Izhar-e-Muhabat by Anooshe NovelR50417

Izhar-e-Muhabat by Anooshe NovelR50417 Izhar-e-Muhabat Episode 15

219.9K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Izhar-e-Muhabat Episode 15

Izhar-e-Muhabat by Anooshe

یونیورسٹی میں ہر طرف کنسرٹ کی تیاریاں ہونے لگیں بزنس ڈپارٹمنٹ والوں کے امتحان ہونے والے تھے لیکن وہ بھی سب بھول کر اسی میں لگے ہوئے تھے جن میں سے ایک زایان حیدر بھی تھا…..

یار شافع تم کیوں اتنا وبال کر رہے ہو جائے گا سب امتحان تو آنے جانے والی چیز ہیں….

زایان یہ ہمارا آخری سیمسٹر ہے اور آخری امتحان بھی….

زایان بھی منہ بنا کر بولا ہاں تو یونی میں بھی ہمارا یہ آخری کنسرٹ ہے پھر تو زندگی بھر ہم نے لوگوں سے کولیبریشن کرنی ہے کنسرٹ نہیں….

شافع زایان کو گھورتے ہوئے بولا تمھے امتحانوں کی ذرا سی بھی فکر نہیں ہے ؟؟؟

زایان فخر سے دائیں بائیں گردن ہلا کر بولا بلکل بھی نہیں تم جو ہو فکر کرنے کے لئے…..

شافع آنکھیں چڑھا کر بولا میں تمھے ایک الفاظ نہیں دیکھاؤں گا….

زایان شافع کے گلے میں ہاتھ ڈال کر بولا میری جان وہ تو وقت بتائے گا…. ویسے یار ایک بات تو بتاؤ……؟

کیا؟؟؟؟

تمھے نور کیسی لگی؟؟؟

شافع نے اسکا ہاتھ کندھے سے ہٹا کر اسکی طرف آنکھیں پھاڑ کر دیکھا..

کیا مطلب کیسی لگی؟؟

زایان نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا ایسی پوچھ رہا ہوں مطلب اچھی لگتی ہے بری لگتی ہے؟؟

شافع خلا میں دیکھ کر دانت پیستے ہوئے بولا

“زہر لگتی ہے”

زایان کا قہقہہ بلند ہوا تھا اگر ابھی آئےنور سامنے کھڑی ہوتی تو کہتی اگر اتنی ہی زہر لگتی ہوں تو کھا کر مرجاؤ….

زایان نے اداکاری کرتے ہوئے کہا تھا….

شافع نے چڑتے ہوئے کہا ہم اس بلع کے بارے میں بات ہی کیوں کر رہے ہیں کیا کوئی اور بات نہیں ہے کرنے کو؟

زایان شرارت سے بولا ،،،،اتنی بھی بری نہیں ہے جتنی بری تمھے لگ رہی ہے….

شافع آنکھیں گھماتا ہوا بولا اتنی اچھی بھی نہیں ہے جتنی تمھے لگ رہی ہے…..

زایان فوراً بولا توبہ توبہ کس نے کہا کے وہ مجھے اچھی لگنے لگی ہے؟؟

تم جس طرح اسکی سائڈ لے رہا کوئی بھی یہ بولے گا….

میں اسکی سائڈ نہیں لے رہا ہٹلر تو وہ ہے لیکن پتا نہیں کیوں تم سے وہ زیادہ چڑتی ہے ؟؟؟

زایان نے سوچتے ہوئے کہا ویسے میں نے فلموں میں دیکھا ہے پہلے لڑکا لڑکی لڑتے ہیں پھر پیار ہو جاتا ہے…..

کہیں تمھارے ساتھ تو ایسا نہیں ہونے والا؟

شافع نے کھا جانے والی نظروں سے گھورا تو وہ اسے اور چڑھانے کے لئے بولا…

ویسے جوڑی خوب جمے گی “دو ہٹلر ساتھ ساتھ”

بولتے ہی زایان نے دوڑ لگائی تھی کیونکہ شافع کا مکا ہوا میں بلند ہوا تھا….

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*

آئےنور بالکنی کے جھولے میں بیٹھی باہر دیکھ رہی تھی جب اسے منہا آتی ہوئی نظر آئی…

بیل بجنے سے پہلے ہی اسنے دروازہ کھول دیا تو منہا حیرت سے بولی

کیا میرے استقبال کے لئے پہلے سے کھڑی تھیں؟

نور مسکراتے ہوئے بولی میں نے تمھے بالکونی میں سے دیکھ لیا تھا….

منہا ارمینہ بیگم سے ملی تو وہ دونوں نور کے کمرے میں آگئیں..

کچھ ادھر ادھر کی باتیں کرنے کے بعد منہا نور سے بولی کل کنسرٹ میں چل رہی ہونا پھر؟

نور نے حیرت سے پوچھا کونسا کنسرٹ؟

لو تمھے پتا ہی نہیں ہے کل یونی میں کنسرٹ ہے…

اچھا مجھے تو پتا ہی نہیں تھا کون آرہا ہے؟ ویسے

یہ تو نہیں پتا مجھے کہ کون آرہا ہے….

نور کچھ سوچتے ہوئے بولی ٹائمنگ کیا ہیں…

شام میں شروع ہوگا واپسی میں رات ہو جائے گی….

نور افسردگی سے بولی پھر میں تو نہیں جا سکوں گی…

منہا اپنا موبائل نکال کر کسی کو میسج کر رہی تھی..

تم نے سنا میں نے کیا کہا.…؟

منہا نے فوراً گردن اوپر کر کے کہا

ہاں وہ میں کہہ رہی تھی تم کیوں نہیں آسکو گی…؟

ارمینہ بیگم ناشتے کی ٹرے لے کر اندر آئی تھیں….

کون کہاں نہیں آسکے گا بھئی…

نور چیزیں اٹھا کر منہا کے سامنے رکھنے لگی کچھ نہیں ماما ہم بس ایسی بات کر رہے تھے…

منہا فوراً بولی کیسے کچھ نہیں آنٹی سنیں میں بتاتی ہوں کل یونیورسٹی میں کنسرٹ ہے اور نور جانے سے منا کر رہی ہے….

ارمینہ بیگم نے پہلے نور کو دیکھا پھر منہا سے بولیں ہاں بیٹا یہ تو نہیں جائے گی اسکے بابا اجازت نہیں دیں گے….

منہا اصرار کرتے ہوئے بولی آنٹی پلیز جانے دیں انکل سےآپ بات کر لئے گا….

ارمینہ بیگم اٹھتے ہوئے بولیں بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے بیٹا اسکے بابا نہیں مانیں گے….

انکے جانے کے بعد نور فوراً بولی کیا ضرورت تھی ماما کو بتانے کی جب میں نے کہا کہ نہیں جاسکتی مطلب نہیں جا سکتی…..

منہا موبائل میں مصروف رہتے ہوئے کندھے اچکا کر بولی….

مجھے لگا آنٹی انکل سے بات کر لیں گی….

