Izhar-e-Muhabat by Anooshe NovelR50417

Izhar-e-Muhabat by Anooshe NovelR50417 Izhar-e-Muhabat Episode 10

219.9K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Izhar-e-Muhabat Episode 10

Izhar-e-Muhabat by Anooshe

زایان شافع کو اسکے گھر چھوڑ کے گھر پہنچا، میراب کو لان میں بیٹھے دیکھا تو اسکی پیچھے آکر کھڑا ہو گیا…..

میراب کوئی پینٹنگ بنا رہی تھی پینٹنگ اپنے ابتدائی مراحل پر تھی اس لئے زایان کے لئے اندازہ لگانا مشکل ہوا…..

میراب کو اپنے پیچھے کسی کی موجودگی کا احساس ہوا تو فوراً مڑی،،، اسنے جیسے ہی دیکھا کہ پیچھے زایان کھڑا ہے تو اسنے فوراً اپنی پینٹنگ پر دوپٹہ پھیلا دیا،،،،

اسکی عادت تھی کہ جب تک پینٹنگ مکمل نہیں ہوجاتی کسی کو نہیں دیکھاتی تھی،…….

میراب غصے سے بولی آپ کیوں میری پینٹنگ چھپ چھپ کر دیکھ رہے ہیں…..

زایان کرسی پر بیٹھا اور ٹیبل پر ٹانگیں سیدھی کر لیں …..

تمھے کس نے کہا کہ میں تمھاری پینٹنگ دیکھ رہا تھا وہ تو میں اندر جارہا تھا تمھے کھڑے دیکھا تو سوچا کیوں نہ غریبوں کا حال احوال ہی دریافت کرلیں ،،،،،،

ورنہ تم اتنی بری پینٹنگ بناتی ہو کے بندہ دوسری بار دیکھنا پسند نہ کرے……

زایان نے میراب کو چڑھانا چاہا……

میراب کمر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی جی بلکل میں بہت بری پینٹنگ بناتی ہوں تبھی تو اس پورے گھر میں اور آپ کے کمرے میں بھی میری بنائی ہوئی پینٹنگ لگی ہیں……

زایان سر کے نیچے ہاتھ رکھتے ہوئے بولا وہ تو ہم نے اس لئے لگا رکھی ہیں کیونکہ باہر والے تمھاری پینٹنگ کبھی خریدیں گے ہی نہیں……

میراب منہ بناتے ہوئے بولی ٹھیک ہے میں اتنی بری پینٹنگ بناتی ہوں تو یہ پینٹنگ میں بناکر صرف شافع بھائی کو دوں گی آپ کو تو دیکھاؤں گی بھی نہیں…..

زایان فوراً سیدھا ہوتے ہوئے بولا کیوں کیوں کیا بنا رہی ہو تم جو شافع کو دو گی…….

میراب نے دل میں سوچا “اب آیا اونٹ پہاڑ کے نیچے”

میراب سامنے کرسی پر اطمینان سے بیٹھتے ہوئے بولی کیوں بتاؤں میں آپ کو…….

زایان اسکی مِنت کرتے ہوئے بولا میراب پلیز بتاؤ نا ورنہ مجھے نیند نہیں آئے گی…….

ارے ایسے کیسے بتادوں……

پہلے آپ وعدہ کریں کہ شام میں آئسکریم کھلانے لےکر جائیں گے……

شافع فوراً راضی ہوگیا ہاں ہاں پکّا لے کر جاؤں گا اب بتاؤ کیا بنا رہی تھی…..

میراب شرارت سے بولی آئسکریم شام میں کھلائیں گے تو بتاؤں گی بھی شام میں نہ ورنہ آپ کا کیا بھروسہ کب اپنی بات سے پھر جائیں…….

زایان میراب سے اور لڑنا چاہتا تھا کہ گھر کے اندر سے آتی ہوئی خوشبو نے اسے اپنے حسار میں لے لیا….

زایان لمبی لمبی سانسیں لے کر خوشبو کو اپنے اندر بسانے لگا اور آنکھیں بند کرے ہوئے ہی بولا…..

میراب کیا پکا ہے…….؟

میراب اسکے کان کے پاس آکر سرگوشی سے بولی “بریانی، کباب، دم کا قیمہ، لزانیہ”…….

زایان کی آنکھیں خوشی سے کھل گئیں،،،

سچ کہہ رہی ہو؟ زایان فوراً کھڑا ہو گیا……

میراب نے اثبات میں سر ہلایا،،،،،

زایان فوراً اندر جانے کے لئے مڑا….

میراب چینختے ہوئے بولی بھائی روکیں ایک راز کی بات بتاؤں؟؟؟

زایان نے گردن گھما کر اسکی طرف دیکھ کر نفی میں گردن ہلائی ۔

نہیں رہنے دو میں تم پر پیسے بلکل خرچ نہیں کروں گا…..

زایان وآپس موڑا…..

میں بغیر رشوت لئے بتاؤں گی اور بات آپ سے متعلق ہے……

زایان تیزی سے مڑا اور کرسی پر بیٹھ کر آگے ہوتے ہوئے بولا جلدی بتاؤ پھر……

میراب آگے کو ہو کر سرگوشی میں کہنے لگی کسی کو بتایئے گا مت میں نے ماما کو فون پر بات کرتے سنا تھا۔ ۔ ۔

کچھ لوگ آپ کو دیکھنے آرہے ہیں ابھی کھانے پر ،ماما شاید آپ کا رشتہ وغیرہ کروانا چاہتی ہیں اسی خوشی میں ابھی اتنا کچھ بنا ہے…….

