Izhar-e-Muhabat by Anooshe NovelR50417

Izhar-e-Muhabat by Anooshe NovelR50417 Izhar-e-Muhabat Episode 13

219.9K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Izhar-e-Muhabat Episode 13

Izhar-e-Muhabat by Anooshe

آئےنور کمرے میں سو رہی تھی….

جب صدیقی صاحب دروازہ کھٹکھٹاتے ہوئے اندر آئے….

نور سوتی ہی رہی…..

صدیقی صاحب نور کے پاس آکر بیٹھے جس ہاتھ پر چوٹ لگی تھی وہ ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیا…..

نور کی آنکھ کھل گئی…..

بابا آپ….!

نور اٹھ کر بیٹھ گئی

صدیقی صاحب نے اسکے ہاتھ کو دیکھتے ہوئے پوچھا کیسے لگی یہ؟

بس بابا وہ ایسے ہی بے دھیانی میں لگ گئی…..

تو دھیان رکھنا چاہیے تھا نہ زخم گہرا ہے؟

نہیں اتنا نہیں ٹھیک ہو جائے گا….

ہممم ڈاکٹر کے پاس چلنا ہے؟

نہیں بابا ضرورت نہیں ہے میں نے یونیورسٹی میں دکھا دیا تھا….

اور پڑھائی کیسی جارہی ہے؟؟؟

اچھی جارہی ہے بابا…..

صدیقی صاحب نے اٹھ کر اسکا سر تھپتھپایا خیال رکھا کرو….

آئےنور کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی….

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*

شافع اور ابراہیم صاحب نیچے آئے تو سب لاؤنج میں انکے ہی منتظر تھے،،،

ابراہیم صاحب آکر اطمینان سے صوفے پر بیٹھ گئے….

عائشہ بیگم نے ان سے آنکھوں ہی آنکھوں میں سوال کر ڈالے….

تیمور صاحب شافع کی طرف دیکھ کر بولے

کیا بات ہوئی ہے تم لوگوں کی…

شافع نے کچھ کہنے کے بجائے ابراہیم صاحب کی طرف اشارہ کر کے کندھے اچکا دیئے،،،،،

تیمور صاحب نے ضبط سے مٹھیاں بھینچیں….

ابراہیم صاحب بے حد اطمینان سے بولے شافع اور ارحام کی شادی نہیں ہوگی…

شافع اس شادی کے لئے راضی نہیں ہے….

تیمور صاحب غصے سے اٹھے اور شافع کا گریبان جھپٹ لیا….

کیا بکواس کر کے آئے ہو تم،،،،

ابراہیم صاحب پریشانی سے اٹھے اور تیمور صاحب کے ہاتھ سے شافع کا گریبان نکالا….

کیا کررہے ہیں بھائی صاحب جوان بیٹے پر ہاتھ اٹھائیں گے….

شافع طنزیہ مسکراہٹ سے بولا

یہ تو انکا پسندیدہ مشغلہ ہے….

تیمور صاحب کا ہاتھ اٹھ گیا تھا ابراہیم صاحب نے انھے پیچھے کیا….

پھر شافع کو ڈانٹا شافع چپ رہو تم….

تیمور صاحب شافع کو چبھتی ہوئی نظروں سے گھورتے ہوئے بولے

میں دیکھتا ہوں کے تم کیسے یہ شادی نہیں کرتے….

شافع کی بھی آنکھوں میں خون اتر آیا تھا اسنے دانت پیستے ہوئے کہا…..

اور میں بھی دیکھتا ہوں کہ آپ یہ شادی کیسے کرواتے ہیں

بولتے ہی شافع باہر کی طرف جانے لگا,,,

تہمینہ بیگم اسے روکتی رہ گئیں لیکن وہ نہیں رکا….

تیمور صاحب چینختے ہوئے بولے

میں اس بار تمھاری نہیں چلنے دوں گا اگر تم کسی اور کے بار میں سوچ رہے ہو تو یہ بھول ہے تمھاری کے میں تمھاری شادی تمھاری مرضی سے کروں گا،،،،

شافع انکی بات سنے بغیر وہاں سے چلا گیا،،،

ابراہیم صاحب ان کو بیٹھاتے ہوئے بولے ایسی کوئی بات نہیں ہے بھائی،،،،،

اسکے اپنے کچھ فیصلے ہیں اسکی اپنی زندگی ہے اسکا حق ہے کہ وہ اپنی مرضی سے زندگی گزارے،،،

ویسے بھی رشتے زبردستی نہیں جوڑے جاتے جب وہ خوش ہی نہیں ہے تو ایسی شادی کا کیا فائدہ…..

تیمور صاحب چینختے ہوئے بولے اسکی زندگی صرف اسکی نہیں ہے اس پر میرا بھی پورا حق ہے……

اور اسکی شادی اگر ہوگی تو صرف ارحام سے ہی ہوگی….

ابراہیم صاحب کھڑے ہوتے ہوئے بولے….

معاف کیجئے گا بھائی صاحب لیکن میں اپنی بیٹی کی زندگی خراب نہیں کرنا چاہتا،

اسکی شادی زبردستی شافع سے کر دوں تاکہ وہ شافع کی محبت کے لئے ترستی رہے میں اپنی بیٹی پر ایسا ظلم نہیں کرسکتا.

تیمور صاحب اچھنبے سے انھے دیکھتے ہوئے بولے تو تم بھی میرے فیصلے کو مان نے سے انکار کر رہے ہو…..

تم بھول رہے ہو یہ فیصلہ صرف میرا اکیلے کا نہیں ہے اس میں بی اماں کی بھی خواہش شامل ہے…..

تو بھائی صاحب میں آپ لوگوں کی خواہشات کے آگے اپنی بیٹی کی زندگی برباد کر دوں…؟

میں اماں سے بات کر لوں گا،،،،

اور جب شافع ہی راضی نہیں ہے تو پھر آپ زبردستی کیوں کر رہے ہیں….

شادیاں ایسے نہیں چلتیں….

عائشہ بیگم آگے آتے ہوئے بولیں….

بھائی صاحب صحیح کہہ رہے ہیں اس میں بی اماں کا بھی فیصلہ شامل ہے….

