Izhar-e-Muhabat by Anooshe NovelR50417 Izhar-e-Muhabat Episode 7
Rate this Novel
Izhar-e-Muhabat Episode 7
Izhar-e-Muhabat by Anooshe
شافع نے گاڑی زایان کے گھر کے باہر روکی تو وہ گاڑی سے نکل کر اندھا دھن گھر کے اندر بھاگا تہمینہ بیگم بھی گاڑی سے نکل کر اس کے پیچھے ہولی تھیں دروازے کے پاس ہی اسے ملازم مل گیا ،،،،،
شافع صاحب اچھا ہوا آپ آگئے اندر چلیں زایان صاحب کی طبیعت خراب ہو رہی ہے شافع بغیر کچھ سنے اندر کی طرف بھاگا تھا ۔ ۔ ۔
شافع نے بھاگتے ہوئے لاؤنج کا دروازا ایک جھٹکے سے کھولا ٹائلوں کی وجہ سے اسکے پاؤں چرچرائے تھے
جیسے ہی لاؤنج کا دروازا کھولا بند لائٹیں کھول گئی تھیں۔ ۔ ۔ ۔
کچھ پھٹنے کی آواز آئی شافع کے اوپر رنگ برنگی پلاسٹک کی چمکیلی پتیاں اور چمک گری تھی
دوسری طرف سے زایان اس کے اوپر سفید اسپرے کر رہا تھا ،،،،
سامنے ارفہ بیگم ، حیدر صاحب میراب اور زایان کھڑے ہیپی برتھ ڈے گا رہے تھے ………..
شافع کے بال ،منہ اور کپڑے سپرے سے بھر گئے
شافع نے منہ صاف کر کے سب کو باری باری دیکھا جب اسے سب سمجھ آیا تو زایان کی طرف مڑا سب ہنس رہے تھے اور شافع سپاٹ چہرے سے انھے دیکھتا گیا
زایان نے دانت نکال کر شافع کو دیکھا شافع نے آگے بڑھ کر الٹے ہاتھ کا گھوما کے زناٹے دار تھپڑ زایان کے منہ پر رسید کیا
تھپڑ کی گونج سن کر سب کو سانپ سونگھ گیا تھا…….
زایان کا ہاتھ اسکے گال پر تھا اسنے بے یقینی سے پہلے شافع کی طرف دیکھا، پھر سب کی طرف اور اچانک اسنے بچوں کی طرح دھاڑے مار مار کے چینخنا شروع کر دیا…..
“اسنے نے مجھے تھپڑ مارا”
شافع نے اسکے دوسرے گال پر بھی تھپڑ مارا بند کرو اپنا یہ ناٹک…..
زایان گال سہلاتے ہوئے فوراً نارمل ہوتے ہوئے بولا اچھا ٹھیک ہے یار نہیں کرتا ناٹک اب کتنے تھپڑ مارو گے،،،،،
شافع نے زایان کا کالر کھینچ کر اسے گلے سے لگایا
سب کی رکی ہوئی سانس بھال ہوئی۔ ۔ ۔
ذلیل انسان آگر آئندہ ایسا مزاق کیا نہ تو میں خود تمھے ہرٹ اٹیک دلواؤں گا شافع نے الگ ہوتے ہوئے کہا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اور آپ سب بھی اس کے ساتھ مل گئے وہ سب کی طرف مڑا ماما آپ بھی؟ تہمینہ بیگم نے آگے آتے ہوئے کہا ہم نے سوچا ویسے نہ سہی تو ایسے ہی سہی………
لیکن یہ آئیڈیا اس میراب کی بچی کا تھا میں نے تو منا بھی کیا کہ شافع غصہ کرے گا لیکن اس نے بولا نہیں یہی آئیڈیا کام کرے گا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
زایان نے محارت سے جھوٹ بولا،،،،،،
شافع نے میراب کو گھورا …..
ہوووو بھائی کتنا جھوٹ بول رہے ہیں آپ ،،،،
شافع بھائی آپ انکا یقین مت کرئیے گا یہ جھوٹ بول رہے ہیں میں نے صرف آئیڈیا دیا تھا باقی ساری پلیننگ انکی ہی تھی ،،،،،
اچھا چلو بھئی یہ سب چھوڑو اب کیک کاٹ لو حیدر صاحب نے شافع کے کندھے کے گرد بازو پھیلاتے ہوئے کہا….
ہاں ہاں بلکل چلیں رزق کو زیادہ دیر انتظار نہیں کرواتے زایان نے اپنا ندیدہ پن قائم رکھتے ہوئے کہا،،،،،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*
آئےنور الماری کھول کر اس میں سے کچھ سامان نکال رہی تھی جب ارمینہ بیگم کمرے میں داخل ہوئیں
ارے لڑکی یہ اتنا سامان نکال کر بیڈ پر کیوں پھیلایا ہوا ہے ؟ انھوں نے بیڈ کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
ماما دیکھیں نہ میرا وہ براؤن والا بیگ مل ہی نہیں رہا ہے کب سے ڈھونڈ رہی ہوں آئےنور نے الماری سے دو تین چیزیں اور باہر پھینکتے ہوئے کہا
یا میرے اللہ…….!
پاگل لڑکی وہ بیگ یہاں نہیں ہے وہ بیگ کبڈ میں ہے تم نے ہی رکھنے بولا تھا ارمینہ بیگم کبڈ کی طرف بڑھیں اور بیگ نکال کر باہر رکھا
اوووففف…..!
