Izhar-e-Muhabat by Anooshe NovelR50417

Izhar-e-Muhabat by Anooshe NovelR50417 Izhar-e-Muhabat Episode 20

219.9K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Izhar-e-Muhabat Episode 20

Izhar-e-Muhabat by Anooshe

شافع نے فائل اٹھا کر اپنے سامنے بیٹھی لڑکی کو دیکھا…..

جس کے گلے میں دوپٹہ، بال کھلے اور میک اپ سے لدے ہوئے چہرے پر ایک گہری مسکراہٹ تھی…..

شافع نے پہلے تسلی سے فائل دیکھی پھر سامنے بیٹھی لڑکی سے مخاطب ہوا،،،،

جی تو مس فرواح آپ یہ جوب کیوں کرنا چاہتی ہیں؟؟

شافع کو اپنے آفس کے لئے نئے ورکرز کی ضرورت تھی جس کے انٹر ویو آج رکھے گئے تھے…..

اس لڑکی کے ہونٹوں پر مسلسل مسکراہٹ تھی اور نظریں شافع پر……

کیونکہ گریجویشن کے بعد میں فارغ تھی تو میں نے سوچا کوئی جوب کر لوں وقت گزر جائے گا……

وہ دونوں ایک دوسرے سے انگریزی میں مخاطب تھے…..

شافع نے بھونیں اچکائیں اور اپنے لیپ ٹاپ کی طرف دیکھنے لگا…..

تو آپ صرف وقت گزارنے کے لئے جاب کرنا چاہتی ہیں…..

اس لڑکی نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا جی…..

لیکن ایسے بہت سے لوگ یہاں انٹرویو کے لئے آئے ہوئے ہیں جنھے اس جاب کی ضرورت ہے تو میں آپ کو ان لوگوں پر فوقیت کیوں دوں؟؟؟

اس لڑکی نے کچھ سوچتے ہوئے کہا،،، مجھے لگتا ہے میں ان سے زیادہ اچھا کام کر سکتی ہوں اور مجھے سیلری کا بھی کوئی ایشو نہیں ہوگا آپ جتنی دیں گے میں اتنی رکھ لوں گی……

شافع نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا وہ لڑکی ابھی بھی شافع کو بغور دیکھ رہی تھی……

پہلی بات تو یہ کہ کون کتنا اچھا کام کر سکتا ہے یہ تو کام دیکھنے کے بعد ہی پتا چلتا ہے،،،، اور دوسری بات یہ کہ یہاں سیلری محنت سے کام کرنے کی ملتی ہے مجھے دیکھنے کی نہیں…..

اس لڑکی نے فوراً شافع پر سے نظریں ہٹائیں وہ شرمندہ ہوئی تھی…..

شافع فائل اسکی طرف بڑھاتے ہوئے بولا بہت شکریہ آنے کا اگر ہمیں آپکی ضرورت ہوئی تو آپکو انفارم کر دیا جائے گا……

وہ لڑکی اپنی فائل اٹھا کر باہر چلی گئی….

شافع نے اووفف کرتے ہوئے سر پر ہاتھ پھیرا پھر ریسیور اٹھا کر کال لگائی…..

ہیلو،،،، جاوید صاحب باقی کے انٹرویو آپ سنبھال لیں اور پلیز مجھے کام کرنے کے لئے لوگ چاہئیں ماڈلنگ کے لئے نہیں تو اس بات کا خاص دھیان رکھئے گا…..

شافع نے ریسیور رکھ دیا……

شافع اپنے دوسرے لیپ ٹاپ کی طرف گھوما جس میں کسی میٹنگ روم کی سی سی ٹی وی فوٹیج چل رہی تھی….

شافع نے ہینڈ فری لیپ ٹاپ سے کنیکٹ کر کے کان میں لگا لئے…..

کمرے میں دس سے بارہ لوگ تھے جو شاید کسی کا انتظار کر رہے ٹھیک دو منٹ بعد براؤن رنگ کے تھری پیس سوٹ اور اور بلیک بوٹ میں ایک لڑکا ہال میں داخل ہوا…..

دائیں ہاتھ میں گھڑی بائیں کان میں بلو توت اور بالوں کو جیل سے سیٹ کیا ہوا تھا……

یہ اور کوئی نہیں بلکہ زایان حیدر تھا…..

اسکے کمرے میں داخل ہونے پر سب کھڑے ہوئے تو اسنے مسکراتے ہوئے گردن ہلا کر سب کو بیٹھنے کا اشارہ کیا……

آتے ہی اسنے سب سے پہلے پانی کا گلاس ہونٹوں سے لگا لیا چند گھونٹ لے کر گلاس اسنے وآپس رکھا اور لیپ ٹاپ کی طرف متوجہ ہوا…..

وہ کوئی فائلیں کھول رہا تھا، لیپ ٹاپ پروجیکٹ سے کنیکٹ تھا جب وہ اپنی مطلوبہ فائل کھول چکا تو دونوں ہاتھ ملا کر مسکراتے ہوئے سیدھا ہوا…….

شافع کونی کرسی سے ٹکا کر ہونٹوں پر انگلیاں رکھے لیپ ٹاپ پر نظریں جمائے بیٹھا تھا

زایان نے میٹنگ کا آغاز اپنی زندگی سے بھرپور مسکراہٹ اور اور تعارف کے ساتھ کیا،،،،

بس فرق یہ تھا کہ اس وقت اسنے اپنے نام کے ساتھ مشہور و معروف بزنس مین نہیں لگایا تھا…..

تعارف کے بات اسنے لیپ ٹاپ پر کلک کیا اور سب کی توجہ پروجیکٹر کی طرف کروائی اور بڑے ہی تحمل سے اپنا موضوع بیان کرنے لگا۔ ۔ ۔ ۔ ۔

اسکی اب تک میٹنگ میں ہر دفعہ شافع اسکے ساتھ ہوتا تھا اور جب شافع ہوتا تھا تو اسے کچھ کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی یہ اسکی پہلی میٹنگ تھی جو وہ اکیلے سنبھال رہا تھا

زایان کا یہ انداز میٹنگ میں موجود ان لوگوں کے لئے بھی حیران کُن تھا جو زایان کے مزاج سے واقف تھے…..