اور شافع تو بچہ ہے شادی ہو جائے گی تو خود ہی ٹھیک ہو جائے گا….

ابراہیم صاحب نے انھے غصے سے گھورا تو وہ چپ ہو گئیں…..

تہمینہ بیگم اٹھتے ہوئے بولیں،،

ابراہیم بھائی آپ بیٹھیں تو صحیح بیٹھ کر تسلی سے اس معاملے کا حل نکالیں….

آپ کہیں تو میں شافع سے بات کرتی ہوں…

تیمور صاحب غصے سے کھڑے ہوکر تہمینہ بیگم پر دھاڑنا شروع ہوگئے….

ارے تم کیا بات کرو گی تم سے تو ایک بچے کی تربیت ٹھیک سے نہیں کی گئی…

ایک ہی بیٹا تھا میرا کوئی دس بارہ تو نہیں تھے لیکن اسکی تربیت بھی تم سے ٹھیک طرح نہیں کی گئ ….

تہمینہ بیگم نے شرمندگی سے نظریں جھکا لیں….

ابراہیم صاحب نے تیمور صاحب کو دیکھتے ہوئے افسوس سے کہا….

تربیت کرنا صرف ماں کی ذمہ داری نہیں ہوتی باپ کا بھی کچھ کردار ہوتا ہے…..

اور بھائی صاحب آپکے اسی رویے کی وجہ سے آج آپکا بیٹا آپکے ہر فیصلے کا الٹ کرتا ہے…..

اور کہیں نہ کہیں وہ بلکل صحیح کرتا ہے….

بولتے ہی ابراہیم صاحب کمرے کی طرف چلے گئے عائشہ بیگم بھی انکے پیچھے ہی ہولیں….

تہمینہ بیگم بھی اپنے کمرے میں چلی گئیں…..

اور تیمور صاحب بے حسُ حرکت وہیں کھڑے رہ گئے……

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*

یہ رات سب پر ہی بھاری پڑی تھی….

شافع پوری رات گھر وآپس نہیں آیا….

کافی گھنٹوں تک وہ بلاوجہ سڑکوں پر گاڑی دوڑاتا رہا پھر کچھ دیر کے لئے آفس چلاگیا…..

جب وہاں بھی دل نہ لگا تو وہ کیفے چلا آیا

کیفے تو ساری رات ہی کھلا رہتا تھے رات اسنے کیفے کی ٹیبل کرسی پر جاگ کر لاتعداد سگریٹیں پھونک ڈالی تھیں،،،،

اسے عادت نہیں تھی لیکن جب پریشان ہوتا تو پی لیتا

اگلے دن اتوار تھا صبح ہوتے ہی شافع گھر وآپس آگیا تھا…

کیونکہ ابراہیم صاحب نے چلے جانا تھا….

وہ گھر پہنچا تو ابراہیم صاحب اسی وقت کمرے سے نکل رہے تھے….

شافع کو دیکھا تو مسکرا دیئے….

اسکے سامنے آکر کھڑے ہوئے پھر اسکا چہرا دیکھتے ہوئے بولے ساری رات کہاں تھے؟؟

شافع خاموش رہا….

پھر شافع کا سر پکڑ کر ہلایا اور پیٹ تھپتھپاتے ہوئے بولے….

صحت کے لئے مضر ہوتی ہے….

شافع نے حیرت سے انکی طرف دیکھ کر پوچھا کیا؟؟؟

وہی جس کے تم کش لگا کر آئے ہو….

شافع نے شرمندگی سے نظریں جھکا لیں…

چلو اب جاؤ فریش ہوکر آجاؤ پھر ساتھ ناشتہ کریں گے…..

شافع نے اپنے کمرے کی طرف چلا گیا….

یہ انکا اخلاق ہی تھا کہ وہ کسی بھی بات کا اثر لئے بغیر ابھی تک وہاں رکے ہوئے تھے،،،،

ورنہ اگر کوئی تیمور صاحب جیسا انا پرست آدمی ہوتا تو کب کا انھے ذلیل کر کے جا چکا ہوتا…

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*

زایان گدھے گھوڑے بیچ کر سورہا تھا…..

جب اسکا موبائل بجنے لگا….

موبائل لگاتار بجتا رہا لیکن وہ اٹھا نہیں تو موبائل بج بج کےخود ہی بند ہو گیا…

کچھ دیر بعد دروازہ زوروں سے بجنا شروع ہوگیا

وہ کان پر تکیہ رکھ کر سو گیا کہ جو بھی ہو گا کچھ دیر بعد خود ہی چلا جائے گا….

لیکن کافی دیر بعد بھی جب دروازہ بجتا رہا تو اسنے تکیہ اٹھا کر صوفے کی طرف پھینکا…..

اور چینختے ہوئے بولا

“آرہا ہوں مجھے پتا ہے جنگ شروع ہوگئی ہے اور میں آخری سپاہی بچا ہوں”

دروازہ کھول کر آنکھیں بند کرے ہوئے ہی بولا

میرا یونیفارم اور گن تیار ہیں….؟

سامنے حیدر صاحب کھڑے تھے

حیرت سے بولے یونیفارم اور گن کیا بول رہے ہو؟

زایان آنکھیں مسلتا ہوا بولا ….

جی یونیفارم اور گن کیونکہ آپ مجھے اٹھانے تو ایسی آئے ہیں جیسے جنگ میں میں آخری سپاہی بچا ہوں…

حیدر صاحب نے اسکے کندھے پر ہاتھ مارتے ہوئے قہقہہ لگایا….

ارے بھئی وہ تو تمھاری ماں نے کہا کہ زایان کو اٹھا دیئے گا،،،،

میں جاگنگ کے لئے جارہا تھا تو سوچا تمھے بھی ساتھ لے کر چلو…..

زایان آنکھیں گھماتے ہوئے بولا

اوہ ہ ہ بابا پلیز سنڈے کو کون جاگنگ پر جاتا ہے؟؟

حیدر صاحب اندر آتے ہوئے بولے میں جاتا ہوں اور تمھے بھی لے کر جاؤں گا….

پانچ منٹ میں تم فریش ہو کر نکلو میں یہیں بیٹھا ہوا ہوں…..

زایان اچھلتے ہوئے بیڈ پر کودا اور تکیہ منہ پر رکھ کر بولا….

