Izhar-e-Muhabat by Anooshe NovelR50417 Izhar-e-Muhabat Episode 11
Rate this Novel
Izhar-e-Muhabat Episode 11
Izhar-e-Muhabat by Anooshe
وہ شیشے کے سامنے کھڑی بالوں میں کنگھا پھیر رہی تھی خود کو خالی خالی نظروں سے دیکھتے ہوئے کسی سوچ میں گم تھی…..
کنگھا ڈریسنگ پر رکھ کر اسنے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا
جب شیشے پر دوبارہ نظر پڑی تو اسے اپنے پیچھے (تصور میں) اپنا ہی عکس نظر آیا…..
جو اسے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ دیکھ رہا تھا…..
تیار ہو رہی ہو؟
خوبصورت دیکھنا چاہ رہی ہو؟ کس کے لئے؟
اسنے ڈریسنگ کو مضبوطی سے تھاما اور چبھتی ہوئی نگاہوں سے اپنے عکس کو دیکھا…….
لگتا ہے محبت مانند پڑنے لگی ہے، یا شاید تھک گئی ہو یکطرفہ محبت نبھاتے نبھاتے یا ہو سکتا ہے تم نے بھولا دیا ہو اسے…..
کیوں میں سہی کہہ رہی ہوں نا؟ بھولا دیا ہے اسے؟
وہ چینخھتے ہوئے مڑی نہیں بھولی ہوں اسے نہیں بھولی ہوں تم بھولنے ہی کب دیتی ہو جب جب درد کچھ کم ہونے لگتا ہے تم آجاتی ہو اسکو پھر سے بڑھانے کے لئے……
اسکا عکس اسے دیکھ کر طنزیہ ہنسا،،،
کیونکہ تم اسی لائق ہو…..
محبت کری ہے تو پھر اس کا درد سہنے کی تاب بھی رکھو……
کیونکہ محبت تم نے اپنی مرضی سے کی ہے٬ اس درد کو ناسور تم نے خود بنایا ہے
اسنے تو نہیں کہا تھا کہ وہ تم سے محبت کرتا ہے یا تمھارا ساتھ نبھا سکتا ہے….
یہی تو مشکل ہے کہ اسنے کچھ کہا ہی نہیں کوئی آس دلائی ہوتی تو شاید یہ دل اسی آس میں جی لیتا کے اسنے کوئی وعدہ تو کیا ہے
کوئی آس تو دلائی ہے…..
ساری کوششیں یہیں آکر تو دم توڑ جاتی ہیں کہ اسنے تو ساتھ نبھانے کا وعدہ تو دور کوئی بات بھی نہیں کی…..
اسکا سانس اکھڑ رہا ہے وہ گٹھنے کے بل زمین پر بیٹھ گئی
میں جس سفر پر اسکا ہاتھ پکڑ کر پہلا قدم رکھنا چاہتی تھی اس سفر کے آغاز میں ہی اسنے مجھے وآپس پلٹنے کو کہہ دیا…….
جب جب میں یہ سوچتی ہوں کے اسکا میرا زندگی میں آنا اتنا ہی ناممکن ہے جتنا میرا اسے بھول جانا….
تو,,,,,,,,
تو اس پل ایسا لگتا ہے کہ ابھی سانس رک جائے گی اور میرے جسم کے ساتھ ساتھ روح کو بھی کچھ سکون ملے گا
لیکن کمبخت اگلے ہی پل اتنی ہی زوروں سے دھڑکنے لگتا…..
اور اسکی یاد اور درد دونوں کی شدت بڑھ جاتی ہے…..
تو تم کر دو اپنی سانس، روح اور جسم کو آزاد بھول جاؤ اسے…..
اسنے گردن اٹھا کر عکس کو دیکھا اور بے بسی سے بولی بھول ہی تو رہی تھی لیکن تم پھر آگئیں….
میں آگئی یاد دلانے؟
ارادے تمھارے کچّے ہیں نیت تمھاری نہیں ہے قصور وار تم مجھے ٹھیرا رہی ہو……
اسنے ڈریسنگ پر سے پرفیوم کی شیشی اٹھا کر پورے زور سے سامنے ماری…..
عکس ٹوٹ گیا اور شیشی دیوار سے ٹکرا کر ٹوٹ گئی……
جاؤ تم یہاں سے جاؤ تم کیوں آجاتی ہو بار بار وہ زور زور سے چینخھ رہی تھی
اسکا سانس اٹک رہا تھا وہ پھر بھی چینخھ رہی تھی
نہ بھولنے دیتی ہو نہ یاد کرنے دیتی ہو کم سے کم مرنے ہی دیا کرو……
میری تکلیف کو کچھ تو کم کرنے دیا کرو….
ملازمہ دوڑتی ہوئی کمرے میں بی بی جی بی بی کرتی ہوئی داخل ہوئی تھی….
پورا کمرا پرفیوم کی خوشبو سے مہک اٹھا تھا…..
