Izhar-e-Muhabat by Anooshe NovelR50417

Izhar-e-Muhabat by Anooshe NovelR50417 Izhar-e-Muhabat Episode 23

219.9K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Izhar-e-Muhabat Episode 23

Izhar-e-Muhabat by Anooshe

زایان ائیرپورٹ پر گردن جھکائے بیٹھا تھا…. اسکے بالکل سامنے والی کرسی پر ایک لڑکی بیٹھی تھی وہ کچھ دیر زایان کو دیکھتی رہی پھر اٹھ کر زایان کے برابر میں آکر بیٹھ گئی،،،، زایان اسی طرح گردن جھکائے بیٹھا رہا. اس لڑکی نے اسے مخاطب کیا “Are you ok?” زایان نے گردن اٹھا کر اس لڑکی کو دیکھا اسں لڑکی نے پینٹ شرٹ پہن رکھی تھی اور اوپر ایک لمبا سا اپر تھا اسے دیکھ کر زایان کو اندازہ نہیں ہورہا تھا کہ وہ یورپین ہے یا ایشیاً وہ لڑکی مسکرا کر اسکی طرف دیکھ رہی تھی،،،، زایان نے گردن اثبات میں ہلا کر آہستہ سے کہا “yeah I am ok” اس لڑکی نے زایان سے پوچھا آپ کہاں سے آئے ہیں؟ زایان کسی سے بھی بات نہیں کرنا چاہتا تھا اسلئے اسے اس لڑکی سے چڑ ہوئی اسنے اسکی طرف دیکھ کر کہا “پاکستان” اور وہاں سے جانے کے لئے کھڑا ہو گیا، وہ لڑکی اسے دیکھتے ہوئے انگریزی میں بولی میں نے سنا ہے پاکستان کے لوگ بہت سوئٹ ہوتے ہیں لیکن تمھے دیکھ کر تو ایسا نہیں لگتا….. زایان نے اچھنبے سے اسکی طرف دیکھا، پھر بولا ہاں ہم بہت سوئٹ ہوتے ہیں لیکن ہمیں غصہ بھی جلدی آجاتا ہے کیا آپ پلیز خاموش رہ سکتی ہیں زایان آپ اپنی عادت کے بر خلاف برتاؤ کر رہا تھا وہ لڑکی کندھے اچکا کر بولی اوکے سوری….

زایان وآپس بیٹھ گیا کچھ دیر خاموشی کے بعد وہ لڑکی دوبارہ بولی “I am from Italy” لیکن میرے گرینڈ فادر پاکستان سے تھے زایان نے کچھ نہیں کہا خاموش رہا…. وہ لڑکی انگریزی میں بولی میں سائیکالوجسٹ ہوں…. زایان نے آنکھیں گھما کر کہا تو کیا میں آپ کو نفسیاتی لگ رہا ہوں؟ وہ لڑکی ہنسی پھر اپنی ہنسی سمیٹتے ہوئے بولی نہیں میں بس تمھاری نفسیات کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہوں…. زایان آنکھیں بڑی کر کے بولا اچھا تو پھر سمجھ لیا تم نے؟ وہ لڑکی کندھے اچکا کر بولی ہاں تھوڑا بہت ابھی میں سیکھنے کے مراحل پر ہوں تو ہو سکتا ہے غلط اندازہ لگایا ہو میں نے تمھارے بارے میں…… زایان اسکی طرف دیکھتا ہوا بولا تو کیا اندازہ لگایا ہے تم نے میرے بارے میں،،،، وہ لڑکی دلچسپی سے زایان کی طرف گھومی اور پھر آہستہ سے بولی “کسی لڑکی کا معاملہ ہے” زایان کے تاثرات بدلے وہ اسکی بات کو فوراً رد کرنا چاہتا تھا لیکن اس لڑکی سے جھوٹ بولنے کی اسکے پاس کوئی وجہ نہیں تھی… اسلئے وہ سیدھا ہوتے ہوئے بولا ہاں تقریباً… اس لڑکی نے اپنا اندازہ صحیح ہونے پر تالی ماری اور مسکرائی… زایان نے اسے چبتی ہوئی نظروں سے دیکھا تو اسنے فوراً اپنی مسکراہٹ سمیٹی،،،، پھر سیدھی ہو کر بیٹھ گئی گلا کنکھار کر بولی اسنے چھوڑ دیا یا تم نے؟ زایان نے بھنویں سکیڑ کر اسکی طرف دیکھا تم کیوں پوچھ رہی ہو یہ سب؟ وہ لڑکی پرجوش انداز میں بولی میں سائیکالوجسٹ ہوں کیا پتا تمھارا مسئلہ ہل کر دوں،،،، زایان سیدھا ہوا اور اسکی بات کا کوئی جواب نہیں دیا لیکن اس لڑکی کی دلچسپی ختم ہی نہیں ہو رہی تھی، کچھ دیر بعد وہ پھر بولی…. محبت کرتے تھے اس سے؟ زایان کا چہرہ سپاٹ تھا اس دفعہ اسنے لڑکی کے اوپر غصہ کرنے کے بجائے آہستہ سے نفی میں گردن ہلائی…. اس لڑکی نے حیرت سے زایان کی طرف دیکھا،،، “جب محبت نہیں کرتے تھے تو پھر کیا کرتے تھے؟” زایان کندھے اچکا کر بولا وہ مجھے اچھی لگتی تھی بس…

شادی کرنا چاہتے تھے تم اس سے؟ زایان اپنے ناخنوں پر انگلی پھیرتے ہوئے بولا سوچ سکتا تھا…. وہ لڑکی ہاتھ ہلاتے ہوئے بولی،،،، محبت نہیں کرتے تھے پر اچھی لگتی تھی، صرف اچھی لگتی تھی پھر بھی شادی کرنے کا سوچ سکتے تھے….؟ تو پھر شادی کی کیوں نہیں؟ زایان نے اوپر کی طرف دیکھا….. اسکی شادی ہوگئی….! وہ لڑکی اوہ ہ ہ کرتے ہوئے بولی یہ تو بڑا برا ہوا لیکن تمھے تو اس سے محبت نہیں تھی نہ پھر مسئلہ کیا ہے؟ زایان نے کندھے اچکائے ہاں محبت نہیں تھی لیکن وہ مجھے اچھی بھی تو لگتی تھی…. وہ لڑکی زایان کی طرف پوری طرح گھوم کر بولی محبت میں اور کسی کے اچھا لگنے میں فرق ہوتا ہے، اور میں ایک بات گارنٹی سے کہہ سکتی ہوں کے تمھے اس لڑکی سے محبت نہیں تھی زایان کندھے اچکا کر بولا ہاں تو میں بھی تو یہی کہہ رہا ہوں کہ محبت نہیں تھی،،،

مجھے شافع کے علاوہ کسی سے بھی محبت نہیں ہو سکتی…. وہ لڑکی حیرت سے بولی شافع کون ہے،،، زایان کی آنکھوں میں چمک آئی تھی “میرا بھائی ہے” وہ جب بھی کسی کو شافع کے بارے میں بتاتا تو وہ یہی کہتا تھا میرا بھائی ہے کبھی یہ نہیں کہتا تھا کہ میرا دوست ہے…. اس لڑکی نے گردن ہلاتے ہوئے کہا اوہ اچھا تمھارا بھائی ہے،،،،، زایان نے ہممم کہا،،،

کچھ دیر بعد وہ لڑکی زایان کو بغور دیکھتے ہوئے بولی اچھا یہ بتاؤ کبھی تم سے کسی لڑکی کو محبت ہوئی ہے؟ زایان مصروف سے انداز میں نفی میں گردن ہلانے والا تھا وہ لڑکی پھر زایان کو بغور دیکھتے ہوئے بولی سوچ سمجھ کر جواب دینا….. زایان نے رک کر ایک لمبا سانس کھینچا، نیچے دیکھتے ہوئے آہستہ سے گردن اثبات میں ہلا کر بولا “ہاں ہوئی ہے” اس لڑکی نے تم سے اپنی محبت کا اظہار کیا تھا؟ زایان نے فرش پر نظریں جماتے ہوئے اثبات میں گردن ہلائی…. اور تم نے اس لڑکی کی محبت کو ٹھکرا دیا تھا…..

زایان نے حیرت سے اس لڑکی کی طرف دیکھا تم یہ سب کیسے کہہ سکتی ہوں…. وہ لڑکی فخرانہ انداز میں کرسی سے ٹیک لگا کر بولی بس پتا ہے بہت انٹیلیجنٹ ہوں میں…. “مستقبل کی بہت مشہور سائیکالوجسٹ ہوں گی میں” زایان کے چہرے پر ہنسی آئی اسے اپنا خود کو “مشہور و معروف بزنس مین زایان حیدر” کہنا یاد آیا….

وہ لڑکی وآپس زایان کی طرف گھومی ہاں تو ہم کہاں تھے؟ زایان سنجیدہ ہوتے ہوئے بولا “میرے محبت کو ٹھکرا دینے پر” وہ لڑکی پھر بولی ہاں تو تم نے اس لڑکی کی محبت کو ٹھکرا دیا…. اسکا نام کیا تھا؟ زایان بھنویں اٹھاتے ہوئے بولا میں تمھے کیوں بتاؤں؟ اس لڑکی نے آنکھیں گھمائیں مت بتاؤ…. اچھا یہ بتاؤ وہ لڑکی تم سے اب بھی محبت کرتی ہے؟ زایان نے لاتعلقی سے کندھے اچکائے مجھے نہیں پتا…. وہ لڑکی سوچتے ہوئے بولی ہممم اچھا تمھے پچھتاوا ہے محبت ٹھکرانے کا؟

زایان فوراً نفی میں گردن ہلاتے ہوئے بولا نہیں مجھے اس وقت یہ سب بس ایک وقتی جذبہ لگا تھا… وہ لڑکی بولی لیکن ہو سکتا ہے وہ سچ میں تم سے محبت کرتی ہو…. زایان خاموش رہا…. “تم نے محبت کو ٹھکرایا، زندگی نے تم سے تمھاری پسند بھی چھین لی تمھے پتا ہے جو محبت کو ٹھکراتا ہے پھر وہ در در کا بھکاری ہو جاتا ہے وہ محبت کی تلاش میں جگہ جگہ گھومتا ہے لیکن محبت اس سے روٹھ جاتی ہے، اور محبت جس سے روٹھ جائے پھر وہ اسے کہیں چین نہیں آتا محبت صرف اسی در پر ہوتی ہے جہاں پر آپ نے اسے ٹھکرایا تھا باقی سب تو محض آنکھوں کا دھوکا ہوتی ہے”

“ایک بات یاد رکھنا پسند ہزاروں آجاتے ہیں لیکن محبت صرف ایک سے ہوتی ہے دل پر مہر صرف ایک شخص کی لگتی ہے،،،، ” اس لڑکی نے زایان کے آگے چٹکی بجائی تو اچانک جیسے اسکا سحر ٹوٹا زایان کو دھندلاہٹ محسوس ہوئی اسکی آنکھوں میں نمی تھی…. کچھ سمجھ آیا مسٹر؟

زایان سر جھٹک کر بولا تم سچ میں اٹلی سے ہو؟ اس لڑکی نے اثبات میں گردن ہلائی…. زایان آنکھیں بڑی کر کے بولا تمھے اتنا فلسفہ کیسے آتا ہے؟

زایان کی بات کا جواب دینے کے بجائے وہ لڑکی مسکرا کر اٹھتے ہوئے بولی “محبت سب کچھ سکھا دیتی ہے” زایان کھڑے ہو کر حیرت سے بولا تو کیا تم بھی اس محبت نامی بلا کا شکار ہو؟ اس لڑکی نے ہلکی سے مسکراہٹ کے ساتھ نظریں نیچے جھکائیں،،، میری فلائیٹ کا وقت ہو گیا ہے تم پر پریکٹس کر کے مزا آیا لیکن ایک مشورہ دینا چاہوں گی اصل در پر لوٹ جاؤ ہو سکتا ہے محبت ابھی بھی تمھاری منتظر ہو اسکے روٹھنے سے پہلے تم اسے منا لو،،،وہ لڑکی مسکراتے ہوئے ہاتھ ہلا کر وہاں سے چلی گئی…. زایان نے کنپٹی پر ہاتھ پھیرا اسکی فلائیٹ کی آناؤسمنٹ بھی ہو رہی تھی اسنے اپنا بیگ اٹھاتے ہوئے سوچا….. تھی یہ سائیکالوجسٹ لیکن باتیں اسنے فلسفے کی کی ہیں اور مزاج اسکا اردو ادب والا تھا آخر یہ لڑکی میرے ساتھ کر کیا گئی ہے زایان نے سر تھاما اب مجھے کچھ کھا لینا چاہیے بہت ویکنس ہو رہی ہے مسٹر ہٹلر کی مسز نے میرا دماغ خراب کر دیا تھا شکر ہے یہ لڑکی مل گئی دماغ تھوڑا ہلکا ہوا لیکن یہ فلسفہ جو میرا دماغ میں بھر گئی ہے اسکا کیا زایان نے دونوں ہاتھ سر پر رکھے “یا میرے اللہ اپنے اس بندے پر کرم کر بڑی الجھن کا شکار ہے” پھر زایان سر جھٹک کر آگے بڑھ گیا……

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آئےنور باتھ روم سے باہر آئی تو شافع اچانک سیدھا ہوا….. شافع ٹرے اسکی طرف بڑھا کر بولا بابا کے لئے کھانا لے جاؤ انھوں نے کب سے کچھ نہیں کھایا اور تم بھی کھا لینا…. نور اسکے ہاتھ میں ٹرے دیکھ کر بولی میں کیسے بابا کے پاس جاؤں؟ شافع نے بھنویں سمٹیں کیا مطلب میں کیسے جاؤں تم بیٹی ہو انکی… نور نفی میں گردن ہلا کر بولی میں نہیں جاؤں گی وہ مجھے دیکھ کر غصہ کریں گے اگر انکی طبیعت خراب ہو گئی تو… شافع نے ٹرے اسکی طرف بڑھائی کچھ نہیں ہوگا تم جاؤ میں تمھارے ساتھ ہی ہوں…. نور نے شافع کی طرف دیکھا اسنے اثبات میں گردن ہلائی… نور کمرے سے نکل گئی باہر جاکر وہ صدیقی صاحب کے کمرے کے آگے رک گئی اور شافع کی طرف دیکھنے لگی شافع نے اسے اندر جانے کا اشارہ کیا تو اسنے آہستہ سے دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوئی شافع باہر ہی رک گیا تھا اندر نہیں گیا…..