یہاں تک کے ان میں سے کچھ لوگ تو یہ سوچ کر اس میٹنگ میں شامل ہوئے تھے کہ میٹنگ زایان حیدر اکیلے سنبھالے گا تو یہ پروجیکٹ تو انکے ہاتھ سے گیا…..

لیکن زایان کی کارکردگی دیکھ کر وہاں سب ہی حیران رہے تھے….. دوسری طرف وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ شافع کے چہرے پر بھی مسکراہٹ پھیل رہی تھی….

اپنا موضوع بیان کر کے زایان کرسی پر آکر بیٹھا اور پانی کا گلاس اٹھا لیا…..

ایک نظر گھڑی پر ڈالی پھر سب کے سوالوں کے جواب دینے لگا وہ کسی بہت پروفیشنل انداز میں سب سنبھال رہا تھا

میٹنگ کے اختتام پر زایان کے چہرے پر اطمینان ہی اطمینان تھا ایک فائل اسنے اپنے سامنے بیٹھے شخص کی طرف بڑھائی…..

شافع دم سادھے یہ منظر دیکھنے لگا.۔۔۔۔۔

انھوں نے ایک تفصیلی نظر فائلوں پر ڈالی اور سائن کر دئیے…..

زایان کی مسکراہٹ گہری ہوئی…..

شافع خوشی سے ٹیبل پر ہاتھ مارتا ہوا کھڑا ہو

Yes…That’s like my buddy….

زایان نے باری باری سب سے ہاتھ ملایا کچھ دیر بعد ایک ایک کر کے لوگ کمرے سے باہر جانے لگے آخر میں جب زایان فائلیں سمیٹ کر کمرے سے نکلنے لگا تو اسکا موبائل بجا…..

شافع کا نمبر دیکھ کر اسنے مسکراتے ہوئے کال اٹھا لی……

اسکے کچھ کہنے سے پہلے ہی شافع دوسری طرف سے خوشی سے بولا…..

مجھے پتا تھا تم کر لو گے… زایان کو حیرت ہوئی.. کیا؟؟؟

اسے ذرا بھی اندازہ نہیں تھا کہ شافع اپنے آفس میں بیٹھا سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھ رہا ہوگا…..

یہی کہ تم اکیلے بھی کافی ہو تمھے اندازہ نہیں ہے کہ اس پروجیکٹ پر کتنے لوگوں کی نظر ہے یہ سمجھ لو کہ تم شیروں کہ بل میں سے شیرنی چرا لائے ہو…..

زایان کا قہقہہ بلند ہوا کیا میں نے سچ میں اتنا بڑا کام کیا ہے؟؟؟

ہاں ہاں بالکل،،،،، زایان ہنسا یہ تو تم میرے لئے کہہ رہے ہو تم تو روز ایسی میٹنگ ہینڈل کرتے ہو،،،، لیکن مجھے یہ بتاؤ میں نے تو تمھے بتایا نہیں تو تمھے کیسے پتا چلا کہ پروجیکٹ ہمیں مل گیا ہے……

شافع ہنستا ہوا بولا زایان حیدر کسی کام کے لئے جائے اور وہ کام نہ ہو ایسا ہو سکتا ہے کیا؟؟

بس بس مجھے پتا ہے تمھے تمھارے کسی خبری جن نے خبر کر دی ہو گی…..

شافع گردن ہلا کر بولا ہمم ایسا ہی سمجھ لو….

پھر شافع سنجیدہ ہوتے ہوئے بولا

حسن لاشاری کی طرف سے پرپوزر آیا ہے….

زایان شرارت سے بولا میرے لئے؟؟؟

شافع نے سر پر ہاتھ مارا بزنس پرپوزر…..

زایان افسوس سے بولا اوہ بزنس پرپوزر میں تو ایس ہی خوش ہوگیا….

ویسے جب سے ہمارا شمس گروپ آف انڈسٹری والا پروجیکٹ کامیاب ہوا ہے بہت بڑی بڑی جگہ سے پرپوزر نہیں آرہے….

شافع نے صرف ہمم کہا….

تو پھر کیا خیال ہے ڈن کریں…..

شافع پیپر ویٹ گھماتے ہوئے بولا نہیں میں نے منا کر دیا

زایان کو حیرت ہوئی منا کر دیا ؟ لیکن کیوں؟ بہت بڑا بزنس ہے انکا ہمیں کافی فائدہ ہوتا،،، منا کیونکر دیا تم نے…؟

سوری میں نے تمھے بغیر بتائے ہی منا کر دیا،،، انکا بزنس بڑا ہے لیکن وہ آدمی دو نمبر ہے ایسی ہے اسکے اتنے بزنس نہیں ہیں….

زایان کندھے اچکا کر بولا چلو تم نے کچھ سوچ کر ہی منا کیا ہوگا لیکن بہت پہنچ ہے اسکی کہیں آگے ہمیں مسئلہ نہ ہو…..

شافع کرسی گھماتے ہوئے بولا زیادہ سے زیادہ وہ کیا کر لے گا ایک دو جگہ پر ہمارے بزنس کو برا کہہ دے گا بس…..

زایان ہنسا….. پھر آہ ہ ہ بھرتے ہوئے بولا بزنس پرپوزر تو بہت آگئے اب کسی لڑکی کا پرپوزر پتا نہیں کب آئے گا….

شافع نے آنکھیں گھماتے ہوئے نفی میں سر ہلایا تم کبھی نہیں سدھرو گے….

زایان دانت نکالتے ہوئے بولا کیوں بھائی کسی اور کا تھوڑی کھا رہے ہیں جو ہم سدھریں….

ویسے میں سوچ رہا ہوں اپنے لئے ایک سیکریٹری رکھ لوں کیا پتا وہ ہی مجھے پرپوز کر دے…..

شافع فائلیں پر پین چلاتے ہوئے بولا

ہاں تاکہ تم پھر آئے دن آفس سے غائب رہو….

زایان شرارت سے بولا ہاں نہ پھر میں اسکے ساتھ ڈنر پر لنچ پر جاؤں گا….