میں نے پوری الماری خالی کر دی مجھے یاد ہی نہیں تھا کہ یہ یہاں رکھا ہے نور نے سر تھامتے ہوئے کہا ،،،،
یہ آپ امّیوں میں کونسی بیٹری فٹ ہوتی ہے کہ ہر بات یاد رہتی ہے ہر کام پرفیکٹ کر لیتی ہیں ؟
جب تم ماں بنوں گی نہ تب تمھیں پتا چل جائے گا ،،،،
ماما،،،،،، نور نے جھینپتے ہوئے کہا ….
اچھا اب یہ جو الماری کا سارا سامان تم نے نکال کر پھیلایا ہے وہ سمیٹے گا کون ؟
ابھی رکھ دوں گی ماما آئے نور نے وہیں سامان کے بیچ میں جگا بنا کر لیٹتے ہوئے کہا،،،
ہاں مجھے پتا ہے ابھی رکھ دوں گی، ابھی رکھ دوں گی، کر کے پھر مجھے ہی رکھنا پڑے گا.
ماما آپ اتنی جلدی کیوں مچاتی ہیں رکھ دوں گی نہ نور نے سُستاتے ہوئے کہا۔ ۔ ۔ ۔
ارمینہ بیگم سامان رکھنا شروع ہوگئیں تھی میں جلدی نہیں مچاتی تم سُست ہو لڑکی…
تعریف کے لئے بہت شکریہ ،، نور نے مسکراتے ہوئے کہا …
تیاری ہوگئ تمھاری کل کی ؟؟؟؟
جی ماما سب ہوگئی بس پارلر کا اپاؤنٹمنٹ لینا باقی ہے آئےنور نے شرارت سے کہا
ارمینہ بیگم نے اسے گھور کر کہا ہاں تمھے کل یونی تھوڑی ولیمے میں جانا ہے نا؟
آئےنور فوراً بولی ماما مزاق……!
آئےنور تم اکیلے کیسے جاؤ گی مجھے فکر ہورہی ہے…..
انسان کو کبھی نہ کبھی تو اکیلے نکلنا پڑتا ہی ہے نہ ماما اور آپ فکر مت کریں منہا بھی تو میرے ساتھ ہوگی
ہاں وہ تو ٹھیک ہے لیکن پھر بھی …..
ماما بابا خوش تو ہیں نا؟ نور نے بیٹھتے ہوئے پوچھا….
ارمینہ بیگم اسکے پاس آکر بیٹھ گئیں پھر سوچتے ہوئے بولیں…..
پتا نہیں…..
مطلب خوش نہیں ہیں صرف میرا دل رکھنے کے لئے مسکرائے تھے …
تمھے لگتا ہے کہ وہ تمھارا دل رکھنے کے لئے مسکرا بھی سکتے ہیں؟ ارمینہ بیگم نے زخمی مسکراہٹ سے کہا….
راضی وہ اپنی مرضی سے ہوئے ہیں ….
اور تم فکر مت کرو وہ اگر خوش نہیں ہیں تو ناراض بھی نہیں ہیں ارمینہ بیگم نے نور کا گال تھپ تھپاتے ہوئے کہا….
ماما کیا ہمیں کبھی مکمل خوشیاں نہیں مل سکتیں؟ کیا کبھی زندگی میں ایسا نہیں ہو سکتا کے ہر چیز مکمل مل جائے …
نہیں بیٹا “زندگی تو مکمل خوشیاں ہی دیتی ہے یہ تو انسان ہی ہوتے ہیں جو خوشیوں کو مکمل یہ ادھورا بناتے ہیں. جو خوشیوں میں غم اور غم میں خوشی کو ڈھونڈ لیتے ہیں بس فرق یہ ہے کہ خوشیوں میں غم زرا آسانی سے ڈھونڈ لیتے ہیں اور غم میں خوشیاں زرا مشکل سے ہی ملتی ہیں یہ تو انسان پر بات ہے کہ وہ خوشی میں کس طرح خوش ہوتا ہے اور غم میں کس طرح صبر کرتا ہے”
نہیں ماما مجھے لگتا ہے “انسان کو کبھی بھی مکمل خوشی نہیں ملتی خوشیوں کے قلیل لمحوں میں بھی نہ ڈھونڈنے کے باوجود غم کا ننھا سا حصہ کہیں نہ کہیں سے مل ہی جاتا ہے
لیکن غم کے طویل لمحوں میں خوشیاں لاکھ ڈھونڈنے کے باوجود بھی نہیں ملتیں خوشیوں کا اثر کچھ لمحوں بعد ختم ہو جاتا ہے وہ احساس دوبارہ نہیں ہوتا…..
لیکن غم کا ایک لمحہ بھی ساری زندگی آپ کی سوچوں پر رقص کرتا ہے اور وہ ایک لمحہ آپ کی ہزار خوشیوں پر حاوی ہوتا ہے “
ارمینہ بیگم نے آئےنور کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو اسکی سوچ کا تسلسل ٹوٹا….
میری بیٹی کو اتنی بڑی بڑی باتیں بھی کرنی آگئی ؟
آئےنور نے انکی گود میں سر رکھتے ہوئے کہا نہیں ماما “باتیں بڑی نہیں ہیں احساس بڑے ہیں”
“بچپن کی محرومیاں چھپن تک یاد رہتی ہیں” ،،،،، خاص کر اگر وہ محرومی باپ کی والہانہ محبت اور شفقت کی ہو ….