صدیقی صاحب بیڈ پر ٹیک لگائے بیٹھے تھے اور آنکھوں پر ہاتھ رکھا ہوا تھا…. نور آہستہ سے آگے بڑھی اور ٹرے بیڈ پر رکھ کر صدیقی صاحب کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر انھے پکارہ بابا…. صدیقی صاحب اچانک سیدھے ہوئے انکی آنکھوں میں نمی تھی انھوں نے دوسری طرف منہ کر کے آنسوں صاف کئے اور جلدی سے اپنا چشمہ پہنا… انھے دیکھ کر نور نے بہت مشکل سے خود کو قابو کیا…. پھر نور انکا ہاتھ پکڑ کر آہستہ سے بولی بابا کھانا کھالیں. صدیقی صاحب نے نفی میں گردن ہلائی مجھے بھوک نہیں ہے… نور اصرار کرتے ہوئے بولی تھوڑا سا کھالیں بابا…. صدیقی صاحب خاموش رہے، نور نے ہونٹ بھینچے میں نے بھی اب تک نہیں کھایا بابا…. صدیقی صاحب نے نظریں اٹھا کر اسکی طرف دیکھا… پھر سانس کھینچ کر ٹرے آگے کرتے ہوئے بولے چلو شروع کرو…. نور نے اثبات میں گردن ہلائی،،،، اور جلدی سے ایک نوالہ توڑ کر صدیقی صاحب کی طرف بڑھایا…. صدیقی صاحب نے اسکا ہاتھ پکڑ کر نوالہ منہ میں لیا… اور اچانک وہ گردن جھکا کر رو دیئے…. انھے دیکھ کر نور سے بھی ضبط نہ ہوا اور رو دی، صدیقی صاحب نے اسے اپنے سینے سے لگا کر اسکا سر تھپتھپایا،،، صدیقی صاحب نے اپنا چشمہ اتار کر بیڈ پر رکھااور اپنی آنکھیں صاف کیں پھر نور کا سر تھپتھپایا چلو بس اب کھانا کھالو…. نور ان سے الگ نہیں ہوئی اور روتے ہوئے بولی بابا مجھے ماما یاد آرہی ہیں,,, وہ اتنی جلدی ہمیں چھوڑ کر کیسے جا سکتی ہیں…. صدیقی صاحب خاموش رہے.

پھر اسکا سر اپنے سینے سے اٹھایا وہ نور کی طرف دیکھنے سے گریز کر رہے تھے… سپاٹ چہرے سے بولے جانے والے کو کوئی روک نہیں سکتا ہم صرف دعا کر سکتے ہیں تم بھی اسکے لئے دعا کرو…. ایک پل میں انکا انداز بدل گیا تھا….. کھانے کی پلیٹ نور کی طرف بڑھائی کھانا کھاؤ….. نور ایسی بیٹھی انھے دیکھتی رہی کھانے کو ہاتھ نہیں لگایا… صدیقی صاحب نے جب دیکھا کہ وہ کھانا نہیں کھا رہی تو انھوں نے اپنے ہاتھ سے نوالہ بناکر نور کی طرف بڑھایا نور نے کھالیا….

صدیقی صاحب نے دو تین نوالے اسے کھلائے نور نے پھر انکا ہاتھ روک دیا…. بس بابا اور نہیں کھانا، اب آپ کھائیں، صدیقی صاحب نے بھی چند نوالے لے کر چھوڑ دیا… نور صدیقی صاحب پر نظریں جمائے انکے لفظوں کی منتظر تھی کہ وہ اس سے کچھ تو کہیں لیکن صدیقی نے اس سے کچھ نہیں کہا….

دروازے پر دستک ہوئی دروازہ کھول کر شافع اندر داخل ہوا صدیقی صاحب اور آئےنور دونوں نے اسکی طرف دیکھا…. شافع نے پہلے نور کو دیکھا پھر صدیقی صاحب کو گلا کھنکار کر بولا انکل میں جانے کی اجازت چاہتا ہوں… صدیقی صاحب نے اثبات میں سر ہلایا پھر نور کی طرف دیکھ کر بولے جاؤ نور اپنا سامان پیک کرو… نور نے بے یقینی سے صدیقی صاحب کی طرف دیکھا شافع کو بھی حیرت ہوئی،،، بابا میں کیوں سامان پیک کروں؟ صدیقی صاحب شافع کی طرف دیکھتے ہوئے بولے تمھے اب اپنے شوہر کے گھر جانا ہے…. شافع آگے آتا ہوا بولا انکل اتنی جلدی بھی کیا ہے نور کو کچھ دن اپنے پاس رکھیں میں پھر لے جاؤں گا اسے،،، نور بھی فوراً بولی ہاں بابا میں ابھی آپکے پاس رہنا چاہتی ہوں میں کہیں نہیں جاؤں گی…. صدیقی صاحب نفی میں گردن ہلا کر بولے “اللہ نے اگر کسی معجزے کے تحت تم دونوں کا نکاح کر وا ہی دیا ہے تو میں کوئی بیوقوفی نہیں کر چاہتا” شافع نے حیرت سے پوچھا کیا مطلب؟ صدیقی صاحب کھڑے ہوتے ہوئے بولے مطلب یہ کہ میں نہیں چاہتا کہ مجھے اب کوئی دھوکا ملے اس لئے وقت پر جو کام ہو جائے وہ بہتر ہے…. شافع سانس کھینچتا ہوا بولا آپ کو اس بات کا ڈر ہے کہ کہیں میں نور کو چھوڑ کر نا چلا جاؤں… آپ کو لگتا ہے کہ میں نے نکاح نور کو چھوڑنے کے لئے کیا ہے،،،، صدیقی صاحب سانس کھینچ کر آگے بڑھتے ہوئے بولے تم جتنے بڑے آدمی ہو نہ تم کچھ بھی کر سکتے ہو… “تم نے نور سے شادی کر لی یہ بھی بہت بڑی بات ہے لیکن اس شادی کے پیچھے تمھارا کیا مقصد ہے ہم نہیں جانتے” ہماری پہلے ہی اچھی خاصی بدنامی ہو چکی ہے، میں نہیں چاہتا کہ اب مزید کچھ ہو کیونکہ اب کی بار میں برداشت نہیں کر پاؤں گا….

شافع نے آگے بڑھ کر صدیقی صاحب کے کندھے پر ہاتھ رکھا،،، جو کچھ ہوا اس میں کسی کا کچھ قصور نہیں تھا جو ہوا وہ قسمت میں لکھا تھا، اور جہاں تک یہ میڈیا والا معاملہ ہے میں یہ سب سنبھال لوں گا اور آپ دیکھئے گا جس نے بھی یہ سب کیا ہے اس سے اگر میں نے ایڑیاں نہ رگڑ والیں تو میرا نام بھی شافع وارثی نہیں……

صدیقی صاحب نے گردن ہلائی تم امیر آدمی ہو پیسے سے سکون بھی خرید سکتے ہو ہم اتنے امیر نہیں ہیں ہمیں سکون کسی بھی طرح نہیں ملتا شافع طنزیہ ہنسہ آپ غلط سوچتے ہیں انکل سکون خریدنا تو کسی کے بس میں نہیں ہے،،،، “اور آپ اطمینان رکھیں اب کچھ غلط نہیں ہوگا” شافع صدیقی صاحب کے انداز سے سمجھ گیا تھا کہ وہ نور کو روکنے پر راضی نہیں ہوں گے اسلئے شافع نے آئےنور کی طرف دیکھ کر کہا “نور جاؤ اپنا بیگ پیک کرو ہم کچھ دیر میں نکل رہے ہیں” نور بلکتی ہوئی صدیقی صاحب کی طرف دوڑی بابا پلیز مجھے کچھ دن اور رکنے دیں صدیقی صاحب اسکی طرف دیکھے بغیر بولے اب تمھے یہاں سے چلے جانا چاہیے نور میں دنیا کی نظریں اب اور برداشت نہیں کر پاؤں گا، نہ ہی تم کر پاؤ گی اسلئے تمھارا جانا ہی بہتر ہے,,,, نور چینخی مجھے دنیا سے مطلب نہیں ہے بابا میں دنیا کو آپکی نظروں سے دیکھتی ہوں مجھے آپ سے مطلب ہے مجھے آپکی ضرورت ہے، ماما چلیں گئیں آپ مجھے ایسے کیسے خود سے دور کر سکتے ہیں میں بیٹی ہوں آپکی آپ مجھ سے اسطرح منہ نہیں پھیر سکتے…. صدیقی صاحب اسکے پاس آتے ہوئے بولے میں تم سے منہ نہیں پھیر رہا میں….. نور دور ہو کر روتے ہوئے بولی آپ مجھے خود سے دور ہی کر رہے ہیں بابا آپ دنیا سے ڈر کر اپنی بیٹی کو درد پہنچا رہے ہیں، نور روتے ہوئے بولی ماما کو شاید اس بات کا اندازہ تھا کہ انکے جاتے ہی آپ مجھے خود سے دور کر دیں گے اسی لئے انھوں نے جلد از جلد میرا نکاح کروا دیا،،،، لیکن اب میں اگر اس گھر سے گئی نہ بابا تو میں کبھی اس گھر میں قدم نہیں رکھوں گی نور اپنی آنکھیں رگڑتے ہوئے تیزی سے کمرے سے چلی گئی….

صدیقی صاحب سر پکڑ کر صوفے پر بیٹھ گئے شافع انکے برابر میں بیٹھا،،، آپ پریشان مت ہوں نور صدمے میں ہے وہ ٹھیک ہو جائے گی،،،، صدیقی صاحب سر اٹھا کر بولے انسان جو بوتا ہے وہی کاٹتا ہے میں نے بھی آج تک اسکے ساتھ کچھ اچھا نہیں کیا،،، اسلئے اب وہ مجھ سے بدگمان ہو رہی ہے انسان ہے آخر کب تک برداشت کرے گی۔ ۔ ۔ ۔ شافع آگے ہوتے ہوئے بولا تو آپ اسکی بدگمانی دور کر دیں نہ…. صدیقی صاحب خاموش ہوگئے پھر شافع کی طرف مڑ کر بولے “تم……. تم نور کا خیال رکھنا بیٹا” شافع انکا ہاتھ تھامتے ہوئے بولا “بیٹا بولا ہے تو پھر یقین بھی رکھیں”…

صدیقی صاحب اٹھتے ہوئے بولے تم جاؤ دیکھو نور نے سامان تیار کیا…. شافع اثبات میں گردن ہلاتے ہوئے اٹھا اور کمرے سے باہر آیا اسکے پیچھے ہی صدیقی صاحب بھی آئے, شافع نور کے کمرے کی طرف جانے ہی لگا تھا اس سے پہلے ہی نور دوپٹہ اوڑھے، کندھے پر چادر پھیلائے اور ہاتھ میں بیگ لئے باہر آئی اسکی آنکھیں اور ناک دونوں سرخ تھیں…. شافع نے آگے بڑھ کر اسکے ہاتھ سے بیگ لیا،،،، نور نے نظریں اٹھا کر صدیقی صاحب کی طرف دیکھا اور انکے سامنے آئی… ہچکی لیتے ہوئے بولی جارہی ہوں،،،،، وآپس نہیں آؤں گی اب صدیقی نے ہاتھ اٹھا کر اسکے سر پر رکھنا چاہا نور پیچھے ہوگئی اور ہاتھ آگے کرتے ہوئے بولی نہیں،،، نہیں اب ،،،، اب ضرورت نہیں ہے اسکی جب ضرورت تھی تب اپنے نہیں رکھا، میری،،،،،، میری ماما چلی گئیں مطلب میرے سر پر سے سایا بھی ختم ہوگیا….