میں نہیں جاؤں گا بابا مجھے سونے دیں پلیز…..

حیدر صاحب نے اسکے سر سے تکیہ کھینچا اور اسکی ٹانگ کھیچتے ہوئے اسے بیڈ سے گرا دیا….

زایان چینخا بابا پلیز سونے دیں….

فٹافٹ اٹھو اور فریش ہو کر آؤ ورنہ اسی طرح تمھے گھسیٹتے ہوئے تمھے باتھ روم میں پھینک دوں گا…..

زایان زمین پر آنکھیں بند کئے ہی لیٹا تھا….

کہ اچانک اسے کسی چیز کی خوشبو آئی…

وہ یکدم آنکھیں کھول کر اٹھ بیٹھا اور لمبی لمبی سانسیں کھینچتے ہوئے بولا

یہ اتنی اچھی خوشبو کس چیز کی آرہی ہے..؟

حیدر صاحب اسکے کان کے قریب آکر بولے

چیز آملیٹ اور سینڈوچ کی….

زایان خوشی سے فوراً اٹھا…

کیا ؟؟؟؟ چیز آملیٹ اور سینڈوچ بنا ہے پہلے کیوں نہیں بتایا،،،،

پھر چینختے ہوئے بولا

ماما میں آرہا ہوں….

وہ دروازے کی طرف بھاگا تھا حیدر صاحب نے اسکی شرٹ سے پکڑ کر اسے پیچھے سے کھینچا….

تم کہاں جا رہے ہو ابھی تو آملیٹ میراب کے لئے بنا ہے…

تمھے تو جب ہی ملے گا جب تم جاگنگ سے وآپس آؤ گے….

زایان منہ بنا کر بولا

Baba this is not fair

حیدر صاحب بولے

Everything is fair

اور اسے شرٹ سے پکڑ کر باتھ روم میں دھکا دے دیا……

کچھ دیر بعد جب وہ نکلا تو حیدر صاحب اسکے کمرے میں ہی بیٹھے اسکی کچھ کتابیں دیکھ رہے تھے…..

میری چیزوں میں کیا ڈھونڈ رہے ہیں؟؟

تمھاری گرل فرینڈ کی تصویر…

زایان ہنستے ہوئے بولا

ارے بابا یہ آپ کا زمانہ تھوڑی ہے جو کتابوں میں محبوبہ کی تصویر چھپائے رکھیں….

اب تو ڈیجیٹل زمانہ ہے سب کچھ اس میں ہوتا ہے ،،،

زایان فون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا….

حیدر صاحب اٹھتے ہوئے بولے چلو اسی میں دیکھادو اپنی محبوبہ کی تصویر….

زایان آنکھیں بڑی کر کے بھرپور اداکادی کرتے ہوئے بولا….

بابا آپ کو شرم نہیں آرہی اپنے بیٹے سے اسطرح کی باتیں کرتے ہوئے میں کتنا شریف ہوں اسکا آپ کو اندازہ ہی نہیں ہے….

ہاں ہاں مجھے بلکل اندازہ….

ابھی تمھاری کسی فرینڈ کا فون آیا تھا….

جیسے ہی فون اٹھایا تو کہنے لگی٬ زایان تمھارے نوٹس تیار کر دئیے ہیں اگر اور کوئی کام ہو تو ضرور بتانا….

زایان نے آنکھیں بڑی کرتے ہوئے پوچھا تو پھر آپ نے کیا کہا….؟

میں نے کہہ دیا بہت شکریہ آپ کا اور کوئی کام ہوا تو بتا دیا جائے گا….

زایان نے تجسّس سے پوچھا پھر اسنے کیا کہا؟؟

اسکے کچھ کہنے سے پہلے ہی میں نے فون رکھ دیا…..

زایان مسکراتے ہوئے اپنا سر کھجانے لگا…

حیدر صاحب نے اسکا کان پکڑا اور کھینچتے ہیں نیچے لے گئے….

ارفہ بیگم کے سامنے لے جاکر اسے کھڑا کیا….

اپنے سپوت کے کارنامے پتا ہیں آپکو؟؟؟

ارفہ بیگم کام کرتے ہوئے۔مصروف سے انداز میں بولیں …..

کیوں اب کیا کر دیا میرے بیٹے نے…

یہ اپنے نوٹس کلاس کی لڑکیوں سے بنواتا ہے….

ارفہ بیگم کوئی تاثر لئے بغیر بولیں ہاں تو یہ گن پوائنٹ پر تو نہیں بنواتا، وہ کیوں بناتی ہیں نہ بنائیں….

اور آپ اسکو بول رہے ہیں یونیورسٹی میں آپکے کارنامے بھی کچھ ایسے ہی تھے….

حیدر صاحب نے ارفہ بیگم کو آنکھیں دکھائیں جس کا انھوں نے ردی برابر بھی اثر نہیں لیا

زایان نے قہقہہ لگاتے ہوئے پوچھا

اور بتائیں ماما بابا اور کیا کیا کرتے تھے…

اس سے پہلے کہ ارفہ بیگم کچھ بول کر ماحول کو چٹ پٹا کرتیں

حیدر صاحب نے زایان کا ہاتھ پکڑا اور کھینچتے ہوئے باہر لے گئے۔ ۔ ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*

ابراہیم صاحب شافع سے گلے مل کر الگ ہوئے تو تیمور صاحب کی طرف بڑھے تیمور صاحب سپاٹ چہرہ لئے کھڑے تھے….

ابراہیم صاحب جس طرح آکر سب سے خوشی سے ملے تھے جاتے ہوئے بھی انکے تاثرات میں فرق نہ آیا تھا،،،

ہاں عائشہ بیگم کے چہرے پر غصہ اور غم صاف واضح تھا

اور ہوتا بھی کیوں نہ آخر انکی بیٹی کا رشتہ ٹوٹا تھا انھے اپنی بیٹی کی فکر کھائی جارہی تھی….

ابراہیم صاحب تیمور صاحب سے مل کر الگ ہوئے تو ان سے بولے،،،

بھائی صاحب اگر جانے انجانے میں کچھ غلط کہہ دیا ہو تو معاف کر دیئے گا

تیمور صاحب نے صرف اثبات میں گردن ہلا دی….