آئے نور کی آنکھیں جھلک گئیں تھیں….. ارمینہ بیگم نے بھی اپنے آنسوؤں کو دوپٹے سے روک دیا تھا
چلو یہ سب چھوڑو تمھے صبح جانا ہے کل پہلا دن ہے سو جاؤ شاباش،،،،
انھوں نے آئےنور کا سر تکیے پر رکھتے ہوئے محبت سے اسکے سر پر ہاتھ پھیرا تھا .……
آئےنور مسکرائی ……
ارمینہ بیگم آئےنور کے سر پر پیار کر کے جانے کے لئے موڑیں نور نے انکا ہاتھ پکڑ لیا ….
“آپ کی یہ محبت آج تک میری ہر محرومی کو پورا کرتی آئی ہے ماما”
ارمینہ بیگم نے اس کے گال پر پیار کرتے ہوئے کہا
” اور ہمیشہ کرتی رہیں گی”….
مسکراتے ہوئے کہہ کر وہ باہر جانے کے لئے مڑ گئیں تھیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*
کھانا کھانے کے بعد سب لاؤنج میں بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف تھے تہمینہ بیگم ڈرائیور کے ساتھ واپس جا چکیں تھیں لیکن شافع وہیں موجود تھا،،،
شافع یہ نالائق تمھارے ساتھ بزنس کی کچھ تیاری بھی کر رہا ہے یہ سارا کام تم ہی سمبھال رہے ہو؟ حیدر صاحب نے شافع سے پوچھا…
نہیں انکل ایسا نہیں ہے بزنس اسٹارٹ ہوگا تو یہ خود ہی سیریس ہو جائے گا میں جانتا ہوں اسے….
کیا بابا کیوں میرے بھائی کو بھڑکا رہے ہیں میرے بدلے کا کام کر لے گا تو کیا ہوا زایان نے حیدر صاحب کے برابر میں بیٹھتے ہوئے کہا….
ہاں ہاں یہ دونوں گرل فرینڈ بوئے فرینڈ مل جل کر کوئی نہ کوئی بزنس کر ہی لیں گے….
میراب نے لاؤنج کے سامنے بنے اوپن کچن سے کہا
بابا آپ اس چھپکلی کو سمجھا لیں ورنہ میں نے بچا ہوا کیک اس کے منہ پر مل دینا ہے…..
خبردار زایان جو میری بیٹی کو کچھ کہا حیدر صاحب بولے ،،،
میراب نے کچن سے زایان کو منہ چڑھایا،،
آپ صرف اسے کیوں ڈانٹ رہے ہیں میراب کو بھی ڈانٹئے نہ وہ بھی تو اسے تنگ کر رہی ہے ارفہ بیگم نے زایان کا دفعہ کیا….
زایان اٹھ کر کر انکے پاس آکر بیٹھ گیا دیکھا میری ماما صحیح کہہ رہی ہیں آپ اپنی لاڈلی کو بھی ڈانٹیں ،،،،
میراب آکر حیدر صاحب کا ہاتھ پکڑ کر بیٹھ گئی تھی بابا مجھے کبھی نہیں ڈانٹتے کیونکہ میں انکی بہت پیاری بیٹی ہوں….
ایسا کچھ نہیں ہے میں نے تمھے پہلے بھی بتایا تھا کہ ہم تمھے کچرے سے اٹھا کر لائے تھے اسلئے بابا تمھے زیادہ پیار کرتے ہیں تاکہ تمھیں احساس نہ ہو ،،،
میراب نے کشن اٹھا کر زایان کو مارا بابا دیکھیں نہ بھائی پھر وہی بول رہے ہیں….
حیدر صاحب نے میراب کو سینے سے لگاتے ہوئے کہا تھا زایان میری بیٹی کو تنگ مت کرو….
شافع چپ چاپ بیٹھا اس خوبصورت فیملی کی میٹھی سی نوک جھونک کو بڑے رشک سے دیکھ رہا تھا
اسے اپنے گھر میں اسطرح کا ماحول کبھی نہیں ملا تھا آپس میں محبت کیا ہوتی ہے ، ایک دوسرے کی پرواہ کیسے کرتے ہیں یہ اسے زایان کے گھر میں آکر پتا چلا تھا،
وہ جب بھی زایان کی فیملی کو دیکھتا تو صرف ایک بات اسکے ذہن میں آتی تھی،،،،
“پرفیکٹ فیملی”
زایان نے شافع کو سوچوں میں کھویا ہوا دیکھا تو کشن کھینچ کر مارا
اوئے کہاں کھوئے ہوئے ہو دوسرا پاکستان بنا رہے ہو کیا؟
شافع نے نفی میں سر ہلایا کہیں نہیں،،،
ارفہ بیگم نے اٹھتے ہوئے کہا میں کافی بنا لاتی ہوں مجھے پتا ہے شافع کافی بہت پیتا ہے اسے کھانے کے بعد طلب ہو رہی ہوگی ،،،
وہ کچن کی طرف جارہیں تھیں جب شافع نے انھے روکا نہیں آنٹی کافی نہیں چائے بنادئیں آپ چائے زیادہ اچھی بناتی ہیں
ارفہ بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا ٹھیک ہے بیٹا چائے بنا دیتی ہوں ،،،،،
زایان جو کافی دیر سے اطمینان سے بیٹھا تھا اب اسکی شیطانی روح کچھ گڑبڑ کرنے کے لئے مچل رہی تھی….
