان کا میسج تھا میسج میں لکھا تھا… کیا کر رہی ہو؟ ارحام نے مسکراتے ہوئے ٹائپ کیا….
“آپکا انتظار” چند سیکنڈ بعد رپلائے آیا “تو سمجھو انتظار ختم ہوا…. جیسے ہی ارحام نے میسج پڑھا اگلے ہی لمحے اسے باہر سے گاڑی کے ہارن کی آواز آئی… ارحام فوراً کھڑکی کی طرف جانے لگی اچانک بی اماں اور تہمینہ بیگم کمرے میں آگئیں ارحام وہیں رک گئی آگے نہیں بڑی…. انھے دیکھ کر ارحام مسکرائی اور انکی طرف بڑھی… بی اماں اپنی چھڑی سنبھالتے ہوئے اسکے پاس آئیں وہ کچھ پڑھ رہی تھیں اپنا ورد ختم کرنے کے بعد انھوں نے ارحام پر پھونکا اور اسکے سر پر پیار کیا… تہمینہ بیگم نے بھی اسے پیار کیا تھا ارحام نے مسکراتے ہوئے پوچھا کیسی لگ رہی ہوں میں؟ بی اماں مسکراتے ہوئے بولیں ماشاءاللہ بہت پیاری لگ رہی ہو بس اللہ تمھارے نصیب بھی اچھے کرے ارحام مسکرائی، تہمینہ بیگم بولیں ہاں سچ میں ہماری ارحام بالکل گڑیا لگ رہی ہے،، بی اماں بولیں ہم نے تو تمھارے لئے اچھا ہی سوچا تھا خیر اب تمھارے باپ نے تمھارے لئے فیصلہ کیا ہے تو سوچ سمجھ کر ہی کیا ہوگا،،،،
تہمینہ بیگم مسنوعی سا مسکرا دیں ارحام بھی ہلکا سا مسکرائی….
______________________________________
دونوں گاڑیاں آگے پیچھے حویلی میں داخل ہوئیں، حویلی کے لان کے ایک طرف لائٹیں وغیرہ لگا کر انتظام کیا تھا نکاح کیونکہ سادگی سے تھا اسلئے زیادہ لوگوں کو مدعو نہیں کیا گیا تھا،،، سب سے پہلے حیدر صاحب اور ارفہ بیگم گاڑی میں سے نکلے ابراہیم صاحب اور باقی گھر کے مرد پہلے سے لان میں ہی تھے تہمینہ بیگم اور عائشہ بیگم اندر سے باہر آئیں،،، ابراہیم صاحب والہانہ خوشی سے حیدر صاحب کے گلے لگے ارفہ بیگم بھی عائشہ بیگم اور تہمینہ بیگم سے مل رہیں تھیں،،، اتنے میں میراب اپنا غرارہ سنبھالتے ہوئے گاڑی سے نکلی اسنے غرارہ پہن تو لیا تھا لیکن اسے اب زایان کی بات سچ ہوتی ہوئی نظر آرہی تھی اسے چلنا بہت مشکل لگ رہا تھا اور اسے یہ بھی ڈر لگ رہا تھا کہ وہ کہیں گرنا جائیں… میراب مسکراتے ہوئے تہمینہ بیگم کی طرف بڑھی اور ان سے گلے ملنے لگی…
انکے پیچھے ہی شافع کے گاڑی رکی تھی٬ شافع اور زایان کے اترنے سے پہلے ہی نور اتر گئی تھی کیونکہ پورے راستے اسنے زایان کی چیں پیں بہت مشکل سے برداشت کی تھی وہ لوگ دوپہر کے ٹائم گھر سے نکلے تھے اور پہنچتے پہنچتے شام ہوگئی تھی…. شافع گاڑی میں سے اترا لیکن زایان گاڑی میں ہی بیٹھا تھا،،، شافع بھنویں اچکاتے ہوئے بولا تم نے یہیں بیٹھے رہنا ہے….؟ زایان منہ بناتے ہوئے بولا یار اتنا لمبا سفر ہوگیا ہے مجھے تو اب بھوک بھی لگنے لگی ہے….. شافع نے دانت پیسے،،، تو تم کیا چاہتے ہو تمھے یہاں پر کھانا پیش کیا جائے؟ زایان نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولا نہیں نہیں میں تو یہ چاہتا ہوں کہ جلد سے جلد نکاح ہوجائے اور اسکے فوراََ بعد کھانا لگ جائے….
شافع دانت پیس کر بولا زایان اگر تم چاہتے ہو کے میں آج کے دن سب کے سامنے تمھے نہ ماروں تو شرافت سے اتر جاؤ،،، زایان اپنی طرف کا دروازہ کھول کر بولا اچھا بھئی اتر رہا ہوں تم تو غصہ کر جاتے ہو…..
نور سب سے پہلے تہمینہ بیگم سے ملی تھی… نور کو دیکھ کر انکی مسکراہٹ گہری ہوگئی تھی…. وہ نور پر نظر ڈالتے ہوئے بولیں ماشاءاللہ مجھے نہیں پتا تھا سادگی میں بھی اتنا حسن چھپا رکھا ہے… نور مسکراتے ہوئے انکے گلے لگی تہمینہ بیگم اسے پیار کرتے ہوئے بولیں بہت پیاری لگ رہی ہو ماشاءاللہ…. لیکن میں تم سےناراض ہوں نور انکے ہاتھ تھامتے ہوئے بولی لیکن کیوں؟ تہمینہ بیگم خفا ہونے والے انداز میں بولیں،،، میں نے تم سے کہا تھا شافع کو بولنا تمھے گھر لے کر آئے لیکن تم نہیں آئیں نور شرمندہ ہوتے ہوئے نظریں جھکا کر بولی بس آنٹی زایان اور ارحام کی شادی کی مصروفیات ہو گئی تھیں لیکن اب ہم ضرور آئیں گے…. تہمینہ بیگم نے اسکا گال تھپتھپایا نور اب عائشہ بیگم سے مل رہی تھی پچھلی ملاقات کے برعکس اس دفعہ عائشہ بیگم اس سے خوشی سے ملی تھیں…. عائشہ بیگم نے اسکے ہاتھ میں پھولوں کے کنگن دیئے جو انھوں نے ارفہ بیگم اور میراب کو بھی دیئے تھے…. نور نے مسکراتے ہوئے انکے ہاتھ سے کنگن لے لئے…..
_____________________________________
گوہر نے حیدر صاحب کے گلے میں پھولوں کا ہاتھ ڈالا تو ابراہیم صاحب تعارف کرواتے ہوئے بولے یہ میرا چھوٹا بیٹا ہے باہر پڑھتا ہے آخری سمسٹر چل رہا ہے شادی کے لئے چھٹیوں پر آیا ہے…. حیدر صاحب مسکراتے ہوئے گوہر کے گلے لگے اور اسکی پیٹھ تھپتھپائی… تیمور صاحب اور شہزاد سے وہ پہلے ہی مل چکے تھے…. زایان گاڑی سے اترا تو ابراہیم صاحب اسکی طرف آئے زایان مسکراتا ہوا انکے گلے لگا شافع ،شہزاد اور گوہر سے مل رہا تھا، ابراہیم صاحب نے پھولوں کا ہار زایان کے گلے میں ڈالا اور حال احوال پوچھنے لگے پھر شافع سے گلے ملے شافع مسکراتے ہوئے انکے گلے لگا ابراہیم صاحب نے اسکے گلے میں بھی ہار ڈالا جو اس نے فوراً ہی اتار کر ہاتھ میں پکڑ لیا شافع ابراہیم صاحب سے مل کر آگے بڑھنے لگا تو اسکی نظر تیمور صاحب پر پڑی جو زایان سے گلے مل رہے تھے٬ شافع سانس کھینچتا ہوا انکے سامنے آیا اور انھے سلام کیا تیمور صاحب کو لگا تھا کہ وہ ان سے گلے ملے گا لیکن وہ غلط تھے سلام کرنے کے بعد اسنے تکلفانہ انکا حال احوال پوچھا اور والہانہ انداز میں تہمینہ بیگم کے گلے لگ گیا، اسے دیکھ کر تہمینہ بیگم کی آنکھوں میں نمی آگئی تھی وہ اسے پیار کرتے ہوئے شکوہ کر کے بولیں ماں کو تو تم بھول ہی گئے ہو…. شافع انکے سر پر پیار کر کے نفی میں گردن ہلاتے ہوئے بولا نہیں ماں کوئی بھولنے کی چیز تھوڑی ہے آپ تو ہر وقت میرے پاس ہوتی ہیں میرے دل میں… تہمینہ بیگم اسے مسکراتے ہوئے پیار کرنے لگیں٬ پیچھے سے زایان تہمینہ بیگم کے آگے سر جھکاتے ہوئے بولا نکاح میرا ہے دعاؤں کی ضرورت مجھے ہے آپ مجھے بھول رہی ہیں آنٹی….
تہمینہ بیگم ہنستی ہوئی اسے پیار کرتے ہوئے بولیں تمھے کوئی بہلا کیسے بھول سکتا ہے…. زایان ہنسا یہ تو اپنے بالکل صحیح کہا ان تینوں کا قہقہہ بلند ہوا….. شافع نے تہمینہ بیگم سے پوچھا آپ نور سے ملیں؟ شافع نور کو ڈھونڈنے لگا جو میراب کی طرف منہ کئے کھڑی تھی میراب اسے کچھ بتا رہی تھی…. شافع نے اسے آواز لگائی اسکی پہلی ہی آواز پر اسنے مڑ کر دیکھا شافع نے اسے آنے کا اشارہ کیا تو وہ اسکے برابر میں آکر کھڑی ہوگئی، تہمینہ بیگم مسکراتے ہوئے بولیں میں مل چکی ہوں نور سے شافع ہلکا سا مسکرایا اور تہمینہ بیگم کے پیچھے کھڑے تیمور صاحب کو آواز لگائی جو موبائل پر کسی کال میں مصروف تھے٬،،،
بابا کی صدا سن کر تیمور صاحب نے فوراً شافع کی طرف دیکھا انھے لگا تھا انھوں نے کئیں برسوں کے بعد یہ لفظ سنا ہے شافع جب انکے گھر پر تھا تب وہ بیشک ان سے زیادہ بات نہیں کرتا تھا لیکن انھے بابا کہہ کر پکارتا تو تھا لیکن جب سے وہ گھر چھوڑ کر گیا تھا تیمور صاحب نے یہ لفظ نہیں سنا تھا…. تیمور صاحب نے فوراً موبائل جیب میں رکھ دیا شافع نور کا ہاتھ پکڑ کر انکے آگے آیا، اور نور سے انکا تعارف کرواتے ہوئے بولا یہ آئےنور ہے میری بیوی٬ تیمور صاحب کے چہرے پر جو ہلکی سی مسکراہٹ تھی وہ غائب ہوگئی٬ شافع نور کی طرف دیکھ کر سپاٹ چہرے سے بولا یہ بابا ہیں میرے…. نور نے مسکراتے ہوئے انھے سلام کیا وہ پہلی بار ان سے مل رہی تھی…. تیمور صاحب نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر گردن ہلاتے ہوئے بولے وعلیکم اسلام….. نور نے مسکراتے ہوئے پوچھا کیسے ہیں آپ؟
تیمور صاحب نے بغیر کسی تاثر کے اثبات میں گردن ہلا کر کہا ٹھیک ہوں…..