نور خاموش ہوگئی اسکا خود کابہت دل تھا جانے کا لیکن اسے پتا تھا وہ نہیں جا سکے گی….

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*

شافع اور زایان اب یونیورسٹی سے سیدھا آفس آجایا کرتے تھے شافع جتنا مصروف رہتا تھا زایان اتنا ہی فارغ زایان آفس میں اپنے کمرے میں بیٹھا ٹیبل پر پاؤں رکھ کر پوری دل جوئی سے موبائل میں گیم کھیل رہا تھا…..

شافع دھاڑ سے دروازہ کھول کر آیا تو زایان نے اسکی طرف دیکھا پھر وآپس گیم کھیلنے لگ گیا…

شافع غصے میں تھا زایان کو اسطرح اطمینان سے گیم کھیلتا دیکھ کر اسنے ضبط سے سانس کھینچنا…

غصہ ضبط کرنے کی وجہ سے اسکے کان کی لویں سرخ ہونے لگی تھیں…

زایان نے پھر نظر اٹھا کر دیکھا خیریت تو ہے اتنے لال پیلے کیوں ہو رہے ہوں….

شافع زور سے ٹیبل پر ہاتھ مار کر جھکا…

اور چینختے ہوئے بولا دو گھنٹے ہوگئے فائل بھجوائے ہوئے تم نے ابھی تک اپڈیٹ نہیں کیا اور یہاں تم مزے سے ٹانگیں پھیلا کر گیم کھیل رہے …..

زایان نے ٹانگیں نیچے کریں موبائل سائڈ پر رکھا سیدھا ہوتے ہوئے بولا….

چیک کرنے ہی والا تھا یار بس وہ پیسٹری منگوائیں تھیں وہ آجائیں پھر دیکھ لیتا ہوں….

شافع نے دانت پیس کر بالوں پر ہاتھ پھیرا…..

زایان تم کب سنجیدگی سے کام لوگے…

زایان دانت نکالتے ہوئے بولا یار میں کیوں سنجیدگی سے کام لوں گا میں اپنے دماغ سے کام لوں گا

اپنی بات پر اسنے خود ہی قہقہہ لگا دیا تھا لیکن جب شافع کے تیور بگڑے ہوئے محسوس ہوئے تو فوراً اپنی ہنسی کو قابو کرتے ہوئے سیدھا ہوا….

پھر فائل کھینچتا ہوا بولا اچھا بس اب ایسے گھورو مت کرلیتا ہوں چیک اس میں اتنا غصہ کرنے والی کیا بات ہے….

شافع اسکے قریب آیا زایان کی کرسی کو زور سے پکڑ کر اپنی طرف گھمایا بائیں ہاتھ کی انگلی اٹھاتے ہوئے بولا…

میرے پاس پندرہ منٹ میں فون آجائے کے تم نے کمپنی کو اپڈیٹ کر دیا ہے ورنہ پندرہ منٹ بعد میں ہیڈ کوارٹر میں فون لگاؤں گا…..

اسکی کرسی کو وآپس گھما کر شافع جانے کے لئے پلٹا تو زایان کھڑے ہوتے ہوئے بولا….

آوئے کونسا ہیڈ کوارٹر؟؟

شافع بنا پلٹے ہاتھ اٹھاتے ہوئے بولا حیدر آفاق کے ہیڈ کوارٹر……

زایان فوراً وآپس کرسی پر بیٹھا….

شافع چلا گیا تو خود سے ہی بولا

یہ لڑکا تو دھمکیوں پر اتر آیا ہے کچھ تو کرنا ہوگا اس لڑکے کا….

اب بتاؤ میں معصوم جان کیا کیا کرؤں یونیورسٹی بھی جاؤں، آفس بھی آؤں امتحان کی تیاری بھی کرو….

زایان نے سر کے نیچے دونوں ہاتھ رکھتے ہوئے کرسی سے ٹیک لگا لی….

پیسٹری آجائے پھر ہی کام کروں گا۔۔۔۔

پھر اچانک شافع کی دھمکی اسکے کانوں میں گونجی تو سیدھا ہوا….

نہیں نہیں اگر اس ہٹلر کے پاس فون نا آیا تو وہ ہیڈ کوارٹر فون گھمادے گا…..

پھر لیپ ٹاپ آگے کرتے ہوئے بولا آجاؤں بھئ تمھے بھی زایان حیدر سے کام لینے کا شرف بخشیں تم بھی کیا یاد رکھو گے کسی “مشہور و معروف بزنس مین زایان حیدر” نے تم پر کبھی کام کیا تھا……

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*

صدیقی صاحب دفتر سے آ کر کھانے سے فارغ ہوئے تو کمرے میں آکر لیٹ گئے ارمینہ بیگم انکے پاس آئیں…..

کچھ دیر تو وہ خاموش بیٹھی رہیں پھر آہستہ آہستہ بولیں آپ سے ایک بات کرنی تھی…..

صدیقی صاحب سر کے نیچے ہاتھ رکھتے ہوئے بولے بولو…..

وہ …… وہ دراصل میں یہ کہنا چاہ رہی تھی….

صدیقی صاحب چڑ کر بولے اب بول بھی چکو کتنی تہمیدیں باندو گی؟

ارمینہ بیگم اپنے ہاتھوں کو دیکھتے ہوئے ڈر ڈر کر بولیں کل نور کی یونیورسٹی میں کنسرٹ ہے….

تو میں کیا کروں؟؟

آپ نور کو جانے کی اجازت دے دیں….

صدیقی صاحب اٹھ کر بیٹھے نور نے تمھے سفارش کرنے کے لئے بھیجا ہے….؟

ارمینہ بیگم فوراً بولیں نہیں نہیں نور نے تو کچھ نہیں کہا میں خود بول رہی ہوں…..

تو جب اسنے کچھ نہیں کہا تو تمھے کیوں اسے بھیجنے کی لگ رہی ہے….

دراصل وہ جانا چاہتی ہے لیکن آپ اجازت نہیں دیں گے اسلئے وہ ڈر رہی ہے بات کرنے سے…..

صدیقی صاحب کچھ دیر خاموش رہے کس وقت ہے کنسرٹ؟؟؟

شام میں ہے رات تک چلے گا…..

صدیقی صاحب فوراً بولے رہنے دو کوئی ضرورت نہیں ہے جانے کی اسے بولو گھر میں بیٹھے…..

دیکھیں پلیز جانیں دیں اسکی ساری دوستیں جارہی ہیں اور کنسرٹ یونیورسٹی میں ہی ہے

صدیقی صاحب سختی سے بولے میں نے منا کر دیا نہ بس نہیں تو نہیں

نور باہر کھڑی دروازے سے لگی سب سن رہی تھی….

سنتے ہی وہ دبے قدموں اپنے کمرے کی طرف وآپس چلی گئی…..

صدیقی صاحب کے تیور دیکھ کر اور اصرار کرنے کی ارمینہ بیگم کی ہمت نہیں ہوئی……

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*

دوسرے دن یونیورسٹی میں پڑھائی کم تیاریاں زیادہ ہوئی تھی…..

