Izhar-e-Muhabat by Anooshe NovelR50417

Izhar-e-Muhabat by Anooshe NovelR50417 Izhar-e-Muhabat Episode 19

219.9K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Izhar-e-Muhabat Episode 19

Izhar-e-Muhabat by Anooshe

شافع ہال میں وآپس آیا تو ابھی تک گیم چل رہا تھا شافع زایان کے پاس آیا میں گھر جارہا ہوں اب….

زایان نے اسے گھورا شرافت سے یہیں رہو ایک تو آئے دیر سے اور اب بول رہے ہو جارہا ہوں….

شافع مسکرایا،،،،،

یار بہت شور ہے یہاں میرے سر میں درد ہو رہا ہے میں باہر جا رہا ہوں….

زایان نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلا دیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔

شافع سگریٹ کا پیکٹ نکالتے ہوئے باہر آگیا….

پیکٹ میں سے ایک سگریٹ نکال کر اسنے جلائی اور دیوار پر بیٹھ کر باہر کی کیاریوں کو دیکھنے لگا…..

آئےنور پارکنگ ایریا میں کھڑی مسلسل منہا کو کال کر رہی تھی لیکن منہا کال اٹھا ہی نہیں رہی تھی…..

آخر تھک ہار کر وہ گاڑی سے ٹیک لگا کر کھڑی ہوگئی….

پارکنگ ایریا تقریباً خالی ہی تھی دور ایک دو اسٹوڈنٹس تھے….

نور نے اپنے بائیں جانب دیکھا تو سامنے سے وہ ٹیبل والا لڑکا دو لڑکوں کے ساتھ باتوں میں مصروف چلا آرہا تھا اس لڑکے نے نور کی طرف نہیں دیکھا تھا پھر بھی نور اسے دیکھ کر ڈر گئی اور تیزی سے اندر کی طرف دوڑ لگا دی….

نور ہال کی طرف بھاگی جارہی تھی اچانک شافع کو باہر دیکھ کر اسکی اسپیڈ کو بریک لگا…..

شافع نے اسے اسطرح ہڑبڑائے ہوئے دیکھا تو کھڑے ہوتے ہوئے پوچھا کیا ہوا؟؟؟؟

بے دھیانی میں نور کے منہ سے بے ساختہ نکلنا وہ پارکنگ ایریا میں؟؟؟ اور اچانک چپ ہوگئی….

شافع نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا پارکنگ ایریا میں کیا؟؟؟

نور فوراً خود کو نارمل کر کے بولی نہیں کچھ نہیں….

شافع آگے بڑھتا ہوا بولا آپ بتائیں گی یا میں خود جاؤں؟؟؟

اسکے تاثرات دیکھ کر نور فوراً بولی نہیں نہیں دراصل پارکنگ ایریا میں وہ ٹیبل والا لڑکا آگیا تھا…..

شافع کی بھنویں تنی کچھ کہا اسنے؟؟؟

اسکی تنی بھنویں دیکھ کر آئےنور فوراً بولی نہیں نہیں اسنے کچھ نہیں کہا میں خود ہی اندر آگئ….

شافع نے اسکا چہرہ بغور دیکھتے ہوئے کہا” ڈر کے”

آئےنور نے فوراً کندھے اچکا کر خود کو نارمل کرتے ہوئے کہا نہیں تو ڈر کے تو نہیں آئی…..

شافع اسے شرمندہ کرنا نہیں چاہتا تھا اسلئے اس بارے میں کچھ نہیں کہا پھر گھڑی میں ٹائم دیکھتے ہوئے بولا دس بجنے والے ہیں آپ کو نہیں لگتا کہ آپکو اب گھر جانا چاہیے؟؟

آئےنور پھر دوبارہ منہا کو کال کرتے ہوئے بولی گھر جانے کے لئے ہی تو کب سے منہا کو ڈھونڈ رہی ہوں نہ وہ مل رہی ہے نہ فون اٹھا رہی ہے…..

شافع نے جیب میں ہاتھ ڈال کر سیدھا ہوتے ہوئے پوچھا آپ اکیلی جائیں گی؟؟؟

آئےنور فون میں دیکھتے ہوئے مصروف سے انداز میں بولی نہیں منہا کے ساتھ….

شافع نے کندھے اچکا کر کہا وہی مطلب اکیلی…..

آئےنور اسے دیکھتے ہوئے بولی دو لوگ کبھی اکیلے نہیں ہوتے….

شافع اسے بغور دیکھتے ہوئے بولا دو لڑکیاں اکیلی ہی ہوتی ہیں،،،

اس سے پہلے کے نور اس سے کچھ بولتی نور کا فون بجا….

ارمینہ بیگم کا فون تھا جو یقیناً اب ہلکان ہورہی ہوں گی،،،،

نور نے شافع سے ایکسکیوزمی کہہ کر سائڈ میں جا کے کال اٹھائی…..

ماما میں منہا کا انتظار کر رہی ہوں وہ پتا نہیں کہاں چلی گئی…..

ارمینہ بیگم شاید اسے جلدی گھر آنے کا کہہ رہی تھیں،،،، ماما میں تھوڑی دیر میں آرہی ہوں بس منہا کا انتظار کر رہی ہوں….

نور فون رکھ کر وآپس شافع کی طرف مڑی اسکے چہرے پر پریشانی صاف واضح تھی……

شافع نے اسے پریشان دیکھا تو پوچھ لیا کوئی مسئلہ ہے؟؟؟

نور اپنا موبائل رکھتے ہوئے بولی میری ماما پریشان ہورہی ہیں اتنی دیر ہوگئی منہا پتا نہیں کہاں ہے….

