Izhar-e-Muhabat by Anooshe NovelR50417

Izhar-e-Muhabat by Anooshe NovelR50417 Izhar-e-Muhabat Episode 6

219.9K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Izhar-e-Muhabat Episode 6

Izhar-e-Muhabat by Anooshe

آئےنور گھر پہنچی تو ارمینہ بیگم اسی کی راہ تک رہی تھیں…..

اتنی دیر کر دی تم نے آئے نور کہاں رہ گئیں تھی؟ ارمینہ بیگم نے پریشانی سے پوچھا….

نور نے چادر اتار کر صوفے پر رکھی اور اسکارف کھولتے ہوئے کہا،،،

ماما مت پوچھیں اتنا رش تھا کہ میں آپ کو کیا بتاؤں اور ایک تو چل چل کے ٹانگیں دکھ گئیں کبھی کہیں جاؤ تو کبھی کہیں۔ ۔ ۔

ارمینہ بیگم نے پانی کا گلاس نور کو پکڑاتے ہوئے کہا……

ہاں بیٹا ان کاموں میں بھاگ دوڑ تو کرنی پڑتی ہے.

کلاسیز کب سے شروع ہیں تمھاری؟

بس اگلے ہفتے سے ماما نور نے خوشی سے مسکراتے ہوئے کہا…

میں تو اتنی اکسائیٹڈ ہوں کے بس نہ پوچھیں.

جانتی ہوں میں کہ میری بیٹی کتنی خوش ہے…

چلو اب جاؤ اور فریش ہو کر آجاؤ۔ ۔ ۔

“آئےنور نے گھر میں زایان کے بارے میں کسی کو نہیں بتایا تھا اسے ڈر تھا کہ کہیں صدیقی صاحب کوئی ہنگامہ برپا نہ کر دیں”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*

وہ ایک بہت بڑا سا حال نما کمرا تھا….

وہ لاؤنج نہیں تھا کمرہ ہی تھا٬ لیکن کافی حد تک بڑا تھا بڑے بڑے سے عالی شان صوفے ، بیڈ، ضرورت کا سارا فرنیچر اور چیزیں وہاں موجود تھیں

ہر چیز قیمتی چمکتی ہوئی اپنے حسار میں لے لینے والی …..

وہ ایک ادھڑ عمر کی خاتون تھیں سر پر سلیقے سے ڈوپٹہ لیے ہوئے بائیں کندھے پر کالے رنگ کی کڑھائی ہوئی چادر وہ کرسی پر بیٹھی ہوئی تھیں….

ملازمہ انکے پیر دبا رہی تھی

جب دروازے پر دستک ہوئی…!

انھوں نے نظریں اٹھا کر دروازے کی طرف دیکھا ایک دبلی پتلی سی لڑکی کھڑی تھی…

اسنے سفید رنگ کا سوٹ پہنا ہوا تھا دوپٹے کو سر پر سلیقے سے لئے ہوئے شانوں پر کالے رنگ کی بڑی سی چادر لپیٹی ہوئی تھی جس سے وہ دبلی پتلی لڑکی تقریباً پوری چھپ گئی تھی آنکھوں میں حد درجے کی اداسی آنکھوں کے نیچے ہلکے بھی پڑے ہوئے تھے جس سے اسکی خوبصورتی مانند پڑ رہی تھی……

لاڈو تم وہاں کیوں کھڑی ہو اندر آؤ

وہ چلتی ہوئی انکے پاس آکر کھڑی ہوگئی،،،،

کہاں جانے کی تیاری ہے؟

بی ماں میں ۔ ۔ ۔ میں مزار پر جانا چاہتی ہوں….

اسنے بہت ٹھر ٹھر کر کہا

ارے لڑکی تمھے کب تک سمجھاؤں میں لڑکیاں مزاروں پر نہیں جاتی انھوں نے سختی سے کہا تھا…..

بی ماں مجھے جانے دیں میں جلدی آجاؤ گی….

میں نے ایک بار منا کر دیا نہ کے تم نہیں جاؤ گی تو بس نہیں جاؤ گی..

میں اندر نہیں جاؤں گی بس باہر سے ہی آجاؤ گی جانے دیں…..

اسکی نظریں زمین پر تھیں وہ ضد نہیں کر رہی تھی لیکن وہ انکی بھی نہیں مان رہی تھی….