نور اسکالرشپ کے بدلے زایان کی پیٹ پوجا کرانے بیٹھی تھی…..

منہا مسلسل موبائل میں مصروف تھی اور نور کا چہرہ اترا ہوا تھا….

کھاتے ہوئے زایان نے نور کی طرف دیکھ کر پوچھا خیریت تو ہے آج تو چاند گرہن بنی بیٹھی ہو….

نور نے تعجب سے پوچھا چاند گرہن مطلب؟

زایان کھاتے ہوئے بولا تمھارے نام کا مطلب ہے نا “چاند کا نور” اور تم بجھی بجھی بیٹھی ہو تو ہوئی نہ چاند گرہن….

بولتے ہی زایان نے خود کو داد دی

“واہ زایان واہ”

نور نے کھسیانے انداز میں کہا مطلب کچھ بھی…..

اچھا یہ بتاؤ آج شام کنسرٹ میں آرہی ہو؟؟؟

نور کا چہرہ پھر بجھ گیا نہیں میں تو نہیں آرہی منہا آئے گی….

زایان نے منہا کہ طرف دیکھا جو موبائل میں ہی مصروف تھی…..

زایان نے نور سے پوچھا تم کیوں نہیں آؤ گی؟؟؟

آئےنور کندھے اچکا کر بولی ایسی ہی….

ویسے اگر آتیں نا تو ہم تمھیں فری میں مہنگے والے کنسرٹ کا مزاح دلواتے…..

ویسے پرفارم کرنے کون آرہا ہے؟ نور نے پوچھا

زایان جوس پیتے ہوئے بولا یہ تو سیکریٹ ہے سر نے بچوں کو بتانے سے منا کیا ہے….

نور نے بھنویں اٹھا کر اسے گھورا زایان اسکی گھوری کو نظر انداز کر کے بولا

ارے آجاؤ یار بریانی کا بھی انتظام کیا ہے ہم نے سب کو تھیلی میں بھر کے دینگے….

نور کی ہنسی چھوٹ گئی تھیلی میں بھر کے دو گے…..

ہاں نا ورنہ اگر کھلانے لگے تو لڑکیاں اور مانگنے آجاتی ہیں، اور جب وہ کھانے پر آتی ہیں تو اللہ معاف کرے زایان نے کانوں کو ہاتھ لگایا تھا

اپنے میک اپ کی بھی پرواہ نہیں کرتی بس بوٹی بوٹی کے نعرے لگ رہے ہوتے ہیں…..

آئےنور نے منہ پر ہاتھ رکھ کر قہقہہ لگایا تھا…..

وہ چاہے جتنی بھی کوشش کر لے لیکن زایان کی کسی نا کسی بات پر اسے ہنسی آہی جاتی تھی

زایان نے اسے دیکھا تو تبصرہ کرے بغیر نہیں رہ سکا ہنستے ہوئے بھی لوگ اچھے لگتے ہیں…..

نور نے فوراً اپنی ہنسی کو قابو کیا اور گھورتے ہوئے بولی زیادہ فری ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔

زایان فوراً بولا ڈستے ہوئے لوگ ناگن لگتے ہیں…..

پھر نور کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولا اب ٹھیک ہے…..؟

نور نے ٹیبل پر پڑی پلیٹ اسے مارنے کے لئے اٹھائی تو زایان پیچھے ہوتے ہوئے بولا لڑکی تو تشدد کرنے پر اتر آئی ہے۔ ۔ ۔ ۔

نور پلیٹ وآپس رکھتے ہوئے بولی یہ لڑکی قتل بھی کر سکتی ہے…..

زایان اسے دیکھ کر شرارت سے بولا

اندازہ ہے مجھے…..

نور کو اسکی بات کا مطلب سمجھ نہیں آیا اسلئے اس پر برسی نہیں….

تو اب بتاؤ آؤ گی؟؟؟

نور لفظوں پر زور دیتے ہوئے بولی

کہا نہ نہیں…..

زایان حیرت سے منہ کھول کر بولا تو کیا بریانی کی محبت نے بھی تمھے نہیں کھینچا؟؟؟

نور بھنویں اچکاتے ہوئے بولی کھانے کی محبت صرف تمھیں کھینچ سکتی ہے ہمیں نہیں….

زایان مصروف سے انداز میں بولا پوائنٹ….

نور اٹھ کر جانے لگی تو زایان فوراً بولا کہاں جارہی ہو….

کلاس میں….

زایان نے اسے چڑانے کے لئے کہا ارے بیٹھونا ابھی شافع آرہا ہے….

نور نے دانت پیس کر اسے گھورا اور ٹیبل سے پلیٹ اٹھا کر وآپس زور سے پلیٹ ٹیبل پر پٹھکی اور چلی گئ…..

زایان اسے جاتے ہوئے دیکھ کر بولا جانا تھا تو ایسی چلی جاتی پلیٹ پٹکھنے کی کیا ضرورت تھی

پھر شرٹ کے کالر کھڑے کرتے ہوئے بولا چلو کوئی بات نہیں سب کا اپنا اپنا اسٹائل ہوتا ہے……

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*

شافع باہر نہیں آیا تو زایان خود اسکے پاس چلا گیا…..

شافع پوری طرح لیپ ٹاپ میں کام کرنے میں مگن تھا زایان اسکے برابر میں آکر بیٹھا

میں تمھارا کب سے کیفے میں انتظار کر رہا ہوں اور تم یہاں ہو….

شافع نے اسکی بات کا جواب نہیں دیا اپنے کام میں مصروف رہا…

تم سن رہے ہو؟؟

ہاں میں کانوں سے سنتا ہوں آنکھوں سے نہیں….

زایان اداکاری کرتے ہوئے بولا

اچھااااا تو تم کانوں سے سنتے ہو واہ کیا اچھی انفارمیشن دی ہے…..

شافع نے لیپ ٹاپ سے نظریں ہٹا کر اسے گھورا….

زایان پیچھے ہوتے ہوئے بولا سنتے تم بیشک کانوں سے ہو لیکن بول آنکھوں سے ہی دیتے ہو…..

شافع اسے گھورتا ہوا ہی بولا تو میری آنکھوں نے تمھے یہ بھی بتا دیا ہوگا کہ میں اس وقت بہت مصروف ہوں اور تمھارے جوکس سننے کا میرے پاس بلکل بھی ٹائم نہیں ہے…..

زایان نے آنکھیں پٹپٹا کر اثبات میں گردن ہلائی…. شافع دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہوگیا…..

زایان کچھ دیر خاموش رہا پھر لیپ ٹاپ میں جھانکتے ہوئے بولا کر کیا رہے ہو؟

شافع اسکی طرف دیکھے بغیر بولا کام….

ہمممم۔ ۔ ۔ ۔۔ اچھا کونسا کام؟؟؟؟

شافع نے دانت پیستے ہوئے کہا وہی کام جو کل آپکو دیا تھا…..