شافع اسے دیکھتے ہوئے بولا کیا میں کوئی مدد کروں؟؟؟

نور کچھ دیر پریشانی کے عالم میں کھڑی رہی آپ میری ایک چھوٹی سے مدد کر دیں پلیز مجھے باہر سے کوئی رکشہ کر دیں مجھے بہت دیر ہو رہی ہے میں اب اور منہا کا انتظار نہیں کر سکتی،،،،

شافع نے پہلے حیرت سے اسے دیکھا پھر گھڑی کو دس بج رہے ہیں آپ اس وقت اکیلی جائیں گی؟؟؟

نور کندھے اچکا کر بولی اور کوئی اوپشن نہیں ہے میں چلی جاؤں گی….

شافع کچھ سوچ کر جھجھکتے ہوئے بولا اگر آپ برا نہ مانیں تو میں ڈراپ کر دوں آپکو،،،،،

نور پیچھے ہوتے ہوئے بولی نہیں میں آپکے ساتھ نہیں جاسکتی….

ایک انجان شخص پر یقین کر سکتی ہے مجھ پر نہیں؟؟؟ شافع نے طنز کیا….

آئےنور نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولی بات یقین کی نہیں ہے…

شافع اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا “مطلب بھروسہ ہے مجھ پر”؟

نور نے بھی اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا میں نے ایسا بھی نہیں کہا….

شافع ہنسا… اچھی بات ہے کسی پر آسانی سے بھروسہ کرنا بھی نہیں چاہیئے، بیشک آپ مجھ پر بھی بھروسہ مت کریں ویسے بھی آپکے پاس”چلی پیپر اسپرے ہے”

نور مسکرائی ایسی کوئی بات نہیں ہے آپ پہلے ہی مجھ پر بہت احسان کر چکے میں آپکے اور احسان نہیں لے سکتی….

شافع کندھے اچکا کر بولا میں کوئی احسان نہیں کر رہا As a senior میں یہ کر رہا ہوں آپکی جگہ کوئی اور بھی ہوتا تو میں شاید یہی کرتا،،،

آئےنور خاموش رہی تو شافع بولا اگر آپ میرے ساتھ کمرفرٹیبل نہیں ہیں تو میں زایان سے کہہ دیتا ہوں وہ آپ کو ڈراپ کر دے گا….

آئےنور اسے روکتے ہوئے بولی نہیں اسے رہنے دیں میں گھر صحیح سلامت اور سکون سے جانا چاہتی ہوں،،،، شافع ہنسا

تو پھر میں چھوڑ دوں؟؟؟؟

آئےنور منا کرنے والی تھی اسکا پھر موبائل بجا دوبارہ ارمینہ بیگم کا فون تھا آئے نور نے کال اٹھا کر موبائل کان سے لگا لیا….

ماما میں آرہی ہوں،،،،، آپ اتنا ہائپر مت ہوں طبیعت خراب ہو جائے گی میں بس تھوڑی دیر میں آرہی ہوں…

آئےنور نے کال کاٹ کر موبائل پرس میں رکھا پھر شافع کی طرف دیکھ کر بولی اگر آپ کو کوئی مسئلہ نہ ہو تو آپ پلیز مجھے گھر ڈراپ کر دیں میری ماما پریشان ہورہی ہیں…

شافع نے اسے ہاتھ کے اشارے سے آگے چلنے کا کہا،،،،

مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے اور اگر آپ کو کوئی مسئلہ ہو تو چلی پیپر اسپرے تو آپکے پاس ہے ہی….

آئے نور مسکرادی…..

گاڑی تک پہنچتے پہنچتے بھی نور منہا کو کال کرتی رہی شافع نے پہلے نور کی طرف کا گاڑی کا دروازہ کھولا نور کو جھجھک ہورہی تھی…..

میں پیچھے بیٹھ جاؤں؟؟ شافع ڈرائیونگ سیٹ کی طرف جاتے ہوئے بولا میں آپکا ڈرائیور ہوں کیا جو آپ پیچھے بیٹھیں گی اور میں آگے نور بغیر کچھ کہے آگے والی سیٹ پر بیٹھ گئ…..

نور نے شافع کو راستہ سمجھا دیا شافع کو وہ جگہ پتا بھی تھی

آئےنور گھبراہٹ سے بار بار منہ پر ہاتھ پھیرنے لگی جسے شافع نے بخوبی نوٹ کیا تھا…..

آپ پریشان مت ہوں ، میں آپ کو صحیح سلامت گھر پہنچا دوں گا….

آئےنور مسنوعی سا مسکرا دی،،،، راستہ کچھ دیر خاموشی سے گزرہ تو شافع بولا….

آپکے گھر سے آپکو کوئی لینے کیوں نہیں آیا نور شافع کی طرف دیکھ کر بولی بابا شہر سے باہر گئے ہوئے ہیں اسلئے…

شافع نے اثبات میں گردن ہلا دی، اچھا،،،،،

سارا راستہ خاموشی سے نور نے کھڑکی سے باہر دیکھ کر گزرا،،،،،

آپارٹمنٹ کے باہر پہنچ کر نور نے شافع کو گاڑی روکنے کے لئے کہا شافع نے سائڈ پر گاڑی لگا لی…..

نور نے مسکراتے ہوئے شافع کی طرف دیکھا تھینکیو…. شافع نے اثبات میں سر ہلا کر کہا یور ویلکم…..