شاگع پین منہ میں دباتے ہوئے بولا اور بل کون دے گا؟؟

زایان کندھے اوپر کرتے ہوئے بولا ظاہر سی بات ہے میں…… تو نہیں دوں گا وہ ہی دے گی….

دونوں کا ایک زور دار قہقہہ بلند ہوا….

اب باتیں بند کرو اور مجھے کام کرنے دو….

ٹھیک ہے تم کام کرو میں تو چلا پیزا کھانے اس میٹنگ کی ٹیشن میں دو دن سکون سے نہیں کھایا…..

شافع آنکھیں چڑھاتا ہوا بولا انسان جھوٹ ایسا بولے جس پر سامنے والا یقین کر لے،،،،،

زایان منہ بناتے ہوئے بولا جلنا مت چھوڑنا مجھ سے شافع نے اسکی بات سن کر ہنستے ہوئے فون کاٹ دیا…….

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آئےنور یونیورسٹی سے تھکی ہاری گھر میں داخل ہوئی تو گھر میں پہلے سے کچھ مہمان موجود تھے اور حیرت کی بات تو یہ تھی کہ دوپہر کے اس وقت صدیقی صاحب بھی گھر میں موجود تھے…..

نور نے سب کو سلام کرتے ہوئے سوالیہ نظروں سے ارمینہ بیگم کی طرف دیکھا تو انھوں نے نظریں چرا لیں,,,,,

نور ایکسکیوز کر کے اپنے کمرے کی طرف جانے لگی تو آنے والے مہمانوں میں سے ایک عورت نے اس سے کہا ارے بیٹا تھوڑی دیر بیٹھ جاؤ پھر چلی جانا….

نور نے صدیقی صاحب کی طرف دیکھا تو انھوں نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا نور مسنوعی مسکراہٹ لئے صوفے پر بیٹھ گئی…..

وہ نور کو بڑی غور سے دیکھ رہے تھے….

کونسا ایئر چل رہا ہے بیٹا سامنے بیٹھی ایک خاتون نے پوچھا….

نور بولی جی ابھی پہلا ایئر ہی ہے دوسرا سمسٹر چل رہا ہے…..

وہ کچھ سوچتے ہوئے بولیں ہمممم چلو پھر تو ٹھیک ہے…..

نور کو انکی بات کا مطلب سمجھ نہیں آیا،،،، وہ پھر نور سے چھوٹے موٹے سوال پوچھنے لگی نور کی چھٹی حس نے اسے اشارہ دیا تھا نور کو گھبراہٹ ہونے لگی….

ًتو اچانک صوفے پر سے اٹھی اور بہانا کرتے ہوئے بولی میں اپنا بیگ اور کتابیں رکھ آؤ کمرے میں کہہ کر وہ فوراً کمرے کی طرف بڑھی….

ان پانچ مہینوں میں شادی نام کی تلوار نور کے سر پر لٹکی ہوئی تھی اسے پتا نہیں تھا کہ کب یہ اسکے سر پر گر جائے…

پانچ مہینوں میں ،شافع سے اسکی ایک بھی ملاقات نہیں ہوئی تھی اسنے ڈنر والی رات کے ٹھیک ساڑھے تین مہینے بعد ایک نیوز چینل پر شافع کا انٹرویو دیکھا تھا……

شافع کو ٹی وی پر دیکھ کر اسے اتنی حیرت نہیں ہوئی تھی

لیکن تب اسکا حیرت کے مارے منہ کھل گیا تھا جب اسے پتا چلا کے وہ تیمور علی وارثی کا بیٹا ہے جو بزنس کی دنیا کا جانا مانا نام ہے،،،،،،

اسے یہ تو اندازہ تھا کہ شافع بہت امیر ہے لیکن یہ نہیں پتا تھا کہ وہ اتنے بڑے بزنس مین کا بیٹا ہے…..

اسکے بعد اسنے کافی بار شافع اور زایان کو ساتھ بھی ٹی وی پر دیکھا تھا……

زایان کے برعکس شافع تیمور وارثی کی وجہ سے زیادہ خبروں کی زینت بنا رہتا تھا…..

زایان سے نور یونیورسٹی میں کافی دفعہ مل چکی تھی کیونکہ زایان ہفتے میں نہ سہی تو مہینے میں یونیورسٹی کا چکر لگا ہی لیتا تھا اور کبھی کبھی حال احوال پوچھنے کے لئے نور کے لاکھ منا کرنے کے باوجود کال بھی کر لیتا تھا….

زایان اپنی سناتا رہتا نور سنتی رہتی اسنے کبھی خود سے شافع کے بارے میں زایان سے کچھ نہیں پوچھا زایان اگر خود کچھ بتا دیتا تو وہ بس چپ کر کے سن لیتی…..

آئےنور نے چادر اور اسکارف اتار کر صوفے پر رکھا اور بے سدھ سی بیڈ پر آکر بیٹھ گئی….

دل میں وسوسوں نے ڈیرہ ڈال لیا تھا تو کیا اب واقعی اسے اپنی پڑھائی ادھوری چھوڑ کر ایک انجان شخص کے ساتھ رخصت ہوجانا ہے…..

اسے انجان شخص کے ساتھ رخصت ہونے کا غلہ نہیں تھا اسکے بابا نے چنا ہے تو اسکے لئے اچھا ہی چنا ہوگا اسے صرف اپنی پڑھائی ادھوری رہ جانے کا غم کھایا جارہا تھا….

وہ کافی دیر تک بیڈ پر ایسے ہی بیٹھی رہی جب ارمینہ بیگم سپاٹ چہرہ لئے کمرے میں داخل ہوئیں….

نور نے نظریں اٹھا کر انکی طرف دیکھا ارمینہ بیگم اسکے برابر میں آکر بیٹھ گئیں،،،،،

کون تھے ماما یہ لوگ؟؟؟ اسے پتا تھا پھر بھی وہ تصدیق چاہتی تھی…

ارمینہ بیگم اسکی طرف نہیں دیکھ رہی تھیں،،،،

تمھے دیکھنے آئے تھے لیکن رشتہ پکا کر کے چلے گئے….

نور کی آنکھوں سے آنسوں نکل کر گالوں پر پھسل گئے ارمینہ بیگم آئےنور کی طرف دیکھنے سے گریز کر رہی تھیں…..