زایان نے بالوں پر ہاتھ پھیرا…..

اچھا اچھا تو کوئی بات نہیں بھائی کا ہی کام کر رہے ہو کسی غیر کا نہیں…..

شافع کچھ نہیں بولا

کچھ دیر بعد زایان بولا تمھے پتا ہے کنسرٹ میں وہ ہٹلر نہیں آرہی…..

شافع نے کام چھوڑ کر چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا اللہ تیرا شکر….

زایان نے قہقہہ لگایا

ہاہاہاہاہاہاہا یار تم دونوں ایک دوسرے سے کتنا چڑتے ہو ایک وہ ہے جس نے تمھارا نام سنتے ہی پلیٹ ایسے پٹھکی جیسے ابھی توڑ دے گی اور ایک تم ہو جو اسکے نہ آنے پر شکر ادا کر رہے ہو….

پھر ایک لمبی آہ بھرتے ہوئے بولا اور ایک ہم ہیں…….

شافع اپنا سامان سمیٹتے ہوئے بولا

زایان اپنی باتیں بنانا بند کرو اور تمھے جو ای میل کرنی ہیں وہ آج رات تک ہو جانی چاہیے میں گھر جارہا ہوں شام میں یونی آجاؤں گا……

بولتے ہی شافع اسکا کندھا تھپتھپا کر نکل گیا تھا….

زایان اپنی انگلیوں کو واہ والے انداز میں گھما کر بولا

بہت اچھے آرڈر دیا اور نکل لئے…..

زایان کی کلاس کی ایک لڑکی اسکے پاس آئی تھی

جو مسکراتے ہوئے بولی ہائے زایان شام میں آرہے ہو نہ؟؟

زایان بھی مسکرا کر فری ہوتے ہوئے بولا تمھے کیا لگتا ہے میرے بغیر کنسرٹ ہوگا….

اس لڑکی نے لہرا کر قہقہہ لگایا اور زایان سے باتوں میں مصروف ہوگئی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*

نور ٹی وی لون میں اداس سی بیٹھی گھڑی کی سوئیاں ناپ رہی تھی اب تو شاید کنسرٹ شروع بھی ہوگیا ہو گا…..

صدیقی صاحب آفس سے آکر کمرے میں آرام کر رہے تھے ارمینہ بیگم بیٹی کی اداسی کی وجہ سے پھر سے ان سے سفارش کرنے گئی تھیں….

دیکھیں آپ پلیز اسے جانے دیں وہ جلدی آجائے گی آپ کونسا اسے کہیں لے کر جاتے ہیں……

میں نے منا کر دیا نہ ایک بار وہ نہیں جائے گی…..

ارمینہ بیگم کچھ دیر کھڑی رہیں پھر غصے سے بولیں

وہ آپ سے کچھ بولتی نہیں ہے اسکا مطلب یہ نہیں ہے کہ اسکا دل نہیں ہے ماں باپ بچوں کی آنکھوں کو پڑتے ہیں لیکن آپ شاید وہ بھی پڑنے سے قاصر ہیں…..

ارمینہ بیگم بولتے ہی کمرے سے نکل گئیں تھیں صدیقی صاحب وہیں بیٹھے سوچوں میں گم ہو گئے تھے….

آئےنور اٹھ کر کمرے میں چلی گئی کیونکہ اسے پتا تھا کوئی آس لگانا بیکار ہے…..

وہ کمرے میں جاکر لیٹی ہی تھی جب دروازے پر دستک ہوئے…..

آجائیں….

صدیقی صاحب دروازہ کھول کر کمرے میں داخل ہوئے نور اٹھ کر بیٹھ گئی…..

پانچ منٹ میں تیار ہوکر آجاؤ میں نیچے تمھارا انتظار کر رہا ہوں کہتے ہی صدیقی صاحب وآپس جانے کے لئے پلٹے تھے….

نور نے فوراً کھڑے ہوتے ہوئے پوچھا لیکن کیوں بابا کہیں جانا ہے…..

ہاں تمھاری یونیورسٹی میں کنسرٹ ہے نا جانا نہیں ہے کیا؟؟؟

صدیقی صاحب کمرے سے باہر چلے گئے پہلے تو نور کو انکی بات سمجھ نہیں آئی اور جب سمجھ میں آئی تو وہ خوشی سے بیڈ پر کودی،،،،،،

پھر بھاگ کر باہر گئی اور جاکر ارمینہ بیگم کے گلے لگ گئی تھینکیو سو مچ ماما….

ارمینہ بیگم نے حیرت سے پوچھا کس لئے….

اپنے بابا کو منا لیا اسلئے بابا مجھے ابھی یونیورسٹی لے کر جا رہے ہیں کنسرٹ میں….

ارمینہ بیگم نے حیرت سے منہ پر ہاتھ رکھا….

چلو پھر تم جاؤ تیار ہو دیر کرو گی تو وہ غصہ کریں گے….

نور جلدی سے کمرے میں بھاگی……

کچھ دیر بعد وہ تیار تھی اسنے آسمانی کلر کی فراک پہنی ہوئی جس میں جگا جگا بلیک دھاگے سے کڑھائی ہوئی تھی….

ہاتھ میں گھڑی باندھ کر اسکارف باندھا اور چادر اٹھا کر نیچے کی طرف بھاگی میک اپ کرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا کیونکہ صدیقی صاحب اسے چھوڑنے جارہے تھے اور وہ نہیں چاہتی تھی کہ وہ گاڑی سے ہی اسے وآپس پلٹا دیں اس لئے اسنے میک اپ سے فاصلہ برتہ تھا وہ خود بھی زیادہ میک اپ نہیں کرتی تھی جو تھوڑا بہت کرتی تھی وہ بھی نہیں کرا تھا ۔۔۔۔۔

وہ گاڑی میں جاکر بیٹھی تو صدیقی صاحب نے گاڑی یونیورسٹی کی طرف بڑھا لی….

راستہ خاموشی سے ہی گزرہ یونیورسٹی پہنچ کر صدیقی صاحب نے نور سے وآپسی کا ٹائم پوچھا تو اس نے ساڑھے تین گھنٹے کے بعد کا ٹائم دے دیا

تم اکیلی یا کسی اور کے ساتھ مت نکلنا میں خود لینے آؤں گا نور نے سر جھکائے ہوئےہی بولا جی بابا….

“”“”“”“”“”“”“”“”“”“”“”“”«»«»

نور یونیورسٹی میں داخل ہوئی تو ماحول ہی الگ تھا ہر طرف گھماگھمی روشنی…

دور سے ہی اسے اسٹیج نظر آیا لیکن وہ آگے نہیں گئی…..

اسنے منہا کو فون کرا لیکن منہا نے فون نہیں اٹھایا اسے اسکی کلاس کی ہی کچھ لڑکیاں دکھیں تو وہ انکے ساتھ ہی بیٹھ گئ کنسرٹ شروع نہیں ہوا تھا…..