آئےنور اپنے ہاتھ دیکھتے ہوئے بولی کیا آپ میری اب تک کی ساری حماقتوں کے لئے مجھے معاف کر سکتے ہیں؟؟؟

نور نے شافع کی طرف دیکھا اور شافع نے اسکے ہاتھوں کو……

شافع نے اسکے ہاتھوں سے نظریں ہٹا لیں سیٹ سے ٹیک لگا کر بولا

“میں باتیں گھما کر کرنے کا عادی نہیں ہوں میں آپکو معاف کر سکتا ہوں ہاں لیکن بھولا نہیں سکتا”

نور نے اچھنبے سے شافع کو دیکھا تو شافع فوراً بولا “اپنی بےعزتی کو”

نور شرمندہ ہوئی،،،،، پھر ٹھہر کر بولی ہو سکے تو معاف بھی کر دیئے گا اور بھول بھی جائے گا…..

“خدا حافظ” نور نے باہر نکلنے کے لئے دروازہ کھولا تو شافع بولا سنیں…!

نور نے پلٹ کر اسکی طرف دیکھا..

کیا آپ وہی آئےنور ہیں جو مجھے پہلے دن سے آج شام تک کے درمیان ملی تھیں…..

آئےنور نے ہنستے ہوئے پوچھا کیا مطلب….؟

شافع براہ راست اسکی آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولا مطلب شافع اور آئےنور نے کچھ لمحے بغیر لڑے اور بغیر بحث کئے گزار دیئے،،،،،

نور اسکی آنکھوں سے الجھن کا شکار ہوئی تو اس پر سے نظریں ہٹا لیں،،،،

“ہو سکتا ہے یہ آخری ملاقات کا اثر ہو”

شافع کو الفاظ چبھتے ہوئے محسوس ہوئے

نور نے وآپس شافع کی طرف دیکھا….

خدا حافظ،،،،، کہہ کر نور گاڑی کا دروازہ بند کر کے اپنی بلڈنگ کی طرف بڑھ گئی….

شافع نے اسٹیئرنگ ویل پر ہاتھ رکھ کر پیچھے سیٹ پر سر ٹکایا….

“آخری ملاقات”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زایان پارٹی میں ادھر ادھر گھوم کر شافع اور آئےنور کو ڈھونڈ رہا تھا،،،،

اچانک اسے باہر سے منہا آتی ہوئی نظر آئی،،،

منہا تم کہاں تھی آئے نور تمھے ڈھونڈ رہی تھی، اور اب وہ نہیں مل رہی منہا آئی باہر سے تھی پھر بھی بولی میں تو یہیں تھی میں خود کب سے آئےنور کو ڈھونڈ رہی ہوں مل ہی نہیں رہی….

زایان اسکے موبائل کی طرف اشارہ کر کے بولا وہ تمھے کال بھی کر رہی تھی تم نے ریسیو ہی نہیں کی….

منہا نے فون کو دیکھ کر سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا…. اوہ وہ دراصل میرا موبائل سائلنٹ پر تھا تو میں نے دیکھا ہی نہیں…..

زایان منہا سے بولا تم آئےنور کو فون کر کے پوچھو وہ کہاں ہے…..

منہا آئےنور کو کال کرنے لگی……

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آئےنور گھر پہنچی تو ارمینہ بیگم بےچینی سے لاؤنج میں ٹھل رہی تھیں…..

وہ پریشانی سے خفا ہوتے ہوئے بولیں…..

نور تمھے کچھ احساس سے دس بچ چکے ہیں اور تمھارا کوئی ناموں نشان ہی نہیں ہے تمھارے بابا کا بھی فون آیا تھا پوچھ رہے تھے تمھارا وہ تو میں نے کہہ دیا کہ نور سو رہی ہے اگر انھے پتا چل گیا نہ کہ انکی غیر موجودگی میں تم اتنی دیر تک گھر سے باہر تھیں

تو تمھے اور مجھے دونوں کو ہاتھ پکڑ کر گھر سے باہر نکال دیں گے کہ جاؤ اور کرو عیاشیاں……

آئےنور انکے کندھے پکڑتے ہوئے بولی ارے ماما ریلیکس ہو کر میری بات تو سن لیں،،،

میں کب کی آجاتی لیکن منہا کا کوئی نامو نشان نہیں تھا وہ پتا نہیں کہاں تھی میرا فون بھی نہیں اٹھا رہی تھی…..

ارمینہ بیگم نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا کیا مطلب ہے منہا نہیں مل رہی تھی کہاں گئی وہ اور اگر منہا نہیں ملی تو تم آئی کس کے ساتھ ہو؟

نور نے ہونٹوں پر زبان پھیری ماما وہ منہا مل ہی نہیں رہی تھی دیر بھی ہو رہی تھی اور آپ بھی پریشان ہورہی تھیں تو مجھے مجبورن شافع کے ساتھ آنا پڑا زایان کا دوست ہے یونیورسٹی میں ہی پڑتا تھا…..

ارمینہ بیگم نے اسے چبتی ہوئی نظروں سے گھورا….

تم کسی لڑکے کے ساتھ آئی ہو نور تمھارا دماغ خراب ہوگیا تھا؟؟؟

نور نے انھے اطمینان دلاتے ہوئے کہا ماما مجھے مجبوراً اسکے ساتھ آنا پڑا میں اکیلے رکشے میں کیسے آتی؟؟

ارمینہ بیگم خفا ہوتے ہوئی بولیں جو بھی ہے لیکن تمھے اسطرح کیسی لڑکے کے ساتھ نہیں آنا چاہیے تھا اگر تمھارے بابا کو پتا چل گیا نہ تو…..

ماما پلیز اب گھر آ تو گئی ہوں نہ اب آپ کیا چاہ رہی ہیں میں وآپس چلی جاؤں….

نور غصے سے کمرے میں چلی گئی….

نور بیڈ پر بیٹھی تھی جب اسکا فون بجا منہا کا فون تھا نور کال ریسیو کر کے بھڑک پڑی…..