تمھارے بابا نے پہلے سے بات کی ہوئی تھی آج وہ تمھے دیکھنے آئے تھے تم پسند آ گئیں تو بات پکی کر کے چلے گئے، اور شادی بھی جلد ہی کرنا چاہتے ہیں…..

اور تمھارے بابا نے مجھ سے یا تم سے پوچھنا تک گوارا نہیں کیا…..

بابا نے مجھے پہلے سے بتا دیا تھا ماما نور نے اپنے ہاتھوں کی لکیروں پر انگلیاں پھیرتے ہوئے کہا،،،،،

ارمینہ بیگم نے حیرت سے نور کی طرف دیکھا بتا دیا تھا لیکن تم نے مجھ سے کچھ کیوں نہیں کہا میں کم سے کم ان سے بات کرتی آج تو وہ اچانک ہی آگئی مجھے تو کچھ پتا ہی نہیں تھا…..

نور روتے ہوئے بولی تو کیا وہ آپکی بات مان جاتے؟ ارمینہ بیگم خاموش ہوگئیں تو نور انکا ہاتھ پکڑ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی…….

ماما پلیز کچھ کریں میں ابھی شادی نہیں کر سکتی بابا کو کہیں مجھے تھوڑا سا وقت دے دیں وہ جہاں کہیں گے میں شادی کر لوں گی لیکن مجھے کچھ وقت کی مہلت دے دیں….. پلیز روتے روتے اسنے ارمینہ بیگم کی گود میں سر رکھ دیا تھا اسے اس طرح روتے دیکھ کر ارمینہ بیگم خود پر بھی قابو نہ پا سکیں…..

وہ بس اپنی سسکیاں دباتے ہوئے اسکے بالوں پر ہاتھ پھیرتی رہیں وہ نہ اسے رونے سے روک رہی تھیں نہ اسے جھوٹی تسلیاں دے رہیں تھیں…..

نور انکی گود میں سر رکھ کر روتے ہوئے بس یہ بولتی رہی پلیز یہ شادی رک وادیں ماما پلیز……

اسکے لہجے میں التجا تھی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حیدر صاحب نیچے اسٹڈی روم میں بیٹھے اپنا کام کر رہے تھے جب زایان انکے پاس آیا…….

بابا آپ نے بلایا مجھے اسے دیکھ کر حیدر صاحب نے اپنا چشمہ اتار کر ٹیبل پر رکھا اور مسکراتے ہوئے کھڑے ہو گئے…

زایان انکے سامنے آکر کھڑا ہوا تو حیدر صاحب نے فخر سے اسکے بازو تھام کر ایک محبت بھری نظر ڈالی……

زایان بھی مسکراتے ہوئے انھے دیکھ رہا تھا…….

شافع نے مجھے بتایا کہ آج تمھے کتنا بڑا پروجیکٹ ملا ہے وہ پروجیکٹ جو حاصل کرنا آسان نہیں تھا لیکن تم نے کر دیکھایا مجھے بہت فخر تم پر……

زایان کھل کر مسکرایا،،،،،، اسنے ان لفظوں کا انتظار کیا تھا اور آج یہ لفظ سن کر اسے دلی خوشی ہوئی تھی……

حیدر صاحب نے مسکراتے ہوئے اسے گلے لگا لیا۔۔۔۔۔

حیدر صاحب شرارت سے بولے اب میں فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ میرا بیٹا صرف کھاتا ہی نہیں ہے کماتا بھی ہے…

دونوں نے ایک قہقہہ لگایا،،،،،

زایان ان سے الگ ہوا تو حیدر صاحب اسے تنگ کرتے ہوئے بولے اب میں تمھاری شادی کرانے کے لئے راضی بھی بتاؤ اگر کوئی لڑکی پسند ہے تو میں اور ارفہ چلے جائیں گے رشتہ لے کر……

زایان منہ پر ہاتھ رکھ کر ہنسا ہاہاہاہاہاہاہا پھر کرسی آگے کر کے بیٹھتے ہوئے بولا لیکن اب میں شادی نہیں کر رہا…..

حیدر صاحب نے اسے حیرت سے دیکھا پہلے تو ہر وقت مجھ سے بولتے تھے بابا میری شادی کر وادیں اب میں بول رہا ہوں تو تم منا کر رہے ہو…..

تو میں پہلے کونسا سیریس میں بولتا تھا، اور ابھی تو بالکل بھی نہیں کروں گا

کیونکہ ابھی بہت کام ہیں،،،

حیدر صاحب ہنستے ہوئے بولے چلو جیسی تمھاری مرضی… حیدر صاحب گلا کھنکار کر زایان سے بولے،،،،،

میری تیمور صاحب سے ملاقات ہوئی تھی زایان اطمینان سے بولا اچھا پھر……؟

شافع کی شادی ہونے والی ہے اسکے چاچا کی بیٹی سے تم نے یا شافع نے مجھے بتایا نہیں…..

زایان سیدھا ہوکر بیٹھا…..

ایک لمبا سانس کھینچ کر بولا یہ شادی زبردستی طے کی گئی، شافع راضی نہیں ہے…..

حیدر صاحب حیرت سے بولے جب شافع ہی راضی نہیں ہے تو وہ لوگ زبردستی کیوں کر رہے ہیں؟

بس شافع کی دادی چاہتی ہیں کہ یہ شادی ہو جائے….

خیر آپ یہ سب چھوڑیں مجھے آپ سے کچھ اور بات کرنی ہے…..

حیدر صاحب گردن ہلاتے ہوئے بولے ہاں کہو….

شافع گھر لینا چاہتا ہے….. حیدر صاحب کو اسکی بات ٹھیک طرح سمجھ نہیں آئی،،،، کیا مطلب؟؟؟

زایان انھے سمجھاتے ہوئے بولا مطلب، شافع اپنا الگ گھر لینا چاہتا ہے تیمور صاحب کا گھر وہ چھوڑ دے گا…..