نور مسلسل منہا کو فون کرتی رہی لیکن منہا نے فون نہیں اٹھایا اسے خدشہ ہوا کہ کہیں ایسا تو نہیں ہوا کہ منہا آئی ہی نہ ہو….

نور فون ہی ٹرائے کر رہی تھی جب اسے اپنے پیچھے زایان کی آواز آئی

تو آخر بریانی کی محبت تمھے کھینچ ہی لائی.

اسنے زایان کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے پوچھا تم نے منہا کو دیکھا ہے؟

زایان شرارت سے بولا ہاں کافی بار دیکھا ہے روز ہی دکھ جاتی ہے یونی میں….

آئےنور نے اسے گھورا تو فوراً اسٹیج کی طرف اشارہ کر کے بولا اسٹیج کے بلکل آگے بائیں طرف کھڑی ہے…..

نور نے اسٹیج کی طرف دیکھتے ہوئے کہا اتنا آگے گھسنے کی کیا ضرورت تھی اسے….

زایان ہنستے ہوئے بولا اب ہر کوئی آپکی طرح اکھڑ مزاج تو نہیں ہوتا یہاں اب انجوائے کرنے ہی آئے ہیں….

نور اسکی طرف توجہ دیئے بغیر آگے جانے لگے….

اسکی چادر یونی کی صفائی کرتے ہوئے جارہی تھی زایان نے پیچھے سے اسکی چادر اٹھا کر اسے آواز دی اسے تو اٹھا لیں جھاڑو پہلے ہی دل چکی ہے دوبارہ ضرورت ہوئی تو بتا دیں گے…..

نور نے اسکے ہاتھ سے چادر جھنپٹنے والے انداز میں کھینچی اور آگے جانے لگی زایان اسکے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے بولا….

یار وہ فلموں والے سین کہاں ہوتے ہیں جہاں ہیروئن کا دوپٹہ ہیرو کے منہ پر آجاتاہے ہے پھر ہیرو دو گھنٹے لگا کر بڑے پیار سے دوپٹا منہ پر سے ہٹاتا ہے

اور پھر پیار ہو جاتا ہے

نور چلتے ہوئے ہی اسکی طرف دیکھ کر بولی ابھی تو تم نے بولا فلموں والے سین تو فلموں میں ہی ہونگے،،،،

زایان گردن ہلاتے ہوئے بولا ہاں اصل زندگی میں صرف لوگ دوپٹے میں اٹک کر گرتے ہیں اور لڑکی سے ایک زناٹے دار تھپڑ کھاتے ہیں اس نے بولا ہی اس انداز سے تھا کہ نور کی ہنسی چھوٹی تھی

زایان نے ترچھی نظروں سے اسے دیکھا،،،، جیسے ہی نور اسکی طرف پلٹی اسنے فوراً نظریں ہٹا لیں….

منہا کافی آگے کھڑی تھی اور رش بہت تھا نور اکیلی ہوتی تو خود سے کبھی وہاں نہ پہنچ پاتی زایان نے سب کو سائڈ پر کر کے راستہ بنوایا اور نور کو آگے لے کر گیا….

منہا لڑکیوں کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف تھی نور کو دیکھا تو حیرت سے بولی تم اچانک کیسے؟ تم نے تو منا کر دیا تھا…..

نور مسکراتے ہوئے بولی اچانک بابا آئے اور بولے چلو کنسرٹ میں چھوڑ کر آؤں…..

منہا بھی مسکراتے ہوئے بولی چلو اچھا ہے مزہ آئے گا…..

زایان کو لڑکیوں نے گھیر لیا تھا جو اس سے یہ پوچھی جارہی تھیں کہ کنسرٹ شروع کب ہو گا, پرفارم کون کر رہا ہے….

تھوڑی دیر کا بول کر زایان اپنی جان بچا کر وہاں سے بھاگا

منہا نور کے ہاتھ کا زخم دیکھنے لگی جو اب پہلے سے کافی بہتر تھا……

نور نے منہا سے پوچھا منہا آ کون رہا ہے یہ پتا چلا؟؟؟

منہا منہ بناتے ہوئے بولی نہیں یار بتایا ہی نہیں ہے مجھے لگ رہا ہے عاطف اسلم آئے گا……

نور بولی نہیں مجھے لگتا ہے فرحان سعید یا پھر عاسم اظہر آئے گا….

وہ لوگ یہی ڈسکس کر رہے تھے۔ ۔ ۔ ۔ ۔

جب زایان گلے میں بڑا سا کیمرا ڈالے مائک لے کر اسٹیج پر آیا ہلکا ہلکا بینڈ بجنا شروع ہوا تھا…..

لڑکیوں نے ایک شور مچایا….

زایان ہاتھ کے اشارے سے سب کو خاموش رہنا کا کہہ رہا تھا۔۔۔۔

سب جب زایان زایان کے نعرے لگانے لگے تو زایان ہنستے ہوئے بولا

ارے ارے میں گانا نہیں گاؤں گا مجھے گانا نہیں صرف کھانا آتا ہے…..

سب کا قہقہہ بلند ہوا تھا…..

نور دل میں بولی یہ تو سب کو ہی پتا ہے بھکر کچھ نیا بتاؤ…..

زایان ٹائم پاس کرنے کے لئے لوگوں سے باتیں کر رہا تھا جب پیچھے سے شافع ہاتھ میں گٹار لئے آیا…..

اسنے بلیک جینز پر وائٹ ٹی شرٹ اور اسکے اوپر ڈیزائن والی ہلکی سی بلیک جیکٹ پہنی ہوئی تھی

بائیں ہاتھ میں گھڑی اور دوسرے ہاتھ میں بلیک رنگ کا چوڑا بینڈ جو کے زایان نے اسکے ہاتھ میں ڈالا تھا…..

نور نے اسے دیکھا تو چڑ کر منہا سے بولی اسے تو دیکھو تیار شیار ہوکر گٹار پکڑ کر ایسے آرہا ہے جیسے اسی نے گانا گانا ہو…

منہا نے نور کو چبھتی ہوئی نظروں سے دیکھا…..

شافع جب زایان کے برابر میں آکر کھڑا ہوا تو پورے گراؤنڈ میں شافع شافع کے نعرے لگنا شروع ہوئے تھے…..

نور نے لڑکیوں کو دیکھتے ہوئے بولا پاگل ہوگئی ہیں کیا……

زایان سب کی طرف دیکھتے ہوئے بولا ہاں تو اب بتائیں کچھ آئیڈیا ہوا کے کون پرفارم کرے گا

پھر سے سب شافع شافع کے نعرے لگا رہے تھے جس میں صرف لڑکیاں نہیں لڑکے بھی شامل تھے

زایان نے مائک شافع کو دے دیا تھا…..

شافع اب سب سے بات کر رہا تھا

آئےنور کا تو حیرت کے مارے برا حال تھا اسے یقین نہیں آرہا تھا کے وہ شافع مطلب شافع وارثی کے کنسرٹ کے لئے آئی ہے…..