ملازمہ کے پیچھے ہی ایک عورت بھی پریشانی سے دوڑتی ہوئی آئی تھی
اس کا سر اپنی گود میں رکھ کر اسکے گال تھپتھپاتے ہوئے اسکا نام پکارنے لگی
وہ آہستہ آہستہ غنودی کی طرف جانے لگی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*
شافع نے نور کا بازو پورے زور سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تھا
شافع نے اسکا بازو اتنی زور سے پکڑا تھا کہ آئےنور کی چینخ نکل گئ تھی….
آئےنور کے ہاتھ سے پھول ہوا میں بلند ہوئے تیز رفتار گاڑی نور کے بلکل قریب سے گزری تھی
اگر شافع اسے نہ کھینچتا تو پھولوں کے ساتھ ساتھ نور بھی ہوا میں ہوتی…..
شافع نے نور کو کھینچا تو نور کا دوسرا ہاتھ شافع کی گردن پر لگا تھا…..
نور کے ہاتھ میں نوکیلے نگوں والا بریسلیٹ تھا
بریسلیٹ کی وجہ سے شافع کی گردن پر رگڑ لگ گئی تھی
شافع نے جلن سے آنکھیں میچی تھیں….
آئےنور کو اپنے بازو میں شافع کی انگلیاں گڑتی ہوئی محسوس ہوئی اسنے دوسرے ہاتھ سے شافع کوپیچھے دھکّا دے کر اپنا ہاتھ چھڑایا
جیسے ہی شافع نے ہاتھ چھوڑا نور کی کراہ نکلی تھی….
شافع نے حیرت سے نور کو دیکھا
تیز رفتار گاڑی نے کچھ آگے جاکر بریک لگائے تھے
گاڑی میں سے ایک سترہ ، اٹھارہ سالہ لڑکا غصے سے گاڑی کا دروازا بند کرتے ہوئے آئےنور کی طرف آیا
Are you blind?
ابھی میری گاڑی کے نیچے آکر مر جاتیں….
اسنے بہت ہی بدتمیزی سے نور سے کہا تھا نور کچھ بولنے کے لئے آگے بڑھنے لگی شافع اسے پیچھے کر کے اسکے سامنے آکر کھڑا ہوا اور اس لڑکے سے بولا
Yes she is blind. but you have eyes so why are you drive like a blind?
شافع نے اس لڑکے کو اسی کے انداز میں جواب دیا تھا
شافع کو دیکھ کر اس لڑکے کے تاثرات ذرا ڈھیلے ہوئے…..
آئےنور نے خونخوار نظروں سے شافع کو دیکھا لیکن اسے کچھ کہا نہیں….
میں گاڑی دیکھ کر ہی چلا رہا تھا یہ اچانک گاڑی کے سامنے آگئیں……
لیکن تم نے وقت پر بریک نہیں لگائے اور گاڑی بھی تم بہت تیز چلا رہے تھے….
وہ لڑکا اکڑتے ہوئے ڈھٹائی سے بولا نہیں میری کوئی غلطی نہیں ہے یہ دیکھ کر نہیں چل رہی تھیں….
شافع نے اس لڑکے کی گردن سی سی ٹی وی کیمرے کی طرف گھماتے ہوئے کہا….
وہ لگا ہوا کیمرا پاس ہی پولیس اسٹیشن ہے وہاں چل کے دیکھ لیتے ہیں کون کیا کر رہا تھا…..
حالانکہ شافع کو پتا تھا وہ کیمرہ خراب ہے پھر بھی اسنے لڑکے کو زچ کرنا چاہا
وہ لڑکا فوراً پیچھے ہوتے ہوئے بولا
ohhhh fine bro it’s my fault۔
پھر نور کی طرف منہ کر کے بولا
sorry it’s my fault now I should go….
اور فوراً گاڑی کی طرف دوڑ لگا دی….
شافع نے اسے جاتے دیکھا تو دانت پیستے ہوئے بولا
over smart…
پھر نور کی طرف مڑا اور اس پر برس پڑا….
آپ کو مرنا ہے تو کسی بلڈنگ سے کود جائیں ، سمندر میں چھلانگ لگا لیں، زہر کھا لیں,,,
یا کچھ اور آزما لیں
جب ایک طریقہ کام نہیں کرتا تو انسان دوسرا آزمہ لیتا ہے۔ ۔
لیکن آپ ایک ہی کے پیچھے پڑی ہیں اور اگر گاڑی کے نیچے ہی آکر مرنے کا شوق ہے تو جب میں آس پاس نہ ہوا کروں تب مرا کریں
یوں بار بار میرے سامنے گاڑی کے آگے مت آیا کریں….
آئےنور نے اسے غصے سے دیکھتے ہوئے سوچا
“یہ انسان کیسے پل پل میں گرگٹ کی طرح رنگ بدلتا ہے”
آپ کو کیا لگتا ہے کہ میں خودکشی کر کے حرام موت مرنا چاہتی ہوں
اور یہ فضول آئیڈیا مجھے کیوں دے رہے ہیں…..
آپ کے شوق دیکھ کر بتا رہا کیوں کہ مجھے تو یہی لگتا ہے کہ آپ کو زندگی میں صرف دو چیزوں کا شوق ہے ایک گاڑی کے نیچے آنا اور دوسرا لڑنا….