حیدر صاحب کو شدید حیرت ہوئی

پھر ٹھہر کر بولے،،، الگ گھر لینا سمجھ آتا ہے، اچھی بات ہے کہ وہ شادی سے پہلے اپنا گھر بنانا چاہتا ہے لیکن اسطرح اچانک وہ گھر کیوں چھوڑنا چاہ رہا ہے؟؟؟

زایان دونوں مٹھیوں کو ملا کر جھکتے ہوئے بولا اچانک نہیں اسنے پہلے سے ہی سوچا ہوا تھا کہ وہ اپنا الگ گھر لے کر وہاں شفٹ ہو جائے گا بس کچھ پیسوں کا مسئلہ تھا لیکن اب وہ بھی ہل ہو گیا ہے … تو وہ اب جلد سے جلد شفٹ ہونا چاہتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔

تیمور صاحب کو اس بارے میں پتا ہے؟؟؟

زایان نے نفی میں گردن ہلائی،،،، اور اپنے بتانا بھی نہیں ہے شافع نے منا کیا ہے،،،،

حیدر صاحب کچھ دیر خاموش بیٹھے سوچتے رہے ٹھیک ہے پھر میں کیا کر سکتا ہوں اسکے لئے؟؟؟

زایان بالوں میں ہاتھ پھیرتا ہوا بولا فلحال تو آپ کسی اچھے بلڈر کا نمبر دیں شافع نے بس مجھے کہا تھا کہ میں آپ کو سب بتا دوں، باقی اور کوئی کام ہوگا تو آپ کو بتا دوں گا…..

حیدر صاحب اپنی ڈائری میں نمبر تلاش کرنے لگے نمبر مل جانے پر زایان کو نمبر نوٹ کرواتے ہوئے بولے……

انھوں نے نئے آپارٹمنٹ بنائے ہیں جنکا پروجیکٹ ہے ہو سکتا ہے تم لوگ انھے جانتے ہوں…..

زایان نے گردن ہلاتے ہوئے کمرے سے باہر چلا گیا…….

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ارحام صوفے پر بیٹھی سامنے ٹیبل پر پڑے سامان کو دیکھ رہی تھی سامنے بی اماں اور عائشہ بیگم بھی بیٹھی تھیں،،،

عائشہ بیگم بی اماں کو سامان دیکھاتے ہوئے بولیں اماں سوچ رہی ہوں ارحام کے لئے ایک اور سونے کا سیٹ بنوا لوں……

بی اماں انھے گھورتے ہوئے بولیں تین سیٹ پہلے سے پڑے تھے دو تم نے نئے بنوائے ہیں اب کیا بیٹی کو سونے میں ہی لاد کر بھیجو گی ابھی تمھارا ایک اور بیٹا بھی ہے اسکے لئے بھی کچھ رکھو تم تو بس چیزیں دیکھ کر بہک جاتی ہو…..

عائشہ بیگم اتنی طعنہ کشی سن کر چپ ہوگئیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ارحام خاموش سے بیٹھی انکی باتیں سن رہی تھی…

بی اماں دوبارہ عائشہ بیگم سے بولیں کہاں ہے تمھارا چھوٹا بیٹا بھئی جب سے آیا ہے ہمیں تو شکل ہی نہیں دکھائی پتا نہیں کیسی اولاد ہے تمھاری…..

اماں کل ہی تو وہ آیا ہے آپکے کمرے میں آیا تھا آپ سو رہی تھیں…..

بی اماں تنک کر بولیں سو رہی تھی نہ مری تو نہیں تھی میں جو دوبارہ نہیں آسکا…..

عائشہ بیگم دوپٹہ ہاتھوں سے مروڑتی چپ ہوگئیں….,

بی اماں ارحام کی طرف دیکھ کر بولیں،،،،

لڑکی تم کب تک یہ اداسی کا جوبن پہنی بیٹھی رہو گی سب کچھ تمھارے لئے ہی تو کر رہی ہوں کروا تو رہی ہوں تمھاری شادی اب کیوں ایسی بیٹھی رہتی ہو؟

ارحام نے انکی طرف دیکھتے ہوئے کہا آپ میرے لئے کچھ نہیں کر رہیں اور شادی آپ زبردستی کروا رہی ہیں……

بی اماں نے غصے سے سر پر ہاتھ مارا ایک تو تمھاری اور تمھارے باپ کی سوئی یہیں اٹک گئی ہے چاہے زبردستی ہو یا خوشی سے شادی تو ہو رہی ہے نہ تمھے کیا مسئلہ ہے…..؟

ارحام کچھ بولنا چاہ رہی تھی اسکے بول نے سے پہلے ہی عائشہ بیگم بول پڑیں

اماں آپ اسے چھوڑیں آپ مجھے یہ بتائیں یہ والا سوٹ کیسا ہے شافع کے لئے لیا ہے میں نے پتا نہیں اسے پسند آئے گا بھی یا نہیں…..

ارے اسے کچھ پسند ہی کب آتا ہے شہر میں رہ کر میرا بچہ عجیب چڑچڑا سا ہوگیا ہے…..

عائشہ بیگم منہ بناتے ہوئے بولی،،،،،

سب سے لاتعلقی تو وہ شروع سے ہی برتہ تھا،،،،

آپ یہ بتائیں اماں بھائی صاحب سے آپکی بات ہوئی تھی انھوں نے ،شادی کی تیاریاں شروع کیں یا نہیں…..

بی اماں بھونیں چڑھاتے ہوئے بولیں کر لیں گے وہ بھی لڑکے والوں کو کیا تیاریاں کرنی ہوتی ہیں سب لڑکی والوں کو ہی کرنا ہوتا ہے…….

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شافع نے جب سے آفس جوائن کیا تھا وہ صبح نو بجے گھر سے نکل جاتا تھا اور وآپسی کا کوئی وقت مقرر نہیں تھا…..