منہا تم کہاں چلی گئی تھیں؟ تمھے میں نے کتنی کال کی تم فون کیوں نہیں اٹھا رہی تھیں…؟

آئےنور کی آواز سن کر منہا بوکھلائی میں…. میں تو یہیں تھی کب سے تمھے ڈھونڈ رہی ہوں….

آئےنور دھاڑی مجھ سے جھوٹ مت کہو تم وہاں نہیں تھی میں نے تمھے ہر جگہ ڈھونڈا تھا تمھے پتا ہے تمھاری وجہ سے مجھے کتنی پریشانی ہوئی اگر تمھے اپنے ضروری کام تھے تو مجھے بول دیتیں میں کم سے کم اپنے آنے جانے کا انتظام کر لیتی،،،،،

منہا اسکی بات کو نظر انداز کر کے بولی تم اس وقت ہو کہاں؟؟؟

گھر پر……! نور نے کھٹ کر کے کال کاٹ دی…..

زایان نے منہا کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا……

منہا نے موبائل رکھتے ہوئے کہا وہ گھر چلی گئی ہے…..

زایان نے حیرت سے پوچھا گھر چلی گئی ہے کس کے ساتھ منہا نے کندھے اچکا دیئے….

زایان نے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے سوچا کہیں شافع بھی گھر نہ چلا گیا ہو…..

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شافع گھر پہنچا تو بارہ بجنے والے تھے، نور کو ڈراپ کر کے شافع بےجہ سڑکوں پر گاڑی دوڑاتا رہا….

کوٹ صوفے پر پھینک کر وہ وہیں سر پیچھے کر کے بیٹھ گیا،،، تھکن سے آنکھیں جل رہی تھیں…

لیکن اب اسے اس تھکن کا عادی ہونا تھا اسنے گھڑی اتار کر ٹیبل پر رکھی پھر شرٹ کے بٹن کھولنے لگا….

کچھ دیر وہ اسی طرح بیٹھا رہا پھر ورڈ روب میں سے کپڑے نکال کر فریش ہونے کے لئے چلا گیا….

کچھ دیر بعد وہ تولیے سے بال خشک کرتے ہوئے باہر نکلا،،،،

اسٹینڈ پر تولیہ لٹکا کر بیڈ پر آکر لیٹ گیا،،،، لیٹتے ہی وہ نیند کی گہرائیوں میں جانے لگا تھا کہ اچانک زوروں سے اسکا موبائل بجا اور نیند ٹوٹ گئی…..

کال ریسیو کر کے شافع نے موبائل کان پر رکھ لیا دوسری طرف زایان تھا۔ ۔ ۔ ۔

زایان گھر جارہا تھا اس نے کان میں بلو توت لگایا ہوا تھا

آخر میرے منا کرنے کے بعد بھی تم وہاں سے بھاگ گئے…

شافع آنکھیں بند کئے ہوئے ہی بولا میں بھاگا نہیں تھا….

تو پھر کہاں چلے گئے تھے….

آئےنور کے گھر سے فون آرہا تھا اور اسکی دوست غائب تھی تو میں اسے چھوڑنے گیا تھا…..

زایان ہنستے ہوئے بولا آہاں ……! کیا میرے کانوں نے جو سنا وہ سچ ہے؟؟؟

شافع اسکی بات کو نظر انداز کر کے بولا تمھے آئےنور کو اسکالرشپ والی بات بتانے کی ضرورت نہیں تھی…..

زایان مسکراتے ہوئے بولا بالکل ضرورت تھی وہ محترمہ تم سے کچھ زیادہ ہی بد مزاج ہوتی جارہی تھیں……

تو ہونے دیتے کونسا ہم نے اب پھر کبھی ملنا ہے…..

زایان ہنسا تمھارا تو پتا نہیں لیکن میں تو سب سے ملنے والا ہوں پیچھا تو میں کسی کا نہیں چھوڑوں گا…..

شافع کو شدید نیند آرہی تھی زایان اب میں سو رہا ہوں فون بند کرو،،،،،

اچھا سو جاؤ میں نے تمھے یہ یاد دلانا تھا کہ جو تم میرے لئے لے آکر آئے تھے وہ اب تک تمھاری گاڑی میں ہے کل آفس آتے ہوئے لے کر آنا…..

مجال ہے جو کبھی کھانے کی چیز بھول جاؤ….

زایان نے دانت نکالتے ہوئے گردن دائیں بائیں ہلائی،،،، آں ہاں…….!

زایان کل آفس وقت پر آجانا میں نے میٹنگ رکھی ہے……اس سے پہلے کے زایان کوئی بہانے بناتا شافع نے کال کاٹ دی……….

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگلے دن شافع آفس کے لئے تیار ہوکر ناشتہ کرنے کےلئے ڈائیننگ ٹیبل پر آیا….

تیمور صاحب اور تہمینہ بیگم بھی بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے…..

شافع بریڈ پر مکھن لگا رہا تھا جب تیمور صاحب بولے آج تم صبح جارہے ہو آفس؟؟؟

شافع مصروف سے انداز میں بولا امتحان ختم ہوگئے…..

تیمور صاحب نے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں آپس میں ملائیں اب کیا ارادے ہیں…..

شافع حیرت سے بولا کیا مطلب….؟

مطلب کن کن کمپنیوں کے پراجیکٹس لو گے؟؟

شافع جوس پیتے ہوئے بولا جن کے مناسب لگے،،، ایک پروجیکٹ شروع کردیا ہے باقی بھی ساتھ ساتھ شروع کروں گا…..

تم نے ابھی اسٹارٹ لیا ہے سارے پراجیکٹ ایک ساتھ مت شروع کرو….

شافع انکی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے بولا میں اپنے حساب سے سب دیکھ رہا ہوں……

ٹھیک ہے جیسے تمھاری مرضی،،،،،

کچھ دیر بعد تیمور صاحب شافع کا چہرہ بغور دیکھتے ہوئے بولا،،،،

اور پھر شادی کا کیا سوچا ہے…..