زایان مسکراتے ہوئے بولا سچ بول رہی ہو…..

تو اور کیا جھوٹ بول رہی ہوں میں نے خود اپنے کانوں سے ماما کو بات کرتے سنا ہے……

کہہ رہی تھیں کہ آپ لوگ زایان کو آکر دیکھ لیں اگر بات بنی تو پھر کچھ دنوں میں منگنی رکھ دیں گے……

میراب بھرپور اداکاری کرکے زایان کو اعتماد میں لے رہی تھی……

زایان منہ پر ہاتھ رکھ کر شرمانے والے انداز میں بولا….

ہائے میراب مجھے تو شرم آرہی ہے…..

میراب نے زایان کے گال کھینچے میرے بھائی کو شرم آرہی ہے ہاں شرم…….

زایان نے اپنے گال میراب کے ہاتھ سے چھوڑا کے سہلائے…..

پھر مسکراتے ہوئے بولا پڑھائی اور بزنس تو ہوتا ہی رہے گا یار….

انسان کی چھوٹی موٹی منگنی تو ہونی ہی چاہئے ذرا دل لگا رہتا ہے….

میراب نے اثبات میں سر ہلا کر آنکھیں پٹپٹائیں اور ہنسی کو بڑی مشکل سے ضبط کیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

زایان کھڑا ہوتے ہوئے بولا میں ماما سے پوچھتا ہوں کون لوگ ہیں کب تک آئیں گے تاکہ میں جاکر تیار تو ہو جاؤں…..

میراب مسکراتے ہوئے بولی جی جی پوچھیں پوچھیں لیکن میرا نام مت لیئے گا…..

سیکریٹ بتایا ہے میں نے آپکو…..

ہاں ہاں نہیں بتاؤں گا بے فکر رہو زایان اچھلتا کودتا ہوا اندر کی طرف بھاگا…..

میراب نے جھانک کر دیکھا کہ وہ اندر چلا گیا ہے تو تالی مار کے زور سے ہنسی ……

“بڑا مزا آگیا بھئ بڑا مزا آگیا”

پھر ہنستی ہوئی دوپٹہ سنبھالتی اندر جانے کے لئے اٹھی چلو اب اندر کا ڈرامہ بھی دیکھ لوں۔ ۔ ۔ ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*

شافع یونی سے آکر نہا کر سونے کے لئے لیٹ گیا،،،،،

ملازم اسے کھانے کے لئے بلانے آیا لیکن اسنے منا کر دیا تھا……

شافع آنکھیں بند کر کے سونے کے لئے لیٹا تو ایک لفظ اسکے ذہن میں گھوم گیا

“چھچھوندر”

شافع نے آنکھیں کھول لیں……

اور دل میں سوچنے لگا،،،،

عجیب لڑکی ہے ہر جگہ مل جاتی ہے یہ اتفاقن بار بار مل رہی ہے یا جان پوچھ کر…….

اور مجھے کیا بول رہی تھی چھچھوندر

پہلے “سڑیل اور اب چھچھوندر”……

پھر خود پر ہی غصہ کرنے لگا،،،،

میں اسکے بارے میں سوچ ہی کیوں رہا ہوں؟

منہ پر تکیہ رکھتے ہوئے بولا بھاڑ میں جائے وہ لڑکی اور بھاڑ میں جائے یہ چھچھوندر……

دو لڑکیوں نے مل کر پورا دن خراب کر دیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*

آئےنور اور ارمینہ بیگم کھانا کھا رہی تھیں ارمینہ بیگم نور سے اسکے پہلے دن کے متعلق پوچھ رہی تھیں…….

جی ماما پہلا دن تھا تو اچھا بھی رہا اور ذرا مشکل بھی آہستہ آہستہ سیٹ ہو جاؤں گی…..

اور وآپسی میں کوئی پریشانی تو نہیں ہوئی…..

آئےنور انکے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی نہیں ماما کوئی پریشانی نہیں ہوئی….

وہ دونوں کچھ دیر خاموشی سے کھانا کھاتے رہے کچھ دیر بعد نور سوچتے ہوئے بولی

ماما میں کچھ بتانا چاہتی ہوں آپ کو….

ارمینہ بیگم کھانا کھاتے ہوئے مصروف سے انداز میں بولیں ہاں بتاؤ……

آئےنور کچھ دیر خاموش رہی پھر ٹھیر ٹھیر کے بولی…….

ماما مجھے اسکالرشپ ایک لڑکے نے دلوائی ہے…..

ارمینہ بیگم کا ہاتھ رک گیا انھوں نے آئےنور کی طرف دیکھا….

کس لڑکے نے؟

میں نہیں جانتی اسے یونیورسٹی کا ہی ہے تھوڑا پاگل سا ہے….

ارمینہ بیگم پلیٹ سائڈ پر کرتی ہوئی اسکی طرف مڑی اور سختی سے بولیں دیکھو نور جو بات ہے سچ سچ اور سہی سہی مجھے بتا دو……

آئےنور انکے ہاتھ پر دباؤ ڈالتے ہوئے بولی ماما آپ پریشان مت ہوں ایسا ویسا کچھ نہیں ہے

نور نے اپنی زایان سے پہلی ملاقات کے بارے میں بتایا…..