بی ماں کچھ دیر خاموشی سے اسے دیکھتی رہیں پھر بولیں اچھا چلی جاؤ لیکن یاسمین کو ساتھ لے کر جانا اکیلے نہیں جاؤ گی تم…..

انھوں نے پاس بیٹھی ملازمہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا

جاؤ یاسمین بی بی جی کے ساتھ جاؤ بی بی کو اکیلا مت چھوڑنا

اور جلدی واپس آجانا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

جی بی ماں جیسا آپ کہیں ملازمہ انکی ایک آواز پر اٹھ گئی تھی،،،

ہر دفعہ کی طرح وہ اس دفعہ بھی منا کرنے کے باوجود مان گئیں تھیں…

وہ ہمیشہ اسے پہلے منا کرتی تھیں پھر کچھ دیر اسکا خاموش چہرہ دیکھنے کے بعد خود ہی اجازت دے دیا کرتی تھیں….

آخر وہ انکی لاڈلی اور ایکلوتی پوتی جو تھی….

وہ باہر نکلی تو ایک ملازم گاڑی کا دروازا کھول کر گردن جھکائے کھڑا تھا….

لون میں جو دو ملازم پودوں کو پانی دے رہے تھے اسکے آنے پر گردن جھکائے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہو گئے وہ بغیر کسی کی طرف دیکھے گاڑی میں بیٹھ گئی تو ملازمہ بھی دوسری طرف سے اسکے برابر میں آکر بیٹھ گئی اور گاڑی چل دی….

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ *

آئےنور مال کے فوڈ کورٹ میں منہا اور اپنی ایک دو دوستوں کے ساتھ بیٹھی تھی…..

وہ لوگ آرڈر کر کے باتوں میں مصروف تھے کھانا ابھی سَرو نہیں کیا گیا تھا….

باتیں کرتے کرتے اچانک آئےنور کی نظر سامنے پڑی جہاں سے شافع موبائل میں مصروف ایک ہاتھ پینٹ کی جیب میں ڈالے چلتا ہوا آرہا تھا…..

اسنے وائٹ پینٹ اور شرٹ پر براؤن چیک والا کوٹ پہن رکھا تھا…

ایک ہاتھ میں گھڑی دوسرے ہاتھ میں موبائل وہ بہت مصروف سے انداز میں چل رہا تھا، اسکے حلیے سے لگ رہا تھا کہ شاید وہ یہاں کسی میٹنگ کے لئے آیا ہے….

آئے نور نے جیسے ہی اسے دیکھا مینیو کارڈ اٹھا کر چہرے کے آگے کر لیا

یہ یہاں کیسے آگیا؟؟؟

اسکی دوستوں نے حیرت سے پوچھا کیا ہوا نور ؟؟؟

نور نے مسکراتے ہوئے بولا نہیں کچھ بھی تو نہیں وہ دراصل گرمی لگ رہی تھی نور نے کارڈ سے ہلکے ہلکے ہوا جھلنا شروع کر دی….

منہا نے حیرت سے پوچھا نور طبیعت تو ٹھیک ہے نا اے سی میں بھی تمھے گرمی لگ رہی ہے ….

ہاں،،،، ٹھیک ہوں میں بس ایسے ہی نور نے مسنوعی مسکراہٹ کے ساتھ کہا….

شافع انکے سامنے والی ٹیبل پر آکر بیٹھ گیا تھا جہاں سے وہ آئےنور کو با آسانی دیکھ سکتا تھا شافع ابھی بھی موبائل میں مصروف تھا…..

اوووفففف یہ تو یہیں بیٹھ گیا آئےنور نے سر جھکاتے ہوئے منہ ہی منہ میں کہا…

کچھ کہا تم نے نور؟ منہا نے پوچھا…

وہ وہاں سے چلنے کا بولنے ہی والی تھی کہ انکا کھانا سَرو کر دیا گیا…

نہیں کچھ نہیں…

آئےنور ابھی بھی ہوا کرنے کے بھانے منہ چھپانے میں مصروف تھی….

اسے ڈر تھا کہ اگر شافع نے اسے دیکھ لیا تو کہیں وہ اسکی دوستوں کے سامنے پچھلی ملاقاتوں کا حوالہ دیکر اسکا مزاق نا بنادے….

اگر صرف منہا ساتھ ہوتی تو کوئی مسلئہ نہیں تھا.