اور پھر کچن میں ایک پلیٹ دیکھ کر اسکی آنکھیں شرارت سے چمکی تھیں اور اپنی روح کو تسکین پہنچانے کے لئے وہ کچن کی طرف گیا…
کچھ دیر پہلے کھائے ہوئے کیک کی بچی ہوئی کریم میراب نے پھینکنے کے لئے ایک پلیٹ میں کر دی تھی
زایان اس پلیٹ کی طرف گیا ارفہ بیگم کی پشت اسکی طرف تھی اس لئے وہ اسے دیکھ نہ سکیں اسنے چپکے سے پلیٹ اٹھائی اور باہر آگیا….
حیدر صاحب ، شافع اور میراب بھی باتوں میں مصروف تھے تو اس پر کسی کی نظر نہیں پڑی
زایان پلیٹ ہاتھ سے پیچھے چھپائے شافع کے پیچھے آکر کھڑا ہو گیا
شافع….. یار میرا بڑا دل تھا کہ آج کل لوگ جس طرح برتھ بوائے کا منہ کیک میں دبا دیتے ہیں میں بھی ویسے ہی کروں….
لیکن یار تمھے تو پتا ہے رزق کی بربادی کرنا مجھے بلکل نہیں پسند اسلئے یہ
“بچی ہوئی کریم تمھارا نصیب بنی ہے”
اسنے آخری الفاظ چینخھتے ہوئے کہے اور کریم سے بھری ہوئی پلیٹ شافع کے منہ سے چپکا دی
شافع کا پورا منہ کریم سے بھر گیا تھا بالوں اور شرٹ پر بھی کریم لگ گئی تھی زایان پیچھے کھڑا ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہا تھا
حیدر صاحب بھی قہقے لگارہے تھے میراب موبائل لے کر کھڑی ویڈیو بنانا شروع ہوگئ تھی ارفہ بیگم نے کچن سے شافع کا چہرہ دیکھا تو ہنسی کو قابو نہ رکھ سکیں ……
شافع نے دونوں ہاتھ چہرے پر پھیر کر کریم صاف کری لیکن پھینکی نہیں زایان جو پیچھے کھڑا لوٹ پوٹ ہو رہا تھا
شافع نے صوفے پر کھڑے ہوکر زایان کو گردن سے پکڑا اور دوسرے ہاتھ سے کریم اسکے چہرے پر مل دی حیدر صاحب نے شافع کو آواز لگائی
شافع اسے پکڑ کر رکھو میں کیک لے کر آیا
حیدر صاحب کیک لینے فرج کی طرف دوڑے شافع نے گرفت مضبوط کری اور صوفے کے پیچھے زایان کی طرف کودا اور زایان کو زمین پر لٹا دیا ….
میراب قریب آکر ویڈیو بنانے لگی ….
شافع نے زایان کے دونوں ہاتھ اتنی مضبوطی سے پکڑ رکھے تھے کے زایان منہ پر ہاتھ نہیں لے جاسکا
اتنے میں حیدر صاحب کیک لے کر آئے زایان نے آنکھیں پھاڑ کر نفی میں سر ہلایا
شافع نے گنتی گنی
ایک،،،،
دو،،،،
تین…………
حیدر صاحب نے دھپ کر کے بچا ہوا کیک زایان کے منہ پر انڈیل دیا میراب اور ارفہ بیگم کا ہنس ہنس کر برا حال ہورہا تھا
شافع نے ہاتھ سے پورا کیک زایان کے منہ اور بالوں پر پھیلا دیا
زایان بیچارے سے کچھ بولا بھی نہیں گیا
میراب نے شافع بھائی کیچ کہتے ہوئے اسپرے شافع کی طرف اچھالا
شافع نے اپنی ٹانگ زایان کے اوپر رکھی ہوئی تھی جیسے وہ قربانی کا بکرا ہو ،،،
اب زایان پر اسنو اسپرے کی بارش ہو رہی تھی ،،،حیدر صاحب بھی وہیں بیٹھے شافع کا خوب ساتھ نبھا رہے تھے…..
جب اسپرے خالی ہوا اور شافع کو کچھ ٹھنڈ پڑی تو اسنے اپنی ٹانگ زایان پر سے ہٹائی،،،،
زایان فوراً اٹھ کر بیٹھا چہرے پر سے کریم صاف کر کے لمبی لمبی سانسیں لے رہا تھا ،،،،،،
اللہ معاف کرے قصائی ہو کیا ؟
مجھ معصوم کو قربانی کا بکرہ سمجھ لیا تھا کیا؟؟؟ سانس بند ہونے والی تھی میری…….
اور بابا آپ بھی؟
اب ہم دونوں اس حلیے میں اور آپ اتنے ہینڈسم بنے ہوئے اچھے نہیں لگ رہے
زایان نے شیطانی نظروں سے شافع کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
کیوں شافع….
حیدر صاحب کو جب خطرے کی گھنٹی لگی تو کھڑے ہونے ہی لگے
کہ زایان اور شافع دونوں انکے گلے پڑ گئے اور دونوں نے اپنے گال کی کریم رگڑ رگڑ کے انکے گال پر لگا دی ….
ارفہ بیگم نے ہنستے ہوئے کہا اب بس بھی کرو کتنا گند مچا دیا تم لوگوں نے اپنا حال دیکھو کیا کر لیا…
حیدر صاحب بیچارے خود کو دھائی دیتے رہے
کتنا ہینڈسم لگ رہا تھا میں لیکن تم لوگوں سے برداشت نہیں ہوا اور میرا حلیہ بھی بگاڑ دیا
حیدر صاحب نے اٹھتے ہوئے کہا….
کچھ لوگوں کو بڑی خوش فہمی ہے کہ وہ اس عمر میں بھی ہینڈسم لگتے ہیں ارفہ بیگم انھے ٹیشو دیتے ہوئے شرارت سے بولیں،،،،،
تو آپ کو کیا لگتا ہے میں اب ہینڈسم نہیں ہوں؟؟؟
جی بلکل ایسا ہی ہے اب آپ صرف بڈھے ہیں ہینڈسم نہیں….