زایان اور باقی سب لان میں لگی کرسیوں کی طرف جارہے تھے زایان نے شافع کو آواز لگا کر آنے کا اشارہ کیا…. شافع نے ایک نظر تیمور صاحب پر ڈالی اور نور کا ہاتھ پکڑ کر آگے بڑھ گیا.،.،.،.،
شافع کے ساتھ لان کی طرف آتے ہوئے نور بولی،،، تم نے بابا سے بات کی؟ شافع کندھے اچکا کر بولا کیا بات کرتا؟ نور اسے دیکھتے ہوئے بولی اتنے دنوں بعد ملے ہو ان سے ٹھیک طرح بات کرتے، شافع خاموش ہوگیا…. شافع کی نظر اسکے ہاتھ میں موجود پھولوں کے کنگن پر پڑی اسکی بات کا جواب دینے کے بجائے وہ کنگن کی طرف دیکھتے ہوئے بولا یہ پہننے کے لئے دیئے ہیں یا یوں ہی ہاتھ میں رکھنے کے لئے؟ نور نے مسکراتے ہوئے کنگن آگے کئے… ہاں ابھی پہن رہی ہوں، شافع کنگن اسکے ہاتھ سے لیتے ہوئے بولا میں پہنا دوں؟ نور نے مسکراتے ہوئے ہاتھ اسکے آگے کردیئے،،، شافع نے مسکراتے ہوئے اسکی طرف دیکھا اور کنگھن پہنانے لگا…. وہ نور کے دوسرے ہاتھ میں کنگھن پہنا رہا تھا جب پیچھے سے گلہ کھنکارتے ہوئے نازیہ انکے سامنے آئی،،، شافع نے جلدی سے کنگھن نور کے ہاتھ میں ڈالا اور ہاتھ چھوڑ دیا…. اسکی یہ حرکت دیکھ کر نازیہ ہنسی اسکی گود میں حارث تھا جس نے بالکل شافع کے جیسے کپڑے پہنے ہوئے تھے، سفید شلوار قمیض پر بلیک واسکٹ…. نازیہ نور سے گلے ملتے ہوئے بولی ارے ارے شافع بھائی بیوی ہے آپکی اور کسی کو دیکھ کر اسطرح ہاتھ تھوڑی چھوڑ دیتے ہیں،،، شافع مسکرایا…. اور پھر حارث کو دیکھتے ہوئے بولا ہائے جونیئر تم نے میری کاپی کیوں کی ہوئی ہے؟ نازیہ اسے دیکھتے ہوئے ہنسی ارے ہاں اسکے کپڑے تو بالکل آپکے جیسے ہیں نازیہ حارث کا ہاتھ پکڑتے ہلاتے ہوئے بولی اپنے چاچو کی کاپی کی ہے….
نور مسکرائی اور حارث کو پیار کرتے ہوئے بولی بھابھی ارحام تیار ہوگئی؟ نازیہ مسکراتے ہوئے بولی ہاں وہ تیار ہوگئی ہے تم چلو گی اسکے کمرے میں؟ نور مسکراتے ہوئے بولی ابھی نہیں تھوڑی دیر میں جاؤں گی…. نازیہ کو شہزاد بلا رہا تھا نازیہ ایکسکیوز کرتے ہوئے بولی میں تھوڑی دیر میں آتی ہوں…. وہ جانے لگی تو شافع نے اسکی گود سے حارث کو لے لیا….. حارث گھور گھور کر اسے دیکھنے لگا… اسنے پہلے شافع کو دیکھا اور پھر نور کو اور نور کو دیکھتے ہی اسنے نور کی طرف ہاتھ بڑھا دیئے….. نور نے ہنستے ہوئے اسکے ہاتھ چومے حارث آپ مجھے پہچان گئے….؟, شافع حارث کو گھورتا ہوا بولا ہاں یہ ہم دونوں کو پہچان گیا تبھی تو مجھے گھور رہا ہے…. نور ہنستے ہوئے بولی لاؤ اسے مجھے دے دو…. شافع اسے پیچھے کرتے ہوئے بولا کوئی ضرورت نہیں ہے ابھی چپ ہے جب روئے گا تو لے لینا…. نور ہنسی۔ ۔ ۔ ۔ ۔
میراب نور کے پاس آئی اور اسے اپنے ساتھ لے گئی…. شافع حارث کو گود میں لئے زایان کے پاس آگیا زایان شافع کی گود میں حارث کو دیکھ کر شرارت سے بولا ارے یہ کب ہوا بھائی…. شافع نے ہنستے ہوئے اسے مکا مارا زایان نے بھی قہقہہ لگایا…. پھر وہ حارث سے ہاتھ ملاتے ہوئے بولا یار تمھارے پاس چاکلیٹ وغیرہ ہے؟ شافع ہنستا ہوا بولا بچے کو تو بخش دو…. زایان بالوں میں ہاتھ پھیرتا ہوا بولا یار نکاح کب ہوگا؟ شافع ہنستا ہوا بولا تھوڑا صبر رکھو یار تم تو بے صبرے ہوئے جا رہے ہو…. زایان نے منہ بناتے ہوئے کندھے اچکا دیئے…..
_______________________________________
نور میراب کے ساتھ کھڑی تھی٬ جب گوہر انکے پاس آیا اور نور کو سلام کرتے ہوئے بولا کیسی ہیں آپ؟ نور مسنوعی سا مسکرائی ٹھیک ہوں…. میراب نے نور کو ہلکے سے کونی مار کر اشارے سے پوچھا کون ہے یہ؟نور اسکا تعارف کرواتے ہوئے بولی یہ ارحام کے بھائی ہیں گوہر…. اور یہ زایان کی بہن میراب،،،گوہر نے مسکراتے ہوئے ہلکا سا سر ہلایا اور اسے سلام کیا، میراب نے آہستہ سے اسکے سلام کا جواب دیا، اور اسکا چہرہ بغور دیکھتے ہوئے بولی آپ اتنے ٹوٹ پھوٹ کیسے گئے؟ اپنی بات پر اسنے خود ہی قہقہہ لگایا تھا لیکن جب گوہر اور نور کا سپاٹ چہرہ دیکھا تو اسے شرمندگی ہوئی وہ ہنسی قابو کر کے بولی سوری، گوہر نے ہلکا سا مسکراتے ہوئے گردن ہلائی کوئی بات نہیں…. چلیں ٹھیک ہے پھر آپ لوگ باتیں کریں میں دوسرے کام دیکھ لوں…..
گوہر وہاں سے چلا گیا تو نور میراب سے بولی ہم اب ارحام کے پاس چلیں؟ میراب پرجوش انداز میں بولی ہاں ہاں بالکل چلیں…. نور میراب سے بولی ایسا کرو تم اندر جاؤ میں شافع کو بتا دوں میراب اثبات میں سر ہلا کر اپنا غرارہ سنبھالتے ہوئے اندر چلی گئی میراب کی پوری توجہ اپنے غرارے پر تھی وہ سامنے دیکھ کر نہیں چل رہی تھی اور اچانک وہ کسی سے ٹکرا گئی گوہر کا موبائل زمین پر گرا وہ موبائل پر بات کرتے ہوئے سامنے سے آرہا تھا کہ اچانک میراب اس سے ٹکرا گئی، میراب فوراً اسکا گرا ہوا موبائل دیکھ کر بولی آئم سو سوری میں نے آپ کو دیکھا نہیں گوہر اپنا موبائل اٹھاتے ہوئے بولا اٹس اوکے اور آگے بڑھ گیا میراب نے اپنے سر پر ہاتھ مارا اور سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئی….
شافع زایان کے ساتھ تھا نور شافع کے پاس آئی،،،، شافع نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا تو نور بولی میں ارحام کے پاس جا رہی ہوں زایان شرارت سے بولا میں بھی چلوں؟ نور فوراً بھنویں اٹھاتے ہوئے بولی ہاں روکو میں ابراہیم چاچو کو بلاتی ہوں وہ تمھے لے جائیں گے٬ زایان فوراً وہاں سے جاتے ہوئے بولا اچھا ٹھیک ہے یار تم تو سیریس ہی ہو گئیں…. نور نے آنکھیں گھمائیں اور حارث کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے بولی حارث آپ میرے ساتھ چلو گے؟ حارث نے بھی فوراً اسکے پاس آنے کے لئے ہاتھ بڑھا دیئے… شافع اسے نور کی گود میں دیتے ہوئے بولا تم اسے لے کر چلو گی کیسے گر مت جانا…. نور کو احساس ہوا ہاں وہ واقعی حارث کو گود میں لے کر نہیں چل پائے گی،،،کچھ فاصلے پر کھڑی تہمینہ بیگم نے شافع کی بات سن لی تھی…. تو وہ ان دونوں کے قریب آتے ہوئے بولیں کوئی بات نہیں نور کو ابھی سے پریکٹس کرنے دو بعد میں مسئلہ نہیں ہوگا…. نور جھینپ گئی…. شافع تہمینہ بیگم کی بات پر ہلکا سا مسکرا دیا،،، نور نے حارث وآپس شافع کو دینا چاہا لیکن اب وہ شافع کے پاس نہیں جا رہا تھا نور بولی چلو میں آہستہ آہستہ چلی جاؤں گی بھابھی پوچھیں تو بتا دینا…. شافع نے اثبات میں سر ہلایا نور حارث کو لے کر اندر چلی آئی اور بہت احتیاط سے سیڑھیاں چڑھنے لگیں اسے کوئی سات، آٹھ منٹ لگ گئے تھے سیڑھیاں چڑھنے میں…..
ارحام کے کمرے کے باہر پہنچ کر اسنے ہلکی سی دستک دی اور دروازہ کھول کر اندر آگئی،،، اندر بی اماں بھی موجود تھیں،، نور ایک لمحے کے لیے ٹھٹھک گئی پھر مسکراتے ہوئے بی اماں کے پاس آئی اور انکا ہاتھ چوم کر سلام کیا بی اماں نے خوشی سے نہ صحیح لیکن اسکے سوال کا جواب دیا تھا… نور انکا حال احوال پوچھنے کے بعد ارحام کی طرف بڑھی اور اس سے گلے ملی…. ارحام اسے دیکھتے ہوئے بولی یہ حارث پھر آپ سے چپک گیا….. نور ہنستے ہوئے بولی ہاں میں شافع کو دے رہی تھی لیکن یہ جاہی نہیں رہا تھا بہت مشکل سے سیڑھیاں چڑھ کے آئی ہوں….
میراب ہنستے ہوئے بولی ویسے بھابھی یہ آپکی گود بہت پیارا لگ رہا ہے….. نور کے گال گلابی ہوئے اسنے ارحام کو مسنوعی سا گھورا، بی اماں اٹھتے ہوئے بولیں میں ذرا نیچے جارہی ہوں…. بی اماں اٹھ کر دروازے تک پہنچی تھیں… جب ابراہیم صاحب کمرے میں داخل ہوئے…. اور ارحام کے پاس آکر بولے بیٹا مولوی صاحب نکاح پڑھانے آرہے ہیں تم تیار ہو؟ اس لمحے ناجانے کیوں ارحام کو پورے جسم میں ایک سنسناہٹ سی محسوس ہوئی تھی،،، ارحام نے نظریں جھکا کر اثبات میں سر ہلایا ابراہیم صاحب مسکراتے ہوئے اسکا سر تھپتپاتے ہوئے نور سے بولے بیٹا اسے نکاح کی چنری اڑا دو باقی سب بھی آتے ہی ہونگے…..
نور نے اثبات میں سر ہلایا اور حارث کو انھے دے کر صوفے پر رکھی لال رنگ کی خوبصورت سی چنری اٹھا کر ارحام کے سر پر ڈالی اور آگے سے چہرے پر گرا دی…. ابراہیم صاحب نے محبت بھری نگاہوں سے ارحام کو دیکھا انکی آنکھوں میں نمی آگئی تھی….
اتنے میں عائشہ بیگم، تہمینہ بیگم اور باقی سب بھی وہاں آگئے تھے بی اماں بھی وآپس آکر بیٹھ گئی تھیں گوہر نے ابراہیم صاحب سے پوچھا بابا مولوی صاحب کو بلا لوں؟ ابراہیم صاحب نے اثبات میں سر ہلایا…. نور نے نرمی سے ارحام کے کندھے پر ہاتھ رکھا….. ارحام کی آنکھوں کے سامنے اپنی زندگی کے چار سال ایک فلم کی طرح چلنے لگے…..