بات سننے کے بعد ارمینہ بیگم سپاٹ چہرے سے نور کو دیکھتی رہیں….

آئےنور انکے تاثرات سے کچھ اندازہ نہیں لگا پارہی تھی ماما ، ایسے کیا دیکھ رہی ہیں کچھ بولیں تو سہی….

آئےنور تم نے مجھے بیوقوف سمجھا ہوا ہے بھلا ایسی ڈیل کوئی کرتا ہے…..

ماما آپ کو لگ رہا ہے کہ میں جھوٹ بول رہی ہوں…..؟

نور خفا ہونے کے انداز میں بولی,,,,,,

میں یہ نہیں کہہ رہی کے تم جھوٹ بول رہی ہو لیکن کوئی یقین کرنے والی بات ہو تو میں یقین کروں نا،،،،،

ایسی ڈیل کون کرتا ہے برگر اور فرائس کی؟

ماما آپ اسے جانتی نہیں وہ جس طرح کھا رہا تھا نہ مجھے تو ڈر لگ رہا تھا کے کہیں وہ کیچپ کی بوتل میں سے کیچپ بھی نہ پی جائے

دو برگر تین فرائس پلیٹ بھر کے اور تین کین پینے کے بعد بول رہا تھا کہ یہ تو ناشتہ ہے،،،،

“لوگ جینے کے لئے کھاتے ہیں لیکن وہ کھانے کے لئے جیتا ہے”

ارمینہ بیگم بہت غور سے آئےنور کی باتیں سن رہی تھیں……..

آئےنور وہ اتنا کھاتا ہے پھر تو وہ بہت موٹا ہوگا……

ارے نہیں ماما یہی تو حیرانگی کی بات ہے کہ وہ موٹا بلکل نہیں ہے بہت فٹ ہے جم وغیرہ جاتا ہوگا شاید……

ارمینہ بیگم اٹھتے ہوئے بولیں دیکھو آئےنور جو بھی ہے بس کچھ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ تمھارے بابا کو میری تربیت پر انگلی اٹھانے کا موقع ملے…..

اوہو آپ مجھ پر یقین رکھیں ایسا,کچھ نہیں ہوگا….

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*

زایان کھانے کی خوشبو سونگھتے سونگھتے کچن تک پہنچ گیا ،،،،،

کچن میں ارفہ بیگم اپنے کاموں میں مصروف تھی زایان پیچھے سے جاکر ان سے لپٹ گیا

اسّلام وعلیکم Beautiful lady

ارفہ بیگم اسکے گال سہلاتے ہوئے بولیں ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔

وعلیکم اسّلام تم اتنی جلدی آگئے،،،،،

ہاں کیونکہ ان کھانوں کی خوشبو مجھے وہاں تک پہنچ گئی تھی……

زایان ایک ایک ڈش کھول کر دیکھنے لگا…..

وہ لزانیہ کے اوپر سے چیز اٹھانے لگا تو

ارفہ بیگم نے اسکے ہاتھ پر مارا،،،،،،

زایان مت کرو ایسے بےبرکتی ہوتی ہے ہاتھ بھی نہیں دھلے ہوئے تمھارے……

اچھا تو پھر ایک کام کریں الگ سے نکال کر مجھے دے دیں مجھے بہت بھوک لگ رہی ہے…..

تھوڑا صبر کرو زایان فریش تو ہوکر آجاؤ…….

زایان منہ بنانے لگا پھر کچھ دیر بعد بولا

ماما کوئی آرہا ہے کیا؟

ارفہ بیگم سلاد کی پلیٹ سیٹ کرتے ہوئے بولیں ہاں تمھارے بابا نے کچھ مہمان بلائے ہیں لنچ پر…….

زایان کے دل میں لڈو پھوٹنے لگے اپنی مسکراہٹ کو بڑی مشکل سے ضبط کر کے گلہ کھنکار کر بولا

کونسے مہمان؟

ارفہ بیگم مصروف سے انداز میں بولیں مجھے نہیں پتا تمھارے بابا کے آفس کے ہیں کوئی ہونگے…….

میراب لاؤنج کے دروازے کی آڑ میں چھپ کر سارا منظر دیکھنے لگی…..

زایان ارفہ بیگم کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا ماما پلیز مزاق مت کریں کون لوگ مجھےدیکھنے آرہے ہیں مجھے بھی تو بتائیں…….

ارفہ بیگم کو حیرت کا جھٹکا لگا اور زایان کی طرف مڑ کر حیرت سے بولیں،،،،،

تمھے دیکھنے کیا مطلب ہے تمھے دیکھنے کیوں آئیں گے؟؟؟

زایان انگلی ہلاتے ہوئے بولا اب آپ مجھے تنگ کریں گی چلیں کر لیں……

زایان تم کیا کہہ رہے ہو مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا…..

اچھے چلیں میں بتا دیتا ہوں کچھ لوگ مجھے دیکھنے آرہے ہیں نہ اور اگر لوگ سہی لگے تو آپ میری منگنی کر دیں گئیں……۔

ارفہ بیگم کا حیرت سے منہ کھل گیا۔۔

ماما ویسے ایک بات بتاؤں منگنی کا مجھے بچپن سے ہی بڑا شوق تھا…..

وہ جو انگھوٹی پھناتے ہیں نہ وہ سین تو مجھے بڑا ہی پسند ہے زایان مسکرا مسکرا کر بول رہا تھا…….