میراب فوراً بولی….
ماما ایسے مت بولیں بابا کو میرے بابا سے زیادہ ہینڈسم اس دنیا میں کوئی نہیں ہے……
اوہو اب پھر سے لوگ مکھن لگانا شروع ہوگئے زایان نے آنکھیں گھوماتے ہوئے کہا……
میراب نے اسے گھورا ….
میراب یہ جو موبائل ہاتھ میں لئے کھڑی ہو اس میں کچھ ریکارڈ بھی کرا یہ ایسی مزے لے رہیں تھی شافع نے پوچھا….
میراب فوراً چھکتی ہوئی اسکے پاس آئی،،،،
ارے شافع بھائی میں نے سب کچھ ریکارڈ کرا ہے….
یہ دیکھیں میراب شافع کو ویڈیو دکھانے لگی تھی اور زایان شافع کے کندھے سے اچک اچک کر دیکھ رہا تھا…..
شافع زایان تم لوگ زرا اپنا حلیہ سہی کر کے آؤ میں چائے لارہی ہوں …..
حیدر صاحب آپ بھی جاکر کپڑے چینج کر لیں سارے کپڑے خراب ہو گئے…….
ماما آپ ہماری چائے کمرے میں ہی بھیجوا دئیے گا زایان نے شافع کے ساتھ کمرے کی طرف جاتے ہوئے کہا……
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*
تہمینہ بیگم گھر پہنچیں تو تیمور صاحب کو لاؤنج میں غصے اور بےچینی سے ٹہلتے ہوئے پایا…….
تیمور صاحب کی جیسے ہی ان پر نظر پڑی تو فوراً دھاڑے یہ رات کے اس وقت کہاں آوارہ گردیاں کرنے نکلی ہوئی ہو تم …..؟
انکی گرجتی ہوئی آواز سن کر وہ سہم
گئیں اس وقت شافع بھی نہیں تھا جو انکا دفاع کرتا…..
اب کچھ بولو گی بھی یہ یوں ہی کھڑی میری شکل دیکھتی رہو گی کہاں سے آرہی ہو اس وقت کس سے ملنے گئیں تھیں؟
تیمور صاحب کی بات سن کر تہمینہ بیگم کے دل پر ایک چابک لگا تھا لیکن وہ ان لفظوں اور رویوں کی عادی تھیں…
کیسی باتیں کر رہے ہیں آپ میں کس سے ملنے جاؤں گی،،،
شافع کی سالگرہ تھی اور زایان نے اسکے لئے سرپرائس پلین کیا تھا اس لئے میں اسکے ساتھ زایان کے گھر گئی تہمینہ بیگم نے دھیرے اور سہمے ہوئے لہجے میں کہا……
اچھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تو سالگرہ منائی جارہی ہیں تیمور صاحب نے اچھا کو کھینچتے ہوئے کہا …..
اگر میں اسکے لئے کوئی پارٹی رکھ دوں تو وہ کس طرح مجھے میرے جاننے والوں میں ذلیل و رسوا کرتا ہے اور اب دوستوں کے ساتھ برتھ ڈے منائی جارہی ہے واہ……
تیمور صاحب کی آواز لگاتار بلند تھی آہستہ یا نرمی سے بولنا تو انھوں نے سیکھا ہی نہیں تھا…..
ایسا نہیں ہے تیمور صاحب اسے تو پتا بھی نہیں تھا وہ تو زایان اور اسکے گھر والوں نے سب کچھ کیا تھا اسے تو بہانے سے بلایا تھا ورنہ وہ کبھی نہیں جاتا……
جو بھی ہو وہ گیا تو ہے نا بیر تو اسے صرف مجھ سے ہے ،،، مجھے ہی ہر جگہ ذلیل کرنے کا ٹھیکا اٹھا رکھا ہے اسنے….
آپ بہت اچھے سے جانتے ہیں کہ اسے آپ سے بیر کیوں ہے تہمینہ بیگم نے ڈرتے ہوئے کہا…..
تم حد سے بڑھ رہی ہو تہمینہ تیمور صاحب دھاڑتے ہوئے آگے آئے تھا
تہمینہ بیگم سہم کر دو قدم پیچھے ہوئیں،،،،،
اگر شافع تمھارا دفاع کر لیتا ہے یا تمھاری عزت کر لیتا ہے تو یہ ہرگز مت سمجھنا کہ وہ تمھارا ہو گیا وہ میرا خون ہے میرا “تیمور علی وارثی” کا انھوں نے سینے پر انگلی ٹھوکتے ہوئے کہا……
اور آئندہ یہ بات اپنی زبان پر مت لانا ورنہ میں کیا کر سکتا ہوں اسکا تمھے بہت اچھے سے اندازہ ہے، تیمور وارثی تیزی سے مڑے اور اوپر کمرے کی طرف چلے گئے،،،،
تہمینہ بیگم بے چاری وہیں کھڑی آنسوں بہاتی رہیں…
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*
شافع اور زایان کمرے کا دروازا کھول کر اندر داخل ہوئے….
کمرے کا منظر کچھ یوں تھا کہ وہ کمرہ کم اور تصویروں کی دکان زیادہ لگ رہی تھی بیڈ کی پیچھے والی دیوار تقریباً آدھی سے زیادہ تصویروں سے بھری ہوئی تھی….