لیکن ،،، کچھ اور لڑکیاں بھی ساتھ تھیں جو کہنے کو تو اسکی دوست تھیں۔ ۔ ۔ لیکن اگر شافع انکے سامنے کچھ کہہ دیتا یا نور سے بات کر لیتا تو وہ اس بات کو کس حد تک بڑھا چڑھا کے پھیلاتیں یہ سوچ کر ہی اسکے رونگٹے کھڑے ہورہے تھے…..

ویٹر شافع سے آرڈر لینے آیا تھا لیکن اسنے منا کر دیا تھا شاید وہ وہاں کسی کا انتظار کر رہا تھا

…..

نور تم کچھ کھا کیوں نہیں رہیں؟ منہا نے پوچھا….

ہاں کھاتی ہوں …..

نور نے کارڈ نیچے رکھ کے ہاتھ سے منہ چھپانے کی کوشش کری۔

اور دوسرے ہاتھ سے سینڈوچ اٹھا کر ایک بائٹ لیا،،،،

شافع نے گردن اٹھا کر ادھر اُدھر دیکھا تو آئےنور نے فوراً کارڈ اٹھا کر منہ کے آگے کر لیا….

نور کیا ہوگیا تمھے کس سے چھپ رہی ہو؟؟؟

اسکے سامنے بیٹھی لڑکی نے گردن گھما کر پیچھے دیکھا کوئی بھی تو نہیں ہے….

پیچھے کی ٹیبل کھالی پڑی تھیں…

آئےنور نے کارڈ نیچے کر کے سامنے ٹیبل کی طرف دیکھا وہاں کوئی نہیں تھا…

نور نے سکون کا سانس لیا اور سینڈوچ اٹھا کر کھانا شروع کیا کسی سے نہیں چھپ رہی میں…..

میں نے کہا نہ گرمی لگ رہی ہے مجھے بس اسلئے کارڈ سے ہوا جھل رہی تھی نور نے مصروف سے انداز میں کھاتے ہوئے کہا….

آئےنور نے دو تین بائٹ ہی لئے تھے جب اسے پھر سامنے سے شافع آتا ہوا نظر آیا اس بار اسکے ساتھ ایک لڑکی بھی چلتے ہوئے آرہی تھی شاید وہ اسی لڑکی کو لینے کے لئے گیا تھا……

نور نے پھر سینڈوچ چھوڑ کر کارڈ منہ کے آگے کر لیا شافع اپنی جگہ پر ہی آکر بیٹھا تھا…..

اس کے ساتھ آئی لڑکی شافع کے سامنے آکر بیٹھ گئی تھی جس کی وجہ سے اب وہ آسانی سے نور کو نہیں دیکھ سکتا تھا……

آئے نور نے کارڈ رکھ دیا کیونکہ اب وہ لڑکی دیوار بنی بیٹھی تھی…

نور نے تجسّس سے دل میں سوچا یہ لڑکی کون ہوگی؟؟؟

اسکی گرل فرینڈ ہوگی شاید۔

اچھا….. تو مطلب دیٹ پر آیا ہے…..

آئےنور نے خود سے ہی سوال کیا اور خود سے ہی جواب بھی دے دیا….

شافع کے سامنے بیٹھی لڑکی اپنے بیگ میں سے لیپ ٹاپ نکال کر شافع کو کچھ دکھا رہی تھی……

ویٹر نے دو جوس لاکر انکی ٹیبل پر رکھ دئیے تھے ….

شافع بڑی سنجیدگی سے لیپ ٹاپ کی طرف متوجہ تھا وہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد اس لڑکی سے اسکرین کی طرف اشارہ کر کے کچھ پوچھ بھی رہا تھا….

اور لڑکی کے انداز سے لگ رہا تھا کہ وہ اپنے کام سے اسے پوری طرح مطمئن کرنا چاہتی ہے…..

وہ لڑکی جیسی ہی تھوڑی گردن ہلاتی آئے نور اپنی گردن جھکا دیتی……

آئے نور کی ساری دوستیں کھا چکی تھی لیکن نور کا سینڈوچ ابھی بھی آدھا باقی تھا وہ چاہتی تھی کہ پہلے شافع وہاں سے نکل جائے ….

کیونکہ اگر وہ کھڑی ہوتی تو ایسا ناممکن تھا کہ شافع کی نظر اس پر نہ پڑے……

نور جلدی کھاؤ یار ….