اگر جان بچا لی ہے تو زیادہ اترانے کی ضرورت نہیں ہے تم نا بھی بچاتے تو کوئی نا کوئی بچا ہی لیتا….
شافع نے آئےنور کا بازو پکڑا اور روڈ کی طرف دھکّا دیتے ہوئے بولا جاؤ ذرا میں بھی تو دیکھوں کے کونسے فرشتے نازل ہوتے ہیں تمھے بچانے کے لئے….
نور نے اس کے ہاتھ میں سے اپنا بازو چھڑایا اور دھمکی دینے والے انداز میں بولی
ہاتھ مت لگانا اب مجھے ہاتھ توڑ دوں گی تمھارے…..
نور اپنا بازو سہلا رہی تھی…..
اور تم اتنا قریب کیوں کھڑے ہو میں نے کہا تھا نا کہ مجھ سے چار فٹ کے فاصلے پر رہا کرو…..
شافع نے اسے بے یقینی سے دیکھا کیا کوئی اتنا احسان فراموش بھی ہو سکتا ہے؟
نور زمین پر بکھرے پھول اٹھانے لگی شافع کے پیر کے پاس بھی کچھ پھول پڑے تھے شافع نے ان پھولوں کو اٹھایا تو نور چینخی۔ ۔
ہاتھ مت لگانا میرے پھولوں کو میں خود اٹھا لوں گی….
شافع نے پھول مارنے والے انداز میں اسکے منہ پر پھینکے اور اپنے کپڑے جھاڑتے ہوئے اٹھ گیا…..
آئےنور کا منہ کھل گیا…..
شافع اپنی گاڑی کی طرف جانے لگا تو اسے دیکھ کر بولی
وڈیرہ کہیں کا…..
شافع نے سنا تو اسکے قدم رک گئے لیکن مڑا نہیں اسنے غصے سے مٹھیاں بھینچیں اور بڑے بڑے ڈک بھرتا ہوا گاڑی میں آکر بیٹھ گیا
اسے سخت چڑ تھی اس الفاظ سے
“ایک دفعہ اسکول میں اسکے کلاس کے ہی لڑکے نے مزاق میں اسے وڈیرہ کہا تھا
شافع نے اس لڑکے کے منہ پر اتنی زور سے مکّا مارا تھا کہ اس لڑکے کا ایک دانت آدھا ٹوٹ گیا تھا……
شافع نے بیک ویو مرر سے نور کی طرف دیکھا
نور نے سارے پھول اٹھا لئے تھے اور اب وہ بِرج کی طرف جارہی تھی…..
“راہگیروں کی مدد تمھے کسی دن بہت مہنگی پڑے گی شافع وارثی”
اسنے خود سے ہی سرگوشی کی اور گاڑی سٹارٹ کر کے ریورس لینے لگا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*
آئےنور گھر پہنچی تو پھولوں کو ٹیبل پر رکھ کر اسکارف اور چادر کو غصے سے صوفے پر پھینکا…..
اس کے بازو میں شدید درد ہو رہا تھا اسنے بازو کو سہلایا اور پھر پھول اٹھا کر بالکونی میں آگئ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
بالکونی میں آٹھ، دس گملے تھے سب میں کوئی نہ کوئی خوبصورت پھول لگا ہوا تھا
گریل بھی پھولوں اور پتّوں کی بیل سے سجی ہوئی تھی
نور نے اسے اپنا mini garden بنایا ہوا تھا….
پھولوں پر مٹی لگ گئی تھی…
نور نے پھولوں کو ایک نظر دیکھا پھر ایک گملہ جو خالی پڑا تھا اسکی مٹی خودنے لگی….
ارمینہ بیگم کچن سے باہر آئیں
اسے دیکھ کر حیرت سے پوچھا تم تو پھول لینے گئیں تھی
اب یہ سب کیا کر رہی ہو…
آئےنور منہ بناتے ہوئے بولی جی پھول لے بھی لئے اور خراب بھی ہوگئے….
ارمینہ بیگم پھولوں کو دیکھتے ہوئے بولیں
یہ ان پر اتنی مٹی کیسے لگ گئی گر گئے تھے کیا؟
جی ایک تیز رفتار گاڑی آئی اور پھول ہوا میں…..
نور ہاتھ ہوا میں ہلاتے ہوئے بولی
ارمینہ بیگم پریشانی سے اسکے پاس آئیں تیز رفتار گاڑی تمھے لگی تو نہیں نا تم ٹھیک ہو؟
آئےنور مٹی خودتے ہوئے ہی بولی جی ماما ٹھیک ہوں تبھی تو یہاں ہوں ورنہ ہسپتال میں ہوتی نا
ارمینہ بیگم نے اسکے سر پر چپت لگائی بکواس مت کرو
اور اب ان پھولوں کو دفنانا ہے کیا جو مٹی خود رہی ہو؟؟؟ پھینکو انھے،،،،،،
آئےنور خفا ہوتے ہوئے بولی کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ ماما پھولوں کو پھینک دوں
مجھے تو سوکھے پھولوں کو بھی پھینکتے ہوئے دوکھ ہوتا ہے ان میں تو پھر بھی ابھی جان ہے،،،،،،
ہاں ہاں پتا ہے مجھے تمھارا بس چلے تو پھولوں کی دکان کھول لو…..