کچھ گھر والوں کی تصویریں کچھ شافع اور زایان کی اور کچھ زایان اور میراب کے بچپن کی،،،،،،
ایک تصویر میں وہ میراب کے بال نوچ رہا تھا ….
تو ایک تصویر میں وہ شافع کے کندھے پر چڑھا ہوا تھا ،،،
ایک تصویر میں شافع نے اسکی گردن دبوچی ہوئی تھی اور۔۔۔۔۔۔
ایک تصویر میں شافع گٹار لئے سٹیج پر کھڑا تھا اور زایان اسکے پیچھے وکٹری کا نشان بنائے کھڑا تھا ……
شاید وہ کسی کنسرٹ کی تصویر تھی ایسی انگنت خوبصورت تصویریں وہاں موجود تھیں جس میں خوبصورت لمحے قید تھے جو اسکی زندگی کا اہم جز تھے …..
کمرہ کافی بڑا تھا ڈریسنگ پر کچھ شوپیز رکھے تھے جو کھانے کی شکل میں بنے ہوئے تھے ایک بوکس تھا جو برگر کی شکل میں بنا ہوا تھا دیورا پر ایک پینٹنگ لگی تھی جس میں تھریڈی آرٹ سے پھل بنائے گئے تھے جو دور سے دیکھنے میں اصلی معلوم ہوتے تھے…..
اسنے ہر چیز میں اپنے لئے کھانا ڈھونڈا ہوا تھا….
شافع اور زایان دروازے کے پاس کھڑے تھے آگے نہیں بڑے تھے…..
دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا
تو بتاؤ میرے جگر تیار؟ زایان نے شافع کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا،،،
شافع نے فاتحانہ نظروں سے کہا تیار….
ان دونوں کی بچپن کی ایک عادت تھی….
شافع جب بھی زایان کے گھر آتا تو ان دونوں کی دروازے سے لے کر بیڈ تک کی ریس ہوتی۔ ۔ ۔ ۔
زایان کا کمرہ کافی حد تک بڑا تھا بیڈ دروازے سے کچھ فاصلے پر تھا….
بچپن کے وہ دس قدم کی ریس اب انکے تین قدم کے جتنی تھی لیکن وہ بچپن کی ایک شرارت آج بھی قائم تھی…..
شافع اور زایان دونوں سیدھے ہوئے
شافع نے ایک، دو، تین کہا اور دونوں نے دوڑ لگائی….
وہ چار سکینڈ کی ریس بیڈ پر کودنے پر تمام ہوتی تھی شافع اور زایان دونوں ایک ساتھ اچھلے اور ڈھڑ کر کے بیڈ پر ڈھیر ہوئے …..
ان کے گرنے کے ساتھ ہی کمرے میں کچھ بہت زور سے ٹوٹنے کی آواز بھی گونجی تھی….
شافع اور زایان دونوں بیڈ کے بیچ میں دھنسے پڑے تھے اور بیڈ کا تو “اننا للاہ” ہوگیا تھا…..
ان دونوں کو کچھ سیکنڈ سمجھنے میں لگے کے یہ بیڈ ٹوٹنے کی آواز آئی تھی یا،،،ان میں سے کسی کی ہڈی ٹوٹنے کی….
کیونکہ دونوں کی کمر میں جھٹکے سے گرنے کی وجہ سے شدید درد اٹھا تھا……
دونوں نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن نتیجا صفر نکلا جیسے ہی اٹھنے کی کوشش کرتے اور اندر دھنسنے لگتے شافع کچھ جدوجہد کر کے اٹھا اور کمر سیدھی کرنے لگا ……
ارے اب مجھے بھی نکالو یار میں کیا یہیں پڑا رہوں گا….. زایان نے ہاتھ آگے کرتے ہوئے بولا۔ ۔ ۔ ۔ ۔
تمھے اٹھانے کے لئے بلڈوزر منگوانا پڑے گا بھکڑ…..
شافع نے زایان کو باہر نکالنے کے لئے ہاتھ بڑھایا تو زایان نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اٹھنے کے بجائے اسے واپس گرا دیا…..
کیا بول رہے تھے مجھے اٹھانے کے لئے بلڈوزر منگوانا پڑے گا مطلب کے تم یہ بولنا چاہتے ہو کے میں موٹا ہوں؟
زایان نے شافع کے منہ پر تکیہ رکھ کر اسکا منہ دبا دیا…..
ارے میں یہ نہیں بول رہا تھا….. شافع نے چینختے ہوئے کہا…..
کیونکہ زایان نے تکیے پر اور زور دیا تھا….
زایان تکیہ ہٹا میرا دم گھٹ رہا ہے مر جاؤں گا…..
ہاں تو کوئی بات نہیں ہم مارکیٹ سے دوسرا شافع لیائیں گے…. زایان نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا…..
شافع نے پورا زور لگا کر منہ پر سے تکیہ ہٹایا اور بیڈ کے کونے سے پیر اٹکا کر باہر نکلنے کی کوشش کی تو وہ بیڈ کے باہر گر گیا ……
شافع نے باہر نکل کر لمبی لمبی سانسیں لیں اتنی مشکل سے نکلا تھا تم نے پھر گرا دیا اب دیکھو میں کیا کرتا ہوں….
شافع اٹھا اور صوفے کے سارے بھاری کشن اٹھا کر زایان کو کھینچ کھینچ کر مارے…
زایان اٹھنے ہی لگا تھا کہ بھاری کشن کی وجہ سے پھر اندر دھنس گیا،،،،،،
اچھا معاف کردے میرے بھائی مجھے باہر نکال دے… زایان نے شافع کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا ….