ہاں بس کھا رہی ہوں جب تک تم لوگ باتیں کرو…

شافع لیپ ٹاپ کی طرف متوجہ تھا اس سارے وقت میں اسکے ایک ہی تاثرات تھے …

شافع نے جوس پینے کے لئے گلاس اٹھایا سامنے بیٹھی لڑکی کی کوئی چیز زمین پر گری تھی وہ اسے اٹھانے کے لئے جھکی شافع نے اسکرین سے نظرے ہٹا کر گلاس ٹیبل پر رکھا اور اس اسکرین سے ٹیبل تک کے بیچ کے لمحے میں اسکی نظر سامنے پڑی تھی…….

وہ لڑکی واپس سیدھی ہوکر بیٹھ گئی تھی شافع نے تھوڑی سی گردن تیڑھی کر کے سامنے دیکھا

آئےنور سینڈوچ کا بائٹ لے رہی تھی….

آئے نور نے اچانک سامنے دیکھا شافع اسی کو دیکھ رہا تھا نور سینڈوچ کا بائٹ لینا بھول گئی…..

شافع نے اسے دیکھ کے گردن کو ہلکا سا خم دیا اور ایک چبھتی ہوئی مسکراہٹ اس پر اچھالی اور پھر سپاٹ چہرے لئے سیدھا ہوکر بیٹھ گیا…..

آئےنور سے نگلنا مشکل ہوگیا اسنے جوس گلاس ایک سانس میں پی لیا ….

شافع کے سامنے بیٹھی لڑکی اب اپنا لیپ ٹاپ اٹھا کر کھڑی ہوگئی تھی شافع بھی کھڑا ہوگیا تھا

شافع نے پھر آئےنور کی طرف دیکھا تھا …

وہ لڑکی شافع کو کوئی فائل دے کر وہاں سے چلی گئی…

آئے نور نے ترچھی نگاہوں سے شافع کی طرف دیکھا لیکن جب اسے اپنی طرف دیکھتے ہوئے پایا تو فوراً نظریں جھکا لیں ….

شافع انکی ٹیبل کی طرف آنے لگا نور کی سانس اوپر کی اوپر اور نیچے کی نیچے رہ گئی ۔

نور نے ڈر سے آنکھیں بند کر کے ماتھے پر ہاتھ رکھ لیا تھا…..

شافع انکی ٹیبل کے بلکل قریب آیا اور نور کے برابر میں سے گزر گیا ……

آئےنور نے ایک آنکھ کھول کر دیکھا کہ شافع بغیر کچھ کہے وہاں سے گزر گیا ہے تو اسکی سانس بھال ہوئی…..

شکر……!

گھور تو ایسے رہا تھا جیسے کھا جائے گا سڑیل کہیں کا….

ہنہہ،،،

نور نے دل میں سوچا……

فوراً کھڑے ہوتے ہوئے بولی

چلو چلتے ہیں اب دیر ہو رہی ہے

لیکن نور تمھارا سینڈوچ ،،،،،

چھوڑو اسے مجھ سے اور نہیں کھایا جا رہا بس چلو

………………………………………………….

زایان، میراب اور ارفہ بیگم سر جوڑے کسی پلیننگ میں مصروف تھے….

جب حیدر آفاق دبے پاؤں کمرے میں داخل ہوئے اور ان تینوں کے سر کے اوپر زور سے بھاؤوو کرا….

تینوں چونک کر ایک دم سے الگ ہوئے اور میراب نے تو زایان کے کان کے پاس اتنی زور سے چیخ ماری کے زایان کے کان کے پردے پھٹنے کو تھے……

زایان نے ایک چپیڑ میراب کے سر پر ماری کیا چوڑیلوں کی طرح چینخ رہی ہو ….

میراب نے منہ بناتے ہوئے کہا میں جان پوچھ کے چیخی ہوں کیا بابا نے ڈرا دیا تو میری چینخ نکل گئ….

ہاں بابا تو ایلین بن کر آئے تھے نہ جو تم ڈر گئیں…..

بابا بھائی کو دیکھیں نا اب یہ مجھے کچھ نہ کچھ بولتے رہیں گے

حیدر صاحب نے میراب کو اپنے ساتھ لگاتے ہوئے کہا زایان تنگ مت کرو میری بیٹی کو ……

میراب نے زایان کو منہ چڑھایا دیکھ لیا بابا مجھ سے زیادہ پیار کرتے ہیں ،،،،

ہاں تو میں نے تمھے بتایا تو تھا، ہم تمھے کچرے سے اٹھا کر لائے تھے، اسلئے بابا تمھے زیادہ پیار کرتے ہیں، تاکہ تم احساسِ کم تری کا شکار نہ ہوں…

زایان شرارت سے مسکراہٹ دباتے ہوئے بولا …..