کبھی کبھی تو وہ پوری رات آفس میں کام کرتے ہوئے گزار دیتا……

اسنے اگر اتنی جلدی بزنس کی دنیا میں اپنے پنجے گڑھا کر شہرت حاصل کی تھی تو اسکے پیچھے اسکی اور زایان کی دن رات کی محنت تھی……

شافع نے خود کو کام میں اتنا مصروف کر لیا تھا کہ اسے کچھ اور یاد ہی نہیں رہتا تھا ہاں لیکن ایک چیز تھی جو وہ بھولا نہیں پایا تھا “اپنی اور نور کی آخری ملاقات”

اس کے بعد وہ آئےنور سے نہیں ملا تھا نہ ہی اسکی کوئی بات ہوئی لیکن آخری ملاقات کا اثر کچھ کیوں رہ گیا تھا کہ

وہ جب بھی آنکھیں بند کرتا اسکے کانوں میں ایک جملہ گھل جاتا ” ہو سکتا ہے یہ آخری ملاقات کا اثر ہو”

اس آخری ملاقات کے بعد وہ جب بھی اپنی گاڑی میں بیٹھتا کچھ لمحے کے لئے اپنی برابر والی سیٹ کو تکتہ رہتا جہاں پر ایک دفعہ نور بیٹھی تھی…..

ان پانچ مہینوں میں ناجانے وہ کتنی دفعہ یونیورسٹی کی طرف گاڑی لے کر گیا تھا لیکن ہر دفعہ اندر گئے بغیر ہی وآپس آگیا حالانکہ زایان نے اسے کتنی دفعہ یونی چلنے کا کہا لیکن ہر دفعہ اسنے کوئی نہ کوئی بہانا کر دیا…..

وہ اس بات سے بھی واقف تھا کہ جو بھی ہے لیکن اسے آئےنور سے محبت نہیں ہے کیونکہ اسکے دل میں نور کے لئے کوئی احساسات نہیں ہیں، وہ صرف اسکی سوچ پر حاوی ہے کیونکہ شافع وارثی کو آئےنور صدیقی سے کبھی محبت نہیں ہو سکتی یہ بات اسنے ذہن نشین کی ہوئی تھی……

شافع چار بجے کے ٹائم گھر آیا کیونکہ اسے نیا گھر دیکھنے جانا تھا جس کے لئے کچھ ڈاکومنٹس لینے وہ گھر آیا تھا…….

اس وقت تیمور صاحب گھر پر نہیں تھے ورنہ سوالوں کا انبار لگا دیتے…..

سیڑھیوں سے اترتے ہوئے شافع کی نظر سامنے رکھے سامان پر پڑھی تہمینہ بیگم سامنے صوفے پر بیٹھی تھیں شافع کو نیچے آتا دیکھ کر اٹھیں…..

شافع کہاں جارہے ہو بیٹا ابھی چائے بنوائی ہے بیٹھو….

شافع سامان پر نظر ڈالتے ہوئے بولا نہیں ماما کام سے جا رہا ہے آپکو آکر بتاؤں گا کہ کہاں گیا تھا،،،،

لیکن یہ سامان کہاں سے آیا؟؟؟

یہ سامان بیٹا بی اماں نے بھیجا ہے تمھارے لئے بھی انھوں نے بہت کچھ بھیجا ہے تم بیٹھو……

شافع سامان پر سے نظریں پھیرتے ہوئے بولا نہیں مجھے ابھی ضروری کام ہے میں جارہا ہوں……

شافع باہر چلا گیا شافع زایان کو بھی ساتھ لیجانا چاہتا تھا لیکن اسے کسی چینل پر جانا تھا اسلئے وہ نہیں آسکا جانا تو شافع نے بھی تھا لیکن شافع نے جانے سے انکار کر دیا…..

شافع بلڈر کی بتائی ہوئی جگہ پر پہنچا تو بلڈر اسے مل گیا تھا بلڈر شافع کو مطلوبہ آپارٹمنٹ دیکھانے لگا…..

وہ ایک نیا تین کمروں پر مشتمل فرنیچ آپارٹمنٹ تھا جن میں دو بیڈ روم اور ایک ڈرائنگ روم تھا….

اور ایک الگ سے بہت بڑا لاؤنج تھا جس میں ایک طرف اوپن کچن بنا ہوا تھا اور اسکے آگے ڈائننگ رکھی ہوئی تھی……

لاؤنج کے دائیں سائڈ پر اس آپارٹمنٹ کی خوبصورتی اور سب سے اہم جگہ تھی……

آپارٹمنٹ کیونکہ سمندر کے قریب ہی واقع تھا اسلئے دائیں جانب پر بنی ہوئی بالکنی کا گلاس ڈور کھول کر باہر آؤ تو سمندر کا پر لطف منظر آپکا انتظار کر رہا ہوگا……

یہ بالکنی پورے آپارٹمنٹ میں چار چاند لگا رہی تھی…….

شافع کو ایک لمحے میں آپارٹمنٹ پسند آگیا تھا بات تو وہ پہلے ہی کر چکا تھا کچھ کاغذی کارروائی انھوں نے وہیں بیٹھ کر طے کی اور باقی کی ضروری کاروائی آفس میں کرنے کا فیصلہ کیا……..

شافع نے گھر کی آدھی سے زیادہ قیمت ایک ساتھ ادا کر دی تھی اور اسکے لئے اسنے کسی کی مدد نہیں لی یہاں تک کے زایان کی بھی نہیں باقی کی قیمت اسنے قسطوں میں ادا کر دینی تھیں جو کہ چند مہینے کی تھیں……

شافع نے اپنے بزنس کی کمائی سے پہلی چیز خریدی تھی یہ گھر جس کے لئے اسنے دن رات محنت کی اسکا ذاتی گھر جس میں تیمور وارثی کی ایک پائی نہیں لگی تھی شافع کی محنت رنگ لے آئی……

شافع اور زایان نے ڈنر ساتھ کرنے کا پلین بنایا…….

وہ دونوں ریسٹورنٹ میں موجود تھے کھانا ابھی سرو نہیں کیا گیا تھا…….

تو پھر تمھے پسند آگیا گھر؟؟؟

زایان نے مسکراتے ہوئے پوچھا……

شافع نے بھی مسکراتے ہوئے گردن اثبات میں ہلائی……

زایان شرارت سے بولا پھر تو بہت بڑی پارٹی بنتی ہے بھائی وہ بھی تمھارے نئے آپارٹمنٹ میں…..

شافع ہنستا ہوا بولا فکر مت کرو تمھے پارٹی دیئے بغیر نہیں مروں گا……

زایان ہنسا بھئی اس نئے گھر کی تم سے زیادہ خوشی مجھے ہے میرے تو دو گھر ہو گئے مطلب کھانا بھی دو جگہ سے ملے گا،،، میں تو ہر ویکنڈ تمھارے گھر گزراوں گا……

شافع نے مسکراتے ہوئے زایان کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا تم صرف ویکنڈ کیوں روز وہیں رہ لو تمھارا ہی گھر ہے…..