نور تیزی سے باہر کی طرف بڑھی صدیقی صاحب ڈھنے والے انداز میں صوفے پر بیٹھے،،، شافع انکے قریب آیا اور انکا کندھا تھپتھپاتے ہوئے بولا سب ٹھیک ہو جائے گا… نور وآپس پہلے جیسی ہو جائے گی،صدیقی صاحب نے شافع کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا نور کا خیال رکھنا شافع نے اثبات میں سر ہلایا اور باہر آگیا……

شافع نیچے آیا نور گاڑی کے پاس ہی کھڑی تھی شافع نے نور کا بیگ پیچھے رکھا اور نور کے لئے آگے والی سیٹ کا دروازہ کھولا…. نور کو اپنے اغواہ ہونے والی رات یاد آئی، نور بیٹھ گئی تو شافع بھی آکر بیٹھ گیا اور گاڑی اسٹارٹ کر دی نور مستقل خاموش تھی شافع بار بار اسکی طرف دیکھتا، آخر کار شافع نے ہی اسے مخاطب کیا تم ٹھیک ہو؟ نور نے باہر دیکھتے ہوئے ہی اثبات میں سر ہلایا شافع خاموش ہوگیا پھر کچھ دیر بعد بولا تم نے کھانا کھایا تھا؟ نور نے پھر کچھ کہنے کے بجائے صرف اثبات میں سر ہلا دیا…. اسی طرح خاموشی سے راستہ گزر گیا اور وہ لوگ گھر پہنچ گئے،،،، شافع نے دروازہ کھول کر نور کو آگے چلنے کا اشارہ کیا اور خود اسکے پیچھے آیا نور آہستہ آہستہ قدم بڑھاتے ہوئے آگے بڑھی…. نور نے لاؤنج میں نظریں دوڑائیں، پھر شافع کی طرف مڑ کر اس سے پوچھا تمھاری فیملی کہاں ہے؟ شافع اسکا بیگ صوفے پر رکھتے ہوئے سانس کھینچ کر بولا میں نے کچھ دن پہلے ہی شفٹ کیا ہے میں اب اکیلے ہی رہتا ہوں،،،، اور تمھارے ماما بابا؟ شافع کندھے اچکا کر بولا وہ اپنے گھر میں رہتے ہیں،،،، نور نے اور کچھ نہیں پوچھا اسے اپنی طبیعت ٹھیک نہیں لگی…. شافع اسے کمرے میں لے کر آیا اور بیگ سائڈ پر رکھ دیا نور نے کمرے کا جائزہ نہیں لیا اچانک صوفے پر بیٹھ گئی،،،، شافع اسے دیکھ کر بولا لگتا ہے تم تھک گئی ہو،،، وہاں پر واش روم ہے تم چینج کر لو پھر آرام کر لینا مجھے ضروری کال کرنی ہے میں بالکنی میں ہوں تمھے کسی چیز کی ضرورت ہو تو مجھے آواز لگا دینا،،، وہ جانے لگا تو نور نے اسے روک کر پوچھا……

تم نے کھانا کھا لیا؟ شافع نے مسکرا کر کندھے اچکائے مجھ سے کسی نے پوچھا ہی نہیں…. آئےنور شرمندہ ہوئی،،، اسے شرمندہ دیکھ کر شافع فوراً بولا مجھے بھوک نہیں تھی اسلئے نہیں کھایا،،،، تمھے کچھ چاہیے ہو تو مجھے آواز لگا دینا نور اثبات میں سر ہلا کر اٹھنے لگی لیکن اسکا سر گھوم رہا تھا وہ وآپس بیٹھ گئی، شافع نے نوٹ کیا تھا کہ اسکی آنکھیں بار بار بند ہو رہی تھیں اور اس سے کھڑا بھی نہیں ہوا گیا تھا،،،، شافع فوراً آگے بڑھا تم ٹھیک ہو؟ نور صوفے کا سہارا لے کر اٹھتے ہوئے بولی ہاں میں ٹھیک ہوں… شافع پیچھے ہو گیا،،،، نور اپنا بیگ کھول کر اپنے کپڑے نکالنے لگی شافع اسکے چہرے پر ایک نظر ڈال کر باہر آگیا….

شافع باہر بالکنی میں آیا اور کرسی پر بیٹھ گیا،،، موبائل نکال کر اسنے ٹیبل پر رکھا اور سر ہاتھوں میں دے دیا،،، اتنے سے وقت میں کیا کچھ نہیں ہوگیا،،،، اسنے تو کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ آئےنور اسکی کبھی ہوگی وہ تو آئےنور کے لئے اپنے دل میں ابھرتے جذبات کو بھی کتنی بے رحمی سے نظر انداز کر رہا تھا صرف اس لئے کہ کہیں اسکے کسی جذبات کی وجہ سے آئےنور جیسی پاکیزہ لڑکی کے کردار پر کوئی انگلی نہ اٹھائے، لیکن ساری دنیا میں اسکی بدنامی کا سبب وہ ہی بن گیا تھا…. شافع نے اپنے سر پر ہاتھ پھیرا اور ایک لمبا سانس کھینچا…. موبائل اٹھا کر ایک نمبر ڈائل کیا،،،، اور موبائل کان سے لگالیا، کچھ دیر بعد کال اٹھا لی گئی جی مس آنم میں آپکی کال اٹینڈ نہیں کر سکا اب آپ مجھے بتائیں کہ آپکو اس نیوز کے بارے میں کیا پتا چلا ہے؟؟؟

دوسری طرف سے لڑکی بولی سر یہ تصویریں سب سے پہلے ایک انجان اکاؤنٹ سے سوشل میڈیا پر ڈالی گئیں ہیں،،، اسکے بعد سب سے پہلے کسی تاشفہ نامی لڑکی نے اسے شیئر کیا ہے، اور یہ لڑکی جرنلسٹ بھی ہے… شافع نے شوکڈ کی کیفیت میں کہا تاشفہ؟ دوسری طرف سے لڑکی بولی جی سر اور دوسری بات یہ کہ جس نیوز چینل نے سب سے پہلے یہ نیوز ٹی وی پر چلائی تاشفہ اسی چینل کے لئے کام کرتی ہے تو سر سارے شک تاشفہ کی طرف جاتے ہیں ہوسکتا ہے کہ یہ تصویریں تاشفہ نے ڈالی ہوں،،، شافع کی بھنویں تن گئیں… دانت پیستے ہوئے بولا مجھے تاشفہ کا نمبر سینڈ کریں،،، یہ بول کر شافع نے زور سے موبائل ٹیبل پر رکھا اور غصے سے دانت پیستے ہوئے بولا،،،، تم نے بہت غلط وقت پر غلط جگہ وار کیا ہے تاشفہ اب تم صرف دیکھو کہ میں کیا کرتا ہوں….

اتنے میں اسکے موبائل پر میسج آیا اسنے میسج آن کیا اور میسج میں موجود نمبر پر کال لگائی کال کچھ دیر تک جاتی رہی پھر اٹھا لی گئی شافع کچھ بولتا اس سے پہلے ہی تاشفہ اپنی شوخ آواز میں بولی “بڑی دیر کر دی مہرباں آتے آتے” تمھے پتا ہے تمھاری کال کا میں کب سے انتظار کر رہی ہوں، مجھے نہیں پتا تھا کہ شافع وارثی کی سرویس اتنی سلو ہے۔۔ ۔ ۔ ۔ مجھے تو لگا تھا کہ ادھر یہ نیوز ٹی وی پر چلے گی اور ادھر شافع وارثی کی کال میرے پاس آئے گی بات کے اختتام پر تاشفہ نے قہقہہ لگایا…. شافع دانت پیس کر بولا تم نے یہ سب کیوں کیا؟ تاشفہ مسکراتے ہوئے بھنویں اچکا کر بولی تم نے ہی تو کہا تھا کچھ نیا کرو تاشفہ تو میں نے کچھ نیا کر دیا تمھے پسند نہیں آیا کیا؟

شافع ٹیبل پر ہاتھ مار کر چینخھا تمھارا جو بھی مسئلہ تھا میرے ساتھ تھا تو تم نے آئےنور کی تصویریں کیوں چلوائیں؟ اس سب میں اسکو کیوں شامل کیا؟؟ تاشفہ گردن ہلاتے ہوئے بولی چچچچچ برا لگ رہا ہے اس لڑکی کے لئے؟ تکلیف ہورہی ہے؟ تمھاری کچھ لگتی ہے وہ؟ اسے تو میں نے ڈنر والی رات ہی تمھارے ساتھ دیکھ کر اپنے نشانے پر لے لیا تھا،،، شافع سر جھکاتے ہوئے بولا کیا ملا تمھے یہ سب کر کے، تاشفہ ہنسی کیا ملا مجھے؟ مجھے بہت سکون ملا تمھے اسطرح بے بس دیکھ کر اور ہاں ایک اور بات نیوز چینل پر تم جو جھوٹی خبریں پھیلا رہے ہو نہ کہ وہ لڑکی تمھاری بیوی ہے تو اس جھوٹی خبر سے تم خود کو ہی کنوے کی طرف دھکیل رہے ہو…. شافع نے بھنویں اٹھا کر دل میں سوچا ” تو یہ اب تک سمجھ رہی ہے کہ آئےنور اور میرے نکاح کی خبریں جھوٹی ہیں” اب وار کرنے کی باری شافع کی تھی اور دنگ رہنے کی باری تاشفہ کی…..

شافع اطمینان سے کرسی پر بیٹھ کر تاشفہ کے ہی انداز میں بولا اوہو ہو مجھے نہیں پتا تھا کہ تاشفہ کی سرویس اتنی خراب ہے کہ میرا نکاح سچ میں ہوا ہے یا جھوٹی خبر ہے اس بات کا اسے پتا ہی نہیں ہے…. تاشفہ نے بھنویں میچ کر پوچھا کیا مطلب ہے تمھارا؟ شافع مسکرایا مطلب یہ کے میرے نکاح کی مٹھائی تمھارے گھر بھجواؤں یا تمھارے آفس؟ تاشفہ کو جھٹکا لگا…. یہ کیا کہہ رہے ہو تم نے…… تم نے سچ میں نکاح کر لیا؟؟؟ شافع اطمینان سے سانس کھینچ کر بولا نکاح نامے کی کاپی بھیجواؤں یا تصویروں سے کام چلا لو گی؟؟؟ تاشفہ نے پاس رکھی کوئی چیز زمین پر پٹکی تھی…. وہ دھاڑی تم اس لڑکی سے کیسے نکاح کر سکتے ہو…… شافع بھنویں اٹھاتا ہوا بولا تم اپنے ہی بنائے ہوئے جال میں منہ کے بل گری ہو تاشفہ تمھے کیا لگا تھا یہ نیوز دیکھ کر میں دوڑا دوڑا تمھارے پاس آؤں گا پھر وہ کروں گا جو تم چاہو گی…. تمھاری سوچ ہے تاشفہ کے شافع کبھی تمھارے پاس آئے گا اور جو تم نے کیا ہے نہ اس کے بدلے کے لئے تو تم تیار رہو کیونکہ بات میری نہیں میری بیوی کی عزت کی ہے، میں اپنے ساتھ برا کرنے والے کو تو چھوڑ سکتا ہوں لیکن اگر میری بیوی کے ساتھ کسی نے کچھ برا کیا ہے تو دنیا میں اسے جہنم کا احساس کرواؤں گا اور اب تم اس سب کے لئے تیار رہو…. شافع نے کال کاٹ کر موبائل ٹیبل پر رکھا۔ ۔ ۔ ۔ منہ پر ہاتھ پھیرا،،، تاشفہ سے بات کر کے اسکا دماغ گھوم رہا تھا آخر ایک لڑکی اتنا کیسے گر سکتی ہے کہ آپ نے مفاد کے لئے دوسری لڑکی کی عزت سے کھیل جائے کیا اسے احساس نہیں ہے کہ ایک لڑکی کی عزت کتنی نازک ہوتی ہے،،،، پھر سر جھٹک کر بولا میں بھی کس سے اچھے کی امید کر رہا ہوں جسے اپنی عزت کی کوئی پرواہ نہیں….