آئےنور انھے تنگ کرتے ہوئے بولی جی جی میں کچھ نہیں بھی بنی تو پھول والی ضرور بنوں گی…….
آئےنور نے گملے میں سے کچھ مٹی نکال کر باہر رکھی……
نور تم کیوں ہاتھ گندے کر رہی ہو……
ماما کچھ نہیں ہورہا آپ مجھے ذرا ان پھولوں کے اوپر پانی مار کے دے دیں…..
ارمینہ بیگم پھولوں کو اٹھا کر کچن کی طرف بڑھ گئیں…….,,
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*
شافع کھانا کھا کر کمرے میں آیا کپڑے چینج کرنے کے بعد صوفے پر لیپ ٹاپ اون کئے بیٹھا تھا…….
وہ شاید کوئی اسائمنٹ بنا رہا تھا…..
جب اسے ایک کال آئی…..
شافع نے کال ریسیو کر کے کان سے لگا کر ہیلو کہا لیکن دوسری طرف سے کوئی آواز نہیں آئی……
اسنے کال رکھ دی وہ دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہوگیا موبائل دوبارہ بجا…..
اسنے دوبارہ کال ریسیو کر کے ہیلو کہا لیکن کسی کا جواب نہیں آیا تو وہ جیسے ہی کال کاٹنے لگا دوسری طرف سے کسی نے اسکا نام پکارا تھا….
شافع,,,,,,
شافع نے شاید آواز نہیں پہچانی تھی اس لئے پوچھا
کون؟؟؟؟
دوسری طرف سے کچھ دیر کے لئے خاموشی چھائی تھی…..
کال کرنے والے نے جب اپنا نام بتایا تو اسکے چہرے پر حیرانگی چھائی تھی…..
اس کال کے لئے شاید اسے یہ وقت مناسب نہیں لگا تھا،،،،،،
شافع اٹھ کر بالکونی کی طرف چلا گیا،،،،،
کچھ دیر بعد جب وہ لوٹا تو اسکے چہرے پر نہ مسکراہٹ تھی نہ پریشانی بس عجیب سی بےچینی تھی
وہ کچھ دیر اسی طرح بیٹھا رہا پھر سر جھٹک کر کام کی طرف متوجہ ہوا لیکن اسکا کام میں دھیان نہیں لگ رہا تھا……
اسنے لیپ ٹاپ بند کر کے ٹیبل پر رکھا اور صوفے پر ہی آنکھوں پر بازو رکھ کے لیٹ گیا…..
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*
زایان یونی جانے کے لئے تیار ہو رہا تھا شیشے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے اوپر اسپرے کرتے ہوئے خود کی ہی تعریفیں کرا جارہا تھا……
زایان آج تو بہت پیارے لگ رہے ہو جاتے ہوئے کالا ٹیکا لگوا لینا کہیں حسیناؤں کی نظر نہ لگ جائے…..
وہ بول کر خود ہی ہنس دیا سیڑھیاں اتر کر نیچے آیا تو ارفہ بیگم کچن میں تھیں وہ سیدھا میراب کے کمرے میں چلا گیا…..
دروازا کھٹکھٹا کر کمرے میں داخل ہوا تو میراب سو رہی تھی….
زایان اسے دیکھ کر پیار سے مسکرایا وہ کمرے سے باہر جانے ہی لگا تھا
جب اسکی نظر سائڈ ٹیبل پر پڑی جس پر چاکلیٹ کا ڈبّہ پڑا تھا جو کل شافع لے کر آیا تھا
اسنے خاموشی سے ڈبّہ کھولا اور مٹّھی بھر کے چاکلیٹ نکالی اور کمرے سے باہر آگیا…….
باہر آکر وہ کچن کی طرف بڑھا زایان بیٹھ جاؤ ناشتہ کر لو……
زایان نے جوس کا گلاس اٹھایا اور گھٹاگھٹ پی گیا،،،،،
پراٹھے پر اسنے تقریباً آدھی جیم کی شیشی انڈیلی رول بنایا اور ٹشو اٹھا لیا نہیں ماما دیر ہو رہی ہے ناشتہ نہیں کروں گا،،،،،
پھر فروٹ باسکٹ میں سے سیب اٹھایا اور بیگ میں ڈال لیا…..
ارفہ بیگم کو پیار کرتے ہوئے بولا اللہ حافظ اور باہر نکل گیا
وہ دوسرے لوگوں کی طرح نہیں تھا جو ہڑبڑی مچاتے ہوئے بولے نہیں ماما دیر ہورہی ہے ناشتہ نہیں کروں گا کہہ کر باہر نکل جائیں،،،،،
وہ زایان حیدر تھا جو کھڑے کھڑے سب کچھ کھانے اور بیگ میں بھرنے کے بعد بولتا تھا نہیں ماما ناشتہ نہیں کروں گا……
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*
شافع ڈریسنگ کے سامنے کھڑا شرٹ کے بٹن لگا رہا تھا وہ کالر صحیح کرنے لگا جب اسے گردن پر رگڑ کا نشان نظر آیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اسنے اس جگہ پر ہاتھ پھیرا تو اسے ہلکا سا درد کا احساس ہوا….