کان پکڑ کر سوری بول پہلے …
زایان نے کان پکڑ کر سوری بولا اب تو نکال دے میرے پیارے بھائی…
شافع نے زایان کا ہاتھ زور سے پکڑ کر کھینچا…….
زایان ایک جھٹکے سے باہر نکلا باہر نکل کر اپنی شرٹ سیدھی کری کریم ابھی بھی ان دونوں کے منہ اور بالوں پر لگی تھی….
زایان نے ایک نظر کمرے پر دوڑائی…..
پھر شافع کی طرف سپاٹ چہرے سے دیکھا شافع نے بھی ایک نظر کمرے پر دوڑائی اور بیڈ کی طرف نظر رک گئی دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور یک زبان بولے
“بیڈ ٹوٹ گیا”
جیسے انھے ہوش ہی ابھی آیا تھا….
زایان نے سر پر ہاتھ لے جاتے ہوئے کہا شافع یار یہ کیا کر دیا بیڈ توڑ دیا……
شافع آنکھیں پھاڑتا ہوا بولا میں نے توڑ دیا؟؟؟
سالے تو بھی تو کودا تھا ….
یار گھر والے کیا سوچیں گیں….
اور اگر میراب نے دیکھ لیا تو وہ تو بریکنگ نیوز بنا دے گی…..
شافع نے سوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا اس میں اتنا ڈرنے والی بات کیا ہے بیڈ ہی تو ٹوٹا ہے ….
تمھے آج کل لوگوں کے ذہن کا نہیں پتا میری جان……
شافع نے زایان کو گھورا
زایان نے فوراً ہاتھ اٹھاتے ہوئے کہا میں لوگوں کے ذہن کی بات کر رہا ہوں…..
میری تو ابھی تک شادی بھی نہیں ہوئی کوئی میرا رشتہ بھی نہیں لے کر آئے گا،،، …
شافع نے زایان کے سر پر تھپڑ مارتے ہوئے کہا ڈرامے بند کرو اپنے
زایان فوراً سیدھا ہوا اچھا اچھا میں تو مزاق کر رہا ہوں…..
اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی…..
بھائی دروازا کھولیں چائے لے لیں میراب باہر سے آوازیں لگا رہی تھی،،،،،
زایان گھبراتے ہوئے سوفے پر سے اٹھا دیکھ شافع کچھ بھی ہو جائے میراب کو نہیں پتا چلنا چاہیے کہ بیڈ ٹوٹ گیا ورنہ اسنے تو باتیں مار مار کے ہم دونوں کا حشر کردینا ہے …….
تو تو اس سے اتنے پنگے لیتا کیوں ہے کہ بعد میں وہ تجھ سے ایک ایک بات کا حساب لے شافع نے زایان کے سر پر مارتے ہوئے کہا…..
یہ سب ابھی چھوڑ یار اسے کسی طرح ابھی یہاں سے بھاگا……
شافع فوراً پیچھے ہوتے ہوئے بولا میں کیسے بھگاؤں تو بھگا ……
شافع تو تو ایسے ڈر رہا ہے جیسے باہر میراب نہیں کوئی ناگن ہو …..
اچھا تو ایسا کر تو جاکر اُسے جانے بول دے
شافع نے زایان کو دروازے کی طرف دھکّا دیا….
زایان سنبھلا یار میں نہیں جارہا وہ مجھے تو دھکا دے کر اندر آ جائے گی……
تو ایک کام کر بول میراب زایان واش روم گیا ہوا ہے بعد میں چائے دینے آنا ….
شافع نے پہلے کچھ سوچا پھر دروازے کی طرف آہستہ سے بڑھا…..
میراب مسلسل دروازا بجائے جا رہی تھی
شافع نے دروازا کھولے بغیر تیز آواز میں کہا…..
“میراب زایان واش روم میں ہے چائے بعد میں دے دینا،،،،،،
میراب نے غصے سے بولا…..
آپ لوگ کیا بہرے ہو گئے ہیں میں کب سے دروازا بجارہی ہوں اور زایان بھائی واش روم میں ہیں تو کیا ہوا چائے تو آپ بھی لے سکتے ہیں یا آپ مہندی لگا کر بیٹھے ہیں…….
شافع نے زایان کو گھورا زایان نے اپنے سر پر ہاتھ مارا ….
جلدی دروازا کھولیں ورنہ میں بابا کو بلاتی ہوں…..
زایان کی تو ہوائیاں اڑ گئیں بھاگتا ہوا گیا اور دروازا کھول کر منہ باہر نکالا ….
کیا ہوگیا ہے تمھے کیوں شور مچا رہی ہو؟
چائے دینے آئی تھی میں پھر چونک کر بولی آپ تو واش روم میں تھے نا …..
ہاں تو واش روم میں سونے تھوڑی گیا تھا…..
میراب نے مشکوک نظروں سے اسے گھورا آپ لوگ تو کب سے اوپر آئے ہوئے ہیں پھر آپ نے ابھی تک منہ کیوں نہیں دھویا یہ لوک ذیادہ پسند آگیا ہے کیا؟؟؟؟
تمھے اس سے کیا مطلب ہر چیز کی انویسٹیگیشن کرنا ضروری ہے کیا تمھے؟؟؟
زایان نے پورا دروازا نہیں کھولا تھا صرف گردن باہر نکالی ہوئی تھی….
یہ چائے مجھے پکڑاؤ اور جاؤ…..