پھر شافع کا بازو تھپتھپاتے ہوئے بولے….

کبھی حویلی بھی چکر لگالیا کرو وہاں بھی لوگ رہتے ہیں،،،

بی اماں بہت یاد کرتی ہیں تمھے…

شافع مسکراتے ہوئے بولا جی آؤں گا….

یہ بات تو تم ہر دفعہ بولتے ہو لیکن آتے نہیں….

شافع پھیکی مسکراہٹ سے مسکرا دیا….

عائشہ بیگم سپاٹ چہرے سے سب سے ملی تھیں

شافع جیسے ہی ان سے ملنے کے لئے آگے بڑھنے لگا وہ فوراً گاڑی میں بیٹھ گئیں….

شافع نے کوئی تاثر نہیں دیا….

وہ لوگ چلے گئے تو تیمور صاحب نے ایک چبھتی ہوئی نظر شافع پر ڈالی اور اندر چلے گئے….

شافع نے موبائل نکال کر زایان کو کال کی….

جاگنگ کرتے ہوئے زایان کے کانوں میں ہینڈ فری لگی ہوئی تھی اس کے اور حیدر صاحب کے درمیان ریس کا سلسلہ چل رہا تھا حیدر صاحب اس سے کافی پیچھے تھے….

وہ کال ریسیو کر کے بینچ پر بیٹھ گیا….

اور لمبی لمبی سانسیں لینے لگا….

شافع نے حیرت سے پوچھا خیریت تو ہو اتنی لمبی لمبی سانسیں کیوں لے رہے ہو…..

زایان ٹھہر ٹھہر کر بولا….

بابا۔ ۔ ۔ ۔ زبردستی۔ ۔ ۔ ۔ اپنے ساتھ جاگنگ پر لے کر آگئے….

حیدر صاحب دوڑتے ہوئے اسکے پاس سے نکل گئے تھے اور اسے دیکھا بھی نہیں تھا..==

زایان نے انھے دیکھ کر قہقہہ لگایا….

کیا ہوا..؟

زایان ہنستے ہوئے بولا کچھ نہیں تم بتاؤ اس وقت کیسے فون کیا؟؟؟

فون تو میں نے تمھے صبح بھی کیا تھا تم نے اٹھایا کیوں نہیں…..؟

زایان بالوں پر ہاتھ پھیرتا ہوا بولا

سو رہا تھا یار پھر تھوڑی دیر بعد بابا گھسیٹتے ہوئے جاگنگ پر لے آئے

ہممم اچھا لنچ کے بعد تمھارا کوئی پروگرام ہے؟؟

نہیں ہے تو کوئی نہیں کیوں تم بنا رہے ہو کیا….؟

شافع فوراً بولا نہیں لنچ کے بعد میرے ساتھ آفس چلنا….

آفس کیوں؟

میٹنگ بلائی ہے….

کس خوشی میں…؟

مجھے لگتا ہے زایان ہمیں بزنس کا سٹارٹ لے لینا چاہیے انویسٹر کے فون آرہے ہیں ہم ابھی اسٹارٹ کر دیتے ہیں

ویسے بھی پیپرز میں دن ہی کتنے ہیں….

پیپرز کے بعد تو شروع کرنا ہی ہے تو ابھی کیوں نہ صحیح….

تم کیا کہتے ہو؟

زایان کچھ دیر سوچتا رہا پھر بولا مجھے لگ رہا ہے میرا سنڈے برباد ہوگا….

شافع نے دانت پیسے میں نے جو پوچھا ہے وہ بتاؤ….

زایان فوراً بولا ہاں ہاں یار جیسا تمھے ٹھیک لگے شروع کر دیتے ہیں شروع ہی تو کرنا ہے نا…..

شافع نے اووفف کرتے ہوئے سر پر ہاتھ رکھا

زایان نے اپنی ہنسی دبائی تھی….

زایان تم میری باتوں کو سنجیدہ لو گے یا نہیں؟

ہاں ہاں بلکل لوں گا اگر تم اچھا سا لنچ کر وادو تو…..

شافع نے اسے ایک ریسٹورنٹ کا نام بتاتے ہوئے کہا ٹھیک ایک بجے تم مجھے یہاں ملو….

کہتے ہی شافع نے فون رکھ دیا تھا گھڑی میں ٹائم دیکھا تو ابھی ساڑھے نو بج رہے تھے وہ رات کا جاگا ہوا تو نیند بھی آرہی تھی،،،،

کچھ دیر سونے کا ارادہ کر کے وہ سونے کے لئے چلا گیا….

فون رکھ کر زایان نے نظریں دوڑائیں تو اسے کچھ دور حیدر صاحب دوڑتے ہوئے نظر آئے وہ شاید جاگنگ میں اتنے مگن ہوگئے تھے کہ انکے آگے زایان ہے یا نہیں انھے دھیان ہی نہیں رہا،،،

زایان نے انھے دور سے آواز لگائی….

بابا میں یہاں ہو اور دوڑتا ہوا انکی طرف چلا گیا….

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*

آئےنور کمرے سے نکل کر آئی تو ٹی وی لاؤنج میں صدیقی صاحب اخبار پر نظریں جمائے بیٹھے تھے

اور ارمینہ بیگم کچن میں تھیں انھے پکانے اور کھلانے کا کچھ زیادہ ہی شوق تھا دن کا زیادہ وقت وہ کچن میں ہی گزار دیتی تھیں…..

آئےنور صدیقی صاحب کو سلام کر کے کچن میں آئی……

ماما کیا کر رہی ہیں میں کچھ کر وادوں؟

نہیں بس ہو گیا تم جاکر بیٹھو میں لاتی ہوں؟؟؟

نور لاؤنج میں آکر ٹی وی آن کر کے بیٹھ گئی….

صدیقی صاحب نے اخبار لپیٹ کر ٹیبل پر رکھ دیا…..

پھر اسکا ہاتھ دیکھ کر بولے تم نے ڈریسنگ نہیں کی؟؟؟

آئےنور ریموٹ رکھتے ہوئے بولی نہیں بابا مجھ سے ہو نہیں رہی تھی ماما کر دیں گی….

صدیقی صاحب اٹھتے ہوئے بولے فرسٹ ایڈ بکس کہاں ہے مجھے بتاؤ…

نہیں آپ رہنے دیں ماما کر دیں گی…..