میراب کا تو پارہ چڑھ گیا اور اسنے زایان پر تکیوں کی برسات کردی

نہیں میراب بھائی مزاق کر رہا ہے ارفہ بیگم نے اس سے تکیہ لیتے ہوئے کہا۔

اچھا اب کوئی مجھے یہ بتائے گا کہ کونسی خوفیہ میٹنگ چل رہی تھی آپ تینوں کے بیچ؟

ارے بابا سنیں زایان قریب آتے ہوئے بولا …..

کل شافع کی برتھ ڈے ہے ہم وہی سوچ رہے تھے کہ اِسے کس طرح بلائیں…. کیونکہ آپ کو تو پتا ہے کہ اسے بتا کر کچھ کریں گے تو وہ کرنے نہیں دے گا….

اور ہم نے آج رات 12 بجے کا پلین بنایا ہے اور کچھ سمجھ نہیں آرہا کے کیا بولیں…

ارے اس میں سوچنے والی کیا بات ہے بول دو میری طبیعت خراب ہے دیکھنا دوڑے دوڑے آجائے گا….

بابا یہ طریقہ ہم دو دفعہ آزما چکے ہیں اب نہیں چلے گا یہ….

تم اسکو بول دو میں نے بلایا ہے وہ آجائے گا ارفہ بیگم بولیں….

ارے نہیں ماما اس طرح تو کوئی مزا ہی نہیں آئے گا تھوڑا فلمی ہونا چاہیے….

بھائی ایسا کریں انسے کہہ دیں کہ آپ کی طبیعت خراب ہو گئی ہے….

حیدر صاحب نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا

یہ تو امپوسیبل سی بات ہے وہ کبھی نہیں مانے گا….

زایان نے انھے گھورا مطلب آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ میں ڈھیٹ ہڈی ہوں ہاں…

سمجھ سکتے ہو حیدر صاحب نے محفوظ ہوتے ہوئے کہا…..

ماما دیکھ لیں اپنے مزاجی خدا کو مجھے ڈھیٹ ہڈی کہہ رہیں ہیں یہ چاہتے ہیں میں بیمار ہو جاؤں…..

ارفہ بیگم کی مامتا جاگ گئی فوراً زایان کی بلائیں لیتے ہوئے بولیں کیسی باتیں کر رہے ہیں آپ اللہ نہ کرے میرے بیٹے کو کچھ ہو…..

اوہو ارفہ آپ نے تو بس بیٹے کی بات سن لی میں نے ایسا کچھ نہیں بولا

انھوں نے زایان کو گھورتے ہوئے کہا زایان نے دانت نکال لئے…..

ہم شاید برتھ ڈے پلیننگ کر رہے تھے…. میراب نے آنکھیں گھما کر کہا

زایان فوراً بولا بس۔ ۔ ۔ ۔

تم نے ماما کو مجھے پیار کرتے دیکھا تو فوراً جل کر بولنا شروع کر دیا۔

میراب بیڈ سے جانے کے لئے اٹھ گئی مجھے تو لگتا ہے میرا مذاق اڑانے کے لئے میٹنگ رکھی ہے اڑا لیں مزاق میں جارہی ہوں….

زایان نے اسکا ہاتھ پکڑ کر واپس بیٹھا یا ارے ارے کہاں جارہی ہو میں تو یہ کہہ رہا تھا کہ تمھارا والا آئیڈیا کام کر سکتا ہے….

میراب کی آنکھوں میں چمک آگئی

سچیّ…..؟؟؟؟

ہاں بس اس آئیڈیا پر کچھ کام کرنا پڑے گا لیکن وہ میں دیکھ لوں گا اب تم دیکھو میں اسے کس طرح بلاتا ہوں زایان نے چٹکی بجاتے ہوئے کہا۔ ۔ ۔ ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*

شافع بیڈ پر لیٹا کوئی کتاب پڑھ رہا تھا بارہ بجنے میں ابھی آدھا گھنٹا تھا ۔ ۔ ۔ ۔

کتاب سے اسکا دل اُکتا گیا تو کتاب سائڈ پر رکھ کر بازو آنکھوں میں رکھ کر لیٹ گیا…..