کل بھی پورا دن اسے جلن محسوس ہوئی تھی لیکن اسنے دھیان نہیں دیا وہ اپنی تکلیفوں پر زیادہ دھیان ہی کب دیتا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔
زخم پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اسے یاد آگیا تھا کہ یہ زخم اسے کب لگا تھا….
اور یاد کرتے ہی اسکے چہرے پر ناگواری پھیلی تھی…..
اسے سب سے زیادہ اپنے عجیب وغریب نام سننا ناگوار لگتا تھا…..
پرفیوم لگاتے ہوئے اسنے غصے سے سوچا جب ملتی ہے نیا نام اور نام بھی ایسے جو مجھ پر سوٹ ہی نہ کرتا ہو….,
کل کیا بول رہی تھی وڈیرہ،،،،
میں بھلا کہاں سے لگتا ہوں وڈیرہ میری کیا لمبی لمبی مونچھیں ہیں اسنے اپنی ہلکی داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے سوچا….
اور اگلے ہی لمحے اسکے ذہن میں خیال آیا اسنے تمھے چھچھوندر بھی کہا تھا شافع تو کیا تم چھچھوندر لگتے ہو؟
شافع نے فوراً جھنجھلاہٹ سے کہا توبہ توبہ……
کل تم نے شلوار قمیض پہنی تھی کہیں اسلئے تو اسنے تمھے وڈیرہ نہیں کہا….
اس دن تم نے ہوڈی پہنی تھی اور اسنے تمھے چھچھوندر کہا تھا….
شافع فوراً ڈریسنگ پر ہاتھ مارتے ہوئے بولا،،،،
اووہ تو یہ میرے کپڑے دیکھ کر مجھے عجیب و غریب ناموں سے نوازتی ہے….
تو پھر پہلی بار ریسٹورنٹ میں جب ملی تھی تب کیا نام رکھا ہو گا اس احمق لڑکی نے؟؟؟
شافع نے سر جھٹک کر مٹھیاں بھینچیں…
آآآآآآآآآآآآآآ یہ لڑکی تو سر درد بنتی جارہی ہے اسکا کچھ نہ کچھ کرنا پڑے گا…
شافع اپنی عادت کے بر خلاف جاکر کسی کو اتنا سوچ رہا تھا اور سوچتے ہی اسے غصہ بھی آجاتا تھا…..
شافع اپنا بیگ لے کر نیچے اترا تیمور وارثی اور تہمینہ بیگم ناشتے کی ٹیبل پر پہلے سے بیٹھے تھے تیمور صاحب اپنے چہرے کے آگے اخبار پھیلائے بیٹھے تھے….
شافع کو دیکھا تو اخبار لپیٹ کر نیچے رکھ دیا
شافع ان دونوں کو سلام کر کے کھڑے کھڑے ہی بریڈ پر مکھن لگانے لگا….
یوں گھوڑے پر سوار کیوں ہوئے ہو بیٹھ کر ناشتہ کرو……
نہیں مجھے دیر ہو رہی ہے…..
تیمور وارثی اپنی بات پر زور دیتے ہوئے بولے۔ ۔ ۔
بیٹھو، مجھے تم سے بات کرنی ہے،،،،
شافع نے نظریں اٹھا کر تہمینہ بیگم کو دیکھا تو انھوں نے بھی اسے نظروں سے بیٹھنے کا اشارہ کیا….
تو وہ بیٹھ گیا
تیمور صاحب نے بات کا آغاز کیا…
تمھارے چاچو آرہے ہیں شام میں۔ ۔ ۔
شافع جوس پیتے ہوئےکندھے اچکا کر بولا اچھا تو پہلی بار تو نہیں آرہے….
تیمور صاحب نے ضبط سے سانس کھینچنا…….
وہ کسی خاص مقصد سے یہاں آرہا ہے اور میرے خیال سے وہ بات تمھارے علم میں بھی ہے……
شافع کچھ سوچتے ہوئے بولا دادو بھی آرہی ہیں؟
نہیں وہ شاید نہ آئیں ابراہیم اکیلا آئے گا…..
شافع اٹھتے ہوئے بولا تو پھر جب وہ آئیں گے تب ہی بات کریں گے…..
شافع نے اپنا بیگ اٹھایا اور باہر نکل گیا….
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*
آئےنور اور منہا کلاس کے لئے جارہی تھیں جب زایان نے پیچھے سے انھے آواز دی….
اسنے انکا نام نہیں لیا تھا اسنے انھیں لیڈیز کہہ کر آواز لگائی تھی…..
آئےنور اور منہا دونوں نے مڑ کر اسے دیکھا……
آئےنور نے جیسے ہی زایان کو دیکھا آسمان کے طرف منہ کر کے بولی صبح صبح مل گیا یااللہ اسے برداشت کرنے کی ہمت دینا…..
زایان ہاتھ ہلاتا ہوا انکے پاس آگیا….
منہا زایان سے مسکراتے ہوئے بولی اپنے ہمیں لیڈیز کہا ہم کیا آپ کو لیڈیز لگتی ہیں….