صدیقی صاحب خود ہی کبڈ کی درازیں چھاننے لگے

اور دوسری دراز میں انھے فرسٹ ایڈ بکس مل گیا بکس لے کر وہ نور کے برابر میں آ بیٹھے….

آئےنور انھے اچھنبے سے دیکھنے لگی…..

ہاتھ آگے کرو…

نور نے یک ٹک انھے دیکھتی رہی اور ہاتھ آگے کر دیا……

جب پٹّی پوری کھل گئی تو اسے جلن کا احساس ہوا تو ہلکی سی کراہ نکل گئی….

صدیقی صاحب نے اسکا زخم بغور دیکھتے ہوئے پریشانی سے کہا

زخم تو زیادہ گہرا ہے…..

تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں ہم کل ہی ڈاکٹر کے پاس چلتے……

آئےنور کچھ نہیں بولی بس خاموشی انھے ٹک باندھے دیکھتی رہی…..

صدیقی صاحب اسکی طرف متوجہ نہیں تھے وہ اسکے زخم کا بغور جائزہ لیتے ہوئے روئی سے صاف کرنے لگے…..

ارمینہ بیگم کچن سے نکلیں تو صدیقی صاحب کو اسطرح دیکھ کر ٹھٹھک گئیں….

کچھ دیر تک وہ ان دونوں کو یوں ہی دیکھتی رہیں پھر وآپس کچن میں چلی گئیں…..

آئےنور کی کراہ نکلی تو وہ اسکے زخم پر پھونک مار کر مرہم لگانے لگے…

آئےنور انھے دیکھی جارہی تھی اسکے آنکھ سے آنسوں نکل کر اسکے ہاتھ پر گرا

تو صدیقی صاحب نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا ارے رو رہی رہو….

درد ہو رہے ہے؟؟

آئےنور نے انھی پر نظریں جمائے ہوئی تھی

اسنے روتے ہوئے اثبات میں سر ہلا دیا….

صدیقی صاحب اسکے ہاتھ پر پٹّی باندھتے ہوئے بولے میں نے ابھی پٹی باندھ دی ہے زخم گہرا ہے شام میں ڈاکٹر کے پاس چلیں گے….

نور کے آنسوں ٹپ ٹپ گر رہے تھے….

صدیقی صاحب نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا،،،

انھے لگا تھا وہ زخم کی وجہ سے رو رہی ہے لیکن وہ تو انکی تھوڑی سی شفقت پاکر رو پڑی تھی…

اسکے گال پر سے آنسوں صاف کرتے ہوئے بولے….

ارے روتے نہیں ہیں ٹھیک ہو جائے گا

چلو ناشتہ کر لو اب…..

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*

شافع ساڑھے گیارہ بجے کا آلارم لگا کر سوگیا تھا،،،

ساڑھے گیارہ بجتے ہی آلارم زوروں سے بجنے لگا….

اسنے ہاتھ بڑھا کر آلارم بند کرا اور کچھ دیر بے سدھ لیٹا رہا….

پھر اٹھ کر کنپٹی سہلانے لگا سر میں درد کی ٹیسیں اٹھنے لگی تھیں….

بے وقت سونے سے اسکے ساتھ یہی ہوتا تھا….

اسنے سر جھٹک کر بیڈ چھوڑا اور باتھ روم کی طرف بڑھ گیا…..

وہ کھڑا منہ دھو رہا تھا…..

شرٹ اسنے اتاری ہوئی تھی

شیشے کی طرف دیکھتے ہوئے گردن پر پانی کا ہاتھ پھیرنے لگا تو نور کے بریسلیٹ سے پڑی رگڑ کا نشان نظر آیا…..

زخم ٹھیک ہوگیا تھا لیکن نشان رہ گیا تھا….

نشان پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اسے نور کے ہاتھ کا زخم یاد آیا تھا اور یاد آتے ہی اسے شرمندگی نے آ گھیرا تھا اسنے خود پر سے نظریں ہٹا لیں….

وہ کسی سے زیادہ بات کرنا پسند نہیں کرتا تھا ، کسی سے بدلہ تو بلکل نہیں لیتا تھا ،کوئی اسے جھگڑے کے لئے اکساتا تب بھی وہ ہر چیز کو تسلی سے لیتا تھا، ہاں کبھی کبھی غصہ زیادہ کر جاتا تھا…..

لیکن اس لڑکی سے وہ بلاوجہ بحث میں پڑتا تھا….

بحث تو بحث اسنے اس لڑکی کو چوٹ بھی پہنچا دی…..

اسے شرمندگی تھی وہ صرف اسے تنگ کرنا چاہتا تھا چوٹ نہیں پہنچانا چاہتا تھا

کسی کو بلاوجہ تنگ کرنا بھی اسکی عادت کے بر خلاف تھا اور آج کل وہ اپنی عادت کے بر خلاف بہت کچھ کر رہا تھا….

نور کے ہاتھ میں خون دیکھ کر ایک لمحے کے لئے اسکا دل بہت زور سے دھڑکا تھا…..

اسے وہ لمحہ یاد آیا اسنے زور سے پانی منہ پر مارا

اسے اس لمحے نے اذیت نہیں پہچائی تھی،،،،

اسے اس خون نے اذیت پہنچائی تھی وہ خود خون سے کتنا خوفزدہ رہتا تھا کسی کو اس بات کا اندازہ نہیں تھا،،،،

لیکن اس لمحے اسے خون دیکھ کر خوف نہیں آیا تھا اس لمحے اسے کسی اور کا بہتا خون یاد آیا تھا…..

اسنے ایک اور بار زور سے پانی منہ پر مارا

پھر سیدھا ہوا اور گیلے ہاتھ بالوں پر پھیرتا ہوا باہر آگیا….

کپڑے تبدیل کرنے کے بعد وہ شیشے کے آگے کھڑا خود کا جائزہ لینے لگا اسنے تھری پیس سوٹ پہنا ہوا تھا بلیک پینٹ ،وائٹ شرٹ اور گرے چیک دار واسکٹ……

سوجی ہلکی براؤن آنکھیں جن پر روشنی پڑھنے سے کانچ جیسی معلوم ہوتیں….