موبائل اسنے پہلے ہی پاور اوف کر دیا تھا شاید اسے پہلے سے اندازہ تھا کہ بارہ بجنے سے پہلے ہی اسکے موبائل نے بجنا شروع کر دینا ہے اور وہ یہ سب نہیں چاہتا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

اسے لیٹے پانچ منٹ ہی گزرے تھے جب اسکے کمرے کا دروازا دھڑا دھڑ بجنے لگا شافع اچانک چونک کر اٹھ گیا….

دروازا کھولا تو سامنے تہمینہ بیگم گھبرائی ہوئی پریشان کھڑی تھیں۔ ۔ ۔

اسنے ان کا ہاتھ پکڑ کر پوچھا کیا ہوا ماما آپ ٹھیک تو ہیں نا؟

شافع۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ شافع وہ زایان کے گھر سے فون آیا ہے انکا ملازم پتا نہیں کیا بول رہا ہے زایان کو پتا نہیں کیا ہوگیا تم چلو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

کیا زایان کو شافع تیزی سے سیڑھیوں کی طرف بھاگا تھا نیچے آکر اسنے فوراً فون کان سے لگایا ہیلو…..!

دوسری طرف سے آواز آئی شافع صاحب آپ جلدی سے یہاں آجائیں زایان صاحب کو پتا نہیں کیا ہوگیا ہے کیا۔ ۔ ۔ کیا ہوا ہے زایان کو؟ انکل آنٹی کہاں ہیں؟؟

صاحب لوگ باہر گئے ہوئے ہیں…..

انکا فون نہیں لگ رہا ڈرائیور بھی نہیں ہے ورنہ میں خود انھے ہسپتال لے جاتا زایان کہاں ہے میری بات کرواؤ…..

صاحب زایان صاحب کی حالت ٹھیک نہیں ہے ان کے دل میں درد اٹھ رہا ہے پیچھے سے زایان کے کراہنے کی آواز آئی تھی….

زایان کے کراہنے کی آواز سن کر شافع کو اپنی دھڑکن مِس ہوتی ہوئی محسوس ہوئی ….

تم…. تم اسکا خیال رکھنا میں آرہا ہوں….

شافع نے فون کا کریڈل پھینکا اور باہر کی طرف بھاگا تہمینہ بیگم جو اسکے ساتھ ہی کھڑی تھیں وہ بھی باہر کی طرف بھاگیں…

شافع بیٹا میں بھی چل رہی ہوں گاڑی کے پاس جائیں بول کر شافع واپس اندر بھاگا تھا

ارے بیٹا کہاں جارہے ہو ؟

گاڑی کی چابی لا رہا ہوں کمرے سے تہمینہ بیگم وہیں کھڑی تھی اتنے میں شافع چابی لے کر آگیا۔

دروازا کھولو میری شکل کیا دیکھ رہے ہو شافع گاڑی میں بیٹھتے ہوئے غصے سے چوکیدار پر چیخھا تھا….

اسکا ایک رنگ آرہا تھا اور دوسرا جارہا تھا اگر وہ زایان کے کراہنے کی آواز نہ سنتا تو اسکے ہواس اتنے بختہ نہ ہوتے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

یا اگر فون ملازم نہ کرتا اور تہمینہ بیگم پریشانی کے عالم میں اسکے کمرے میں نہ آتیں تو وہ کبھی یقین نہ کرتا…..

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*

وہ مزار کے دروازے پر جاکر رک گئی تھی کچھ دیر کھڑے رہنے کے بعد وہ وہیں سائڈ پر دروازے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی…

بی بی جی اندر چلیں نا آپ ہمیشہ بس یہیں آکر بیٹھ جاتی ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ملازمہ نے اسکے پاس بیٹھتے ہوئے کہا

وہ گٹھنوں کے گرد بازو پھیلائے ایسی ہی خاموش رہی……

اسنے سر گٹھنوں پر رکھ کر آنکھیں موند لی تھیں یہاں بیٹھنے سے زیادہ سکون ملتا ہے اسنے آنکھیں موندے ہوئے ہی کہا ۔ ۔ ۔ ۔