شافع اٹھا اور کچن کی طرف آگیا، پانی کی بوتل نکال کر گلاس میں پانی ڈالا اور پاس رکھے اسٹول پر بیٹھ کر پانی پینے لگا،،،، اسنے کمرے کے دروازے کی طرف دیکھا، اسے کپڑے چینج کرنے تھے اور اپنا لیپ ٹاپ بھی لینا تھا،،، گلاس کاؤنٹر پر رکھ کے وہ کمرے کی طرف بڑھا،،، اسنے ہلکا سا کھٹکھٹا کر دروازہ کھولا اسکی نظر سامنے پڑی،،، آئےنور نماز پڑھ رہی تھی، اسکا سر سجدے میں تھا،،،، شافع اندر آیا اور اپنی ورڈروب میں سے کپڑے نکال کر باتھ روم کی طرف بڑھ گیا…. کچھ دیر بعد جب وہ باہر نکلا نور تب بھی سجدے میں ہی تھی شافع کو حیرت ہوئی لیکن اسنے کچھ نہیں کہا،،، اور اپنے لیپ ٹاپ کی طرف بڑھا نور نے سر نہیں اٹھایا،،،، شافع نے لیپ ٹاپ وآپس رکھ کر نور کو آواز لگائی،،،، آئےنور…. نور نے کوئی جواب نہیں دیا،،، شافع آگے بڑھا اور اسکے پاس جاکر اسے آواز لگائی لیکن وہ نہیں اٹھی شافع کو پریشانی ہوئی اسنے نور کو بازو سے پکڑ کر سیدھا کیا نور نے ہاتھ ڈھیلے چھوڑ دیئے اسکا چہرہ بھیگا ہوا تھا…. شافع کو اپنی ہارٹ بیٹ مس ہوتی ہوئی محسوس ہوئی….

شافع نے اسکا سر اپنی گود میں رکھا اور اسکا چہرہ تھپتھپانے لگا اسنے جیسے ہی اسکے گال پر ہاتھ رکھا اسے احساس ہوا کہ اسے بخار ہے شافع نے اسکے سر پر ہاتھ رکھ کر چیک کیا…. “اوہ نو اسے تو بہت تیز بخار ہے” ,,,, نور شاید رو رہی تھی اور وہ روتے روتے ہی بے ہوش ہوگئی… شافع نے اسے اٹھا کر بیڈ پر لٹایا اور اسکے گال تھپتھپا کر اسے ہوش میں لانے کی کوشش کی،،، نور ہوش میں آؤ یار…. لیکن وہ آنکھیں ہی نہیں کھول رہی تھی،،، شافع نے پریشانی سے سر پر ہاتھ پھیرا اسے سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کیا کرے اسے کبھی اسطرح کی صورت حال کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا اور پھر نور کو اسطرح دیکھ کر وہ گھبرا بھی رہا تھا…. پہلے اسنے سوچا ہاسپٹل لے جائے لیکن پھر اسنے سوچا کہ تہمینہ بیگم کو فون کر کے بولا لے….. اسنے تہمینہ بیگم کو فون کیا،،، ماما آپ اس وقت میرے گھر آسکتی ہیں؟ تہمینہ بیگم نے پریشانی سے پوچھا کیوں بیٹا کیا ہو گیا خیریت تو ہے؟ شافع نے انھے بتایا کہ وہ نور کو گھر لے آیا ہے اور اسے بہت تیز بخار ہے… تہمینہ بیگم خاموش رہی پھر ٹھہر کر بولیں بیٹا تم نے نکاح سب کو بتائے بغیر کیا ابھی یہ مسئلہ حل بھی نہیں ہوا تھا اور تم اسے گھر لے آئے تمھارے بابا بی اماں کیا سوچیں گے…. ماما یہ وقت ان سب باتوں کا نہیں ہے اور مجھے بی اماں یا بابا کسی کی پرواہ نہیں ہے اسے پریشان دیکھ کر تہمینہ بیگم بولیں اچھا بیٹا تم پریشان مت ہو میں تمھے ایک ڈاکٹر کا نمبر دے رہی ہوں تم انھے فون کر کے بولا لو وہ گھر پر آجائیں گیں… شافع سمجھ گیا تھا کہ اس وقت تیمور صاحب گھر پر ہونگے اور انھوں نے تہمینہ بیگم کو شافع کی طرف جانے سے منا کیا ہوگا… شافع نے اثبات میں گردن ہلاتے ہوئے آہستہ سے کہا آپ بھیج دیں نمبر میں بلا لیتا ہوں….

کچھ دیر بعد ڈاکٹر انکے گھر پر موجود تھیں، وہ شافع کو تسلی دیتے ہوئے بولیں بس انکا بخار ذرا تیز ہے انکے سر پر ٹھنڈے پانی کی پٹیاں کریں،،، شافع نے پریشانی سے پوچھا اسے ہوش کیوں نہیں آرہا… ڈاکٹر بولیں انکا مائنڈ ذرا ڈسٹرب ہے ایسا ہو جاتا ہے ٹھیک ہو جائیں گی یہ آپ فکر مت کریں… شافع نے اثبات میں سر ہلایا،،،، ابھی میں نے انھے انجیکشن دے دیا ہے باقی کی دوائیاں آپ لے آئے گا….. ڈاکٹر جانے لگیں تو شافع انھے چھوڑنے باہر تک آیا پھر وآپس کمرے میں آیا،،،، کچن سے وہ ایک پیالے میں ٹھنڈا پانی اور رومال لے آیا تھا رومال کو ٹھنڈے پانی میں گیلا کر کے اسنے نور کے سر پر رکھا وہ نور کے پاس ہی بیڈ پر بیٹھ گیا۔ ۔ ۔ ۔ اگر نور ہوش میں ہوتی تو وہ اس سے چار فٹ کے فاصلے پر بیٹھتا…..

شافع نور کو بغور دیکھتا رہا، پھر اسکا ہاتھ اٹھا کر اپنے ہاتھ میں لیا اسکا ہاتھ شدید گرم تھا….. شافع نے اسکے ہاتھ پر سر ٹکا کر آنکھیں بند کیں،،، “پلیز جلدی ٹھیک ہو جاؤ یار تم مجھے اسطرح بالکل اچھی نہیں لگ رہیں تم لڑتے ہوئے ہی اچھی لگتی ہو” بیشک تم مجھ سے لڑ لینا میرے عجیب عجیب نام بھی رکھ لینا لیکن پلیز ٹھیک ہو جاؤ، میں چاہتا ہوں کہ اب سب نارمل ہو جائے میں تمھے اسطرح نہیں دیکھ سکتا نور،،،، وہ جو باتیں اس سے ہوش میں نہیں کہہ سکتا تھا وہ اسکے بے ہوش ہونے پر کہہ رہا تھا…. شافع نے سر اٹھا کر نور کی طرف دیکھا،،،

اسکے ماتھے پر آئے ہوئے بالوں کو پیچھے کیا، اسکے چہرے کی طرف بغور دیکھتا ہوا بولا، مجھے نہیں پتا میرے دل میں تمھارے لئے اسطرح کے جذبات کب پیدا ہوئے، مجھے…. مجھے پتا ہی نہیں چلا کے کب تم میرے لئے اتنی اہم ہو گئیں کہ تمھارے ہنسنے ،رونے، بولنے تمھاری ہر چیز سے مجھے فرق پڑھنے لگا مجھے پتا ہی نہیں لگا کہ کب تم میرے دل و دماغ دونوں پر اتنی حاوی ہو گئیں کہ تمھے خواب میں روتا ہوا دیکھ کر میں ہوش میں رو دیا،،،،،

شافع کندھے اچکا کر بولا میں نے کبھی محبت نہیں کی اسلئے مجھے نہیں پتا کہ محبت کیسے کہتے ہیں،،،

لیکن اگر کسی کے مسکرانے سے آپ کے چہرے پر مسکراہٹ آجائے کسی کا ایک ایک آنسوں آپکو اپنے دل پر گرتا ہوا محسوس ہو، کسی کی آنکھوں میں دیکھ کر آپ کو ڈوبنے کا احساس ہو کسی کی ایک جھلک دیکھنے کے بعد کچھ اور دیکھنے کی چاہ ختم ہو جائے، اگر اس سب کو محبت کہتے ہیں تو میں اقرار کرتا ہوں کہ “ہاں مجھے تم سے محبت ہے”

“Yes I am feeling special for you”

کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد شافع دوبارہ بولا میں اس بات کا اقرار تو کر رہا ہوں لیکن اظہار ذرا مشکل ہے لیکن ایک دفعہ سب ٹھیک ہو جائے جب اقرار کر لیا ہے تو اظہار بھی کر ہی لوں گا،،، شافع نے نور کے ہاتھ پر اپنے ہونٹ رکھے،،،، پھر سر اٹھا کر بولا “مجھے ڈر ہے مجھے تم سے اب عشق ہو جائے گا” اور اپنی بات پر وہ خود ہی مسکرا دیا،،،،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آدھی رات کو زایان پاکستان ائیرپورٹ پر موجود تھا زایان حیدر دوبارہ پاکستان میں موجود تھا پاکستان پہنچتے ہی اسنے سب سے پہلے شافع کو کال لگائی… شافع نور کے سر پر ٹھنڈے پانی کی پٹیاں کر رہا تھا، اسکا موبائل بجا تو وہ اٹھ کر کمرے سے باہر آگیا اسنے کال ریسیو کر کے موبائل کان سے لگایا، دوسری طرف سے زایان بولا اپنے گھر کا گیٹ کھول کے رکھو میں آرہا ہوں،،، شافع نے پوچھا تم پاکستان آگئے…؟ نہیں میں جہاز تمھاری ٹیرس پر لینڈ کر واؤ گا،،، شافع ہنسہ زایان اسے دپٹتے ہوئے بولا دانت نکالنے کی ضرورت نہیں ہے میں تمھے شوٹ کر دوں گا آخر میں ایک دن کے لئے تم سے دور کیا ہوا تمنے شادی ہی کر لی وہ بھی میرے بغیر،،،، میں تمھے اب زندہ نہیں چھوڑوں گا شافع وارثی شافع گردن جھکاتے ہوئے بولا یار حالات ہی کچھ ایسے ہو گئے تھے،،،، حالات جیسے بھی ہوں تم نے میرے بغیر شادی کی کیسے اور وہ ہٹلر وہ تم سے شادی کرنے کے لئے راضی کیسے ہوئی میرا تو سوچ سوچ کے دماغ خراب ہوگیا ہے…. آخر ہوا کیا تھا؟؟؟ شافع بولا تم آجاؤ گے تو سب بتا دوں گا زایان نفی میں گردن ہلاتے ہوئے بولا نہیں بھائی اتنی دیر برداشت کیا ہے اب کنٹرول نہیں ہوگا فٹافٹ مجھے ساری کہانی سنانا شروع کرو….. شافع نے ایک لمبا سانس کھینچا اور اسے سب بتانا شروع کیا…. زایان ائیرپورٹ کے باہر کھڑا تھا اور شافع کی باتیں سن کر وہ آگے قدم نہیں بڑھا سکا اور پاس ہی بنی بینچ پر بیٹھ گیا….. ساری کہانی سننے کے بعد زایان کو چپکی لگ گئی تھی…. شافع نے اسے مخاطب کیا تم سن رہے ہو؟ زایان کا سکتا ٹوٹا اتنا سب ہو گیا دو دن میں؟؟؟ شافع نے اثبات میں گردن ہلائی، اب تو تم سمجھ سکتے ہو کہ نکاح کس طرح ہوا…. زایان سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا لیکن نور کے بابا کو اس پر یقین رکھنا چاہیے تھا نور سب سے زیادہ ہرٹ انکی طرف سے ہوئی ہوگی…. شافع گردن ہلاتے ہوئے بولا ہاں اسکے بابا نے غلط کیا لیکن اب وہ تھوڑا بہت شرمندہ ہیں لیکن اب نور انکی طرف سے دل برداشتہ ہوگئی ہے…. زایان افسوس سے بولا اور اسکی ماما بیچاریں نور تو ٹھیک نہیں ہوگی،,,, ہاں وہ ابھی ٹھیک نہیں ہے میں اسے گھر لے آیا ہوں بخار تھا بے ہوش ہوگئی تھی وہ پھر ڈاکٹر کو بلایا…. زایان گردن ہلاتے ہوئے بولا یہ تو تم نے اچھا کیا کہ اسے گھر لے آئے ورنہ اپنے گھر میں تو وہ عزیت کا شکار ہی رہتی…. شافع خاموش رہا…….