شافع کا ناشتہ ختم نہیں ہوا تھا پھر بھی وہ کوٹ اٹھا کر کھڑا ہو گیا….

اللہ حافظ اسنے اسطرح کہا تھا جیسے تیمور صاحب کی بات سنی ہی نہ ہو……

تیمور صاحب نے ضبط سے مٹھیاں بھینچ کر تہمینہ بیگم کو دیکھا تو انھوں نے نظریں جھکا لیں….

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زایان آفس کے لئے تیار ہو رہا تھا جب میراب اسکے کمرے میں داخل ہوئی زایان کی سائڈ ٹیبل پر چاکلیٹ کا ڈبہ پڑا تھا جس میں اب مشکل سے چار پانچ چاکلیٹ باقی تھیں…..

میراب چاکلیٹ کا ڈبہ اٹھا کر آنکھیں پھاڑتے ہوئے بولی چاکلیٹس وہ بھی اکیلے اکیلے،،،،،

زایان فوراً اسکی طرف مڑا ،،،،، خبر دار میراب اگر تم نے میری چاکلیٹ کو ہاتھ لگایا تو رکھو وآپس،،،،،

میراب نے جلدی سے ایک چاکلیٹ نکال کر کھانے کے لئے ریپر کھولا زایان نے فوراً اسکے ہاتھ سے چاکلیٹ جھپٹی اور ڈبہ بھی چھین لیا میراب نے کمر پر ہاتھ رکھ کر اسے گھورا……

اللہ کرے یہ چاکلیٹ آپ کو ہضم ہی نہ ہو…

زایان چاکلیٹ منہ میں ڈالتے ہوئے بولا مجھے پتھر بھی ہضم ہیں…..

میراب نے دانت پیستے ہوئے اسے گھورا

ویسے چھینی کس سے ہے یہ کیوں کہ آپ اپنے پیسوں سے کچھ خرید لیں ناممکن سی بات ہے….

زایان بھنویں اٹھاتے ہوئے بولا چھینی نہیں ہے گفٹ دی ہے کسی نےگفٹ، زایان جتاتے ہوئے بولا….

میراب اسے بغور دیکھتے ہوئے بولی شکل بتا رہی ہے چاکلیٹ کسی لڑکی نے دی ہے….

زایان مسکراتے ہوئے بھنویں اوپر نیچے کر کے بولا کوئی شک ہے؟؟؟

میراب اسے چھیڑتے ہوئے بولی اوہو ہو….

اتنی گہری مسکراہٹ کچھ تو گڑبڑ ہے….

زایان اسے گھورتا ہوا بولا توبہ کرو دماغ ٹھیک ہے،،، کیا گڑبڑ ہو سکتی ہے….

میراب اسکے بازو پر چٹکی نوچتے ہوئے بولی نام تو بتائیں…

زایان اسے گھورتے ہوئے بولا کس کا؟؟

میراب دانت نکالتے ہوئے بولی اس چاکلیٹ والی کا….

زایان اسے گھورتے ہوئے واپس ڈریسنگ کی طرف چلا گیا….

میراب فالتو باتیں مت کرو….

زایان پرفیوم لگا رہا تھا میراب اسکے سامنے آکر بولی میں نے کونسی فالتو بات کی نام ہی تو پوچھا ہے…

زایان کالر ٹھیک کرتے ہوئے بولا آئےنور…

میراب گال پر ہاتھ رکھ کر بولی ہممم آئےنور نائس نیم ، ماما سے بات کروں کیا….؟

زایان نے اسے خونخوار نظروں سے گھورا….

تو میراب فوراً بولی اچھا نہیں کر رہی بات…..

تمھارا ہوگیا ہو تو جا کر ناشتہ لگاؤ….

میراب آنکھیں گھماتے ہوئے بولی نوکر سمجھا ہوا ہے کیا؟؟

زایان نے اسکے سر پر مارا بس کوئی کام نہیں کرواؤ باتیں بنوالو….

میراب نے اسے غصے سے گھورا زایان اسکے غصے کو نظر انداز کر کے کمرے سے باہر چلا گیا……..

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آئےنور کلاس میں کھوئی کھوئی سی بیٹھی تھی کلاس ختم بھی ہوگئی لیکن اسے پتا ہی نہیں چلا…..

اچانک منہا نے اسکے آگے چٹکی بجائی تو وہ جیسے ہوش میں آئی کہاں کھوئی ہوئی ہو میڈم…..

نور گردن نفی میں ہلاتے ہوئے بولی کہیں نہیں،،،،،

آئےنور اور منہا کلاس سے باہر نکلیں منہا کینٹین جانا چاہ رہی تھی جبکہ آئےنور لائبریری منہا کینٹین کی طرف چلی گئی تو نور لائبریری کی طرف مڑ گئی

وہ تھوڑی آگے ہی گئی تھے جب کسی نے پیچھے سے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا…..

نور اچانک پلٹی تاشفہ اپنی فریبی آنکھوں سے اسے گھور رہی تھی….

نور نے اسکی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا جی کہیں؟؟؟

تاشفہ نے اس پر گہری نظریں ڈالتے ہوئے پوچھا آئےنور صدیقی؟

آئےنور نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا جی آپ کون؟؟

تاشفہ نے نور کو اوپر سے نیچے تک دیکھا میں کون ہوں یہ جاننا تمھارے لئے ضروری نہیں ہے, میں جو کہہ رہی ہوں بس اس پر غور کرو،،،،،

اپنے یہ تھرڈ کلاس طریقے کسی اور پر آزماؤ شافع تم جیسی کو گھاس نہیں ڈالے گا تاشفہ نے چبتے ہوئے لفظوں سے کہا تھا…..