بی بی جی ایک بات بولوں اگر آپ برا نہ مانیں تو؟

بولو مجھے کچھ برا نہیں لگتا اسنے اسی طرح آنکھیں موندے ہوئے کہا۔ ۔ ۔

آپ منّت کیوں نہیں مانگتیں آپ دھاگا باندھیں آپ کی مرادیں پوری ہو جائیں گی

وہ ملازمہ لگ بھگ اسی لڑکی کی ہم عمر تھی اسی وجہ سے اسکی ہمراز بھی تھی

اسنے گردن اٹھا کر ملازمہ کو خالی خالی نظروں سے دیکھا

دھاگوں سے مرادیں پوری ہو جاتی ہیں کیا؟؟؟؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔

جی بی بی جی ہو جاتی ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

“تو کیا دعاؤں سے نہیں ہوتیں” اسنے حیرانی سے پوچھا ؟؟؟

دعاؤں سے بھی ہوجاتی ہیں بی بی جی یہ تو ساری عقیدے کی بات ہے ،،،،،،

وہی تو “ساری بات عقیدے کی تو ہے”

“جو دعاؤں سے نہیں ملا وہ کسی دھاگے سے بھی نہیں ملے گا” اسنے سامنے جالی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جو لاتعداد رنگ برنگی دھاگوں سے گھچا گھچ بھری تھی ۔ ۔ ۔

آپ یقین تو کر کے دیکھیں بی بی جی،،،،،

کیسے کر لوں یقین جب دل ہی نہیں مانتا اسنے نڈھال سے انداز میں کہا

پھر آگے بڑھ کر ملازمہ کا ہاتھ پکڑ کر بولی لیکن ہاں۔ ۔ ۔ ۔

“یقین مانو جس دن یقین آگیا نہ کہ کسی دھاگے یہ تعویذ سے وہ میرا نصیب بن جائے گا اس دن میں ہر مزار کی ایک ایک جالی کو اسکے نام کے دھاگوں سے بھر دوں گی

اپنے گلے کو اسں کے نام کی دھاگوں سے ایسے جکڑوں گی کے میری رگیں ابھر جائیں”۔ ۔

اسنے گلے کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہا۔ ۔ ۔ ۔

لیکن لیکن میں کیسے مان لوں کے جو مجھے دعاؤں سے نہیں مل رہا وہ مجھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

وہ مجھے کسی مزار کی جالی یہ درخت پر دھاگا باندھنے سے مل جائے گا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

آنکھوں میں درد سے پانی بھر آیا تھا

میں نے چار سال سے دعاؤں میں اس کے سوا کچھ نہیں مانگا یاسمین…….!

ایسا لگتا ہے اسکے سوا مانگنے کو کچھ ہے ہی نہیں ایسا لگتا ہے ہر راستہ اسکی طرف مڑتا ہے ہر دعا اس سے ملا دیتی ہے جو بھی مانگا ہے صرف اسی کے لئے مانگا ہے

لیکن وہ نہیں مل رہا تو اس رب کی کوئی نہ کوئی مصلحت ہوگی وہ اپنے بندوں کے لئے اچھا ہی سوچتا ہے بس ہم ہی جلدی مچاتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔

اسنے دیوار سے ٹیک لگا لی تھی ایک آنسوں کی لڑی نکل کر اسکے گال پر بہہ گئی تھی جیسے اسنے روکا نہیں تھا۔

بی بی جی جب آپ کو پتا ہے کہ اللہ جی نے آپ کے لئے کچھ اچھا ہی سوچا ہے تو پھر اپنے یہ جوگ کا لباس کیوں پھنا ہوا ہے کیوں خود کو اتنی عزیّت میں مبتلا کرا ہوا ہے کیوں اسکو بھول نہیں جاتیں۔ ۔ ۔

بھول ہی تو رہی ہوں ،،،،،

وہ پھر سیدھی ہوکر بیٹھ گئی تھی روز بھول جاتی ہوں… لیکن جیسے ہی تنہائی میسر ہوتی ہے اسکا عکس میرے سامنے آکر کھڑا ہو جاتا ہے مجھے دیکھ کر طنز کرتا وہ والہانہ انداز میں کہی جارہی تھی جیسے دل کے ایک ایک درد کو آج کھول کے رکھ دینے چاہتی ہو….