زایان تم پاگل ہوگئے ہو کس نے کہا ہے یہ سب تمھے……

ارفہ بیگم کے تاثرات دیکھ کر اسے تھوڑا اندازاہ ہوا کہ میراب اسکے ساتھ کھیل گئی ہے…..

ماما میراب نے کہا تھا کہ اسنے آپ کو فون پر بات کرتے سنا ہے

زایان کی شکل دیکھ کر میراب سے اور برداشت نہ ہوا اور قہقہ لگاتے ہوئے لاؤنج میں داخل ہوئی……

زایان کو جب احساس ہوا کے میراب نے اسکے ساتھ مزاق کیا ہے تو اسنے پاس رکھی چھری اٹھائی اور میراب کے پیچھے دوڑا…….

میراب نے اسے غصے میں دیکھا تو فوراً دوڑ لگادی

ارفہ بیگم چینخی زایان چھری رکھو اسطرح مزاق نہیں کرتے ……

میراب زایان سے بچنے کے لئے اوپر اپنے کمرے کی طرف بھاگی اور دو دو سیڑھیاں چھوڑ کر چڑھنے لگی….

میراب نے تین سیڑھیاں چھوڑ کر آخر کی تیسری سیڑھی پر پیر رکھا…..

لیکن پیر بہت بری طرح مڑا اور وہ گٹھنے کے بل گر کر سنبھل نہیں پائی…….

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*

شافع نیند میں تھا جب اسے دروازہ کھٹکھٹانے کی آواز آئی…..

اسنے آنکھیں مسلتے ہوئے دروازہ کھولا تو سامنے ملازم کھڑا تھا شافع بیٹا آپ کو بیگم صاحبہ نیچے بولا رہی ہیں شام بھی ہونے والی ہے…….

شافع گردن ہلاتے ہوئے بولا جی آپ چلیں میں آتا ہوں……

کمرے میں آکر شافع کچھ دیر بیٹھا رہا اسے دوپہر میں سونے کی عادت نہیں تھی اسلئے اب اسکے سر میں درد ہورہا تھا……

کچھ دیر بیٹھے رہنے کے بعد وہ اٹھا اور واش روم چلا گیا….

منہ ہاتھ دھو کر نکلا تو ڈریسنگ کے سامنے آکر کھڑا ہوگیا بالوں میں کنگھا پھیرنے کے بعد جب کنگھا رکھنے لگا تو ڈریسنگ پر رکھی تصویر نے اسکے ہاتھ روک دئیے…..

اسنے تصویر اٹھا کر اپنے چہرے کے آگے کی اور غور سے دیکھنے لگا پھر ایک لمبی سانس لے کر بولا……

“You are always in my heart”

پھر اس تصویر کو اوپر والی دراز میں رکھ دیا رات کو زایان کے گھر سے آنے کے بعد وہ ساری رات اس تصویر سے باتیں کرتا رہا تھا اس لئے وہ تصویر باہر ہی رہ گئی تھی…….

سر میں ایک درد کی لہر اٹھی تھی۔ ۔ ۔ اسنے ماتھے پر انگلیاں پھیر کر سر جھٹکا اور نیچے آگیا وہ سیڑھیاں اتر رہا تھا جب اسے سامنے صوفے پر تہمینہ بیگم بیٹھی ہوئی نظر آئیں…….

وہ سلام کرتے ہوئے انکے سامنے بیٹھ گیا……

نیند پوری ہوگئی تمھاری…..

شافع صرف مسکرا دیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

تہمینہ بیگم اسکا چہرہ بغور دیکھتے ہوئے بولیں پریشان ہو؟؟

شافع نفی میں گردن ہلاتے ہوئے بولا نہیں بس سونے کی وجہ سے سر میں درد ہو گیا ہے کافی بن وادیں پلز،،،،

تہمینہ بیگم اٹھتے ہوئے بولیں کافی بعد میں پہلے کچھ کھالو تم نے کھانا نہیں کھایا ویسے بھی……

شافع منا کرنا چاہتا تھا لیکن وہ اتنے پیار سے بول رہی تھیں تو وہ منا نہیں کر پایا……

یہیں لادوں تمھے ؟؟؟

جی یہیں لا دئیں…..

شافع ٹی وی اون کر کے بیٹھ گیا…..

تہمینہ بیگم نے کھانا شافع کے آگے لاکر رکھا تو وہ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا……

تم کھانا کھاؤ میں کافی بنواتی ہوں….

اسنے کچھ ہی لقمے لئے تھے جب تیمور علی وارثی لاؤنج میں داخل ہوئے۔ ۔ ۔ ۔

اسے صوفے پر بیٹھے دیکھا تو وہ خود بھی اسکے سامنے والے سوفے پر آکر بیٹھ گئے…..

تم اس وقت کھانا کھا رہے ہو وہ بھی یہاں بیٹھ کے؟

انکی آواز عادت کے برخلاف کچھ دھیمی تھی.

شافع ٹی وی دیکھتے ہوئے بولا جی تو اس وقت کھانا یا یہاں بیٹھ کر کھانا منا ہے کیا؟؟؟

تیمور وارثی کچھ نہیں بولے……..

تمھارے آفس کا رینوویشن کب تک ہو جائے گا؟؟؟

رینوویشن ہوگیا ہے بس فرنیش ہورہا ہے پیپرز کے فوراً بعد میں جوائن کر لوں گا…..