“تجھ سے عشق ہو جانے کا امکان قریب ہے
تیرے اور میرے ملن کا مقام قریب ہے”
گوہر مولوی صاحب کو لے کر کمرے میں داخل ہوا مولوی صاحب دوسری طرف رخ کر کے بیٹھ گئے…….
ارحام نے سختی سے اپنی مٹھیوں کو بھینچا…. دل کی دھڑکن کسی ٹرین کی رفتار سے چل رہی تھی… اسکے برابر میں کھڑی آئےنور کے دل کا بھی کچھ یہی حال تھا نور کو اپنے نکاح کا دن یاد آرہا تھا، کتنا درد ناک تھا وہ دن اس دن کو یاد کر کے ہی نور کے رونگٹے کھڑے ہو رہے تھے….
ابراہیم صاحب ارحام کے پاس آکر کھڑے ہوئے اور اسکا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھاما انھوں نے جیسے ہی ارحام کا ہاتھ پکڑا ارحام کی ہمت جواب دے گئی اور اسکی آنکھوں سے پانی بہنا شروع ہوگیا….
مولوی صاحب نے نکاح کے کلمات ادا کرنا شروع کئے… شافع نے نظریں اٹھا کر نور کی طرف دیکھا نور کی نظریں پہلے سے اس پر تھیں لیکن جیسے ہی شافع نے اسکی طرف دیکھا اسنے نظریں چرا لیں….
نکاح کے کلمات پہلی بار ادا ہوئے…… سب قبول ہے کے منتظر…… ارحام نے آہستہ سے کہا “قبول ہے” آنکھوں میں بے یقینی تھی اور ہونٹوں پر کپکپاہٹ….
“محبت میں شدت اتنی ہے کہ بچھڑ جانے کا ڈر ہے
تو مل رہا ہے پھر بھی خواب ٹوٹ جانے کا ڈر ہے
ناجانے کیوں دل میں ایک خلش سی ہے
شاید تیرے دیئے ہوئے زخموں پر مرہم لگ جانے کا اثر ہے”
سب کے چہرے پر مسکراہٹ پھیلی،،،، دوسری بار نکاح کے کلمات دوہرائے گئے…. ارحام نے ٹھہر کر اثبات میں گردن ہلائی “قبول ہے”
“محبت اتنی ہے کہ اظہار کم ہیں
شدت اتنی ہے کہ الفاظ کم ہیں
تیرے منتظر ایسے کہ خود کو بھول بیٹھے ہیں
تم میرے ہو تو گئے ہو لیکن تمھے ہم سے پیار کم ہے”
تیسری بار نکاح کے الفاظ دہرائے گئے ابراہیم صاحب نے ارحام کے ہاتھ پر گرفت مضبوط کر دی اور ایک ہاتھ اسکے سر پر رکھ دیا…… ارحام نے آنکھیں بند کیں…… “زایان حیدر”
“آنکھیں بند کرنے پر تیرا چہرہ نظر آتا ہے
کھول دینے پر اندھیرا نظر آتا ہے
کچھ ایسے ستائے ہیں تیری محبت کے ہم
کہ خوابوں میں بھی اب تیرا جزیرہ نظر آتا ہے”
ارحام نے کوئی تیس چالیس سیکنڈ کے وقفے کے بعد کہا تھا “قبول ہے” سب کے چہرے پر ایک والہانہ مسکراہٹ پھیل گئی عائشہ بیگم، بی اماں، ارفہ بیگم اور تہمینہ بیگم آپس میں گلے مل رہی تھیں
مولوی صاحب نے نکاح کے کاغذات گوہر کی طرف بڑھائے گوہر وہ کاغذات سائن کروانے کے لئے ارحام کے پاس لے کر آیا اور ارحام کے ہاتھ میں پین دیا…. ارحام کا ہاتھ بری طرح کپ کپا رہا تھا انھی کپکپاتے ہاتھوں سے اسنے سائن کئے….,
ابراہیم صاحب نے اسکے سر پر پیار کیا ارحام نے انکا ہاتھ نہیں چھوڑا تھا وہ ان سے لپٹ کر بچوں کی طرح رونے لگی…. ابراہیم صاحب سے بھی ضبط کرنا مشکل ہوگیا تھا اپنے آنسوں صاف کرتے ہوئے وہ اسکا سر تھپتھپانے لگانے “نہیں بیٹا یہ تو خوشی کا موقع ہے اسطرح نہیں روتے” لیکن ارحام انکی سن ہی نہیں رہی تھی اور نہ ہی انھے چھوڑ رہی تھی اسے اسطرح روتے دیکھ کر ابراہیم صاحب سے ضبط کرنا مشکل ہوگیا تھا وہ کمزور پڑھ رہے تھے…. مولوی صاحب باہر جا چکے تھے….
گوہر ارحام کے پاس آیا اور آہستہ سے بولا سارے آنسوں آج ہی بہا دو گی پھر رخصتی پر تو گلیسرین ڈالنا پڑے گا….. ارحام ہلکا سا مسکرائی اور ابراہیم صاحب سے الگ ہوگئی…. گوہر اسکے سامنے ہاتھ پھیلائے کھڑا تھا ارحام اسکے ہاتھ تھام کر کھڑے ہوگئی…. اور اسکے کندھے پر سر رکھ کے پھر رونا شروع کردیا،،، گوہر ان سے دور ضرور رہتا تھا وہ کم گو بھی تھا لیکن وہ ارحام سے بہت محبت کرتا تھا، وہ گھر پر کسی کو کال کرے نہ کرے لیکن ارحام کو ضرور کال کرتا تھا….. گوہر مسکراتے ہوئے اسکے سر پر ہاتھ رکھ کے آہستہ سے بولا تم کیا چاہتی ہو میں سب کے سامنے رو دوں یقین مانو میں روتے ہوئے بہت برا لگوں گا….. گوہر نے اپنی آنکھوں کے کنارے صاف کئے….. ارحام آنسوں پوچھتے ہوئے اس سے الگ ہوگئی٬ اور بولی شہزاد بھائی کہاں ہیں؟ گوہر ہنستے ہوئے بولا اب انھے رلانے کی باری ہے کیا؟ ارحام ہنسی وہ اور شافع مولوی صاحب کو باہر لے کر گئے ہیں… اب ہمیں بھی وہاں جانے دو یہاں باقی سب جو موجود ہیں انھے رلاؤ اب… گوہر نے اسکے سر پر ہاتھ رکھا اور ابراہیم صاحب کو لے کر باہر چلا گیا…. ارحام عائشہ بیگم اور باقی سب سے ملنے لگی…. سب اسے مبارکباد دے رہے تھے….
_______________________________________
سب لان میں موجود تھے زایان کے دائیں جانب پر مولوی صاحب بیٹھے نکاح پڑھا رہے تھے اور بائیں جانب شافع بیٹھا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔
مولوی صاحب نے پہلی بار نکاح کے کلمات دوہرائے….. زایان کو زندگی میں پہلی بار اتنی گھبراہٹ محسوس ہوئی تھی…. وہ چاہے جتنا بھی شرارتی ہو لیکن نکاح کی اہمیت کو وہ جانتا تھا…. زایان نے اثبات میں سر ہلایا “قبول ہے”
زایان کو ارحام کی گئی باتیں یاد آرہی تھیں اسکے لفظوں کی شدت اسکے دل کو جیسے موم کر رہی تھیں،،،، دوسری بار نکاح کے کلمات ادا ہوئے، زایان بغیر کسی تاثر کے بولا “قبول ہے”
اسے ارحام کی محبت کا اندازہ تھا وہ اسکے جذبوں سے واقف تھا وہ دل میں خود سے وعدہ کر رہا تھا مجھے چاہے اس سے محبت ہو یا نہ ہو لیکن میں اسکی محبت کی ہمیشہ قدر کروں گا…. تیسری بار نکاح کے کلمات ادا ہوئے…. زایان نے ایک شوخ مسکراہٹ کے ساتھ شافع کی طرف دیکھا اور پھر نظریں جھکاتے ہوئے بولا “قبول ہے”….
مولوی صاحب نے نکاح کے کاغذات دستخط کرنے کے لئے اسکی طرف بڑھائے اسنے ایک تیزی سے سائن کر دیئے دعا کروائی گئی دعا کے اختتام پر زایان منہ پر ہاتھ پھیر کے شافع کی طرف دیکھتے ہوئے کھڑا ہوا….. شافع ایک گہری مسکراہٹ کے ساتھ اسکے گلے لگا اور گرفت مضبوط کرتے ہوئے بولا “نکاح مبارک ہو” زایان بھی مسکراتے ہوئے بولا خیر مبارک… اس سے الگ ہوکر زایان سب سے گلے ملنے لگا شافع ایک بڑی سی مٹھائی اٹھاتے ہوئے زایان کی طرف بڑھا زایان نے خود کھانے سے پہلے شافع کی طرف بڑھائی آج پہلے تم کھاؤ گے… شافع تھوڑی سی مٹھائی توڑتے ہوئے بولا میں تھوڑی سی ہی کھاؤں گا تمھے پتا ہے میں زیادہ میٹھا نہیں کھاتا… لیکن وہ زایان حیدر ہی کیا جو دوسروں کی سن لے، زایان نے پوری مٹھائی زبردستی شافع کے منہ میں ڈال دی جیسے کھانا شافع کے لئے عذاب بن گیا اسے دیکھ کر زایان نے قہقہ لگایا
_______________________________________
نکاح کے کچھ دیر بعد کھانا لگا دیا گیا تھا اور زایان نے پوری تسلی کے ساتھ کھانا کھایا تھا کھانے کے بعد وہ اپنے میٹھے کی پلیٹ لے کر شافع کے پاس آیا اور بولا…. یار آج تو ارحام کو دکھاؤ گے نہ یا آج بھی ایسی بھیج دو گے؟ شافع نے ہنستے ہوئے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا ہاں ہاں بالکل دکھائیں گے بھئی اب تو وہ باقاعدہ آپکی کی منکوحہ ہیں…. ابھی کچھ دیر میں اسے باہر لے کر آجائیں گے…. زایان نے آنکھیں بڑی کیں یہاں لے آئیں گے تو میں اس سے بات کیسے کروں گا مجھے اس سے اکیلے میں ملنا ہے….
شافع بھنویں اٹھاتے ہوئے بولا بھائی نکاح ہوا ہے رخصتی نہیں، زایان نفی میں گردن ہلا کے دو ٹوک انداز میں بولا مجھے نہیں پتا میری کسی بھی طرح سے اس سے ملاقات کرواؤ….
شافع ہنستا ہوا بولا اچھا اچھا رو نہیں میں کرتا ہوں کچھ…. اتنے میں گوہر انکے پاس آیا اور زایان کے گلے میں ہاتھ ڈال کر بولا اور کیا ہو رہا ہے؟ بہنوئی صاحب زایان اور شافع دونوں نے قہقہہ لگایا…. زایان ہنستے ہوئے بولا ہمیں چھوڑو یہ بتاؤ تم کہاں مصروف ہو آہی نہیں رہے ہمارے پاس…. گوہر مسکراتے ہوئے بولا بس کام اتنے تھے انھی میں مصروف تھا زایان نے مسکراتے ہوئے گردن ہلائی پھر اسکے چہرے پر لگی چوٹ کے نشان کو بغور دیکھتے ہوئے بولا یہ تمھارا چہرہ کیوں اتنا ٹوٹا پھوٹا ہوا ہے کسی نے پیٹا ہے تمھے؟ گوہر اور شافع دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا… گوہر مسکراتے ہوئے بولا بس ایک دوست کی مہربانی ہے میں نے غلطی کی تھی اسنے میری غلطی سدھار دی….. زایان ہنسا اور تم نے اسے مارنے دیا…. گوہر نے مسکراتے ہوئے گردن ہلائی اور اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا تم یہ سب چھوڑو یہ بتاؤ تمھے کھانا کیسا لگا؟ زایان خوشی سے آنکھیں بڑی کر کے بولا یار گوہر کھانا تو بہت زبردست تھا، میں نے تو گلے تک بھر کے کھایا ہے،،،،، شافع اور گوہر دونوں نے قہقہہ لگایا….