مجھ سے کہتا ہے کہ یہ یکطرفہ محبت کو نبھانا تمھارے بس کی بات نہیں ہے

تم بائس سالہ ادنہ سی لڑکی تم کیا جانو کے عشق کیا ہے تمہاری محبت بھی دوسروں کی طرح عام ہے جس میں صرف پانے کی چاہ ہے

تم بتاؤ یاسمین کیا میری محبت بھی عام ہے تمھے بھی لگتا ہے کی مجھے اسے صرف پانے کی چاہ ہے۔ ۔ ۔ ۔

بی بی جی خود کو سنبھالیں

کیسے سنبھالوں؟؟؟ کیسے اسکی آواز میں لرزش آگئی تھی ۔ ۔

اس وقت میرا دل کسی بچے کی مانند بلبلاتا ہے آنکھیں لہو روتی ہیں میرا روم روم چینخ کر بین کرتا ہے اس بین کو روکنے کے لئے جب میں سختی سے منہ پر ہاتھ رکھتی ہوں تو…..

تو میری ایک ایک سسکیوں میں سے آہ نکلتی ہے کہ میری محبت ۔ ۔ ۔ ۔

میری محبت عام نہیں ہے میری محبت میں صرف اسے پانے کی چاہ نہیں ہے۔ ۔ ۔ ۔

میں نے تو فقط اسے چاہا ہے اور اتنا چاہا ہے کہ میں اپنا آپ بھلا بیٹھی ہوں۔ ۔ ۔

بولتے بولتے اسکا سانس پھول گیا تھا چہرہ آنسوں سے بھیگا ہوا تھا

میری صرف ایک خواہش ہے کہ ایک دن وہ فقط مجھ سے اتنا کہہ دے کے مجھے تمھاری محبت پر یقین ہے ۔ ۔ ۔۔

پھر چاہے وہ مجھے دھتکار دے بیشک مجھ سے نفرت کرے زندگی بھر میری شکل نہ دیکھنے کی قسم کھالے لیکن لیکن ایک بار میری محبت کا دل سے یقین کر لے

کہہ دے کے ہاں میں نے تمھاری محبت کو دھتکارا تھا لیکن مجھے یقین ہے کہ تم سے زیادہ کوئی مجھے چاہ نہیں سکتا تم سے زیادہ کوئی مجھ سے محبت نہیں کر سکتا

لیکن اسنے تو میری محبت کو بھی اس انداز سے دھتکارا تھا کہ میں تو اس سے شکوہ بھی نہ کر پائی،،،،،،،،

میں نے اسکے لئے چار سال برباد کئے ہیں اور ان چار سالوں میں ایک لمحے کے لئے بھی اس وقت کی عزیت کم نہیں ہوئی جب اسنے میری محبت کے اظہار کو اپنے قہقے میں اڑایا تھا….

بول بول کر اسکی حالت غیر ہو رہی تھی۔

بی بی جی گھر چلیں ملازمہ نے اسکی حالت بگڑتے دیکھا تو اٹھ کھڑی ہوئی ۔ ۔ ۔

نہیں یاسمین ابھی تو میں نے اپنے درد کا پہلا صفحہ ہی سنایا ہے….

ابھی تو میں میں نے اپنے زخموں کے بہتے لہو پر صرف نظر ثانی کی ہے۔ ۔ ۔ میں چاہتی ہوں کہ آج یا تو یہ زخم بھر جائے یا اس زخم کو اتنا کرید دوں کے کوئی مرہم اس زخم کو کبھی بھر نہ سکے ۔ ۔ ۔ ۔

بی بی جی آپ چلیں ملازمہ نے اسے اٹھاتے ہوئے کہا

تم بھی سمجھتی ہو کے مجھ پر کسی جن کا سایا ہے

مجھ پر جن کا نہیں عشق کا سایہ ہے

کوئی تعویذ اگر اسے اتار سکے تو پہنا دو مجھے

اسنے ایک قدم آگے بڑھایا لیکن قدموں کے ساتھ نہ دیا اور لڑکھڑا کر گر پڑی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*

“کوئی ایسا ورد بتا مجھ کو جو بدل دے لکیر ہاتھوں کی…..

کوئی ایسا جادو ٹونا کر وہ حد کرے دیوانگی کی….

کچھ ایسا اُلٹ ستاروں کو وہ عشق میں میرے پاگل ہو….

ایک زائچہ کھنچ محبت کا جو جلا دے دیپ چراغوں کی ……..

کوئی ایسا دھاگا دے مجھ کو وہ بات کرے میری باتوں کی…….

کوئی ایسا جَنتر مَنتر کر وہ بخت میں میرے لکھ جائے……..

کوئی ایسا تعویذ پھنا مجھ کو میں عشق کہوں اُسے ہو جائے……..”