میراب نے ٹرے پیچھے کر لی اور تفتیشی نظروں سے پوچھا شافع بھائی کہاں ہیں ؟؟؟؟
اور آپ یہ دروازا گھیرے کیوں کھڑے ہیں ……
زایان نے میراب کو گھورا اور دانت پیستے ہوئے بولا شافع اندر ہی ہے چائے دو اور جاؤ یہاں سے میری ماں بننے کی ضرورت نہیں ہے…..
میراب نے چائے کی ٹرے نیچے سائڈ پر رکھی اور دونوں ہاتھ کمر پر رکھتے ہوئے بولی دروازے پر سے ہٹیں مجھے اندر جانا ہے …..
زایان نے دروازے کو مضبوطی سے پکڑا ……
یہ میرا کمرہ ہے تمھارا نہیں تمھے اندر کیا کرنا ہے ……
میراب بھی دانت پیس کر بولی مجھے انویسٹیگیشن کرنی ہے کہ اندر کونسا گھوٹالا چل رہا ہے ہٹیں میرے سامنے سے …….
اپنی انویسٹیگیشن کہیں اور جاکر کرو میراب…..
اچھا تو آپ ایسے نہیں مانیں گے…
میراب نے زور سے دھکا دے کر زایان کو اندر پھینکا شافع نے زایان کو سنبھالا ورنہ وہ نیچے گرتا
زایان کو گرتے دیکھ کر شافع کی ہنسی نکل گئی تھی…..
میراب اندر داخل ہوئی اور اندر کا منظر دیکھ کر اسکا منہ کھل گیا اسنے نظریں شافع اور زایان کی طرف گھمائیں
یہ کیا حشر کیا ہے آپ لوگوں نے کمرے کا اور یہ بیڈ …….؟؟؟؟؟
اور اگلے لمحے میراب نے ارفہ بیگم اور حیدر صاحب کو آواز لگا دی تھی……
زایان نے میراب کے منہ پر ہاتھ رکھ کر اسکا منہ بند کیا چوڑیل چپ ہو جاؤ……..
اتنے میں ارفہ بیگم اور حیدر صاحب کمرے میں پہنچ گئے تھے……
کمرے کی حالت دیکھ کر ان دونوں کے بھی منہ کھل گئے تھے…..
یہ تم لوگوں نے کیا کیا ہے کمرے کا ایسا لگ رہا ہے دو کتے بلیوں کی لڑائی ہوئی ہے اس کمرے میں…..
اور یہ بیڈ ؟؟؟؟
کیا W.W.E کا میچ رکھا گیا تھا یہاں؟؟؟؟؟
حیدر صاحب نے زایان کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا…..
ارفہ بیگم بیڈ شیٹ اور کشن کو دیکھ کر صدمے سے بولیں
زایان یہ نئی بیڈ شیٹ اور کشن تھے تم لوگوں نے کیا حشر کیا ہے اسکا آخر کونسی عالمی جنگ ہوئی ہے اس کمرے میں…..
ماما وہ ہم دونوں ریس لگا رہے تھے……
زایان نے زمین کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
شافع چپ چاپ کھڑا تھا …..
ارفہ بیگم اور حیدر صاحب نے اچنبھے سے پوچھا ریس؟؟؟
ہاں ہم بچپن میں دروازے سے لیکر بیڈ تک کی ریس لگاتے تھے نا تو بس وہی لگا رہے تھے لیکن بس آج بیڈ نے ساتھ نہیں دیا شاید ہمارا بوج اٹھا اٹھا کر تھک گیا ہے …..
ارفہ بیگم نے حیدر صاحب کی طرف دیکھا اور دونوں کی ایک ساتھ ہنسی چھوٹی تھی میراب بھی قہقے لگانے میں مصروف تھی……
انکا ہنستا ہوا دیکھ کر شافع اور زایان کی جان میں جان آئی تھی…..
تم دونوں ابھی بھی بچّے ہو کیا جو آج بھی یہ دروازے سے بیڈ تک کی ریس لگاتے ہو حیدر صاحب نے ہنستے ہوئے پوچھا….
بابا میں تو بچّا ہی ہوں ہیں نہ ماما؟؟؟
ہاں تم حرکتوں سے تو ابھی تک بچّے ہی ہو بس کام تم ناک میں دم کر دینے والے کرتے ہو……
حیدر صاحب زایان کے بازو پر ہاتھ رکھ کر بولے زرا تم دونوں اپنی جسامت دیکھو تم دونوں کی اس باڈی بلڈنگ کے آگے یہ بیچارا نازک سا بیڈ کہاں رہ پاتا……
اسلئے تم دونوں کے کودنے سے بیچارے کی پسلی ٹوٹی اور وفات پا گیا……
کمرے میں سب کا قہقہہ گونجا تھا،،،،،
لیکن جو بھی اب یہ کمرہ میں تو بلکل نہیں سمیٹوں گی تم دونوں ہی یہ سارا کمرا صاف کرو گے…..,
میراب نے تالی بجاتے ہوئے کہا واہ ماما یہ سہی کیا آپ نے زرا ان لَو برڈز کو بھی تو پتا چلے کہ کمرہ پھیلانا کتنا آسان ہے اور سمیٹنا کتنا مشکل …..
زایان نے میراب کو کھا جانے والی نظروں سے گھورا ……
اور زایان اب تم زمین پر ہی سو گے پھر تم دونوں جتنی چاہے ریس لگانے کیونکہ پھر زمین نہیں تم دونوں کی ہڈیاں ٹوٹیں گی حیدر صاحب کی بات پر کمرے میں ایک زور دار قہقہہ بلند ہوا تھا…..