نور کو اسکی بات سمجھ میں نہیں آئی تو اچھنبے سے پوچھا کیا کہنا چاہ رہی ہو تم؟ کیا مطلب ہے تمھارا؟

تاشفہ نے اسے حکارت سے دیکھتے ہوئے کہا تم اتنی معصوم نہیں ہو جتنی بن رہی ہو

پھر انگلی اٹھاتے ہوئے بولی شافع سے دور رہنا وہ میرے علاوہ کسی کا نہیں ہو سکتا سمجھیں تم….

نور کے اعصاب تن گئے،،، میرا شافع سے کوئی تعلق نہیں ہے، تم جو بھی ہو تمھارا شافع سے جو تعلق ہے مجھے نہیں پتا،،،

تم یہ اپنے گھٹیا الزام کسی اور پر لگاؤ اور مجھ سے آئندہ اس لہجے میں بات کرنے کی کوشش بھی مت کرنا یہ مت سمجھنا کہ میں تمھاری یہ دھمکیاں سن کر ڈر جاؤں گی……

تاشفہ اسے پھر کچھ بولنا چاہ رہی تھی نور نے اس پر ایک نظر ڈالی اور وہاں سے چلی گئی….

تاشفہ نے ڈنر والی رات آئےنور کو شافع سے بات کرتے اور اسکی گاڑی میں بیٹھتے دیکھ لیا تھا جس کی وجہ سے تاشفہ کو اپنا روم روم جلتا ہوا محسوس ہوا

اسنے شافع کو تو اپنے دل و دماغ پر حاوی کیا ہوا ہی تھا لیکن اب آئےنور اسے کھٹکنے لگی تھی…..

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شافع ،زایان اور انویسٹرز میٹنگ روم میں موجود تھے شافع نے ایک فائل پر سائن کئے پھر فائل زایان کی طرف بڑھا دی زایان نے بھی سائن کر دیئے تو شافع سامنے بیٹھے لوگوں سے ہاتھ ملانے کے لئے کھڑا ہوا…..

شمس گروپ آف انڈسٹریز کا پروجیکٹ انھے مل گیا تھا اور یہ پروجیکٹ اتنا بڑا تھا کہ اگر یہ کامیاب ہو جائے تو انکا بزنس بلندیوں پر پہنچ جائے گا…..

انویسٹرز چلے گئے تو شافع اور زایان ایک دوسرے سے گلے ملے زایان تو خوشی سے اچھلنے لگا

ٹریٹ تو بنتی ہے بھائی…. شافع اسکے سینے پر مکا مارتے ہوئے بولا ہر وقت کھانا،،،

زایان منہ بناتے ہوئے بولا لو اب اتنا بڑا پروجیکٹ ملا ہے تو کیا ٹریٹ بھی نہیں مانگوں؟

پارٹنر تو تم بھی ہو کام تو تم نے بھی کرنا ہے تو ٹریٹ تو تمھاری طرف سے بھی بنتی ہے…

زایان آنکھیں گھماتے ہوئے بولا اچھا اچھا پلا دوں گا تمھے بیس روپے والا جوس زیادہ مارو نہیں…..

شافع نے زایان کے بال بکھیرتے ہوئے کہا کنجوس….

زایان نے غصے سے شافع کا ہاتھ ہٹا کر دوبارہ بال سیٹ کئے یار بال مت خراب کیا کرو بڑی مشکل سے سیٹ کرتا ہوں میں…..

شافع اپنا موبائل اٹھاتے ہوئے بولا

ہاں مجھے پتا ہے….

مجھے ایک ہوٹل میں میٹنگ کے لئے جانا ہے میں جا رہا ہوں اور تمھاری بھی آدھے گھنٹے بعد میٹنگ ہے یاد سے چلے جانے

زایان ٹانگ پر ٹانگ چڑھا کر اطمینان سے بیٹھ گیا

ہاں ہاں یاد ہے مجھے چلا جاؤں گا اپنے ساتھ ساتھ تم مجھے بھی پاگل کر رہے ہو اچھا سنو…..

شافع دروازے تک پہنچا تھا اسکی آواز پر مڑ کر دیکھا زایان دانت نکال کر بولا کچھ کھانے کے لئے لے آنا…..

شافع بھنویں اٹھاتے ہوئے بولا جوتے؟؟؟

زایان نفی میں گردن ہلاتے ہوئے بولا نہیں وہ تم کھا لینا میرے لئے کچھ اچھا لے آنا میں آج کل ڈائٹ پر ہوں….

شافع نے آنکھیں بڑی کر کے کہا اوہ ہ ہ تو آپ ڈائٹ پر ہیں تو آپ اپنے ڈائٹ مینیو کے حساب سے کیا کھانا پسند کریں گیں؟؟؟

زایان بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا میرا ڈائٹ پلین بالکل سادہ سا ہے ایک پلیٹ فروٹ سلاد اوپر تھوڑی سی کریم ڈال کے، ملائی بوٹی اور دو جوس بس اور کچھ نہیں…..

شافع نے دانت پیس کر زایان کو دیکھا

تو زایان قہقہہ لگاتے ہوئے بولا ارے اتنا غصہ مت کر میرے “آدھے پٹھان” کہیں باہر لڑکیاں اپنے باس کے لئے خود کشی نہ کر بیٹھیں،،،،،

شافع مٹھیاں بھینچ کر زایان کو مارنے کے لئے آگے بڑھا تو زایان فائل منہ کے آگے کر کے فوراً کھڑا ہوا اچھا اچھا سوری میرے بھائی مزاق کر رہا تھا،،،،

شافع وہیں رک گیا شافع وآپس جانے کے لئے مڑا تو زایان پیچھے سے زور سے بولا میرے ڈائٹ پلین کے حساب سے کھانے کو لے آنا……

شافع ایک دھماکے سے دروازہ بند کر کے باہر چلا گیا…..