شافع گوہر سے بولا ارحام کہاں ہے؟ گوہر بولا وہ اپنے کمرے میں ہے بھابھی اسے کچھ دیر میں لے کر آتی ہی ہوں گی…. شافع گوہر سے بولا زایان ارحام سے کچھ دیر کے لئے ملنا چاہتا ہے…. گوہر اثبات میں گردن ہلاتے ہوئے ٹھیک ہے نکاح تو ہوگیا ہے وہ اپنے کمرے میں ہی ہے تم لے جاؤ اسے لیکن دھیان رکھنا بی اماں کو پتا نہ چلے…..
شافع نے ہنستے ہوئے گوہر کے کندھے پر ہاتھ رکھا چلو ٹھیک ہے…… شافع زایان کو لے کر اندر چلا گیا…..
گوہر لان کی دوسری طرف جانے لگے…. جب سامنے سے آتی ہوئی میراب کا پیر غرارے میں اٹکا وہ منہ کے بل گرتی اس سے پہلے ہی گوہر نے اسے تھام لیا…. میراب شرمندگی سے سیدھی ہوئی،،، گوہر نے اس سے پوچھا آپ ٹھیک ہیں…؟ میراب نے شرمندگی سے ادھر ادھر دیکھا اور پھر اثبات میں گردن ہلاتے ہوئے بولی جی ٹھیک ہوں…. گوہر جاتے ہوئے بولا ذرا دھیان سے، میراب نے گردن جھکا دی، گوہر چلا گیا تو میراب نے اپنے سر پر ہاتھ مارا اور خود سے بولی توبہ ہے جو آج کے بعد میں نے غرارہ پہننے کا نام بھی لیا….
______________________________________
شافع اور زایان ارحام کے کمرے کے باہر پہنچے، زایان باہر لگے شیشے میں دیکھ کر اپنے بال سیٹ کرنے لگا شافع نے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا اور اندر چلا گیا،،، اندر نور ارحام کے پاس بیٹھی تھی شافع نے ارحام کو نہیں بتایا کہ زایان اس سے ملنے آیا ہے اسنے نور سے کہا…. نور تم ذرا باہر چلو گی؟ نور نے سوالیہ نظروں سے پوچھا کیوں؟ شافع بھنویں اٹھاتے ہوئے بولا کام ہے آؤ تو صحیح…. نور اٹھتے ہوئے ارحام سے بولی میں تھوڑی دیر میں آتی ہوں…..
نور شافع کے ساتھ کمرے سے باہر آگئی باہر زایان کو کھڑا دیکھا تو حیرت سے بولی تم یہاں کیا کر رہے ہو… زایان دانت نکالتے ہوئے بولا اپنی بیوی سے ملنے آیا ہوں…. نور کمر پر ہاتھ رکھ کے بولی ہم ابھی باہر ہی لے کر آرہے تھے تم سے صبر نہیں ہو رہا تھا کیا؟ زایان بھی اسی کے انداز میں بولا ہاں نہیں ہورہا تھا آپ اپنے شوہر کے ساتھ جائیں، اور مجھے میری بیوی سے ملنے دیں…. نور آنکھیں بڑی کرتے ہوئے بولی لیکن اگر کسی نے کچھ کہا تو؟ شافع اسے دروازے کے سامنے سے ہٹاتے ہوئے بولا کچھ نہیں ہوگا،،، شافع زایان کو اشارہ کر کے بولا تم جاؤ….
زایان نے نور کو منہ چڑھایا،،،،اور کمرے کی طرف بڑھ گیا
ارحام شیشے کے سامنے کھڑی اپنا دوپٹہ ٹھیک کر رہی تھی اسے دروازہ کھلنے کی آواز آئی تو وہ بغیر مڑے بولی نور میں ٹھیک تو لگ رہی ہوں نہ؟ جب کوئی جواب موصول نہیں ہوا تو ارحام نے مڑ کر دروازے کی طرف دیکھا….
زایان دروازے سے ٹیک لگائے ہاتھ باندھے کھڑا مسکراتے ہوئے ارحام کی طرف دیکھ رہا تھا اسے اچانک وہاں دیکھ کر ارحام کو جیسے سکتا ہوگیا تھا….. زایان نے بھنویں اوپر نیچے کیں… لیکن ارحام اسے بنا پلکھیں جھپکائے سکتے کے عالم میں دیکھ رہی تھی…. زایان مسکراتے ہوئے آگے بڑھا اور اسکے سامنے آکر بولا تو ارحام ابراہیم کیسا لگ رہا ہے ارحام زایان بن کے؟
لیکن ارحام تو جیسے اسکی سن ہی نہیں رہی تھی وہ بس اسے دیکھ رہی تھے….
زایان نے اسکے آگے چٹکی بجائی کب تک ایسی مجھے دیکھتی رہو گی نظر لگاؤ گی کیا؟ ارحام نے اسکی بات کا جواب دینے کے بجائے اسے چھونے کے لئے آہستہ سے اپنا ہاتھ اٹھایا….
زایان حیرت سے بولا یہ کیا کر رہی ہو؟ ارحام نے آہستہ سے اسکے چہرے پر ہاتھ رکھا،،،، خود کو یقین دلا رہی ہوں کہ اس بار آپکو چھونے کے لئے ہاتھ بڑھاؤں گی تو آپ غائب نہیں ہو جائیں گے….
زایان نے مسکراتے ہوئے اپنے چہرے پر موجود اسکا ہاتھ پکڑا،،، ایسی بات ہے؟ لو تو پھر دیکھ لو میں نے بھی تمھے چھو لیا اور میں غائب بھی نہیں ہوا۔ ۔ ۔ ۔ ارحام کچھ لمحے اسے اسی طرح دیکھتی رہی پھر اچانک آگے بڑھ کے اسکے گلے لگ گئی….
زایان کی حیرت کے مارے آنکھیں باہر آئیں،،، اسے بالکل امید نہیں تھی کہ ارحام یوں اچانک اسکے گلے لگ جائے گی….. زایان پر تو جیسے سکتا طاری ہو گیا تھا اچانک وہ ہوش میں آیا…. اسنے آہستہ سے ارحام کے گرد اپنا ایک ہاتھ پھیلایا……
وہ کچھ بولنا چاہتا تھا، اسے خود سے الگ کرنا چاہتا تھا لیکن وہ دونوں میں سے کوئی کام نہیں کر پایا وہ زایان حیدر جو چوبیس گھنٹے تک نان اسٹاپ بول سکتا تھا وہ زایان حیدر ارحام ابراہیم کے آگے لفظ کھو دیتا تھا وہ کہتا تھا اسے کبھی محبت نہیں ہوگا لیکن اس لمحے اسے لگ رہا تھا کہ یہ لڑکی اسے ایک لمحے میں محبت کرنے پر مجبور کر دے گی….
اچانک زایان کو احساس ہوا کے ارحام رو رہی ہے…. زایان نے اسے خود سے الگ کرنا چاہا لیکن وہ اس سے الگ ہو ہی نہیں رہی تھی…. زایان پیچھے سے اسکے سر پر ہاتھ رکھ کر بولا کیا ہوا تمھے اب کیوں رو رہی ہو؟ اب تو ہمارا نکاح بھی ہو گیا،،،، ارحام روتے ہوئے بولی بس رونا آرہا ہے… زایان ہنستے ہوئے بولا ایک تو تم لڑکیوں کو پتا نہیں اتنا رونا کیوں آتا ہے کہاں سے لاتی ہو اتنے آنسو؟ ارحام ہنسی، زایان شرارت سے بولا اچھا اب مجھ سے الگ تو ہو جاؤ ابھی رخصتی بھی نہیں ہوئی ہے کسی نے دیکھ لیا تو مجھے جوتے مار کے یہاں سے نکالیں گے…. ارحام ہنستے ہوئے اس سے الگ ہو گئی….
وہ اپنے آنسوں صاف کر رہی تھی زایان اسکا چہرہ تھامتے ہوئے اسکے آنسوں صاف کرنے لگا…. ارحام اسکی طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولی میں کیسی لگ رہی ہوں؟ زایان نے اس پر اوپر سے نیچے تک نظر ڈالی پھر مسکراتے ہوئے بولا کہنا پڑے گا میری چوائس بہت اچھی ہے…. ارحام ہنسی زایان اسے بغور دیکھتے ہوئے بولا لیکن مجھے لگ رہا ہے تمھارے آگے یہ خوبصورت جوڑا بھی پھیکا پڑ رہا ہے…. ارحام نے گردن جھکائی…. زایان پیچھے ہو کر ہنستے ہوئے بولا میں نے ایسا بھی کیا بول دیا ہے جو تم سن کر لال ٹماٹر ہو رہی ہو ….
ارحام گردن اٹھاتے ہوئے بولی میں ٹماٹر لگ رہی ہوں؟ زایان اثبات میں سر ہلاتے ہوئے بولا ہاں دیکھو نے تمھارے گال کیسے لال ٹماٹر ہو رہے ہیں،،، اس لمحے ارحام کو احساس ہوا تھا کہ زایان حیدر اچھے خاصے رومینس کا بیڑا غرق کر سکتا ہے…. ارحام خفا ہوتے ہوئے بولی آپ ٹماٹر کی جگہ گلاب بھی بول سکتے تھے… زایان ہنستے ہوئے بولا ہاں لیکن گلاب کھاتے تھوڑی ہیں میں تو صرف کھانے پینے کی چیزوں کی مثال ہی دے سکتا ہوں… اور تمھے اسی میں گزارہ کرنا پڑے گا…
ارحام مسکراتے ہوئے بولی ٹھیک ہے…. زایان سینے پر ہاتھ رکھ کر بولا “ہائے اگر تم اسطرح میری ہر بات پر ٹھیک ہے ٹھیک ہے کہو گی تو میں تمھے آج ہی رخصت کروا کے لے جاؤں گا” ارحام ہنستے ہوئے بولی ٹھیک ہے تو پھر لے چلیں…… زایان شرارت سے بولا مجھ سے محبت کرتی ہو اسلئے جانے کی جلدی ہے یا کوئی اور وجہ ہے؟ ارحام اسکے قریب آتے ہوئے بولی آپ سے عشق کرتی ہوں اسلئے جانے کی جلدی ایسا لگتا ہے اب اور دور رہوں گی تو مر جاؤں گی…. زایان گلہ کھنکار کر منہ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا یار ںہت مشکل باتیں کرتی ہو تم میں تو گزارہ کر لوں گا کسی نہ کسی طرح لیکن میرے بچوں کا مستقبل برباد ہو جائے گا اگر تم ان سے ایسی باتیں کرو گی تو…..
ارحام نے قہقہہ لگاتے ہوئے منہ پر ہاتھ رکھا میں اتنی مشکل باتیں بھی نہیں کرتی بس سمجھنے والے پر بات ہے کے وہ لفظوں کی گہرائی کو کس حد تک سمجھ سکتا ہے….. زایان نے دونوں ہاتھوں سے سر تھاما اور زور زور سے سر ہلانے لگا، اس سے پہلے کے تمھاری باتوں سے مجھے Hangover ہو یہ بتاؤ تمھے چاکلیٹ کونسی پسند ہے….؟ ارحام نے بھنویں میچیں چاکلیٹ؟ زایان نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے اپنے جیب سے چاکلیٹ نکالی اور اسکی طرف بڑھاتے ہوئے بولا تمھے نہیں پتا میں یہ چاکلیٹ کتنی مشکل سے میراب کی نظروں سے بچا کر لایا ہوں، اگر اسکی نظر پڑ جاتی نہ تو فوراً مانگنے لگ جاتی….