اسنے بالوں پر اسپرے کر کے بال سیٹ کئے پھر پرفیوم کی شیشی اٹھائی پرفیوم خود پر چھڑکا، پرفیوم کی خوشبو سارے کمرے میں پھیل گئی،،،،،

ڈریسنگ پر سے موبائل ،گاڑی کی چابی ایک فائل اٹھائی اور صوفے پر پڑے ہینگر میں سے بلیک کوٹ نکال کر ہاتھ میں ڈالتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا……

سیڑھیاں اترتے ہی وہ تہمینہ بیگم کے پاس ان کے کمرے میں جانے لگا جب لاؤنج میں بیٹھے تیمور صاحب نے اسے آواز لگا کر مخاطب کیا…..

کہاں جارہے ہو؟؟

“اسکی جگہ اگر زایان سے کوئی اسے تھری پیس سوٹ میں دیکھ کر یہ سوال کرتا تو زایان فَٹ سے کہتا “ڈانس کلب”

شافع نے سپاٹ چہرے سے کہا آفس؟؟؟

تیمور صاحب نے اچھنبے سے پوچھا آفس آج کیوں؟

میٹنگ رکھوائی ہے میں نے میں کام شروع کر رہا ہوں….

تیمور صاحب کھڑے ہوتے ہوئے بولے

اچھا تو تم نے مجھ سے پوچھنا تو دور مجھے بتانا تک مناسب نہیں سمجھا….

شافع خاموشی سے کھڑا اپنے جوتوں کو دیکھتا رہا….

تیمور صاحب طنزیہ مسکراہٹ سے بولے ٹھیک ہے آج تمھے لگ رہا ہے کہ تمھے میری ضرورت نہیں پڑے گی لیکن ایک دن تم آؤ گے میرے پاس اور اپنے گٹھنے ٹیکو گے…

شافع نے نظریں اٹھا کر انھے دیکھا…

“خدا وہ دن کبھی نہ لائے”

تیمور صاحب کی مسکراہٹ اڑی تھی….

بولتے ہی شافع بڑے بڑے ڈک بھرتے ہوئے باہر چلا گیا.،،،،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*

شافع پچھلے پندرہ منٹ سے بیٹھا زایان کا انتظار کر رہا تھا لیکن اسکا کوئی اتا پتہ نہیں تھا..…..

ایک بج کر بیس منٹ پر زایان دوڑا دوڑا وہاں پہنچا…..

میں لیٹ تو نہیں ہوا نا؟

شافع نے دانت پیستے ہوئے گھڑی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا

جی نہیں آپ تو پورے بیس منٹ جلدی آئے ہیں لیٹ تو میں آیا ہوں…..

زایان نے دانت نکالتے ہوئے کہا وہی تو میں تو کہیں لیٹ جاتا ہی نہیں ہوں…

شافع نے اسے گھورا تو فوراً بولا ….

ارے یار یہ بتاؤ میں کیسا لگ رہا ہوں؟؟

شافع نے اس پر نظریں دوڑائی اسنے نیلا کوٹ اور نیلی ہی پینٹ پہنی ہوئی تھی سفید شرٹ پر بلیک ٹائی…..

شافع نے اسے دیکھ کر کہا پتا چل رہا ہے کہ تمھے ان فارمل سوٹ کی بلکل بھی عادت نہیں ہے…

زایان خود کو دیکھتے ہوئے بولا کیوں کیا ہوا….؟

کف لنک دیکھو آگے پیچھے لگائے ہیں اور شرٹ کے نیچے کے دو بٹن بھی اوپر نیچے لگا دیے…

زایان کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولا

اوووفففف کتنا مشکل ہے یہ تھری پیس سوٹ کو سنبھالنا یہ شرٹ تو اب گاڑی میں ٹھیک کروں گا…..

پھر ٹائی کو تھوڑی ڈھیلی کرتے ہوئے بولا

تمھے پتا ہے دس گھنٹے تک ٹائی باندھتا رہا لیکن مجال ہے جو یہ سموسہ ڈھنگ سے بن جائے…..

پھر آخر میں ماما سے ہی بنوائی۔۔۔۔

شافع ہنستے ہوئے بولا تو تمھے کس نے کیا تھا کہ تم خود یہ کام کرو…..

زایان بھنویں اٹھاتے ہوئے بولا…..

کوشش نام کی بھی ایک چیز ہوتی ہے…..

شافع موبائل پر میسج چیک کر رہا تھا….

زایان نے اسے بغور دیکھ کر پوچھا تمھاری آنکھوں کو کیا ہوا ہے ساری رات جاگے ہو یا نشہ کیا ہے…..

شافع اسکی بات کا جواب دینے ہی لگا تھا ،،،، ۔

ویٹر آرڈر لینے آگیا….

شافع نے زایان کی طرف اشارہ کیا تو زایان نے مینیو کارڈ دیکھتے ہوئے ایک لمبی چوڑے کھانے کا آرڈر دیا…..

ویٹر نے اس سے پوچھا سر اس میں سے پارسل کیا کیا کرنا ہے……

شافع نے ہونٹ بھینچ کر اپنی ہنسی روکی….

زایان منہ بناتے ہوئے بولا کچھ پارسل نہیں کرنا ہے بھائی سب لے کر آؤ….

اور ان سے آرڈر لے لو….

ویٹر نے شافع سے پوچھا تو اسنے کہا کہ بس آپ یہ سب لیائیں….

زایان نے حیرت سے آنکھیں بڑی کر کے پوچھا تم نہیں کھاؤ گے؟؟؟

بلکل کھاؤں گا یہ جو تم نے چار بندوں کا کھانا منگوایا ہے تمھے کیا لگتا ہے کہ یہ سب میں تمھے اکیلے کھانے دوں گا…..

زایان نے آنکھیں گھمائیں….

اب مجھے اپنی آنکھوں کا احوال سناؤ گے؟؟؟

شافع آنکھیں مسلتا ہوا بولا…..

باہر تھا کل ساری رات..

زایان فوراً آگے ہوتے ہوئے بولا

کس کی پارٹی میں گئے تھے تم مجھے چھوڑ کر؟

شافع نے اسکے ماتھے پر انگلی رکھ کر اسے پیچھے کرتے ہوئے کہا کسی کی پارٹی میں نہیں گیا تھا میں تمھے چھوڑ کر….