زایان شوق مسکراہٹ کے ساتھ بولا نہیں لگتی تو نہیں ہیں
لیکن اگر میں آپ لوگوں کو “بےبی” کہتا تو آپ کا تو پتا نہیں لیکن آئےنور ضرور برا مان جاتیں،،،،
ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ صرف آئےنور کیوں میں بھی برا مانتی،،،،،
منہا نے منہ بناتے ہوئے کہا
زایان منہا کی طرف آگے ہوتے ہوئے بولا
ریئلی..؟ آپ کے انداز سے لگتا تو نہیں ہے
وہ منہا کو منہ پر ہی ذلیل کر رہا تھا….
منہا کے اعصاب تن گئے…..
منہا منہ بنا کر آئےنور سے بولی نور کلاس کے لئے دیر ہو رہی ہے میں جارہی ہوں تم آجانا…..
زایان کی طرف دیکھ کر اسنے دانت پیس کر کہا
بدتمیز اور کلاس کی طرف بڑھ گئ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
زایان نور کی طرف دیکھتے ہوئے بولا چلیں کیفے؟
آئےنور اُکتاہٹ سے بولی زایان پلیز آپ خود جاکر نہیں کھا سکتے،،،،،
زایان دانت نکالتے ہوئے بولا بلکل نہیں…..
آئےنور نے غصے سے زایان کو دیکھا اور بڑے بڑے قدم لیتی ہوئی کیفے کی طرف جانے لگی…..
زایان اسکے پیچھے بھاگتا ہوا بولا
ارے مجھے کہاں چھوڑ کے جارہی ہو کھانا مجھے ہے تمھے نہیں…..
کیفے پہنچ کر زایان نے بیٹھتے ہوئے ویٹر کو آواز لگائی پھر آئےنور سے بولا آپ کھڑی کیوں ہیں بیٹھیں نا۔ ۔ ۔ ۔ ۔
آئےنور ہاتھ باندھتے ہوئے بولی نہیں مجھے کلاس کے لئے جانا ہے آپ اپنا آرڈر دیں میں پے کر کے جارہی ہو….
زایان اٹھتے ہوئے بولا ایکسکیوزمی میڈم اسے ناشتہ لانے میں اور مجھے کھانے میں ٹائم لگے گا تو تب تک کیا میں اکیلا بیٹھا رہوں گا…..
آئےنور آنکھیں بڑی کرتے ہوئے بولی تو آپ کیا چاہتے ہیں میں آپکو کھاتے ہوئے دیکھوں؟
زایان کندھے اچکاتے ہوئے بولا میں نے ایسا تو نہیں کہا
لیکن وہ جب تک سَرو نہیں کرے گا تب تک تو بیٹھ جائیں پیسے بھی وہ تبھی لے گا…..
ویٹر زایان کے پاس آگیا تھا زایان نے نور کو بیٹھنے کا اشارہ کیا اور خود بھی بیٹھ گیا……
آئےنور اسے گھورتے ہوئے کرسی پیچھے کر کے بیٹھ گئی…..
کیفے کے سب ہی لوگ زایان کو بہت اچھے سے جانتے تھے وہ لڑکا زایان سے حال احوال پوچھنے لگا…..
زایان بھائی آج شافع نہیں آیا آپ کے ساتھ ؟؟؟
نہیں وہ ابھی تک نہیں آیا آنے والا ہوگا….
آئےنور نے تنک کے کہا آپ کی سلام دعا کا سلسلہ مکمل ہو گیا ہو تو آرڈر کر دیں مجھے کلاس کے لئے دیر ہو رہی ہے…..
زایان کو مینیو کارڈ دیکھنے کی ضرورت نہیں پڑی اسے سب پتا تھا کے کس کینٹین اور کیفے میں کیا کیا ملتا ہے…..
زایان نے سامنے کھڑے لڑکے(ویٹر) سے پوچھا یہ بتاؤ کچھ نیا رکھا ہے تم لوگوں نے؟؟؟
ہاں رکھا ہے نہ صبح میں قیمے کے پراٹھے اور دوپہر میں سینڈوچ……
زایان کی آنکھوں میں چمک آئی اور نور کے چہرے پر پریشانی چھائی…
زایان خوشی سے مسکراتے ہوئے بولا ٹھیک ہے پھر ابھی تم پانچ قیمے کے پراٹھے اور چائے لیاؤ….
زایان نے نور سے پوچھا آپ کچھ کھائیں گی؟؟؟؟
آئےنور نے جھنجھلاہٹ سے کہا نہیں.
زایان نے کندھے اچکائے ٹھیک ہے پھر تم ابھی بس یہی لیاؤ کچھ چاہیئے ہو گا تو میں بول دوں گا….
ویٹر جانے لگا تو آئےنور نے اسے روک کر پیسے نکالتے ہوئے کہا آپ پیسے ابھی لے جائیں
اس ویٹر نے کہا نہیں ہم سَرو کرنے کے بعد بل دیتے ہیں آپ پے منٹ بھی تبھی کریئے گا……
آئےنور نے ویٹر کو گھورا تو وہ چلا گیا…..