ہمممم “خزر محمود” کو جانتے ہو؟

تیمور صاحب ٹھیر ٹھیر کر بول رہے تھے…..

شافع نے کھانا کھاتے ہوئے صرف اثبات میں سر ہلایا…..

وہ تمھارے ساتھ پارٹنرشپ میں بزنس کرنا چاہتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔

شافع نے ٹی وی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا مجھے ضرورت نہیں ہے پارٹنر کی….

وہ جواب اسطرح دے رہا تھا کہ جیسے تیمور صاحب کی باتوں میں اسے قطئ کوئی دلچسپی نہیں ہے…….

تم نے میری بات غور سے سنی میں خزر محمود کی بات کر رہا تمھے پتا ہے وہ کتنے بڑے انویسٹر ہیں……

بڑے بڑے لوگ انکے ساتھ کام کرنے کے لئے ترستے ہیں انھوں نے خود سامنے سے تمھیں آفر دی ہے اور تم کہہ رہے ہو کہ تمھے ضرورت نہیں ہے…..

تیمور صاحب کی آواز آہستہ آہستہ بلند ہو رہی تھی…..

شافع آخری نوالہ لے رہا تھا جی جی مجھے پتا ہے وہ بہت بڑے آدمی ہیں دو ملکوں میں انکی اپنی کمپنی ہے…..

اٹلی والی کمپنی میں چھاپا پڑا تھا پچھلے مہینے دو ہفتے سیل رہی تھی…..

بلیک منی کا بھی کوئی کیس چل رہا ہے ان پر……

انکے بیٹے نے نشے میں گاڑی چلاتے ہوئے ایک آدمی کو اڑا دیا تھا……

کیس ایک دن میں ہی بند ہوگیا……

کسی کو کانوں کان خبر بھی نہیں ہوئی…..

شافع نے نظریں اٹھا کر تیمور وارثی کی طرف دیکھا……

“سچ میں بہت بڑے آدمی ہیں وہ بلکل آپ کی طرف”

شافع نے طنزیہ ہنسی اچھالتے ہوئے کہا…..

تیمور وارثی نے غصے سے مٹھیاں بھینچی…….

شافع پلیٹ لے کر اٹھ گیا…..

بزنس میں ان چھوٹی چھوٹی باتوں کو اشو نہیں بنایا جاتا تم بزنس میں آؤ گے تو تمھارے بھی ایسے چھوٹے چھوٹے اسکینڈلز بنیں گے تو کیا انکو لے کر بیٹھے رہو گے……

شافع روکا آں آں……..!

چھوٹے چھوٹے نہیں میرے تو کافی بڑے بڑے اسکینڈلز بنیں گے…..

“But you don’t worry I handle it”

شافع کچن کی طرف چلا گیا…….

تیمور وارثی نے سختی سے دانت بھینچ کر سوفے پر غصے سے ہاتھ مارا…..

“ڈفر”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*

میراب نے آخر کی تیسری سیڑھی پر پاؤں رکھا لیکن مڑ نے وجہ سے وہ گٹھنے کے بل گری لاؤنج میں میراب کی ایک زور دار چینخ گونجی تھی……

میراب سیڑھیوں سے لڑکتی ہوئی نیچے گرتی اس سے پہلے ہی زایان جو اس سے کچھ ہی فاصلے پر تھا دوڑ کر اسکو سنبھالا……

ارفہ بیگم بھی پریشانی سے دوڑتی ہوئی سیڑھیوں کی طرف بھاگی تھی…..

زایان نے فوراً اسے پکڑ لیا تھا……

اسنے میراب کو سیدھا کر کے بیٹھایا میراب دوبارہ چینخی تھی…..

اسکے پیر میں درد کی شدید لہر اٹھی تھی اور وہ پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع ہوگئی…….

اسے روتا ہوا دیکھ کر زایان کی ہوائیاں اڑ گئیں……

ارفہ بیگم بھی اسکے پاس آئی تھیں…..

اور اسے روتا دیکھ کر پریشان ہوگئیں میں منا کر رہی تھی تم لوگوں کو وہ زایان کو دیکھ کر اس پر چینخی…..

میراب لگاتار روئے جارہی تھی…..

زایان بوکھلاتے ہوئے بولا میراب اتنا کیوں رو رہی ہو یار چپ ہو جاؤ…..

بھائی میرا پیر…..

زایان نے اسکا پیر پکڑ کر سیدھا کرنا چاہا لیکن میراب پھر چینخی تھی اسکا پیر سیدھا نہیں ہورہا تھا……

ارفہ بیگم روہانسی ہونے لگی تھی ہائے میری بچی ابھی ٹھیک ہو جائے گا…..

زایان کھڑا ہوا اور میراب کو اٹھانے لگا لیکن اس سے زمین پر پیر نہ رکھا گیا……

زایان کا رنگ اڑنے لگا زایان نے فوراً اسکو گود میں اٹھایا اور نیچے اترنے لگا…..

ارفہ بیگم بھی اسکے پیچھے دوڑی کہاں لے کر جارہے ہو اسے.۔۔۔؟

زایان جلدی جلدی اترتے ہوئے بولا ماما میں اسے ہاسپٹل لے کر جارہا ہوں مجھے لگ رہا ہے فیکچر ہوگیا ہے شاید…..

ارفہ بیگم دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولیں ہائے اللہ…..