ارحام ہنسی اور اسکے ہاتھ سے چاکلیٹ لیتے ہوئے بولی تھینکیو…..! زایان سینے پر ہاتھ رکھ کے جھکتے ہوئے بولا یور ویلکم….. ارحام چاکلیٹ ہاتھ میں لے کر کھڑی ہوگئی تو زایان آنکھیں بڑی کرتے ہوئے بولا کھولو چاکلیٹ٬ ارحام بولی ابھی دل نہیں ہے بعد میں کھالوں گی… زایان آنکھیں اوپر نیچے کرتے ہوئے بولا تمھارا دل نہیں ہے تو کیا ہوا میں تو کھاؤں گا یہ ساری چاکلیٹ تم اکیلے تھوڑی کھاؤ گی…. ارحام نے منہ پر ہاتھ رکھ کے قہقہہ لگایا اور چاکلیٹ کھولنے لگی،،،، زایان اسے دیکھتے ہوئے بولا تم پچھتا تو نہیں رہیں؟ ارحام نے نظریں اٹھا کر حیرت سے پوچھا کس بات پر؟ زایان ہنسی دباتے ہوئے بولا مجھ سے شادی کرنے پر…… ارحام خفا ہونے والے انداز میں بولی آپ ایسا کیوں بول رہے ہیں میں کیوں پچھتاؤ گی، میں نے محبت کی ہے آپ سے کوئی مزاق تو نہیں،،،، زایان اسکے انداز پر مسکراتے ہوئے اسکے ہاتھ سے چاکلیٹ لے کر بولا سوچ لو ہر چیز شیئر کرنی پڑے گی…..
ارحام اسے دیکھتے ہوئے بولی میں ساری زندگی آپکے ساتھ شیئر کرنے کے لئے تیار ہوں…. زایان نے اسکی طرف دیکھتے ہوئے آہستہ سے اسکے گال پر ہاتھ رکھا اور انگھوٹے سے سہلاتے ہوئے بولا مجھ سے اتنی محبت مت کرو کے میں گِلٹ میں چلا جاؤں میں نے چار سال پہلے تمھاری محبت کو ٹھکرایا تھا اور آج مجھے لگ رہا ہے کہ زندگی کی سب سے بڑی غلطی میں نے وہی کی تھی، اگر میں اس دن ایسا نہ کرتا تو شاید تم چار سال یوں عزیت میں نہ کاٹتیں، تمھاری آنکھوں کو دیکھتا ہوں تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ ناجانے کتنی رات اور کتنے دن یہ آنکھیں میری وجہ سے روئی ہونگی میں چاہے کچھ بھی کر لوں لیکن میں تمھاری محبت کی برابری نہیں کر سکتا ارحام…..
ارحام نے مسکراتے ہوئے اسکا ہاتھ تھاما مجھے کسی چیز کا کوئی شکوہ نہیں ہے بس میں آپکا ساتھ چاہتی تھی جو مجھے مل گیا ہے اب میں صرف آپکی محبت کی منتظر ہوں، اور میں جانتی ہوں آج نہیں تو کل وہ بھی آپ کو ہو ہی جائے گی…
زایان نے مسکراتے ہوئے گردن نیچے کی، اتنے میں دروازے پر دستک ہوگئی ارحام فوراً پیچھے ہوئی٬٬٬٬ شافع کمرے میں آیا،،، اور زایان سے بولا بس کرو بھائی باقی باتیں بعد میں کر لینا ابھی سب ارحام کو نیچے بلا رہے ہیں… زایان نے مسکراتے ہوئے ارحام کی طرف دیکھا اور شافع کے ساتھ باہر چلا گیا….
کچھ دیر بعد وہ دونوں باہر لان میں ساتھ بیٹھے تصویریں کھنچوا رہے تھے،،، اور شافع کی نظر نور کو ڈھونڈ رہی تھی جو اسے کہیں نہیں دکھ رہی تھی، شافع نازیہ کے پاس آیا اور اس سے پوچھا بھابھی اپنے نور کو کہیں دیکھا ہے؟ نازیہ بولی ہاں وہ حارث اسکے پاس تھا وہ سوگیا تھا تو وہ اسے کمرے میں لٹانے گئی ہے…. شافع نے اثبات میں سر ہلایا اور آگے جاتے ہوئے دل میں بولا ایک تو یہ میری بیوی کو دوسروں کے بچے پالنے کا بہت شوق ہے پتا نہیں کیوں لوگ اپنے بچے خود نہیں سنبھالتے…..
شافع نور کو ڈھونڈتا ہوا اندر کمرے میں آگیا، جہاں وہ حارث کو بیڈ پر لٹا کر تھپتھپا رہی تھی، شافع کمرے کا دروازہ بند کرتے ہوئے بولا ایک تو مجھے سمجھ نہیں آتا کہ تم یہاں آکر مجھے بھول کیوں جاتی ہو؟ نور نے اسے آنکھیں دکھا کر شششش کیا اور حارث کی طرف اشارہ کر کے چپ رہنے کا کہا…. شافع نے کوفت سے کندھے اچکائے لو اب میں بول بھی نہیں سکتا بہت اچھے…..
حارث سو گیا تھا نور شافع کا ہاتھ پکڑ کر اسے کمرے سے باہر لے آئی اور اسکی طرف دیکھتے ہوئے بولی اب بولو کیا ہوا شور کیوں مچا رہے تھے؟ شافع آنکھیں پھاڑتا ہوا بولا میں شور مچا رہا تھا کب؟ نور بولی میرا مطلب ہے کیا ہوا تمھے کیوں ڈھونڈ رہے تھے مجھے کوئی کام تھا؟ شافع بھنویں میچتے ہوئے بولا اگر کوئی کام ہوگا تب ہی میں تمھے ڈھونڈوں گا ویسے نہیں ڈھونڈ سکتا کیا؟
نور نے نرمی سے اسکے دونوں ہاتھ پکڑے اچھا اب بولو نہ اتنے غصے میں کیوں ہو؟ شافع ناٹک کرتے ہوئے بولا تمھارے یوں ہاتھ پکڑ لینے سے میرا غصہ ٹھنڈا نہیں ہو جائے گا….. نور اسکے قریب آئی اور تھوڑا سا اچک کر اسکے کان میں بولی تو ٹھیک ہے پھر اپنی بات پر قائم رہنا…. وہ ہاتھ چھوڑ کر جانے لگی تو شافع نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا، اب کہاں جا رہی ہو؟ نور اشارہ کرتے ہوئے بولی نیچے ماما مجھے بلا رہی تھیں….. شافع منہ بناتے ہوئے بولا چلی جانا ذرا دو گھڑی رک تو جاؤ…. نور بھنویں اٹھاتے ہوئے بولی اچھا تو یہ دو گھڑی رک کر ہم کیا کریں گے؟ شافع نے دانت پیسے اور اسکی طرف دیکھتے ہوئے بولا چلو ہم گھر جا رہے ہیں…. نور نے حیرت سے اسے دیکھا ابھی؟ لیکن ابھی تو سب یہیں ہیں… شافع کندھے اچکا کر بولا ہاں تو کوئی بات نہیں سب کو بیٹھے رہنے دو ہم چلتے ہیں…..
نور بولی ہم اسطرح چلے جائیں گے تو اچھا نہیں لگے گا نہ سب کیا سوچیں گے٬٬٬٬ شافع آنکھیں اوپر نیچے کرتے ہوئے بولا ہاں تمھے سب کی فکر ہے سوائے میرے…. نور پیچھے ہو کر خفا ہوتے ہوئے بولی شافع تمھے ایسا کیوں لگتا ہے کہ مجھے تمھاری فکر نہیں ہے مجھے تمھاری فکر کیوں نہیں ہوگی شوہر ہو تم میرے…. شافع اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا صرف شوہر ہوں؟ محبت نہیں ہوں؟ نور نے الجھن سے آنکھیں چرائیں شافع دیکھو……..!
اتنے میں نازیہ گلہ کھنکارتی ہوئی اوپر آئیں،،، شافع نے دانت پیستے ہوئے دیوار پر ہاتھ مارا ایک تو ہر کوئی غلط وقت پر آتا ہے…. نازیہ ان دونوں کو دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولیں،،، ساری باتیں یہیں کر لیں گے نیچے سب آپ دونوں کا پوچھ رہے ہیں…. نور نے گردن جھکاتے ہوئے کہا جی بھابھی ہم جا ہی رہے تھے، نور جلدی سے نظریں چرا کر نیچے جانے لگی،،،، شافع مسکراتے ہوئے بولا میں….. میں بھی جاتا ہوں نیچے٬٬٬٬٬
_______________________________________
کافی دیر تک تصویروں اور بات چیت کا سلسلہ چلتا رہا دس ساڑھے دس بجے کے قریب وہ لوگ نکلنے کے لئے کھڑے ہوگئے، تیمور صاحب اور تہمینہ بیگم نے بھی انکے ساتھ ہی نکلنے کی تیاری پکڑی، ان لوگوں نے آپس میں مل کر فیصلہ کیا تھا کہ شادی کے دوران ابراہیم صاحب اپنے سب گھر والوں کو لے کر شادی تک کے لئے اپنے شہر والے گھر چلے جائیں گے تاکہ بارات والے دن دور کے سفر کی وجہ سے کوئی مسئلہ نہ پیش ہو تیمور صاحب نے انھے اپنے گھر پر ٹھہرنے کا کہا رہے تھے لیکن ابراہیم صاحب نے منا کر دیا ویسے بھی انکا شہر والا گھر خالی ہی تھا جو انھوں نے حال ہی میں خرید کر گوہر کے نام کر دیا تھا،،، وہ لوگ سب سے مل کر گاڑیوں میں آ بیٹھے…. زایان ارحام سے بات کر رہا تھا جب میراب اسے زبردستی باہر کھینچ لائی بھائی اب باقی باتیں رخصتی کے بعد کر لئے گا صرف دس دن کی تو بات ہے….. اور زایان نے اسے کھا جانے والی نظروں سے گھورا تھا زایان شافع کی گاڑی کی طرف آنے لگا تو نور اسکے آنے سے پہلے ہی گاڑی کی آگے والی سیٹ پر بیٹھ گئی اور دروازہ بند کر دیا….
زایان گاڑی کے پاس آیا اور شیشے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا تمھے کیا لگا میں آکر بیٹھ جاؤں گا اسلئے تم جلدی سے بیٹھ گئیں… زایان نے قہقہہ لگایا میں اپنی گاڑی میں جا رہا ہوں بھابھی جان اب آپ جائیں اپنے شوہر کے ساتھ اور کر لئے گا ڈھیر ساری باتیں….. نور ہاتھ جوڑ کر بولی آپکی بہت مہربانی ہے زایان صاحب….. زایان نے فخر سے کالر اٹھائے شافع اسے دیکھ کر ہنسا…. چلو ٹھیک ہے پھر تم جاؤ اپنی گاڑی میں شافع نے زایان کو آنکھ ماری زایان ہنستے ہوئے اپنی گاڑی میں جا بیٹھا،،، زایان ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا تھا اور اسکے برابر میں حیدر صاحب تھے…. پیچھے میراب اور ارفہ بیگم تھیں… وہ لوگ سب کو خدا حافظ کر رہے تھے، جب گوہر نے میراب کی طرف کا شیشہ بجایا میراب نے حیرت سے اسے دیکھتے ہوئے شیشہ نیچے کیا، گوہر نے بھنویں اٹھاتے ہوئے پوچھا اپنے اپنی ساری چیزیں لے لیں؟ میراب نے بھنویں میچیں اور کندھے اچکا کر بولی جی ہاں لے لیں…. گوہر نے پیچھے سے اپنا ہاتھ آگے کیا اسکے ہاتھ میں میراب کا کیمرہ تھا میراب نے فوراً آنکھیں پھاڑ کر منہ پر ہاتھ رکھا اوہ نو یہ تو یہیں رہ گیا تھا تھینکیو سو مچ اپنے لا کر دے دیا ورنہ یہ یہیں رہ جاتا گوہر ہلکا سا مسکرایا، میراب کو یہ کیمرہ زایان نے گفٹ کیا تھا اور زایان نے اب تک سب سے مہنگا گفٹ یہی لیا تھا زایان میراب کو گھورتے ہوئے بولا اگر یہ کیمرہ کھوجاتا نہ میراب تو میں تمھے تصویروں میں آنے کے قابل نہیں چھوڑتا تمھے پتا ہے کتنا مہنگا کیمرہ ہے یہ…. زایان یہ بات اسے کوئی سو مرتبہ بول چکا تھا….. میراب منہ بناتے ہوئے بولی میں نے کوئی جان پوچھ کر تو نہیں چھوڑا تھا بھول گئی تھی میں… گوہر ہلکا سا مسکرا کر بولا کوئی بات نہیں ہو جاتا ہے…. زایان نے گوہر کا شکر ادا کیا گوہر مسکراتے ہوئے وہاں سے ہٹ گیا…..