زایان کچھ سوچتے ہوئے بولا نور کو اغواہ کس نے کیا ہوگا؟ شافع بولا اس بارے میں میں نے نور سے ابھی کوئی بات نہیں کی وہ ویسے ہی ڈسٹرب ہے یہ بات کر کے میں اسے مزید پریشان نہیں کرنا چاہتا،،،، زایان نے اثبات میں گردن ہلائی ہممم،،، شافع بولا زایان اب تاشفہ کو سبق سکھانے کے لئے تمھے میرا ساتھ دینا پڑے گا،،، زایان بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا یہ بھی کوئی بولنے کی بات ہے تاشفہ کو تو میں بھی نہیں بخشوں گا میرے بھائی کی زندگی سے کھیلا ہے اسنے،،،، زایان ہائپر ہو رہا تھا شافع اسے ٹھنڈا کرنے کے لئے بولا تم غصہ مت کرو اسے بعد میں دیکھیں گے تم گھر آجاؤ،،، زایان کیب کی طرف بڑھتا ہوا بولا نہیں میں اب اپنے گھر جارہا ہوں کل آجاؤں گا تم نور کا اور اپنا خیال رکھنا،،، چلو ٹھیک ہے جیسی تمھاری مرضی شافع نے کال کاٹ دی زایان نے موبائل جیب میں رکھا،،،،،

اور کیب میں بیٹھ گیا، وہ منہ پر ہاتھ رکھے باہر دیکھ رہا تھا تھوڑا وقت گزرتے ہی اسے احساس ہوگیا تھا کہ اس لڑکی نے اس سے ٹھیک کہا تھا کہ پسند اور محبت میں فرق ہوتا ہے اسے نور اچھی لگی تھی لیکن اسے اس سے محبت نہیں تھی،،،، اور زایان نے اس بات کا اقرار کیا تھا محبت نام کے پرزے اسکے اندر فٹ ہی نہیں کئے گئے لیکن احساس نام کے کئے گئے ہیں وہ ایک کیفیت سے نکل کر دوسری میں شامل ہوگیا تھا، اب وہ اسکے بارے میں سوچ رہا تھا جو اس سے محبت کرتی ہے، کیا وہ مجھ سے اب بھی محبت کرتی ہو گی اتنا عرصہ گزر گیا کیا کوئی اتنا عرصہ کسی کا انتظار کر سکتا ہے؟ زایان نے خود ہی نفی میں گردن ہلائی، یہ محبت وغیرہ کچھ نہیں ہوتی وہ بھی مجھے بھول گئی ہوگی تبھی تو زندگی میں آگے بڑھ رہی تھی لیکن اسکا دل کچھ اور ہی کہہ رہا تھا اور زایان دل کی سننے پر یقین رکھتا تھا تو اسنے دل کی سننے کا ہی فیصلہ کیا..

زایان سے بات کرنے کے بعد شافع کمرے میں آیا،،،، نور ابھی بھی سو رہی تھی،،، وہ وآپس اسکے پاس آکر بیٹھ گیا اسے احساس ہوا کہ وہ نیند میں بھی رو رہی ہے وہ نیند میں روتے ہوئے اپنی ماما کو پکار رہی تھی،،،، شافع نے اسے آواز دی نور اسکا بخار ابھی بھی کم نہیں ہوا تھا،،، شافع نے ٹھنڈے پانی کی دوسری پٹی اسکے سر پر رکھی،،، نور نے تھوڑی سی آنکھیں کھولیں شافع نے اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے اسے آواز لگائی “نور آنکھیں کھولو” لیکن نور وآپس آہستہ آہستہ غنودی کی طرف چلی گئی،،،، اسکی حالت دیکھ کر شافع کو اندازہ ہوا تھا کہ وہ اپنی ماما سے بہت زیادہ اٹیچ تھی،،، شافع نے بیڈ سے ٹیک لگاتے ہوئے بے بسی سے آنکھوں پر ہاتھ رکھے،نور کا ہاتھ اسکے ہاتھ میں ہی تھا،،،

پوری رات اسنے نور کے سرہانے جاگ کر گزاری نور نیند میں اچانک اپنی ماما کو پکارنے لگتی تو وہ اسکے ہاتھ پر گرفت مضبوط کر دیتا،،، غنودی کی کیفیت میں نور نے ایک بار اسکا نام لیا تھا اور شافع نے مسکرا کر سوچا میرا وہم ہوگا،،، لیکن نور نے سچ میں اسے پکارا تھا، صبح کے پانچ بجے کے وقت شافع کی آنکھ لگی تو نور کو ہوش آیا، نور نے آنکھیں کھول کر کمرے پر نظر دوڑائیں، سب کچھ انجان نیا سا اسکی آنکھیں سوجی ہوئی تھیں، نور نے اپنے بائیں سائڈ گردن گھمائی شافع بیٹھے بیٹھے ہی سویا ہوا تھا اور اسکا ہاتھ شافع کے ہاتھ میں تھا نور نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن اس سے اٹھا نہیں گیا، شافع کی آنکھ کھل گئی، شافع فوراً سیدھا ہو کر اسکی طرف گھوما اور بے چینی سے پوچھا تم ٹھیک ہو؟ نور نے اپنا ہاتھ آہستہ سے شافع کے ہاتھ سے نکالنا چاہا شافع کی نظر پڑی تو اسنے فوراً اسکا ہاتھ چھوڑ دیا، نور نے پلکھیں جھپکاتے ہوئے کہا،،، ہاں میں ٹھیک ہوں، شافع بیڈ سے اتر گیا تھا، شافع نے اسکے سر پر ہاتھ رکھ کر ٹیمپریچر چیک کیا بخار تھا لیکن پہلے سے کم تھا، نور نے اٹھنا چاہا لیکن شافع نے اسے اٹھنے سے منا کر دیا لیٹی رہو تم ڈاکٹر نے کہا ہے تمھے آرام کی ضرورت ہے، نور وآپس لیٹ گئی ویسے بھی اس میں بیٹھنے کی ہمت نہیں تھی، شافع ڈریسنگ کی کرسی بیڈ کے پاس رکھ کر اسکے سامنے بیٹھ گیا، نور نے پلکھیں جھپکاتے ہوئے پوچھا میں کب سے سو رہی ہوں؟ شافع بھنویں اٹھاتے ہوئے بولا آپ سو نہیں رہی تھیں آپ بیہوش تھیں میڈم،،، نور نے شافع کی طرف دیکھ کر پوچھا تم ساری رات بیٹھے رہے تھے سوئے نہیں؟ شافع نے مسکرا کر کندھے اچکائے تم اٹھتیں تو میں سوتا نہ لیکن تم تو ساری رات گھوڑے بیچ کر سوتی رہیں،،، نور شرمندہ ہوئی،،، تمھے میری وجہ سے پریشانی اٹھانی پڑی… شافع فوراً اسکا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر بولا تم یہ کیسی باتیں کر رہی ہو تم میری ذمہ داری ہو نور،،،، نور نے شافع کے ہاتھ میں موجود اپنا ہاتھ دیکھا اسنے اپنا ہاتھ اسکے ہاتھ میں سے نہیں نکالا،،، شافع نے اسکی نظریں ہاتھ پر دیکھیں تو شرارت سے بولا تم یہ تو نہیں بولنے والی نہ کہ مجھ سے چار فٹ کے فاصلے پر رہ کر بات کیا کرو شافع وارثی…. نور ہلکا سا مسکرا دی، شافع بھی ہنس دیا، کیا کھاؤ گی تم؟ نور نے آہستہ سے نفی میں سر ہلایا مجھے کچھ نہیں کھانا، شافع کھڑے ہوتے ہوئے بولا ایسے کیسے کچھ نہیں کھانا میں ابھی آتا ہوں، وہ کھڑا ہوگیا تو نور نے اسکا ہاتھ نہیں چھوڑا…. شافع نے ہاتھ کی طرف دیکھا پھر نور کی طرف، نور کی پھر آہستہ آہستہ آنکھیں بند ہورہی تھیں اسے نیند آرہی تھی، نور نے آنکھیں کھول کر اسکی طرف دیکھا مجھے کچھ نہیں کھانا تم ریسٹ کر لو… شافع وآپس کرسی پر بیٹھ گیا، اور اسکی طرف دیکھتے ہوئے بولا، مجھے لگ رہا ہے تمھارا پھر سے سونے کا پروگرام ہے، نور نے اسکی بات کا جواب دینے کے بجائے آنکھیں بند کر لیں شافع کے ہاتھ پر نور کی گرفت بھی آہستہ آہستہ ڈھیلی پڑ گئی، لیکن شافع نے اسکا ہاتھ نہیں چھوڑا، نور پھر سے غنودی میں چلی گئی اور شافع کرسی پر بیٹھا اسے دیکھتا رہا اسکے دل نے اس سے سوال کیا تھا “آخر تم کب تک اسے اسطرح بیٹھ کر اس لڑکی کو دیکھ سکتے ہو”

شافع نے زیر لب کہا “آخری سانس تک”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تیمور صاحب کو جب یہ خبر پتا چلی کے شافع نور کو اپنے گھر لے آیا ہے تو انکا دماغ گرم ہوگیا،،،، آخر کر کیا رہا ہے یہ لڑکا آخر چاہتا کیا ہے پہلے ایک انجان لڑکی سے کسی کو بغیر بتائے بغیر پوچھے نکاح کر لیا اور اب اس لڑکی کو اپنے گھر بھی لے آیا آخر یہ خود کو سمجھ کیا رہا ہے،،،، وہاں بی اماں نے اسکی اور ارحام کی شادی کی خبر سارے خاندان میں پھیلا دی تھی اب سارا خاندان ہم پر تھو تھو کر رہا ہے،،، اسے ہماری عزت کا کچھ احساس ہے؟ ہمارا نہیں تو کم سے کم اپنا ہی سوچ لے ان سب خبروں سے اسکے بزنس کو کتنا نقصان پہنچے گا اس بات کا کچھ اندازہ ہے…. تہمینہ بیگم بولیں آپ اسے اسکے حال پر کیوں نہیں چھوڑ دیتے وہ جو کر رہا سوچ سمجھ کر ہی کررہا ہو گا بچہ تو نہیں ہے وہ تیمور صاحب چینختے ہوئے بولے بیوقوفی کر رہا ہے وہ اسے اندازہ نہیں ہے کے کتنی مشکل میں پھنس جائے گا وہ،،،، تہمینہ بیگم بولیں میں جاؤں گی اسکے پاس بات کروں گی اس سے،،،، تیمور صاحب دھمکی دیتے ہوئے بولے نہیں جاؤ گی تم اسکے پاس وہ خود آئے گا اس گھر میں تم نہیں جاؤ گی،،،،، تیمور صاحب مزید کچھ کہتے اسلئے تہمینہ بیگم خاموش ہوگئیں،،، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صبح کے دس گیارہ بجے کے قریب نور کی آنکھ کھولی اب وہ پہلے سے کافی بہتر محسوس کر رہی تھی، اسنے ادھر ادھر دیکھا شافع کمرے میں نہیں تھا اسے لگا شاید باہر ہوگا،،،

ہمت کر کے وہ اٹھی اور آہستہ آہستہ چل کے باہر آئی لیکن باہر بھی شافع نہیں تھا،،، اسنے ڈرائینگ روم، دوسرا بیڈ روم ہر جگہ دیکھ لیا لیکن شافع کہیں نہیں تھا اسے وسوسوں نے گھیرا لیا،،،کہیں شافع مجھے چھوڑ کر تو نہیں چلا گیا،،، اور یہ سوچ کر ہی اسے اپنا دل بند ہوتا ہوا محسوس ہوا وہ اپنا دوپٹہ سر پر لیتی ہوئی مین ڈور کی طرف بڑھی لیکن دروازہ باہر سے بند تھا،،،، ڈر کے مارے اسکے آنسوں نکلنا شروع ہوگئے، نور آہستہ آہستہ چلتے ہوئے بالکنی میں آگئی اسنے آنسوں بہاتے ہوئے دور تھاٹے مارتے ہوئے سمندر کو دیکھا آنسوؤں کی وجہ سے منظر دھندلا ہوگیا لیکن وہ اس حسین منظر کو دیکھ ہی کب رہی تھی،،، نور پاس رکھی کرسی پر بیٹھ گئی،،، اور بے بسی سے سوچا کیا میرے ساتھ پھر کوئی کھیل کھیلا گیا ہے؟ اسکے آنسوں ٹپ ٹپ بہتے ہوئے اسکے ہاتھ پر گرنے لگے،،، کچھ سوچنے جتنی بھی طاقت اس میں سے جاتی جارہی تھی روتے ہوئے اسنے سر ٹیبل پر رکھ دیا…