زایان نے بھی مسکراتے ہوئے شافع کے ہاتھ پر اپنا دوسرا ہاتھ رکھ لیا…..

شفٹ کب ہو رہے ہو؟؟؟

شافع کی ہنسی مانند پڑی تھی،،،،

آخر یہ ایک مشکل مرحلہ تھا اور کچھ جذباتی بھی اسنے اپنی زندگی کے ستائیس سال اس گھر میں گزارے تھے

بہت سی اچھی بری یادیں جڑی تھیں اسکی اس گھر سے اور سب سے مشکل اسکے لئے اپنا کمرا چھوڑنا تھا…..

اسنے کبھی اپنا کمرہ نہیں بدلہ تھا بچپن سے ہی وہ اس کمرے میں رہا تھا اس کمرے میں اسکی اپنی الگ دنیا بستی ہے،،،

اس کمرے میں اصل شافع رہتا ہے وہ کمرا شافع کو پہچانتا ہے وہ کس طرح وہاں سے جا پائے گا؟ اگر آخری وقت میں وہاں سے جاتے ہوئے اسکے قدم لڑکھڑا گئے تو؟

اگر اسکے لئے وہاں سے جانا مشکل ہوگیا تو؟ کیا تیمور وارثی اسے اتنی آسانی سے وہاں سے جانے دیں گے اور تہمینہ بیگم وہ کیسے رہیں گیں شافع کے بغیر وہ تو اس گھر میں شافع کے دم سے ہیں شافع انھے کیسے چھوڑ دے گا…..

وسوسوں کا انبار جب اسکے دماغ کی نسوں پر دباؤ ڈالنے لگا تو اسنے کراہتے ہوئے سر جھٹکا…..

زایان نے پریشانی سے اسے دیکھ کر پوچھا کیا ہوا تم ٹھیک ہو…..

شافع نے اثبات میں گردن ہلاتے ہوئے پانی کا گلاس لبوں سے لگا لیا……

پانی کا گلاس رکھ کر وہ خود کو نارمل کرتے ہوئے بولا ایک دو دن میں شفٹ ہو جاؤں گا صرف سامان ہی تو شفٹ کرنا ہے…….

کھانا سرو کر دیا گیا تھا،،،،،

زایان کھانا شروع کرتے ہوئے محتاط انداز میں بولا گھر میں سب کو بتا دیا کیا تم نے؟؟؟؟

شافع جو کھانا شروع کر رہا تھا اسکا ہاتھ رک گیا…..

سانس کھینچ کر چہرے پر ہاتھ پھیرتا ہوا بولا……

نہیں آج جا کر بتا دوں گا اور پلیز اب گھر سے متعلق کوئی بات مت کرو میں ڈسٹرب ہو رہا ہو…..

زایان اسکی کیفیات کو سمجھ رہا تھا تھا اسلئے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے بولا تم کھانا کھاؤ……

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈنر سے وآپسی پر زایان نے ڈرائیو کرتے ہوئے نور کو کال کی اسنے دو دفعہ کال کی لیکن نہیں اٹھائی گئی…..

اسنے کچھ دیر بعد دوبارہ کال کی تو کال اٹھالی گئی…..

ہیلو…..!نور کی آواز بجھی بجھی تھی…. زایان اپنی دھن میں بولا ٹھیک ہے بھئی ٹھیک ہے لوگ اب ہمیں بھول گئے ہیں مجال ہے جو کبھی خود سے حال احوال پوچھ لیں کے بندہ زندہ ہے یا مر گیا…..

نور دوسری طرف سے کچھ نہیں بولی خاموش رہی تو زایان نے اسے دوبارہ مخاطب کیا سن رہی ہو؟؟؟

ہاں سن رہی ہوں کوئی کام تھا؟؟؟

زایان کو اچانک اسکی آواز کچھ بدلی بدلی لگی…..

تمھاری آواز کو کیا ہوگیا رو کر بیٹھی ہو کیا؟

نور فوراً سے بولی نہیں بس ذرا گلا خراب ہے اسلئے آواز ایسی ہورہی ہے…..

زایان اسٹیئرنگ ویل گھماتے ہوئے بولا اوہ اچھا وہ تو کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے ایک کام کرو…..

کسی کو بولو کے بیلن لے کر تمھارے گلے پر ایسے پھیرے جیسے روٹیاں بیلتے ہیں اور ذرا زور سے ایسے کرے دیکھنا دو منٹ میں گلے کا درد ٹھیک ہو جائے گا….

<><><><><><><><><><><><><><><><><><><><><><><><>

زایان نے بول کر قہقہہ لگایا تھا اسے لگا تھا کہ نور ہنسے گی نہ سہی لیکن اس پر غصہ تو کرے گی لیکن نور نے کوئی ردے عمل ظاہر نہیں کیا…..

زایان کو لگا شاید وہ غصے میں نہیں بول رہی اسلئے اسنے بات کا پہلو بدل دیا میں کل ہو سکتا ہے یونی آؤں تم آؤ گی نا؟؟؟

نور اپنے ناخنوں پر نظر ڈالتے ہوئے دھیمے لہجے میں بولی پتا نہیں میں آؤں گی یا نہیں ہو سکتا ہے کے نہیں آؤں…..

زایان کو حیرت ہوئی کیوں نہیں آؤ گی تمھاری طبیعت زیادہ خراب ہے کیا؟

نور خلا میں دیکھتے ہوئے بولی ہاں شاید…..

زایان اسے تنگ کرنے کے لئے بولا دیکھو ذرا کیسا زمانہ آگیا ہے دوسروں کو بیمار کرنے والے اب خود بیمار پڑنے لگے ہیں قیامت کی نشانیاں ہیں…..

نور بس ہلکا سا مسکرا دی اور کچھ نہیں کہا……

اچھا تمھے ایک بات بتاتا ہوں شافع نے نیا گھر لیا ہے…..

نور گردن ہلاتے ہوئے بولی اچھا میری طرف سے مبارکباد دینا اسے…..