زایان،شافع، تیمور صاحب تینوں کی گاڑیاں آگے پیچھے حویلی سے نکلی تھیں،،، اور رات کے ڈھائی بجے کے قریب وہ لوگ اپنے اپنے گھر پہنچے تھے…. حسب معمول نور آدھے راستے میں ہی سو گئی تھی، اور شافع بیچارے نے پورا راستہ خاموشی سے کاٹا تھا…. گھر پہنچ کر شافع نے گاڑی روکی اور نور کا بازو ہلاکر اسے اٹھنے کو کہا…. نور چونک کر اٹھی…. گھر پہنچ گئے کیا؟شافع اسے تنگ کرتے ہوئے بولی جی ہاں آپ اپنے بیڈ روم میں ہیں صبح ہوگئی ہے اور یہ نہ چیز آپکے آگے چائے کا کپ لئے کھڑا ہے….. نور ہنستے ہوئے بولی شافع….. شافع مسکراتا ہوا گاڑی سے نکلا باہر کلفی جما دینے والی سردی ہورہی تھی شافع نے گاڑی کا لاک لگا کر اپنے ہاتھ ایک دوسرے سے رگڑے نور نے خود کو شال سے لپیٹ رکھا تھا نور اسے دیکھتے ہوئے بولی میں نے جاتے ہوئے تمھے کہا بھی تھا کوئی جیکٹ لے لو… شافع اسے ساتھ لئے اندر آتے ہوئے بولا، کوئی بات نہیں اب تو پہنچ گئے ہیں…..
نور کمرے میں آئی اسکا بس چلتا تو وہ ایسے ہی بغیر چینج کئے سو جاتی لیکن مجبوراً کپڑے چینج کرنے پڑے وہ اتنی تھکی ہوئی تھی کے بیڈ پر لیٹتے ہی سو گئی…. شافع کپڑے چینج کر کے باہر آیا تو نور کو دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولا ایسا لگ رہا ہے سارے راستے تو میں سوتا ہوا آیا ہوں اور یہ محترمہ ڈرائیو کر کے آئی ہیں…. شافع نے ایک آہ بھری اور بیڈ کے دوسری طرف آکر لیمپ بند کیا اور خاموشی سے سونے کے لئے لیٹ گیا…….
______________________________________
نکاح کے بعد کے دس دن شادی کی تیاریوں میں گزرے نور دن رات ارفہ بیگم اور میراب کے ساتھ مارکیٹوں کے چکر لگایا کرتی اسے اتنا گھومنے کی عادت نہیں تھی، لیکن پھر بھی وہ ارفہ بیگم کا دل رکھنے کے لئے انکے ساتھ چلی جایا کرتی تھی،،، لیکن اپنی اور شافع کی شاپنگ اسنے شافع کے ساتھ الگ سے جاکے کی تھی،،،، شادی سے ایک ہفتہ پہلے ارفہ بیگم نے گھر میں ڈھولکی رکھوانا شروع کر دی تھی، ابراہیم صاحب سب کو لے کر شہر والے گھر میں آگئے تھے،،،،
مائیو کی تقریب گھر میں ہی کی گئی تھی،،، اور مائیو کے اگلے دن ہی بارات تھی زایان کی خوشی کا ٹھکانا نہیں تھا،،،، بارات لے جاتے ہوئے اسکا بس نہیں چل رہا تھا وہ خود ہی ڈانس کرنا شروع کردے بہت مشکل سے اسنے خود پر قابو رکھا تھا….
وہ اور ارحام اسٹیج پر بیٹھے تھے،،، ارحام نے لال رنگ کا عروسی لباس زیب تن کر رکھا تھا،،،، ہاتھوں میں چوڑیاں، کانوں نے جھمکے اور ماتھے پر بندیا،،،،، وہ بلا کی حسین لگ رہی تھی اور اس پر پہلی نظر پڑتے ہی زایان نے دل میں اعتراف کیا تھا اگر وہ اس لڑکی کا نہ ہوتا تو پھر وہ کسی کا نہ ہوتا…..
انکے ساتھ ہی شافع اور آئےنور بیٹھے تھے، شافع نے ڈیپ بلو رنگ کا کرتا پہنا ہوا تھا اور نور نے وائٹ کلر کی میکسی پہنی ہوئی تھی جس پر بلو رنگ کے نگوں سے کام ہوا وا تھا شافع نے اپنی پسند سے اسکے لئے شاپنگ کی تھی،،،،، شافع چوری چوری نظروں سے نور کو بار بار دیکھ رہا تھا اور نور مسلسل اس کی نظروں سے الجھ رہی تھی.…..صدیقی صاحب بھی شادی میں آئے ہوئے تھے اور نور کو اسطرح خوش دیکھ کر انکا ڈھیروں خون بڑھ گیا تھا….. اور انھوں نے دل میں اسے اسی طرح خوش رہنے کی دعا دی تھی…..
__________________________________
ارحام اپنا لال رنگ کا عروسی جوڑا بیڈ پر پھیلائے بیٹھی تھی آنکھوں میں خوشی، ہونٹوں پر ہنسی اور دل میں محبت سے اُمڈتا ہوا سمندر….. گیٹ کے باہر میراب اور نور زایان کو روکے کھڑی تھیں اور اس سے پیسوں کا مطالبہ کیا جارہا تھا لیکن وہ زایان حیدر ہی کیا جو کسی کی بات سن لے زایان کے ساتھ ہی شافع بھی کھڑا تھا نور زایان سے بولی زایان ہمیں پورے تیس ہزار چاہیئے…. پندرہ میرے پندرہ میراب کے….. زایان ہنستا ہوا بولا تیس ہزار میں ایسا نہ کروں کے تیس ہزار میں کسی اچھے سے ہوٹل میں جاکر رک جاؤں…. شافع زایان کے گلے میں ہاتھ ڈال کر بولا زایان تم انھے چھوڑو تم میرے ساتھ چلو کل آجانا…. نور آنکھیں گھماتے ہوئے بولی زایان آج کہیں چلا ہی نا جائے تمھارے ساتھ….. زایان نے بھنویں اٹھائیں اور ہنستے ہوئے بولا تمھاری سوچ ہے کہ میں تم دونوں کو ایک روپیہ بھی دونگا ہمارے گھر میں اور کمرے بھی ہیں میں وہاں سو جاؤں گا میں بھی دیکھتا ہوں آخر کب تک کھڑی رہتی ہو تم لوگ یہاں….
زایان دوسرے کمرے میں جانے لگا تو میراب چینخھی بھائی یہ غلط ہے ہمیں پیسے چاہیے بس…. جب زایان نے اسکی بات کا کوئی اثر نہیں لیا تو وہ شافع سے بولی شافع بھائی آپ بولیں نہ انھیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ شافع ہنستا ہوا زایان سے بولا اچھا زایان یار کچھ تو دے دو انھے….
زایان ہاتھ اوپر کرتے ہوئے بولا نہ میں تو ایک روپیہ اب نہیں دینے والا تمھے اتنا ترس آرہا ہے تو تم دے دو…. شافع نے ہنستے ہوئے اپنا والٹ نکالا اچھا بھئی میں دے دیتا ہوں میراب خوشی سے چینخھی،،،، شافع نے دس ہزار میراب کو دیئے اور نور سے بولا ہم حساب گھر پر کر لیں گے….. نور نے غصے سے ہاتھ جھٹکے مجھے تم سے کوئی پیسے نہیں چاہئے مجھے اس بھکڑ سے پیسے چاہیے اور اگر یہ پیسے نہیں دے گا تو ٹھیک ہے میں بھی ارحام کے پاس جا رہی ہوں اور تب تک وہاں سے نہیں جاؤں گی جب تک یہ پیسے نہیں دے گا…. نور ارحام کے پاس جانے لگی تو شافع نے اسکا ہاتھ پکڑ کر روکا اور ہنستے ہوئے بولا،،،، کیوں تم اس بیچارے کو تنگ کر رہی ہو ہمیں ویسے ہی گھر کے لئے لیٹ ہورہا ہے….
نور اپنا ہاتھ چھڑاتے ہوئے غصے سے نیچے جاتے ہوئے بولی،،، شافع تم ہمیشہ اپنے دوست کی سائڈ لیا کرو…. شافع اسے پیچھے سے آواز دیتا رہ گیا لیکن اسنے ایک نہیں سنی اور چلی گئی،،،، زایان ہنستے ہوئے بولا چلو بھائی اب تم منانے کی تیاری کرو….. شافع ہنسا، اور اس سے گلے ملتے ہوئے بولا ہاہاہاہاہا منانا تو پڑے گا چلو پھر میں گھر کے لئے نکلتا ہو کافی دیر ہو گئی ہے… زایان نے مسکراتے ہوئے اثبات میں گردن ہلائی شافع اس اسے مل کر نیچے آگیا….
شافع نیچے آیا نور ارفہ بیگم کے ساتھ کھڑی تھی،، شافع اسکے برابر میں آکر کھڑا ہوا اور ارفہ بیگم سے بولا آنٹی اب ہم چلتے ہیں، ارفہ بیگم انھے رکنے کا کہہ رہی تھیں لیکن شافع نے منا کر دیا شافع نے زایان کے گھر سے گاڑی نکالی نور منہ بنائے بیٹھی تھی…. شافع ہنستے ہوئے بولا اچھا یار اب میں نے ایسا بھی کچھ نہیں کیا جو تم مجھ سے ناراض ہو…. نور منہ بناتے ہوئے بولی تم ہمیشہ زایان کی سائڈ لیتے ہو اگر تم مجھے وہاں سے نہ بھیجتے میں اس کنجوس بھکڑ سے پیسے نکلوا کر ہی رہتی…. شافع ہنستے ہوئے بولا ہاہاہاہاہا وہ کبھی نہیں دیتا پیسے تم یہ بات لکھ لو….