شافع لاک کھول کر اندر داخل ہوا وہ کچھ سامان اور نور کی دوائیاں لینے باہر گیا تھا… سامان کچن میں رکھ کر وہ سیدھا کمرے کی طرف گیا لیکن نور کو ادھر نہ دیکھ کر اسے پریشانی نے گھیر لیا، اسے لگا باتھ روم گئی ہوگی لیکن وہ باتھ روم میں بھی نہیں تھی اسنے نور کو آواز لگائی اسنے دوسرے کمروں میں بھی اسے ڈھونڈا لیکن وہ وہاں بھی نہیں تھی بالکنی والی سائڈ بالکل الگ بنی تھی اسلئے نور تک شافع کی آواز بھی نہیں پہنچی شافع بالکنی کی طرف بڑھا اسنے دیکھا کے نور ٹیبل پر ہاتھ باندھ کر منہ چھپائے رو رہی ہے،،،، شافع تیزی سے اسکی طرف بھاگا نور کیا ہوا تمھے؟ نور فوراً گردن اٹھا کر کھڑی ہوئی اور اسکی طرف گھومی شافع اسے اوپر سے نیچے تک دیکھتے ہوئے بولا کیا ہوا تمھے تم ٹھیک ہو؟ نور اسے دیکھ روتے ہوئے بولی تم مجھے چھوڑ کر کہاں چلے گئے تھے؟ اسکا سوال سن کر شافع کو جیسے شاکٹ لگا تمھے چھوڑ کر؟ تم سو رہیں تھیں تمھاری طبیعت ٹھیک نہیں تھی اسلئے میں نے تمھے اٹھانا مناسب نہیں سمجھا میں کچھ سامان اور تمھاری دوائیاں لینے گیا تھا یار،،، تمھے کیا لگا میں تمھے چھوڑ کر چلا گیا…. نور اسکے سامنے کھڑی روتی رہی اسے اسطرح روتے دیکھ کر شافع پریشان ہوا، شافع نے اسکے آنسوں پونچھے اور اسکا سر اپنے سینے پر رکھ کر اسکے گرد بازو پھیلا دیئے… اس سے لگ کے بھی نور روتی رہی تو شافع بولا اچھا بس اب اور مت رو یار طبیعت خراب ہو جائے گی میں تمھے چھوڑ کر کیوں جاؤں گا چھوڑنے کے لئے تھوڑی شادی کی ہے تم سے…. نور روتے ہوئے بولی میں ڈر گئی تھی مجھے لگا تم نے بھی مجھ سے دھوکا کیا ہے تم بھی مجھے چھوڑ کر چلے گئے…. شافع اسکے گرد گرفت تھوڑی مضبوط کر کے بولا، تم یہ وسوسے اپنے ذہن سے نکال دو نور میں تمھے نہیں چھوڑنے والا اگر چھوڑنا ہوتا تو شادی نہیں کرتا…. نور نے آنکھیں کھولیں اور اس سے الگ ہونا چاہا،،، شافع نے اپنی گرفت ڈھیلی کر دی نور اس سے الگ ہوئی تو شافع نے اسکا چہرا اپنے ہاتھوں میں لے کر اسکے آنسوں صاف کئے اسے ہنسانے کے لئے بولا “اتنے آنسوں آخر کہاں سے لاتی ہو” نور ہلکا سا مسکرا دی… شافع اسے بغور دیکھتے ہوئے بولا یقین کرتی ہو مجھ پر نور نے نفی میں گردن ہلائی،،، شافع ہنسا چلو یہ تو اچھی بات ہے…. لیکن ایک بات یاد رکھو میری وجہ سے تمھے کبھی کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی، اسلئے فالتو باتیں مت سوچا کرو سب اچھا سوچا کرو، نور نے نظریں اٹھا کر اسکی طرف دیکھا، اچانک زندگی میں اتنا کچھ ہوگیا ہے کچھ اچھا سوچا ہی نہیں جاتا بس ہر وقت وسوسے سوار رہتے ہیں… شافع اسکا ہاتھ پکڑ کر لاؤنج میں لیجاتے ہوئے بولا میں سیکھا دوں گا اچھا سوچنا اور ان وسوسوں کا بھی علاج کر دوں گا،،،، کچن میں لے جا کر اسنے نور کو کاؤنٹر کے ساتھ رکھے اسٹول پر بیٹھایا اور خود کاؤنٹر کی دوسری طرف چلا گیا،،،، اپنا لایا ہوا شاپر کھولتے ہوئے بولا میں یہ سب لینے گیا تھا،،،، وہ فروٹس، جوس اور دودھ کے ڈبے اور ناجانے کیا کیا لایا تھا،،،،

گھر میں کافی کے سامان کے علاوہ کچھ نہیں تھا میں اکیلا ہوتا تھا تو باہر سے ہی کھا لیتا تھا اسلئے یہ سب سامان لے کر آیا ہوں…. نور اپنے ہاتھوں پر نظریں جھکاتے ہوئے بولی میں نے تمھاری زندگی مشکلات میں ڈال دی ہے نہ شافع؟ شافع نے نظریں اٹھا کر اسکی طرف دیکھا، تم نے ایسا کیوں سوچا، تمھے میری ماما کی وجہ سے مجھ سے شادی کرنی پڑی، تمھارے گھر والے بھی اس شادی کو ایکسیٹ نہیں کر رہے ہوں گے، تمھاری اپنی ایک لائف تھی جیسے تم اپنے حساب سے اپنی پسند کی لڑکی کے ساتھ گزارنا چاہتے ہوں گے اور پھر اچانک میں تمھاری زندگی میں آگئی اور سب کچھ ختم ہو گیا….

شافع نے اسکی بات تحمل سے سنی پھر اسکے سر پر ہاتھ رکھ کر اسکا ٹیمپریچر چیک کیا بخار نہیں تھا، شافع اسکی باتوں کے جواب میں کچھ کہنے کے بجائے بولا،،،، تم جاؤ فریش ہو کر آجاؤ میں ناشتہ بناتا ہوں…. نور فوراً کھڑے ہوتے ہوئے بولی تم کیوں بناؤ گے میں بناتی ہوں،،، شافع آنکھیں چڑھاتا ہوا بولا “اب میں اتنا بھی ظالم نہیں ہوں کہ اپنی نئی نویلی بیوی سے کام کرواؤں” اسکی باتیں سن کر نور نے نظریں جھکا لیں، تم جاؤ فریش ہو کر آؤ صرف کافی بنانی ہے اور انڈا تلنا ہے اور اتنا سب مجھے آتا ہے…. نور نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولی نہیں تم ہٹ جاؤ مجھے کرنے دو… شافع سختی سے بولا میں نے کہا نہ تم جاؤ میں کر لوں گا اسکے غصے والی آنکھوں کو دیکھ کر نور آگے نہیں بڑھی اور سیدھی کمرے میں چلی گئی،،، شافع کو اتنا تو اندازہ تھا کہ نور اسکے غصے سے ڈرتی ہے، وہ وہاں سے چلی گئی تو شافع مسکرایا،،،

کچھ دیر بعد شافع ناشتہ کرنے کے لئے نور کو بلانے کمرے میں آیا نور شیشے کے سامنے کھڑی تھی شافع کو دیکھ کر اسنے اپنا دوپٹہ چادر کی طرح کندھے پر پھیلا لیا اسکے بال گیلے ہونے کی وجہ سے کھلے تھے،،، اسے دیکھ کر ایک سیکنڈ کے لئے شافع رکا تھا شافع نے سر جھٹکا ناشتہ تیار ہے آجاؤ،،،، نور نے اثبات میں سر ہلایا اور اسکے ساتھ باہر آگئی نور نے روئیل بلو کلر کا سوٹ پہنا ہوا تھا اور جویلری کے نام پر اسنے صرف باریک سے ٹاپس پہن رکھے تھے…. اسکی آنکھیں ابھی بھی سوجی ہوئی تھیں،،، شافع نے ناشتے کی ٹرے بالکنی میں لگائی تھی وہ نور کو لے کر بالکنی میں آگیا…. نور نے سامنے کا منظر دیکھا اس خوبصورت منظر پر اب اسنے غور کیا تھا…. وہ دونوں ٹیبل پر آمنے سامنے بیٹھ گئے،،، شافع پلیٹ اسکے آگے کرتے ہوئے بولا تم چائے لیتی ہو یا کافی، نور کندھے اچکا کر آہستہ سے بولی دونوں پی لیتی ہوں، شافع مسکرایا مجھے چائے بنانی نہیں آتی تھی اسلئے میں نے کافی بنا لی،،، شافع نے نور کو سرو کیا وہ ابھی بھی ایسی بیٹھی تھی،،، شافع اسے دیکھتے ہوئے بولا شروع کرو، نور نے اثبات میں گردن ہلائی،،، شافع نے کافی کا سپ لیتے ہوئے نور کے چہرے کی طرف دیکھا،،، نور نے پہلا نوالہ لیا شافع نے اسکے ماتھے پر ہاتھ رکھا نور نے حیرت سے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا،،، شافع فوراً ہاتھ ہٹا کر کندھے اچکاتے ہوئے بولا بخار چیک کر رہا تھا۔ ۔ ۔ نور بولی اب نہیں ہے، ہممم شافع نے سانس کھینچ کر دور موجود سمندر کی طرف دیکھا شافع نے دل میں سوچا “زندگی میں اتنی حسین صبح بھی ہو سکتی ہے میں نے تو تصور بھی نہیں کیا تھا” نور شافع کو دیکھ کر بولی تم کھا کیوں نہیں رہے؟ شافع کافی کا کپ رکھ کر بولا ہاں کھاتا ہوں،،، تمھے ناشتہ ٹھیک تو لگا نا؟؟؟ نور نے اثبات میں سر ہلایا،، شافع ہنستے ہوئے بولا یہ تو خیر تم کافی پینے کے بعد بتاؤں گی، زایان پتا ہے کیا کہتا ہے وہ بولتا ہے تمھاری بیوی تم سے کبھی خوش نہیں رہے گی کیونکہ تمھے اچھی کافی بنانی نہیں اتی،،، نور مسکرائی،،،، شافع اسے دیکھتا ہوا بولا اگر تم مستقل بھی مسکراتی رہو گی تو کوئی بل تھوڑی آئے گا…. نور نے منہ پر آئے ہوئے بال کان کے پیچھے کئے وہ شافع کی نظروں سے اضطراب کا شکار ہو رہی تھی…. نور نے اسکا دھیان خود پر سے ہٹانے کے لئے پوچھا زایان کیسا ہے؟ شافع نے مسکراتے ہوئے اس پر سے نظریں ہٹائیں وہ سمجھ گیا تھا نور اسکی نظروں سے کنفیوز ہو رہی ہے…. زایان بالکل پہلے جیسا ہے… نور کو یاد آیا انکے نکاح کے وقت زایان وہاں موجود نہیں تھا اور اس بات پر حیرت اسے اب ہو رہی تھی، اسنے شافع سے پوچھا نکاح کے وقت زایان کیوں نہیں آیا تھا؟ وہ اس وقت پاکستان میں نہیں تھا رات میں آیا ہے…. ان دونوں نے ناشتہ تقریباً کر لیا تھا نور پلیٹس ٹرے میں رکھنے لگی…. شافع نے اسکے ہاتھ سے ٹرے لیتے ہوئے کہا تم یہ سب چھوڑ دو میں کر لوں گا… نور نے ٹرے وآپس اسکے ہاتھ سے لی اور کھڑی ہوگئی، میں کر لوں گی،،،

نور لاؤنج کی طرف چلی گئی…. شافع وہیں بیٹھا اسے دیکھتا رہا،،، پھر اٹھ کر خود بھی اندر آگیا نور کچن میں تھی شافع کمرے کی طرف چلا گیا اپنا موبائل اور گاڑی کی چابیاں لے کر وہ باہر آیا نور کپ دھو رہی تھی، کاؤنٹر پر پڑھی دوائیاں نکالتے ہوئے اسے دیکھ کر شافع بولا میں نے کہا ہے نہ تم سے رکھ دو یہ سب تم جاکر ریسٹ کرو، نور اسکی طرف دیکھے بغیر بولی میں ٹھیک ہوں اب تم رات سے جاگے ہوئے ہو تم سو جاؤ جا کر،،،، شافع اسکے پیچھے آکر کھڑا ہوا “مجھے عادت ہے جاگنے کی” نور نے کچھ نہیں کہا خاموش رہی شافع نے دوائیاں اسکی طرف بڑھائیں یہ کھا لو، نور نے اسکے ہاتھ سے دوائی لے کر چپ چاپ کھالی، یہاں پر اسکی ماما نہیں تھیں جنھے وہ دوائی کھانے کے لئے سو نخرے دیکھاتی اور اپنے پیچھے بھگاتی…. مجھے زایان نے ملنے بلایا ہے میں اسے گھر ہی بلا رہا تھا لیکن ہمیں باہر اور بھی کچھ کام ہے تو میں کچھ دیر کے لئے باہر جا رہا ہوں،،،، نور فوراً اسکی طرف گھومی، شافع نے اسے خود کو اسطرح دیکھتے ہوئے دیکھا تو پوچھا کیا ہوا؟؟؟ نور اسکی طرف دیکھتے ہوئے بولی میں اکیلی کیسے رہوں گی، شافع مسکرایا تم۔بچی تھوڑی ہو میں کچھ دیر میں آجاؤں گا نور نے نفی میں سر ہلایا وہ رو دینے کو تھی، مجھے تمھارے گھر میں اکیلے ڈر لگے گا… شافع نے مسکراتے ہوئے ہاتھ باندھ کر کاؤنٹر سے ٹیک لگاتے ہوئے کہا مجھے یہ بات کچھ ہضم نہیں ہو رہی کہ آئےنور کو اکیلے میں ڈر لگے گا… نور خاموشی سے کھڑی رہی… پھر بولی تم زایان کو یہیں بلا لو…. شافع نے آگے بڑھ کر اسکے دونوں کندھوں پر ہاتھ رکھ کے اسے اپنی طرف گھمایا مجھے اور کچھ کام بھی ہے باہر میں کچھ دیر میں آجاؤں گا… نور خاموشی سے سر جھکائے کھڑی رہی،،، میں کچھ دیر میں آجاؤں گا، اور اکیلے پن کا فائدہ اٹھا کر رونے مت بیٹھ جانا، نور نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا،،، غصے سے بولی روؤں گی نہیں تو اور کیا کرو گی…. شافع نے اپنے ہاتھ سے اسکا گال سہلاتے ہوئے کہا ” تم مجھے سوچنا” نور تھوڑا سا پیچھے ہوئی تو شافع سیدھا ہو کر فوراً گلا کھنکار کر بولا میرا…. میرا مطلب ہے تم ریسٹ کرنا، شافع کچن سے نکلتا ہوا اسے ہدایت دینے لگا، اب میں جا رہا ہوں کچھ دیر میں آجاؤں گا، دروازہ لاک کر لو ویسے تو کوئی آئے گا نہیں لیکن اگر کوئی آئے تو پوچھ کر دروازہ کھولنا نور اسکے پیچھے دروازے تک آئے, دروازے پر پہنچ کر شافع نے نور کی طرف دیکھا اور آگے بڑھ کر اسکے سر پر پیار کیا نور کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں، اسے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ شافع ایسا کچھ کرے گا، شافع نے اسکی حیرت کو نظر انداز کیا اور اسے دروازہ بند کرنے کا کہہ کر چلا گیا….