زایان نے بھنویں اوپر نیچے کریں

(اسکا مطلب تھا تو پھر)

ابراہیم چاچو آئے تھے کل….

ویٹر نے جوس لا کر ٹیبل پر رکھا تھا زایان جوس اٹھاتے ہوئے بولا اوہ اچھا کیسے ہیں وہ؟؟؟

ٹھیک ہیں..

ملنے آئے تھے یا اپنے کاروبار کے سلسلے میں آئے تھے؟

شافع کچھ دیر خاموش رہا

زایان نے جوس کا ایک اور گھونٹ لیا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔

میرے اور ارحام کی شادی کی بات کرنے آئے تھے،،،،

زایان نے فوراً منہ پر ہاتھ رکھا ورنہ سارا جوس اسکے منہ سے نکل کر سامنے بیٹھے شافع کے اوپر آتا…..

اسنے بہت مشکل سے جوس حلق میں اتارا اسے پھندا لگ گیا تھا…..

شافع نے کھڑے ہو کر اس کی پیٹ تھپتھپائی…..

جب بھی اسکی کھانسی بند نہیں ہوئی تو شافع نے زور دار دو مکے اسکی پیٹھ پر مارے تو زایان فوراً سیدھا ہوتے ہوئے بولا…..

بس یار بس ٹھیک ہوگیا بیٹھ جاؤ تم ورنہ جان سے ہی مار دو گے…..

یہ تمھے کیوں اچانک اتنی حیرت کا جھٹکا لگا ہے….

یار تم نے بات ہی ایسی بتائی تمھاری اور ارحام کی شادی مطلب سچ میں؟؟؟

تم نے کبھی نہیں بتایا کہ ایسا کوئی سین ہے…

شافع کندھے اچکاتے ہوا بولا

گھر والوں میں سے کسی نے مجھ سے اس بارے میں کبھی کوئی بات نہیں کی تو میں تمھے کیا بتاتا….

اچھا یہ سب چھوڑو پھر ہوا کیا یہ بتاؤ؟

زایان نے تجسّس سے پوچھا

میں نے منا کر دیا…

لیکن کیوں؟؟؟؟

کیا مطلب کیوں میں اس وقت شادی نہیں کر سکتا میرے بزنس کو میری ضرورت ہے مجھے اپنا مستقبل سیٹ کرنا ہے

میں اگلے تین چار سال تک شادی کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا…..

اور ارحام کو پتا ہے میں اس سے شادی نہیں کروں گا….

زایان کچھ دیر ٹیبل کو گھورتا رہا پھر

اچانک شافع کی طرف دیکھ کر بولا

مطلب تم پورے تیس کے ہو کر شادی کرو گے…..

اور جب تک تم شادی نہیں کرو گے تو ظاہر سی بات ہے میں بھی نہیں کروں گا….

شافع نے جوس کا گلاس اٹھایا اور بھنویں اچکاتے ہوئے بولا

اچھا،،،، ایسی بات ہے اور اگر میں نے کل شادی کر لی تو؟؟؟؟

تو فکر کس بات کی میں پرسوں شادی کر لوں گا تمھاری بیوی سے زیادہ خوبصورت لڑکی سے…..

اور اگر تمھارا دل اس پر آگیا جسے میں نے پسند کیا تو…..؟

زایان سوچ میں پڑ گیا….

شافع نے زایان کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا تمھارے لئے شافع کی جان بھی حاضر ہے، اگر کچھ تمھیں پسند ہے تو وہ صرف تمھارا ہوگا

شافع یا کسی اور کا نہیں…..!

زایان نے دوسرے ہاتھ سے شافع کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ کر کہا…..

یہ زندگی ہے میری جان یہ بڑوں بڑوں کو کھیل دیکھاتی ہے یہ خود چنتی ہے کہ کس کو کس دوراہے پر لاکر مارنا ہے….

شافع نے دوسرا ہاتھ بھی اپنی اور زایان کی بنی مٹھی پر رکھتے ہوئے کہا…..!

لیکن اس زندگی کے ہر کھیل کی مات کو زایان سے پہلے شافع پر سے گزرنا ہوگا۔ ۔ ۔

ویٹر نے کھانا لاکر ٹیبل پر رکھا تھا….

زایان کھانے کو دیکھتے ہوئے بولا…

ٹھیک ہے گزرنے دینا لیکن ابھی مجھے کھانے دو…..

شافع نے چبھتی ہوئی نظروں سے اسے گھورا اور دانت پیستے ہوئے بولا

سارے فلسفے کا بیڑا غرق کر دیا…..

زایان پہلا نوالہ لیتے ہوئے بولا میں زیادہ دیر تک فلسفے میں نہیں رہ سکتا یہ ایک لائن بھی کچھ دیر پہلے فیس بک پر پڑی تھی…..

آنکھ مارتے ہوئے بولا

ورنہ تمھے تو پتا ہے جو مجھے پسند آجائے وہ تو صرف میرا ہی ہے نا

شافع نے اسے ایک زور دار مکا مارنا چاہا وہ قہقہہ لگاتے ہوئے فوراً پیچھے ہوگیا…..

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*

عائشہ بیگم پلنگ پر بیٹھی آنسوں بہا رہی تھیں…..

آپ کو شافع کی ہاں میں ہاں ملانے کی کیا ضرورت تھی بھائی صاحب اسے اپنے طریقے سے منا لیتے…

جب شروع سے اسکا اور ارحام کا رشتہ طے تھا پھر وہ کون ہوتا ہے بڑوں کے فیصلے سے انکار کرنے والا….

ابراہیم صاحب سامنے صوفے پر بیٹھے انھے تسلیاں دینے میں مصروف تھے جو انھے چھو کر بھی نہیں گزر رہی تھیں….

دیکھو عائشہ جب شافع ہی راضی نہیں تو ہماری بیٹی خوش کیسے رہی گی….

ہماری بیٹی میں کوئی کمی نہیں ہے خاندان میں ایک سے بڑھ بڑھ کر ایک رشتے ہیں ، مجھے جو مناسب لگا ہاں کر دوں گا….