نور آنکھیں گھماتے ہوئے باہر دیکھنے لگی، شافع اسکا ہاتھ پکڑتے ہوئے بولا اچھا اب اتنے پیارے سے چہرے پر اتنا سارا غصہ تو مت لاؤ،،، نور اسکی طرف دیکھ کر بولی اب زیادہ مسکے مت لگاؤ…. شافع آنکھیں بڑی کر کے بولا میں سچ بول رہا ہوں بہت پیاری لگ رہی ہو تم….. نور نے اپنی ہنسی دبائی اور کندھے اچکا کر بولی ہاں ہاں ٹھیک ہے پتا ہے مجھے بس تم گاڑی چلاؤ۔۔۔ شافع ہنس دیا…
_______________________________________
زایان گلہ کھنکارتے ہوئے کمرے میں داخل ہوا…. ارحام نظریں جھکائے بیٹھی تھی زایان اسکے سامنے آکر بیٹھ گیا…. ارحام نے نظریں اٹھا کر اسکی طرف دیکھا زایان مسکراتے ہوئے اسکی طرف دیکھ رہا تھا، ارحام جھینپتے ہوئے بولی ایسے کیا دیکھ رہے ہیں؟ زایان کندھے اچکا کر بولا ایسے کیا دیکھ رہے ہیں کا کیا مطلب ہے بھئی اپنی بیوی کو دیکھ رہا ہوں حق ہے مجھے ارحام نے مسکراتے ہوئے گردن جھکا دی،،،، زایان نے اٹھ کر سائڈ ٹیبل کی دراز کھولی اور اس میں سے دو ڈبے نکالے اور وآپس ارحام کے پاس آکر بیٹھا….. اسنے چھوٹا ڈبہ کھول کر ارحام کے آگے کیا اس میں ایک بہت ہی خوبصورت انگھوٹی تھی،،، ارحام نے مسکراتے ہوئے وہ ڈبہ اپنے ہاتھ میں لیا،،، زایان نے مسکراتے ہوئے پوچھا کیسی لگی؟ ارحام نے مسکراتے ہوئے اسکی طرف دیکھا بہت خوبصورت ہے اپنے پسند کی ہے؟ زایان نے اثبات میں سر ہلایا….. پھر اس میں سے انگھوٹی نکال کر ارحام کا ہاتھ آگے کیا…. زایان نے مسکراتے ہوئے انگھوٹی اسکی انگلی میں ڈال دی ارحام مسکرا کر انگھوٹی کو دیکھنے لگی زایان نے دوسرا ڈبہ ارحام کے آگے کیا وہ چکور سا کافی بڑا ڈبہ تھا….. ارحام نے وہ ڈبہ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے سوالیہ نظروں سے پوچھا یہ کیا ہے…؟
زایان بولا ارے بھئی کھول کے دیکھو گی تو پتا چلے گا نہ… ارحام نے اثبات میں گردن ہلائی اور گفٹ پیپر کھولنے لگی،،، اسنے گفٹ پیپر ہٹا کے دیکھا تو وہ ایک بہت بڑا چاکلیٹ کا ڈبہ تھا…. ارحام کے چہرے پر والہانہ خوشی پھیلی چاکلیٹس؟ زایان نے اثبات میں سر ہلایا اور اسے تنبیہہ کرتے ہوئے بولا دیکھو یہ تم اکیلی نہیں کھاؤ گی اس میں سے میں بھی کھاؤں گا اوکے؟ ارحام نے ہنستے ہوئے اثبات میں گردن ہلا دی…. زایان نے ارحام کے ہاتھ سے ڈبہ لے کر ٹیبل پر رکھا اور خود سیدھا ہوتے ہوئے ارحام کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا،،، ارحام حیرت سے بولی یہ کیا کر رہے ہیں آپ؟ زایان اسکے دونوں ہاتھ اپنے سینے پر رکھتے ہوئے بولا کچھ نہیں…..
ارحام خاموش ہوگئی، زایان اسے بغور دیکھتے ہوئے بولا، تم خوش ہو؟ ارحام مسکراتے ہوئے بولی مجھے لگ رہا ہے میرے احساس کے لئے خوشی کا لفظ کم پڑے گا…. زایان اسکے ناک پر ہاتھ لگاتے ہوئے بولا وہ تو پتا چل رہا ہے…. ارحام ہنس دی ارحام نے اس سے پوچھا آپ خوش ہیں؟ زایان آنکھیں بند کر کے بولا بہت زیادہ،،،،،
مجھے لگ رہا ہے ارحام اگر تم میری زندگی میں نہ آتی تو شاید میری زندگی میں ایک کمی سی رہ جاتی….. ارحام مسکرائی زایان خاموشی سے اسے دیکھنے لگا تو کچھ دیر بعد ارحام بولی”میں آپ سے بہت محبت کرتی ہوں زایان،اتنی محبت کے آپ میرے دل کے ساتھ ساتھ میرے حواسوں پر بھی سوار ہیں….. زایان نے ارحام کے دونوں ہاتھ چومے اور آنکھیں بند کرتے ہوئے بولا”اور مجھے تمھاری اس محبت کی بہت قدر ہے….
_______________________________________
اگلے دن شام کے وقت شافع نے گھر پر کسی وکیل کو بلایا ہوا تھا نور کمرے میں تھی اسے لگا تھا کہ شاید شافع نے آفس کے کسی کام کے سلسلے میں انھے بلایا ہوگا،،،، لیکن کچھ دیر بعد شافع نور کو بلانے آیا نور باہر آگئی وکیل صاحب نے کچھ پیپرز نور کی طرف بڑھائے اور سائن کرنے کو کہا نور نے حیرت سے شافع کی طرف دیکھا شافع نے آنکھیں جھپکا کر سائن کرنے کا اشارہ کیا….. نور نے سائن کر دیئے نور کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یہ کس چیز کے پیپر تھے کچھ دیر بعد وکیل صاحب پیپر شافع کو تھما کر چلے گئے شافع انھے دروازے تک چھوڑ کے وآپس آیا تو نور فوراً بولی شافع کونسے پیپر تھے یہ؟ شافع اسے بٹھاتے ہوئے بولا بیٹھو بتاتا ہوں…..
نور پریشانی سے بولی پلیز جلدی بتاؤ مجھے گھبراہٹ ہو رہی ہے،،،،شافع نے مسکراتے ہوئے اسکی طرف دیکھا اور اسکے گال سہلاتے ہوئے بولا پریشان ہونے والی تو کوئی بات نہیں ہے…. نور بے چینی سے بولی تو پھر بتاؤ نہ کیا بات ہے….. شافع نے ٹیبل پر رکھی ہوئی فائل اسکے ہاتھ پر رکھی نور نے نہ سمجھی سے پوچھا یہ کیا ہے؟ شافع مسکراتے ہوئے آہستہ آہستہ بولا میں نے یہ گھر تمھارے نام کر دیا ہے…. نور کو سمجھ نہیں آیا تو اسنے دوبارہ پوچھا کیا؟ شافع اسکا ہاتھ تھامتے ہوئے دوبارہ بولا یہ گھر میں نے تمھارے نام کر دیا ہے… نور کا حیرت کے مارے منہ کھول گیا وہ نفی میں گردن ہلاتے ہوئے بولی کیوں؟ شافع مسکراتا ہوا بولا کیونکہ مجھے یہ ٹھیک لگا اسلئے…. نور فائل ٹیبل پر رکھتے ہوئے بولی شافع تم نے یہ کیوں کیا اسطرح اچانک گھر میرے نام کر دینا یہ گھر تمھارے نام پر تھا اس میں کیا حرج تھا؟ شافع ہنستے ہوئے بولا تم اتنا شاکڈ کیوں ہو رہی ہو گھر تمھارے نام پر ہو یا میرے نام پر ایک ہی بات ہے…. نور بولی جب ایک ہی بات تھی تو میرے نام پر کرنے کی ضرورت نہیں تھی،،،
شافع اسکے ہونٹوں پر انگلی رکھتے ہوئے بولا اچھا بس اب میں کچھ نہیں سنوں گا میرے دل کو جو ٹھیک لگا میں نے وہ کیا تم جلدی سے تیار ہو جاؤ پھر زایان کے گھر چلتے ہیں….
شافع نور کی اور کوئی بات سنے بغیر کھڑا ہوگیا وہ کمرے کی طرف جانے لگا تو نور نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے روکا شافع نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا نور اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی….
“تمھارا میری زندگی میں آنا ایک معجزہ ہے جیسے شافع مسکراتے ہوئے آگے بڑھا اور اسکا ماتھا چومتے ہوئے بولا اور تمھارا میری زندگی میں آنا میری خوش نصیبی”
______________________________________
وہ سب لاؤنج میں موجود تھے ارحام نے بہت خوبصورت سا کام دار سوٹ پہنا ہوا تھا زایان اسکے برابر میں ہی ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے بیٹھا تھا اور سب سے باتیں کرتے ہوئے وقتاً فوقتاً اس پر بھی نظریں ڈال رہا تھا….. ابراہیم صاحب اور انکے گھر والے صبح ارحام سے ملنے آئے تھے، اور ارحام کو خوش دیکھ کر انکے دل کو تسلی بھی ہوئی تھی….
میراب نے ہنستے ہوئے ارحام سے پوچھا بھابھی آپ کو کھانے میں کیا کیا بنانا آتا ہے؟ ارحام نے ہونٹ کاٹے اور جھجھکتے ہوئے بولی مجھے زیادہ کچھ بنانا نہیں آتا کیونکہ مجھے کبھی بنانے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی تھی،،،، میراب منہ پر ہاتھ رکھ کے زایان کو گھورتے ہوئے بولی ہاؤ بھائی اب آپکا کیا ہوگا بھابھی کو تو کچھ بنانا ہی نہیں آتا…. زایان ارحام کی طرف دیکھ کر بولا تمھے فرائس بنانے آتے ہیں؟ ارحام نے فوراً اثبات میں گردن ہلائی، زایان فوراً ہاتھ جھاڑتے ہوئے بولا تو بس میں گزارہ کر لوں گا، سب کا قہقہہ بلند ہوا….
اتنے میں شافع اور آئےنور وہاں پوچھے شافع لاؤنج میں داخل ہوتے ہوئے بولا ارے بھئی کس بات پر اتنے قہقے لگائے جارہے ہیں،،،، حیدر صاحب اس سے بولے ارے بھئی یہ چھوڑو یہ بتاؤ کہ جب میں نے صبح تمھے کہہ دیا تھا کہ جلدی آجانا تو پھر اتنی دیر سے کیوں آئے؟؟؟ شافع نے ہنستے ہوئے سر پر ہاتھ پھیرا بس انکل کچھ ضروری کام آگیا تھا تو دیر ہو گئی….
زایان ارحام کے برابر میں بیٹھا تھا نور اسکے آگے کھڑی اسے گھور کر اٹھنے کا اشارہ کر رہی تھی، زایان شافع سے بولا یار شافع اپنی بیوی کو تو ذرا سنبھالو کل پیسے کیا نہیں دیئے یہ تو میری جانی دشمن بن گئی ہے ابھی بھی دیکھو مجھے میری ہی بیوی کے برابر میں سے اٹھنے کے لئے کہہ رہی ہے… شافع ہنستے ہوئے بولا ہاں تو تم اٹھ کر ادھر آجاؤ نہ نخرے کیوں کر رہے ہو…. زایان نے بھنویں اٹھاتے ہوئے اسے گھورا،،،، نور طنزیہ مسکراتے ہوئے بولی سنا شافع نے کیا کہا چلو اٹھو یہاں سے،،، زایان دانت پیستے ہوئے وہاں سے اٹھ گیا، اور شافع کے برابر میں جا کر بیٹھ گیا…..
نور ارحام اور میراب سے باتیں کرنے لگی…..
ولیمہ دو دن بعد کا رکھا گیا، اور ولیمے کے اگلے دن ان سب کا پروگرام فارم ہاؤس جانے کا تھا……
کچھ ہی دیر میں باہر لان میں کھانے کی ٹیبل لگوائی گئی تھی حیدر صاحب نے بیٹے کی شادی کی خوشی میں خاص طور پر ایک کوک کو بلوایا تھا جس سے دیسی پکوان بنوائے گئے تھے،،، اتنے شاندار کھانے دیکھ کر تو زایان کی آنکھیں کھل گئی تھیں اور وہ سیدھا جا کے حیدر صاحب کے گلے لگا…. حیدر صاحب نے حیرت سے اسے دیکھا تمھے کیا ہوا؟ زایان مسکراتے ہوئے بولا بہت شکریہ اتنے مزے مزے کے کھانے بنوانے کا…. حیدر صاحب نے قہقہہ لگاتے ہوئے اسکی پیٹھ تھپتھپائی….