شافع سب کو اپنے آخری سیمسٹر کے بارے میں بتانے لگا….

ہو سکتا ہے ہے اس یونیورسٹی میں یہ میرا آخری کنسرٹ ہو کیونکہ اب ہم تو جانے والے ہیں لیکن ہم جائیں گے تو نئے آئیں گے….

شافع باتیں کر رہا تھا جب زایان شافع کے کان کے پاس آکر بولا بھائی اسٹیج کے زیادہ آگے مت جائیو کیونکہ لڑکیاں جس طرح تجھے دیکھ رہی ہیں نہ مجھے تو ڈر ہے کے کہیں ٹانگ کھینچ کر نیچے ہی نہ گرا دیں ….

شافع نے منہ کے آگے سے مائک ہٹایا تھا…..

اور بھائی بائیں جانب جہاں مائک کا سسٹم ہے اس طرف تو بلکل مت جائیو کیونکہ وہاں ہٹلر کھڑی ہے کہیں ایسا نہ ہو تیرے پیر میں اپنے اسکارف کی پین چبادیں ……

شافع نے اسٹیج کے بائیں جانب دیکھا تھا جہاں آئےنور اسے ناپسندیدہ نظروں سے دیکھ رہی تھی….

شافع نے بھی بس ایک نظر اس پر ڈالی اور فوراً ہٹا لی…

تم نے تو کہا تھا یہ نہیں آئی گی،، زایان کندھے اچکاتے ہوئے بولا اب آگئی ہے تو کیا وآپس بھیج دوں اسے

زایان پھر بولنا شروع ہوگیا تھا اور بھائی دائیں جانب تھوڑی دور مت دیکھنا کیونکہ وہاں تاشفہ بیٹھی ہے اور اسکی نظروں میں غصہ ہے پیار ہے یا جو بھی ہے صحیح نہیں ہے…….

شافع نے ہنستے ہوئے زایان کو دھکا دیا تھا اچھا اب بس کر

زایان نے دانت نکالتے ہوئے اپنے آنکھوں کے کنارے پر انگلی پھیر کر شافع کے کان کے پیچھے لگائی “میرے بچے کو نظر نا لگے”

بولتے ہی وہ بھاگا تھا کیونکہ وہ پوری یونی کے سامنے شافع کے ہاتھوں پٹنا نہیں چاہتا تھا…

آئےنور کا خون کھول رہا تھا کیا ہمیں اسکا گانا سننے کے لئے بلایا گیا ہے؟؟؟

منہا نے اسے کونی ماری منہ بند رکھو تم اپنا اتنے ہینڈسم لڑکے کو تم کب سے پتا نہیں کیا کیا بولی جارہی ہو……

آئےنور چڑتے ہوئے بولی تمھے تو ہر لڑکا ہینڈسم لگتا ہے…..

آئےنور اور منہا کیونکہ مائک سسٹم کے آگے کھڑے ہوئے تھے تو وہاں بہت سے مائک موجود تھے

ایک لڑکا شافع کا مائک سیٹ کر کے آیا شافع اپنی پوزیشن لے کر اپنا لال اور کلے رنگا کا گٹار تھامے کھڑا تھا جس کے ایک کونے پر لکھا تھا

“زایان شافع “اور آگے لکھا تھا buddies اسکے ساتھ ہی ایک دل بنا تھا……

یہ گٹار اسے زایان نے گفٹ کیا تھا

ایک لڑکا مائک کا تار سیٹ کر رہا تھا جب اسنے ایک مائک اسٹیج کے بلکل کونے پر کر دیا جہاں نور کھڑی تھی اور وہ مائک نور کے بلکل منہ کے آگے تھا….

سب مسکراتے ہوئے شافع کو دیکھ رہے تھے شافع نے ایک ہاتھ سے مائک پکڑ کر آگے کیا پھر گٹار بجانا شروع ہی کیا تھا….

جب مائک میں ایک آواز گونجی “ارے یہ لنگور کیا گانا گائے گا”

اور وہ آواز کسی اور کی نہیں آئےنور صدیقی کی تھی….

جو پورے گراؤنڈ میں گونجی تھی سب لوگوں نے اسکی طرف مڑ کر دیکھا تھا اور لڑکیوں نے تو اسے کھا جانے کی حد تک گھورا تھا جو شافع سے جلتے تھے انھوں نے قہقے بھی لگائے تھے….

نور نے آآآآ کرتے ہوئے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر آنکھیں بند کی تھیں اسے ذرا بھی اندازہ نہیں تھا کے اسکے آگے مائک رکھا ہوا ہے

زایان سائڈ پر کیمرہ لئے کھڑا تھا وہ بھی حیرت سے سوچ رہا تھا کہ یہ ہوا کیا ہے؟؟؟

نور نے ایک آنکھ کھول کر شافع کی طرف دیکھا جو غصے سے لال پیلا ہو کر اسے دیکھ رہا تھا اسکی شکل دیکھ کر نور کے منہ سے بے دھڑک نکلا سوری۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

اور یہ بھی مائک میں گونجا تھا…..

نور کو آس پاس کھڑی لڑکیوں سے وہشت ہونے لگی کیونکہ وہ اسے گھور ہی ایسے رہیں تھیں….

نور نے وہاں سے فرار ہونا ہی غنیمت جانی وہ الٹے قدموں چلی اور فوراً دوڑ لگا دی…..

شافع کی نظروں نے دور تک اسکا تعاقب کیا تھا….

پیچھے سے زایان نے آکر اسکا کندھا تھپتھپایا چھوڑ یار اسے…..

شافع نے مائک پکڑ سامنے دیکھتے ہوئے سب سے کہا Just forget it….

اسٹیج کے بلکل سامنے کھڑے اسکی کلاس کے گروپ نے زور سے کہا تھا

“We love you shafay”

شافع مسکرایا تھا……

سر جھٹک کر وہ پھر سے گٹار تھام کر کھڑا ہوگیا تھا…..

زایان اسکی تصویریں لینے لگا…..

شافع نے گانا شروع کیا تھا کیا لیکن اسکی نظر بار بار ادھر جا رہی تھی جس طرف نور گئی تھی……

نور ڈپارٹمنٹ کے پیچھے والی کینٹین میں آکر بیٹھ گئی تھی…..

وہ مسلسل ناخن کترنے لگی اسے اپنی حماقت پر شرمندگی ہورہی تھی……

اوووفففف کیا ضرورت تھی مجھے یہ بول نے کی اور یہ مائک کس الو کے پٹھے نے میرے آگے رکھ دیا تھا……

اب تو پتا نہیں کیا ہوگا…..

شافع تو مجھے دیکھ ایسے رہا تھا…

کہیں ایسا نہ ہو گن سے مجھے شوٹ کر دے گن تو ہوگی ہی اسکے پاس….

وہ بول بول کر خود ہی کو ڈرا رہی تھی اور خود ہی کو دلاسہ بھی دے رہی تھی…

ارے ایسے کیسے شوٹ کر دے گا کوئی آندھی تھوڑی آئی ہوئی ہے…..