زایان نے کانوں پر ہاتھ رکھ لیا اور اسکے غصے والے انداز پر ہنسا،،،،

شافع کے چلے جانے کے بعد وہ پھر سے ٹانگ پر ٹانگ چڑھا کر موبائل نکال کر بیٹھ گیا…..

موبائل نکال کر اسنے کسی کو کال لگائی کافی دیر بعد فون اٹھایا گیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔

آواز کو تھوڑا بدل کر بولا جی لاش ٹھکانے لگا دی ہے پیسے کب ملیں گیں…..

دوسری طرف سے کسی لڑکی کی گھبرائی ہوئی آواز آئی لاش کیسی لاش….

زایان نے اپنی ہنسی کو قابو کیا وہی لاش میڈم جسے کل اپنے اپنے ہاتھ سے لڑکایا تھا پھر کہا تھا کہ لاش کو ٹھکانے لگا دینا…..

دوسری طرف سے فوراً کال کاٹ دی گئی….

زایان کا ایک قہقہہ بلند ہوا وہ دوبارہ کال کرتا رہا لیکن فون نہیں اٹھایا گیا تو اسنے میسج کیا “میڈم کال اٹھائیں ہمیں ہمارے پیسے چاہیئں ورنہ میں آپکا نمبر پولیس کو دے رہا ہوں پولیس آپکا نمبر ٹریس کر کے خود آپ تک پہنچ جائے گی…..

زایان نے ایک منٹ بعد دوبارہ کال لگائی تو کال اٹھا لی گئی….

دیکھیں آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے اور آپ کیا میرا نمبر پولیس کو دیں گیں میں ابھی آپکا نمبر پولیس میں دیتی ہوں….

زایان کا قہقہہ بلند ہوا تو دوسری طرف سے شاید اسے پہچاننے کی کوشش کی گئی تھی…..

کیا ہوا ہٹلر اتنی جلدی ڈر گئیں…..

نور کے منہ سے بے ساختہ نکلا زایان تم؟؟؟

زایان ہنستے ہوئے بول ہاں ہاں میں…..

زایان نے غصے سے مٹھیاں بھینچیں زایان کے بچے میں تمھیں چھوڑوں گی نہیں….

زایان قہقہہ لگاتے ہوئے شرارت سے ایک آنکھ بند کر کے بولا قسم کھاؤ…

نور نے دانت بھینچیں میں تمھارے دانت توڑ دوں گی زایان حیدر کچھ کھانے کے قابل نہیں رہو گے….

زایان ہنستا ہوا بولا اچھا اچھا ریلیکس یار ایسی مزاق کر رہا تھا….

آئےنور اپنا غصہ ہلکا کرتے ہوئے بولی تمھے میرا نمبر کہاں سے ملا؟؟؟

زایان فخر سے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا زایان حیدر کے لئے یہ کوئی مشکل کام نہیں تھا……

نور نے کوفت سے آنکھیں گھمائیں کیوں فون کیا ہے….؟

یار تم اس دن مجھ سے ملے بغیر ہی ڈنر سے چلی گئیں….

آئےنور غصے سے بولی ہاں کیونکہ تم سے ملنے کی یا بات کرنے کی اب کوئی وجہ نہیں رہی….

زایان خفا ہوتے ہوئے بولا یہ صحیح بات نہیں ہے میں ناراض ہو جاؤں گا

نور اسکی بات کو نظر انداز کر کے بولی زایان تم نے جھوٹ بول کر مجھ سے اچھا نہیں کیا…..

تم روز کینٹین میں میرے کتنے پیسے خرچ کرواتے تھے….

زایان دانت نکالتے ہوئے بولا کوئی بات نہیں دوستوں کا حق بنتا ہے دوستوں کی جیب خالی کروانے…..

آئےنور غصے سے بولی ہم کوئی دوست ووست نہیں ہیں سمجھے تم…..

زایان ڈرامے کرتے ہوئے بولا بہت بری ہو ویسے تم ہٹلر….

آئےنور بھنویں اٹھاتے ہوئے بولی ہاں بہت بری ہوں میں اور اب آئندہ مجھے کال مت کرنا سمجھے،،،

نور کال کاٹنے لگی تھی زایان فوراً ہنستے ہوئے بولا میں زایان حیدر ہوں یہ مت سمجھنا کے میں اب یونیورسٹی میں نہیں بھٹکوں گا چکر تو میں لگاتا رہوں گا اور تمھارا دماغ اور پیسے دونوں کھاتا رہوں گا۔ ۔ ۔

آئےنور ہنہہ کرتے ہوئے بولی وہ تو وقت بتائے گا میرے سامنے آئے نہ میں تمھارا سر پھاڑ دوں گی……

زایان کا قہقہہ بلند ہوا…. اتنے سے منہ پر اتنی بڑی بڑی باتیں ذیب نہیں دیتیں آئےنور صدیقی…..

آئےنور نے غصے سے دانت پیسے اور کال کاٹ دی…..

اور کمرے میں زایان کا ایک قہقہہ بلند ہوا……

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بی اماں لان میں بیٹھیں اپنی آنکھوں کے سامنے ملازم سے پودوں میں پانی ڈلوا رہی تھیں….

ارے صحیح سے پودوں کو پانی ڈال ایک ایک پتے تک پانی پہنچنا چاہیے کھانے کے لئے سب آگے لیکن کام کرنے میں سب کی جان جاتی ہے جب تک اپنی آنکھوں کے سامنے کام نا کرواؤ تو کوئی کام ٹھیک سے نہیں کرتے…..