وہ چلا گیا تو نور کی حیرت بھی ختم ہو گئی، نور وآپس اندر آئی کپ اور پلیٹ وہ دھو چکی تھی اور وہ پہلے سے بہتر بھی محسوس کر رہی تھی اسلئے اسکا سونے کا ارادہ بالکل نہیں تھا،،، جب اکیلا پن محسوس ہوا تو اپنی ماما کو یاد کر کے اسے شدت سے رونا آیا ناجانے کیوں اسے اچانک شافع کی کی ہوئی ہدایت یاد آئی “اکیلے پن کا فائدہ اٹھا کر رونے مت بیٹھ جانا” اسنے فوراً اپنے آنسوں صاف کئے، اور ادھر ادھر نظریں گھما کر لاؤنج کا جائزہ لینے لگی وہاں کوئی بھی چیز فالتو یہ شوخ نہیں تھی سب چیزیں سادھی اور خوبصورت تھیں… وہ کمرے کی طرف آگئی، اسنے کمرے کا دروازہ کھولا شافع کا کمرے واقعئی کافی بڑا تھا، وہ اب سب چیزوں پر غور کر رہی تھی اس سے پہلے اسکی ایسی حالت نہیں تھی کہ وہ ان سب چیزوں پر غور کرے،،،

نور نے کمرے کے دائیں جانب دیکھا وہاں پر ایک بڑی سی بک شیلف تھی اور ساتھ ہی اسٹڈی ٹیبل بھی تھی،،، اگر حالات پہلے جیسے ہوتے تو سب سے پہلے کتابوں کی طرف بڑھتی لیکن ابھی اسکی خود کی زندگی ایک کہانی بنی ہوئی تھی نور نے قدم آگے بڑھائے،،،، دروازہ کھولتے ہی بائیں جانب صوفے لگے ہوئے تھے اور سامنے بیڈ تھا نور کی نظر بیڈ کے اوپر لگی تصویر پر پڑی…. ” زایان اور شافع کی تصویر” اس فریم میں کوئی ایک تصویر نہیں تھی ایک تصویر میں بہت ساری تصویروں کو چھوٹا چھوٹا کر کے ایک تصویر بنائی گئی تھی، کمرے میں ایک دو پینٹنگ بھی لگی تھیں، بائیں جانب ورڈ روب اور باتھ روم تھا، لیکن تصویر کا فریم صرف ایک ہی لگا ہوا تھا جس میں شافع اور زایان کی بہت سی تصویریں تھیں، نور بیڈ پر آکر بیٹھ گئی، اسنے سائڈ ٹیبل کی دراز کھولی کوئی تصویر رکھی ہوئی تھی، نور نے وہ تصویر اٹھا کر نظروں کے سامنے کی اور دل میں سوچا کون ہے یہ؟ وہ یہ سوچ ہی رہی تھی جب ڈور بیل بجنے کی آواز آئی، اسنے تصویر وآپس رکھ دی اور دروازے کی طرف چلی گئی،،،،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نور اور زایان ایک پارک کی بینچ میں بیٹھے تھے، زایان بولا اب تک جو ہوا سب غلط ہوا… اب سب صحیح کرنے کی باری ہے شافع سامنے دیکھتے ہوئے گردن ہلاتے ہوئے بولا اب کچھ غلط نہیں ہوگا،،، نور تمھارے ساتھ خوش ہے؟ زایان نے پوچھا شافع اسکی طرف دیکھ کر بولا ابھی وہ ٹھیک ہی نہیں ہے تو خوش ہے یا نہیں یہ کیسے پتا چلا گا اتنا کچھ ہوا ہے کچھ وقت تو لگے گا اسے سنبھلنے میں، زایان نے اثبات میں گردن ہلائی پھر سانس کھینچ کر بولا اب تم مجھے بتاؤ کے تاشفہ کا کیا کرنا ہے کہو تو شوٹ کر دوں اسے؟ شافع نے ہنستے ہوئے زایان کی گلے میں ہاتھ ڈالا نہیں شوٹ نہیں کرنا ہے اس سے بھی زیادہ بڑا کام کرنا ہے،،،،

ٹھیک ہے تم بتاؤ کیا کرنا ہے؟ شافع سانس کھینچ کر بولا تمھے کسی بھی طرح پتا لگانا ہے کہ تاشفہ آج کل کس رپورٹ پر کام کر رہی ہے، کس کے ساتھ اسکا اٹھنا بیٹھنا

زیادہ ہے اسکے چینل میں اسکی کیا پوزیشن ہے سب کچھ اسکی ساری انفارمیشن مجھے چاہیے اب یہ تم پر ہے کہ تم یہ سب خود کرتے ہو یا کسی سے کرواتے ہو…. زایان تھوڑی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا ہممم،،، یہ سب تو میں دیکھ لوں گا لیکن تم ان سب انفارمیشن کا کرو گے کیا؟ شافع زایان کو آنکھ مارتے ہوئے بولا وہ سب میں بعد میں بتاؤں گا،،، زایان نے کندھے اچکا دیئے ٹھیک ہے، پھر کام ابھی سے شروع کریں؟ شافع نے پوچھا وہ کیسے؟ تاشفہ کے آفس کے ایک بندے سے ہم تاشفہ کے بارے میں معلومات لے سکتے ہیں، شافع نفی میں گردن ہلاتے ہوئے بولا نہیں ہم کسی پر بھروسہ نہیں کر سکتے،،، زایان نے ہونٹ بھینچیں، چلو ٹھیک ہے میں سنبھال لوں گا اب کچھ کھا سکتے ہیں؟ شافع کھڑا ہوتے ہوئے بولا نہیں گھر چل کر کھائیں گے نور پریشان ہو رہی ہو گی….

زایان کھڑے ہو کر بھنویں اچکاتے ہوئے بولا اوہو نور پریشان ہو رہی ہو گی….. شافع بولا میں اس سے جھوٹ بول کر آیا ہوں کہ مجھے کہیں اور بھی جانا ہے یہ باتیں گھر پر اسکے سامنے کرنا مجھے مناسب نہیں لگا، وہ ویسے ہی ڈسٹرب ہے زایان منہ بنا کر بولا مجھے جلن ہو رہی ہے یار شافع ہنستا ہوا بولا کس سے؟؟؟ نور سے یار پہلے تم صرف میرے تھے اب وہ تمھاری زندگی میں آگئی ہے تو سوتنوں والی فیلنگ آرہی ہے…. شافع نے ہنستے ہوئے اسکی گردن دبوچی…. زایان اسکے ہاتھ سے گردن نکالتے ہوئے بولا مجھے نہیں پتا اب مجھے بھی شادی کرنی ہے، شافع کندھے اچکا کر بولا ٹھیک ہے کر لو کس نے منا کیا ہے…. زایان دانت نکال کر بولا ٹھیک ہے کر لوں گا تمھے مدد کرنی پڑے گی لیکن…. شافع بھنویں اچکا کر بولا مجھے مدد کرنی پڑے گی مطلب؟ زایان اسکا ہاتھ پکڑ کر کھینچتے ہوئے بولا مطلب وطلب میں تمھے بعد میں سمجھاؤں گا ابھی مجھے بھوک لگ رہی ہے چلو…….

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نور دروازے پر پہنچی دروازہ کھولنے سے پہلے اسنے پوچھا کون ہے ؟باہر سے کسی خاتون کی آواز آئی، لیکن اس نے دروازہ نہیں کھولا آپ کون ہیں اپنا نام بتائیں، میں شافع کی ماں ہوں… نور نے فوراً دروازہ کھولا،،، اور شرمندہ ہوئی سامنے تہمینہ بیگم کھڑی تھیں نور انھے سلام کر کے بولی مجھے پتا نہیں تھا کہ آپ شافع کی ماما ہیں آپ اندر آئیں پلیز تہمینہ بیگم ہلکا سا مسکرائیں اور اندر آتے ہوئے بولیں کوئی بات نہیں اندر آکر تہمینہ بیگم ادھر ادھر دیکھتے ہوئے بولیں شافع کہاں ہے؟ وہ زایان سے ملنے گئے ہیں نور نے انھے بیٹھنے کو کہا۔ ۔ ۔ ۔ تہمینہ بیگم صوفے پر بیٹھ گئیں اور نور کو بھی بیٹھنے کا کہا نور ان سے کچھ فاصلے پر بیٹھ گئی، تہمینہ بیگم نے اسکا ہاتھ پکڑتے ہوئے پوچھا طبیعت کیسی ہے تمھاری؟ نور ہلکا سا مسکرائی جی ٹھیک ہے… نور کو سمجھ نہیں آیا کہ وہ کیا کرے اور کیا کہے…..

نور اٹھتے ہوئے بولی آپ بیٹھیں میں آپ کے لئے چائے لاتی ہو تہمینہ بیگم نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے اسے وآپس بیٹھا دیا، چائے وغیرہ کی ضرورت نہیں ہے تم بیٹھ جاؤ، نور نظریں جھکا کر انکے سامنے بیٹھ گئی،،، تہمینہ بیگم نے اسکا چہرہ اوپر کر کے اسے دیکھتے ہوئے کہا، تم بہت پیاری ہو جیسے میرے شافع کے لئے ہی بنی ہوں، نور مسنوعی سا مسکرا دی کچھ دیر بعد تہمینہ بیگم نے سانس کھینچ کر اس سے پوچھا لیکن بیٹا ایسا کیا ہوا تھا جو تم لوگوں کو یوں اچانک نکاح کرنا پڑا….. نور کا دل زوروں سے دھڑکنے لگا وہ تہمینہ بیگم کو کیا بتائے کیا وہ حالات کو سمجھیں گی یا اسے ہی قصوروار سمجھیں گیں،، نور مستقل اپنے ہاتھ مسل رہی تھی، میری…… میری ماما کو ہارٹ اٹیک آیا تھا اسلئے شافع نے مجھ سے نکاح کرلیا تہمینہ بیگم بولیں اووہ کیسی ہیں تمھاری ماما؟ نور نے ہونٹ بھینچیں آنسوں اسکے گالوں پر بہہ گئے انکی ڈیتھ ہو گئی،،،، تہمینہ بیگم نے اسے روتے دیکھا تو اسے فوراً خود سے لگاتے ہوئے اسکا بازو سہلایا ارے بس بس روتے نہیں ہیں آئم سو سوری مجھے پتا نہیں تھا،،، تہمینہ بیگم نے اسکے گال سے آنسوں صاف کرتے ہوئے کہا،،، اتنی پیاری آنکھیں ہیں ان میں آنسوں اچھے نہیں لگ رہے، نور نے اپنی آنکھیں رگڑیں،،، تہمینہ بیگم کچھ دیر تک اسے حوصلہ دیتی رہیں، میں تم سے تصویروں والے معاملے کا نہیں پوچھوں گی کیونکہ مجھے پتا ہے کہ وہ سب ویسا نہیں ہے جیسا میڈیا نے اسے دیکھایا ہے، بس میں تم سے یہ پوچھوں گی شافع تمھے پہلے سے جانتا تھا؟ نور نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا میں اسی کی یونی میں تھی، تو کیا تم لوگ ایک دوسرے کو پہلے سے پسند ؟ نور فوراً بولی نہیں آنٹی ایسا کچھ نہیں ہے ہمیں حالات نے ملایا ہے ورنہ ہمارے بیچ ایسا کچھ نہیں تھا، تہمینہ بیگم بولیں ٹھیک ہے، بس تم اس بات کا اطمینان رکھو کہ شافع نے اگر تم سے رشتہ جوڑا ہے تو وہ یہ رشتہ نبھائے گا بھی… نور نے نظریں جھکا لیں،،،،