کیسے ہاں کریں گے کسی اور رشتے کے لئے اسکی حالت دیکھی ہے آپنے….

بیٹھے بیٹھے رونا شروع ہوجاتی ہے، ہر وقت اداس رہتی ہے…..

شادی ہوتی تو صحیح ہو جاتی،،،

یاسمین نے بتایا تھا وہ کسی کو پسند کرتی ہے اور شافع کے علاوہ تو کوئی اور ہو نہیں سکتا تبھی تو اسنے شادی کے لئے ہامی بھری تھی….

اب شافع نے ہی اس سے شادی کے لئے منا کر دیا ہے وہ کس طرح برداشت کرے گی یہ سب….

ابراہیم صاحب خاموش رہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

دروازے پر دستک ہوئی تو ان دونوں نے دروازے کی طرف دیکھا….

ارحام کھڑی تھی…

عائشہ بیگم نے فوراً آنسو صاف کئے….

بجھی آنکھیں، کھلے بال شانوں پر دوپٹہ پھیلائے ہوئے وہ عائشہ بیگم کے پاس آکر بیٹھ گئی…..

انکے ہاتھ پر نرمی سے ہاتھ رکھتے ہوئے بولی…

آپ پریشان مت ہوں میں ٹھیک ہوں امی،،،

اسنے شاید ساری باتیں سن لی تھیں

عائشہ بیگم کے پھر سے آنسوں نکلنا شروع ہوگئے تھے….

مجھے پتا تھا کہ شافع یہ شادی نہیں کرنا چاہتا،،،

ابراہیم صاحب نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا،،،،

مجھے کسی سے کوئی غلہ نہیں ہے آپ لوگ جہاں چاہیں میری شادی کروا دیں مجھے کوئی اعتراض نہیں ہوگا،،،،،

ابراہیم صاحب اٹھ کر آئے اور اسکے سر پر ہاتھ رکھا……

خوش رہو،،،

ارحام اٹھ کر جانے لگی تھی پھر وآپس پلٹ کر بولی آپ لوگوں کا بی اماں نے اپنے کمرے میں بلایا ہے….

عائشہ بیگم نے ابراہیم صاحب کی طرف دیکھا تھا…..

کچھ دیر بعد عائشہ بیگم اور ابراہیم صاحب بی اماں کے کمرے میں موجود تھے…..

بی اماں نے سر پر سلیقے سے دوپٹہ لیا ہوا تھا ایک کندھے پر چادر اور ہاتھ میں چھڑی لئے وہ ریلنگ چیئر پر بیٹھی تھیں….

عائشہ بیگم اور ابراہیم صاحب خاموش سے انکے سامنے والے صوفے پر بیٹھ گئے….

بی اماں نے بات کا آغاز کیا

کیا کہا تیمور نے کب تک شادی کا ارادہ ہے….

عائشہ بیگم اور ابراہیم صاحب خاموش رہے….

بی اماں ابراہیم صاحب کی طرف دیکھ کر بولیں

کچھ پھوٹو گے بھی یا اسی طرح منہ بند کر کے بیٹھے رہو گے؟؟

شافع نے شادی سے انکار کر دیا….

بی اماں نے اچھنبے سے انھے دیکھا

شافع نے انکار کر دیا؟؟

بات تم تیمور سے کرنے گئے تھے یا شافع سے…؟

اماں شادی تو شافع نے کرنی تھی نا اس سے پوچھنا بھی ضروری تھا…

بی اماں سختی سے بولیں

وہ کون ہوتا ہے بڑوں کے فیصلے میں دخل دینے والا بیشک وہ ہمارا بہت لاڈلہ ہے لیکن ہم اسے اپنے فیصلے کے آگے بولنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ۔ ۔ ۔

آخر لاڈو نے بھی تو ہمارے فیصلے کی تابعداری کی ہے تو پھر وہ کیسے انکار کر سکتا ہے….

عائشہ بیگم روتے ہوئے بولیں بی اماں شافع نے صرف ارحام سے شادی کے لئے انکار نہیں کیا ہے اسنے کہا ہے کہ وہ خاندان میں شادی ہی نہیں کرنا چاہتا….

بی اماں نے دانت بھینچتے ہوئے چھڑی زمین پر ٹکائی….

شادی تو اسکی ارحام سے ہی ہوگی…

ابراہیم صاحب بولے لیکن اماں جب بچہ راضی ہی نہیں ہے تو اسکے ساتھ زبردستی کیوں کر رہے ہیں…..

بی اماں انھے ہاتھ سے چپ رہنے کا اشارہ کرتے ہوئے بولیں…

تم تو چپ ہی رہو ابراہیم تم نے ہی اسکا فیصلہ سننے کی لگائی ہو گی….

تمھیں چاہیے تھا تیمور سے بات کرتے اور شادی کی تاریخ لے کر آتے…

لیکن تمھارا تو شافع سے لاڈ ہی ختم نہیں ہوتا….

بچوں کو کھلاؤ سونے کا نوالہ اور دیکھو شیر کی نظر سے….

اور تم نے اسکی ہامی بھرتے ہوئے ایک بار بھی اپنی بیٹی کا نہیں سوچا

ارے آسیب ہے تمھاری بیٹی پر تبھی تو ایسی اداس بےجان سی پھرتی ہے….

اماں کوئی آسیب واسیب نہیں ہے میری بیٹی پر…..

اچھا آسیب نہیں ہے تو کیا ہے کیوں وہ اتنی بجھی رہتی ہے بابا جی کو دیکھایا تھا میں نے انھوں نے کہا ہے کہ جن کا آسیب ہے اس پر….

اماں مجھ سے یہ دقیانوسی باتیں مت کیا کریں یہ آسیب واسیب کچھ نہیں ہوتا….

اور میں آپ لوگوں کے فیصلے کے آگے اپنی بیٹی قربان نہیں کروں گا بہت رشتے ہیں میری بیٹی کے لئے خاندان میں

جو مناسب لگا وہاں میں کر دوں گا….

ابراہیم صاحب بولتے ہی کمرے سے نکلنے لگے تھے….

بی اماں زور سے بولیں

ارے میاں شادی تو اسکی شافع سے ہی ہوگی،،،

میں بھی دیکھتی ہوں کون روکتا ہے مجھے…