ہاں وہ تو میں دے دوں گا تم یہ بتاؤ اگر اسنے پارٹی رکھی اور تمھے بلایا تو تم آؤ گی…؟

نور نے عام سے لہجے میں کہا،،،، نہیں میں نہیں آؤں گی…..

زایان دانت نکال کر بولا تو وہ کونسا تمھے بلائے گا، بول کر اسنے خود ہی قہقہہ لگایا…..

نور نے اسکی بات پر غصہ نہیں کیا اپنے ہاتھوں کو دیکھ کر بولی “مجھے یہ بھی پتا ہے”

اچھا تم یہ سب چھوڑو مجھے یہ بتاؤ تم یونی کب آؤ گی تم نے جو کتاب مانگی تھی وہ مجھے مل گئی ہے میں لے کر آؤں گا…..

نور نے ہونٹ بھینچتے ہوئے کہا مجھے نہیں پتا میں کب آؤں گی، اور…….

اور پلیز زایان مجھے فون مت کیا کرو…..

نور نے کال کاٹ دی……

زایان کو حیرت ہوئی اسے حیرت اس بات پر نہیں ہوئی تھی کہ نور کہا مجھے کال مت کیا کرو یہ تو وہ ہر وقت ہی کہتی تھی……

اسے حیرت نور کی آواز پر اور اسکے اس جملے پر ہوئی تھی کہ مجھے نہیں پتا کہ میں کب آؤں گی یونی…….

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آئےنور بیڈ پر لیٹی بے آواز آنسوں بہا رہی تھی باہر ارمینہ بیگم اور صدیقی صاحب بلند آواز میں ایک دوسرے سے مخاطب تھے…..

صدیقی صاحب وہ آپ سے کچھ نہیں مانگ رہی وہ وہیں شادی کرے گی جہاں آپ کہیں گے لیکن کم سے کم اسے پڑھائی مکمل کرنے کی تو مہلت دے دیں……

صدیقی صاحب غصے میں بولے تو کہا تو ہے کے شادی کے بعد امریکہ چلی جائے گی پھر وہاں جا کر پڑھ لے جتنا پڑھنا ہے اب میں پڑھائی کے چکر میں اتنا اچھا رشتہ تو نہیں گنوا سکتا نا…..

ارمینہ بیگم کے آنسوں نکلنا شروع ہوگئے تھے……

آپ اسکے باپ ہوتے ہوئے سوتیلوں والا رویہ کیوں اختیار کر رہے ہیں…..

ہماری ایک ہی بیٹی ہے اسکا رشتہ بھی آپ نے اتنی دور طے کر دیا، میری بچی اتنی دور اکیلے کیسے رہے گی وہ تو جانتی بھی نہیں ہے ان لوگوں کو یوں انجان لوگوں میں…..

صدیقی صاحب انکی بات کاٹتے ہوئے بولے میں جانتا ہوں انھے اچھے لوگ ہیں اور پھر لڑکے کا گھر بار بزنس سب امریکہ میں ہے تو وہ وہیں لے کر جائے گا نہ سال میں ملوانے لاتا رہے گا مائیں تو چاہتی ہیں کہ انکی بیٹیوں کے رشتے اچھی اونچی جگہوں پر ہوں اور ایک تم ہو…..

ارمینہ بیگم بولی لیکن کوئی ماں اپنی بیٹی کی شادی زبردستی نہیں ہونے دیتی اور آپ اسکی شادی زبردستی اور اتنی دور کر رہے ہیں میری بیٹی کیسے رہے گی، اسے کچھ وقت دے دیں تاکہ وہ ان لوگوں کو جان، سمجھ لے گی؟؟؟؟

صدیقی صاحب تیش میں آگئے بیٹیاں بیاہنے کے لئے ہی ہوتی ہیں بیٹیوں کو رخصت ہی ہونا ہوتا ہے ایک دن پھر چاہے وہ بیاہ کے دور جائیں یا قریب رہیں جانا تو انھوں نے ہوتا ہے….

پاس صرف بیٹے رہتے ہیں جو ماں باپ کا سہارا بنتے ہیں…..

ارمینہ بیگم سن ہو کر رہ گئیں…

صدیقی صاحب انھے گھورتے ہوئے کمرے میں جانے کے لئے مڑے…..

کیا گارنٹی ہے کہ اگر آپکا بیٹا ہوتا تو وہ آپکا وفادار ہوتا آپکا سہارا بنتا….

صدیقی صاحب ارمینہ بیگم کو دیکھنے لگے…..

ہو سکتا ہے آپکا بیٹا بھی ایک دن آپکو اور مجھے کسی یتیم کھانے میں چھوڑ آتا پھر آپ اپنے بیٹے کا کیا کرتے؟؟

ارمینہ بیگم کے الفاظ چابک کے طرح صدیقی صاحب کو لگے تھے اب گنگ ہونے کی باری انکی تھی…..

ارمینہ آگے آتے ہوئے بولیں آج جس بیٹی کے ساتھ آپ ایسا سلوک کر رہے ہیں نہ دیکھ لئے گا جب آپ بڑھاپے کی دھلیز پر لڑکھڑا رہے ہونگے

تب یہی بیٹی آپ کا سہارا بنے گی، اسلئے اتنا ہی بوئیں جتنا کاٹ سکیں کہیں کل کو ایسا نہ ہو کے اپنی بیٹی سے ہی نظریں ملانے کے قابل نہ رہیں…..

صدیقی صاحب نے سختی سے مٹھیاں بھینچیں….

پھر چینختے ہوئے بولے تم حد سے زیادہ بول رہی ہو ارمینہ تمھے کیا لگتا ہے کہ میں اسکے لئے کچھ برا سوچ رہا ہوں؟؟؟

کیا بیٹیوں کی شادی کرنا غلط ہے….

ارمینہ بیگم انکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولیں نہیں لیکن “بیٹیوں کی قدر نہ کرنا غلط ہے”

ارمینہ بیگم اپنے آنسوں صاف کرتے ہوئے کمرے میں چلی گئیں…..

صدیقی صاحب کچھ دیر وہیں کھڑے رہے پھر غصے میں گھر سے باہر چلے گئے