میں نے آپ کو بتایا تھا کہ یہ لوگ سَرو کرنے کے بعد بِل دیتے ہیں آپکو کیا لگا میں جھوٹ بول رہا ہوں…..
آئےنور نے کچھ نہیں کہا بس اسے گھورا…..
زایان کچھ دیر خاموش رہا پھر بولا آپ نے اس کیفے کی چائے پی ہے بہت اچھی ہوتی ہے……
آئےنور نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا کیا آپ چپ رہ سکتے ہیں؟
زایان نے کندھے اچکائے اوکے…..
پھر اِدھر اُدھر دیکھنے لگا
آئےنور کتاب کھول کر بیٹھی ہوئی تھی
زایان پھر کچھ دیر بعد بولا کونسی کتاب پڑھ رہی ہیں…..
آئےنور نے پھر اسے کھا جانی والی نظروں سے گھورا…..
آپ نے پڑھنی ہیں؟؟؟
نہیں میں تو ایسی پوچھ رہا ہوں….
آئےنور نے پھر نظریں کتاب پر جما دی اور زایان چپ رہنے کی ناکام کوشش کرنے لگا…..
کچھ دیر بعد جھنجھلاہٹ سے بولا ارے بھئی مجھ سے نہیں بیٹھا جارہا چپ….
آئےنور کتاب بند کرتے ہوئے بولی تو یہ آپکا مسئلہ ہے میرا نہیں….
کیا ہم کوئی بات نہیں کرسکتے؟
آئےنور نے بھنویں اٹھاتے ہوئے پوچھا میں آپ سے کیا بات کروں……
کچھ بھی اپنی مصروفیات ہی بتا دو، یا یہ بتادو سنگل ہویا منگل…..
آئےنور کتاب بیگ میں رکھتے ہوئے سنجیدگی سے بولی شادی شدہ ہوں میں
دو سال کا بیٹا ہے میرا……
زایان کا حیرت سے منہ کھل گیا اور کرسی پر سے کھڑا ہوگیا
آئےنور سنجیدگی کو قائم رکھتے ہوئے اطمینان سے بولی کیا ہوا؟؟؟
زایان بنا پلک جھپکائے اسے دیکھتا رہا مزاق کر رہی ہو؟؟
میں آپ سے کیوں مزاق کروں گی مجھے نہیں لگتا ہماری کوئی اتنی اچھی بات چیت ہے کہ میں آپ سے مزاق بھی کروں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
زایان کے لئے یہ بات ہضم کرنا مشکل ہورہی تھی دو سال کا بیٹا بھی ہے؟
آئےنور آنکھیں پٹپٹاتے ہوئے بولی جی بلکل ہے تصویر دیکھاؤں……؟
آئےنور نے مشکل سے اپنی ہنسی کو قابو کیا تھا…..
اس سے پہلے کے زایان کچھ اور پوچھتا آئےنور کے پیچھے شافع آکر کھڑا ہوا….
زایان تم کلاس چھوڑ کر یہاں کیا کر رہے ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اور یہ کون ہے شافع پوچھتے ہوئے آئےنور کے سامنے آیا آئےنور نے سر اٹھا کر اسے دیکھا تو وہ فوراً کرسی سے اٹھی……
تم……..
زایان نے ان دونوں کو باری باری دیکھا انکے تاثرات سے اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ دونوں پہلے سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں،،،،،
تم دونوں ایک دوسرے کو پہلے سے جانتے ہو…..؟
شافع نے زایان کی طرف دیکھا پھر آئےنور کی طرف دیکھتے ہوئے بولا بہت اچھے سے جانتا ہوں…..
آئےنور نے دانت پیس کر منہ ہی منہ میں شافع کو کچھ کہا تھا….
یہ وہی ہے زایان جو ہر جگہ لڑنے کے لئے نازل ہو جاتی ہے….
زایان نے بھنویں اٹھا کر شافع کو دیکھا….
آئےنور ٹیبل پر ہاتھ مارتے ہوئے بولی
میں ہر جگہ نازل ہو جاتی ہوں یا تم ہر جگہ میرا پیچھا کرتے ہوئے آجاتے ہو….
زایان تماشائی کی طرح ان دونوں کو باری باری دیکھنے لگا…..
شافع نے طنزیہ ہنسی کے ساتھ کہا خوش فہمیوں کے پہاڑ کچھ زیادہ اونچے نہیں کر لئے ہیں آپ نے……
میں نے پہاڑ اونچے نہیں کئے تمھارے دماغ میں دراڑیں پڑ گئی ہیں
شافع نے دانت پیستے ہوئے غصے سے کہا
انسان کچھ لحاظ ہی کر لیتا ہے لیکن آپ کو اتنی تمیز کہاں….
شافع نے کل والی بات کا حوالہ دینا چاہا……
اوہ لحاظ وہ بھی تمھارا کیوں تم کوئی بہت بڑی سیلیبریٹی ہو، اس یونیورسٹی کے مالک ہو یا کسی بزنس مین کے بیٹے ہو…..
اب آپ بدتمیزی کر رہی ہیں…..