کچھ دیر بعد تہمینہ بیگم اٹھتے ہوئے بولیں اب میں چلتی ہوں نور کھڑے ہوتے ہوئے بولی آپ رکیں نہ شافع ابھی آتے ہی ہونگے…. تہمینہ بیگم اسکے گال پر ہاتھ رکھ کر بولیں میں شافع سے پھر مل لوں گی، بس تم اسے کہنا کہ اپنے بابا سے بات کر لے، نور نے اثبات میں گردن ہلادی تہمینہ بیگم چلیں گئیں تو نور لاؤنج میں آکر بیٹھ گئی، تہمینہ بیگم سے بات کر کے اسے اب شدت سے اپنی ماما یاد آرہیں تھی “کسی کو بھولنا اتنا آسان بھی تو نہیں ہوتا” وہ وہیں صوفے پر لیٹ گئی کچھ ہی دیر گزری تھی اسے لگا دروازہ کسی نے کھولا ہے، اسنے جلدی سے اٹھ کر اپنا دوپٹہ سنبھالا اور دروازے کی طرف گئی شافع اندر ہی آرہا تھا اسکے ہاتھ میں کچھ شاپر بھی تھے نور کو دیکھ کر وہ مسکرایا شافع کے پیچھے ہی اسے زایان آتا ہوا دیکھا نور نے اپنا دوپٹہ سر پر ڈالا نور کو دیکھ کر زایان مسکراتے ہوئے بولا کیسی ہو مسز ہٹلر؟ نور تکلفانہ مسکرائی ٹھیک ہوں…. وہ لوگ لاؤنج میں آگئے شافع نے اپنے ہاتھ میں موجود شاپر کچن کاؤنٹر پر رکھے زایان سنگل صوفے پر بیٹھ گیا سامنے نور اور شافع بیٹھ گئے، زایان سانس کھینچ کر نور سے بولا تمھاری ماما کا سن کر بہت افسوس ہوا مجھے، سوری میں آ نہیں سکا، نور نظریں جھکائے بیٹھی رہی،،، زایان نے اسکا چہرہ اترا ہوا دیکھا تو فوراً اپنے انداز میں بولا نور ویسے تم میری سوتن بن کر آئی ہو یار…. نور نے نظریں اٹھا کر زایان کی طرف دیکھا کیا مطلب؟ مطلب یہ کے شافع کی پہلی بیوی ہمیشہ میں ہی رہوں گا تم اسکی دوسری بیوی ہو نور تھوڑا سا ہنس دی شافع بھی ہنسا، شافع بولا ہاں بھائی تم سے تمھارے حقوق کوئی نہیں چھینے گا بے فکر رہو اسلئے جاکر کھانا پلیٹ میں نکالو….. زایان نے آنکھیں باہر نکالیں دماغ ٹھیک ہے میں کیوں نکالوں بھائی نوکر بناکر لائے ہو کیا….؟ شافع بولا کھاتے ہوئے تو تمھے یہ سب یاد نہیں رہتا…. نور اٹھتے ہوئے بولی میں نکال لیتی ہوں. شافع نے اسے منا بھی کیا لیکن پھر بھی وہ چلی گئی لاؤنج کے سامنے ہی کچن تھا زایان سنجیدگی سے شافع سے بولا نور سچ میں بدل گئی ہے یار مینٹلی بہت ڈسٹرب لگ رہی ہے…. شافع نے اثبات میں گردن ہلائی اسے تھوڑا وقت چاہیے نارمل ہونے کے لئے ٹھیک ہو جائے گی وہ،،،، زایان گردن ہلاتے ہوئے بولا لیکن تم دیکھنا تاشفہ اب ٹھیک نہیں رہے گی…. نور نے ٹیبل پر کھانا لگا دیا تھا اسنے شافع اور زایان کو بلایا،،،

زایان نے تو بیٹھتے ہی شروع کر دیا شافع نے نور کی پلیٹ میں کھانا ڈالا، زایان کھانے میں مصروف بیچ بیچ میں کوئی نہ کوئی بات کر لیتا زایان شافع سے شکوہ کرتے ہوئے بولا دیکھو بھائی نکاح تو تم نے میرے بغیر کر لیا لیکن اب تمھے اپنی شادی کی خوشی میں ایک گرینڈ ریسیپشن رکھنی پڑے گی، نور فوراً بولی نہیں اس سب کی کیا ضرورت ہے؟ زایان کھاتے ہوئے بولا کیوں ضرورت نہیں ہے بالکل ضرورت ہے بھئ ریسیپشن تو ہوگئی،،،

شافع بولا نہیں یہ سب اب تم اپنی شادی پر کرنا زایان دانت نکالتے ہوئے بولا ہاں وہ تو کروں گا ہی…. کھانا کھانے کے بعد کچھ دیر تک زایان وہاں بیٹھا رہا پھر وہ چلا گیا،،، شافع زایان کو چھوڑنے دروازے تک گیا وآپس آیا تو نور کمرے میں تھی شافع کمرے میں آیا اور نور کو بغور دیکھتے ہوئے پوچھا تم روئی تھیں؟ نور نے فوراً نفی میں سر ہلایا اس سے پہلے کے وہ کچھ اور کہتا نور بولی تمھاری ماما آئیں تھیں۔ ۔ ۔ ۔ شافع آگے آیا کچھ کہا ہے انھوں نے تم سے نور نے نفی میں سر ہلایا نہیں تو…. شافع نے اسکا ہاتھ پکڑتے ہوئے پوچھا تم نے انھے سب بتادیا؟ نور نظریں جھکاتے ہوئے بولی ہمارا نکاح کیوں ہوا وہ بتایا ہے… اور تصویروں کے بارے میں انھوں نے کچھ نہیں پوچھا؟ نور نے نفی میں گردن ہلائی تمھاری ماما بہت اچھی ہیں شافع،،،، شافع مسکرایا اور میں؟ نور نے فوراً اسکے ہاتھوں میں اپنا ہاتھ نکالا بوکھلاتے ہوئے بولی وہ کچن میں میں ذرا دیکھ لوں….؟ شافع نے اسے روکا تم وہ سب چھوڑ دو اور یہاں آرام سے بیٹھ جاؤ اسنے نور کو بیڈ پر بیٹھا دیا… نور اسکی نظروں سے الجھن کا شکار ہوئی شافع وہاں سے اٹھ گیا تم آرام کر لو مجھے کچھ کام ہے… شافع اپنا لیپ ٹاپ اٹھا کر بیڈ کے دوسرے سائڈ پر آکر بیٹھ گیا… نور کچھ دیر بیٹھی ہی رہی شافع لیپ ٹاپ کھول کر اپنے کام میں مصروف ہوگیا تھا نور چادر اوڑھ کر دوسری طرف منہ کر کے لیٹ گئی… شافع نے اسکی طرف دیکھا اور مسکرا دیا….

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زایان شافع کے گھر سے نکلا تو وہ سب سے پہلے تاشفہ کے آفس کی طرف گیا وہاں وہ ایک دو لوگوں کو جانتا بھی تھا اسنے گاڑی آفس کے باہر کچھ فاصلے پر کھڑی کر دی…. آفس ٹائمنگ ختم بھی ہونے والی تھیں اس لئے آہستہ آہستہ آفس سے لوگ نکلتے ہوئے نظر آئے… کچھ ہی دیر بعد اسے آفس سے تاشفہ نکلتی ہوئی دیکھی زایان سیدھا ہو کر بیٹھا،،، تاشفہ آفس سے نکل کر پارکنگ ایریا کی طرف گئی اسکے ہاتھ میں کچھ فائلیں اور پرس تھا،،، تاشفہ نے اپنی گاڑی پارکنگ ایریا سے نکالی اور مین سڑک پر آگئی زایان نے فوراً اپنی گاڑی اسٹارٹ کی اور تاشفہ کی گاڑی کے پیچھے بھگائی اسکی اور تاشفہ کی گاڑی میں اتنا فاصلہ تھا کہ تاشفہ کو شک بھی نہیں ہوتا کہ کوئی اسکا پیچھا کر رہا ہے… کچھ دیر کی ڈرائیو کے بعد تاشفہ نے گاڑی ایک مال کے سامنے روکی زایان کی گاڑی اس سے کچھ فاصلے پر ہی تھی، تاشفہ گاڑی میں سے اپنا بیگ ہاتھ میں لئے نکلی گاڑی کو لاک کیا اور مال کے اندر چلی گئی وہ چلی گئی تو زایان نے اپنی گاڑی اسکی گاڑی کے برابر میں لے جاکر پارک کی تاشفہ کے ہاتھ میں صرف بیگ تھا اس کا مطلب ہے کے فائلیں گاڑی میں ہی ہیں بس اب فائلیں ہمارے مطلب کی ہوں،،، زایان نے اپنی گاڑی کے ڈیش بورڈ میں سے ایک عجیب سی چابی نکالی وہ ایک کیل نما چابی تھی جس میں آگے پیچھے چابی کی طرح نوکیں نکلی ہوئیں تھی زایان نے چابی کو چوم کر اپنی آنکھوں کے سامنے کیا دیکھ یار عزت رکھ لیو آج میری….

چابی لے کر زایان گاڑی میں سے نکلا اور آگے پیچھے دیکھا ہر کوئی اپنے کام میں مصروف تھا زایان آرام سے اپنی گاڑی سے نکل کر تاشفہ کی گاڑی کی طرف گیا اسنے اپنے چہرے کے تاثرات بالکل نارمل کئے ہوئے تھے تاکہ کوئی اس پر شک نہ کرے،،، زایان نے وہ چابی تاشفہ کی گاڑی کے پیچھے والی سیٹ کے لاک میں آہستہ آہستہ ڈالنی شروع کی زایان وہ چابی بہت آہستہ آہستہ لاک میں ڈال رہا تھا اور مسلسل آگے پیچھے بھی دیکھ رہا تھا اگر اس چابی سے لاک نہ کھولتا تو وہ چابی ٹوٹ کر اندر ہی پھس جاتی چابی جب پوری طرح اندر چلی گئی تو زایان نے آنکھیں بند کر کے ایک ،دو ، تین اور فوراً چابی گھمائی ایک ہلکی سی کلک کر کے آواز آئی اور لاک کھول گیا زایان نے آنکھیں کھولیں اسکی سانس میں سانس آئی اسنے پھر آہستہ آہستہ سے چابی وآپس نکالی چابی صحیح سلامت وآپس نکل بھی گئی،،، گاڑی کا دروازہ کھول کر زایان گاڑی میں بیٹھا،،، زایان نے گاڑی کا دروازہ بند کیا سیٹ پر رکھی فائل جلدی سے کھول کر دیکھنے لگا… وہ بار بار باہر بھی دیکھ رہا تھا کہ کہیں تاشفہ نہ آجائے زایان کا دل دھک دھک،،، دھک دھک،،، کر رہا تھا،،،،، وہ فائلیں پہلے پڑھنا چاہتا تھا لیکن اتنا وقت نہیں تھا اسنے جلدی سے اپنا موبائل نکالا اور فٹافٹ فائل کے ایک ایک صفحے کی تصویر لینے لگا اسکے ہاتھوں میں ہلکی سی کپکپاہٹ تھی اس فائل میں تقریباً بیس پچیس صفحے تھے اور ہر صفحے کی دونوں طرف سے تصویر لینے میں اسے بیس منٹ تو لگ گئے تھے… آخری دو صفحے باقی تھے… اسنے نظر اٹھا کر مال کے دروازے کی طرف دیکھ تاشفہ اپنے گلاسیز آنکھوں میں لگاتے ہوئے باہر آ رہی تھی زایان کے ہاتھ سے موبائل چھوٹ کر نیچے گر گیا زایان نے فوراً جھک کر موبائل تلاش کیا لیکن اسے اتنی گھبراہٹ ہوگئی تھی کہ موبائل ہاتھ میں ہی نہیں آرہا تھا بڑی مشکل سے اسنے موبائل اٹھایا اور فٹافٹ دونوں صفحوں کی تصویریں کھینچیں تاشفہ کسی سے ٹکرا گئی تھی اسکے ہاتھ میں موجود شاپر نیچے گر گیا تھا وہ اٹھانے میں اسے ٹائم لگ گیا… زایان جلدی سے اسکی فائل ٹھیک سے رکھ کر گاڑی سے نکلا گاڑی کے دروازہ بند کیا اور تیزی سے اپنی گاڑی میں آکر بیٹھا تاشفہ اپنی گاڑی تک پہنچ گئی تھی وہ اپنی گاڑی میں بیٹھی زایان نے اپنی گردن نیچے کر لی،،، تاشفہ نے اپنی گاڑی ریورس میں لی اور چلی گئی….

زایان نے گردن اوپر اٹھائی اور پیچھے سیٹ سے ٹیک لگا کر سکون کا سانس لیا وہ پوری طرح پسینے پسینے ہو گیا تھا… جب وہ تھوڑا نارمل ہوا تو خود ہی اپنا کندھا تھپتھپا کر بولا “واہ زایان حیدر واہ” تم تو بہت قابل ہو تمھے تو انڈر ورلڈ کا ڈان ہونا چاہیے تھا… خود کو شاباشی دے کر اسنے کھینچی ہوئی تصویریں دیکھیں ان تصاویروں کو دیکھتے ہوئے وہ بولا اب تم اپنی بربادی کے دن گنوں تاشفہ بیگم..