میرا مقصد اسے سب کے سامنے شرمندہ کرنا تھوڑی تھا غلطی تو اسکی تھی جس نے مائک میرے آگے رکھا…..

لیکن اسکے دماغ میں ایک ہی بات نے ڈیرہ ڈال لیا تھا

کچھ بھی ہو نور لیکن اب شافع تمھے نہیں چھوڑے گا…..

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*

تہمینہ بیگم لاؤنج میں بیٹھی میگزین پڑھ رہی تھیں جب فون بجا انھوں نے فون اٹھایا تو دوسری طرف بی اماں تھیں….

اسلام وعلیکم بی اماں کیسی ہیں آپ….

بی اماں چڑ کر بولیں آئے میں کیسی ہوں اسکو چھوڑو میں کل آرہی ہوں شہر تیمور کو بتا دے نہ….

تہمینہ بیگم نے گھبراتے ہوئے پوچھا خیریت اماں یوں اچانک…..

کیا مطلب اچانک میرے بیٹے کا گھر ہے میں جب آؤں اب کیا تمھاری اجازت لینی پڑھے گی…..

نہیں نہیں اماں میں نے ایسا تو نہیں کہا آپکا اپنا گھر ہے جب آجائیں….

اچھا یہ سب چھوڑو وہ نالائق شافع کہاں ہے؟

اماں وہ شافع کی یونیورسٹی میں کنسرٹ ہے وہ وہاں ہے…..

بی اماں الجھن کا شکار ہوئیں

ہیں؟؟؟؟ کنسرٹ یہ کیا ہے…..

تہمینہ بیگم انھے سمجھاتے ہوئے بولیں اماں گانوں کا پروگرام ہے شافع کو گانے کے لئے بلایا ہے…..

بی اماں چڑتے ہوئے بولیں ایک تو اس لڑکے کو پتا نہیں کیا گانے بجانے کا شوق ہے اور یہ کیا کہتے ہیں یانیٹسی

اماں یونیورسٹی…..

ہاں ہاں وہی وہاں یہ لوگ بچوں کو پڑھاتے ہیں یا ناچنا گانا سکھاتے ہیں؟؟

تہمینہ بیگم انھے تسلی دلاتے ہوئے بولیں اماں یہ سب ہر وقت نہیں ہوتا کبھی کبھی پروگرام رکھتے ہیں بچوں کے لئے…..

جو بھی ہے کیوں رکھتے ہیں؟؟؟

تہمینہ بیگم کو پتا تھا وہ بی اماں کو کتنی بھی تسلیاں دے دیں وہ اپنی ہی سنائیں گی….

اسلئے انھوں نے انکی ہاں میں ہاں ملانی شروع کر دی…..

میں کل آؤں گی تو دیکھ لوں گی سب کو تیمور کو بتا دے نا کہ میں کل آرہی ہوں

بولتے ہی انھوں نے کھٹ کرکے فون رکھ دیا……

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*

ارحام کے لمبے سیاہ بال کمر پر پھیلے ہوئے تھے

اسکی بھوری آنکھیں خشک تھیں

کمرے میں اندھیرا تھا صرف سائڈ ٹیبل کا ایک لیمپ جل رہا تھا جس سے ہلکی سی روشنی ہورہی تھی….

وہ ٹیک لگائے ہاتھ میں ڈائری لئے بیٹھی تھی بہت بار اسنے اپنی کہانی کو لفظوں میں ڈھالنا چاہا لیکن ہر بار قلم ہاتھ سے چھوٹ گیا…..

لیکن آج ہر چیز کو نظر انداز کر کے اسے لکھنا تھا اور لکھنے کے بعد اس کہانی کو اس ڈائری میں قید کر کے دفن کر دینا تھا

“تھک گئی ہوں ہجر کا بوج اٹھاتے اٹھاتے

دفن ہوتی جا رہی ہوں یکطرفہ محبت نبھاتے نبھاتے”

اسنے ڈائری کھولی شروع کے صفحوں کو اسنے دیکھنا گوارا نہیں کیا اسلئے بیچ سے ڈائری کھولی

صفحے کو ہاتھ سے سیدھا کر کے قلم رکھا ہاتھوں کی کپکپاہٹ واضح تھی اسی کپکپاتے ہاتھوں سے اسنے لکھنا شروع کیا…

ایک قصہ پورانہ ہے

محبت کا افسانہ ہے

کسی کی یاد میں ہر پل

جو یہ دل دیوانہ ہے

کہ جس کی آہ بھرتی ہوں

کہ جس کی بات کرتی ہوں

وہ تو چھوڑ گیا مجھ کو

وہ پاگل کر گیا مجھ کو

آؤ شروات کرتی ہوں

کہ کیسے یاد کرتی ہوں

اچانک دن ایسے

وہ میرے سامنے سے گزرا

بتا کر پیار کی باتیں

وہ ایسے دل میں کچھ اترا

میرا چین بھی وہ تو

اپنے ساتھ لے گزرا

کہ اسکو یاد کرتی ہوں

اسی کی بات کرتی ہوں

میں تو رب سے ہر پل

تیری فریاد کرتی ہوں

محبت کے سبھی پننے

میں نے اسکے سامنے رکھے

دے کر ہاتھ ہاتھوں میں

جذبات سامنے رکھے

کہ بارش کی ہر بوندوں میں

تیرا ہی عکس دیکھتا ہے

بہاروں کے ہر پھولوں میں

تیرا ہی نام کھلتا ہے

ڈائری کے پنّوں پر

دل تیرا نام بُنتا ہے

اچانک ہاتھوں میں سے میرے

ہاتھ کھینچ لیا اسنے

بولا پیار کرتی ہو

یہ کس نے کہہ دیا تم سے

ہنسی کے ساتھ وہ بولا

کہ پاگل ہوگئی ہو تم

ایک عام سے جذبے کو

محبت کہہ گئی ہو تم

مجھے چھوڑ کر وہ تو

اپنے راستے پر پلٹا

میں بیٹھی رہ گئی خالی

کسی نے نہ مجھے سمٹا

اب اسکی بات کرتی ہوں

تو آنسوں ٹوٹ جاتے ہیں

محبت کے سبھی لمحے

پیچھے چھوٹ جاتے ہیں

ہجر کی بات کرتی ہوں

تو دل خون روتا ہے

چلو چھوڑو اسے

یہ تو ایک قصہ پورانہ ہے

ہجر کے راستوں پر

ابھی بہت دور جانا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*

نور کو کنٹین میں بیٹھے دو گھنٹے ہونے والے تھے وہ گھر جانے کے لئے صدیقی صاحب کو فون بھی نہیں کر سکتی کیونکہ پھر وہ جلدی بلانے کی وجہ پوچھتے تو وہ کیا بتاتی؟

دو گھنٹے بیت گئے تو اسنے صدیقی صاحب کو فون گھما دیا…..

ہیلو بابا لینے آجائیں آپ….