میں نے منا کیا تھا تم دونوں کو لیکن…

ماما بعد میں باتیں سنا دئیے گا ابھی میں جارہا ہوں آپ گھر پر رہیں…..

زایان نے میراب کو گاڑی میں بٹھایا اور تیز رفتاری سے گاڑی باہر نکالی…….

میراب پورے راستے دھاڑے مارتے ہوئے بھائی،،،،، بھائی کرتی رہی…..

زایان بار بار اسکے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بول رہا تھا…..

ہاں بس ابھی پہنچنے والے ہیں ابھی ٹھیک ہو جائے…..

وہ سترہ سالہ میراب اسکے لئے چھوٹی سی پانچ سالہ میراب بن گئی تھی جس کو چوٹ لگ جانے پر وہ خود بھی رونے لگ جاتا تھا جس کو کسی تکلیف میں دیکھنا اسے گوارا نہ تھا…….

میراب روئے جارہی تھی زایان بار بار اسکے آنسوں پوچھ رہا تھا…..

ہوسپٹل پہچ کر میراب کا ایکسرے کر وایا تو پیر میں ہلکا سا فیکچر آیا تھا……

پیر پر پلاستر چرھواتے ہوئے اسنے جتنی چینخے ماری تھیں وہ پورے ہاسپٹل نے سنی تھیں…..

زایان بس اسے اپنے سینے سے لگائے اسکا سر سہلاتا رہا…….

وہ خود بہت پریشان ہوگیا تھا….

گاڑی میں آکر بیٹھے تو میراب چپ ہوگئی تھی لیکن اسے ہچکیاں ابھی بھی آرہی تھی……

گاڑی میں بیٹھ کر زایان اسکی طرف مڑا…..

ابھی بھی پیر درد کر رہا ہے…..؟

میراب نے اثبات میں سر ہلایا……

زایان کان پکڑ کے بولا “سوری”

ایٹس اوکے

آئسکریم کھاؤ گی…..؟

میراب نے پھر اثبات میں سر ہلایا….

زایان نے گاڑی آئسکریم پارلر کی طرف گھمالی…..

میراب گاڑی میں ہی بیٹھی تھی زایان آئسکریم لے کر گاڑی میں آکر بیٹھا ایک آئسکریم اسنے میراب کی طرف بڑھائی….

“یہ لو تمھاری فیورٹ چاکلیٹ فلیور…..

پھر دوسری آئسکریم بھی اس کی طرف کرتے ہوئے بولا یہ لو ڈبل چاکلیٹ وتھ کافی فلیور میری فیورٹ”

میراب نے دونوں آئسکریم لے لیں اسکی آئسکریم میں ایک چِٹ لگی تھی جس پر لکھا تھا سوری…..

میراب نے زایان کی طرف دیکھا اب تو ہنس دو یار کب سے کریلے جیسی شکل بنائی ہوئی ہے آنکھیں بھی سوجا لی ہیں رو رو کے…….

میراب ہنس دی اسے دیکھ کر زایان کے چہرے پر بھی مسکراہٹ آ گئی تھی میراب نے آئسکریم زایان کی طرف بڑھائی….

زایان نے آئسکریم اسکے ہاتھ سے لیتے ہوئے کہا ۔ ۔ ۔ ۔

لایا تو میں اپنے لئے ہی تھا وہ تو تمھے خوش کرنے کے لئے دے دی تھی…..

میراب زایان کے بازو پر ہاتھ مارتے ہوئے بولی بھائی……

زایان نے اسکی نکل اتاری بھائی…….

اور دونوں ہنس دئیے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*

آئےنور نے اپنی چادر الماری سے نکالی تو چادر کے کونے پر اسے شافع کے جوتے کا نشان نظر آیا…..

جو ابھی بھی ہٹا نہ تھا…….

آئےنور نے ہاتھ سے صاف کرنا چاہا لیکن نہیں ہوا…..

آئےنور منہ بناتے ہوئے بولی میری نئی چادر گندی کردی چھچھوندر نے…….

کیا بول رہا تھا مجھ سے تمیز سے بات کرو…..

کیوں کروں میں اس سے تمیز سے بات کوئی گورنر لگاہوا ہے کیا….

آئےنور چادر صاف کرتے ہوئے خود سے ہی باتیں کی جارہی تھی….

جب ملتا ہے کوئی نہ کوئی گڑبڑ کرتا ہے، پتا نہیں کیوں ہر جگہ ٹکرا جاتا ہے……

لیکن اب اگر ملا نہ تو عقل ٹھکانے لگا دوں گی،،،،،،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*

زایان اور میراب گھر پہنچے تو ارفہ بیگم اور حیدر صاحب پریشانی کے عالم میں صوفے پر بیٹھے تھے…

زایان میراب کو سہارا دے کر اندر لا رہا تھا……

حیدر صاحب کی جیسی ان پر نظر پڑی دوڑتے ہوئے انکے پاس گئے اور میراب کو اپنے سینے سے لگایا…..