بی اماں ملازم کو جھاڑ لگا رہی تھیں جب ملازمہ نے آکر بتایا کے شہر سے تیمور صاحب کا فون آیا ہے تو بی اماں اندر لاؤنج میں آگئیں۔ ۔ ۔ ۔

فون کان سے لگایا تو دوسری طرف سے تیمور صاحب نے انھے سلام کیا…..

ہاں وعلیکم اسلام کہو تیمور میاں ماں کی یاد کیسے آگئی؟؟؟

اماں کیسی باتیں کر رہی ہیں میں آپکو کرتا تو ہوں فون….

ہاں ہاں ٹھیک ہے اور بتاؤ سب ٹھیک ہے نہ؟؟

جی اماں سب ٹھیک ہے آپ کیسی ہیں؟

بی اماں صوفے پر ٹانگ چڑھاتے ہوئے بولیں

ہماری چھوڑو میاں اپنے بیٹے کی سناؤ دماغ درست ہوا صاحب زادے کا یا ابھی بھی وہیں کا وہیں ہے….؟

تیمور صاحب سانس کھینچتے ہوئے بولے اماں وہ شادی کے لئے ہر گز تیار نہیں ہوگا….

بی اماں بھڑکتے ہوئے بولیں ارے تم کیسے باپ ہو ایک اولاد ہے وہ بھی تمھارے قابو میں نہیں ہے، مجال ہے جو وہ تمھاری ذرا سی عزت کرتا ہو یہ پرورش کی ہے تمھاری بیوی نے اسکی…….

تیمور صاحب نے مٹھیاں بھینچ کر منہ کے آگے رکھیں…..

اماں آپ یہ بتائیں کے آپ اسے شادی کے لئے کیسے راضی کریں گیں کیونکہ وہ خود سے تو کبھی تیار نہیں ہوگا……

بی اماں سوچتے ہوئے بولیں مجھے بہت اچھے سے پتا ہے کہ کس کی کونسی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھنا ہے، یہ سب تم مجھ پر چھوڑ دو….

کچھ وقت گزرنے دو پھر دیکھو میں کیا کرتی ہوں….

بی اماں خلا میں دیکھتے ہوئے شافع کو قابو کرنے کا نقشہ کھینچنے لگیں…..

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آئےنور اسٹڈی ٹیبل پر لیمپ کی روشنی میں کتابیں کھولی بیٹھی تھی…..

دروازے پر دستک ہوئی صدیقی صاحب کمرے میں داخل ہوئے….

صدیقی صاحب شام میں ہی وآپس آگئے تھے،،،

پڑھ رہی ہو؟؟؟

نور نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا جی بابا کوئی کام تھا…؟

ہاں تمھارے ہاتھ کی چائے پینے کا دل کر رہا تھا نور فوراً اٹھتے ہوئے بولی ابھی بنا دیتی ہوں بابا……

صدیقی صاحب نے گردن ہلاتے ہوئے کہا ٹھیک ہے میں بالکنی میں بیٹھا ہوں وہیں آجانا…..

نور گردن ہلا کر کچن کی طرف بڑھ گئی…

کچھ دیر بعد نور چائے کے دو کپ لے کر بالکنی میں آئی صدیقی صاحب کرسی پر بیٹھے تھے نور انکے سامنے لگے جھولے میں بیٹھ گئی چائے کا کپ نیچے رکھ کر نور اپنے پھولوں کو دیکھنے لگی…..

اسے صدیقی صاحب کا رویہ آج کچھ مختلف لگا تھا……

ماما سو گئیں بابا؟؟؟ صدیقی صاحب نے چائے کا گھونٹ لیتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا…..

نور گلاب کے پھول کو چھونے لگی…..

صدیقی صاحب گلا کھنکار کر بولے تمھارے لئے ایک رشتہ آیا ہے…..

نور کہ ہاتھ میں گلاب کا کانٹا چبھا…..

نور نے سسکی دبا کر انگلی سامنے کی تو خون کی ایک بوند ابھر گئی……

نور نے بے یقینی سے صدیقی صاحب کی طرف دیکھا……

لیکن بابا ابھی تو میری…….

صدیقی صاحب اسکی بات کاٹ کر بولے مجھے پتا ہے تمھاری پڑھائی چل رہی ہے لیکن تمھے بھی اپنا کیا ہوا وعدہ یاد رکھنا چاہیے…..

پھر صدیقی صاحب ٹھہر کر بے….

لوگ اچھے ہیں میں رشتے کے لئے منا نہیں کر سکتا میں نے صرف ابھی زبانی بات کی ہے،،،،،

انھے خود کچھ مہینے کا وقت چاہیے کیونکہ لڑکا امریکہ سیٹل ہورہا ہے……

نور کے بے ساختہ آنسوں نکل کر گال پر بہہ گئے…..

بابا میری پڑھائی…..

صدیقی صاحب اسکی طرف دیکھے بغیر بولے ابھی بات طے نہیں کی ہے کچھ مہینے بعد بات شروع کریں گے میں نے تمھے ابھی صرف اسلئے بتایا ہے تاکہ تم ہر چیز کے لئے تیار رہو…..

کیونکہ تم اپنی بات سے پھر نہیں سکتیں…..

نور پتھر کی بنی رہ گئی تھی….

صدیقی صاحب نے اپنی چائے کا آخری گھونٹ لیا اور کپ وہیں رکھ کر اپنے کمرے میں چلے گئے…..

نور وہیں بیٹھے اپنے آگے کے مستقبل کا خاکہ کھینچنے لگی……

کچھ لمحے وہیں بیٹھے رہنے کے بعد وہ اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی گئی اور چائے کا کپ بھرا کا بھرا وہیں پڑا رہ گیا