صدیقی صاحب کو پہلے حیرت ہوئی پھر کچھ پوچھے بغیر بولے ٹھیک ہے آرہا ہوں…..

نور اٹھ کر گیٹ کی طرف جانے لگی تھی….

جب زایان نے اسے آواز لگائی….

آئےنور نے پلٹ کر اسے دیکھا تو فوراً اسکی طرف بڑھی اور گھبراتے ہوئے بولی….

زایان دیکھو میں نے جان پوچھ کر کچھ نہیں کیا تم اپنے دوست کو بولنا مجھ سے دور رہے…..

زایان اسکو دیکھتے ہوئے بولا اووہ تو آپ وقت پڑنے پر گدھے کو بھی باپ بنانے والے فارمولے پر یقین رکھتی ہیں…..

نور اسکی منت کرتے ہوئے بولی دیکھو زایان تم پلیز اسے سنبھال لینا وہ مجھے بہت وحشی نظروں سے دیکھ رہا تھا مجھے تو ڈر ہے کے کہیں وہ مجھے شوٹ نہ کردے…..

تم نے کام ہی ایسا کیا ہے شافع سے تو تمھیں صرف اوپر والا ہی بچا سکتا ہے…..

جب اسے زایان کی طرف سے ناامیدی محسوس ہوئی تو وہ اپنا وقت برباد کئے بغیر مڑ گئی۔ ۔ ۔ ۔ ۔

وہ مڑ کر کچھ آگے ہی چلی ہوگی جب کسی نے بہت زور سے اسکا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تھا…..

وہ شافع تھا نور کا ایک ہاتھ شافع کے ہاتھ میں تھا اور دوسرا اسکے سینے پر شافع کی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا

نور نے اسکی آنکھیں پہلی بار اتنی قریب سے دیکھیں تھیں

اسکے غصے کے آگے نور کو اپنا غصہ مانند پڑتا ہوا محسوس ہوا….

لیکن پھر بھی نور نے سختی سے کہا یہ کیا بد تمیزی ہے؟؟

نور نے پیچھے ہونا چاہا تھا شافع نے اسکے ہاتھ پر گرفت اور مضبوط کری تھی….

یہ وہی بد تمیزی ہے جو تم ڈزرو کرتی ہو…..

نور نے اپنا ہاتھ اسکے ہاتھ میں سے نکالنا چاہا میرا ہاتھ چھوڑو شافع……

شافع نے اپنی چبھتی ہوئی نگاہیں اس پر جماتے ہوئے کہا تم مجھے اکیلے میں جو کہتی ہیں کہتی رہو لیکن تمھے کوئی حق نہیں ہے پوری یونیورسٹی کے سامنے میری انسلٹ کرنے کا…..

نور اسکی آنکھوں سے اضطراب کا شکار ہو رہی تھی اس نے شافع کو دوسرے ہاتھ سے پیچھے کرتے ہوئے کہا میں نے جان پوچھ کر کچھ نہیں کیا…..

دوسرا ہاتھ ابھی بھی شافع کے ہاتھ میں تھا شافع نے اسکا دوسرا ہاتھ بھی مضبوطی سے پکڑ لیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔

آپ کچھ بھی جان پوچھ کر نہیں کرتیں سب کچھ آپ سے خود ہی ہو جاتا ہے…..

نور کے دوسرے ہاتھ میں چوٹ تھی شافع نے بہت سختی سے اسکا ہاتھ پکڑا تھا نور نے آنکھیں میچی تھیں…..

اگر آپ خود کو بہت اسمارٹ سمجھتی ہیں تو یہ غلطی ہے آپکی میں پوری یونیورسٹی کے سامنے آپ سے معافی منگواؤں گا…..

نور نے آنکھیں میچی ہوئی تھیں نور نے ہونٹ بھینچتے ہوئے کہا سوری شافع…….

شافع نے انجان بنتے ہوئے پوچھا اپنے کچھ کہا اگر کہا ہے تو پوری یونی کے سامنے کہنا پڑے گا…..

نور نے آنکھیں کھولیں اسکی آنکھوں میں آنسوں تھے…..

اسنے اپنے زخمی ہاتھ کی طرف دیکھ کر کہا شافع میرا ہاتھ……

شافع نے اسکے ہاتھ کی طرف دیکھا پھر اسکی آنکھوں کی طرف ایک لمحے میں اسنے نور کا ہاتھ چھوڑ دیا….

نور نے ہونٹ بھینچے شافع دو قدم پیچھے ہوا نور نے بھی پیچھے ہوتے ہوئے اپنی آنکھیں صاف کر کے ہاتھ دبایا….

شافع نے ایک لمبا سانس کھینچ کر منہ پر ہاتھ پھیرا…..

پیچھے ہوتے ہوئے بوکھلا کر بولا سوری ،،، آئم سوری…… بولتے ہی وہ بڑے بڑے ڈک بھر کر وآپس چلا گیا تھا…..

شافع اسٹیج کے پیچھے بنی کلاس میں آیا اور زور سے دیوار پر ہاتھ مارا…..

یہ کیا کر رہا تھا میں دماغ خراب ہوگیا تھا میرا…..

اسنے غصے سے بالوں پر ہاتھ پھیرا…..

اسے خود پر شدید غصہ آرہا تھا پاس پڑی پانی کی بوتل اٹھا کر اسنے کافی سارا پانی ایک سانس میں پی لیا…..

اسنے لمبے لمبے سانس لے کر خود کو نارمل کرنا چاہا…..

اچانک زایان وہاں آیا ارے یار تم یہاں بیٹھے ہو گروپ نے گا لیا اب تمھے دوبارہ گانا ہے چلو…..

شافع زمین کی طرف دیکھتے ہوئے بولا میں نہیں گاؤں گا اب کچھ مجھے گھر جانے دو……

زایان نے اسے دیکھ کر پریشانی سے پوچھا کچھ ہوا ہے کیا طبیعت ٹھیک ہے تمھاری؟؟؟

شافع کچھ نارمل ہوا تھا ہاں ٹھیک ہے….

تو پھر اسٹیج پر کیوں نہیں چل رہے؟؟؟

شافع نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولا میرا موڈ نہیں ہے مجھ سے نہیں گایا جائے گا….

یار کیا مطلب موڈ نہیں ہے تم خود راضی ہوئے تھے اب پرفارم نہیں کرو گے تو سب کو کتنا برا لگے گا.، شافع خاموش رہا یار ہمارے یونی میں کچھ ہی دن ہیں انھے خراب مت کرو ٹیچر ،اسٹوڈنٹس سب تمھارا انتظار کر رہے پلیز چلو….

شافع زایان کو دیکھتے ہوئے بولا ٹھیک ہے تم چلو میں آتا ہوں…..

زایان چلا گیا تو اسنے بوتل کا بچا ہوا پانی اپنے چہرے پر ڈالا اپنے ہاتھ کر نظر پڑتے ہی اسے نور یاد آئی

“شافع میرا ہاتھ”

بوتل اسنے زور سے دیورا پر ماری اور باہر چلا گیا.