ارفہ بیگم بھی پریشانی سے اسکا پلاستر دیکھتے ہوئے بولیں کیا کہا ہے ڈاکٹر نے یہ اتنا بڑا پلاستر کیوں چڑہا دیا…..؟

زایان دھیمے لہجے میں بولا فیکچر ہوا ہے کمرے میں لے کر چلیں اسے چلنے پھرنے سے منا کیا ہے ڈاکٹر نے………

اسے گیسٹ روم میں لیٹا دو ابھی اوپر کیسے چڑھے گی یہ ارفہ بیگم کمرے کی طرف بڑھتے ہوئے بولیں……

ہاں ویسے بھی میں اب اسے نہیں اٹھاؤں گا بہت موٹی ہے یہ زایان نے میراب کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ ۔ ۔ ۔

میراب نے کوئی غصے والا تاثر نہیں دیا بس ہلکا سا مسکرا دی وہ جانتی تھی زایان اسے ہنسانے کی کوشش کر رہا ہے…..

حیدر صاحب اور زایان اسے سہارا دے کر کمرے میں لے کر آئے اور بیڈ پر لٹا دیا……..

حیدر صاحب پریشانی سے بولے لیکن یہ سب ہوا کیسے میراب آپ بھاگتے ہوئے سیڑھیاں چڑھ رہیں تھی کیا؟

زایان نے نظریں جھکا لیں کیونکہ اب اسکی کلاس کی باری تھی…..

میراب نے زایان سے مزاق کیا تھا اس لئے زایان میراب کے پیچھے بھاگا اور اسکا پیر مڑ گیا میں منا کر رہی تھی ان لوگوں کو کہ سیڑھیوں پر نہ بھاگیں لیکن میری سنتے ہی کب ہیں۔ ۔

یہ تو اللہ نے کرم کر لیا کہ صرف پیر پر لگی ہے اگر سر پر لگ جاتی تو ارفہ بیگم پریشانی سے بولیں……..

زایان بچوں کی طرح چپ چاپ نظریں جھکائے کھڑا تھا….

حیدر صاحب اٹھے اور زایان کا کان موڑا کب بڑے ہوگے تم لوگ کب تک اس طرح گھر میں ادھم مچائے پھرتے رہو گے…..

میراب جو لیٹی ہوئی تھی فوراً بولی بابا بھائی کو مت ڈانٹیں غلطی میری تھی میں نے دھیان نہیں دیا اس لئے پیر مڑ گیا……

پین ریلیف انجیکشن کا اثر ختم ہورہا تھا اسلئے اب پھر سے اسے درد کا احساس ہو رہا تھا……

میراب کی کراہ نکلی تھی زایان تیزی سے اسکی طرف بڑھا کیا ہوا؟؟؟؟؟

پھر سے درد ہو رہا ہے بھائی…..

زایان ارفہ بیگم کی طرف مڑا ماما آپ اسے کھانا کھلائیں میں دوائیاں دیتا ہوں سو جائے گی تو ٹھیک رہے گی ورنہ اسے درد ہوتا رہے گا ابھی…….

پھر میراب کے پیر کے نیچے تکیہ رکھتے ہوئے بولا اب تم پاؤں بلکل مت ہلانا…….

حیدر صاحب نے مسکراتے ہوئے اسے دیکھا دونوں جانی دشمنوں کی طرح لڑتے ہو پھر ایک دوسرے کے لئے پریشان بھی ہوتے ہو……

ارفہ بیگم زرا منہ دیکھیں اپنے بیٹے کا ایسا لگ رہا ہے فیکچر میراب کو نہیں اسکو ہوا ہے…….

لڑتے ہیں تو کیا ہوا بابا اسے کچھ ہوگا تکلیف تو مجھے ہوگی نہ……

حیدر صاحب نے زایان کے بالوں پر ہاتھ پھیرا………

بھائی آپ مجھ سے کتنا پیار کرتے ہیں نہ پھر ایک بات بتاؤں….

زایان مسکراتے ہوئے بولا ہاں بتاؤ……

آپ کی بلیو والی شرٹ میں نے چوری کی تھی……

اور وہ جو آپ کا پرفیوم مل نہیں رہا وہ بھی میرے پاس ہے…..

اور آپ کے والٹ سے ہزار روپے بھی نکالے تھے میں نے……

میراب نے ٹھیر ٹھیر کر کہا۔ ۔ ۔ ۔

زایان نے خون خوار نظروں سے میراب کی طرف دیکھا میراب تم اب بچو گی نہیں یہ ٹانگ ٹھیک ہو جائیں پھر میں تمھارے ناخن توڑو گا……

حیدر صاحب اور ارفہ بیگم نے قہقہہ لگایا تھا…….

میں کھانا یہں لگوادیتی ہوں سب کے لئے ارفہ بیگم کھانا لگوانے کے لئے کمرے سے باہر چلی گئیں……

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*

شافع آج بہت دنوں بعد کیفے آیا ہوا تھا……

وہ اور زایان ہمیشہ یہاں آتے رہتے ہیں لیکن آج وہ اکیلا ہی تھا……

کیفے کے اونر سے ان کی اچھی جان پہچان تھی…….

اس کیفے کے بہت سے ایونٹ میں شافع کی آواز سے رونق لگی تھی……

کوئی ایونٹ نہ بھی ہو تب بھی شافع ان لوگوں کی فرمائش پر گا دیا کرتا تھا….

شافع ٹیبل پر بیٹھا موبائل میں مصروف تھا جب کیفے کا اونر اسکے پاس آیا……

انھے دیکھ کر شافع بھی کھڑا ہو کر ان سے ملنے لگا……

ارے شافع بہت دن بعد آئے تم تو ہمیں بھول گئے لگتا ہے……

شافع مسکراتے ہوئے بولا نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے بس آج کل کچھ مصروفیات ہیں…..