زایان آج صرف خود نہیں کھا رہا تھا بلکہ اپنے ساتھ ارحام کو بھی کھلا رہا تھا اور یہ بات سب نے بخوبی نوٹ کی تھی، وہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد کچھ نہ کچھ ارحام کو سرو کر رہا تھا…. اور ارحام کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ اتنا سارا اکیلے کیسے کھائے گی….. ارحام نے تھوڑا سا ہی کھایا تھا اور اسکی بھوک ختم ہوگئی تھی لیکن پلیٹ ابھی بھی بھری پڑی تھی، اور اسطرح کھانا جھوٹا کر کے چھوڑنا اسے اچھا نہیں لگ رہا تھا اس نے زبردستی ایک دو لقمے اور لے لئے تھے لیکن اس سے زیادہ وہ نہیں کھا سکتی تھی،،،، وہ زبردستی بیٹھی پلیٹ میں چمچہ چلاتی رہی تو زایان اسے دیکھ کر بولا تم کھا کیوں نہیں رہیں؟ ارحام نے آہستہ سے کہا زایان مجھ سے اور نہیں کھایا جارہا اپنے زبردستی اتنا کچھ سرو کر دیا…. نور اسکے برابر میں ہی بیٹھی تھی وہ ہنستے ہوئے بولی ارحام…. اب تو تمھے اس سب کی عادت ڈالنی پڑے گی کیوں زایان خود تو موٹا نہیں ہے لیکن وہ تمھے ضرور موٹا کر دے گا…. سب نے قہقہہ لگایا،،،، زایان کی اپنی پلیٹ تو خالی ہو چکی تھی اسنے ارحام کی پلیٹ اپنے آگے کر لی اور اس میں سے کھانے لگا،،،، ارحام مسکراتے ہوئے اسے دیکھنے لگی تو زایان بھنویں اچکاتے ہوئے بولی کیا دیکھ رہی ہو؟ ارحام نے مسکراتے ہوئے نظریں جھکائیں کچھ نہیں…..
_______________________________________
کھانے کے کچھ دیر بعد نور نے شافع سے چلنے کا کہا لیکن حیدر صاحب نے انھے روک لیا… اور باتیں کرتے کرتے کب ایک بج گیا پتا بھی نہیں چلا،،،، شافع ان سب سے مل کر نور کو لے کر گاڑی میں آبیٹھا،،، اسنے گاڑی اسٹارٹ کر کے ریورس کرنا چاہی لیکن اسے کچھ گڑبڑ لگی تو گاڑی روک دی نور نے پوچھا کیا ہوا؟ شافع گاڑی سے اترتا ہوا بولا ایک منٹ شافع نے گاڑی سے اتر کر پیچھے والے ٹائر کو دیکھا اور کوفت سے سر پر ہاتھ مارا؟ نور نے پھر پوچھا کیا ہوا؟
شافع پریشانی سے شیشے پر ہاتھ رکھ کے بولا ٹائر پنچر ہوگیا ہے؟ نور نے پریشانی سے بولا اوہ اب کیسے جائیں گے؟ شافع سوچتے ہوئے بولا چلو زایان سے بولتا ہوں وہ چھوڑ دے گا…. نور گاڑی سے اتر گئی… وہ دونوں وآپس اندر آئے تو سب نے انھے حیرت سے دیکھا زایان اٹھ کر ہنستے ہوئے بولا کھینچ لائی نہ آخر تمھے میری محبت؟ شافع ہنسا اور اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا گاڑی کا ٹائر پنچر ہوگیا یار….
زایان گردن ہلاتے ہوئے بولا اوہ اچھا پھر؟ شافع کندھے اچکا کر بولا پھر کیا چلو اب ہمیں چھوڑ کر آؤ… زایان نے آنکھیں گھمائیں اچھا چلو ٹھیک ہے میں کمرے سے گاڑی کی چابی لے آؤں زایان تیزی سے کمرے کی طرف گیا اور چابی لے کر آگیا….
شافع زایان کی برابر والی سیٹ پر بیٹھا تھا اور آئےنور پیچھے…. زایان سارے راستے شافع سے باتیں کرتا رہا اور نور کو تو بے حد نیند آرہی تھی اگر وہ شافع کے ساتھ ہوتی تو اب تک سو چکی ہوتی لیکن زایان کی بگ بگ سے وہ سو بھی نہیں پارہی تھی…. گاڑی سیدھی سڑک پر جارہی تھی اور آگے سے انھے دائیں طرف والے روڈ پر مڑنا تھا…. روڈ کے کٹ سے پہلے ہی زایان کو ایک بیکری نظر آگئی اور اسنے گاڑی روک دی،،،، شافع سمجھ گیا تھا کہ اسنے گاڑی کیوں روکی ہے وہ اسے دیکھتے ہوئے بولا زایان انسان بنو اتنا کچھ کھا کر آئے ہو ابھی بھی تم نے کچھ کھانا ہے زایان دانت نکالتے ہوئے بولا میں ابھی تھوڑی کھاؤں گا کل صبح کھالوں گا اسلئے میرے پیارے سے بھائی تم جلدی سے جاؤ اور میرے لئے ڈارک براؤن چاکلیٹ کپ کیک لے کر آؤ…. نور پیچھے سے چینخ کر بولی شافع کوئی ضرورت نہیں ہے ہمیں دیر ہو رہی ہے….. زایان نے نور کو گھورا اور شافع سے بولا جتنی دیر میں تم ان محترمہ کی باتیں سنو گے اتنی دیر میں لے کر بھی آجاؤ گے….. پیچھے سے ایک گاڑی نے ہارن دیا تو زایان جلدی سے بولا یار شافع لے آؤ نہ…. شافع نے ایک لمبا سانس کھینچا اور گاڑی سے اترنے لگا گاڑی سے اتر کر اسنے زایان سے کہا تم گاڑی آگے موڑو میں آتا ہوں… زایان نے اثبات میں گردن ہلائی شافع بیکری کے اندر چلا گیا زایان نے گاڑی دائیں جانب والی سڑک پر موڑ لی…. وہ کوئی مین شاہراہ نہیں تھی جہاں گاڑیوں کا ہجوم ہوتا وہاں آس پاس بنگلے تھے تو ہر طرف سناٹا تھا، اور رات کے ایک بجے کے ٹائم بھی ایسا لگ رہا تھا جیسے آدھی رات ہو رہی ہو…. زایان نے گاڑی آگے لا کر روک دی اب وہ اسٹیرنگ ویل پر سر رکھے شافع کا انتظار کر رہا تھا…. نور نے بھی سیٹ پر سر ٹکا کر آنکھیں بند کر لیں….
نور نے آنکھیں بند کی ہی تھیں جب کسی نے آہستہ سے شیشہ بجایا نور کو لگا شافع ہوگا لیکن…..!
زایان نے گردن اٹھا کر شیشے کی طرف دیکھا اسکی ہوائیاں اڑ گئیں…. تین لڑکے جو بائیک پر تھے ان میں سے دو کے ہاتھ میں گن تھی پیچھے والے لڑکا بائیک سے اترا اور اشارے سے زایان کو گاڑی کا شیشہ نیچے کرنے کو کہا زایان نے فوراً گاڑی اسٹارٹ کرنا چاہی اس لڑکے نے گن لوڈ کر لی نور فوراً چینخھی زایان رک جاؤ…..
زایان نے ایک لمبا سانس کھینچا اور نور کو بولا تم گاڑی سے مت اترنا….. زایان نے گاڑی کا شیشہ نیچے کیا…. گن والے لڑکے نے فوراً گن زایان کے سر پر رکھی،،،، زایان نے ضبط سے آنکھیں بند کیں، اسنے زایان کو گاڑی سے باہر نکلنے کا اشارہ کیا. نور کا سانس رک گیا،،،، زایان نے آہستہ سے گاڑی کا دروازہ کھولا اور باہر نکل گیا، اس لڑکے نے زایان کی تلاشی لی اسکے پاس کچھ نہیں تھا کیونکہ سب کچھ گاڑی میں تھا…. ایک لڑکا گاڑی میں جھانک کر ڈیش بورڈ سے اسکی ساری چیزیں نکالنے لگا تو اسکی نظر نور پر پڑی، نور نے ڈر کے مارے سیٹ کو مضبوطی سے تھاما…..
وہ لڑکا باہر کھڑے لڑکوں سے مسکرا کر بولا بھائی گاڑی میں لڑکی بھی…. نور کا رنگ زرد پڑا….. زایان نے دانت بھینچ کر آگے بڑھنا چاہا لیکن جس لڑکے نے اسکے سر پر گن تانی ہوئی تھی وہ سختی سے بولا اے کوئی ہوشیاری نہیں سمجھا…. زایان غصے سے بولا تم لوگوں کو سامان چاہیے نہ سامان لے جاؤ، لیکن لڑکی کو کچھ مت کہنا…. جو لڑکا گاڑی سے سامان نکال رہا تھا وہ نور کو اپنی نظروں میں اتارتا ہوا بولا نہیں بھائی اب تو ہمیں گاڑی اور لڑکی دونوں چاہیے۔ ۔ ۔ ۔ نور کا دل اچھل کر منہ کو آیا اور وہ ایک سیکنڈ میں گاڑی سے باہر نکلی…. جو لڑکا بائیک پر بیٹھا تھا اسنے نور کو اوپر سے نیچے تک دیکھا اور پھر اپنے ساتھی لڑکوں کو دیکھ کر شوخ انداز میں مسکرایا….. زایان کا دل کیا تھا انکی آنکھیں نوچ لے زایان دانت پیس کر بولا گاڑی چاہیے لے جاؤ لیکن لڑکی کو کچھ مت کہنا…. نور گاڑی سے نکلی تو آگے والا لڑکا اسکی طرف بڑھا تم کہاں جا رہی ہو بیٹھو وآپس گاڑی میں اسنے سختی سے نور کا ہاتھ پکڑا زایان کا ضبط جواب دے گیا….. اسنے ایک جھٹکے سے اپنے ساتھ کھڑے لڑکے کے پیٹ میں گھونسا مارا اچانک وار سے اسکے ہاتھ سے گن چھوٹ کر نیچے گر گئی، زایان نے ایک اور گھونسا اس لڑکے کو مارا جس نے نور کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا اور چینختے ہوئے بولا…. کہاں تھا نہ لڑکی کو کچھ مت کہنے،،،، پیچھے والا لڑکا فوراً اٹھا اور زایان پر جھپٹا بائیک والا لڑکا بولا لڑکی کو گاڑی میں ڈال اسے ہم سنبھال لیں گے….
لیکن وہ لڑکا کچھ زیادہ ہی غصے والا تھا اس نے پہلے زایان کے منہ پر ایک گھونسا مارا…. نور کی چینخ نکلی…..شافع بیکری سے نکل کر گلی میں مڑا…. اور جیسے ہی وہ گلی میں مڑا کچھ دور کا منظر دیکھ کر اسکے ہوش اڑ گئے….. ایک لڑکے نے زایان کو پیچھے سے پکڑا ہوا تھا سامنے کھڑے لڑکے نے زایان کے منہ پر گھونسا مارا،،، بائیک والے لڑکے نے نور کا ہاتھ پکڑا ہوا جیسے چھڑانے کی نور پوری کوشش کر رہی تھی…. شافع کے ہاتھ سے شاپر چھٹا اور وہ اندھا دھن بھاگا،،،،
اسنے سب سے پہلے بائیک والے لڑکے کو مارا تھا اسنے نور کا ہاتھ چھوڑا نور پیچھے ہوتے ہوئے چینخھی شافع زایان کو چھڑاؤ انکے ہاتھ میں گن ہے…. بائیک والا لڑکا زمین پر گرا تھا جس لڑکے نے زایان کو پیچھے سے پکڑ رکھا تھا شافع نے اسکے منہ پر مارا تو اسکی گرفت ڈھیلی ہوئی زایان نے فوراً خود کو اس سے چھڑا لیا…. زایان نے اس لڑکا کا سر پکڑ کر انھی کی بائیک کے اسٹینڈ پر مارا…. “لیکن اچانک دو دفعہ گولی چلنے کی آواز گونجی٬ اور سب کچھ جیسے رک سا گیا”