اس سے پہلے کے وہ اور لڑتے زایان بیچ میں کودا …..
ارے ارے بس کرو یار ہو کیا رہا ہے مجھے بھی بتا دو تاکہ مجھے بھی کچھ سمجھ آئے قریب بیٹھے اسٹوڈنٹس بھی انکی طرف متوجہ ہو گئے تھے…..
اور آئےنور بی بی آپ کی اطلاع کے لئے بتادوں کے ہمارا شافع بہت بڑی نہ صحیح لیکن سیلیبریٹی ہے
اور بہت بڑے بزنس مین کا بیٹا بھی،،،
شافع زایان کی طرف مڑا اور زایان کا گریبان پکڑ کر بولا پہلے تو مجھے یہ بتا کہ تو اس لڑکی کے ساتھ یہاں کیوں بیٹھا تھا،،،،،،
زایان اپنا گریبان چھڑاتے ہوئے بولا ارے یار تم غلط سمجھ رہے ہو یہ وہی لڑکی ہے جس کا ایڈمیشن کروایا تھا۔ ۔ ۔ ۔
جی یہی ہے وہ گدھا جس نے میرا ایڈمیشن کروایا ہے آئے نور زایان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے شافع سے بولی…..
زایان غصے سے بولا آپ نے مجھے گدھا کہا؟؟؟
آئےنور شافع کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی میں نے نہیں انھوں نے کہا تھا کہ کس گدھے نے تمھارا ایڈمیشن کروایا ہے…..
زایان کا قہقہہ بلند ہوا اور ہنستے ہنستے وہ کرسی پر بیٹھ گیا….
اسکی ہنسی رکی اسنے شافع کی طرف دیکھا اور پھر دوبارہ اسکی ہنسی چھوٹ گئی….
آئےنور اسے تعجب سے دیکھتے ہوئے سوچنے لگی پہلا انسان دیکھا ہے جو خود کو گدھا کہنے پر اتنے دانت نکال رہا ہے…..
زایان کھڑا ہو کر شافع کے کان میں بولا مطلب تو نے جانے انجانے میں خود کو ہی گدھا کہہ دیا زایان کا پھر قہقہ بلند ہوا تھا…..
شافع نے اپنے بازو میں زایان کی گردن دبوچی۔ ۔ ۔
آئےنور فوراً چینخھی یہ کیا کر رہے ہو تم چھوڑو اسے،،،،،
شافع اسکی طرف دیکھ کر غصے سے بولا آپ ہمارے بیچ میں مت بولیں…..
زایان پورا زور لگا کر خود کو شافع کی گرفت سے آزاد کرنے کی کوشش کر رہا تھا….
شافع نے گرفت اور مضبوط کری….
شافع پلیز چھوڑ دے شافع پلیز …
انھیں دیکھ کر آئےنور کو ڈر لگ رہا تھا نور پھر بولی چھوڑو اسے مر جائے گا وہ….
شافع نے اسے خونخوار نظروں سے دیکھا تو وہ چپ ہو گئی…..
شافع نے کچھ دیر بعد زایان کو چھوڑ دیا…..
زایان شرٹ ٹھیک کرتے ہوئے بولا کیا یار چھوٹی چھوٹی باتوں پر رئیکٹ کر جاتے ہو…..
پھر آئےنور کی طرف دیکھ کر بولا
you don’t worry
ہمارا یہ چلتا رہتا ہے…..
ویٹر نے پراٹھے، چائے اور بل لاکر ٹیبل پر رکھا
آئےنور نے بل دیکھا پیسے ٹیبل پر پھینکے پہلے زایان کو گھورا پھر شافع کو گھورا…..
شافع کے برابر سے نکلتے ہوئے روک کر شافع کی طرف دیکھا اور بولی
“سنکی”
اور دوڑ لگادی
شافع نے غصے سے مٹھیاں اور ہونٹ بھینچے…..
زایان نے شافع کو کرسی پر بٹھایا اور خود سامنے والی کرسی پر بیٹھ کر بولا
ریلیکس یار اتنا غصہ کیوں کر رہے ہو…..
شافع ٹیبل پر ہاتھ مارتے ہوئے آگے ہو کر بولا مجھے پتا ہوتا کہ یہ وہ لڑکی ہے جس کا میں ایڈمیشن کروا رہا ہوں تو میں اسی ٹائم اسکے سارے ڈاکومنٹس جلا دیتا اسنے پھر غصے سے ٹیبل پر ہاتھ مارا تھا…..
دور بیٹھا کیفے کا مالک بولا
شافع بھائی غصہ آپ کا ہے لیکن ٹیبل ہماری ہے ذرا ہلکا ہاتھ رکھو….
زایان نے اسکے سامنے پانی رکھا اچھا چھوڑو یار پانی پیو غصہ ٹھنڈا کرو اور پراٹھے کھاؤ…
یہ اسکے پیسوں کے ہیں….
زایان نے کھانا بھی شروع کر دیا تھا ہاں…
تو تم ہی کھاؤ..
شافع نے پلیٹ وآپس زایان کی طرف کھسکا دی…..
زایان نے کندھے اُچکاتے ہوئے کہا جیسی تمھاری مرضی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