مصروفیات تمھارے لئے ہیں نہ لیکن وہ زایان تو وقت نکال ہی لیتا ہے وہ کہاں ہے؟

شافع ہنستے ہوئے بولا اسے میں نے بتایا نہیں کہ میں یہاں آرہا ہوں…..

میں تو بس ایسی نکلا تھا پھر گاڑی اس طرف موڑ لی……

چلو اچھا ہے تم نے کچھ لیا؟؟؟؟

جی جی میں نے جوس لے لیا ہے….

اونر شافع کے کندھے پر ہاتھ رکھ کے بولا اب آئے ہو تو تھوڑی بہت رونق نہیں لگاؤ گے؟؟؟؟

پلیز آج نہیں میں پھر کسی دن آؤں گا زایان کے ساتھ پھر رونق لگائیں گے…..

چلو ٹھیک ہے کوئی بات نہیں پھر سہی آتے جاتے رہا کرو یار تمھارا اپنا کیفے ہے…..

شافع مسکرایا…..

جی میں چلتا ہوں اب،،،،،،

شافع ان سے مل کر باہر آگیا……

شافع نے گاڑی میں بیٹھ کر زایان کو فون کیا…….

کہاں ہو تم آج تو نہ کوئی کال نہ کوئی ٹیکسٹ؟؟؟

بس یار کیا بتاؤں میراب نے اپنی خدمتوں میں لگایا ہوا ہے پیر توڑ کر بیٹھ گئی ہے میڈم…..

شافع نے پریشانی سے پوچھا کیسے کیا ہوا……..

سیڑھیوں پر بھاگ رہی تھی گر گئی فیکچر آیا ہے…….

وہ خود گری ہے یا تم نے گرایا ہے…..

زایان خفا ہوتے ہوئے بولا ہاں ہاں اب تم بھی بول لو تم کیوں پیچھے رہو گے…..

شافع ہنسا اچھا اب کیسی ہے وہ؟

ہاں ٹھیک ہے کافی پین تھا ابھی سو رہی ہے…..

شافع گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے بولا اچھا میں آرہا ہوں….

اچھا اب سب کچھ اسکے لئے کھانے کو مت لیا نہ کچھ میرے لئے بھی لانا ویسے بھی اسکے بڑے مزے آرہے ہیں سب آگے پیچھے گھوم رہے ہیں…….

شافع ہنستا ہوا بولا کس نے کہا کے میں کچھ کھانے کے لئے لارہا ہوں…..

میں تو بس ایسی آرہا ہوں……

اچھا کچھ مت لانا بس آتے ہوئے ڈونٹ لے آنا میرے لئے میراب کے لئے بیشک کچھ مت لانا وہ ویسے بھی صبح سے بہت کچھ کھا رہی ہے……..

شافع نے ہنستے ہوئے کہا سوچوں گا….

اور فون رکھ دیا…

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*

شافع شاپ سے ڈونٹ اور چاکلیٹ لے کر نکلا تو سامنے اسے پھولوں کی شاپ دکھی……

چیزیں اسنے گاڑی میں رکھی اور پھولوں کی شاپ کی طرف بڑھ گیا…..

اسنے رنگ برنگی پھولوں کا بوکے بنانے بولا اور آس پاس نظریں گھمانے لگا…..

اور پھر اسنے حیرت سے سامنے دیکھا…..

آئےنور کچھ فاصلے پر کھڑی گلاب کے پھول سونگھ رہی تھی…..

وہاں لائن سے لگے پھول وہ باری باری سونگھنے لگی جیسے ہی وہ خوشبو سونگھتی ایک مسکراہٹ اسکے چہرے پر پھیل جاتی……

شافع نے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے سوچا یہ پھر سے اب پتا نہیں کیا کیا بول کے لڑے گی……..

آئےنور نے دکان دار سے کچھ پھولوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے شاید انھے پیک کرنے کہا تھا……

شافع اپنی گردن موڑنے ہی والا تھا لیکن اس سے پہلے ہی آئےنور نے اسے دیکھ لیا……

آئےنور نے جیسے ہی اسے دیکھا پہلے حیرت ہوئی پھر نظروں میں چبھن آگئ……

شافع نے بھی ناگوار نظروں سے اسکی طرف دیکھا اور پھر منہ پھیر لیا……

دوکان دار نے آئےنور کو پھول پکڑائے اسنے بوکے نہیں بن وایا تھا بہت سارے پھولوں کو بس ایک ساتھ پتلی سی ڈوری سے باندھ دیا تھا آئے نور پیسے دے کر باہر نکل گئی……

شافع کا بوکے بھی تیار ہوگیا تھا……

شافع نے بوکے اٹھایا اور باہر نکل گیا…..

شافع باہر آیا تو آئےنور اس سے کچھ آگے سڑک کنارے کھڑی تھی اسے شاید روڈ پار کرنا تھا وہ پھر دور بنے برج کا استعمال کرنے کے بجائے چلتے ہوئے سگنل سے روڈ پار کرنا چاہ رہی تھی……..

شافع نے گاڑی کا دروازا کھولا….

ایک نظر آئےنور پر ڈالی نور تھوڑا آگے بڑھی تھی اور سامنے سے ایک تیز رفتار گاڑی آئےنور کی طرف بڑھ رہی تھی…..

اگلے لمحے آئےنور کے ہاتھ سے پھول ہوا میں اچھلے اور آئےنور کی چینخ بلند ہوئی تھی………